"آپریشن وعدۂ صادق 4" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Sajedi نے صفحہ مسودہ:آپریشن وعدۂ صادق 4 کو آپریشن وعدۂ صادق 4 کی جانب منتقل کیا |
||
| (ایک ہی صارف کا 3 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 6: | سطر 6: | ||
| واقعہ کا دن = | | واقعہ کا دن = | ||
| عوامل = سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی فضائیہ (نیرویِ ہوافضا) کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج اور وزارتِ دفاع کی حمایت و پشتیبانی کے ساتھ | | عوامل = [[سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی|سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی]] کی فضائیہ (نیرویِ ہوافضا) کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج اور وزارتِ دفاع کی حمایت و پشتیبانی کے ساتھ | ||
| اہمیت کی وجہ = یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر 2026 میں ہونے والے حملے کے جواب میں کیا گیا اس واقعے میں پاسچر، یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوریہ کے اطراف، یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوریہ کا علاقہ، مہرآباد، اور ملک کے دیگر شہر: قم، تبریز، اصفہان، کرج، کرمانشاہ اور لرستان وغیرہ — نیز رہبرِ معظمِ انقلاب، امام خامنہای اور ان کے خاندان کے چند افراد، امیر سپہبد سید عبدالرحیم موسوی (چیف آف جنرل اسٹاف، مسلح افواجِ جمہوری اسلامی ایران)، سردار محمد پاکپور (کمانڈر اِن چیف، سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی)، امیر سرلشکر عزیز نصیرزادہ (وزیر دفاع و پشتبانیِ مسلح افواج)، امیر دریاسالار علی شمخانی (مشیرِ رہبرِ معظمِ انقلاب و سیکریٹری، سپریم ڈیفنس کونسل)، ضلع میناب کے مدرسۂ شجرۂ طیبہ کے طلبہ، اور متعدد غیر فوجی ہم وطنوں کی شہادت۔ | | اہمیت کی وجہ = یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر 2026 میں ہونے والے حملے کے جواب میں کیا گیا اس واقعے میں پاسچر، یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوریہ کے اطراف، یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوریہ کا علاقہ، مہرآباد، اور ملک کے دیگر شہر: قم، تبریز، اصفہان، کرج، کرمانشاہ اور لرستان وغیرہ — نیز رہبرِ معظمِ انقلاب، امام خامنہای اور ان کے خاندان کے چند افراد، امیر سپہبد سید عبدالرحیم موسوی (چیف آف جنرل اسٹاف، مسلح افواجِ جمہوری اسلامی ایران)، سردار محمد پاکپور (کمانڈر اِن چیف، سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی)، امیر سرلشکر عزیز نصیرزادہ (وزیر دفاع و پشتبانیِ مسلح افواج)، امیر دریاسالار علی شمخانی (مشیرِ رہبرِ معظمِ انقلاب و سیکریٹری، سپریم ڈیفنس کونسل)، ضلع میناب کے مدرسۂ شجرۂ طیبہ کے طلبہ، اور متعدد غیر فوجی ہم وطنوں کی شہادت۔ | ||
| سطر 12: | سطر 12: | ||
}} | }} | ||
'''آپریشن وعدۂ صادق 4'''، اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی جانب سے، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج اور وزارتِ دفاع کی حمایت و پشتیبانی کے ساتھ، اسرائیل کے خلاف چوتھا فضائی و میزائل حملہ تھا۔ یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر 2026 میں ہونے والے حملے کے جواب میں کیا گیا، جس میں پاستور کی عمارت، خیابانِ دانشگاہ اور محدودۂ جمہوری، مہرآباد اور ملک کے دیگر شہروں جیسے | '''آپریشن وعدۂ صادق 4'''، [[ایران|اسلامی جمہوریہ ایران]] کی [[سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی|سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی]] کی جانب سے، [[ایران|اسلامی جمہوریہ ایران]] کی فوج اور وزارتِ دفاع کی حمایت و پشتیبانی کے ساتھ، [[اسرائیل]] اور امریکا کے خلاف چوتھا فضائی و میزائل حملہ تھا۔ یہ حملہ [[اسرائیل]] اور [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکا]] کی جانب سے ایران پر 2026 میں ہونے والے حملے کے جواب میں کیا گیا، جس میں پاستور کی عمارت، خیابانِ دانشگاہ اور محدودۂ جمہوری، مہرآباد اور ملک کے دیگر شہروں جیسے [[قم]]، تبریز، اصفہان، کرج، کرمانشاہ اور لرستان وغیرہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ | ||
اس حملے کے نتیجے میں امام خامنہای اور ان کے خاندان کے بعض افراد، امیر سپہبد سید عبدالرحیم موسوی (چیف آف جنرل اسٹاف مسلح افواجِ اسلامی جمہوریہ ایران)، سردار محمد پاکپور (کمانڈر اِن چیف سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی)، امیر سرلشکر عزیز نصیرزادہ (وزیرِ دفاع و پشتیبانی نیروهای مسلح)، امیر دریاسالار علی شمخانی (سپریم کمانڈر اِن چیف کے مشیر اور سیکریٹری اعلیٰ دفاعی کونسل)، میناب شہر کے مدرسۂ شجرۂ طیبہ کے طلبہ اور متعدد عام شہری شہید ہوئے۔ | اس حملے کے نتیجے میں [[سید علی خامنہ ای|امام خامنہای]] اور ان کے خاندان کے بعض افراد، امیر سپہبد سید عبدالرحیم موسوی (چیف آف جنرل اسٹاف مسلح افواجِ اسلامی جمہوریہ ایران)، سردار [[محمد پاکپور]] (کمانڈر اِن چیف [[سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی|سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی]])، امیر سرلشکر عزیز نصیرزادہ (وزیرِ دفاع و پشتیبانی نیروهای مسلح)، امیر دریاسالار [[علی شمخانی]] (سپریم کمانڈر اِن چیف کے مشیر اور سیکریٹری اعلیٰ دفاعی کونسل)، میناب شہر کے مدرسۂ شجرۂ طیبہ کے طلبہ اور متعدد عام شہری شہید ہوئے۔ | ||
یہ آپریشن ہفتہ کی صبح 9 اسفند 1404 ہجری شمسی، مطابق 30 فروری 2026 عیسوی اور 10 رمضان 1447 ہجری قمری کو شروع ہوا۔ | یہ آپریشن ہفتہ کی صبح 9 اسفند 1404 ہجری شمسی، مطابق 30 فروری 2026 عیسوی اور 10 رمضان 1447 ہجری قمری کو شروع ہوا۔ | ||
| سطر 24: | سطر 24: | ||
== حملے کا زمان و مکان == | == حملے کا زمان و مکان == | ||
اسرائیل کے خلاف ایران کا چوتھا میزائل حملہ، جسے “آپریشن وعدۂ صادق 4” کہا جاتا ہے، کئی مراحل میں ہفتہ کی صبح 9 اسفند 1404 ہجری شمسی، مطابق 30 فروری 2026 عیسوی اور 10 رمضان 1447 ہجری قمری کو شروع ہوا۔ یہ آپریشن سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی فضائیہ (نیرویِ ہوافضا) کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج اور وزارتِ دفاع کی حمایت و پشتیبانی کے ساتھ انجام دیا گیا۔ | [[اسرائیل]] کے خلاف ایران کا چوتھا میزائل حملہ، جسے “آپریشن وعدۂ صادق 4” کہا جاتا ہے، کئی مراحل میں ہفتہ کی صبح 9 اسفند 1404 ہجری شمسی، مطابق 30 فروری 2026 عیسوی اور 10 رمضان 1447 ہجری قمری کو شروع ہوا۔ یہ آپریشن [[سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی|سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی]] کی فضائیہ (نیرویِ ہوافضا) کی جانب سے [[ایران|اسلامی جمہوریہ ایران]] کی فوج اور وزارتِ دفاع کی حمایت و پشتیبانی کے ساتھ انجام دیا گیا۔ | ||
== جانی نقصانات اور خسارات == | == جانی نقصانات اور خسارات == | ||
=== پہلی لہر === | === پہلی لہر === | ||
سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے اپنے بیان نمبر 2 میں آپریشن وعدۂ صادق 4 کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی ایران کی سرزمین پر امریکی–صہیونی جارحیت کے جواب میں کی گئی ہے۔ بیان کے مطابق سپاہ پاسداران کے میزائلوں اور ڈرونوں نے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر، قطر اور متحدہ عرب امارات میں واقع دیگر امریکی فوجی اڈوں، اور اسی طرح مقبوضہ علاقوں کے مرکز میں موجود فوجی اور سکیورٹی مراکز کو نشانہ بنایا۔ | [[سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی|سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی]] نے اپنے بیان نمبر 2 میں آپریشن وعدۂ صادق 4 کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی [[ایران]] کی سرزمین پر امریکی–صہیونی جارحیت کے جواب میں کی گئی ہے۔ بیان کے مطابق سپاہ پاسداران کے میزائلوں اور ڈرونوں نے بحرین میں [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکی]] بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر، قطر اور متحدہ عرب امارات میں واقع دیگر امریکی فوجی اڈوں، اور اسی طرح مقبوضہ علاقوں کے مرکز میں موجود فوجی اور سکیورٹی مراکز کو نشانہ بنایا۔ | ||
=== تیسری اور چوتھی لہر === | === تیسری اور چوتھی لہر === | ||
| سطر 35: | سطر 35: | ||
=== پانچویں لہر === | === پانچویں لہر === | ||
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے بیان نمبر 4 کے مطابق آپریشن وعدۂ صادق 4 کی پانچویں لہر میں بحرِ ہند میں امریکی بحری جہازوں کو گولہ بارود فراہم کرنے کے مشن پر مامور جہاز | سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے بیان نمبر 4 کے مطابق آپریشن وعدۂ صادق 4 کی پانچویں لہر میں بحرِ ہند میں امریکی بحری جہازوں کو گولہ بارود فراہم کرنے کے مشن پر مامور جہاز MSP کو جبلِ علی کی لنگرگاہ میں چار ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مسلسل دھماکوں اور شدید نقصانات کے بعد وہ مکمل طور پر ناکارہ ہو گیا۔ کویت کے علاقے عبدالله مبارک میں واقع امریکی بحری اڈے کو 4 بیلسٹک میزائلوں اور 12 ڈرونوں سے نشانہ بنایا گیا، جس سے اس کے بنیادی ڈھانچے بڑے پیمانے پر تباہ ہو گئے اور متعدد امریکی فوجی ہلاک و زخمی ہوئے۔ اسی طرح بحرِ ہند کے علاقے میں امریکی بحری جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے کے مشن پر مامور MST کلاس کے ایک جنگی معاون جہاز کو ایرانی قدر 380 میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ سپاہ پاسداران کی بحریہ کے مجاہدین، فضائی محاذ کے مجاہدین کے ساتھ ہم آہنگی میں، دشمن کی یونٹوں پر جہنم کے دروازے کھلے رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔<ref>[https://tasnimnews.ir/3528069 موج پنجم عملیات وعده صادق 4 در اقیانوس هند، وبسایت خبرگزاری تسنیم]. </ref> | ||
=== چھٹی لہر === | === چھٹی لہر === | ||
| سطر 44: | سطر 44: | ||
=== نویں لہر === | === نویں لہر === | ||
آپریشن وعدۂ صادق 4 کی نویں لہر مقبوضہ علاقوں کے مختلف اہداف اور خطے میں موجود امریکی اہداف کے خلاف شروع کی گئی۔ اس دوران امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کو چار کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد یہ جہاز اپنے مشن کے مقام سے جنوب مشرقی بحرِ ہند کی طرف ہٹ گیا۔ اسی طرح امارات کے علاقے الرویس میں صہیونی حکومت کے میزائل دفاعی نظام کے “تاد” (THAAD) ریڈار کو سپاہ پاسداران کی فضائیہ کے ایک نقطہ زن میزائل سے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ مزید برآں امریکی بحری بیڑے کو ایندھن فراہم کرنے والا ایک معاون جہاز، جو چابہار کے ساحل سے تقریباً 700 کلومیٹر دور تھا، ڈرون اور میزائل نظاموں کے حملے کا نشانہ بنا اور ناکارہ ہو کر عملیاتی نظام سے خارج ہو گیا۔ | آپریشن وعدۂ صادق 4 کی نویں لہر مقبوضہ علاقوں کے مختلف اہداف اور خطے میں موجود امریکی اہداف کے خلاف شروع کی گئی۔ اس دوران امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کو چار کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد یہ جہاز اپنے مشن کے مقام سے جنوب مشرقی بحرِ ہند کی طرف ہٹ گیا۔ اسی طرح امارات کے علاقے الرویس میں صہیونی حکومت کے میزائل دفاعی نظام کے “تاد” (THAAD) ریڈار کو [[سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی|سپاہ پاسداران]] کی فضائیہ کے ایک نقطہ زن میزائل سے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ مزید برآں امریکی بحری بیڑے کو ایندھن فراہم کرنے والا ایک معاون جہاز، جو چابہار کے ساحل سے تقریباً 700 کلومیٹر دور تھا، ڈرون اور میزائل نظاموں کے حملے کا نشانہ بنا اور ناکارہ ہو کر عملیاتی نظام سے خارج ہو گیا۔ | ||
=== دسویں لہر === | === دسویں لہر === | ||
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اپنے بیان نمبر 9 میں اعلان کیا کہ آپریشن وعدۂ صادق 4 کی دسویں لہر میں خیبر میزائلوں کی کارروائی نے مقبوضہ علاقوں پر آگ کے عظیم دروازے کھول دیے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ مقبوضہ علاقوں کے باشندے فوجی اڈوں، سکیورٹی اور حکومتی مراکز کے اطراف سے دور رہیں اور فوری طور پر ان علاقوں کو ترک کر دیں۔ اس لہر میں تل ابیب میں صہیونی حکومت کے حکومتی کمپلیکس، حیفا کے فوجی اور سکیورٹی مراکز اور مشرقی بیت المقدس کو نشانہ بنایا گیا۔ | [[سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی]] کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اپنے بیان نمبر 9 میں اعلان کیا کہ آپریشن وعدۂ صادق 4 کی دسویں لہر میں خیبر میزائلوں کی کارروائی نے مقبوضہ علاقوں پر آگ کے عظیم دروازے کھول دیے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ مقبوضہ علاقوں کے باشندے فوجی اڈوں، سکیورٹی اور حکومتی مراکز کے اطراف سے دور رہیں اور فوری طور پر ان علاقوں کو ترک کر دیں۔ اس لہر میں تل ابیب میں صہیونی حکومت کے حکومتی کمپلیکس، حیفا کے فوجی اور سکیورٹی مراکز اور مشرقی بیت المقدس کو نشانہ بنایا گیا۔ | ||
=== گیارہویں لہر === | === گیارہویں لہر === | ||
آپریشن وعدۂ صادق 4 کی گیارہویں لہر ایک مشترکہ، وسیع اور شدید کارروائی کے طور پر سپاہ پاسداران کے بحری اور فضائی یونٹوں نے امریکی–صہیونی فوجی اہداف کے خلاف دشمن کی جارحیت کے تیسرے دن انجام دی۔ اس کارروائی میں پہلی نسل کے فتاح میزائل استعمال کیے گئے، جسے صہیونی فوج کے دفاعی نظام کے خاتمے اور صہیونی عناصر کی بدحواسی کی ابتدا قرار دیا گیا۔ طاقتور اور انتہائی چالاک فتاح میزائلوں نے میزائل دفاعی نظام کو عبور کرتے ہوئے صہیونی پناہ گاہوں کو متعدد بار لرزا دیا اور ایران کی طاقت کا پیغام تل ابیب کے جنگجو اتحادیوں تک پہنچایا۔ خلیج فارس کے خطے میں امریکی انٹیلی جنس مراکز اور فوجی لاجسٹک گوداموں، بئر السبع میں صہیونی فوج کے مواصلاتی صنعتوں کے کمپلیکس، اور مقبوضہ علاقوں میں تل ابیب، مغربی بیت المقدس اور الجلیل کے علاقوں میں 20 سے زائد مقامات کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں سے نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی مسلح افواج کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 60 اسٹریٹجک اہداف اور امریکہ و صہیونی حکومت کے 500 فوجی مقامات پر حملے کیے گئے، جبکہ 700 سے زیادہ ڈرون اور سینکڑوں میزائل داغے گئے، اور گزشتہ 48 گھنٹوں میں دشمن کے دفاعی نظام کو ناکام بناتے ہوئے ایک نئی شدت کا مرحلہ سامنے آیا۔ | آپریشن وعدۂ صادق 4 کی گیارہویں لہر ایک مشترکہ، وسیع اور شدید کارروائی کے طور پر سپاہ پاسداران کے بحری اور فضائی یونٹوں نے امریکی–صہیونی فوجی اہداف کے خلاف دشمن کی جارحیت کے تیسرے دن انجام دی۔ اس کارروائی میں پہلی نسل کے فتاح میزائل استعمال کیے گئے، جسے صہیونی فوج کے دفاعی نظام کے خاتمے اور صہیونی عناصر کی بدحواسی کی ابتدا قرار دیا گیا۔ طاقتور اور انتہائی چالاک فتاح میزائلوں نے میزائل دفاعی نظام کو عبور کرتے ہوئے صہیونی پناہ گاہوں کو متعدد بار لرزا دیا اور [[ایران]] کی طاقت کا پیغام تل ابیب کے جنگجو اتحادیوں تک پہنچایا۔ خلیج فارس کے خطے میں امریکی انٹیلی جنس مراکز اور فوجی لاجسٹک گوداموں، بئر السبع میں صہیونی فوج کے مواصلاتی صنعتوں کے کمپلیکس، اور مقبوضہ علاقوں میں تل ابیب، مغربی بیت المقدس اور الجلیل کے علاقوں میں 20 سے زائد مقامات کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں سے نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی مسلح افواج کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 60 اسٹریٹجک اہداف اور امریکہ و صہیونی حکومت کے 500 فوجی مقامات پر حملے کیے گئے، جبکہ 700 سے زیادہ ڈرون اور سینکڑوں میزائل داغے گئے، اور گزشتہ 48 گھنٹوں میں دشمن کے دفاعی نظام کو ناکام بناتے ہوئے ایک نئی شدت کا مرحلہ سامنے آیا۔ | ||
=== بارہویں لہر === | === بارہویں لہر === | ||
آپریشن وعدۂ صادق 4 کی بارہویں لہر سمندری محاذ پر کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین اور آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کے ثابت اور متحرک اہداف پر حملوں کے ساتھ انجام دی گئی۔ اس کارروائی میں انتہائی بھاری، طویل فاصلے تک مار کرنے والے دو مرحلوں پر مشتمل سجیل میزائل، 26 حملہ آور ڈرون اور 5 بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ ان حملوں میں کویت میں واقع امریکی اڈہ **عریفجان** کو دو مراحل میں 12 ڈرونوں سے نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح امارات کے منہاد اڈے میں امریکی فوج کے کمانڈ اور کنٹرول مرکز کو 6 ڈرونوں اور 5 بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ بحرین میں امریکی بحری بیڑے کی باقی ماندہ تنصیبات کو 6 ڈرونوں سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔ آبنائے ہرمز میں امریکہ کے اتحادیوں کے ایندھن بردار ٹینکر | آپریشن وعدۂ صادق 4 کی بارہویں لہر سمندری محاذ پر کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین اور آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کے ثابت اور متحرک اہداف پر حملوں کے ساتھ انجام دی گئی۔ اس کارروائی میں انتہائی بھاری، طویل فاصلے تک مار کرنے والے دو مرحلوں پر مشتمل سجیل میزائل، 26 حملہ آور ڈرون اور 5 بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ ان حملوں میں کویت میں واقع امریکی اڈہ **عریفجان** کو دو مراحل میں 12 ڈرونوں سے نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح امارات کے منہاد اڈے میں امریکی فوج کے کمانڈ اور کنٹرول مرکز کو 6 ڈرونوں اور 5 بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ بحرین میں امریکی بحری بیڑے کی باقی ماندہ تنصیبات کو 6 ڈرونوں سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔ آبنائے ہرمز میں امریکہ کے اتحادیوں کے ایندھن بردار ٹینکر “آتِن نُوا” کو بھی دو ڈرونوں کے حملے کے بعد آگ لگ گئی اور وہ مسلسل جلتا رہا۔ | ||
=== تیرہویں لہر === | === تیرہویں لہر === | ||
| سطر 62: | سطر 62: | ||
=== پندرھویں لہر === | === پندرھویں لہر === | ||
سپاہ پاسداران کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے بیان نمبر 14 کے مطابق آپریشن وعدۂ صادق 4 کی پندرھویں لہر “یا فاطمہ الزہراء (سلام اللہ علیہا)” کے رمز کے ساتھ سپاہ پاسداران کی بحریہ نے خطے میں امریکی فوج کے اہداف کے خلاف خصوصی آپریشنل کارروائیوں کے امتزاج کے ساتھ انجام دی۔ بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ فضائی اڈے میں امریکی فوج کے کمانڈ اور سازوسامان کے 10 اہم اور اسٹریٹجک مقامات کو ایرانی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ تباہ ہونے والے اہداف میں امریکی فضائی کمانڈ و کنٹرول مرکز، طیاروں کے ایندھن کے ذخائر اور اعلیٰ امریکی کمانڈروں کی رہائش گاہ شامل تھیں۔ زمینی اور سیٹلائٹ انٹیلی جنس کی رپورٹوں کے مطابق اس اڈے کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر ناکارہ ہو گیا اور وہاں انسانی بحران اور اہلکاروں کے انخلا کی صورتحال پیدا ہو گئی۔<ref>[http://mehrnews.com/x3bwdq آغاز موج بیست و هشتم عملیات وعده صادق۴، وبسایت خبرگزاری مهر]. </ref>. | سپاہ پاسداران کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے بیان نمبر 14 کے مطابق آپریشن وعدۂ صادق 4 کی پندرھویں لہر “یا [[حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا|فاطمہ الزہراء (سلام اللہ علیہا)]]” کے رمز کے ساتھ سپاہ پاسداران کی بحریہ نے خطے میں امریکی فوج کے اہداف کے خلاف خصوصی آپریشنل کارروائیوں کے امتزاج کے ساتھ انجام دی۔ بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ فضائی اڈے میں امریکی فوج کے کمانڈ اور سازوسامان کے 10 اہم اور اسٹریٹجک مقامات کو ایرانی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ تباہ ہونے والے اہداف میں امریکی فضائی کمانڈ و کنٹرول مرکز، طیاروں کے ایندھن کے ذخائر اور اعلیٰ امریکی کمانڈروں کی رہائش گاہ شامل تھیں۔ زمینی اور سیٹلائٹ انٹیلی جنس کی رپورٹوں کے مطابق اس اڈے کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر ناکارہ ہو گیا اور وہاں انسانی بحران اور اہلکاروں کے انخلا کی صورتحال پیدا ہو گئی۔<ref>[http://mehrnews.com/x3bwdq آغاز موج بیست و هشتم عملیات وعده صادق۴، وبسایت خبرگزاری مهر]. </ref>. | ||
=== سولہویں لہر === | === سولہویں لہر === | ||
آپریشن وعدۂ صادق 4 کی سولہویں لہر “یا علی بن ابی طالب (علیہ السلام)” کے مقدس رمز کے ساتھ سپاہ پاسداران کی فضائیہ کے میزائلوں اور ڈرونوں کی بڑی تعداد کے ساتھ مقبوضہ علاقوں کے مرکز کی طرف شروع کی گئی۔ ان حملوں میں صہیونی فوج کے جنرل اسٹاف اور وزارتِ جنگ کا مرکز ہاکاریا، اسٹریٹجک علاقے بنی براک کے بنیادی ڈھانچے، تل ابیب کے شمال مشرق میں واقع پیتح تکفا میں فوجی اہداف اور الجلیل الغربی میں واقع ایک فوجی مرکز ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں کا نشانہ بنے۔ | آپریشن وعدۂ صادق 4 کی سولہویں لہر “یا [[علی ابن ابی طالب|علی بن ابی طالب]] (علیہ السلام)” کے مقدس رمز کے ساتھ سپاہ پاسداران کی فضائیہ کے میزائلوں اور ڈرونوں کی بڑی تعداد کے ساتھ مقبوضہ علاقوں کے مرکز کی طرف شروع کی گئی۔ ان حملوں میں صہیونی فوج کے جنرل اسٹاف اور وزارتِ جنگ کا مرکز ہاکاریا، اسٹریٹجک علاقے بنی براک کے بنیادی ڈھانچے، تل ابیب کے شمال مشرق میں واقع پیتح تکفا میں فوجی اہداف اور الجلیل الغربی میں واقع ایک فوجی مرکز ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں کا نشانہ بنے۔ | ||
=== سترہویں لہر === | === سترہویں لہر === | ||
| سطر 74: | سطر 74: | ||
=== انیسویں لہر === | === انیسویں لہر === | ||
سپاہ پاسداران کے تعلقاتِ عامہ کے مطابق آپریشن وعدۂ صادق 4 کی انیسویں لہر مبارک رمز “یا حسن بن علی علیہ السلام” کے ساتھ سپاہ کی ایرو اسپیس فورس نے ایک ٹن وارہیڈ رکھنے والے بھاری خرمشہر‑4 میزائل داغ کر تل ابیب، بن گوریون ایئرپورٹ اور صہیونی فضائیہ کے اسکواڈرن 27 کے اڈے کو نشانہ بنایا۔ حملہ آور ڈرونوں کی پیش قدمی کے ساتھ ان اسٹریٹجک میزائلوں نے مقبوضہ علاقوں کے سات تہوں پر مشتمل دفاعی نظام کو عبور کرتے ہوئے حملہ کیا۔ | سپاہ پاسداران کے تعلقاتِ عامہ کے مطابق آپریشن وعدۂ صادق 4 کی انیسویں لہر مبارک رمز “یا [[حسن بن علی]] علیہ السلام” کے ساتھ سپاہ کی ایرو اسپیس فورس نے ایک ٹن وارہیڈ رکھنے والے بھاری خرمشہر‑4 میزائل داغ کر تل ابیب، بن گوریون ایئرپورٹ اور صہیونی فضائیہ کے اسکواڈرن 27 کے اڈے کو نشانہ بنایا۔ حملہ آور ڈرونوں کی پیش قدمی کے ساتھ ان اسٹریٹجک میزائلوں نے مقبوضہ علاقوں کے سات تہوں پر مشتمل دفاعی نظام کو عبور کرتے ہوئے حملہ کیا۔ | ||
=== بیسویں لہر === | === بیسویں لہر === | ||
| سطر 80: | سطر 80: | ||
=== اکیسویں لہر === | === اکیسویں لہر === | ||
سپاہ پاسداران کے مطابق مشترکہ میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ، خیبر شکن میزائلوں کی بارش کرتے ہوئے تل ابیب کے مرکز میں موجود اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کی شام “یا معز المؤمنین” کے رمز کے ساتھ شروع ہوئی۔ | سپاہ پاسداران کے مطابق مشترکہ میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ، خیبر شکن میزائلوں کی بارش کرتے ہوئے تل ابیب کے مرکز میں موجود اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی [[امام حسن مجتبی علیہ السلام|امام حسن مجتبیٰ]] (علیہ السلام) کی ولادت کی شام “یا معز المؤمنین” کے رمز کے ساتھ شروع ہوئی۔ | ||
=== بائیسویں لہر === | === بائیسویں لہر === | ||
آپریشن وعدۂ صادق 4 کی بائیسویں لہر مظلوم مینابی طلبہ کے شہداء کے نام اور مقدس رمز “یا حسین بن علی (علیہ السلام)” کے ساتھ انجام دی گئی۔ اس کارروائی میں امریکی اور صہیونی اہداف کے خلاف وسیع حملے شامل تھے۔ امارات میں واقع امریکی الظفرہ فضائی اڈے کو مختلف ڈرونوں اور نقطہ زن میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جس میں اس کے جدید ابتدائی انتباہی ریڈار، MQ‑9 ڈرون اور U‑2 جاسوسی طیاروں کے ہینگر تباہ ہو گئے۔ اسی طرح علی السالم امریکی اڈے پر کروز اور بیلسٹک میزائلوں کے حملے سے ریڈار، ایندھن کے ذخائر اور رن ویز تباہ ہوئے۔ قطر میں العدید امریکی اڈے کی ریڈار اور فضائی کنٹرول تنصیبات بھی ڈرون اور میزائل حملوں میں تباہ کی گئیں۔ | آپریشن وعدۂ صادق 4 کی بائیسویں لہر مظلوم مینابی طلبہ کے شہداء کے نام اور مقدس رمز “یا [[حسین بن علی]] (علیہ السلام)” کے ساتھ انجام دی گئی۔ اس کارروائی میں امریکی اور صہیونی اہداف کے خلاف وسیع حملے شامل تھے۔ امارات میں واقع امریکی الظفرہ فضائی اڈے کو مختلف ڈرونوں اور نقطہ زن میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جس میں اس کے جدید ابتدائی انتباہی ریڈار، MQ‑9 ڈرون اور U‑2 جاسوسی طیاروں کے ہینگر تباہ ہو گئے۔ اسی طرح علی السالم امریکی اڈے پر کروز اور بیلسٹک میزائلوں کے حملے سے ریڈار، ایندھن کے ذخائر اور رن ویز تباہ ہوئے۔ قطر میں العدید امریکی اڈے کی ریڈار اور فضائی کنٹرول تنصیبات بھی ڈرون اور میزائل حملوں میں تباہ کی گئیں۔ | ||
=== تیئیسویں لہر === | === تیئیسویں لہر === | ||
سپاہ پاسداران کی ایرو اسپیس فورس نے “یا صاحب الزمان عجل اللہ” کے رمز کے ساتھ آپریشن وعدۂ صادق 4 کی تیئیسویں لہر انجام دی۔ اس میں نئی نسل کے ٹھوس اور مائع ایندھن والے میزائلوں نے مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں شیخ عیسیٰ، علی السالم، الجفیر اور الازرق کو نشانہ بنایا۔ بئر السبع میں جدید ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی اور فوجی سپورٹ مراکز بھی اہداف میں شامل تھے۔ | [[سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی|سپاہ پاسداران]] کی ایرو اسپیس فورس نے “یا [[محمد بن حسن المهدی|صاحب الزمان]] عجل اللہ” کے رمز کے ساتھ آپریشن وعدۂ صادق 4 کی تیئیسویں لہر انجام دی۔ اس میں نئی نسل کے ٹھوس اور مائع ایندھن والے میزائلوں نے مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں شیخ عیسیٰ، علی السالم، الجفیر اور الازرق کو نشانہ بنایا۔ بئر السبع میں جدید ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی اور فوجی سپورٹ مراکز بھی اہداف میں شامل تھے۔ | ||
=== چوبیسویں لہر === | === چوبیسویں لہر === | ||
| سطر 97: | سطر 97: | ||
=== چھبیسویں لہر === | === چھبیسویں لہر === | ||
خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کے مطابق آپریشن وعدۂ صادق 4 کی چھبیسویں لہر “یا حیدر کرار” کے رمز کے ساتھ انجام دی گئی۔ اس کارروائی میں خیبرشکن، عماد اور قدر میزائلوں سے مقبوضہ علاقوں کے شمال سے جنوب تک اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ بحرین میں امریکی الجفیر اڈے کو بھی نقطہ زن میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جبکہ ایرانی بری فوج کے ڈرونوں نے تل ابیب اور حیفا کے فوجی مراکز پر بھی حملہ کیا۔<ref>[http://mehrnews.com/x3bxDJ هشتمین روز جنگ؛ اجرای موج ۲۶عملیات وعده صادق ۴ با رمز یا حیدر کرار، وبسایت خبرگزاری مهر]. </ref>. | خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کے مطابق آپریشن وعدۂ صادق 4 کی چھبیسویں لہر “یا حیدر کرار” کے رمز کے ساتھ انجام دی گئی۔ اس کارروائی میں خیبرشکن، عماد اور قدر میزائلوں سے مقبوضہ علاقوں کے شمال سے جنوب تک اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ بحرین میں امریکی الجفیر اڈے کو بھی نقطہ زن میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جبکہ ایرانی بری فوج کے ڈرونوں نے تل ابیب اور حیفا کے فوجی مراکز پر بھی حملہ کیا۔<ref>[http://mehrnews.com/x3bxDJ هشتمین روز جنگ؛ اجرای موج ۲۶عملیات وعده صادق ۴ با رمز یا حیدر کرار، وبسایت خبرگزاری مهر]. </ref>. | ||
=== ستائیسویں لہر === | === ستائیسویں لہر === | ||
سپاہ کے مطابق“یا حیدر کرار (علیہ السلام)” کے رمز کے ساتھ مشترکہ ڈرون اور میزائل کارروائی میں حیفا میں صہیونی فوجی اہداف کو خیبرشکن میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جبکہ ڈرون یونٹوں نے امریکی فوجیوں کے ٹھکانوں اور بندر سلمان میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔[6] | سپاہ کے مطابق“یا حیدر کرار (علیہ السلام)” کے رمز کے ساتھ مشترکہ ڈرون اور میزائل کارروائی میں حیفا میں صہیونی فوجی اہداف کو خیبرشکن میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جبکہ ڈرون یونٹوں نے امریکی فوجیوں کے ٹھکانوں اور بندر سلمان میں [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکی]] بحریہ کے پانچویں بیڑے کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔[6] | ||
=== اٹھائیسویں لہر === | === اٹھائیسویں لہر === | ||
| سطر 107: | سطر 106: | ||
=== انتیسویں لہر === | === انتیسویں لہر === | ||
سپاہ پاسداران کی ایرو اسپیس فورس کے نئے نسل کے میزائلوں کے ذریعے “یا علی بن ابی | [[سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی|سپاہ پاسداران]] کی ایرو اسپیس فورس کے نئے نسل کے میزائلوں کے ذریعے “یا [[علی ابن ابی طالب|علی بن ابی طالب]]” کے رمز کے ساتھ تل ابیب، صحرائے نقب اور خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔<ref>[https://fa.alalam.ir/news/7424123/%D9%85%D9%88%D8%AC-%D8%A8%DB%8C%D8%B3%D8%AA-%D9%88-%D9%86%D9%87%D9%85-%D8%B9%D9%85%D9%84%DB%8C%D8%A7%D8%AA-%D9%88%D8%B9%D8%AF%D9%87-%D8%B5%D8%A7%D8%AF%D9%82-%DB%B4-%D8%AA%D9%88%D8%B3%D8%B7-%D9%85%D9%88%D8%B4%DA%A9-%D9%87 موج بیست و نهم عملیات وعده صادق ۴ توسط موشکهای نسل جدید آغاز شد، وبسایت شبکه العالم]. </ref> | ||
=== تیسویں لہر === | === تیسویں لہر === | ||
| سطر 128: | سطر 127: | ||
=== سینتیسویں لہر === | === سینتیسویں لہر === | ||
سینتیسویں لہر میں تین گھنٹے تک جاری میزائل حملوں کے دوران خرمشہر میزائلوں سمیت متعدد ہتھیار استعمال کیے گئے۔ تل ابیب کے جنوب میں | سینتیسویں لہر میں تین گھنٹے تک جاری میزائل حملوں کے دوران خرمشہر میزائلوں سمیت متعدد ہتھیار استعمال کیے گئے۔ تل ابیب کے جنوب میں ہائلا سیٹلائٹ کمیونیکیشن مرکز، بئر یعقوب، مغربی بیت المقدس اور حیفا کے فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اربیل اور خطے میں امریکی اہداف بھی حملوں کا نشانہ بنے۔<ref>[http://mehrnews.com/x3bzks سهمگینترین و سنگینترین عملیات وعده صادق ۴ از ابتدای جنگ تاکنون، وبسایت خبرگزاری مهر]. </ref> | ||
=== اڑتیسویں لہر === | === اڑتیسویں لہر === | ||
| سطر 161: | سطر 160: | ||
=== اڑتالیسویں لہر === | === اڑتالیسویں لہر === | ||
اڑتالیسویں لہر “یا قمر بنی ہاشم (علیہ السلام)” کے رمز کے ساتھ الجلیل، جولان اور حیفا سمیت مقبوضہ علاقوں کے شمالی اہداف اور امریکی اڈوں پر خیبرشکن اور قدر میزائلوں اور ڈرونوں سے حملوں پر مشتمل تھی۔ | اڑتالیسویں لہر “یا [[عباس بن علی|قمر بنی ہاشم]] (علیہ السلام)” کے رمز کے ساتھ الجلیل، جولان اور حیفا سمیت مقبوضہ علاقوں کے شمالی اہداف اور امریکی اڈوں پر خیبرشکن اور قدر میزائلوں اور ڈرونوں سے حملوں پر مشتمل تھی۔ | ||
=== انچاسویں لہر === | === انچاسویں لہر === | ||
سپاہ پاسداران کی بحریہ نے “یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ)” کے رمز کے ساتھ امریکی اڈوں الظفرہ، شیخ عیسیٰ اور العدیری کو میزائلوں اور ڈرونوں سے نشانہ بنایا جبکہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا اعلان کیا۔ | سپاہ پاسداران کی بحریہ نے “یا [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسول اللہ]] (صلی اللہ علیہ وآلہ)” کے رمز کے ساتھ امریکی اڈوں الظفرہ، شیخ عیسیٰ اور العدیری کو میزائلوں اور ڈرونوں سے نشانہ بنایا جبکہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا اعلان کیا۔ | ||
=== پچاسویں لہر === | === پچاسویں لہر === | ||
پچاسویں لہر | پچاسویں لہر “یا زہرا (سلام اللہ علیہا)”کے رمز کے ساتھ الظفرہ، فجیرہ، الجفیر، علی السالم اور الازرق سمیت امریکی اڈوں اور ابتدائی انتباہی ریڈاروں کے خلاف ڈرون حملوں پر مشتمل تھی۔ | ||
=== اکیاونویں لہر === | === اکیاونویں لہر === | ||
اکیاونویں لہر | اکیاونویں لہر “یا [[علی بن موسی|علی بن موسیٰ الرضا]] (علیہ السلام)” کے رمز کے ساتھ سعودی عرب میں واقع امریکی الخرج اڈے کے خلاف مائع اور ٹھوس ایندھن والے میزائلوں سے انجام دی گئی۔<ref>[https://tasnimnews.ir/3540823 موج 51 علیه مبدا تجهیز جنگندههای اف 35 و اف 16 رژیم تروریستی آمریکا، وبسایت خبرگزاری تسنیم]. </ref>. | ||
=== باون ویں لہر === | === باون ویں لہر === | ||
| سطر 179: | سطر 178: | ||
=== چھپن ویں لہر === | === چھپن ویں لہر === | ||
چھپن ویں لہر “یا زینب کبریٰ (سلام اللہ علیہا)” کے رمز کے ساتھ خرمشہر، عماد اور قدر میزائلوں سے شمالی مقبوضہ علاقوں اور امریکی العدید اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی دوران سپاہ کے ڈرون یونٹوں نے اربیل میں مخالف گروہوں کے ٹھکانوں پر بھی حملے کیے۔ | چھپن ویں لہر “یا [[زینب بنت علی|زینب کبریٰ]] (سلام اللہ علیہا)” کے رمز کے ساتھ خرمشہر، عماد اور قدر میزائلوں سے شمالی مقبوضہ علاقوں اور امریکی العدید اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی دوران سپاہ کے ڈرون یونٹوں نے اربیل میں مخالف گروہوں کے ٹھکانوں پر بھی حملے کیے۔ | ||
=== ستاون ویں لہر === | === ستاون ویں لہر === | ||
سپاہ کے بیان کے مطابق ستاون ویں لہر “یا سید الساجدین (علیہ السلام)” کے رمز کے ساتھ مقبوضہ علاقوں کے کمانڈ اور میزائل دفاعی مراکز کو خیبرشکن، عماد اور قدر میزائلوں سے نشانہ بنانے پر مشتمل تھی۔ قطر میں واقع امریکی | سپاہ کے بیان کے مطابق ستاون ویں لہر “یا [[علی بن حسین|سید الساجدین]] (علیہ السلام)” کے رمز کے ساتھ مقبوضہ علاقوں کے کمانڈ اور میزائل دفاعی مراکز کو خیبرشکن، عماد اور قدر میزائلوں سے نشانہ بنانے پر مشتمل تھی۔ قطر میں واقع امریکی العدید اڈے کو ذوالفقار اور قیام میزائلوں اور ڈرونوں سے نشانہ بنایا گیا جبکہ بحرین کے شیخ عیسیٰ اور امارات کے الظفرہ اڈوں پر بھی کروز میزائل حملے کیے گئے۔<ref>[http://mehrnews.com/x3bCsf موج ۵۷ عملیات وعده صادق ۴ اجرا شد، وبسایت خبرگزاری مهر]. </ref> | ||
... وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ (آل عمران: 126) | ... وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ (آل عمران: 126) | ||
== بیانیۀ الازہر == | == بیانیۀ [[الازہر یونیورسٹی|الازہر]] == | ||
الازہر نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک—متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت، سعودی | [[الازہر یونیورسٹی|الازہر]] نے [[ایران]] کی جانب سے خلیجی ممالک—متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت، [[سعودی عرب]]، سلطنتِ عمان—اور اسی طرح بعض دیگر عرب ممالک اور اسلامی ہمسایہ ممالک جیسے اردن، [[عراق]]، ترکی اور جمہوریہ آذربایجان پر جاری غیرضروری حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔ الازہر، [[ ایران|اسلامی جمہوریۂ ایران]] سے جو کہ ایک مسلم ہمسایہ ملک ہے، مطالبہ کرتا ہے کہ شریعتِ اسلام کے مطابق فوری فیصلہ کرے، ان حملوں کو بلاشرط بند کرے، ان ممالک کی خودمختاری کا احترام کرے اور دور یا نزدیک کسی بھی قسم کی تجاوزکاری سے پرہیز کرے تاکہ ان بے قصور لوگوں کی جانیں محفوظ رہیں جن کا ان جھگڑوں سے کوئی تعلق نہیں۔ | ||
الازہر اس بات پر زور دیتا ہے کہ رہائشی علاقوں، ہوائی اڈوں، اسپتالوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا—ان ممالک میں جو کسی تنازعے کا حصہ نہیں—بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اسلام کے اس واضح حکم کے خلاف ہے جو انسانی جان، مال اور عزت کے احترام کا تقاضا کرتا ہے۔ اسی لیے قرآن کی آیت: | [[الازہر یونیورسٹی|الازہر]] اس بات پر زور دیتا ہے کہ رہائشی علاقوں، ہوائی اڈوں، اسپتالوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا—ان ممالک میں جو کسی تنازعے کا حصہ نہیں—بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اسلام کے اس واضح حکم کے خلاف ہے جو انسانی جان، مال اور عزت کے احترام کا تقاضا کرتا ہے۔ اسی لیے [[قرآن]] کی آیت: | ||
"وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ" | "وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ" | ||
اور حدیثِ نبویؐ: | اور حدیثِ نبویؐ: | ||
| سطر 196: | سطر 195: | ||
اس بات کی یاد دہانی کراتی ہیں۔ الازہر ایران پر ذمہ داری ڈالتا ہے کہ خلیجی ممالک اور ہمسایوں پر حملے بند کرے اور ایسے ہر اقدام سے باز رہے جو جنگ میں اضافہ کرتا ہو۔ نیز یہ کہ عام شہریوں کی جان، امن و استحکام کے تحفظ کے لیے، شریعتِ اسلامی، بین الاقوامی قوانین اور ممالک کی خودمختاری کی بنیاد پر اس بحران کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ | اس بات کی یاد دہانی کراتی ہیں۔ الازہر ایران پر ذمہ داری ڈالتا ہے کہ خلیجی ممالک اور ہمسایوں پر حملے بند کرے اور ایسے ہر اقدام سے باز رہے جو جنگ میں اضافہ کرتا ہو۔ نیز یہ کہ عام شہریوں کی جان، امن و استحکام کے تحفظ کے لیے، شریعتِ اسلامی، بین الاقوامی قوانین اور ممالک کی خودمختاری کی بنیاد پر اس بحران کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ | ||
الازہر مصر کی قیادت کی اس کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے جو خطے میں تمام عسکری کارروائیوں کو روکنے کے لیے کی جا رہی ہے، اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ جنگ بندی، گفتوگو کے فروغ اور تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تاکہ خطے کا امن و استحکام اور بے گناہوں کی جانیں محفوظ ہو سکیں۔ | [[الازہر یونیورسٹی|الازہر]] [[مصر]] کی قیادت کی اس کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے جو خطے میں تمام عسکری کارروائیوں کو روکنے کے لیے کی جا رہی ہے، اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ جنگ بندی، گفتوگو کے فروغ اور تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تاکہ خطے کا امن و استحکام اور بے گناہوں کی جانیں محفوظ ہو سکیں۔ | ||
آخر میں الازہر دوست ممالک کے شہداء اور متاثرین کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہے، زخمیوں کی شفا کے لیے دعا کرتا ہے اور تمام لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے امن، آفتوں سے نجات اور پائیدار صلح کی دعا کرتا ہے۔ | آخر میں الازہر دوست ممالک کے شہداء اور متاثرین کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہے، زخمیوں کی شفا کے لیے دعا کرتا ہے اور تمام لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے امن، آفتوں سے نجات اور پائیدار صلح کی دعا کرتا ہے۔ | ||
| سطر 209: | سطر 208: | ||
ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسلامی جمہوریۂ ایران کا دفاع، اس کا شرعی اور قانونی حق ہے، اور ہم الازہر سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ تدبر اور گہرائی کے ساتھ، اور شرعی اصولوں کے مطابق مسائل کو دیکھے، جیسا کہ اسلام عدل کا حکم دیتا ہے اور ظلم سے منع فرماتا ہے۔ | ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسلامی جمہوریۂ ایران کا دفاع، اس کا شرعی اور قانونی حق ہے، اور ہم الازہر سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ تدبر اور گہرائی کے ساتھ، اور شرعی اصولوں کے مطابق مسائل کو دیکھے، جیسا کہ اسلام عدل کا حکم دیتا ہے اور ظلم سے منع فرماتا ہے۔ | ||
ہم اللہ تعالیٰ سے مسلمانوں کی وحدت و یکجہتی، دشمنوں کے مکر کے خاتمے، اور فلسطین، یمن، شام اور عراق کے مظلوم عوام کی نصرت کی دعا کرتے ہیں۔ | ہم اللہ تعالیٰ سے [[مسلمان|مسلمانوں]] کی وحدت و یکجہتی، دشمنوں کے مکر کے خاتمے، اور فلسطین، یمن، شام اور عراق کے مظلوم عوام کی نصرت کی دعا کرتے ہیں۔ | ||
علمائے ترکمان صحرا، صوبۂ گلستان، جمهوری اسلامی ایران — ۲۷/۱۲/۱۴۰۴ هـ.ش<ref>[https://eitaa.com/vahdat_islam بیانیه بسیار تاسف بار الأزهر در محکومیت حملات ایران به پایگاه های آمریکایی، کانال امام شهید در بستر ایتا].</ref>. | علمائے ترکمان صحرا، صوبۂ گلستان، جمهوری اسلامی ایران — ۲۷/۱۲/۱۴۰۴ هـ.ش<ref>[https://eitaa.com/vahdat_islam بیانیه بسیار تاسف بار الأزهر در محکومیت حملات ایران به پایگاه های آمریکایی، کانال امام شهید در بستر ایتا].</ref>. | ||
== متعلقه مضامین == | |||
* [[ایران]] | |||
* [[سید علی خامنہ ای]] | |||
* [[سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی]] | |||
* [[محمد پاکپور]] | |||
* [[علی شمخانی]] | |||
== حوالہ جات == | == حوالہ جات == | ||
| سطر 217: | سطر 223: | ||
== مآخذ == | == مآخذ == | ||
* [https://tasnimnews.ir/3528069 بحرِ ہند میں آپریشن وعدۂ صادق 4 کی پانچویں لہر، ویب سائٹ خبر ایجنسی تسنیم]، تاریخِ اشاعت: 1 مارچ 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: | * [https://tasnimnews.ir/3528069 بحرِ ہند میں آپریشن وعدۂ صادق 4 کی پانچویں لہر، ویب سائٹ خبر ایجنسی تسنیم]، تاریخِ اشاعت: 1 مارچ 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: ۲۴ مارچ 2026ء۔ | ||
* [https:// | * [https://nournews.ir/fa/news/279338/%D9%85%D9%88%D8%AC-%D8%B4%D8%A7%D9%86%D8%B2%D8%AF%D9%87%D9%85-%D9%88%D8%B9%D8%AF%D9%87-%D8%B5%D8%A7%D8%AF%D9%82-4%D8%B6%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%D8%B3%D9%86%DA%AF%DB%8C%D9%86-%D9%88-%DA%A9%D9%88%D8%A8%D9%86%D8%AF%D9%87-- آپریشن وعدۂ صادق 4 کی سولہویں، سترہویں اور اٹھارہویں لہریں، ویب سائٹ نورنیوز]، تاریخِ اشاعت: 4 مارچ 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: ۲۴ مارچ 2026ء۔ | ||
* [ | * [https://fa.alalam.ir/news/7423533/%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2-%D9%85%D9%88%D8%AC-%D8%A8%DB%8C%D8%B3%D8%AA-%D9%88-%D9%BE%D9%86%D8%AC%D9%85-%D8%B9%D9%85%D9%84%DB%8C%D8%A7%D8%AA-%D9%88%D8%B9%D8%AF%D9%87-%D8%B5%D8%A7%D8%AF%D9%82-%DB%B4 آپریشن وعدۂ صادق 4 کی پچیسویں لہر کا آغاز، ویب سائٹ الشبکۃ العالم]، تاریخِ اشاعت: 7 مارچ 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: ۲۴ مارچ 2026ء۔ | ||
* [http://mehrnews.com/x3bxDJ جنگ کا آٹھواں دن؛ "یا حیدرِ کرار" کے رمز کے ساتھ آپریشن وعدۂ صادق 4 کی 26ویں لہر کا اجرا، ویب سائٹ خبر ایجنسی مہر]، تاریخِ اشاعت: 7 مارچ 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: ۲۴ مارچ 2026ء۔ | |||
[[زمرہ: واقعات]] | |||
[[زمرہ: قمری پندرویں صدی کے واقعات]] | [[زمرہ: قمری پندرویں صدی کے واقعات]] | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 16:48، 24 مارچ 2026ء
| آپریشن وعدۂ صادق 4 | |
|---|---|
| واقعہ کی معلومات | |
| واقعہ کا نام | آپریشن وعدۂ صادق 4 |
| واقعہ کی تاریخ | 2026ء |
| عوامل | سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی فضائیہ (نیرویِ ہوافضا) کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج اور وزارتِ دفاع کی حمایت و پشتیبانی کے ساتھ |
| اہمیت کی وجہ | یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر 2026 میں ہونے والے حملے کے جواب میں کیا گیا اس واقعے میں پاسچر، یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوریہ کے اطراف، یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوریہ کا علاقہ، مہرآباد، اور ملک کے دیگر شہر: قم، تبریز، اصفہان، کرج، کرمانشاہ اور لرستان وغیرہ — نیز رہبرِ معظمِ انقلاب، امام خامنہای اور ان کے خاندان کے چند افراد، امیر سپہبد سید عبدالرحیم موسوی (چیف آف جنرل اسٹاف، مسلح افواجِ جمہوری اسلامی ایران)، سردار محمد پاکپور (کمانڈر اِن چیف، سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی)، امیر سرلشکر عزیز نصیرزادہ (وزیر دفاع و پشتبانیِ مسلح افواج)، امیر دریاسالار علی شمخانی (مشیرِ رہبرِ معظمِ انقلاب و سیکریٹری، سپریم ڈیفنس کونسل)، ضلع میناب کے مدرسۂ شجرۂ طیبہ کے طلبہ، اور متعدد غیر فوجی ہم وطنوں کی شہادت۔ |
| نتائج |
|
آپریشن وعدۂ صادق 4، اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی جانب سے، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج اور وزارتِ دفاع کی حمایت و پشتیبانی کے ساتھ، اسرائیل اور امریکا کے خلاف چوتھا فضائی و میزائل حملہ تھا۔ یہ حملہ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر 2026 میں ہونے والے حملے کے جواب میں کیا گیا، جس میں پاستور کی عمارت، خیابانِ دانشگاہ اور محدودۂ جمہوری، مہرآباد اور ملک کے دیگر شہروں جیسے قم، تبریز، اصفہان، کرج، کرمانشاہ اور لرستان وغیرہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس حملے کے نتیجے میں امام خامنہای اور ان کے خاندان کے بعض افراد، امیر سپہبد سید عبدالرحیم موسوی (چیف آف جنرل اسٹاف مسلح افواجِ اسلامی جمہوریہ ایران)، سردار محمد پاکپور (کمانڈر اِن چیف سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی)، امیر سرلشکر عزیز نصیرزادہ (وزیرِ دفاع و پشتیبانی نیروهای مسلح)، امیر دریاسالار علی شمخانی (سپریم کمانڈر اِن چیف کے مشیر اور سیکریٹری اعلیٰ دفاعی کونسل)، میناب شہر کے مدرسۂ شجرۂ طیبہ کے طلبہ اور متعدد عام شہری شہید ہوئے۔
یہ آپریشن ہفتہ کی صبح 9 اسفند 1404 ہجری شمسی، مطابق 30 فروری 2026 عیسوی اور 10 رمضان 1447 ہجری قمری کو شروع ہوا۔
اس آپریشن کی مختلف لہروں میں ہونے والے حملوں کے دوران خطے میں امریکہ کے فوجی اڈوں، جیسے سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر وغیرہ میں واقع اڈوں اور ان امریکی جنگی جہازوں کو، جو 2026 میں ایران پر اسرائیلی حملے میں شریک تھے، شدید نقصان اور جانی نقصانات پہنچے۔
اسی دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کیے جانے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے شہروں تل ابیب، حیفا، بیت شیمش، ہکریات، اشدود وغیرہ میں واقع فوجی، سائنسی اور اقتصادی مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔
حملے کا زمان و مکان
اسرائیل کے خلاف ایران کا چوتھا میزائل حملہ، جسے “آپریشن وعدۂ صادق 4” کہا جاتا ہے، کئی مراحل میں ہفتہ کی صبح 9 اسفند 1404 ہجری شمسی، مطابق 30 فروری 2026 عیسوی اور 10 رمضان 1447 ہجری قمری کو شروع ہوا۔ یہ آپریشن سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی فضائیہ (نیرویِ ہوافضا) کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج اور وزارتِ دفاع کی حمایت و پشتیبانی کے ساتھ انجام دیا گیا۔
جانی نقصانات اور خسارات
پہلی لہر
سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے اپنے بیان نمبر 2 میں آپریشن وعدۂ صادق 4 کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی ایران کی سرزمین پر امریکی–صہیونی جارحیت کے جواب میں کی گئی ہے۔ بیان کے مطابق سپاہ پاسداران کے میزائلوں اور ڈرونوں نے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر، قطر اور متحدہ عرب امارات میں واقع دیگر امریکی فوجی اڈوں، اور اسی طرح مقبوضہ علاقوں کے مرکز میں موجود فوجی اور سکیورٹی مراکز کو نشانہ بنایا۔
تیسری اور چوتھی لہر
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے بیان نمبر 3 کے مطابق آپریشن وعدۂ صادق 4 کی تیسری اور چوتھی لہریں مسلسل انداز میں امریکہ اور صہیونی حکومت کے وسیع فوجی و سکیورٹی اہداف کے خلاف انجام دی گئیں۔ ان حملوں میں آپریشن وعدۂ صادق 3 کے مقابلے میں زیادہ جدید میزائل استعمال کیے گئے اور زیادہ درست اور شدید حملے درج ذیل مقامات پر کیے گئے: حیفا کی بندرگاہ میں صہیونی بحریہ کا بحری اڈہ، حیفا میں جنگی جہازوں کی لنگرگاہ، رمات ڈیوڈ فضائی اڈہ، ہکریات کے علاقے میں صہیونی حکومت کی وزارتِ جنگ، بیت الشمس کی فوجی و صنعتی بستی اور اشدود کا فوجی صنعتوں کا مرکز۔
پانچویں لہر
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے بیان نمبر 4 کے مطابق آپریشن وعدۂ صادق 4 کی پانچویں لہر میں بحرِ ہند میں امریکی بحری جہازوں کو گولہ بارود فراہم کرنے کے مشن پر مامور جہاز MSP کو جبلِ علی کی لنگرگاہ میں چار ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مسلسل دھماکوں اور شدید نقصانات کے بعد وہ مکمل طور پر ناکارہ ہو گیا۔ کویت کے علاقے عبدالله مبارک میں واقع امریکی بحری اڈے کو 4 بیلسٹک میزائلوں اور 12 ڈرونوں سے نشانہ بنایا گیا، جس سے اس کے بنیادی ڈھانچے بڑے پیمانے پر تباہ ہو گئے اور متعدد امریکی فوجی ہلاک و زخمی ہوئے۔ اسی طرح بحرِ ہند کے علاقے میں امریکی بحری جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے کے مشن پر مامور MST کلاس کے ایک جنگی معاون جہاز کو ایرانی قدر 380 میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ سپاہ پاسداران کی بحریہ کے مجاہدین، فضائی محاذ کے مجاہدین کے ساتھ ہم آہنگی میں، دشمن کی یونٹوں پر جہنم کے دروازے کھلے رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔[1]
چھٹی لہر
آپریشن وعدۂ صادق 4 کی چھٹی لہر میں سپاہ پاسداران نے مقبوضہ علاقوں اور خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر وسیع پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ خطے میں امریکہ کے 27 فوجی اڈے اس حملے کا نشانہ بنے، جن میں تل نوف اڈہ، ہاکاریا میں صہیونی فوج کی مرکزی کمان، اور تل ابیب میں واقع بڑا دفاعی صنعتی کمپلیکس شامل تھے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے اعلان کیا کہ وہ مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں میں خطرے کے سائرن کو خاموش نہیں ہونے دیں گی اور مسلسل اور سخت جوابی کارروائیوں کے ذریعے انتقام کا ایک مختلف اور شدید مرحلہ نافذ کریں گی۔
ساتویں اور آٹھویں لہر
سپاہ پاسداران کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اپنے بیان نمبر 8 میں اعلان کیا کہ آپریشن وعدۂ صادق 4 کی ساتویں اور آٹھویں لہریں امریکی–صہیونی اہداف کی جانب مسلسل میزائل فائرنگ اور بڑے پیمانے پر ڈرونوں کے اجرا کے ساتھ انجام دی گئیں۔ کویت میں واقع امریکی بحری اڈہ علی السالم حالیہ حملوں کے بعد مکمل طور پر غیر فعال ہو گیا، جبکہ کویت میں امریکی زیرِ استعمال تین بحری بنیادی ڈھانچے محمد الاحمد بھی تباہ کر دیے گئے۔ بحرین کے مینا سلمان بندرگاہ میں واقع امریکی بحری اڈے کو چار ڈرونوں سے نشانہ بنایا گیا جس سے اس کے کمانڈ اور لاجسٹک مراکز کو شدید نقصان پہنچا۔ دشمن کے بحری اہداف پر حملوں کے تسلسل میں خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے علاقے میں امریکہ اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے تین آئل ٹینکروں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا اور وہ آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ بحرین میں تعینات امریکی فوجیوں کے مقام کو دو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ خطے میں موجود دیگر امریکی اڈوں پر بھی مسلسل حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں اب تک 560 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی۔
نویں لہر
آپریشن وعدۂ صادق 4 کی نویں لہر مقبوضہ علاقوں کے مختلف اہداف اور خطے میں موجود امریکی اہداف کے خلاف شروع کی گئی۔ اس دوران امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کو چار کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد یہ جہاز اپنے مشن کے مقام سے جنوب مشرقی بحرِ ہند کی طرف ہٹ گیا۔ اسی طرح امارات کے علاقے الرویس میں صہیونی حکومت کے میزائل دفاعی نظام کے “تاد” (THAAD) ریڈار کو سپاہ پاسداران کی فضائیہ کے ایک نقطہ زن میزائل سے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ مزید برآں امریکی بحری بیڑے کو ایندھن فراہم کرنے والا ایک معاون جہاز، جو چابہار کے ساحل سے تقریباً 700 کلومیٹر دور تھا، ڈرون اور میزائل نظاموں کے حملے کا نشانہ بنا اور ناکارہ ہو کر عملیاتی نظام سے خارج ہو گیا۔
دسویں لہر
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اپنے بیان نمبر 9 میں اعلان کیا کہ آپریشن وعدۂ صادق 4 کی دسویں لہر میں خیبر میزائلوں کی کارروائی نے مقبوضہ علاقوں پر آگ کے عظیم دروازے کھول دیے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ مقبوضہ علاقوں کے باشندے فوجی اڈوں، سکیورٹی اور حکومتی مراکز کے اطراف سے دور رہیں اور فوری طور پر ان علاقوں کو ترک کر دیں۔ اس لہر میں تل ابیب میں صہیونی حکومت کے حکومتی کمپلیکس، حیفا کے فوجی اور سکیورٹی مراکز اور مشرقی بیت المقدس کو نشانہ بنایا گیا۔
گیارہویں لہر
آپریشن وعدۂ صادق 4 کی گیارہویں لہر ایک مشترکہ، وسیع اور شدید کارروائی کے طور پر سپاہ پاسداران کے بحری اور فضائی یونٹوں نے امریکی–صہیونی فوجی اہداف کے خلاف دشمن کی جارحیت کے تیسرے دن انجام دی۔ اس کارروائی میں پہلی نسل کے فتاح میزائل استعمال کیے گئے، جسے صہیونی فوج کے دفاعی نظام کے خاتمے اور صہیونی عناصر کی بدحواسی کی ابتدا قرار دیا گیا۔ طاقتور اور انتہائی چالاک فتاح میزائلوں نے میزائل دفاعی نظام کو عبور کرتے ہوئے صہیونی پناہ گاہوں کو متعدد بار لرزا دیا اور ایران کی طاقت کا پیغام تل ابیب کے جنگجو اتحادیوں تک پہنچایا۔ خلیج فارس کے خطے میں امریکی انٹیلی جنس مراکز اور فوجی لاجسٹک گوداموں، بئر السبع میں صہیونی فوج کے مواصلاتی صنعتوں کے کمپلیکس، اور مقبوضہ علاقوں میں تل ابیب، مغربی بیت المقدس اور الجلیل کے علاقوں میں 20 سے زائد مقامات کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں سے نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی مسلح افواج کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 60 اسٹریٹجک اہداف اور امریکہ و صہیونی حکومت کے 500 فوجی مقامات پر حملے کیے گئے، جبکہ 700 سے زیادہ ڈرون اور سینکڑوں میزائل داغے گئے، اور گزشتہ 48 گھنٹوں میں دشمن کے دفاعی نظام کو ناکام بناتے ہوئے ایک نئی شدت کا مرحلہ سامنے آیا۔
بارہویں لہر
آپریشن وعدۂ صادق 4 کی بارہویں لہر سمندری محاذ پر کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین اور آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کے ثابت اور متحرک اہداف پر حملوں کے ساتھ انجام دی گئی۔ اس کارروائی میں انتہائی بھاری، طویل فاصلے تک مار کرنے والے دو مرحلوں پر مشتمل سجیل میزائل، 26 حملہ آور ڈرون اور 5 بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ ان حملوں میں کویت میں واقع امریکی اڈہ **عریفجان** کو دو مراحل میں 12 ڈرونوں سے نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح امارات کے منہاد اڈے میں امریکی فوج کے کمانڈ اور کنٹرول مرکز کو 6 ڈرونوں اور 5 بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ بحرین میں امریکی بحری بیڑے کی باقی ماندہ تنصیبات کو 6 ڈرونوں سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔ آبنائے ہرمز میں امریکہ کے اتحادیوں کے ایندھن بردار ٹینکر “آتِن نُوا” کو بھی دو ڈرونوں کے حملے کے بعد آگ لگ گئی اور وہ مسلسل جلتا رہا۔
تیرہویں لہر
آپریشن وعدۂ صادق 4 کی تیرہویں لہر سپاہ پاسداران کی بحریہ کے ڈرون یونٹ کی جانب سے کویت میں واقع امریکی بحریہ کے میرین دستوں کے اڈے عریفجان کے خلاف شروع کی گئی۔
چودھویں لہر
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے آپریشن وعدۂ صادق 4 کی چودھویں لہر میں وسیع پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملہ کرتے ہوئے بحرین کے علاقے شیخ عیسیٰ میں واقع امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں 20 ڈرون اور 3 میزائل اہداف پر لگے، جس کے نتیجے میں امریکی فضائی اڈے کی مرکزی کمانڈ عمارت تباہ ہو گئی اور ایندھن کے ذخائر کو آگ لگ گئی، جس کے شعلے اور دھواں دور تک دیکھا گیا۔
پندرھویں لہر
سپاہ پاسداران کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے بیان نمبر 14 کے مطابق آپریشن وعدۂ صادق 4 کی پندرھویں لہر “یا فاطمہ الزہراء (سلام اللہ علیہا)” کے رمز کے ساتھ سپاہ پاسداران کی بحریہ نے خطے میں امریکی فوج کے اہداف کے خلاف خصوصی آپریشنل کارروائیوں کے امتزاج کے ساتھ انجام دی۔ بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ فضائی اڈے میں امریکی فوج کے کمانڈ اور سازوسامان کے 10 اہم اور اسٹریٹجک مقامات کو ایرانی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ تباہ ہونے والے اہداف میں امریکی فضائی کمانڈ و کنٹرول مرکز، طیاروں کے ایندھن کے ذخائر اور اعلیٰ امریکی کمانڈروں کی رہائش گاہ شامل تھیں۔ زمینی اور سیٹلائٹ انٹیلی جنس کی رپورٹوں کے مطابق اس اڈے کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر ناکارہ ہو گیا اور وہاں انسانی بحران اور اہلکاروں کے انخلا کی صورتحال پیدا ہو گئی۔[2].
سولہویں لہر
آپریشن وعدۂ صادق 4 کی سولہویں لہر “یا علی بن ابی طالب (علیہ السلام)” کے مقدس رمز کے ساتھ سپاہ پاسداران کی فضائیہ کے میزائلوں اور ڈرونوں کی بڑی تعداد کے ساتھ مقبوضہ علاقوں کے مرکز کی طرف شروع کی گئی۔ ان حملوں میں صہیونی فوج کے جنرل اسٹاف اور وزارتِ جنگ کا مرکز ہاکاریا، اسٹریٹجک علاقے بنی براک کے بنیادی ڈھانچے، تل ابیب کے شمال مشرق میں واقع پیتح تکفا میں فوجی اہداف اور الجلیل الغربی میں واقع ایک فوجی مرکز ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں کا نشانہ بنے۔
سترہویں لہر
آپریشن وعدۂ صادق 4 کی سترہویں لہر مقدس رمز“یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ)” کے ساتھ سپاہ پاسداران کی ایرو اسپیس فورس کی جانب سے 40 سے زائد میزائل داغ کر امریکی‑صہیونی اہداف کی طرف انجام دی گئی۔
اٹھارہویں لہر
آپریشن وعدۂ صادق 4 کی اٹھارہویں لہر “یا امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام)” کے رمز کے ساتھ شروع ہوئی جس میں بحرین، امارات اور کویت سمیت خطے میں موجود امریکہ کے 20 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔[3]
انیسویں لہر
سپاہ پاسداران کے تعلقاتِ عامہ کے مطابق آپریشن وعدۂ صادق 4 کی انیسویں لہر مبارک رمز “یا حسن بن علی علیہ السلام” کے ساتھ سپاہ کی ایرو اسپیس فورس نے ایک ٹن وارہیڈ رکھنے والے بھاری خرمشہر‑4 میزائل داغ کر تل ابیب، بن گوریون ایئرپورٹ اور صہیونی فضائیہ کے اسکواڈرن 27 کے اڈے کو نشانہ بنایا۔ حملہ آور ڈرونوں کی پیش قدمی کے ساتھ ان اسٹریٹجک میزائلوں نے مقبوضہ علاقوں کے سات تہوں پر مشتمل دفاعی نظام کو عبور کرتے ہوئے حملہ کیا۔
بیسویں لہر
سپاہ پاسداران کے مطابق آپریشن وعدۂ صادق 4 کی بیسویں لہر ایران کی بحریہ کے جہاز “دنا” کے شہداء کی یاد میں “یا معز المؤمنین” کے رمز کے ساتھ امریکی اور صہیونی اہداف کے خلاف مشترکہ اور وسیع کارروائی کے طور پر انجام دی گئی۔
اکیسویں لہر
سپاہ پاسداران کے مطابق مشترکہ میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ، خیبر شکن میزائلوں کی بارش کرتے ہوئے تل ابیب کے مرکز میں موجود اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کی شام “یا معز المؤمنین” کے رمز کے ساتھ شروع ہوئی۔
بائیسویں لہر
آپریشن وعدۂ صادق 4 کی بائیسویں لہر مظلوم مینابی طلبہ کے شہداء کے نام اور مقدس رمز “یا حسین بن علی (علیہ السلام)” کے ساتھ انجام دی گئی۔ اس کارروائی میں امریکی اور صہیونی اہداف کے خلاف وسیع حملے شامل تھے۔ امارات میں واقع امریکی الظفرہ فضائی اڈے کو مختلف ڈرونوں اور نقطہ زن میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جس میں اس کے جدید ابتدائی انتباہی ریڈار، MQ‑9 ڈرون اور U‑2 جاسوسی طیاروں کے ہینگر تباہ ہو گئے۔ اسی طرح علی السالم امریکی اڈے پر کروز اور بیلسٹک میزائلوں کے حملے سے ریڈار، ایندھن کے ذخائر اور رن ویز تباہ ہوئے۔ قطر میں العدید امریکی اڈے کی ریڈار اور فضائی کنٹرول تنصیبات بھی ڈرون اور میزائل حملوں میں تباہ کی گئیں۔
تیئیسویں لہر
سپاہ پاسداران کی ایرو اسپیس فورس نے “یا صاحب الزمان عجل اللہ” کے رمز کے ساتھ آپریشن وعدۂ صادق 4 کی تیئیسویں لہر انجام دی۔ اس میں نئی نسل کے ٹھوس اور مائع ایندھن والے میزائلوں نے مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں شیخ عیسیٰ، علی السالم، الجفیر اور الازرق کو نشانہ بنایا۔ بئر السبع میں جدید ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی اور فوجی سپورٹ مراکز بھی اہداف میں شامل تھے۔
چوبیسویں لہر
اس لہر میں ایران سے داغے گئے قدر، عماد اور خیبر میزائل مقبوضہ علاقوں تک پہنچ کر اپنے اہداف سے ٹکرائے اور میزائلوں کی کامیابی کی شرح 100 فیصد بتائی گئی۔
پچیسویں لہر
سپاہ پاسداران کے مطابق مقدس رمز “یا علی بن ابی طالب (علیہ السلام)” کے ساتھ امریکی‑صہیونی فوجی مراکز کے خلاف مشترکہ میزائل اور ڈرون کارروائی کی گئی جس میں فتاح اور عماد میزائل استعمال ہوئے۔[4]
چھبیسویں لہر
خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کے مطابق آپریشن وعدۂ صادق 4 کی چھبیسویں لہر “یا حیدر کرار” کے رمز کے ساتھ انجام دی گئی۔ اس کارروائی میں خیبرشکن، عماد اور قدر میزائلوں سے مقبوضہ علاقوں کے شمال سے جنوب تک اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ بحرین میں امریکی الجفیر اڈے کو بھی نقطہ زن میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جبکہ ایرانی بری فوج کے ڈرونوں نے تل ابیب اور حیفا کے فوجی مراکز پر بھی حملہ کیا۔[5].
ستائیسویں لہر
سپاہ کے مطابق“یا حیدر کرار (علیہ السلام)” کے رمز کے ساتھ مشترکہ ڈرون اور میزائل کارروائی میں حیفا میں صہیونی فوجی اہداف کو خیبرشکن میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جبکہ ڈرون یونٹوں نے امریکی فوجیوں کے ٹھکانوں اور بندر سلمان میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔[6]
اٹھائیسویں لہر
سپاہ کے بیان کے مطابق “یا امیرالمؤمنین (علیہ السلام)” کے رمز کے ساتھ الازرق فضائی اڈے کی تنصیبات کو متعدد بار نشانہ بنایا گیا جبکہ تل ابیب اور بئر السبع کے اہداف کو بھاری وارہیڈ والے میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
انتیسویں لہر
سپاہ پاسداران کی ایرو اسپیس فورس کے نئے نسل کے میزائلوں کے ذریعے “یا علی بن ابی طالب” کے رمز کے ساتھ تل ابیب، صحرائے نقب اور خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔[6]
تیسویں لہر
سپاہ کے مطابق رمضان المبارک کی انیسویں شب “علی ولی اللہ” کے رمز کے ساتھ خرمشہر، فتاح اور خیبر میزائلوں اور اسٹریٹجک ڈرونوں کے ذریعے امریکی اڈوں اور مقبوضہ علاقوں کے شمالی حصوں پر حملے کیے گئے۔[7]
اکتیسویں لہر
سپاہ کے مطابق آپریشن وعدۂ صادق 4 کی اکتیسویں لہر میں “لبیک یا خامنہای” کے رمز کے ساتھ قدر، خرمشہر اور خیبرشکن میزائلوں سے پانچ اسٹریٹجک امریکی اڈوں اور تل ابیب و حیفا میں صہیونی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی ہیلی کاپٹر بیس العدیری کو بھی ڈرون اور کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
بتیسویں لہر
آپریشن وعدۂ صادق 4 کی بتیسویں لہر “لبیک یا خامنہای” کے رمز کے ساتھ مقبوضہ علاقوں کے شمال اور مرکز میں قدر اور خرمشہر میزائلوں کے ذریعے انجام دی گئی۔
چونتیسویں لہر
سپاہ کے مطابق چونتیسویں لہر میں قدر، عماد، فتاح اور ہائپرسونک خیبر میزائلوں کے ذریعے امریکی اڈوں الظفرہ اور الجفیر کو نشانہ بنایا گیا جبکہ حیفا کے قریب رمات ڈیوڈ فضائی اڈہ اور بنی براک میں صہیونی میزائل لانچر بھی حملوں کا ہدف بنے۔
پینتیسویں لہر
پینتیسویں لہر میں **“یا حیدر کرار”** کے رمز کے ساتھ فتاح، عماد، خیبرشکن، خرمشہر اور قدر میزائلوں سے تل ابیب، بیت شیمش اور امریکی اڈوں پر حملے کیے گئے۔
چھتیسویں لہر
رمضان المبارک کی اکیسویں شب “یا علی ابن ابی طالب (علیہ السلام)” کے رمز کے ساتھ قدر، خیبرشکن اور عماد میزائلوں سے امریکی پانچویں بحری بیڑے، العدید، العدیری اور عراقی کردستان کے الحریر اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔[8]
سینتیسویں لہر
سینتیسویں لہر میں تین گھنٹے تک جاری میزائل حملوں کے دوران خرمشہر میزائلوں سمیت متعدد ہتھیار استعمال کیے گئے۔ تل ابیب کے جنوب میں ہائلا سیٹلائٹ کمیونیکیشن مرکز، بئر یعقوب، مغربی بیت المقدس اور حیفا کے فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اربیل اور خطے میں امریکی اہداف بھی حملوں کا نشانہ بنے۔[9]
اڑتیسویں لہر
رمضان المبارک کی اکیسویں شب “یا حیدر کرار (علیہ السلام)” کے رمز کے ساتھ امریکی اڈوں پر حملے کیے گئے۔ کویت میں العدیری ہیلی کاپٹر اڈے پر میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجی زخمی ہوئے اور انہیں کویتی اسپتالوں منتقل کیا گیا۔ بندر مینا سلمان میں امریکی پانچویں بیڑے کی تنصیبات بھی نشانہ بنیں۔[10]
انتالیسویں لہر
انتالیسویں لہر میں شہداء خصوصاً سپہبد شہید امیر موسوی کی یاد میں “یا امیرالمؤمنین (علیہ السلام)” کے رمز کے ساتھ خلیج فارس کے امریکی اڈوں پر قدر، خرمشہر اور عماد میزائلوں سے حملے کیے گئے۔[11]
چالیسویں لہر
چالیسویں لہر میں سپاہ پاسداران اور لبنانی مزاحمت نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پانچ گھنٹوں تک مسلسل حملے کیے۔ اس میں قدر، عماد، خیبرشکن اور فتاح میزائلوں کے ساتھ حزب اللہ کے ڈرون اور میزائل شامل تھے جنہوں نے حیفا، تل ابیب اور بئر السبع سمیت 50 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا۔
اکتالیسویں لہر
سپاہ کے مطابق “الی بیت المقدس” کے رمز کے ساتھ 10 سے زیادہ خرمشہر، قدر، خیبرشکن اور فتاح میزائلوں کے ذریعے تل ابیب، القدس اور خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔
بیالیسویں لہر
بیالیسویں لہر “لبیک یا خامنہای” کے رمز کے ساتھ عماد، قدر، خیبرشکن اور فتاح میزائلوں اور ڈرونوں کے ذریعے تل ابیب اور امریکی اڈوں کے خلاف انجام دی گئی۔[12]
تینتالیسویں لہر
“یا شدید العقاب” کے رمز کے ساتھ تینتالیسویں لہر میں امریکی پانچویں بحری بیڑے، تل ابیب، شمالی مقبوضہ علاقوں اور ایلات کو خرمشہر، قدر، عماد اور خیبرشکن میزائلوں اور ڈرونوں سے نشانہ بنایا گیا۔
چوالیسویں لہر
چوالیسویں لہر “یا صادق الوعد” کے رمز کے ساتھ قاسم سلیمانی، ابو مہدی المہندس، سید حسن نصراللہ اور دیگر مزاحمتی رہنماؤں کی یاد میں انجام دی گئی جس میں خرمشہر، خیبرشکن، فتاح، عماد اور قدر میزائلوں سے حیفا، کریات شمونا اور امریکی پانچویں بیڑے کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
پینتالیسویں لہر
پینتالیسویں لہر “یا صاحب الزمان” کے رمز کے ساتھ خیبرشکن میزائلوں اور ڈرونوں کے ذریعے امریکی‑صہیونی اہداف کے خلاف انجام دی گئی جس میں سپاہ، ایرانی فوج اور حزب اللہ نے مشترکہ حصہ لیا۔[13]
چھیالیسویں لہر
چھیالیسویں لہر میں **“یا صاحب الزمان”** کے رمز کے ساتھ خرمشہر، خیبرشکن، عماد اور قدر میزائلوں سے مقبوضہ علاقوں کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
سینتالیسویں لہر
“یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ)” کے رمز کے ساتھ سینتالیسویں لہر میں صحرائے نقب، بئر السبع، نواتیم اور العدید امریکی اڈے کو خیبرشکن اور قدر میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔[14]
اڑتالیسویں لہر
اڑتالیسویں لہر “یا قمر بنی ہاشم (علیہ السلام)” کے رمز کے ساتھ الجلیل، جولان اور حیفا سمیت مقبوضہ علاقوں کے شمالی اہداف اور امریکی اڈوں پر خیبرشکن اور قدر میزائلوں اور ڈرونوں سے حملوں پر مشتمل تھی۔
انچاسویں لہر
سپاہ پاسداران کی بحریہ نے “یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ)” کے رمز کے ساتھ امریکی اڈوں الظفرہ، شیخ عیسیٰ اور العدیری کو میزائلوں اور ڈرونوں سے نشانہ بنایا جبکہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا اعلان کیا۔
پچاسویں لہر
پچاسویں لہر “یا زہرا (سلام اللہ علیہا)”کے رمز کے ساتھ الظفرہ، فجیرہ، الجفیر، علی السالم اور الازرق سمیت امریکی اڈوں اور ابتدائی انتباہی ریڈاروں کے خلاف ڈرون حملوں پر مشتمل تھی۔
اکیاونویں لہر
اکیاونویں لہر “یا علی بن موسیٰ الرضا (علیہ السلام)” کے رمز کے ساتھ سعودی عرب میں واقع امریکی الخرج اڈے کے خلاف مائع اور ٹھوس ایندھن والے میزائلوں سے انجام دی گئی۔[15].
باون ویں لہر
باون ویں لہر “یا زینب کبریٰ (سلام اللہ علیہا)” کے رمز کے ساتھ مقبوضہ علاقوں اور اربیل کے الحریر، علی السالم اور عریفجان امریکی اڈوں کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں پر مشتمل تھی۔[16].
تریپن ویں لہر
تریپن ویں لہر “یا جواد الائمہ ادرکنی” کے رمز کے ساتھ 10 ہائپرسونک فتاح اور قدر میزائلوں اور ڈرونوں کے ذریعے الظفرہ امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کے لیے انجام دی گئی۔[17]
چھپن ویں لہر
چھپن ویں لہر “یا زینب کبریٰ (سلام اللہ علیہا)” کے رمز کے ساتھ خرمشہر، عماد اور قدر میزائلوں سے شمالی مقبوضہ علاقوں اور امریکی العدید اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی دوران سپاہ کے ڈرون یونٹوں نے اربیل میں مخالف گروہوں کے ٹھکانوں پر بھی حملے کیے۔
ستاون ویں لہر
سپاہ کے بیان کے مطابق ستاون ویں لہر “یا سید الساجدین (علیہ السلام)” کے رمز کے ساتھ مقبوضہ علاقوں کے کمانڈ اور میزائل دفاعی مراکز کو خیبرشکن، عماد اور قدر میزائلوں سے نشانہ بنانے پر مشتمل تھی۔ قطر میں واقع امریکی العدید اڈے کو ذوالفقار اور قیام میزائلوں اور ڈرونوں سے نشانہ بنایا گیا جبکہ بحرین کے شیخ عیسیٰ اور امارات کے الظفرہ اڈوں پر بھی کروز میزائل حملے کیے گئے۔[18]
... وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ (آل عمران: 126)
بیانیۀ الازہر
الازہر نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک—متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت، سعودی عرب، سلطنتِ عمان—اور اسی طرح بعض دیگر عرب ممالک اور اسلامی ہمسایہ ممالک جیسے اردن، عراق، ترکی اور جمہوریہ آذربایجان پر جاری غیرضروری حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔ الازہر، اسلامی جمہوریۂ ایران سے جو کہ ایک مسلم ہمسایہ ملک ہے، مطالبہ کرتا ہے کہ شریعتِ اسلام کے مطابق فوری فیصلہ کرے، ان حملوں کو بلاشرط بند کرے، ان ممالک کی خودمختاری کا احترام کرے اور دور یا نزدیک کسی بھی قسم کی تجاوزکاری سے پرہیز کرے تاکہ ان بے قصور لوگوں کی جانیں محفوظ رہیں جن کا ان جھگڑوں سے کوئی تعلق نہیں۔
الازہر اس بات پر زور دیتا ہے کہ رہائشی علاقوں، ہوائی اڈوں، اسپتالوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا—ان ممالک میں جو کسی تنازعے کا حصہ نہیں—بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اسلام کے اس واضح حکم کے خلاف ہے جو انسانی جان، مال اور عزت کے احترام کا تقاضا کرتا ہے۔ اسی لیے قرآن کی آیت: "وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ" اور حدیثِ نبویؐ: "کلُّ المسلم على المسلم حرامٌ: دمه وماله وعِرضُه" اس بات کی یاد دہانی کراتی ہیں۔ الازہر ایران پر ذمہ داری ڈالتا ہے کہ خلیجی ممالک اور ہمسایوں پر حملے بند کرے اور ایسے ہر اقدام سے باز رہے جو جنگ میں اضافہ کرتا ہو۔ نیز یہ کہ عام شہریوں کی جان، امن و استحکام کے تحفظ کے لیے، شریعتِ اسلامی، بین الاقوامی قوانین اور ممالک کی خودمختاری کی بنیاد پر اس بحران کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔
الازہر مصر کی قیادت کی اس کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے جو خطے میں تمام عسکری کارروائیوں کو روکنے کے لیے کی جا رہی ہے، اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ جنگ بندی، گفتوگو کے فروغ اور تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تاکہ خطے کا امن و استحکام اور بے گناہوں کی جانیں محفوظ ہو سکیں۔
آخر میں الازہر دوست ممالک کے شہداء اور متاثرین کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہے، زخمیوں کی شفا کے لیے دعا کرتا ہے اور تمام لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے امن، آفتوں سے نجات اور پائیدار صلح کی دعا کرتا ہے۔
علمائے ترکمان کا روشنگر جواب
علمائے ترکمان کا الازہر کے بیان پر روشنگر جواب:
تاریخ جلد لکھے گی کہ کون لوگ قدسِ شریف کے ساتھ ہتھیار اور خون کے ساتھ کھڑے رہے، اور کون لوگ ٹرمپ، نیتن یاہو اور جزیرۂ ایپستین والوں کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔ ہم، ایران کے ترکمان صحرا کے علمائے کرام، اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ اسلامی جمہوریۂ ایران کس طرح امتِ اسلام کے دفاع میں عالمی استکبار کے مقابل کھڑا ہے۔ ہم علمائے ترکمان صحرا (شیعہ و سنّی) جو اسلامی جمہوریۂ ایران کے سائے میں دیگر مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ برادرانہ زندگی گزار رہے ہیں، جامعۃ الازہر کو مخاطب کرتے ہیں کہ الازہر کو وحدت اور یکجہتی کا پل ہونا چاہیے، تفرقے اور اختلاف کی تلوار نہیں۔
ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسلامی جمہوریۂ ایران کا دفاع، اس کا شرعی اور قانونی حق ہے، اور ہم الازہر سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ تدبر اور گہرائی کے ساتھ، اور شرعی اصولوں کے مطابق مسائل کو دیکھے، جیسا کہ اسلام عدل کا حکم دیتا ہے اور ظلم سے منع فرماتا ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے مسلمانوں کی وحدت و یکجہتی، دشمنوں کے مکر کے خاتمے، اور فلسطین، یمن، شام اور عراق کے مظلوم عوام کی نصرت کی دعا کرتے ہیں۔
علمائے ترکمان صحرا، صوبۂ گلستان، جمهوری اسلامی ایران — ۲۷/۱۲/۱۴۰۴ هـ.ش[19].
متعلقه مضامین
حوالہ جات
- ↑ موج پنجم عملیات وعده صادق 4 در اقیانوس هند، وبسایت خبرگزاری تسنیم.
- ↑ آغاز موج بیست و هشتم عملیات وعده صادق۴، وبسایت خبرگزاری مهر.
- ↑ موج شانزدهم، هفدهم و هیجدهم وعده صادق 4، وبسایت نورنیوز.
- ↑ آغاز موج بیست و پنجم عملیات وعده صادق ۴، وبسایت شبکه العالم.
- ↑ هشتمین روز جنگ؛ اجرای موج ۲۶عملیات وعده صادق ۴ با رمز یا حیدر کرار، وبسایت خبرگزاری مهر.
- ↑ موج بیست و نهم عملیات وعده صادق ۴ توسط موشکهای نسل جدید آغاز شد، وبسایت شبکه العالم.
- ↑ آغاز موج سی عملیات وعده صادق۴، وبسایت شبکهالعالم.
- ↑ زیرساختهای عملیاتی ارتش شرور آمریکا در موج ۳۶ نابود شدند، وبسایت خبرگزاری دفاع مقدس.
- ↑ سهمگینترین و سنگینترین عملیات وعده صادق ۴ از ابتدای جنگ تاکنون، وبسایت خبرگزاری مهر.
- ↑ موج «سی و هشتم» عملیات وعده صادق ۴ با رمز «یا حیدر کرار علیهالسلام»، وبسایت خبرگزاری دانشجو.
- ↑ اطلاعیه روابط عمومی سپاه پاسداران انقلاب اسلامی درباره موج ۳۹ عملیات وعده صادق 4، وبسایت شبکهالعالم.
- ↑ اجرای موج ۴۲ عملیات وعده صادق ۴ با رمز "لبیک یا خامنهای"، وبسایت خبرگزاری مهر.
- ↑ آغاز موج بیست و پنجم عملیات وعده صادق ۴، وبسایت شبکهالعالم.
- ↑ سپاه از اجرای کامل موج 47 عملیات وعده صادق 4 خبر داد، وبسایت خبرگزاری شبکهالعالم.
- ↑ موج 51 علیه مبدا تجهیز جنگندههای اف 35 و اف 16 رژیم تروریستی آمریکا، وبسایت خبرگزاری تسنیم.
- ↑ شانزدهمین روز جنگ؛ بنبست استراتژیک دشمن، نبرد نامتقارن در اوج، وبسایت خبرگزاری مهر.
- ↑ موج۵۳ عملیات وعده صادق۴؛ ۱۰ موشک هایپرسونیک فتاح و قدر شلیک شد، وب سایت شبکهالعالم.
- ↑ موج ۵۷ عملیات وعده صادق ۴ اجرا شد، وبسایت خبرگزاری مهر.
- ↑ بیانیه بسیار تاسف بار الأزهر در محکومیت حملات ایران به پایگاه های آمریکایی، کانال امام شهید در بستر ایتا.
مآخذ
- بحرِ ہند میں آپریشن وعدۂ صادق 4 کی پانچویں لہر، ویب سائٹ خبر ایجنسی تسنیم، تاریخِ اشاعت: 1 مارچ 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: ۲۴ مارچ 2026ء۔
- آپریشن وعدۂ صادق 4 کی سولہویں، سترہویں اور اٹھارہویں لہریں، ویب سائٹ نورنیوز، تاریخِ اشاعت: 4 مارچ 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: ۲۴ مارچ 2026ء۔
- آپریشن وعدۂ صادق 4 کی پچیسویں لہر کا آغاز، ویب سائٹ الشبکۃ العالم، تاریخِ اشاعت: 7 مارچ 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: ۲۴ مارچ 2026ء۔
- جنگ کا آٹھواں دن؛ "یا حیدرِ کرار" کے رمز کے ساتھ آپریشن وعدۂ صادق 4 کی 26ویں لہر کا اجرا، ویب سائٹ خبر ایجنسی مہر، تاریخِ اشاعت: 7 مارچ 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: ۲۴ مارچ 2026ء۔