مندرجات کا رخ کریں

"ایران کا سفر، اسلامی وحدت کے لیے(کتاب)" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
 
(ایک ہی صارف کا 4 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
ایران کا سفر، اسلامی وحدت کے لیے
{{خانہ معلوماتی کتاب
| عنوان =
| تصویر =  سفر به ايران در راستای وحدت اسلامی (کتاب) - 1.png
| نام =    ایران کا سفر، اسلامی وحدت کے لیے  
| مؤلفین/ مصنفین =  توفیق علی وہبہ
| زبان = عربی
| زبان اصلی = عربی
| ترجمہ =  وحید عباسی
| سال نشر = ۱۳۸۹ ھ ش 
| ناشر =  مسلم محققین، مصر، اسلامی وحدت، تقریبِ مذاہب
| تعداد صفحه =  168
| موضوعات =  [[اہل بیت]] اور [[اہل السنۃ والجماعت|اہل سنت]]
| شابک = 9647994702
}}


**کتاب کا نام:** ایران کا سفر، اسلامی وحدت کے لیے
'''ایران کا سفر، اسلامی وحدت کے لیے'''  (عربی کتاب:"زيارة إلى إيران من أجل الوحدة والتقريب بين المذاهب الإسلامية") کا فارسی ترجمہ ہے۔ اس کتاب کے مصنف مصری دانشور اور مرکزِ عربی مطالعات و تحقیقات کے سربراہ ڈاکٹر توفیق علی وہبہ ہیں۔
**مصنف:** توفیق علی وہبہ
مصنف نے اس کتاب میں ایران کے اپنے سفر کی یادداشتوں کو قلم بند کرتے ہوئے [[شیعہ]] عقائد، ان کے بارے میں پائے جانے والے شبہات اور شیعہ و [[اہل السنۃ والجماعت|اہلِ سنت]] کے مابین اختلافی مسائل کا جائزہ لیا ہے۔ اسی ضمن میں انہوں نے  دوسری بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس، عالمی مجلسِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی، [[قم]] و [[تهران|تہران]] کے علمی و ثقافتی مراکز اور ایران کے شیعہ علماء سے اپنی ملاقاتوں کی تفصیلات بھی بیان کی ہیں۔ کتاب میں مصنف کے سفر سے متعلق متعدد تصویری دستاویزات بھی شامل ہیں۔
**اصل زبان:** عربی
اس تصنیف کا بنیادی مقصد پوری امتِ مسلمہ میں [[وحدت اسلامی|وحدتِ اسلامی]] کے فروغ، مذہبی تعصبات کے خاتمے اور نسلی و فرقہ وارانہ تنازعات پر قابو پانا ہے۔
**ترجمہ:** وحید عباسی
**سالِ اشاعت:** ۱۳۸۹ ھ ش
**ناشر:** پژوهشگاہ مطالعاتِ تقریبی، وابستہ بہ عالمی مجلسِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی
**صفحات:** 168
**موضوعات:** مسلم محققین، مصر، اسلامی وحدت، تقریبِ مذاہب


## کتاب کا تعارف
== اجمالی تعارف ==


**"ایران کا سفر، اسلامی وحدت کے لیے"** عربی کتاب **"زيارة إلى إيران من أجل الوحدة والتقريب بين المذاهب الإسلامية"** کا فارسی ترجمہ ہے۔ اس کتاب کے مصنف مصری دانشور اور مرکزِ عربی مطالعات و تحقیقات کے سربراہ **ڈاکٹر توفیق علی وہبہ** ہیں۔
یہ کتاب مصری مصنف توفیق علی وہبہ کی ایک سفری روداد ہے، جس میں انہوں نے ایران کے سفر کے دوران شیعہ اور اہلِ سنت کے درمیان وحدت و تقریب کے موضوع پر اپنے مشاہدات اور تجربات کو بیان کیا ہے۔


مصنف نے اس کتاب میں ایران کے اپنے سفر کی یادداشتوں کو قلم بند کرتے ہوئے شیعہ عقائد، ان کے بارے میں پائے جانے والے شبہات اور شیعہ و اہلِ سنت کے مابین اختلافی مسائل کا جائزہ لیا ہے۔ اسی ضمن میں انہوں نے **دوسری بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس، عالمی مجلسِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی، قم و تہران کے علمی و ثقافتی مراکز** اور ایران کے شیعہ علماء سے اپنی ملاقاتوں کی تفصیلات بھی بیان کی ہیں۔ کتاب میں مصنف کے سفر سے متعلق متعدد تصویری دستاویزات بھی شامل ہیں۔
مصنف نے اس سفر کے دوران مذہبی تعصب سے اجتناب اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات و تفرقے کے خاتمے کی ضرورت کو عملی طور پر محسوس کیا۔ انہوں نے پانچ ابواب میں ایران کے اپنے مشاہدات، قم مقدس کے علمی و ثقافتی مراکز کے تعارف اور ایران کے شیعہ علماء سے اپنی ملاقاتوں کی تفصیلات پیش کی ہیں۔
== پہلا باب ==


اس تصنیف کا بنیادی مقصد پوری امتِ مسلمہ میں **وحدتِ اسلامی کے فروغ، مذہبی تعصبات کے خاتمے اور نسلی و فرقہ وارانہ تنازعات پر قابو پانا** ہے۔
پہلا باب [[ ایران|اسلامی جمہوریہ ایران]] کے تعارف سے متعلق ہے۔ اس میں مصنف نے ایران کے بارے میں اپنی عمومی معلومات، مذہبِ [[اثنی عشریہ|شیعہ اثنا عشریہ]] سے آشنائی اور شیعہ و اہلِ سنت کے اختلافی مسائل کا جائزہ پیش کیا ہے۔  


## اجمالی تعارف
انہوں نے دنیا میں شیعوں کے جغرافیائی پھیلاؤ، خصوصاً ایران کے مرکزی کردار، اسلامی جمہوریہ ایران کے سیاسی و انتظامی نظام، آبادی اور سرکاری مذہب کا تعارف بھی کرایا ہے۔
 
یہ کتاب مصری مصنف توفیق علی وہبہ کی ایک سفری روداد ہے، جس میں انہوں نے ایران کے سفر کے دوران شیعہ اور اہلِ سنت کے درمیان وحدت و تقریب کے موضوع پر اپنے مشاہدات اور تجربات کو بیان کیا ہے۔ مصنف نے اس سفر کے دوران مذہبی تعصب سے اجتناب اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات و تفرقے کے خاتمے کی ضرورت کو عملی طور پر محسوس کیا۔ انہوں نے پانچ ابواب میں ایران کے اپنے مشاہدات، قم مقدس کے علمی و ثقافتی مراکز کے تعارف اور ایران کے شیعہ علماء سے اپنی ملاقاتوں کی تفصیلات پیش کی ہیں۔
 
### پہلا باب
 
پہلا باب اسلامی جمہوریہ ایران کے تعارف سے متعلق ہے۔ اس میں مصنف نے ایران کے بارے میں اپنی عمومی معلومات، مذہبِ شیعہ اثنا عشریہ سے آشنائی اور شیعہ و اہلِ سنت کے اختلافی مسائل کا جائزہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے دنیا میں شیعوں کے جغرافیائی پھیلاؤ، خصوصاً ایران کے مرکزی کردار، اسلامی جمہوریہ ایران کے سیاسی و انتظامی نظام، آبادی اور سرکاری مذہب کا تعارف بھی کرایا ہے۔


مصنف کے مطابق شیعہ اور اہلِ سنت کے درمیان بہت سے فکری اور مذہبی مشترکات موجود ہیں اور ان مشترکات کو تقویت دینا ضروری ہے تاکہ اختلافی مسائل کی شدت کم ہو، اسلامی دنیا میں اتحاد و انسجام پیدا ہو اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات کم سے کم رہ جائیں۔
مصنف کے مطابق شیعہ اور اہلِ سنت کے درمیان بہت سے فکری اور مذہبی مشترکات موجود ہیں اور ان مشترکات کو تقویت دینا ضروری ہے تاکہ اختلافی مسائل کی شدت کم ہو، اسلامی دنیا میں اتحاد و انسجام پیدا ہو اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات کم سے کم رہ جائیں۔
== دوسرا باب ==


### دوسرا باب
اس باب میں مصنف نے تہران میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس کی تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے۔ وہ خود بھی اس کانفرنس میں مدعو مہمان اور مقرر کی حیثیت سے شریک ہوئے اور "وحدت اور تقریبِ مذاہبِ اسلامی" کے عنوان سے ایک مقالہ پیش کیا۔


اس باب میں مصنف نے تہران میں منعقد ہونے والی **بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس** کی تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے۔ وہ خود بھی اس کانفرنس میں مدعو مہمان اور مقرر کی حیثیت سے شریک ہوئے اور **"وحدت اور تقریبِ مذاہبِ اسلامی"** کے عنوان سے ایک مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کانفرنس کے ماحول، اس کے اثرات اور اسلامی مذاہب کے درمیان قربت پیدا کرنے اور اختلافات کو کم کرنے میں اس کے کردار کو بیان کیا ہے۔
انہوں نے کانفرنس کے ماحول، اس کے اثرات اور اسلامی مذاہب کے درمیان قربت پیدا کرنے اور اختلافات کو کم کرنے میں اس کے کردار کو بیان کیا ہے۔


### تیسرا باب
== تیسرا باب ==


اس باب میں مصنف نے **عالمی مجلسِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی** اور اسلامی وحدت کانفرنس کے انعقاد میں اس کے اہم کردار کا تعارف کرایا ہے۔ اسی طرح انہوں نے اس ادارے کے زیرِ نگرانی کام کرنے والے بعض علمی و ثقافتی مراکز، مثلاً **مرکز مطالعات و تحقیقاتِ علمی قم** اور **جامعہ مذاہبِ اسلامی** کا بھی تعارف پیش کیا ہے۔
اس باب میں مصنف نے عالمی مجلسِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی اور اسلامی وحدت کانفرنس کے انعقاد میں اس کے اہم کردار کا تعارف کرایا ہے۔ اسی طرح انہوں نے اس ادارے کے زیرِ نگرانی کام کرنے والے بعض علمی و ثقافتی مراکز، مثلاً مرکز مطالعات و تحقیقاتِ علمی قم اور جامعہ مذاہبِ اسلامی کا بھی تعارف پیش کیا ہے۔


### چوتھا باب
== چوتھا باب ==


اس باب میں مصنف نے شہرِ قم کے ان علمی اور ثقافتی مراکز کا تعارف کرایا ہے جو اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جن میں:
اس باب میں مصنف نے شہرِ قم کے ان علمی اور ثقافتی مراکز کا تعارف کرایا ہے جو اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جن میں:


* **جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ**؛
* [[جامعۂ المصطفی العالمیہ|جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ]]؛
* شہرِ قم کے نمایاں علمی، ثقافتی اور تاریخی آثار؛
* شہرِ قم کے نمایاں علمی، ثقافتی اور تاریخی آثار؛
* **حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا** کا روضۂ مبارک؛
* حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا روضۂ مبارک؛
* **آیت اللہ العظمیٰ مرعشی نجفی** کی عظیم الشان لائبریری؛
* آیت اللہ العظمیٰ مرعشی نجفی کی عظیم الشان لائبریری؛
* عظیم قرآنی طباعتی مرکز؛
* عظیم قرآنی طباعتی مرکز؛
* دانشکدۂ علومِ قرآنی؛
* دانشکدۂ علومِ قرآنی؛
* اور مدرسۂ قرآنِ کریم شامل ہیں۔
* اور مدرسۂ قرآنِ کریم شامل ہیں۔
 
== پانچواں باب ==
### پانچواں باب
 
پانچویں باب میں مصنف نے تہران کے اپنے دوروں اور مختلف علمی مراکز سے ملاقاتوں کا ذکر کیا ہے، جن میں **جامعہ ادیان و مذاہب** اور **دانشکدۂ الٰہیات و معارفِ اسلامی، جامعہ تہران** شامل ہیں۔ اسی باب میں **جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ** میں ان کے خطاب کا مکمل متن بھی پیش کیا گیا ہے۔
# پہلا باب
 
## اسلامی جمہوریہ ایران اور مذہبِ شیعہ سے تعارف
 
* اسلامی جمہوریہ ایران سے تعارف؛
* مذہبِ جعفری (شیعہ) سے تعارف؛
* شیعہ اور اہلِ سنت کے درمیان اختلافی مسائل۔
 
# دوسرا باب
 
## بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس
 
* دوسری بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس؛
* کانفرنس میں پیش کیا گیا مقالہ بعنوان **"وحدت اور تقریبِ مذاہبِ اسلامی"**۔
 
# تیسرا باب
 
## عالمی مجلسِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی
 
* عالمی مجلسِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی؛
* بین الاقوامی کانفرنس برائے اسلامی اتحاد و یکجہتی؛
* عالمی مجلسِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی کے زیرِ نگرانی مراکز اور جامعات؛
* مرکزِ مطالعات و تحقیقاتِ علمی، قم؛
* جامعہ مذاہبِ اسلامی۔
 
# چوتھا باب
 
* مرکزِ عالمی علومِ اسلامی سے تعارف؛
* شہرِ قم کے نمایاں آثار اور تاریخی مقامات؛
* حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا روضۂ مبارک؛
* آیت اللہ مرعشی نجفی کتب خانہ؛
* مصحفِ حضرت فاطمہ معصومہ؛
* قم کا قرآنِ کریم پرنٹنگ پریس؛
* دانشکدۂ علومِ قرآنی؛
* مدرسۂ قرآنِ کریم۔
 
# پانچواں باب


* جامعہ مذاہبِ اسلامی کا دورہ؛
* جامعہ مذاہبِ اسلامی کا دورہ؛
سطر 93: سطر 58:
* جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ میں ڈاکٹر توفیق علی وہبہ کے خطاب کا متن؛
* جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ میں ڈاکٹر توفیق علی وہبہ کے خطاب کا متن؛
* اختتامیہ؛
* اختتامیہ؛
* تصاویر۔
* تصاویر۔<ref>[https://taqribstudies.ir/publication/books/%d8%b3%d9%81%d8%b1-%d8%a8%d9%87-%d8%a7%d9%8a%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%af%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%8a-%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%d9%8a/ سفر به ايران در راستای وحدت اسلامی]-وب‌سایت پژوهشگاه مطالعات تقریبی]،  تاریخ درج مطلب: بی‌تا، تاریخ مشاهدۀ مطلب: 2 مهرماه 1404 ش</ref>۔


# متعلقہ موضوعات
== متعلقہ تلاشیں ==
* [[عالمی کونسل برائے تقریب مذاہب اسلامی|عالمی مجلسِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی؛]]
*پژوهشگاہِ مطالعاتِ تقریبی؛
*[[جامعۂ المصطفی العالمیہ|جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ؛]]
* جامعہ مذاہبِ اسلامی۔


* دوسری بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس؛
== حوالہ جات ==
* عالمی مجلسِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی؛
{{حوالہ جات}}
* پژوهشگاہِ مطالعاتِ تقریبی؛
[[زمرہ:کتابیں]]
* جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ؛
[[زمرہ:شیعه کتابیں]]
* جامعہ مذاہبِ اسلامی۔
[[زمرہ:تقریبی کتابیں]]
[[زمرہ:عالمی مرکزبرائے تقریب مذاہب اسلامی کا تحقیقاتی مرکز]]
[[fa:سفر به ايران در راستای وحدت اسلامی (کتاب)]]

حالیہ نسخہ بمطابق 14:36، 2 جولائی 2026ء

ایران کا سفر، اسلامی وحدت کے لیے(کتاب)
نامایران کا سفر، اسلامی وحدت کے لیے
مؤلفین/ مصنفینتوفیق علی وہبہ
زبانعربی
زبان اصلیعربی
ناشرمسلم محققین، مصر، اسلامی وحدت، تقریبِ مذاہب
موضوعاتاہل بیت اور اہل سنت
شابک9647994702

ایران کا سفر، اسلامی وحدت کے لیے (عربی کتاب:"زيارة إلى إيران من أجل الوحدة والتقريب بين المذاهب الإسلامية") کا فارسی ترجمہ ہے۔ اس کتاب کے مصنف مصری دانشور اور مرکزِ عربی مطالعات و تحقیقات کے سربراہ ڈاکٹر توفیق علی وہبہ ہیں۔ مصنف نے اس کتاب میں ایران کے اپنے سفر کی یادداشتوں کو قلم بند کرتے ہوئے شیعہ عقائد، ان کے بارے میں پائے جانے والے شبہات اور شیعہ و اہلِ سنت کے مابین اختلافی مسائل کا جائزہ لیا ہے۔ اسی ضمن میں انہوں نے دوسری بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس، عالمی مجلسِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی، قم و تہران کے علمی و ثقافتی مراکز اور ایران کے شیعہ علماء سے اپنی ملاقاتوں کی تفصیلات بھی بیان کی ہیں۔ کتاب میں مصنف کے سفر سے متعلق متعدد تصویری دستاویزات بھی شامل ہیں۔ اس تصنیف کا بنیادی مقصد پوری امتِ مسلمہ میں وحدتِ اسلامی کے فروغ، مذہبی تعصبات کے خاتمے اور نسلی و فرقہ وارانہ تنازعات پر قابو پانا ہے۔

اجمالی تعارف

یہ کتاب مصری مصنف توفیق علی وہبہ کی ایک سفری روداد ہے، جس میں انہوں نے ایران کے سفر کے دوران شیعہ اور اہلِ سنت کے درمیان وحدت و تقریب کے موضوع پر اپنے مشاہدات اور تجربات کو بیان کیا ہے۔

مصنف نے اس سفر کے دوران مذہبی تعصب سے اجتناب اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات و تفرقے کے خاتمے کی ضرورت کو عملی طور پر محسوس کیا۔ انہوں نے پانچ ابواب میں ایران کے اپنے مشاہدات، قم مقدس کے علمی و ثقافتی مراکز کے تعارف اور ایران کے شیعہ علماء سے اپنی ملاقاتوں کی تفصیلات پیش کی ہیں۔

پہلا باب

پہلا باب اسلامی جمہوریہ ایران کے تعارف سے متعلق ہے۔ اس میں مصنف نے ایران کے بارے میں اپنی عمومی معلومات، مذہبِ شیعہ اثنا عشریہ سے آشنائی اور شیعہ و اہلِ سنت کے اختلافی مسائل کا جائزہ پیش کیا ہے۔

انہوں نے دنیا میں شیعوں کے جغرافیائی پھیلاؤ، خصوصاً ایران کے مرکزی کردار، اسلامی جمہوریہ ایران کے سیاسی و انتظامی نظام، آبادی اور سرکاری مذہب کا تعارف بھی کرایا ہے۔

مصنف کے مطابق شیعہ اور اہلِ سنت کے درمیان بہت سے فکری اور مذہبی مشترکات موجود ہیں اور ان مشترکات کو تقویت دینا ضروری ہے تاکہ اختلافی مسائل کی شدت کم ہو، اسلامی دنیا میں اتحاد و انسجام پیدا ہو اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات کم سے کم رہ جائیں۔

دوسرا باب

اس باب میں مصنف نے تہران میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس کی تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے۔ وہ خود بھی اس کانفرنس میں مدعو مہمان اور مقرر کی حیثیت سے شریک ہوئے اور "وحدت اور تقریبِ مذاہبِ اسلامی" کے عنوان سے ایک مقالہ پیش کیا۔

انہوں نے کانفرنس کے ماحول، اس کے اثرات اور اسلامی مذاہب کے درمیان قربت پیدا کرنے اور اختلافات کو کم کرنے میں اس کے کردار کو بیان کیا ہے۔

تیسرا باب

اس باب میں مصنف نے عالمی مجلسِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی اور اسلامی وحدت کانفرنس کے انعقاد میں اس کے اہم کردار کا تعارف کرایا ہے۔ اسی طرح انہوں نے اس ادارے کے زیرِ نگرانی کام کرنے والے بعض علمی و ثقافتی مراکز، مثلاً مرکز مطالعات و تحقیقاتِ علمی قم اور جامعہ مذاہبِ اسلامی کا بھی تعارف پیش کیا ہے۔

چوتھا باب

اس باب میں مصنف نے شہرِ قم کے ان علمی اور ثقافتی مراکز کا تعارف کرایا ہے جو اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جن میں:

  • جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ؛
  • شہرِ قم کے نمایاں علمی، ثقافتی اور تاریخی آثار؛
  • حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا روضۂ مبارک؛
  • آیت اللہ العظمیٰ مرعشی نجفی کی عظیم الشان لائبریری؛
  • عظیم قرآنی طباعتی مرکز؛
  • دانشکدۂ علومِ قرآنی؛
  • اور مدرسۂ قرآنِ کریم شامل ہیں۔

پانچواں باب

  • جامعہ مذاہبِ اسلامی کا دورہ؛
  • جامعہ تہران کے دانشکدۂ الٰہیات؛
  • جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ میں ڈاکٹر توفیق علی وہبہ کے خطاب کا متن؛
  • اختتامیہ؛
  • تصاویر۔[1]۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. سفر به ايران در راستای وحدت اسلامی-وب‌سایت پژوهشگاه مطالعات تقریبی]، تاریخ درج مطلب: بی‌تا، تاریخ مشاهدۀ مطلب: 2 مهرماه 1404 ش