"اسامہ بن لادن" کے نسخوں کے درمیان فرق
ترجمه خودکار از ویکی فارسی |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:اسامہ بن لادن کو اسامہ بن لادن کی جانب منتقل کیا |
||
| (ایک ہی صارف کا 2 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
{{Infobox person | |||
| title = اسامہ بن لادن | |||
| image = اسامه بن لادن.jpg | |||
| name = | |||
| | | other names = | ||
| brith year = 1957ء | |||
|10 مارچ | | brith date = 10 مارچ | ||
| birth place = [[سعودی عرب]] | |||
| death year = 2011 ء | |||
|[[سعودی عرب]] | | death dat =2 مئی | ||
| | | death place = [[پاکستان]] | ||
| teachers = | |||
|2 مئی | | students = | ||
| religion = [[اسلام]] | |||
| faith = [[اہل سنت|سنی]] | |||
|[[ | | works = القاعدہ نیٹ ورک کی قیادت | ||
| | | known for = | ||
}} | |||
'''اُسامہ بن محمد بن عوض بن لادن''' (10 مارچ 1957ء – 2 مئی 2011ء) خاندان بن لادن کے رکن اور نیٹ ورک [[القاعدہ]] کے بانی اور رہنما تھے۔ اسامہ بن لادن پر پوری دنیا میں ہونے والے متعدد دہشت گرد حملوں، بشمول 7 اگست 1998ء کو دارالسلام ([[تنزانیہ]]) اور نیروبی ([[کینیا]]) میں [[امریکہ]] کے سفارت خانوں میں بم دھماکوں، جنگی جہاز یو ایس ایس کول پر حملے اور [[11 ستمبر]]<ref>واقعہ یازدہم ستمبر؛ دہشت گرد اور خودکش حملے جو دہشت گرد گروہ [[القاعدہ]] نے [[ریاستہائے متحدہ امریکہ]] کی سرزمین پر کیے۔ اس واقعے میں القاعدہ کے انیس ارکان نے چار مسافر تجارتی طیاروں کو اغوا کیا۔ اغوا کاروں نے دو طیارے مختلف اوقات میں [[نیویارک]] میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز سے ٹکرا دیے۔ ان دو ٹکراؤوں کے نتیجے میں تمام مسافر اور عمارتوں میں موجود بہت سے افراد ہلاک ہو گئے۔ دونوں عمارتیں دو گھنٹوں کے اندر مکمل طور پر منہدم ہو گئیں اور ارد گرد کی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اس گروہ نے تیسرا طیارہ ورجینیا کے ارلنگٹن میں واقع [[پینٹاگون]] سے ٹکرایا۔ چوتھا طیارہ پنسلوانیا کی ریاست میں شینکس وِل کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔</ref> کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور [[پینٹاگون]] سے جوڑے جانے والے حملوں کے سلسلے میں امریکی فیڈرل پولیس مطلوب تھا۔ انہیں 2 مئی 2011ء کو [[پاکستان]] میں ریاستہائے متحدہ کی مشترکہ خصوصی آپریشنز کمانڈ کے تحت بحریہ کی خصوصی جنگی ڈویلپمنٹ گروپ نے ہلاک کر دیا۔ | |||
== پیدائش اور بچپن == | == پیدائش اور بچپن == | ||
'''اسامہ بن لادن''' 10 مارچ 1957ء کو [[ریاض]]، دارالحکومت [[سعودی عرب]] میں پیدا ہوئے<ref>روزنامہ ہم شہری (شمارہ 5026)، ص 17، 16 جنوری 2010ء۔</ref>۔ وہ محمد بن لادن، جو تعمیراتی صنعت میں سرگرم ارب پتی تھے اور [[آل سعود]] سے ان کے تعلقات تھے، اور ان کی دسویں بیوی حمیدہ العطاس کے بیٹے | '''اسامہ بن لادن''' 10 مارچ 1957ء کو [[ریاض]]، دارالحکومت [[سعودی عرب]] میں پیدا ہوئے<ref>روزنامہ ہم شہری (شمارہ 5026)، ص 17، 16 جنوری 2010ء۔</ref>۔ وہ محمد بن لادن، جو تعمیراتی صنعت میں سرگرم ارب پتی تھے اور [[آل سعود]] سے ان کے تعلقات تھے، اور ان کی دسویں بیوی حمیدہ العطاس کے بیٹے تھے۔ | ||
بن لادن خاندان نے تعمیراتی صنعت سے 5 ارب امریکی ڈالر کمائے، جن میں سے اسامہ نے بعد میں 25 سے 30 ملین ڈالر وراثت میں حاصل کیے۔ ان کی پرورش ایک [[مسلمان]] کے طور پر ہوئی جو [[وہابیت]] کے معتقد تھے۔ | |||
وہ 1968ء سے 1976ء تک نمونہ الثغر اسکول گئے، جو ایک [[سیکولر]] اور اشرافیہ کے لیے مخصوص اسکول تھا، اور شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی میں معاشیات اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی؛ انہوں نے 1981ء میں پبلک ایڈمنسٹریشن میں ڈگری حاصل کی یا پھر 1979ء میں سول انجینئرنگ میں ڈگری لی۔ | |||
ایک ذریعے نے انہیں محنتی کہا ہے جبکہ دوسرا کہتا ہے کہ وہ ڈگری حاصل کرنے سے پہلے ہی تیسرے سال میں یونیورسٹی چھوڑ گئے۔ یونیورسٹی میں ان کا سب سے بڑا شوق [[مذہب]] تھا۔ وہ [[تفسیر قرآن]]، [[جہاد]] اور فلاحی کاموں میں سرگرم تھے۔ ان کے دیگر شوقوں میں شاعری اور مطالعہ شامل تھا اور کہا جاتا ہے کہ انہیں فلم 'دی گریٹ ڈس آرڈر' اور برنارڈ لا مونٹگمری اور شارل ڈی گال کی تحریریں پسند تھیں۔ انہیں فٹ بال کا شوق تھا اور وہ سینٹر فارورڈ کھیلنا پسند کرتے تھے اور کلب آرسنل کے حامی تھے۔ | |||
== سوانح حیات == | == سوانح حیات == | ||
انہوں نے 1976ء میں 17 سال کی عمر میں نجوا غانم سے لاذقیہ، [[سوریہ]] میں شادی کی۔ اس کے بعد انہوں نے مزید چار بار شادی کی اور دو بار طلاق لی۔ ان کے 20 سے 26 بچے تھے۔ روزنامہ الشرق الاوسط نے 2 جنوری 2010ء کو لکھا کہ بن لادن کی ایک بیوی خیریہ (ام حمزہ) ایک بیٹی اور پانچ بیٹوں سمیت، جو 2001ء سے یعنی [[امریکہ]] کے [[افغانستان]] پر حملے کے وقت سے فرار ہو کر [[ایران]] میں رہ رہی تھیں، کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ اس اخبار نے بن لادن کی بہو کے حوالے سے، جو خود بھی ایران میں رہتی تھیں، لکھا کہ بن لادن خاندان نے ایران میں ایک مرفہ اور اچھی زندگی گزاری ہے اور ان کے گھر میں باغ، تیراکی کا تالاب اور کمپیوٹر جیسی سہولیات موجود تھیں، حالانکہ انہیں انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں تھی اور انہیں بیرون ملک سے کسی بھی قسم کے رابطے یا اپنی خبریں بھیجنے سے روکا گیا تھا۔ | انہوں نے 1976ء میں 17 سال کی عمر میں نجوا غانم سے لاذقیہ، [[سوریہ]] میں شادی کی۔ اس کے بعد انہوں نے مزید چار بار شادی کی اور دو بار طلاق لی۔ ان کے 20 سے 26 بچے تھے۔ | ||
روزنامہ الشرق الاوسط نے 2 جنوری 2010ء کو لکھا کہ بن لادن کی ایک بیوی خیریہ (ام حمزہ) ایک بیٹی اور پانچ بیٹوں سمیت، جو 2001ء سے یعنی [[امریکہ]] کے [[افغانستان]] پر حملے کے وقت سے فرار ہو کر [[ایران]] میں رہ رہی تھیں، کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ | |||
اس اخبار نے بن لادن کی بہو کے حوالے سے، جو خود بھی ایران میں رہتی تھیں، لکھا کہ بن لادن خاندان نے ایران میں ایک مرفہ اور اچھی زندگی گزاری ہے اور ان کے گھر میں باغ، تیراکی کا تالاب اور کمپیوٹر جیسی سہولیات موجود تھیں، حالانکہ انہیں انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں تھی اور انہیں بیرون ملک سے کسی بھی قسم کے رابطے یا اپنی خبریں بھیجنے سے روکا گیا تھا۔ | |||
بن لادن کی بہو نے محمود احمدی نژاد کا شکریہ ادا کیا کہ ایرانی حکام نے بن لادن کے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا<ref>"روزنامہ الشرق الاوسط"۔ 2 جنوری 2010ء۔ اصل سے 27 جنوری 2011ء کو محفوظ شدہ۔ 24 جنوری 2010ء کو حاصل کردہ۔</ref>۔ دسمبر 2009ء میں میڈیا نے خبر دی کہ ان کی بیٹی 'امان' یا 'ایمان' ہر چھ ماہ بعد [[ایران]] کے سیکیورٹی حکام کی جانب سے ان کے لیے منعقدہ ایک خریداری کے پروگرام کے دوران فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں اور [[تہران]] میں [[سعودی عرب]] کے سفارت خانے میں پناہ لے لی۔ | |||
چند دن بعد بن لادن کے ایک بیٹے 'بکر' بھی فرار ہونے اور [[سعودی عرب]] کے سفارت خانے میں پناہ لینے اور پھر سعودی سفارت خانے کی مدد سے [[ایران]] سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ | |||
بن لادن کے دو دیگر بیٹے 'عمر' اور 'عبداللہ'، جو ایران سے باہر رہتے ہیں، نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی۔ 'عمر بن لادن' نے ایرانی حکام سے درخواست کی کہ وہ بن لادن خاندان کو [[ایران]] سے نکل کر [[سوریہ]] یا [[قطر]] جانے کی اجازت دیں۔ | |||
اس واقعے سے پہلے تک ایرانی حکام ایران میں بن لادن خاندان کے کسی بھی فرد کی موجودگی کی تردید کرتے رہے تھے۔ لیکن اس معاملے کے انکشاف کے بعد، ایرانی وزارت خارجہ کے سرکاری حکام نے ایران میں بن لادن خاندان کی طویل مدت موجودگی کی تصدیق کی۔ | |||
اسامہ کے والد (محمد بن لادن) 1967ء میں سعودی عرب میں ایک ہوائی حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے جب ایک امریکی پائلٹ لینڈنگ کے دوران غلطی کر بیٹھا تھا۔ بن لادن کے سوتیلے بڑے بھائی سالم بن لادن، جو بعد میں خاندان بن لادن کے سربراہ بنے، 1988ء میں ٹیکساس ریاست کے سین انٹونیو کے قریب [[امریکہ]] میں ایک طیارہ بجلی کی تاروں سے ٹکرانے کے باعث ہلاک ہو گئے تھے۔ | |||
== پیغامات == | == پیغامات == | ||
15 جنوری 2009ء کو غزہ کی جنگ کے دوران الجزیرہ نیٹ ورک کی ویب سائٹ پر ان کا ایک آڈیو پیغام جاری کیا گیا جس میں سامعین کو [[اسرائیل]] کے خلاف جہاد اور مزاحمت اور غزہ کی پٹی کو اسرائیلی فوج سے آزاد کرانے کی اپیل کی گئی تھی۔ | 15 جنوری 2009ء کو [[غزہ]] کی جنگ کے دوران الجزیرہ نیٹ ورک کی ویب سائٹ پر ان کا ایک آڈیو پیغام جاری کیا گیا جس میں سامعین کو [[اسرائیل]] کے خلاف جہاد اور مزاحمت اور غزہ کی پٹی کو اسرائیلی فوج سے آزاد کرانے کی اپیل کی گئی تھی۔ | ||
== بین الاقوامی تعقب == | == بین الاقوامی تعقب == | ||
| سطر 38: | سطر 52: | ||
جنوری 2010ء میں امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بازتعمیر شدہ تصویر جاری کی جس میں بن لادن کو ممکنہ ظاہری تبدیلیوں کے ساتھ ایک بوڑھے شخص کے طور پر دکھایا گیا تھا۔ | جنوری 2010ء میں امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بازتعمیر شدہ تصویر جاری کی جس میں بن لادن کو ممکنہ ظاہری تبدیلیوں کے ساتھ ایک بوڑھے شخص کے طور پر دکھایا گیا تھا۔ | ||
== سب سے چھوٹے بیٹے کا تعقب == | |||
جنوری 2017ء میں امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ حمزہ بن لادن (بن لادن کا سب سے چھوٹا بیٹا، پیدائش 1989ء) کو [[القاعدہ]] میں شمولیت کی بنا پر دہشت گردی کے خلاف بلیک لسٹ میں شامل کر رہا ہے۔ | |||
حمزہ بن لادن نے کہا تھا کہ وہ امریکیوں کے خلاف حملے کر کے اپنے والد کے امریکی خصوصی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے کا بدلہ لے گا۔ 2019ء میں ایسی خبریں سامنے آئیں کہ حمزہ بن لادن [[پاکستان]] اور [[افغانستان]] کی سرحدی علاقے میں امریکی فورسز کے ہاتھوں مارا گیا۔ | |||
اس خبر کی تصدیق 14 ستمبر 2019ء کو اس وقت کے امریکی صدر [[ڈونلڈ ٹرمپ]] نے کی، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ نیز حمزہ بن لادن کی اہلیہ اور ان کے والد عبداللہ احمد عبداللہ، جو ابومحمد المصری کے نام سے معروف تھے اور مصری القاعدہ کے سینئر رکن تھے، 7 اگست 2020ء کو، جو 1998ء کے امریکی سفارت خانے پر بم دھماکے کی سالگرہ تھی، امریکہ کی درخواست پر اور [[تہران]] کے پاسداران سڑک پر، [[اسرائیل]] سے منسلک افراد کے ہاتھوں گولی مار کر ہلاک کر دیے گئے۔ | |||
== موت == | |||
یکم مئی (پاکستانی مقامی وقت کے مطابق 2 مئی) 2011ء کو باراک اوباما، صدرِ ریاستہائے متحدہ امریکہ نے اعلان کیا کہ امریکی بحریہ کی خصوصی یونٹ کے ایک چھوٹے گروہ نے ایک کارروائی کے دوران [[پاکستان]] میں ایک ویلا میں اسامہ بن لادن، جو [[القاعدہ]] کے بانی اور رہنما تھے اور [[یازدہم ستمبر|11 ستمبر]] کے حملوں کے ذمہ دار تھے، کو ہلاک کر دیا ہے۔ | |||
انہوں نے مزید کہا کہ اسامہ بن لادن کی لاش اس وقت امریکہ کے قبضے میں ہے۔ امریکی سرکاری حکام کے مطابق، یہ کارروائی امریکی بحریہ کی انتہائی خصوصی یونٹ کے 20 سے 25 کمانڈوز نے مشترکہ خصوصی آپریشنز کمانڈ کی قیادت میں اور سی آئی اے کے تعاون سے انجام دی۔ | |||
ان افراد نے دو خفیہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بن لادن پر حملہ کیا، جس کے دوران وہ اور ان کے ساتھی ہلاک ہو گئے۔ اس کارروائی میں امریکی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ امریکی حکام کے بیان کے مطابق یہ کارروائی پاکستانی حکام کو اطلاع دیے بغیر کی گئی تھی۔ | |||
یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں بعض لوگ امریکی فوج کے بغیر اطلاع دیے ان کے ملک میں داخل ہونے سے حیران رہ گئے۔ کارروائی کی جگہ کاکول میں پاکستانی ملٹری اکیڈمی سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر تھی۔ | |||
اوباما نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکی فورسز نے «شہریوں کو زخمی ہونے سے بچانے کا خاص خیال رکھا»۔ نیز خبروں کے مطابق بن لادن کے ساتھ تین مرد اور ایک خاتون بھی ہلاک ہوئے۔ | |||
یہ خاتون اس حالت میں ماری گئی تھی کہ «مرد جنگجوؤں نے اسے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا تھا»۔ بن لادن کی لاش سے حاصل شدہ ڈی این اے کا موازنہ ان کی بہن کی لاش سے لیے گئے نمونے سے کیا گیا۔ | |||
اس ٹیسٹ نے ان کی شناخت کی تصدیق کر دی۔ امریکی حکام کے مطابق بن لادن کی لاش کو منتقل کرنے کے بعد اسلامی روایات کی پابندی کرتے ہوئے سمندر میں بہا دیا گیا۔ ایک امریکی عہدیدار نے اس حوالے سے کہا: «اس مطلوب دہشت گرد کی باقیات کو قبول کرنے کے لیے کسی ایسے ملک کو تلاش کرنا مشکل تھا»، لیکن زیادہ تر ماہرین نے اس وجہ کو تسلیم نہیں کیا اور اب بھی بعض لوگ ان کی موت پر شک کرتے ہیں۔ | |||
امریکی بحریہ کی خصوصی یونٹ | «میٹ بسونٹ»، جو امریکی بحریہ کی خصوصی یونٹ کے سابق کمانڈو ہیں، نے اپنی کتاب «وہ دن جو آسان نہیں تھا» میں، جو ان کے قلمی نام (مارک اوون) سے شائع ہوئی، بیان کیا ہے کہ بن لادن کو مارا گیا حالانکہ وہ کوئی خطرہ نہیں بن رہے تھے۔ | ||
امریکی فوج کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق، بن لادن کی تدفین اسلامی رسومات کے مطابق سمندر میں کی گئی اور امریکی بحریہ کے درجنوں سینئر افسران نے اس اسلامی تدفین کو دیکھا<ref>«افکار نیوز: بن لادن کی تدفین کے طریقے کار سے متعلق نئی تفصیلات کا انکشاف»۔ اصل سے 27 نومبر 2012ء کو محفوظ شدہ۔ حاصل شدہ 22 نومبر 2012ء۔</ref>۔ | |||
امریکی بحریہ کی خصوصی یونٹ «ٹیم 6» کے حملے میں اسامہ بن لادن کو «سر کے تین حصوں میں گولی ماری گئی» اور «ان کا دماغ چکنا چور ہو گیا»۔ | |||
== حوالہ جات == | == حوالہ جات == | ||
| سطر 62: | سطر 86: | ||
[[زمرہ:القاعدہ]] | [[زمرہ:القاعدہ]] | ||
[[زمرہ:سعودی عرب]] | [[زمرہ:سعودی عرب]] | ||
[[fa:اسامه بن لادن]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 15:05، 25 مئی 2026ء
| اسامہ بن لادن | |
|---|---|
![]() | |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1957ء |
| یوم پیدائش | 10 مارچ |
| پیدائش کی جگہ | سعودی عرب |
| وفات | 2011 ء |
| وفات کی جگہ | پاکستان |
| مذہب | اسلام، سنی |
| اثرات | القاعدہ نیٹ ورک کی قیادت |
اُسامہ بن محمد بن عوض بن لادن (10 مارچ 1957ء – 2 مئی 2011ء) خاندان بن لادن کے رکن اور نیٹ ورک القاعدہ کے بانی اور رہنما تھے۔ اسامہ بن لادن پر پوری دنیا میں ہونے والے متعدد دہشت گرد حملوں، بشمول 7 اگست 1998ء کو دارالسلام (تنزانیہ) اور نیروبی (کینیا) میں امریکہ کے سفارت خانوں میں بم دھماکوں، جنگی جہاز یو ایس ایس کول پر حملے اور 11 ستمبر[1] کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون سے جوڑے جانے والے حملوں کے سلسلے میں امریکی فیڈرل پولیس مطلوب تھا۔ انہیں 2 مئی 2011ء کو پاکستان میں ریاستہائے متحدہ کی مشترکہ خصوصی آپریشنز کمانڈ کے تحت بحریہ کی خصوصی جنگی ڈویلپمنٹ گروپ نے ہلاک کر دیا۔
پیدائش اور بچپن
اسامہ بن لادن 10 مارچ 1957ء کو ریاض، دارالحکومت سعودی عرب میں پیدا ہوئے[2]۔ وہ محمد بن لادن، جو تعمیراتی صنعت میں سرگرم ارب پتی تھے اور آل سعود سے ان کے تعلقات تھے، اور ان کی دسویں بیوی حمیدہ العطاس کے بیٹے تھے۔
بن لادن خاندان نے تعمیراتی صنعت سے 5 ارب امریکی ڈالر کمائے، جن میں سے اسامہ نے بعد میں 25 سے 30 ملین ڈالر وراثت میں حاصل کیے۔ ان کی پرورش ایک مسلمان کے طور پر ہوئی جو وہابیت کے معتقد تھے۔
وہ 1968ء سے 1976ء تک نمونہ الثغر اسکول گئے، جو ایک سیکولر اور اشرافیہ کے لیے مخصوص اسکول تھا، اور شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی میں معاشیات اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی؛ انہوں نے 1981ء میں پبلک ایڈمنسٹریشن میں ڈگری حاصل کی یا پھر 1979ء میں سول انجینئرنگ میں ڈگری لی۔
ایک ذریعے نے انہیں محنتی کہا ہے جبکہ دوسرا کہتا ہے کہ وہ ڈگری حاصل کرنے سے پہلے ہی تیسرے سال میں یونیورسٹی چھوڑ گئے۔ یونیورسٹی میں ان کا سب سے بڑا شوق مذہب تھا۔ وہ تفسیر قرآن، جہاد اور فلاحی کاموں میں سرگرم تھے۔ ان کے دیگر شوقوں میں شاعری اور مطالعہ شامل تھا اور کہا جاتا ہے کہ انہیں فلم 'دی گریٹ ڈس آرڈر' اور برنارڈ لا مونٹگمری اور شارل ڈی گال کی تحریریں پسند تھیں۔ انہیں فٹ بال کا شوق تھا اور وہ سینٹر فارورڈ کھیلنا پسند کرتے تھے اور کلب آرسنل کے حامی تھے۔
سوانح حیات
انہوں نے 1976ء میں 17 سال کی عمر میں نجوا غانم سے لاذقیہ، سوریہ میں شادی کی۔ اس کے بعد انہوں نے مزید چار بار شادی کی اور دو بار طلاق لی۔ ان کے 20 سے 26 بچے تھے۔
روزنامہ الشرق الاوسط نے 2 جنوری 2010ء کو لکھا کہ بن لادن کی ایک بیوی خیریہ (ام حمزہ) ایک بیٹی اور پانچ بیٹوں سمیت، جو 2001ء سے یعنی امریکہ کے افغانستان پر حملے کے وقت سے فرار ہو کر ایران میں رہ رہی تھیں، کے بارے میں بتایا گیا ہے۔
اس اخبار نے بن لادن کی بہو کے حوالے سے، جو خود بھی ایران میں رہتی تھیں، لکھا کہ بن لادن خاندان نے ایران میں ایک مرفہ اور اچھی زندگی گزاری ہے اور ان کے گھر میں باغ، تیراکی کا تالاب اور کمپیوٹر جیسی سہولیات موجود تھیں، حالانکہ انہیں انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں تھی اور انہیں بیرون ملک سے کسی بھی قسم کے رابطے یا اپنی خبریں بھیجنے سے روکا گیا تھا۔
بن لادن کی بہو نے محمود احمدی نژاد کا شکریہ ادا کیا کہ ایرانی حکام نے بن لادن کے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا[3]۔ دسمبر 2009ء میں میڈیا نے خبر دی کہ ان کی بیٹی 'امان' یا 'ایمان' ہر چھ ماہ بعد ایران کے سیکیورٹی حکام کی جانب سے ان کے لیے منعقدہ ایک خریداری کے پروگرام کے دوران فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں اور تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے میں پناہ لے لی۔
چند دن بعد بن لادن کے ایک بیٹے 'بکر' بھی فرار ہونے اور سعودی عرب کے سفارت خانے میں پناہ لینے اور پھر سعودی سفارت خانے کی مدد سے ایران سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
بن لادن کے دو دیگر بیٹے 'عمر' اور 'عبداللہ'، جو ایران سے باہر رہتے ہیں، نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی۔ 'عمر بن لادن' نے ایرانی حکام سے درخواست کی کہ وہ بن لادن خاندان کو ایران سے نکل کر سوریہ یا قطر جانے کی اجازت دیں۔
اس واقعے سے پہلے تک ایرانی حکام ایران میں بن لادن خاندان کے کسی بھی فرد کی موجودگی کی تردید کرتے رہے تھے۔ لیکن اس معاملے کے انکشاف کے بعد، ایرانی وزارت خارجہ کے سرکاری حکام نے ایران میں بن لادن خاندان کی طویل مدت موجودگی کی تصدیق کی۔
اسامہ کے والد (محمد بن لادن) 1967ء میں سعودی عرب میں ایک ہوائی حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے جب ایک امریکی پائلٹ لینڈنگ کے دوران غلطی کر بیٹھا تھا۔ بن لادن کے سوتیلے بڑے بھائی سالم بن لادن، جو بعد میں خاندان بن لادن کے سربراہ بنے، 1988ء میں ٹیکساس ریاست کے سین انٹونیو کے قریب امریکہ میں ایک طیارہ بجلی کی تاروں سے ٹکرانے کے باعث ہلاک ہو گئے تھے۔
پیغامات
15 جنوری 2009ء کو غزہ کی جنگ کے دوران الجزیرہ نیٹ ورک کی ویب سائٹ پر ان کا ایک آڈیو پیغام جاری کیا گیا جس میں سامعین کو اسرائیل کے خلاف جہاد اور مزاحمت اور غزہ کی پٹی کو اسرائیلی فوج سے آزاد کرانے کی اپیل کی گئی تھی۔
بین الاقوامی تعقب
وہ دنیا بھر میں ہونے والے متعدد دہشت گرد حملوں، بشمول 7 اگست 1998ء کو دارالسلام (تنزانیہ) اور نیروبی (کینیا) میں امریکہ کے سفارت خانوں میں بم دھماکوں، جنگی جہاز یو ایس ایس کول (ڈی ڈی جی-67) پر حملے، مرکز تجارت عالمی اور پینٹاگون پر 11 ستمبر کے حملوں اور احمد شاہ مسعود کے قتل کے سلسلے میں ایف بی آئی کا مطلوب تھا۔ جنوری 2010ء میں امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بازتعمیر شدہ تصویر جاری کی جس میں بن لادن کو ممکنہ ظاہری تبدیلیوں کے ساتھ ایک بوڑھے شخص کے طور پر دکھایا گیا تھا۔
سب سے چھوٹے بیٹے کا تعقب
جنوری 2017ء میں امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ حمزہ بن لادن (بن لادن کا سب سے چھوٹا بیٹا، پیدائش 1989ء) کو القاعدہ میں شمولیت کی بنا پر دہشت گردی کے خلاف بلیک لسٹ میں شامل کر رہا ہے۔
حمزہ بن لادن نے کہا تھا کہ وہ امریکیوں کے خلاف حملے کر کے اپنے والد کے امریکی خصوصی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے کا بدلہ لے گا۔ 2019ء میں ایسی خبریں سامنے آئیں کہ حمزہ بن لادن پاکستان اور افغانستان کی سرحدی علاقے میں امریکی فورسز کے ہاتھوں مارا گیا۔
اس خبر کی تصدیق 14 ستمبر 2019ء کو اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ نیز حمزہ بن لادن کی اہلیہ اور ان کے والد عبداللہ احمد عبداللہ، جو ابومحمد المصری کے نام سے معروف تھے اور مصری القاعدہ کے سینئر رکن تھے، 7 اگست 2020ء کو، جو 1998ء کے امریکی سفارت خانے پر بم دھماکے کی سالگرہ تھی، امریکہ کی درخواست پر اور تہران کے پاسداران سڑک پر، اسرائیل سے منسلک افراد کے ہاتھوں گولی مار کر ہلاک کر دیے گئے۔
موت
یکم مئی (پاکستانی مقامی وقت کے مطابق 2 مئی) 2011ء کو باراک اوباما، صدرِ ریاستہائے متحدہ امریکہ نے اعلان کیا کہ امریکی بحریہ کی خصوصی یونٹ کے ایک چھوٹے گروہ نے ایک کارروائی کے دوران پاکستان میں ایک ویلا میں اسامہ بن لادن، جو القاعدہ کے بانی اور رہنما تھے اور 11 ستمبر کے حملوں کے ذمہ دار تھے، کو ہلاک کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسامہ بن لادن کی لاش اس وقت امریکہ کے قبضے میں ہے۔ امریکی سرکاری حکام کے مطابق، یہ کارروائی امریکی بحریہ کی انتہائی خصوصی یونٹ کے 20 سے 25 کمانڈوز نے مشترکہ خصوصی آپریشنز کمانڈ کی قیادت میں اور سی آئی اے کے تعاون سے انجام دی۔
ان افراد نے دو خفیہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بن لادن پر حملہ کیا، جس کے دوران وہ اور ان کے ساتھی ہلاک ہو گئے۔ اس کارروائی میں امریکی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ امریکی حکام کے بیان کے مطابق یہ کارروائی پاکستانی حکام کو اطلاع دیے بغیر کی گئی تھی۔
یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں بعض لوگ امریکی فوج کے بغیر اطلاع دیے ان کے ملک میں داخل ہونے سے حیران رہ گئے۔ کارروائی کی جگہ کاکول میں پاکستانی ملٹری اکیڈمی سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر تھی۔
اوباما نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکی فورسز نے «شہریوں کو زخمی ہونے سے بچانے کا خاص خیال رکھا»۔ نیز خبروں کے مطابق بن لادن کے ساتھ تین مرد اور ایک خاتون بھی ہلاک ہوئے۔
یہ خاتون اس حالت میں ماری گئی تھی کہ «مرد جنگجوؤں نے اسے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا تھا»۔ بن لادن کی لاش سے حاصل شدہ ڈی این اے کا موازنہ ان کی بہن کی لاش سے لیے گئے نمونے سے کیا گیا۔
اس ٹیسٹ نے ان کی شناخت کی تصدیق کر دی۔ امریکی حکام کے مطابق بن لادن کی لاش کو منتقل کرنے کے بعد اسلامی روایات کی پابندی کرتے ہوئے سمندر میں بہا دیا گیا۔ ایک امریکی عہدیدار نے اس حوالے سے کہا: «اس مطلوب دہشت گرد کی باقیات کو قبول کرنے کے لیے کسی ایسے ملک کو تلاش کرنا مشکل تھا»، لیکن زیادہ تر ماہرین نے اس وجہ کو تسلیم نہیں کیا اور اب بھی بعض لوگ ان کی موت پر شک کرتے ہیں۔
«میٹ بسونٹ»، جو امریکی بحریہ کی خصوصی یونٹ کے سابق کمانڈو ہیں، نے اپنی کتاب «وہ دن جو آسان نہیں تھا» میں، جو ان کے قلمی نام (مارک اوون) سے شائع ہوئی، بیان کیا ہے کہ بن لادن کو مارا گیا حالانکہ وہ کوئی خطرہ نہیں بن رہے تھے۔
امریکی فوج کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق، بن لادن کی تدفین اسلامی رسومات کے مطابق سمندر میں کی گئی اور امریکی بحریہ کے درجنوں سینئر افسران نے اس اسلامی تدفین کو دیکھا[4]۔
امریکی بحریہ کی خصوصی یونٹ «ٹیم 6» کے حملے میں اسامہ بن لادن کو «سر کے تین حصوں میں گولی ماری گئی» اور «ان کا دماغ چکنا چور ہو گیا»۔
حوالہ جات
- ↑ واقعہ یازدہم ستمبر؛ دہشت گرد اور خودکش حملے جو دہشت گرد گروہ القاعدہ نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کی سرزمین پر کیے۔ اس واقعے میں القاعدہ کے انیس ارکان نے چار مسافر تجارتی طیاروں کو اغوا کیا۔ اغوا کاروں نے دو طیارے مختلف اوقات میں نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز سے ٹکرا دیے۔ ان دو ٹکراؤوں کے نتیجے میں تمام مسافر اور عمارتوں میں موجود بہت سے افراد ہلاک ہو گئے۔ دونوں عمارتیں دو گھنٹوں کے اندر مکمل طور پر منہدم ہو گئیں اور ارد گرد کی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اس گروہ نے تیسرا طیارہ ورجینیا کے ارلنگٹن میں واقع پینٹاگون سے ٹکرایا۔ چوتھا طیارہ پنسلوانیا کی ریاست میں شینکس وِل کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔
- ↑ روزنامہ ہم شہری (شمارہ 5026)، ص 17، 16 جنوری 2010ء۔
- ↑ "روزنامہ الشرق الاوسط"۔ 2 جنوری 2010ء۔ اصل سے 27 جنوری 2011ء کو محفوظ شدہ۔ 24 جنوری 2010ء کو حاصل کردہ۔
- ↑ «افکار نیوز: بن لادن کی تدفین کے طریقے کار سے متعلق نئی تفصیلات کا انکشاف»۔ اصل سے 27 نومبر 2012ء کو محفوظ شدہ۔ حاصل شدہ 22 نومبر 2012ء۔
