مندرجات کا رخ کریں

"ابوذر غفاری" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(2 صارفین 3 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 18: سطر 18:
'''ابوذر غفاری'''، جُندب (بریر) بن جُنادة بن کُعَیب بن صعیر قبیلہ بنی غفار سے تعلق رکھنے والے معروف صحابی تھے، اور وہ [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسولِ خدا]] (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے جلیل القدر صحابہ، [[علی ابن ابی طالب|امام علی]] (علیہ السلام) کے یارِ وفادار، اور ارکانِ اربعةٔ اسلام میں سے ایک تھے۔ ابوذر غفاری [[اسلام]] میں روحانی اور اخلاقی اعتبار سے ایک ممتاز اور نمایاں شخصیت تھے۔ وہ اسلام قبول کرنے والے پانچویں شخص تھے۔
'''ابوذر غفاری'''، جُندب (بریر) بن جُنادة بن کُعَیب بن صعیر قبیلہ بنی غفار سے تعلق رکھنے والے معروف صحابی تھے، اور وہ [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسولِ خدا]] (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے جلیل القدر صحابہ، [[علی ابن ابی طالب|امام علی]] (علیہ السلام) کے یارِ وفادار، اور ارکانِ اربعةٔ اسلام میں سے ایک تھے۔ ابوذر غفاری [[اسلام]] میں روحانی اور اخلاقی اعتبار سے ایک ممتاز اور نمایاں شخصیت تھے۔ وہ اسلام قبول کرنے والے پانچویں شخص تھے۔


پیغمبرِ گرامی (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے وصال کے بعد وہ ان معدودے چند افراد میں سے تھے جو [[امامت|امامتِ]] [[علی ابن ابی طالب|امام علی]] (علیہ السلام) پر ثابت قدم رہے۔ خلافتِ [[عثمان بن عفان|عثمان]] کے زمانے میں وہ معاشرے میں اشرافیت اور دولت اندوزی کے رواج، اور بنی امیہ کی جانب سے بیت المال پر دست درازی کے خلاف اعتراض کرتے تھے، اور ان کی یہ تنقید خلیفہ کے لیے باعثِ ناراضی بنی، جس کے نتیجے میں انہیں ربذہ جلا وطن کر دیا گیا۔ وہ ربذہ ہی میں وفات پا گئے، اور ابن مسعود، مالک اشتر اور ان کے ساتھیوں نے انہیں دفن کیا۔ [[علی ابن ابی طالب|امام علی]] (علیہ السلام) نے، [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|نبی اکرم]] (صلّی اللہ علیہ وآلہ) سے نقل کرتے ہوئے، ابوذر کو سب سے زیادہ سچ بولنے والا انسان قرار دیا ہے۔
پیغمبرِ گرامی (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے وصال کے بعد وہ ان معدودے چند افراد میں سے تھے جو [[امامت|امامتِ]] [[علی ابن ابی طالب|امام علی]] (علیہ السلام) پر ثابت قدم رہے۔ خلافتِ [[عثمان بن عفان|عثمان]] کے زمانے میں وہ معاشرے میں اشرافیت اور دولت اندوزی کے رواج، اور بنی امیہ کی جانب سے بیت المال پر دست درازی کے خلاف اعتراض کرتے تھے، اور ان کی یہ تنقید خلیفہ کے لیے باعثِ ناراضی بنی، جس کے نتیجے میں انہیں ربذہ جلا وطن کر دیا گیا۔  
 
وہ ربذہ ہی میں وفات پا گئے، اور ابن مسعود، مالک اشتر اور ان کے ساتھیوں نے انہیں دفن کیا۔ [[علی ابن ابی طالب|امام علی]] (علیہ السلام) نے، [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|نبی اکرم]] (صلّی اللہ علیہ وآلہ) سے نقل کرتے ہوئے، ابوذر کو سب سے زیادہ سچ بولنے والا انسان قرار دیا ہے۔


== ولادت، نسب اور ظاہری اوصاف ==
== ولادت، نسب اور ظاہری اوصاف ==
سطر 112: سطر 114:
بالآخر ابوذر ربذہ میں، جو تاریخ کے دوران [[حج]] کے قافلوں کے ٹھکانوں میں سے ایک تھا<ref>الاخبار الطوال، ص۳۸۵؛ معجم البلدان، ج۳، ص۲۴؛ المنتظم، ج۱۱، ص۳۲۰۔</ref>، تنہائی اور سختی میں، جیسا کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے خبر دی تھی<ref>المغازی، ج۳، ص۱۰۰۱۔</ref>، اپنی بیوی یا اپنی اکلوتی بیٹی کے پہلو میں ۳۲ ہجری میں انتقال کر گیا<ref>تاریخ طبری، ج۳، ص۳۵۴۔</ref>۔ اسے [[عراق]] سے آنے والے ایک قافلے نے، جس میں ابن مسعود اور کچھ دیگر اصحاب شامل تھے، غسل و کفن دیا<ref>تاریخ طبری، ج۳، ص۳۵۴۔</ref>۔ مالک اشتر نے اس پر [[نماز]] پڑھائی<ref>رجال کشی، ج۱، ص۲۸۲۔</ref> اور اسے وہیں دفن کر دیا گیا<ref>المعجم الکبیر، ج۶، ص۱۲۶؛ تفسیر قمی، ج۱، ص۲۹۶؛ معجم البلدان، ج۳، ص۲۴۔</ref>۔ اب اس کی قبر کا کوئی نشان باقی نہیں رہا<ref>مجمع البحرین، ج۲، ص۱۳۱، «ربذ»؛ اعیان الشیعہ، ج۴، ص۲۲۵۔</ref>۔ پہلے ابوذر کے نام سے ایک مسجد تھی جو گویا اسی جگہ واقع تھی جہاں اس کی قبر تھی<ref>المناسک، ص۳۲۷۔</ref>۔ ربذہ میں اس کی زیارت مستحبات میں شمار کی گئی ہے<ref>بحار الانوار، ج۹۷، ص۲۲۲؛ ج۹۹، ص۲۷۹؛ جواہر الکلام، ج۲۰، ص۱۰۳۔</ref>۔ اس کی کوئی نسل باقی نہیں رہی<ref>جمہرۃ انساب العرب، ص۱۸۶۔</ref>۔
بالآخر ابوذر ربذہ میں، جو تاریخ کے دوران [[حج]] کے قافلوں کے ٹھکانوں میں سے ایک تھا<ref>الاخبار الطوال، ص۳۸۵؛ معجم البلدان، ج۳، ص۲۴؛ المنتظم، ج۱۱، ص۳۲۰۔</ref>، تنہائی اور سختی میں، جیسا کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے خبر دی تھی<ref>المغازی، ج۳، ص۱۰۰۱۔</ref>، اپنی بیوی یا اپنی اکلوتی بیٹی کے پہلو میں ۳۲ ہجری میں انتقال کر گیا<ref>تاریخ طبری، ج۳، ص۳۵۴۔</ref>۔ اسے [[عراق]] سے آنے والے ایک قافلے نے، جس میں ابن مسعود اور کچھ دیگر اصحاب شامل تھے، غسل و کفن دیا<ref>تاریخ طبری، ج۳، ص۳۵۴۔</ref>۔ مالک اشتر نے اس پر [[نماز]] پڑھائی<ref>رجال کشی، ج۱، ص۲۸۲۔</ref> اور اسے وہیں دفن کر دیا گیا<ref>المعجم الکبیر، ج۶، ص۱۲۶؛ تفسیر قمی، ج۱، ص۲۹۶؛ معجم البلدان، ج۳، ص۲۴۔</ref>۔ اب اس کی قبر کا کوئی نشان باقی نہیں رہا<ref>مجمع البحرین، ج۲، ص۱۳۱، «ربذ»؛ اعیان الشیعہ، ج۴، ص۲۲۵۔</ref>۔ پہلے ابوذر کے نام سے ایک مسجد تھی جو گویا اسی جگہ واقع تھی جہاں اس کی قبر تھی<ref>المناسک، ص۳۲۷۔</ref>۔ ربذہ میں اس کی زیارت مستحبات میں شمار کی گئی ہے<ref>بحار الانوار، ج۹۷، ص۲۲۲؛ ج۹۹، ص۲۷۹؛ جواہر الکلام، ج۲۰، ص۱۰۳۔</ref>۔ اس کی کوئی نسل باقی نہیں رہی<ref>جمہرۃ انساب العرب، ص۱۸۶۔</ref>۔


== حضرت ابوذر غفاری کی عظمت کے لیے یہی بس کہ سردارانِ جنت انہیں "چچا" کہہ کر پکارتے تھے ==
[[ سید ساجد علی نقوی|علامہ سید ساجد علی نقوی]] نے کہا: ابوذر غفاری نے حق و صداقت کی راہ میں لاتعداد مشکلات کا سامنا کیا، ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ علم و کمال کے سبب بے شمار احادیث نبوی (ص) کے راوی قرار پائے۔
ختمی مرتبت (ص) کا دفاع و تحفظ اور ان کی رحلت کے بعد صداقت کا علم بلند کرنے والوں میں حضرت ابوذر غفاری پیش پیش رہے۔
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 5 [[ذوالحجہ|ذی الحجہ]] یوم وفات صحابی [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسول اکرم (ص)]] حضرت جندب ابن جنادہ ابوذر غفاری کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا:
جناب ابوذر غفاری کے نظریات اور افکار انتہائی پختہ تھے، وہ اپنی مثال آپ تھے اور حضرت ابوذر غفاری کی عظمت ہے کہ سرداران جنت حضرات حسنین کریمین آپ کو چچا کہہ کر پکارتے تھے۔
انہوں نے کہا: حضرت ابوذر غفاری دین اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہو کر خود خدمت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا۔ انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قدر و منزلت اور فضیلت و مقام کو سب پر واضح اور آشکار کیا اور اسی پاداش میں مختلف قبائل کی جانب سے ظلم و تشدد کی طویل اور صبر آزما صعوبتیں تو برداشت کیں لیکن پایہ استقلال میں ذرا لغزش نہ آئی۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا: تاریخ اسلام شاہد ہے کہ اعلان رسالت کے بعد اولین ایام میں جن مصائب و مشکلات سے مسلمان دوچار رہے ان کا جرات و بہادری اور دلیری سے مقابلہ کرنے والوں اور ختمی مرتبت کا دفاع و تحفظ اور ان کے رحلت کے بعد صداقت کا علم بلند کرنے والوں میں حضرت ابوذر غفاری پیش پیش رہے۔
انہوں نے مزید کہا: حضرت ابوذر غفاری کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ علم و کمال کے سبب بے شمار احادیث نبوی (ص) کے راوی قرار پائے، ان کی حق و سچ کے اظہار میں بے باکی اور بے خوفی کی وجہ سے انہیں یہ سند امتیاز عطا ہوئی
کہ حدیث پیغمبر (ص) میں ان کے متعلق وارد ہوا ہے کہ "زمین نے کسی ایسے شخص کو اپنے اوپر اٹھایا نہیں اور آسمان نے اس پہ سایہ نہیں کیا جو ابوذر سے زیادہ سچا ہو"۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا: وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قربت کی وجہ سے پختہ نظریات کے حامل تھے، خاص کر معاشی و سیاسی حوالے سے وہ ایک واضح نقطہ نگاہ رکھتے تھے، کسی محل کے گرد چکر لگایا کرتے تھے اور آیہ کریمہ تلاوت کرتے رہتے
جس کا ترجمہ یہ ہے کہ "اور جو لوگ سونا چاندی ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے۔ جس روز وہی مال آتش جہنم میں تپایا جائیگا اسی سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پشتیں داغی جائیں گی (اور ان سے کہا جائیگا)
یہ ہے وہ مال جو تم نے اپنے لئے ذخیرہ کر رکھا تھا لہذا اب اسے چکھو جسے تم جمع کیا کرتے تھے <ref>سورۂ  توبہ آیۂ 34</ref>۔
انہوں نے کہا: حضرت اباذر غفاری کے نظریات پر اسلامی اسکالرز نے متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب "الاشتراکی الزاہد" یعنی "سوشلسٹ پرہیزگار" کے نام سے بھی شائع ہوئی۔ ان کے نظریات کیلئے ان کتب سے بھی استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا: حضرت ابوذر غفاری کو حق و صداقت کی راہ میں لاتعداد مشکلات جن میں سماجی بائیکاٹ حتیٰ کہ کئی بار جلاوطنی جیسے مصائب جھیلنے پڑے اور اسی جلاوطنی کے دوران کمسن دختر کے ہمراہ مدینہ سے فاصلے پر ربذہ کے مقام پر عالم مسافرت میں اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔


ان کی [[نماز]] جنازہ مشہور صحابی مالک اشتر نے پڑھائی جو قافلہ کے ساتھ وہاں سے گزر رہے تھے۔ اس عظیم المرتبت صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جلا وطن کر کے جس خطے میں بھیجا گیا وہاں کے لوگ آج بھی سامراجی طاقتوں اور ان کے آلہ کاروں کے مظالم کے خلاف نبرد آزما ہیں<ref>[https://ur.hawzahnews.com/ حضرت ابوذر غفاری کی عظمت کے لیے یہی بس کہ سردارانِ جنت انہیں "چچا" کہہ کر پکارتے تھے]- شائع شدہ از: 21 مئی 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 21 مئی 2026ء</ref>۔
== متعلقہ تلاشیں ==
== متعلقہ تلاشیں ==
* [[اسلام]]
* [[اسلام]]
سطر 125: سطر 153:
[[زمرہ:تاریخی شخصیات]]
[[زمرہ:تاریخی شخصیات]]
[[زمرہ:صحابہ]]
[[زمرہ:صحابہ]]
[[fa:ابوذر غفاری]]

حالیہ نسخہ بمطابق 18:14، 21 مئی 2026ء

ابوذرّ غِفاری
پورا نامجُندب بن جَناده غِفاری
دوسرے نامابوذرّ، غِفاری
ذاتی معلومات
وفات32 ق
وفات کی جگہربذه
مذہباسلام، شیعہ
مناصبرسولِ خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے جلیل القدر صحابہ، امام علی (علیہ السلام) کے یارِ وفادار، اور ارکانِ اربعةٔ اسلام

ابوذر غفاری، جُندب (بریر) بن جُنادة بن کُعَیب بن صعیر قبیلہ بنی غفار سے تعلق رکھنے والے معروف صحابی تھے، اور وہ رسولِ خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے جلیل القدر صحابہ، امام علی (علیہ السلام) کے یارِ وفادار، اور ارکانِ اربعةٔ اسلام میں سے ایک تھے۔ ابوذر غفاری اسلام میں روحانی اور اخلاقی اعتبار سے ایک ممتاز اور نمایاں شخصیت تھے۔ وہ اسلام قبول کرنے والے پانچویں شخص تھے۔

پیغمبرِ گرامی (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے وصال کے بعد وہ ان معدودے چند افراد میں سے تھے جو امامتِ امام علی (علیہ السلام) پر ثابت قدم رہے۔ خلافتِ عثمان کے زمانے میں وہ معاشرے میں اشرافیت اور دولت اندوزی کے رواج، اور بنی امیہ کی جانب سے بیت المال پر دست درازی کے خلاف اعتراض کرتے تھے، اور ان کی یہ تنقید خلیفہ کے لیے باعثِ ناراضی بنی، جس کے نتیجے میں انہیں ربذہ جلا وطن کر دیا گیا۔

وہ ربذہ ہی میں وفات پا گئے، اور ابن مسعود، مالک اشتر اور ان کے ساتھیوں نے انہیں دفن کیا۔ امام علی (علیہ السلام) نے، نبی اکرم (صلّی اللہ علیہ وآلہ) سے نقل کرتے ہوئے، ابوذر کو سب سے زیادہ سچ بولنے والا انسان قرار دیا ہے۔

ولادت، نسب اور ظاہری اوصاف

ابوذر اسلام کے ظہور سے بیس سال پہلے قبیلہ غِفار کے ایک خاندان میں پیدا ہوئے، جو اصیل عرب قبائل میں شمار ہوتا ہے[1]۔ ان کے والد کا نام جُنادہ تھا، جو غفار کی اولاد میں سے تھے، اور ان کی والدہ کا نام رَملہ بنت الوقیعہ تھا، جو بنی غفار بن ملیل سے تعلق رکھتی تھیں[2]۔ مورخین بیان کرتے ہیں کہ ابوذر کے والد کے نام کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، اور یزید، جندب، عشرقہ، عبداللہ اور سکن کے نام بھی ذکر کیے گئے ہیں[3]۔

  • ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ ابوذر ایک قدآور، گندمی رنگت والے اور دبلی ساخت کے آدمی تھے[4]۔
  • ابن سعد نے ان کو ایک بلند قامت شخص کے طور پر معرفی کیا ہے جن کے بال اور داڑھی سفید تھے[5]۔
  • ذہبی کہتے ہیں کہ ابوذر ایک مضبوط، بھاری جسم والے شخص تھے اور ان کی داڑھی گھنی تھی[6]۔

اسماء اور القاب

ان کا لقب ابوذر ان کے بیٹے ذَر کے نام کی وجہ سے ہے، اور وہ زیادہ تر اسی کنیت سے مشہور ہیں۔ تاہم، ان کا اصل نام متنازعہ ہے، اور تاریخی کتب میں مختلف ناموں کا ذکر ہے، جیسے بدر بن جندب، بریر بن عبداللہ، بریر بن جُنادہ، بریرہ بن عشرقہ، جندب بن عبداللہ، جندب بن سکن، اور یزید بن جنداہ[7]۔ لیکن جو چیز زیادہ مشہور اور صحیح نظر آتی ہے وہ جندب بن یزید ہے[8]۔

زوجہ اور اولاد

موجودہ مآخذ کے مطابق اس کے ایک بیٹے کا نام ذَر تھا۔ شیخ کلینی ایک روایت نقل کرتے ہیں جو ذَر کی وفات کے بارے میں ہے[9]۔ اس کی زوجہ کو بھی اُمِّ ذَر کہا گیا ہے[10]۔

ابوذر کی خدا پرستی

ابوذر دورِ جاہلیت میں بھی خدا کی عبادت کرتا تھا اور کہتا تھا: اللہِ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں، اور وہ بتوں کی پرستش نہیں کرتا تھا[11]۔ اس کے اقوال میں سے ہے کہ: میں رسولِ خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے پاس جانے سے تین سال پہلے نماز پڑھتا تھا اور نماز میں جس سمت خدا چاہتا، اسی سمت عبادت کرتا تھا[12]۔

روایت ہے کہ ایک دن ابوذر کا بھائی انیس اسے تلاش کر رہا تھا۔ اچانک اس نے ایک حیرت انگیز منظر دیکھا کہ اس کا بھائی انتہائی خشوع کے ساتھ کھڑا عبادت میں مشغول ہے۔ وہ عبادت میں اس قدر محو تھا کہ انیس کی موجودگی کا احساس بھی نہ ہوا۔ نماز ختم ہونے کے بعد انیس نے اس سے پوچھا: تم کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا: میں نماز پڑھ رہا ہوں۔ انیس نے دوبارہ پوچھا: کس خدا کے لیے؟!… نماز تو منات اور دیگر بتوں کے سامنے درست نہیں۔ ابوذر نے کہا: میں نے فطرت میں ایک ایسی نشانی پائی ہے جس نے مجھے تمہارے خداؤں کے علاوہ ایک اور خدا کی طرف رہنمائی کی ہے؛ ایسا خدا جو عظیم، قادر اور یکتا ہے[13]۔

ابوذر کا اسلام قبول کرنا

اسلام سے پہلے ابوذر کی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں۔ ایک روایت کے مطابق وہ جاہلیت کے زمانے میں چرواہا تھا[14] اور بہادری کے ساتھ تنہا ایک قافلے کے مقابل کھڑا ہو جاتا تھا[15]۔ اسلام قبول کرنے سے تین سال پہلے وہ اللہِ واحد کی عبادت کرتا، نماز ادا کرتا اور بتوں سے دوری اختیار کرتا تھا[16]۔ بعض روایات کے مطابق سورۂ زمر کی آیت ۱۷ اس کی اور دو دیگر افراد کی مدح میں نازل ہوئی جو زمانۂ جاہلیت میں بھی بت پرستی سے دور تھے[17]۔

وہ پانچواں شخص تھا جس نے اسلام قبول کیا[18]، جبکہ بعض نے اسے چوتھا مسلمان قرار دیا ہے[19]۔ اسی بنا پر اسے اسلام کے ابتدائی سابقین میں شمار کیا جاتا ہے[20]۔ اس کے اسلام لانے کی داستان مختلف انداز میں نقل ہوئی ہے[21] اور بعض روایات میں اسے ایک معجزاتی واقعہ کے بعد بیان کیا گیا ہے[22]۔

مشہور روایت کے مطابق جب اسے بعثتِ رسول (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کی خبر ملی تو اس نے اپنے بھائی کو خبر معلوم کرنے کے لیے مکہ بھیجا۔ بھائی کی بات سننے کے بعد وہ خود مکہ گیا اور سختیوں اور اسلام دشمنوں کے رویّوں کو برداشت کرنے کے بعد رسولِ اکرم (صلّی اللہ علیہ وآلہ) سے ملاقات کی اور اسلام قبول کر لیا[23]۔ اس نے رسولِ خدا سے بیعت کی کہ اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرے گا اور ہمیشہ حق بات کہے گا، خواہ وہ تلخ ہی کیوں نہ ہو[24]۔

ابوذر اور قبیلے میں اسلام کی تبلیغ

رسولِ اکرم (صلّی اللہ علیہ وآلہ) نے ابوذر کو ہجرت تک اپنے قبیلے میں دین کی تبلیغ کرنے کا حکم دیا؛ لیکن وہ واپس جانے سے پہلے ہی مشرکین کے دباؤ کے ماحول میں توحید کا اعلان کر بیٹھا اور اس پر مشرکین نے سخت تشدد کیا[25]۔ بعد ازاں وہ اپنے علاقے لوٹ گیا۔ اس کی کوششوں سے بنی غفار کے نصف افراد مدینہ کی طرف ہجرت سے پہلے اور باقی نصف ہجرت کے بعد مسلمان ہو گئے[26]۔

بعض روایات کے مطابق اس مدت میں، اور غالباً قریش کے تجارتی قافلوں کے لیے عدمِ تحفظ پیدا کرنے کی رسولِ خدا کی حکمت عملی کے مطابق، ابوذر “ثنیہ غزال” نامی مقام پر قریش کے تجارتی قافلوں کو روکتا اور انہیں دھمکی دیتا تھا، اور صرف اس صورت میں ان کا مال واپس کرتا تھا جب وہ شہادتین کا اقرار کرتے[27]۔

حضرت علی کا ابوذر کی جانب سے لوگوں کو وصیت کرنا

چونکہ ابوذر ہمیشہ امیر المومنین علی (علیہ السلام) کو سب سے پہلے مسلمان ماننے اور ہر لحاظ سے انہیں دیگر تمام افراد پر فوقیت دینے کے قائل تھے[28]، اس لیے وہ لوگوں کو اس امام (علیہ السلام) کی فضیلت کی وصیت کرتے اور ہر مناسب موقع پر اس حقیقت کو بیان کرتے تاکہ تمام لوگوں پر حجت تمام ہو جائے۔

ابن ابی الحدید نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے صحابی ابورافع سے نقل کرتے ہیں: میں ابوذر کی عیادت کے لیے ربذہ کے صحرا میں گیا، جب میں ان سے وداع کر کے واپس جانے لگا تو انہوں نے مجھ سے اور میرے ساتھیوں سے کہا: عنقریب ایک فتنہ برپا ہوگا، لہٰذا خدا سے ڈرو اور اس بزرگ شخص علی بن ابی طالب کا دامن تھامے رکھو اور ان کی پیروی کرو؛ کیونکہ میں نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) کو ان سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:

انت اول من آمن بی، و اول من یصافحنی یوم القیامه، و انت الصدیق الاکبر و انت الفاروق الذی یفرق بین الحق و الباطل، و انت یعسوب المومنین و المال یعسوب الکافرین، و انت اخی و وزیری، و خیر منْ اتْرک بعدی، تفْضی دینی و تنجز موعدی؛

اے علی! آپ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے مجھ پر ایمان لایا، اور قیامت کے دن آپ ہی سب سے پہلے مجھ سے مصافحہ کریں گے، آپ صدیق اکبر اور فاروق اعظم ہیں جو حق و باطل میں تمیز کرتے ہیں، آپ مومنین کے سردار ہیں جبکہ دنیاوی مال کافروں کے سردار ہیں، آپ میرے بھائی اور میرے وزیر ہیں، آپ میرے بعد میرے بہترین جانشین ہیں جو میرے دین کو مکمل کریں گے اور میرے وعدوں کو پورا کریں گے[29]۔

رسول اللہ (ص) کے بعد اور خلفاء کے دور میں ابوذر

رسول اکرم صل الله علیه وآله کے بعد امیر المومنین علی علیہ السلام کی ولایت کے دفاع میں ابوذر کا کردار انتہائی اہم تھا۔ وہ ابوبکر بن ابی قحافہ کی مختصر مدت کی حکومت کے دوران آنحضرت علیه السلام کے مدافعین میں شمار ہوتے تھے۔ عمر کی خلافت کے دوران ابوذر مدینہ چھوڑ کر شام چلے گئے اور بیزانس (مشرقی رومی سلطنت) پر حملے اور قبرص کی فتح جیسی بعض فتوحات میں شریک رہے، اور عثمان کی خلافت تک وہیں مقیم رہے۔ عثمان کے دورِ حکومت میں معاویہ کے ناشائستہ رویوں کی وجہ سے ان کی مخالفت میں شدت آگئی۔

وہ شام میں لوگوں کو امیر المومنین علی علیہ السلام کی ولایت سے آگاہ کرتے رہے؛ یہاں تک کہ شام کے بہت سے لوگ امیر المومنین سے واقف ہو گئے اور بعض تشیع کی طرف مائل ہو گئے۔ جب عثمان کو ان کی حکومت کے خلاف مخالفت اور لوگوں کو حقیقی اسلام سے روشناس کرانے کی ان کی تبلیغات کا علم ہوا، تو انہوں نے معاویہ کو حکم دیا کہ ابوذر کو مدینہ بھیج دے۔ معاویہ نے انہیں ایک دلخراش اور تکلیف دہ حالت میں مدینہ روانہ کیا۔ جب وہ مدینہ پہنچے اور عثمان سے ملے، تو ان پر تنقید کی اور انہیں بیت المال میں اسراف سے باز رہنے کی نصیحت کی۔ وہ اسی رویے پر قائم رہے یہاں تک کہ بالآخر عثمان نے انہیں ربذہ جلاوطن کر دیا۔

رسول اللہ ﷺ نے اس واقعے کے رونما ہونے سے تئیس سال قبل، یعنی غزوہ تبوک کے دوران، اس کی پیش گوئی فرمائی تھی، اور اب اس کے تحقق کا وقت آ گیا تھا۔ ابوذر، یہ بہادر بندۂ خدا، جو حق گوئی اور عدل و انصاف کی دعوت دینے کے جرم میں ربذہ جلاوطن کیے گئے تھے، آہستہ آہستہ اپنی جسمانی طاقت کھوتے گئے اور بسترِ علالت پر گر پڑے۔ وہ اپنی پُر نشیب و فراز زندگی کے آخری لمحات گزار رہے تھے۔ ان کی اہلیہ ان کے نورانی اور کمزور چہرے کو دیکھ رہی تھیں، کڑواہٹ سے رو رہی تھیں اور اپنے شوہر کے پیشانی کے پسینے کے قطروں کو صاف کر رہی تھیں۔ ابوذر نے پوچھا: تم کیوں رو رہی ہو؟

عورت نے جواب دیا: میں اس لیے رو رہی ہوں کہ اب تم مر رہے ہو اور میرے پاس وہ کفن نہیں ہے جس میں تمہاری لاش کو لپیٹ سکوں! ابوذر کے ہونٹوں پر ایک غمگین مسکراہٹ نمودار ہوئی اور انہوں نے کہا: پرسکون رہو! مت رو، میں ایک دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کچھ اصحاب کے ساتھ ان کی موجودگی میں بیٹھا تھا، رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: تم میں سے کوئی ایک شخص کسی صحرا میں تنہا اور آبادی سے دور دنیا سے رخصت ہوگا، اور مومنین کا ایک گروہ اسے دفن کرے گا۔

اس مجلس میں موجود تمام لوگ لوگوں کے درمیان اور آبادیوں میں انتقال کر چکے ہیں اور اب ان میں سے میرے سوا کوئی باقی نہیں رہا، اور مجھے یقین ہے کہ وہ شخص جس کی خبر رسول اللہ ﷺ نے دی ہے، میں ہی ہوں! میری موت کے بعد عراقی حجاج کے راستے پر بیٹھ جانا، زیادہ دیر نہیں گزرے گی کہ مومنین کا ایک گروہ آئے گا، انہیں میری موت کی خبر دے دینا۔ ان کی اہلیہ نے کہا: اب قافلوں کے گزرنے کا وقت گزر چکا ہے، ابوذر نے کہا: تم راستے کی نگہبانی کرو، خدا کی قسم! نہ میں جھوٹ بولتا ہوں اور نہ ہی میں نے جھوٹ سنا ہے۔ یہ کہہ کر ان کی روح فردوسِ بریں کی طرف پرواز کر گئی[30]۔

ابوذر سچ کہہ رہے تھے، مسلمانوں کا ایک قافلہ تیزی سے آ رہا تھا جس میں عبداللہ بن مسعود، حجر بن عدی اور مالک اشتر جیسی عظیم شخصیات شامل تھیں۔ عبداللہ نے دور سے ایک عجیب منظر دیکھا: راستے کے کنارے ایک بے جان لاش پڑی تھی اور اس کے پاس ایک عورت اور ایک چھوٹا بچہ دونوں رو رہے تھے۔ عبداللہ نے اپنی سواری کی لگام ان دونوں کی طرف موڑی، قافلے والے بھی ان کے پیچھے چل پڑے۔ جب عبداللہ نے اس لاش کو دیکھا تو ان کی نظر اسلام میں اپنے دوست اور بھائی ابوذر کے چہرے پر پڑی! ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں، وہ پاکیزہ لاش ابوذر کے پاس کھڑے ہو گئے اور غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی کو یاد کرتے ہوئے کہا: رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا تھا کہ تم تنہا جاؤ گے، تنہا مرو گے اور تنہا ہی قبر سے اٹھائے جاؤ گے[31]۔

پھر عبداللہ بن مسعود نے ان کی لاش پر نمازِ جنازہ ادا کی، پھر انہیں دفن کر دیا گیا۔ جب ان کی تدفین سے فارغ ہوئے تو مالک اشتر ان کی قبر کے کنارے کھڑے ہوئے اور یوں کہا: اے پروردگار! یہ ابوذر، رسول اللہ ﷺ کا ساتھی ہے جس نے پوری زندگی تیری عبادت کی اور تیری راہ میں مشرکوں کے خلاف جہاد کیا، اور کبھی دینِ حق کی پیروی میں اپنا طریقہ اور راستہ نہیں بدلا، لیکن چونکہ اس نے اپنی زبان اور دل سے فساد اور منکر کے خلاف جنگ کی، اس لیے وہ جفا، ظلم، محرومی اور تحقیر کا شکار ہوا اور جلاوطن کر دیا گیا، اور بالآخر سرزمینِ غربت میں تنہا جان دے دی[32]۔

پیمان برادری ابوذر

اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ واقعہ پیمان مؤاخات(عقد اخوت) میں ابوذر کا بھائی کون بنا تھا۔ ابن سعد نے اپنی کتاب 'الطبقات' میں ابوذر کے حوالے سے اس بات کی تردید کی ہے، کیونکہ یہ پیمان جنگ بدر سے قبل آیہ وراثت کے نزول کے ساتھ ختم ہو گئے تھے، اور اس وقت تک وہ مدینہ ہجرت کر کے نہیں آئے تھے۔ اسی بنیاد پر ان کی منذر بن عمر سے بھائی چارے کی روایت کو بھی رد کیا جاتا ہے، جو تیسری ہجری میں غزوہ بئر معونہ کے دوران شہید ہوئے تھے۔ بعض لوگوں نے ان کی بھائی چارے کی نسبت ابن مسعود سے، کچھ نے بلال سے، کچھ نے سلمان سے اور کچھ نے ابودرداء سے بیان کی ہے۔ تاہم، بعض علماء نے علی بن الحسین سے منقول ایک حدیث اور دو دلائل کی روشنی میں ان کی بھائی چارے کی نسبت سلمان فارسی سے درست ثابت کی ہے[33]۔

ابوذر اور سلمان کی بھائی چارہ

ایک معاصر عالم نے امام سجاد (علیہ السلام) سے منقول ایک حدیث اور دو دیگر دلائل کی بنیاد پر ابوذر اور سلمان کی بھائی چارے کو درست قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ابوذر ہجرت کے ابتدائی دنوں سے ہی مدینہ میں موجود تھے[34]۔

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کی وفات کے بعد ابوذر نے علی (علیہ السلام) کی امامت پر ڈٹ کر موقف اپنایا اور امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی تعبیر کے مطابق وہ ان تین افراد میں سے تھے جو رسول خدا کے حکم پر استقامت کے ساتھ قائم رہے[35] اور اپنی پوری زندگی تک دوسروں کو بھی اسی کی تلقین کرتے رہے[36]؛ اسی وجہ سے انہوں نے ابوبکر کی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا[37] اور صحابہ کے بعض دیگر بزرگوں کے ہمراہ علی (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے حق کے حصول کے لیے کھڑے ہوں۔ عمر کے ساتھ ایک موقع پر انہوں نے علی کی حقانیت میں ایک خطبہ بھی دیا[38]۔

وہ خود اس استقامت پر فخر کرتے ہوئے ایک مجمع میں فرماتے تھے: "میں قیامت کے دن تم سب سے زیادہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے قریب ہوگا، کیونکہ میں نے آپ سے سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے: 'قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو دنیا سے اسی حالت میں جائے جیسی حالت میں میں نے اسے چھوڑا ہے۔' خدا کی قسم! تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس نے دنیاوی چیزوں کو چھوڑ دیا ہو، سوائے میرے[39]۔"

پیغمبر کے اہل بیت اور علی علیه السلام سے ان کا یہی تعلق تھا جس کی وجہ سے وہ ان چند منتخب افراد میں شامل تھے جنہوں نے حضرت فاطمہ (علیہا السلام) کی جنازہ کی نماز میں شرکت کی، حالانکہ اس موقع پر پیغمبر کی بہت سی ازواج بھی موجود نہیں تھیں[40]۔

ابوذر اور لبنان میں تشیع

کہا جاتا ہے کہ جب ابوذر شام کے علاقے میں تھے، جو اس وقت موجودہ لبنان کے تمام یا بعض حصوں پر مشتمل تھا، تو انہوں نے معاویہ کی دولت اندوزی کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے تشیع کی تبلیغ کی اور لبنان کے شیعوں کا تشیع قبول کرنا ابوذر کی کاوشوں کا نتیجہ تھا[41]۔

ربذہ کی جلاوطنی

عثمان جو ابوذر کے بار بار کے اعتراضات سے بہت ناراض ہو چکا تھا، نے اس وقت جب وہ نوّے سال کا بوڑھا شخص تھا،[42] اسے «ربذہ» جلاوطن کرنے کا حکم صادر کیا اور حکم دیا کہ کوئی اسے رخصت کرنے نہ جائے۔ کسی میں اس کی جرات نہ تھی، لیکن جب یہ خبر علی (علیہ السلام) تک پہنچی تو وہ اپنے بھائی عقیل اور اپنے بیٹوں حسن و حسین (علیہما السلام) اور رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے بزرگ صحابی عمار یاسر کے ہمراہ ابوذر کو مدینہ کے دروازے تک رخصت کرنے گئے۔ اس عمل کے ذریعے انہوں نے جلاوطنی کے حکم کو چیلنج کیا اور ابوذر کے اقدامات کی توثیق کی[43]۔

کچھ عرصہ ربذہ کے بے آب و گیاہ صحرا میں گزارنے کے بعد، اس نے وہاں ایک مسجد تعمیر کی۔ معاویہ نے اس واقعے کے بعد ابوذر کے اہل خانہ کو بھی شہر سے نکال باہر کیا اور سب ان کے پاس چلے گئے[44]۔

ابوذر حتیٰ کہ ربذہ میں، جو ایک خوفناک جلاوطنی کا مقام اور تپتا ہوا صحرا تھا، اپنے عقیدے اور نظریات پر قائم رہا اور مسلسل امامتِ علی (علیہ السلام) اور سچے اسلام کی حقانیت کا اعلان کرتا رہا[45]۔ ابوذر مدینہ میں بھی خاموش نہ بیٹھا اور عثمان بن عفان سے مخاطب ہو کر کہا: لوگوں سے صرف اس بات پر راضی نہ رہیں کہ وہ ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائیں؛ بلکہ انہیں نیکی کرنے پر مجبور کریں۔ زکوٰۃ ادا کرنے والا صرف ادا کرنے پر اکتفا نہ کرے؛ بلکہ اسے پڑوسیوں اور بھائیوں کے ساتھ احسان کرنا چاہیے اور رشتہ داروں کے ساتھ تعلق جوڑنا چاہیے۔ کعب الاحبار، جو اس مجلس میں موجود تھا، نے ابوذر کے جواب میں کہا: جس نے زکوٰۃ کی فرض ادائیگی کر دی، اس نے اپنا فرض ادا کر دیا اور اب اس پر کوئی ذمہ داری باقی نہیں۔

ابوذر نے اپنی لاٹھی اس کے سر پر ماری اور کہا: اے یہودی کے بیٹے! تجھے کیا اور ایسی باتیں کرنا...[46]! اس کے الفاظ صریح یا تقریباً صریح ہیں کہ وہ تمام اخراجات کو واجب نہیں سمجھتا تھا۔ یہ کہ بعض نے کہا ہے: ابوذر اپنی اجتہاد پر عمل کرتا تھا اور کہتا تھا کہ ضرورت سے زائد مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے، درست نہیں ہے۔ ابوذر کہتا تھا: جو میں کہتا ہوں، اسے میں نے رسول خدا یا اپنے خلیل (ابراہیم علیہ السلام) سے سنا ہے[47]۔

اس کا عثمان پر اعتراض اور دین داری و پرہیزگاری کی حقیقت پر اڑنا، اس کی ربذہ کی جلاوطنی کا سبب بنا؛ ایک ایسی جگہ جسے وہ بالکل پسند نہیں کرتا تھا[48]۔ اس واقعے نے تاریخ اور اسلامی کلام میں بہت سے مباحث کو جنم دیا۔ بعض نے ربذہ جانے کو ابوذر کی اپنی مرضی ظاہر کرنے کی کوشش کی[49]؛ اس تاویل کے ساتھ کہ وہ تنہائی پسند تھا اور صرف اعرابی بننے سے بچنے کے لیے، جسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے برا سمجھا تھا، مدینہ آتا جاتا تھا[50]۔ آلوسی نے اس نکتے کا ذکر کرتے ہوئے کہ ابوذر نے معاویہ کے سامنے ظاہری طور پر آیت سے تمسک کیا اور یہ تصور کیا کہ ضرورت سے زائد تمام مال خرچ کرنا چاہیے، لکھتا ہے: یہ بات شدید اعتراض کا نشانہ بنی اور ابوذر کے خلاف وراثت کی آیت سے استدلال کیا گیا، لہٰذا اس نے مجبوراً گوشہ نشینی اختیار کی اور عثمان سے مشورے کے بعد ربذہ کا رخ کیا اور اپنی زندگی کے آخر تک وہیں رہا[51]۔ اس نقطہ نظر کی ناسازگاری، جو ربذہ جانے کو اختیاری دکھانے کی کوشش کرتی ہے، ان تاریخی حقائق کے ساتھ جو ہر قسم کی آزادی اور اختیار کو مسترد کرتے ہیں، نے کچھ لوگوں کو ابوذر کے عمل پر تنقید اور عثمان کے عمل کی توجیہ پیش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

ابوذر کا زہد اور سادہ زندگی

پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ) کی وفات کے بعد سے لے کر اس دن تک جب اس نے ربذہ کے صحرا میں جان دی، ابوذر کی طرز زندگی اس کے بے مثال زہد و پرہیزگاری کی زندہ گواہ ہے۔ ابوذر ایک وارستہ اور زاہد شخص تھا اور زندگی کی سادگی میں وہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ) کی پیروی کرتا تھا۔ وہ کبھی مال و دولت کے وسوسوں کا شکار نہیں ہوا اور کوئی بھی عامل اسے بہکا کر راستے سے بھٹکا نہیں سکا۔

اس کے زہد و وارستگی کے بارے میں اتنا ہی کافی ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا: جو کوئی عیسیٰ بن مریم کا زہد دیکھنا چاہتا ہے، وہ ابوذر کے زہد کو دیکھے[52]۔ بلاشبہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے اقوال اور طرز زندگی نے اس کے زہد و وارستگی کی تکمیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ابوذر خود پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) سے نقل کرتا ہے کہ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جسے میرے بعد دنیاوی دولت آلودہ نہ کرے اور وہ دنیا سے اسی حالت میں جائے جیسی میرے زمانے میں تھی[53]۔

ابوذر کی وفات

بالآخر ابوذر ربذہ میں، جو تاریخ کے دوران حج کے قافلوں کے ٹھکانوں میں سے ایک تھا[54]، تنہائی اور سختی میں، جیسا کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے خبر دی تھی[55]، اپنی بیوی یا اپنی اکلوتی بیٹی کے پہلو میں ۳۲ ہجری میں انتقال کر گیا[56]۔ اسے عراق سے آنے والے ایک قافلے نے، جس میں ابن مسعود اور کچھ دیگر اصحاب شامل تھے، غسل و کفن دیا[57]۔ مالک اشتر نے اس پر نماز پڑھائی[58] اور اسے وہیں دفن کر دیا گیا[59]۔ اب اس کی قبر کا کوئی نشان باقی نہیں رہا[60]۔ پہلے ابوذر کے نام سے ایک مسجد تھی جو گویا اسی جگہ واقع تھی جہاں اس کی قبر تھی[61]۔ ربذہ میں اس کی زیارت مستحبات میں شمار کی گئی ہے[62]۔ اس کی کوئی نسل باقی نہیں رہی[63]۔

حضرت ابوذر غفاری کی عظمت کے لیے یہی بس کہ سردارانِ جنت انہیں "چچا" کہہ کر پکارتے تھے

علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا: ابوذر غفاری نے حق و صداقت کی راہ میں لاتعداد مشکلات کا سامنا کیا، ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ علم و کمال کے سبب بے شمار احادیث نبوی (ص) کے راوی قرار پائے۔

ختمی مرتبت (ص) کا دفاع و تحفظ اور ان کی رحلت کے بعد صداقت کا علم بلند کرنے والوں میں حضرت ابوذر غفاری پیش پیش رہے۔ حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 5 ذی الحجہ یوم وفات صحابی رسول اکرم (ص) حضرت جندب ابن جنادہ ابوذر غفاری کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا:

جناب ابوذر غفاری کے نظریات اور افکار انتہائی پختہ تھے، وہ اپنی مثال آپ تھے اور حضرت ابوذر غفاری کی عظمت ہے کہ سرداران جنت حضرات حسنین کریمین آپ کو چچا کہہ کر پکارتے تھے۔

انہوں نے کہا: حضرت ابوذر غفاری دین اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہو کر خود خدمت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا۔ انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قدر و منزلت اور فضیلت و مقام کو سب پر واضح اور آشکار کیا اور اسی پاداش میں مختلف قبائل کی جانب سے ظلم و تشدد کی طویل اور صبر آزما صعوبتیں تو برداشت کیں لیکن پایہ استقلال میں ذرا لغزش نہ آئی۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا: تاریخ اسلام شاہد ہے کہ اعلان رسالت کے بعد اولین ایام میں جن مصائب و مشکلات سے مسلمان دوچار رہے ان کا جرات و بہادری اور دلیری سے مقابلہ کرنے والوں اور ختمی مرتبت کا دفاع و تحفظ اور ان کے رحلت کے بعد صداقت کا علم بلند کرنے والوں میں حضرت ابوذر غفاری پیش پیش رہے۔

انہوں نے مزید کہا: حضرت ابوذر غفاری کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ علم و کمال کے سبب بے شمار احادیث نبوی (ص) کے راوی قرار پائے، ان کی حق و سچ کے اظہار میں بے باکی اور بے خوفی کی وجہ سے انہیں یہ سند امتیاز عطا ہوئی

کہ حدیث پیغمبر (ص) میں ان کے متعلق وارد ہوا ہے کہ "زمین نے کسی ایسے شخص کو اپنے اوپر اٹھایا نہیں اور آسمان نے اس پہ سایہ نہیں کیا جو ابوذر سے زیادہ سچا ہو"۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا: وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قربت کی وجہ سے پختہ نظریات کے حامل تھے، خاص کر معاشی و سیاسی حوالے سے وہ ایک واضح نقطہ نگاہ رکھتے تھے، کسی محل کے گرد چکر لگایا کرتے تھے اور آیہ کریمہ تلاوت کرتے رہتے

جس کا ترجمہ یہ ہے کہ "اور جو لوگ سونا چاندی ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے۔ جس روز وہی مال آتش جہنم میں تپایا جائیگا اسی سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پشتیں داغی جائیں گی (اور ان سے کہا جائیگا)

یہ ہے وہ مال جو تم نے اپنے لئے ذخیرہ کر رکھا تھا لہذا اب اسے چکھو جسے تم جمع کیا کرتے تھے [64]۔

انہوں نے کہا: حضرت اباذر غفاری کے نظریات پر اسلامی اسکالرز نے متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب "الاشتراکی الزاہد" یعنی "سوشلسٹ پرہیزگار" کے نام سے بھی شائع ہوئی۔ ان کے نظریات کیلئے ان کتب سے بھی استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا: حضرت ابوذر غفاری کو حق و صداقت کی راہ میں لاتعداد مشکلات جن میں سماجی بائیکاٹ حتیٰ کہ کئی بار جلاوطنی جیسے مصائب جھیلنے پڑے اور اسی جلاوطنی کے دوران کمسن دختر کے ہمراہ مدینہ سے فاصلے پر ربذہ کے مقام پر عالم مسافرت میں اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔

ان کی نماز جنازہ مشہور صحابی مالک اشتر نے پڑھائی جو قافلہ کے ساتھ وہاں سے گزر رہے تھے۔ اس عظیم المرتبت صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جلا وطن کر کے جس خطے میں بھیجا گیا وہاں کے لوگ آج بھی سامراجی طاقتوں اور ان کے آلہ کاروں کے مظالم کے خلاف نبرد آزما ہیں[65]۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. اعیان الشیعہ، ج ۴، ص ۲۲۵.
  2. الاستیعاب، ج ۱، ص ۲۵۲.
  3. مشاہیر علماء الامصار، ص ۳۰؛ الثقات، ج ۳، ص ۵۵؛ تقریب التہذیب، ج ۲، ص ۳۹۵.
  4. الاصابہ، ج ۷، ص ۱۰۷.
  5. طبقات کبری، ج ۴، ص ۲۳.
  6. الاستیعاب، ج ۴، ص ۱۶۵۲.
  7. اسد الغابہ، ج ۵، ص ۱۸۶؛ تهذیب الکمال، ج ۳۳، ص ۲۹۴؛ سیر اعلام النبلاء، ج ۲، ص ۴۹؛ اعیان الشیعہ، ج ۴، ص ۲۲۵.
  8. الاستیعاب، ج ۴، ص ۱۶۵۲.
  9. الکافی، ج ۳، ص ۲۵۔
  10. شرح نہج البلاغہ، ج ۱۵، ص ۹۹۔
  11. ابن سعد، محمد بن سعد، طبقات الکبریٰ، ترجمہ ڈاکٹر محمود مہدوی دامغانی، انتشارات فرہنگ و اندیشہ، ۱۳۷۴، ج ۴، ص ۲۰۱۔
  12. ابن سعد، محمد بن سعد، الطبقات الکبریٰ، انتشارات فرہنگ و اندیشہ، ۱۳۷۴، ج ۴، ص ۱۶۶۔
  13. جودہ السحّار، عبدالحمید، ابوذر غفاری خداپرست سوشلسٹ، ترجمہ ڈاکٹر علی شریعتی، مشہد، چاپ خانۂ طوس، ص ۳۶۔
  14. الکافی، ج ۸، ص ۲۹۷۔
  15. الطبقات، ج ۴، ص ۱۶۷۔
  16. صحیح مسلم، ج ۸، ص ۳۶۰؛ الکافی، ج ۸، ص ۱۶۸۔
  17. تفسیر ابن ابی حاتم، ج ۱۰، ص ۳۲۴۹؛ الدر المنثور، ج ۵، ص ۳۲۴۔
  18. الطبقات، ج ۴، ص ۱۶۹؛ اسد الغابہ، ج ۱، ص ۳۵۷۔
  19. تاریخ یعقوبی، ج ۲، ص ۲۳؛ الاستیعاب، ج ۱، ص ۲۵۲۔
  20. شواہد التنزیل، ج ۱، ص ۳۳۵۔
  21. شواہد التنزیل، ج ۱، ص ۳۳۵۔
  22. المستدرک، ج ۳، ص ۳۳۹؛ مجمع الزوائد، ج ۹، ص ۳۲۷۔
  23. الطبقات، ج ۴، ص ۱۶۹؛ صحیح مسلم، ج ۷، ص ۱۵۵۔
  24. تاریخ دمشق، ج ۶۶، ص ۱۷۶؛ اسد الغابہ، ج ۱، ص ۳۵۷۔
  25. الطبقات، ج ۴، ص ۱۷۰؛ الاستیعاب، ج ۴، ص ۲۱۷۔
  26. الطبقات، ج ۴، ص ۱۶۷؛ تاریخ الاسلام، ج ۱، ص ۱۶۹۔
  27. الطبقات، ج ۴، ص ۱۶۷-۱۶۸؛ انساب الاشراف، ج ۱۱، ص ۱۲۵۔
  28. تہذیب التہذیب، ج ۱۰، ص ۱۰۱؛ مستدرک حاکم، ج ۳، ص ۳۸۴؛ معرفۃ الصحابۃ، ج ۱، ص ۴۵۷ اور ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ، ج ۱۳، ص ۲۲۴ میں ابوذر کو چوتھا مسلمان قرار دیا ہے اور لکھتے ہیں: تمام محدثین کا کہنا ہے کہ ابوبکر ایک گروہ مردوں کے بعد مسلمان ہوئے ہیں، وہ ایمان کی ترتیب کے اعتبار سے سات افراد کے نام یوں گنواتے ہیں: علی بن ابی طالب؛ جعفر بن ابی طالب؛ زید بن حارثہ؛ ابوذر غفاری؛ عمرو بن عنبسہ سلمی؛ خالد بن سعید بن عاص؛ خباب بن ارت اور کہتے ہیں: ابوبکر ان لوگوں کے بعد مسلمان ہوئے ہیں۔
  29. شرح ابن ابی الحدید، ج ۴، ص ۱۱۶۔
  30. ابن اثیر، اسدالغابہ، ج1، ص302
  31. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج 4، ص232-234
  32. سید علی خان مدنی، الدرجات الرفیعہ، ص252
  33. ناصر گذشته (۲۱ خرداد ۱۳۹۹). ابوذر غفاری. مرکز دائره المعارف بزرگ اسلامی.
  34. عاملی، جعفر مرتضی، الصحیح من سیرة‌النبی، ج‌۴، ص‌۲۴۴.
  35. کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، ج‌۸‌، ص‌۲۴۵
  36. طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج، ج‌۱، ص۲۲۵.
  37. یعقوبی، احمد بن ابی یعقوب، تاریخ یعقوبی، ج‌۲، ص‌۱۲۴.
  38. شیخ صدوق، محمد بن علی، خصال، ج۲، ص۴۶۱-۴۶۳.
  39. ابن سعد، محمد بن سعد، الطبقات، ج‌۴، ص‌۱۷۳.
  40. یعقوبی، احمد بن ابی یعقوب، تاریخ یعقوبی، ج‌۲، ص‌۱۱۵.
  41. خدمات متقابل اسلام و ایران نویسنده: مرتضی مطهری، جلد: 1 صفحه: 503.
  42. مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، بیروت، داراحیاء التثرات العربی، ۱۴۰۳ ہجری قمری، ج۲۲، ص۴۳۶۔
  43. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، بیروت، داراحیاء اتراث العربی، ۱۹۶۵ء، ج۸، ص۲۵۲۔
  44. طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۳، ص۳۳۶۔
  45. آل الفقیہ، شیخ محمدجواد، ابوذر غفاری (وجدان بیدار آدمیت)، ترجمہ ہوشنگ اجاقی، نشر آفاق، ص۹۷۔
  46. طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۳، ص۳۳۶۔
  47. طباطبائی، محمدحسین، المیزان، ج۹، ص۲۵۸-۲۶۱۔
  48. مسعودی، ابوالحسن علی بن الحسین، مروج الذهب، ج۲، ص۳۷۵-۳۷۷۔
  49. ابن اثیر، عزالدین علی، الکامل، ج۳، ص۱۱۵۔
  50. طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۳، ص۳۳۶۔
  51. آلوسی، محمود بن عبداللہ، روح المعانی، ج۶، ج۱۰، ص۱۲۷۔
  52. ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، ج۴، ص۲۲۸۔
  53. حلیۃ الاولیاء، ج۱، ص۱۶۲۔
  54. الاخبار الطوال، ص۳۸۵؛ معجم البلدان، ج۳، ص۲۴؛ المنتظم، ج۱۱، ص۳۲۰۔
  55. المغازی، ج۳، ص۱۰۰۱۔
  56. تاریخ طبری، ج۳، ص۳۵۴۔
  57. تاریخ طبری، ج۳، ص۳۵۴۔
  58. رجال کشی، ج۱، ص۲۸۲۔
  59. المعجم الکبیر، ج۶، ص۱۲۶؛ تفسیر قمی، ج۱، ص۲۹۶؛ معجم البلدان، ج۳، ص۲۴۔
  60. مجمع البحرین، ج۲، ص۱۳۱، «ربذ»؛ اعیان الشیعہ، ج۴، ص۲۲۵۔
  61. المناسک، ص۳۲۷۔
  62. بحار الانوار، ج۹۷، ص۲۲۲؛ ج۹۹، ص۲۷۹؛ جواہر الکلام، ج۲۰، ص۱۰۳۔
  63. جمہرۃ انساب العرب، ص۱۸۶۔
  64. سورۂ توبہ آیۂ 34
  65. حضرت ابوذر غفاری کی عظمت کے لیے یہی بس کہ سردارانِ جنت انہیں "چچا" کہہ کر پکارتے تھے- شائع شدہ از: 21 مئی 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 21 مئی 2026ء