گاندھی ہسپتال پر حملہ

گاندھی ہسپتال پر حملہ امریکہ اور اسرائیل کے جرائم میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ہسپتال شہر تہران میں واقع ایک نجی اور ہوٹل نما طبی مرکز ہے جو گاندھی اسٹریٹ پر واقع ہے۔ یہ ہسپتال سنہ 1392 ھ ش میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا مقصد طبی خدمات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ صحت سیاحت کو فروغ دینا اور ایران میں سیاحتی صنعت کی ترقی میں کردار ادا کرنا تھا۔ جنگ رمضان کے دوران تہران پر فضائی حملے میں اس طبی مرکز کو شدید نقصان پہنچا اور اس کے اہم شعبے غیر فعال ہو گئے۔
تاریخچہ اور قیام
گاندھی ہسپتال ایران کے دارالحکومت کی گاندھی اسٹریٹ میں واقع ہے۔ اس مرکز کے قیام کا بنیادی مقصد طبی خدمات کو ہوٹلنگ کے معیار کے ساتھ یکجا کرنا تھا تاکہ اعلیٰ معیار کی علاجی سہولیات فراہم کی جا سکیں اور ساتھ ہی صحت کے سیاحوں کو بھی متوجہ کیا جا سکے۔
یہ ہسپتال جدید معیار کے مطابق تعمیر کیا گیا اور ہوٹل اور طبی شعبوں کی تکمیل کے بعد سنہ 1392 ھ ش میں باقاعدہ طور پر فعال ہوا۔
ساخت اور طبی شعبے
یہ طبی مرکز متعدد تخصصی اور فوق تخصصی شعبوں پر مشتمل ہے جو وسیع پیمانے پر طبی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ اس ہسپتال کے اہم شعبے درج ذیل ہیں:
- جنرل آئی سی یو (ICU) اور سی سی یو (CCU)؛
- یورولوجی، آرتھوپیڈکس اور نیورو سرجری کے شعبے؛
- شعبۂ امراضِ نسواں و زچگی اور NICU (نوزائیدہ بچوں کی انتہائی نگہداشت)؛
- کارڈیالوجی، نیورولوجی اور نفسیات کے شعبے؛
- جنرل سرجری اور اطفال کا شعبہ؛
- آنکولوجی، نیفرولوجی اور فک و صورت (جبڑا و چہرہ) کے شعبے؛
- جنرل میڈیسن اور ENT (کان، ناک اور گلا) کا شعبہ۔
اس کے علاوہ ایک علیحدہ عمارت بطور آؤٹ پیشنٹ کلینکس بھی موجود تھی جس میں فزیوتھراپی، امیونولوجی، گردہ، دل، گیسٹروانٹرولوجی اور دیگر تخصصی خدمات فراہم کی جاتی تھیں[1]۔
فضائی حملہ اور ہونے والے نقصانات
صہیونی۔امریکی جنگ کے دوران تہران پر فضائی حملوں میں گاندھی ہسپتال اور اس کے اطراف کی رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ عینی مشاہدات اور شائع شدہ رپورٹوں کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں طبی بنیادی ڈھانچے کی وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی اور جانی و نفسیاتی نقصانات بھی ہوئے[2]۔
نقصانات کی تفصیلات
رپورٹوں کے مطابق حملہ ’’منزل بہ منزل‘‘ کیا گیا تھا:
- نوزائیدہ بچوں کا شعبہ اور NICU شدید متاثر ہوئے؛
- اینجیوگرافی کے آلات اور آئی وی ایف (لیبارٹری فرٹیلائزیشن) کا شعبہ، جہاں جنین محفوظ کیے جاتے تھے، تباہ ہو گیا؛
- دل اور گردے کی سرجری کے آپریشن تھیٹر دھماکوں کے باعث بڑے بڑے سوراخوں کا شکار ہو گئے؛
- خاص بیماریوں کے مریضوں کا شعبہ اور آکسیجن سلنڈروں کے ساتھ بستروں کا حصہ ملبے تلے دب گیا؛
- ہسپتال کے ایئر ہینڈلنگ سسٹم اور خدماتی بنیادی ڈھانچے ناکارہ ہو گئے جس کے نتیجے میں بستری اور علاجی خدمات معطل ہو گئیں۔
ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق آئی وی ایف شعبے میں موجود باقی ماندہ جنینوں کو فریزنگ ٹینکوں میں منتقل کر دیا گیا، تاہم اس شعبے کا مجموعی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔
انسانی اور نفسیاتی اثرات
گاندھی ہسپتال پر حملے نے طبی مراکز کی مبینہ مصونیت کے دعوے کو نقض کر دیا۔ سیڑھیوں کے کناروں پر چھوڑ دی گئی وہیل چیئرز اور فارمیسی کی تباہی اس حملے کی اچانک اور شدید نوعیت کی عکاسی کرتی ہے۔ تقریباً 20 مریض بحران کے دوران بے یار و مددگار ہو گئے جبکہ سینکڑوں مریض اور ان کے تیماردار شدید نفسیاتی صدمے کا شکار ہوئے۔ اطراف کی رہائشی عمارتیں بھی متاثر ہوئیں جس کے باعث رہائشیوں کو زبردستی نقل مکانی کرنا پڑی[3]۔
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
- ↑ بیمارستان گاندی، ویب سائٹ تابناک(زبان فارسی) درج شده تاریخ ... اخذشده تاریخ: ۲۲/ اپریل/ ۲۰۲۶ء.
- ↑ گاندھی ہسپتال اور چند رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان، ویب سائٹ خبرگزاری ایرنا( زبان فارسی) درج شده تاریخ: ۴/ مارچ/ ۲۰۲۶ء اخذشده تاریخ: ۲۲/ اپریل/۲۰۲۶ء.
- ↑ منزل بہ منزل گاندھی ہسپتال کی تباہی کا مرثیہ، ویب سائٹ خبرگزاری مہر( زبان فارسی) درج شده تاریخ: ۱/مارچ/ ۲۰۲۶ء اخذشده تاریخ: ۲۲/ اپریل/ ۲۰۲۶ء.