مندرجات کا رخ کریں

پوپ رابرٹ ایف

ویکی‌وحدت سے
پوپ رابرٹ پری ووٹ
پورا نامپوپ رابرٹ پری ووٹ
دوسرے ناملیو چهاردهم
ذاتی معلومات
پیدائش1333 ش، 1955 ء، 1373 ق
یوم پیدائش14 ستمبر
پیدائش کی جگہامریکہ شیکاگو
مذہبمسیحی، کیتھولک
مناصبواٹیکن میں اسقفوں کی کونسل کی سربراہی، چی کلیاو (پیرو) کا اسقف، 2014ء سے 2023ء تک، آگسٹینیائی مذہبی فرقے کا سربراہ یا "پریور جنرل"، مذہبی تبلیغ کرنے والا اور پیرو کا آرچ بشپ (اسقف اعظم)

پوپ رابرٹ پری ووٹ ، جس کا مذہبی نام "لیو چهاردہم" ہے، اور جو امریکی-پیرووی شہریت رکھتا ہے، کیتھولک چرچ کا موجودہ پوپ اور واٹیکن سٹی کا حکمران ہے۔ وہ 21 اپریل 2025ء کو پوپ فرانسس کی وفات کے بعد 8 مئی 2025ء کو منتخب ہوئے، جو کہ کارڈینلز کے خفیہ اجلاس (کنکلاو) کے دوسرے دن سیسٹائن چرچ کے دھواں نکلنے والے پائپ سے سفید دھواں کے ذریعے اعلان کیا گیا تھا۔

واٹیکن میں اسقفوں کی کونسل کی سربراہی، چی کلیاو (پیرو) کا اسقف، 2014ء سے 2023ء تک، آگسٹینیائی مذہبی فرقے کا سربراہ یا "پریور جنرل"، مذہبی تبلیغ کرنے والا اور پھر پیرو کا آرچ بشپ، اس کے پیشے میں شامل ہیں۔ پوپ لیو چهاردهم ایک معتدل شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے، جو چرچ میں قدامت پسند اور لیبرل رجحانات کے درمیان پل بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اپنی پہلی تقریر میں، اس نے امن اور اتحاد پر زور دیا اور کہا: " آپ سب کے ساتھ امن رہیں "

سوانح عمری

رابرٹ پری ووٹ ، جس کا مذہبی نام "لیو چهاردهم" ہے، 14 ستمبر 1955 کو شکاگو، امریکہ میں پیدا ہوا۔ وہ امریکی شہریت کے ساتھ ساتھ پیرو کا بھی شہری ہے، جہاں اس نے کئی سال مذہبی مبلغ اور پھر اسقف اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس دوہری ثقافتی تجربے کو اس کی خاص خصوصیت سمجھا جاتا ہے اور یہ اس کی انفرادیت کو نمایاں بناتا ہے، جس نے کارڈینلز کے درمیان اس کی منفرد شناخت کو جنم دیا ہے۔

سابقه فرایض

  • 8 مئی 2025ء تک کیتھولک چرچ کا پوپ اور واٹیکان سٹی کا حکمران۔
  • واتیکان میں اسقفوں کے معاملات کی کمیٹی کا سربراہ۔
  • 2014ء سے 2023ء تک پیرو کے شہر چکلائو کا اسقف۔
  • آگسٹین مذہبی فرقے کا سربراہ۔
  • پیرو میں مذہبی مبلغ اور اسقف اعظم۔[1]

پوپ فرانسس کا ان پر اعتماد

رابرٹ پری ووٹ کو پاپ فرانسیس نے 2023ء میں کو ویٹیکن طلب کیا اور انہیں "اسقفوں کے امور کی کونسل" کا سربراہ مقرر کیا۔ یہ تقرری پوپ فرانسیس کے اس پر گہرے اعتماد اور ویٹیکن کے فیصلہ سازی کے ڈھانچے میں اس کی اہم حیثیت کا ثبوت تھی۔

بڑا چیلنج

امریکا کیِ جغرافیائی سیاسی طاقت، پوپ کے انتخاب میں ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ تاہم، اطالوی میڈیا نے پرووسٹ کو “کم سے کم امریکی باشنده ” کا خطاب دیا ہے۔ پیرو میں طویل عرصے تک رہنے اور خدمت کرنے اور اس ملک کی شہریت رکھنے سے انہیں ایک زیادہ عالمگیر شخصیت عطا ہوئی ہے اور اس چیلنج کو کم کر دیا ہے۔

عالمی سطح پر قیادت کا تجربه

پرووسٹ اس سے پہلے، دو مرتبہ بطورِ رهنمای کل یا «پریور جنرل» آگوستینیان مذہبی فرقہ کے سربراه منتخب ہوئے تھے۔ یہ فرقہ، جو کہ سن ۱۳۳۰ میں سینٹ آگوستین نے قائم کیا تھا، ایک عالمی مذہبی تنظیم میں قیادت کا یہ سابقہ تجربہ، ان کے لیے ویکٹین کے پیچیدہ امور کو سنبھالنے کے لیے قیمتی تجربہ فراہم کرتا ہے اور انہیں منفرد بناتا ہے۔ ان کی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ آگوستینیان تبلیغی ٹیموں کے تحت رہا، جہاں انہوں نے اپنی کثیرالجہتی کارکردگی اور درمیانی راہ اختیار کرنے کی صلاحیت سے، خاص طور پر اُس وقت کے لیفٹ-

گراینگ اسقفوں کے درمیان، جن کا رجحان «آزادیاتی الہیات» کی جانب تھا، اور «اپوس ڈیئی» کے اثر و نفوذ میں محافظین کے بیچ، شہرت اور وقار حاصل کیا۔ اس نے انہیں توازن برقرار رکھنے میں مدد دی۔

ویٹیکن میں "اسقفوں کے امور کی کونسل" کا انتظام

انہوں نے حالیہ دو سالوں میں ویٹیکن میں "اسقفوں کے امور کی کونسل" کو مضبوطی سے چلا کر ایک موثر مینیجر کے طور پر اپنی ساکھ کو مضبوط کیا ہے اور اس پوزیشن نے انہیں کیتھولک چرچ کے عالمی درجہ بندی کے ساتھ براہ راست رابطے میں رکھا ہے اور ان کے لیے ایک وسیع نیٹ ورک بنایا ہے۔

پاپ فرانسیس کے اصلاحات کے وارث کا انتخاب

پروسٹ کا انتخاب پاپ فرانسیس کی میراث کو مضبوط بنانے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اس میں زیادہ توجہ پرسکون اور انتظامی صلاحیتوں پر ہوگی، نہ کہ کاریزماتی جوش و جذبے پر۔ یہ نقطہ نظر، اصلاحات کی مستقل مزاجی اور تسلسل کی تلاش میں موجودہ کارڈینلز کے لیے، یقینی اور حوصلہ افزا انتخاب ثابت ہو سکتا ہے۔

نئی سوچ اور جدت پسندی

وہ روم میں اپنی ذمہ داری کے دوران، اگرچہ عوام کے سامنے کم نمایاں رہے، لیکن پوپ فرانسس کے ایک انقلابی اصلاحات میں اہم کردار ادا کیا: اس نے اس کمیٹی میں تین خواتین کا اضافہ کیا جو پوپ کو اسقفی امیدواروں کی تجویز کرنے کے بارے میں فیصلہ کرتی ہیں۔ یہ اقدام ان کی وسیع نظریں اور نئے دور کی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ پرووسٹ کی نسبتاً کم عمر اور طویل زمانے تک پوپ رہنے کے امکانات کے بارے میں تشویشوں کے باوجود، زیادہ تر انتخابی کارڈینلز نے ان خدشات کو نظر انداز کیا۔ امریکہ سے پہلے پوپ کے طور پر ان کا انتخاب، کیتھولک چرچ کے لیے ایک تاریخی تبدیلی ہے، اور مسیحی دنیا، مستقبل کو دلچسپی سے دیکھے گی۔[2]

کیتھولک چرچ کے سربراه اور واٹیکن شہر کی ریاست

پوپ فرنسس کے انتقال کے بعد، ۲۱ اپریل ۲۰۲۵ء کو، رابرٹ فرانسیس پرووسٹ کو کیتھولک چرچ کے سربراه اور واٹیکن شہر کے حاکم کے طور پر ۸ مئی ۲۰۲۵ء کو منتخب کیا گیا۔ یہ انتخاب اس وقت ہوا جب سیسٹائن چپل کے دھوئیں سے سفید دھواں نکلا، جو اس بات کی علامت ہے کہ کارڈینلز نے رازدارانہ اجلاس (کنکلاو) کے دوسرے دن اتفاق رائے پیدا کر لیا ہے۔ اس اجلاس میں ۱۳۳ منتخب کارڈینلز شریک تھے، جو تمام واٹیکن میں قرنطینے میں تھے۔ پوپ کا انتخاب کرنے کے لیے، ہر امیدوار کو دو تہائی ووٹ حاصل کرنے کی ضرورت تھی۔[3]

ایرانی وزیر ثقافت کی ویٹی کن میں پوپ لیو چہاردہم سے ملاقات

ایرانی وزیر ثقافت نے ویٹی کن میں پوپ لیو چہاردھم سے ملاقات کی اور ایرانی قوم کا پیغام پہنچایا۔ مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، ایرانی وزیر برائے ثقافتی ورثہ و سیاحت سید رضا صالحی امیری نے ویٹی کن میں کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو چہاردہم سے ملاقات کی اور ایرانی قوم کا پیغام ان تک پہنچایا۔ ایرانی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ ایران اس حقیقت پر یقین رکھتا ہے کہ تمام الہٰ ادیان ایک ہی سچائی میں جڑے ہوئے ہیں، اور وہ سچائی انسانیت کے لیے عزت، محبت اور امن کا پیغام دیتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا پیغام سیاست سے بالاتر اور تہذیب و ثقافت پر مبنی ہے۔ ملاقات کے دوران پوپ لیو چہاردہم نے ایرانی تاریخ و ثقافت کو سراہتے ہوئے کہا کہ جب کوئی ایمان احترام اور مکالمے کی زبان میں بات کرتا ہے تو وہ ایک بہتر مستقبل کی ازسرنو تعمیر کرسکتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پوپ لیو چہار دہم، جن کا اصل نام کارڈینل پریووست ہے، 10 مئی کو دو روزہ مشاورت اور ووٹنگ کے بعد مرحوم پوپ فرانسس کے جانشین کے طور پر منتخب ہوئے۔ 69 سالہ نئے پوپ شکاگو، امریکہ سے تعلق رکھتے ہیں اور کیتھولک چرچ کی قیادت سنبھالنے والے پہلے امریکی ہیں۔

کارڈینل کی حیثیت سے انہوں نے لاطینی امریکہ میں کئی سال خدمات انجام دیں، جن میں پیرو کے شہر تروخیو میں ایک دہائی اور 2014 سے 2023 تک چکلایو کے بشپ کی حیثیت سے خدمات شامل ہیں[4]۔

نوٹس

کاردینل، ایک رسمی مذہبی عہدہ ہے اور کیتھولک مذہب میں پوپ کے بعد سب سے اعلیٰ عہدہ ہے۔ کارڈینلز سرخ رنگ کا لباس اور سرخ رنگ کی ٹوپی پہنتے ہیں۔ کارڈینلز کا فرض بھی پوپ کے انتخاب کا ہے۔ مذہبی عہدوں کی ترتیب، طاقت کے لحاظ سے، یہ ہے:

  1. پوپ
  2. کارڈینل
  3. آرچ بشپ
  4. بشپ
  5. پادری
  6. ڈیکون یا شماس[5]

لیو چہاردہم، کیتھولک چرچ کے دو سو سڑسٹھویں پوپ ہیں

لیو چہاردہم (پاپا لیو XIV) کا انتخاب 8 مئی 2025 کو کیتھولک چرچ کے دو سو سڑسٹھویں پوپ کے طور پر ہوا۔ اُن کا انتخاب کیتھولک چرچ کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ ایک امریکی شہری کا پوپ بننا ایک تاریخی قدم سمجھا جاتا ہے۔ ماضی میں ایک امریکی کو پوپ بنائے جانے کے حوالے سے سیاسی اور ثقافتی خدشات پائے جاتے تھے، اس لیے یہ انتخاب ایک بڑی حد تک ’’تابو شکنی‘‘ تصور ہوتا ہے۔

پاپا لیو XIV — امریکی نژاد پہلا پوپ

رابرٹ فرانسس پرووسٹ، جو اب پاپا لیو چہاردہم کے نام سے جانے جاتے ہیں، 8 مئی کو کیتھولک چرچ کے دو سو سڑسٹھویں پوپ منتخب ہوئے۔ اس کے ساتھ وہ کیتھولک تاریخ کے پہلے پوپ بن گئے جو ریاستہائے متحدہ میں پیدا ہوئے تھے۔

اگرچہ وہ کلیسا میں طویل عرصے سے خدمات انجام دے رہے تھے اور ویٹیکن میں اہم عہدوں پر فائز رہ چکے تھے، مگر پوپ بننے سے پہلے وہ نسبتاً غیر معروف شخصیت تھے۔

سیاست اور ثقافت کی رکاوٹوں کا ٹوٹنا

اگرچہ حالیہ انتخابی کونکلیو (مجمع) میں شرکت کرنے والے 133 کارڈینلز میں سے 10 امریکہ سے تعلق رکھتے تھے، پھر بھی طویل عرصے تک یہ خیال عام تھا کہ کسی امریکی کو پوپ نہیں بننا چاہیے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ اندیشہ تھا کہ اگر کسی سپر پاور ملک سے پوپ منتخب کیا گیا تو اسے مذہبی کے بجائے سیاسی یا ثقافتی زاویے سے دیکھا جائے گا۔ مگر یہ تاریخی رکاوٹ جمعرات کی شام ٹوٹ گئی۔

شکاگو سے ویٹیکن تک کا سفر

رابرٹ فرانسس پرووسٹ 14 ستمبر 1955 کو امریکہ کی ریاست الی نوائے کے شہر شکاگو میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد، لوئس ماریئس پرووسٹ، بحریہ کے سابق فوجی اور ایک تعلیمی ادارے کے منتظم تھے۔

والدہ، ملڈرڈ مارٹینیز، ہسپانوی نژاد کتب خانہ کی ماہر اور چرچ کی سرگرم رکن تھیں۔ وہ اپنے دو بھائیوں — لوئس مارٹن اور جان جوزف — کے ساتھ ایک مذہبی اور کثیرالثقافتی خاندان میں پروان چڑھے۔

پرووسٹ نے اعلیٰ تعلیم کا آغاز ریاضی کے مضمون سے ویلانووا یونیورسٹی میں کیا اور 1977 میں بیچلر ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں اُنہوں نے الٰہیات (تھیالوجی) اور کلیسائی قانون کی تعلیم کا انتخاب کیا۔

انہوں نے شکاگو کے کاتھولک تھیالوجیکل یونین سے تعلیم حاصل کی اور پھر روم جا کر سینٹ تھامس ایکویناس پیپل یونیورسٹی سے کلیسائی قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری مکمل کی۔

انہوں نے 1977 میں اگسٹینی فرقے میں شمولیت اختیار کی، 1981 میں دائمی نذر عہد کی، اور 19 جون 1982 کو روم میں بشپ ژاں جادو کے ہاتھوں قسیس (پادری) بنے۔ وہ پانچ زبانوں: انگریزی، ہسپانوی، اطالوی، فرانسیسی اور پرتگالی پر مکمل عبور رکھتے ہیں۔

پیرو میں خدمات اور اگسٹینی فرقہ

پرووسٹ نے 1985 سے 1998 اور پھر 2010 کی دہائی میں مجموعی طور پر دو دہائیاں پیرو میں خدمات انجام دیں۔

انہوں نے تروخیو کے سیمنری میں کلیسائی قانون، ابتدائی کلیسائی باپوں کی الٰہیات، اور مسیحی اخلاقیات کی تدریس کی۔ وہ کلیسائی عدالت میں بھی سرگرم رہے اور ’’کاریتاس پیرو‘‘ (کیتھولک چرچ کی فلاحی تنظیم) کے ساتھ سماجی کاموں میں شریک رہے۔

نومبر 2014 میں پوپ فرانسس نے اُنہیں چی کلایو کا بشپ مقرر کیا اور 12 دسمبر کو ان کی تقرری کی رسم کلیسائے اعظم ’’سینٹ میری‘‘، چی کلایو میں ادا کی گئی۔

اس دوران انہیں پیرو کی شہریت بھی ملی اور عوامی خدمت و مقامی ثقافت سے گہری وابستگی کی وجہ سے اُنہیں وسیع مقبولیت حاصل ہوئی — یہاں تک کہ طنزاً ان کا نام مقامی مشروبات ’’انکا کولا‘‘ اور کھانے ’’سویچے‘‘ کے ساتھ بھی جوڑا جانے لگا۔

انہوں نے 1977 میں اگسٹینی فرقہ میں نووائٹ کے طور پر شمولیت اختیار کی اور طویل خدمات کے بعد 2001 میں اس فرقہ کے سپیریئر جنرل (اعلی رہنما) منتخب ہوئے، 2007 میں دوبارہ منتخب ہوئے اور 2013 تک اس عہدے پر فائز رہے۔

یہ فرقہ 1244 میں قائم ہوا تھا جو فقر، اجتماعی زندگی اور ہمدردی پر زور دیتا ہے۔ پرووسٹ تاریخ کے پہلے پوپ ہیں جو اس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

اُن کا اسقفی شعار "In illo uno unum" (یعنی ’’ہم مسیح میں ایک ہیں‘‘) ان کی کلیسائی وحدت اور عالمی چرچ کی یکجہتی پر یقین کی عکاسی کرتا ہے۔

وہ ایک معتدل شخصیت کے حامل ہیں

رابرٹ فرانسس پرووست نے کیتھولک چرچ کے مختلف شعبوں میں کئی برسوں کی خدمت کے بعد، 2019 میں ویٹیکن کے دیکاستری برائے روحانیت (Dicastery for the Clergy) کا رکن مقرر ہوئے

اور 2020 میں دیکاستری برائے اسقفان (Dicastery for Bishops) میں شامل ہوئے۔ 2023 میں وہ اس ادارے کے سربراہ بنے، جہاں وہ دنیا بھر میں اسقفوں کے انتخاب میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ وہ پاپائی کمیشن برائے امورِ امریکہِ لاتین کے صدر بھی رہے، اور 30 ستمبر 2023 کو انہیں کارڈینل کا رتبہ دیا گیا۔

ان کا انتخاب 8 مئی 2025 کو بطور پاپا لیو چہاردہم، کیتھولک چرچ کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

ایک ایسے زمانے میں جب ایک امریکی کو پوپ منتخب کرنے سے متعلق سیاسی اور ثقافتی خدشات موجود تھے، ایک امریکی نژاد پوپ کا انتخاب ایک بڑی ’’تابو شکنی‘‘ سمجھا گیا۔

لیو چہاردہم، اگرچہ پاپا فرانسس کی اصلاحاتی راہ کے حامی ہیں، لیکن وہ اصلاح پسندوں اور قدامت پسندوں کے درمیان ایک مؤثر ثالثی کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

اُن کی کوشش ہے کہ روایات اور ضروری تبدیلیوں کے درمیان ایک موزوں توازن قائم رہے۔ اسی طرح، پاپا لیو وہ پہلے پوپ تھے جن کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر فعال اکاؤنٹ تھا، جہاں انہوں نے امریکی قدامت پسند سیاست دانوں پر تنقید بھی کی تھی۔

’’لیو‘‘ نام، پاپاؤں کی تاریخ میں ایک بھرپور اور گہری میراث رکھتا ہے، جو پاپا لیو اول (سن 440 عیسوی) سے شروع ہوتی ہے۔

لیو اول، جو ’’لیو دی گریٹ‘‘ کے نام سے مشہور ہیں، نے پاپائی اختیار کو مضبوط کیا اور کیتھولک چرچ کے اہم اصول قائم کیے۔ بعد میں، پاپا لیو نہم مشرقی آرتھوڈوکس چرچ کے ساتھ شقاق کا مقابلہ کرنے کی کوششوں کے سبب معروف ہوئے،

جبکہ لیو دہم فنونِ لطیفہ کے سرپرست اور اپنے مشہور ہاتھی ’’ہانو‘‘ کی وجہ سے تاریخ میں یاد رکھے گئے—

اگرچہ ان کے دور میں پروٹسٹنٹ اصلاحات کی بنیاد بھی پڑی۔ دوسری طرف، لیو دوازدہم ایک قدامت پسند پاپا تھے جنہوں نے اٹلی میں یہودیوں کے خلاف سخت پالیسیاں نافذ کیں، جس کی وجہ سے انہیں تاریخِ پاپائی میں ایک متنازع شخصیت سمجھا جاتا ہے۔

لیکن لیو چہاردہم، لیو دی گریٹ سے متاثر ہو کر اور پہلے امریکی پوپ ہونے کے ناطے، اعتدال اور توازن کی راہ پر گامزن ہیں۔ وہ مہاجرین کی حمایت، سماجی و اقتصادی مسائل، اور موجودہ دور میں کیتھولک چرچ کی یکجہتی پر خصوصی توجہ دیتے ہیں[6]۔

پاپ کی ٹرمپ اور نیتن یاہو پر سخت تنقید: دنیا چند ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی بیانات کے بعد، کیتھولک عیسائیوں کے رہنما پاپ لیو چہاردہم نے ایک بار پھر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے ان عالمی رہنماؤں کی شدید مذمت کی جو دین کو جنگ کے جواز کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی بیانات کے بعد، کیتھولک عیسائیوں کے رہنما پاپ لیو چہاردہم نے ایک بار پھر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے ان عالمی رہنماؤں کی شدید مذمت کی جو دین کو جنگ کے جواز کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

کیمیرون کے شمال مغربی شہر بامندا میں واقع سینٹ جوزف کیتھیڈرل میں اپنے خطاب کے دوران پاپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ دنیا اس وقت چند ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور واشنگٹن و تل ابیب کی جانب سے کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

پاپ نے کہا: “افسوس ان لوگوں پر جو دین اور یہاں تک کہ خدا کے نام کو بھی اپنے فوجی، سیاسی اور معاشی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں اور مقدسات کو آلودہ کرتے ہیں۔”

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذہب کو جنگ اور تشدد کے لیے استعمال کرنا ایک خطرناک رجحان ہے۔

انہوں نے بالواسطہ طور پر ان بیانات کی طرف بھی اشارہ کیا جن میں امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے فوجی “حضرت عیسیٰ کے لیے” جنگ لڑ رہے ہیں۔

پاپ نے ایسے خیالات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو تباہی سے بچانے والی اصل قوت انسانوں کے درمیان اتحاد، ہمدردی اور باہمی تعاون ہے۔

پاپ لیون چہاردہم نے آخر میں کہا کہ اگرچہ دنیا کو چند طاقتور افراد نقصان پہنچا رہے ہیں، لیکن عوام کی بڑی تعداد اب بھی امن اور یکجہتی کے لیے کھڑی ہے، جو امید کی ایک کرن ہے[7]۔

آیت اللہ اعرافی کا پاپ کے نام خط

ایران کے دینی مدارس کے سربراہ آیت اللہ علیرضا اعرافی نے حالیہ امریکی–صہیونی مظالم، ملت مظلوم ایران کے خلاف جنایات اور جمہوری اسلامی ایران کے عظیم قائد، شہید آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای اور ملک کے متعدد کمانڈروں کی شہادت کے پس منظر میں، دنیا کے کاتھولک مسیحیوں کے رہبر پاپ لیو چہار دہم کے نام ایک اہم خط ارسال کیا، جس کا متن یہ ہے:

غم سے بھرا دل اور ظلم و جبر کی شدت سے زخمی روح کے ساتھ میں یہ پیغام ایسے وقت میں آپ کی خدمت میں لکھ رہا ہوں کہ ملت ایران اور دنیا بھر کے شیعہ بے مثال اور عظیم سوگ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ قلم لکھنے سے اور زبان بیان کرنے سے قاصر ہے، لیکن انسانی اور دینی ذمہ داری یہ ایجاب کرتی ہے کہ ایک ملت کے درد اور مظلومیت کی آواز خصوصاً ان روحانی رہنماؤں تک پہنچے جو امن اور عدل کی دعوت دیتے ہیں۔ جیسا کہ آپ بخوبی جانتے ہیں، ہفتہ کی صبح ۹ اسفند ۱۴۰۴ (۲۸ فروری ۲۰۲۶) کو امریکہ اور غاصب صہیونی رژیم نے ایک شیطانی اتحاد کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ایک بڑا اور بے مثال جرم انجام دیا۔

اس ناجوانمردانہ حملے میں، جس نے تمام بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کا مذاق اڑایا، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای، مرجع عالیقدر شیعہ اور قائد فرزانہ انقلاب اسلامی، اپنے دفتر میں اپنے خاندان اور ساتھیوں کے ہمراہ دشمن کے حملے میں جامِ شہادت نوش کر گئے۔ وہ ایران کے مسیحی اقلیت سمیت تمام اقلیتوں کے مخلص حامی تھے۔ لیکن یہ بزدلانہ دہشت گردی صرف ایک جنگی جرم نہ تھا، بلکہ ایک ایسے عظیم دینی مرجع کو نشانہ بنانا جس کے کروڑوں پیروکار دنیا بھر میں موجود ہیں، اور جنہیں دو ارب کے قریب مسلمان بھی خاص احترام دیتے تھے، ایک ایسا بے سابقہ جرم ہے جو ادیانِ الٰہی کے ماننے والوں کی توہین اور مستقبل میں ہر روحانی رہنما کے لیے خطرناک باب کھولتا ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے اس عظیم مرجع کو درپیش دھمکیوں کی بنیادی وجہ ان کا فلسطینی عوام کی مظلومیت کے دفاع اور غزہ کے بے گناہ عوام کی نسل کشی اور اشغالگری کے خلاف بے باک مؤقف تھا—ایک حقیقت جسے آپ خود بھی بارہا ظلم اور معصوموں کے قتل کے طور پر مذمت کر چکے ہیں۔ اسی دوران دشمن نے ایک دلخراش اور ناقابلِ فراموش حملے میں شہر میناب کے "شجرۂ طیبہ" گرلز پرائمری اسکول پر بمباری کی، جس میں ۸ سے ۱۲ سال کی عمر کے تقریباً ۱۷۰ معصوم بچیاں شہید ہو گئیں۔ ان ننھی فرشتوں کے لاشے، ان کے بستوں اور جوتوں کی ٹوٹیاں آج بھی ہر آزاد انسان کے دل کو چیر دیتی ہیں۔ میناب کے بچوں کا دفاع، بالکل غزہ کے بچوں کے دفاع کی طرح، ہم سب کے لیے اخلاقی، انسانی اور دینی ذمہ داری ہے۔

آپ بطور رہبرِ کاتھولک اور عالمی امن و بین المذاہب مکالمے کے پرچمدار، ہمیشہ مظلوموں کے مدافع اور انسانی کرامت کے نقیب رہے ہیں۔ آج ملتِ ایران ایک عظیم سانحے اور شدید مصیبت سے دوچار ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ "سریرِ مقدس" ایک آزاد مذہبی و اخلاقی ادارے کے طور پر ان جنایات کو جو صریح "جنگی جرم"، "انسانیت کے خلاف جرم"، اور "روحانی رہنماؤں کی بے حرمتی" ہیں، پوری قوت سے مذمت کرے اور واضح کرے کہ ان جرائم کا مسیحیت کی رحمت و محبت پر مبنی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔

جنگ رمضان کے بارے میں نظریات

پاپ لیو چہار دہم نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو "مطلق طاقت کے وہم" کا نتیجہ قرار دیا اور فوری قیامِ امن کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ خودپسندی اور زرپرستی بہت ہو چکی، طاقت کے مظاہرے کافی ہیں، جنگ ختم ہونی چاہیے۔

انہوں نے ایران–امریکہ مذاکرات کے آغاز کے دن پاکستان میں آتش‌بس کے ساتھ سینٹ پیٹرز چرچ میں شام کی دعائیہ تقریب بھی منعقد کی۔

علمائے اہل سنت ایران کا مشترکہ بیان

عالی‌جناب رابرٹ فرانسس پرووست پاپ لیو چہار دہم، رہبر اعلیٰ مسیحیان

خداوند بزرگ کی سلامتی و رحمت آپ پر اور تمام آزادگان عالم پر ہو، جو الٰہی انبیاء کی تعلیمات کی پیروی کرتے ہوئے ظلم کے طاغوتوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔ آپ کا حالیہ شجاعانہ مؤقف، جو امریکی اور صہیونی حاکمان کے ظلم کے مقابل آیا، ایران، لبنان اور فلسطین کے مظلوموں کی حمایت میں آپ کے قابلِ تحسین احساسِ ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ ادیانِ الٰہی کے حقیقی خادم انسانیت اور اخلاق کے دفاع میں کتنا مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ہم، علمائے اہل سنت ایران، آپ کے اس جرات مندانہ اقدام کی قدردانی کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ الٰہی تعلیمات کی روشنی میں عالمی امن جلد قائم ہوگا۔

آیت اللہ نوری ہمدانی کا خط

آیت اللہ نوری ہمدانی نے لکھا:

یقیناً امریکہ اور صہیونیت کے مقابل آپ کا شجاعانہ مؤقف تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو جائے گا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہر دور میں ایسے اہلِ علم موجود رہتے ہیں جو انسانیت کے دفاع کے لیے بولتے ہیں، چاہے انہیں کتنی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

آیت اللہ اراکی کا خط

پاپ لیو چہار دہم کے نام لکھے گئے خط میں انہوں نے کہا:

آپ نے ظلم و طاقت کے غرور کے مقابل جس جرأت کے ساتھ آواز اٹھائی، وہ جنگ زدہ انسانیت کے لیے امید کا چراغ ہے۔ بعض طاقتور حکمرانوں کی جانب سے حضرت مسیح کی جعلی اور توہین آمیز تصویر شائع کرنا تمام ادیان کی تقدیس پر حملہ ہے، اور آپ کا اس پر ردِعمل انجیل کی حقیقی تعلیمات کا مظہر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ اُنہی لوگوں کو یاد رکھے گی جو امن کا پیغام دیتے ہیں، نہ کہ اُنہیں جو مقدسات کی توہین اور جنگ افروزی سے دنیا کو تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔

حوالہ جات

  1. اولین پاپ آمریکایی کیست؟ + نگاهی به سوابق ( پہلا امریکی پوپ کون ہے؟ + سابقه پر ایک نظر )- fa.abna24.com(زبان فارسی)- تاریخ درج شده:8/مئی/2025 ء تاریخ اخذ شده: 18/ مئی/ 2025ء
  2. اولین پاپ آمریکایی تاریخ کیست؟ ( پہلا امریکی پوپ کون ہے؟)- www.sharghdaily.com(زبان فارسی)- تاریخ درج شده:8/مئی/2025 ء تاریخ اخذ شده: 18/ مئی/ 2025ء
  3. «رابرت فرانسیس پرووست» از آمریکا به عنوان پاپ جدید انتخاب شد ( امریکہ کے کارڈینل رابرٹ فرانسس پرووسٹ کو نیا پوپ منتخب کر لیا گیا۔- www.asriran.com(زبان فارسی)- تاریخ درج شده:8/مئی/2025 ء تاریخ اخذ شده: 18/ مئی/ 2025ء
  4. ایرانی وزیر ثقافت کی ویٹی کن میں پوپ لیو چہاردہم سے ملاقات- شائع شدہ از: 19 مئی 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 19 مئی 2025ء
  5. موریس سیماشکو، ترجمۀ مهدی سحابی، مزدک.
  6. لئو چهاردهم، دویست و شصت و هفتمین پاپ کلیسای کاتولیک کیست؟- شائع شدہ از: 20 اردیبہشت 1404ش- اخذ شدہ بہ تاریخ: 16 اپریل 2026ء
  7. پاپ کی ٹرمپ اور نیتن یاہو پر سخت تنقید: دنیا چند ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے- شائع شدہ از: 18 اپریل 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 18 اپریل 2026ء