مندرجات کا رخ کریں

ولايت فقیہ

ویکی‌وحدت سے

ولايت فقیہیعنی عادل اور دین شناس فقیہ کی حکومت۔ شیعہ اثنا عشری مذہب کے ارکان میں سے ایک رکن ولایت فقیہ ہے، جو ہر عصر و زمان میں اسلامی معاشرے کی رہبری اور امت مسلمہ کے معاشرتی امور کی نگرانی سے متعلق ہے، اور اس کی جڑ امامت کے اصول میں پیوست ہے۔ غیبتِ حضرت حجت (علیہ السلام) کے زمانے میں ولایت فقیہ کا انکار، خواہ وہ اجتہاد کی بنا پر ہو یا تقلیـد کی، دین اسلام سے ارتداد اور خروج کا موجب نہیں بنتا، اور اگر کوئی شخص اپنی رائے میں دلیل و برہان کی بنا پر اس کے وجوبِ اعتقاد سے انکار کر بیٹھے تو وہ معذور ہے، لیکن اس کے لیے مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور تفرقہ پھیلانا جائز نہیں ہے۔

نظریۂ ولایت فقیہ

ولایت فقیہ شیعہ فقہ کا ایک نظریہ ہے جس کے مطابق امام زمان (علیہ السلام) کی غیبت کے دور میں حکومت جامع‌الشرائط فقیہ کے سپرد ہے۔ اس نظریے کی تاریخی جڑ کورسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے تک پہنچایا جاتا ہے۔ فقہا جیسے شیخ مفید اور محقق کرکی نے فقہا کے حکومتی اختیارات پر گفتگو کی ہے، لیکن ملا احمد نراقی کو پہلا فقیہ شمار کیا جاتا ہے جس نے فقیہ کے تمام اختیارات اور فرائض کو ولایت فقیہ کے عنوان کے تحت جمع کیا۔

انتخابِ ولیِّ فقیہ

نصب کے نظریے کے مقابلے میں سب سے اہم نظریہ جو ولایت فقیہ کے مشروعیت کے ماخذ کی توضیح کرتا ہے، انتخاب کا نظریہ ہے، جو غیبت کے زمانے میں ولیِّ فقیہ کے نصب پر کسی نص کے قائل نہیں ہے اور یہ مانتا ہے کہ عوامی انتخاب ہی رہبر کو ولایت اور معاشرتی تصرفات کے عہدے کے لیے مشروعیت عطا کرتا ہے۔ اب ہم اس نظریے کا جائزہ لیتے ہیں۔

دلائلِ نظریۂ انتخابِ ولیِّ فقیہ

  • پهلی دلیل: چونکہ حکومت کے بغیر معاشرے کا حال افراتفری کی طرف جاتا ہے اور معاشرتی اہداف کا حصول صرف حکومت کے قیام کے ذریعے ممکن ہے، اور چونکہ حکومت یا تو عوام کی رضایت اور حمایت سے استوار ہوتی ہے اور عوام غیر دینی (ظلم‌ خیز) حکومت کو برداشت کر لیں گے، تو عقل کے حکم کے مطابق اس فساد سے بچنے کا واحد راستہ عام عوام کی طرف سے حاکم کا انتخاب ہے۔
  • دوسری دلیل: اس وجہ سے کہ ولایت فقیہ سے متعلق احادیث کے مطابق تمام فقہا کو عام طور پر ولایت پر مامور کیا گیا ہے اور یہ ممکن نہیں کہ ان سب کو بطورِ مستقل اور بالفعل ولایت حاصل ہو؛ کیونکہ اگر یہ طے ہو جائے کہ ہر ایک، معاشرتی امور کو مدِنظر رکھے بغیر، اپنی ولایت کو خود مختارانہ طور پر استعمال کرے تو معاشرہ افراتفری کا شکار ہو جائے گا اور نظام کی بکھرنے کے اسباب پیدا ہو جائیں گے؛ لہٰذا اس مشکل اور معضل سے نجات کا کوئی راستہ نہیں مگر یہ کہ لوگ اپنی رائے اور انتخاب کے ذریعے فقہا میں سے کسی ایک کو منتخب کریں اور اسے حاکم کے طور پر مقرر کریں[1]۔
  • تیسری دلیل: بیعت، جو لوگوں اور فقیہ حاکم کے درمیان ایک معاملہ کی حیثیت رکھتی ہے اور جس کے ذریعے لوگ اپنے مال و جان کی باگ‌دوڑ رہبر کے سپرد کرتے ہیں اور اس سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کی دنیوی و اخروی امنیت، مصلحت اور مفادات کا محافظ ہو، ایسا امر ہے جس کی بنا پر ولایت کا انشاء ہوتا ہے اور یہ فقیہ حاکم کے تصرفات کو مشروعیت بخشنے کا واحد راستہ ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے: «فالذی ینسبق الی الذهن فی ماهیه البیعه أنها کانت وسیلة لانشاء التولیة ... و بالانشاء کانت تثبت الولایة کما فی البیع»؛ بیعت کی ماہیت سے جو چیز ذہن میں سبقت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ بیعت ولایت کے ایجاد کرنے کا ایک ذریعہ تھی... اور جس طرح بیع (خرید و فروخت) میں ہوتا ہے، اسی طرح انشاء اور ایجاد (بیعت کے ذریعے) سے ولایت تحقق پاتی ہے؛ لہٰذا صراحتاً یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے: بیعت ولایت کو وجود میں لانے والے امور میں سے ایک ہے، اور ہاتھ سے بیعت کرنا بیعت کے متقن ترین طریقوں میں شمار ہوتا ہے[2]
  • چهوتهی دلیل: مسلمانان، طبق نص صریح آیات و روایات جو اس باب مين وارد هوئي هين، باید در تمام امور، از جمله امر حکومت و حاکمیت ولیِّ فقیہ، ايك دوسرے سے شور و مشورت کریں اور ان میں سے ایک کو جو باقیوں سے اصلح ہو، گزینش اور انتخاب کریں[3]۔
  • پانچهوین دلیل: کیونکہ خدائے متعال کی طرف سے کسی کو حق حاکمیت عطا نہیں کیا گیا ہے؛ اس بنا پر خود لوگوں کو ہی اس امر کے لیے فیصلہ کرنا چاہیے؛ کیونکہ وہ اپنے جان و مال پر «الناس مسلطون علی اموالهم و انفسهم» کے حکم کے مطابق مسلط ہیں؛ لہٰذا وہ حاکمیت کو جو ان کا حق ہے، کسی شخص (فقیہ) کے سپرد کر سکتے ہیں یا اسے اپنا وکیل بنا سکتے ہیں[4]۔
  • چهتی دلیل: کیونکہ خدائے متعال کی طرف سے غیبتِ معصوم (علیہ السلام) کے زمانے میں حکومت کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا اور کوئی امر و نہی نہیں پہنچی ہے اور امر حکومت مسکوت چھوڑ دیا گیا ہے، نتیجتاً یہ امر لوگوں کے سپرد کر دیا گیا ہے اور انہیں چاہیے کہ کسی شخص یا اشخاص کی حاکمیت کے بارے میں اپنی رائے دیں؛ یعنی لوگوں کی رائے، نظام کی مشروعیت میں تعیین‌کنندہ کردار رکھتی ہے۔ اسلام نے انسان کی قوتِ انتخاب اور آزادی کو بہت اہمیت اور قدر دی ہے۔ خدائے متعال نے کبھی نہیں چاہا کہ کوئی زور اور جبر سے لوگوں پر کوئی امر مسلط کرے، جیسا کہ قرآن کریم نے آیۂ مبارکہ متن قرآن|لَا إِکْرَاهَ فِی الدِّینِ|سورہ = بقرہ|آیت256 کے ذریعے اس نکتے کو بیان فرمایا ہے۔ اس بنا پر حکومت اور ولایت لوگوں کی رائے اور رضایت کے مطابق ہونی چاہیے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ ولیِّ فقیہ کا انتخاب لوگوں کے گزینش اور انتخاب کے ذریعے ہو[5]۔

جائزہ اور تنقیدِ نظریۂ انتخاب

انتخاب کے نظریے کے دلائل کا بالترتیب جائزہ لیتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ:

سب سے پهلےپهلی دلیل حکمِ عقل کے متعلق تو یہ جاننا چاہیے کہ زیرِ بحث دعویٰ سے ہٹ کر ہمارے پاس ائمۂ اطہار (علیہم السلام) کی جانب سے غیبت کے زمانے میں فقہا کو ولایت پر نصب کرنے کے بارے میں واضح اور معتبر احادیث و روایات موجود ہیں، نیز حکمِ عقل کے مطابق لوگوں کی سرپرستی اور ہدایت کے لیے یہ ضروری ہے کہ معصومین (علیہم السلام) کی ولایت اور امامت کا سلسلہ جاری رہے اور اس میں کوئی خلل یا خلا پیدا نہ ہو۔ محقق بروجردی اس بارے میں فرماتے ہیں: "یہ دو صورت سے خارج نہیں: یا تو ائمہ (علیہم السلام) نے کسی کو ولایت پر نہیں لگایا اور اس امر کو کوئی اہمیت نہیں دی، یا پھر انہوں نے فقہا کو ولایت پر مقرر کیا ہے۔ بلا شبہ پہلی صورت باطل ہے، بلا شبہ اماموں (علیہم السلام) نے حکومت اور امت کی سرپرستی کے اہم امر کو اپنی حالت پر نہیں چھوڑا؛ پس اس کا نتیجہ یہ ہے کہ انہوں نے فقہا کو حکومت پر مقرر کیا ہے۔" ایه الله بروجردی نصب کے دلائل کو اثبات کے لیے کافی اور معتبر قرار دیتے ہوئے، حکمِ عقل کی بنا پر غیبت کے زمانے میں اہلِ صلاحیت اور مستحق افراد کی تعیین کے ذریعے معصومین کی ولایت کے تسلسل اور استمرار کو بھی دلیل بنایا ہے۔ دوسرے فقہا نے بھی غیبت کے عصر میں ولایتِ فقیہ کو ثابت کرنے کے لیے متعدد عقلی دلائل پیش کیے ہیں کہ حکمِ عقل کے مطابق غیبت کے زمانے میں معاشرے کے کام اور امور معصومین کے نائبوں اور عام منصوب‌ کردہ افراد کے ذریعے انجام پانے چاہئیں، تاکہ معصومین کی ولایت جاری رہے[6]۔

دوسری دلیل کے جواب میں کہا جا سکتا ہے: لوگوں پر ولایت ایک ذمہ داری ہے جو ائمۂ معصومین (علیہم السلام) نے فقہا کے کندھوں پر ڈالی ہے اور وہ وجوبِ کفائی کی بنا پر اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے پابند ہیں؛ لیکن جس وقت ان میں سے کوئی ایک حکومت اور ولایت قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور لوگ اسے قبول کر لیتے ہیں، اسی وقت دوسروں کو اس کی مانند ولایت کے استعمال کا حق نہیں رہتا اور انہیں اس کی پیروی کرنی چاہیے۔ لہٰذا فقاہت اور ولایتِ بالفعل کے درمیان کوئی تلازم نہیں ہے؛ کیونکہ ہر فقیہ جو معصومین (علیہم السلام) کی طرف سے متعین کردہ شرائط رکھتا ہے، عملاً ولایت کے منصب پر فائز نہیں ہے؛ بلکہ وہ صرف اس کے اہل ہے[7]۔

تیسری دلیل کے جواب میں کہا جا سکتا ہے: رائے اور بیعت کے درمیان فرق یہ ہے کہ اول الذکر نفسانی خواہشات کے مدار پر گھومتی ہے جبکہ دوسری کسی امت کی کسی عادل ولی کے ساتھ دینی وابستگی اور عہد پر مبنی ہوتی ہے؛ اس بنا پر ان دونوں میں جوہری فرق ہے؛ اگرچہ تجریدی لحاظ سے ان کے درمیان ظاہری مشابہتیں پائی جا سکتی ہیں؛ لیکن ایک انسان‌ محور معاشرے میں، جہاں حق کو انسان اور اس کی پسند کے محور پر بیان کیا جاتا ہے، کوئی حق اس وقت تک منظور نہیں ہوتا جب تک کہ کم از کم معاشرے کے اکثر افراد کی تائید حاصل نہ ہو۔ جب ایسا ہو تو ولایت کا کوئی حق بھی وجود میں نہیں آتا؛ بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ کسی ایک شخص یا کسی جماعت کو وکالت دی جاتی ہے کہ وہ ان کی طرف سے فیصلے کرے اور اقتدار کا استعمال کرے؛ پس رائے کا جوہر انسان کی پسند، اس کی خواہش اور اس کی جمعیت کی طرف لوٹ جاتا ہے؛ اگرچہ اسے معاشرتی عقلیت پسندی کا نام دے دیا جائے؛ حالانکہ حقیقت میں وہ مصلحت جس کے پیچھے وہ ہیں، دنیا اور خواہشات کا حصول ہے جس کے لیے وہ رائے کے ذریعے عمل کرتے ہیں؛ بہتر تعبیر کے مطابق اگر مقصد خواہشات کی توسیع اور نفس کی تسکین ہو تو فطری طور پر عقلیت پسندی بھی نفسانی خواہشات کے فروغ کا ذریعہ بنتی ہے؛ یہ رائے دراصل عقلیت پسندی کا مجسمہ نہیں ہے؛ بلکہ ایک معاشرتی قالب میں دنیا پرستی کا مجسمہ ہے[8]۔ یہ جاننا چاہیے کہ رائے، کبھی کسی موضوع کے بارے میں لمحاتی رجحان کی وجہ سے ہوتی ہے اور انسان کبھی اعتقاد کی بنا پر کوئی فیصلہ کرتا ہے اور کسی شخص کو ووٹ دیتا ہے؛ عام طور پر لمحاتی رائے اور عارضی رجحان وسیع پیمانے پر ہونے والی تشہیر کا نتیجہ ہوتا ہے اور ایسی فضا میں عمومی رجحان پیدا ہوتا ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ: یہ ایک ناقابلِ انکار خرابی ہے اور تمام معاشروں نے جو جمہوریت کے نظام کے قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے، اسی کا شکار رہے ہیں اور مسلسل ایک بہت ہی چھوٹی اقلیت نے اقتدار اور وسائل کو اپنے ہاتھ میں لے کر اکثریت کے ووٹوں کو اپنی طرف موڑ لیا ہے۔

خلاصہ یہ کہ تشہیر کے ذریعے ترغیب پیدا کرتے ہیں اور عمومی رجحانات کو دنیا کی پرستش (جدید بت‌پرستی) کی طرف موڑ دیتے ہیں اور معاشرہ بھی اسی ترغیب کی بنا پر فیصلہ کرتا ہے اور ووٹ دیتا ہے؛ لیکن ایک اسلامی نظام میں، مطلق حق خدا کا ہے اور اس کا حکم فرد اور جماعت کی حرکت کا مدار ہے۔ یہ واضح ہے کہ معاشرتی جوہر کی ابتدائی تقسیم کے لیے کوئی تیسری شق نہیں ہے؛ کیونکہ یا تو معاشرے پر خدا کی بندگی کا روح حاکم ہے یا پھر خواہشات کی توسیع کے ہدف کے ساتھ نفسانی رجحانات، اب ایک الٰہی معاشرے میں اگر رائے شماری بھی کی جاتی ہے تو یہ اس رویہ کے ساتھ ہے کہ یہ امر حکمِ الٰہی کے مدار پر گھومتا ہے؛ لہٰذا جوہری طور پر یہ خواہشاتِ نفسانی کی توسیع کے مدار پر ہونے والی رائے شماری سے مختلف ہے؛ بہرحال یہاں ولیِّ فقیہ اب وکیل نہیں ہے؛ بلکہ معاشرے کے تمام افراد پر اسے ولایت کا حق حاصل ہے؛ کیونکہ اگر لوگ اپنی ذمہ داری محسوس نہ کریں اور بہترین فرد کے ساتھ بیعت نہ کریں تو بنیادی طور پر صالح معاشرتی اقتدار تشکیل نہیں پاتا؛ لہٰذا بیعت، اقتدار کے وجود میں آنے اور اس کے مجسم ہونے کا باعث بنتی ہے۔ البتہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ لازمۃً ولیِّ فقیہ کے حکم کی مشروعیت اسی بیعت کی طرف لوٹتی ہے جس نے اس اقتدار کو جنم دیا ہے؛ کیونکہ اس نظام میں حقانیت کا مدار خدا ہے؛ لہٰذا محض بیعت مشروعیت پیدا کرنے والی اور ولی کے تصرف کا حق دلانے والی عامل نہیں ہے؛ بلکہ یہ اذنِ الٰہی ہے جو غیبت کے زمانے میں رہبر کو ایسی مشروعیت عطا کرتا ہے اور وہی تصرف اور حاکمیت کا حق جعل کرتا ہے اور معاشرے کے تمام افراد پر یہ فرض ہے کہ ایسے شخص کو ڈھونڈیں اور اس کے ساتھ بیعت کریں؛ اس لیے فقہی لحاظ سے بیعت، اقتدار کی مشروعیت کے لیے کافی شرط نہیں ہے۔

جن موارد میں بیعت کو رہبری اور ولایتِ فقیہ کے انتخابی ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، ان میں صدر اسلام میں ہونے والی بیعتیں شامل ہیں؛ جیسے: بیعتِ عقبہ اولیٰ و ثانیہ، بیعتِ رضوان، بیعتِ غدیر اور امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام) کے ساتھ بیعت، جب وہ مسندِ امامت پر متمکن ہوئے۔ لیکن ان تمام بیعتوں کا مفاد ولایت کا عطا کرنا نہیں تھا؛ بلکہ اس کی امامت اور بیعت کو قبول کرنے کے بعد ان کے ساتھ عہد باندھتے تھے کہ وہ مخصوص امور کا خیال رکھیں گے؛ جیسا کہ عقبہ اولیٰ کے عہد میں حاضرین نے رسول اللہ کے ساتھ یہ عہد کیا کہ وہ خدا کے ساتھ شرک نہیں کریں گے، چوری نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے، کسی پر بہتان نہیں لگائیں گے اور رسول اللہ کی اطاعت کریں گے[9]۔ اور عقبہ ثانیہ کے عہد میں بیعت کرنے والوں نے رسول اللہ کی حمایت پر اصرار کیا[10] اور بیعتِ رضوان میں، محض اجتماعی ہم آہنگی، قوت کا مظاہرہ، دفاعی توانائی کو مضبوط کرنے اور اسلامی حکومت کی نظامی تیاری کے لیے رسول اللہ کے ساتھ بیعت کی۔ ان میں سے بعض نے یہ عہد کیا کہ اگر مکہ کے مشرکین کے ساتھ جنگ ہوئی تو میدانِ جنگ سے فرار نہیں کریں گے[11] اور بعض نے یہ عہد کیا کہ وہ موت تک مزاحمت کریں گے[12]۔

اسی طرح جس طرح غدیر کے دن لوگوں نے علی (علیہ السلام) کے ساتھ امیرالمؤمنین کے عنوان سے بیعت کی، وہ اس وقت ہوئی جب رسول اللہ نے انہیں اپنے بعد امام اور خلیفہ کے طور پر متعارف اور منصوب فرمایا تھا اور اگر انہوں نے لوگوں سے ان کی بیعت کرنے کو کہا، تو اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ انہیں امامت اور خلافت عطا کریں؛ بلکہ اس لیے کہ وہ اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کا عہد کریں اور اپنی حمایت و پشتیبانی کے ذریعے اس امام کی حکومت کی بنیادوں کو مضبوط اور مستحکم کریں۔ بیعت جو مسلمانوں نے عثمان کے قتل کے بعد علی بن ابی طالب (علیہ السلام) کے ساتھ کی، اسی طرح تھی؛ حتیٰ کہ اسی دور میں بھی جو چیز بیعت سے ذہن میں سبقت کرتی تھی، وہ ولایت کا انشاء نہیں تھا؛ کیونکہ کم از کم لوگوں نے رسول اللہ کے بعد تین بیعتیں گزاری تھیں اور تین خلفا کے ساتھ جنہوں نے مختلف طریقوں سے اقتدار سنبھالا، بیعت کی تھی اور تمام بیعتیں ان کی خلافت کے باضابطہ اعلان کے بعد ہوئیں اور بیعت کا خلافت کے وجود میں آنے میں کوئی کردار نہیں تھا؛ کیونکہ ابوبکر کو سقیفہ، عمر کو ابوبکر کی تعیین اور عثمان کو شوریٰ کے انتخاب کے ذریعے خلافت ملی اور اس کے بعد لوگوں نے ان کے ساتھ بیعت کی[13]۔

لہٰذا، لوگوں کی ولیِّ فقیہ کے ساتھ بیعت کا حاصل، حقیقت میں حکومت اور حاکم کو عینیت دینا ہے نہ کہ اسے مشروعیت دینا اور اس بیعت کا حاصل وہی خدائے متعال کا اپنے نبی اکرم سے کلام ہے: ﴿هُوَ الَّذِی أَیَّدَکَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِینَ﴾؛ "وہی ہے جس نے اپنی نصرت اور مومنین کے ذریعے تیری تائید کی"[14] بیعت کا موضوع لوگوں کی مدد، ہمدلی اور ہم رائی ہے حکومت کو عینیت دینے میں، حتیٰ کہ رسول اللہ کی حکومت میں بھی۔ حضرت امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "لَوْ لَا حُضُورُ الْحَاضِرِ وَ قِیَامُ الْحُجَّةِ بِوُجُودِ النَّاصِرِ... لَأَلْقَیْتُ حَبْلَهَا عَلَی غَارِبِهَا"[15] اگر بیعت کرنے والوں کی موجودگی نہ ہوتی اور یاوروں کے وجود کے ساتھ حجت مجھ پر تمام نہ ہوتی... تو میں (حکومت کا) سلسلہ اس کے کندھے پر ڈال دیتا۔ جو چیز ولیِّ فقیہ کے ساتھ موافقت میں بیعت کے جلوہ سے حاصل ہوتی ہے، وہ اس کی مقبولیت کا مسئلہ ہوگا، مشروعیت کا نہیں، کیونکہ اگر ولیِّ فقیہ کی حکومت اور سیاسی اقتدار کا اثر و نفوذ ختم ہو جائے تو اس کی مشروعیت ختم نہیں ہوتی؛ بلکہ حکومت کا تحقق اور عینیت مشکل کا شکار ہو جاتی ہے۔

ہمیشہ عدمِ مقبولیت کا عدمِ مشروعیت سے تلازم نہیں ہوتا؛ مثال کے طور پر حضرت علی (علیہ السلام) اگرچہ خدا کی طرف سے امامت اور رہبری پر منصوب تھے اور ان کی حکومت مشروع تھی؛ لیکن ۲۵ سال بعد وہ لوگوں کے ذریعے اپنی دینی حکومت اور ولایت کو تحقق دے سکے اور یا پھر امام حسن مجتبی (علیہ السلام) کی امامت کا دور، ان کی معاویہ کے ساتھ کشمکش، ان کے سپہ سالاروں کا معاویہ کے کیمپ کی طرف رجوع، یہ سب اطاعت نہ کرنے کا نتیجہ تھا اور * "قرآن کریم" میں وارد شور و مشورت ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِی الْأَمْرِ﴾؛ "اور ان سے معاملات میں مشورہ کرو"[16]، ﴿وَأَمْرُهُمْ شُورَی بَیْنَهُمْ﴾؛ "اور ان کا کام آپس میں مشورہ ہے"[17]، حاکم کے انتخاب کے لیے رائے اور لوگوں کی نظر سے شدید فرق رکھتی ہے۔

شوریٰ کے حکومت میں کردار کے قائلین نے کوئی یکساں نظریہ پیش نہیں کیا ہے: بعض افراد نے شوریٰ کو غیبتِ حضرت ولیعصر (علیہ السلام) کے زمانے میں حاکمِ اسلامی کے مشروعیت کے ماخذ کے طور پر سمجھا ہے[18] اور بعض نے اسلامی نظام کے کلیدی پروگراموں میں فیصلہ سازی کے طریقہ کار میں شوریٰ کے الزامی کردار کے حق میں رائے دی ہے[19] البتہ ان دونوں نظریات کے درمیان جمع ممکن ہے اور اس کام کی طرف مرحوم علامہ طباطبائی نے اپنی مختصر اور نسبتاً مجمل تحریر میں شوریٰ کے مشروعیت اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار میں کردار کی طرف اشارہ کیا ہے[20] مشورت اساساً ہر موضوع میں اس موضوع کے ماہرین اور آگاہوں سے کی جاتی ہے[21] اور ولایت و حکومت کے معاملے میں مشورت فقہاء شناسوں، سیاسی و معاشرتی امور سے آشنا افراد اور سچ کو جھوٹ سے پہچاننے والوں کے ساتھ ہونی چاہیے اور یہ تمام چیزیں آج کے معنی میں انتخاب سے جوہری فرق رکھتی ہیں۔

پانچویں دلیل کے مقابلے میں کہا جا سکتا ہے کہ دینی بینش میں، حاکمیت کا حق خدا کو ہے؛ ہر چیز اس کی مملوک ہے اور کسی کو کسی چیز میں تصرف کا حق نہیں مگر اس کی اجازت سے۔ لوگوں پر حاکمیت اس وقت مشروع ہے جب خدا کی اجازت سے ہو؛ پس حاکمیت لوگوں کا حق نہیں تاکہ وہ اسے کسی کے سپرد کریں یا کسی کو وکیل بنائیں؛ لہٰذا وہ اعتراضات جو اپنی جگہ جمہوریت پر وارد ہیں، یہاں بھی وارد ہوتے ہیں؛ جن میں سے یہ کہ اگر اکثریت لوگوں نے حاکمیت کسی کو سونپی یا تفویض کی، تو مخالفین کی کیا ذمہ داری ہے؟ کیا انہیں اطاعت کرنی چاہیے؟ کیوں؟ اسی طرح یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ لوگ حاکمیت کا حق صرف فقیہ کو کیوں سونپیں؟ اگر یہ لوگوں کا حق ہے، تو وہ اسے جسے چاہیں سونپ سکتے ہیں؛ نتیجتاً اس نظریے کا تقاضا یہ ہے کہ ولایتِ فقیہ ضروری نہیں ہے[22]۔

چھٹے اعتراض کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ زیرِ بحث دعویٰ عام طور پر درست ہے؛ لیکن مجموعی بحث میں یہ کارآمد نہیں، کیونکہ اگرچہ ہم بھی دین میں جبر و اکراہ کے عدم کے موافق ہیں؛ لیکن ولایت کو ولیِّ فقیہ کے سپرد کرنا عوام کی عمومی رضایت کے دریافت کرنے کے اصول اور نظریے سے ناسازگار نہیں ہے؛ جیسا کہ ہم نے کہا: رضایت، تولی اور لوگوں کی حکومت اور ولایت کے بارے میں مقبولیت، تحقق اور عینیت کا باعث ہے[23]

موافقان و مخالفان

نظریۂ ولایتِ فقیہ کے مطابق، اسلامی معاشرے کے تمام امور کا اختیار ولیِّ فقیہ کو حاصل ہے۔ کاشف‌ الغطا، محمد حسن نجفی محقق نائینی اور امام خمینی اس نظریے کے موافقین ہیں اور شیخ انصاری، آخوند خراسانی اور سید ابوالقاسم خوئی اس کے مخالفین میں سے ہیں۔

دلائلِ موافقین

نظریۂ ولایتِ فقیہ کے حامی اسے ثابت کرنے کے لیے متعدد عقلی اور نقلی دلائل پیش کرتے ہیں۔ مَقبولہ عُمر بن حَنظَلہ اور امام زمان (عج) کا توقیع، نقلی دلائل میں سے ہیں۔ مقبولہ عمر بن حنظلہ کے مطابق، جو امام صادق (علیہ السلام) کی حدیث ہے، اس شخص کو حَکَم منتخب کیا جانا چاہیے جو اہل بیت (علیہم السلام) کی حدیث روایت کرتا ہے اور دینی احکام جانتا ہے[24]۔ امام خمینی اس روایت سے استناد کرتے ہوئے، معاشرے میں حکم کے نفاذ کو اقتدار اور حکومت کا محتاج سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت فقیہ کے ہاتھ میں ہونی چاہیے تاکہ وہ قضاوت کر سکے اور حکم کو نافذ کر سکے[25]۔

امام زمان (عج) کے توقیع میں، الحوادثُ الواقِعَة (پیش آنے والے واقعات) کا ذکر ہے اور بیان ہوا ہے کہ پیش آمدہ حالات میں اہلِ بیت کی حدیث کے راویوں کی طرف رجوع کیا جائے[26]۔ امام خمینی اس توقیع سے استدلال کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اسلامی معاشرے کے تمام امور فقہا کے سپرد کیے جائیں[27]۔ عقلی دلائل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان کی معاشرتی زندگی اور اس کی فردی اور روحانی تکمیل، اس کے علاوہ کہ اسے ایک الٰہی اور خطا و نقص سے پاک قانون کی ضرورت ہے، ایک عالم اور عادل حاکم کی بھی محتاج ہے۔ ان دو ارکان کے بغیر، معاشرتی زندگی افراتفری، فساد اور بربادی کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہ ہدف انبیا اور ائمہ (علیہم السلام) کے زمانے میں خود ان کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اور غیبت کے دور میں ولیِّ فقیہ کے ذریعے تحقق پاتا ہے[28]۔

ضرورتِ ولایتِ فقیہ

چونکہ دینِ حنیف اسلام، جو آخری آسمانی دین ہے اور قیامت تک جاری رہے گا، حکومت اور معاشرے کے امور کی ادارت کا دین ہے، اس لیے اسلامی معاشرے کے تمام طبقات ناگزیر طور پر ایک ولیِ امر، حاکم اور رہبر کے محتاج ہیں تاکہ امتِ مسلمہ کو دشمنانِ اسلام و مسلمین کے شر سے بچائے، اسلامی نظامِ معاشرے کی حفاظت کرے، اس میں عدل قائم کرے اور طاقتور کے کمزور پر ظلم و زیادتی سے روکے اور ثقافتی، سیاسی اور معاشرتی ترقی و کامیابی کے وسائل فراہم کرے۔ ولایتِ فقیہ ایک تعبدی شرعی حکم ہے جسے عقل بھی تائید کرتی ہے اور اس کے مصداق کے تعین میں ایک عقلاًَ معروف طریقہ موجود ہے جسے اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین میں بیان کیا گیا ہے۔

قلمروِ ولایتِ فقیہ

اوامرِ ولائی ولیِّ فقیہ تمام مسلمانان کو ولیِّ فقیہ کے ولائی احکام اور حکومتی احکامات کی اطاعت کرنی چاہیے اور اس کے امر و نہی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا چاہیے۔ یہ حکم عظام فقہا کو بھی شامل ہے، ان کے مقلدین کی تو بات ہی کیا ہے۔ کسی اور کی لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ متصدیِ امرِ ولایت کے ساتھ اس بہانے کہ وہ خود زیادہ لائق ہے، مخالفت کرے۔ یہ اس صورت میں ہے جب متصدیِ منصبِ ولایت قانونی طور پر معروف راستوں سے ولایت کے منصب تک پہنچا ہو۔

احکامِ ولائی ولیِّ فقیہ ولیِ امرِ مسلمین کی طرف سے صادر ہونے والے ولائی احکام اور تقرریاں، اگر صدور کے وقت عارضی نہ ہوں، تو وہ جاری رہتی ہیں اور نافذ العمل رہیں گی، مگر یہ کہ نیا ولیِ امر ان میں کوئی مصلحت دیکھ کر انہیں منسوخ کر دے۔

حدود کا نفاذ غیبت کے زمانے میں بھی حدود (جیسے زنا اور چوری کی حد) کا نفاذ واجب ہے، اور اس پر ولایت صرف ولیِ امرِ مسلمین کو حاصل ہے۔

ولیِّ فقیہ کے اختیارات کا امت کے افراد کے اختیارات پر مقدم ہونا ولئیِّ فقیہ کے فیصلے اور اختیارات، ان معاملات میں جو اسلام اور مسلمین کے عمومی مفادات سے متعلق ہیں، اگر امت کے افراد کی مرضی اور اختیار کے ساتھ متعارض ہوں تو وہ امت کے افراد کے اختیارات اور فیصلوں پر مقدم اور حاکم ہیں۔

اجتماعی ذرائع ابلاغ کا انتظام اجتماعی ذرائع ابلاغ کا انتظام ولیِ امرِ مسلمین کے حکم اور نگرانی میں ہونا چاہیے اور اسلام و مسلمین کی خدمت اور الٰہی قیمتی تعلیمات کے اشاعت کے لیے استعمال کیے جائیں، اور نیز اسلامی معاشرے کی فکری ترقی، اس کے مسائل کے حل، مسلمانوں کے اتحاد اور ان کے درمیان اخوت و بھائی چارگی کو فروغ دینے اور اس قسم کے دیگر امور کے لیے ان سے استفادہ کیا جائے۔

تین نکات قلمروِ ولایتِ فقیہ کے سلسلے میں

نمائندۂ ولیِّ فقیہ کے احکام کی اطاعت: نمائندۂ ولیِّ فقیہ اگر اپنے احکامات کو اس قلمروِ صلاحیت اور اختیارات کی بنیاد پر صادر کرے جو ولیِّ فقیہ کی طرف سے اسے سونپے گئے ہیں، تو ان کی مخالفت جائز نہیں ہے۔ ولایتِ اداری: اسلامی مفاہیم میں ولایتِ اداری (بمعنی اعلیٰ عہد یدار کے احکام کی بغیر کسی اعتراض کے اطاعت کی لزوم) کے نام سے کوئی چیز موجود نہیں ہے، لیکن ان اداری احکام کی مخالفت جو قانونی اداری ضوابط و قوانین کی بنیاد پر صادر ہوئے ہوں، جائز نہیں ہے۔

ولیِّ فقیہ اور مرجعِ تقلید کے درمیان اختلافِ رائے

جن معاملات میں ولیِّ فقیہ کی رائے اور مرجعِ تقلید کی رائے مختلف ہو، اگر یہ اختلاف ملک کی ادارت اور امورِ عامہ سے متعلق معاملات میں ہو جو عمومِ مسلمین سے تعلق رکھتے ہیں، جیسے کفار اور متجاوز مستکبرین کے خلاف اسلام و مسلمین کا دفاع، تو ولیِ امرِ مسلمین کی رائے کی اطاعت کی جائے گی، اور اگر یہ خالصاً فردی معاملات میں ہو، تو ہر مکلف کو اپنے مرجعِ تقلید کی فتویٰ کی پیروی کرنی چاہیے۔

شیعہ فقہا کا نظریہ

سیدمرتضیٰ اور شیخ طوسی کے زمانے سے لے کر میرزائے شیرازی اور امام خمینی (رحمة اللہ علیہ) کے زمانے تک، شیعہ کے کسی بھی نامور فقیہ نے ولایتِ فقیہ کی مخالفت نہیں کی ہے۔

سیدمرتضیٰ

سید مرتضی علم‌ الهدی نے فرمایا: شیعہ امامیہ کے عقیدے کے مطابق الٰہی قوانین اور حدود دائمی ہیں اور کسی بھی وقت معطل نہیں ہونے چاہئیں، اور کسی کو خدائے تعالیٰ کے احکام کو نافذ کرنا چاہیے جو فقیہ اور مطلق مجتہد ہو، مثلاً چوری کی صورت میں اگر وہ شرائط پائی جائیں جو چوری میں بیان کی گئی ہیں تو چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ خداوند نے فرمایا: «وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَیْدِیَهُمَا»؛ بدیہی ہے کہ حکم کی تشخیص اور اس کا نفاذ صرف فقیہِ جامع‌الشرائط کے ذمے ہے[29]۔

شیخ طوسی

شیخ طوسی نے حدود اور الٰہی احکام کے نفاذ کے بارے میں، تمام ادوار میں خواہ معصوم کی موجودگی ہو یا غیبت، فرمایا: کتاب و سنت کی بنا پر چور کا ہاتھ کاٹنا واجب ہے، خداوند تعالیٰ نے فرمایا: «وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَیْدِیَهُمَا»، پھر فرمایا: قضاوت، حکم صادر کرنا اور لوگوں کے دعووں کا فیصلہ واجب کفائی ہے جو ایک فقیه کے قیام کرنے سے باقیوں کے ذمے سے ساقط ہو جاتا ہے[30]۔ بدیہی ہے کہ قضاوت اور الٰہی احکام و حدود کا نفاذ، فقیہِ جامع‌ الشرائط یا اس کی طرف سے مقرر کردہ شخص کا کام ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ الٰہی حدود کا نفاذ ظالم حاکم کے تسلط میں ممکن نہیں، پس پہلے اسلامی حکومت قائم ہونی چاہیے، پھر الٰہی حدود نافذ کی جائیں۔

ابنِ ادریس حلی

ابنِ ادریس حلی نے سید مرتضی علم‌الهدی اور شیخ طوسی کے اقوال کو قبول کیا ہے اور کہا ہے: تمام الٰہی حدود و احکام جیسے چوری کی حد وغیرہ، ہر زمانے میں نافذ کیے جائیں اور الٰہی احکام کو ہرگز معطل نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ الٰہی حدود کی تعطیل کا لازمی نتیجہ دین کی تعطیل ہے[31]۔

شہید اول

شہید اول اس باب میں رقم طراز ہیں: امام (علیہ السلام) پر قاضی کی تعیین واجب ہے اور تمام مسلمانوں پر بھی امام (علیہ السلام) کے منصوب کردہ شخص کی طرف رجوع کرنا واجب اور لازم ہے۔ غیبتِ امام (علیہ السلام) کے زمانے میں فقیہِ جامع‌الشرائط کا حکم نافذ ہے: «فی غیبة الامام ینفذ قضاء الفقیه الجامع للشرائط و یجب الترافع الیه و حکمه حکم المنصوب من قبل الامام (علیه‌السلام)»؛ بدیہی ہے کہ غیبتِ معصوم (علیہ السلام) کے زمانے میں ظالم حاکم کے تسلط میں قاضی کی قضاوت لوگوں کے لیے قابلِ اتباع نہیں ہے، پس حکومت الٰہی ہونی چاہیے تاکہ لوگ قاضی کا حکم قبول کریں اور اس کی طرف رجوع کریں۔ پھر شہید اول لکھتے ہیں: اگر دو فقیہ فقاہت کے اعتبار سے برابر ہوں تو اعدل فقیہ کی طرف رجوع کیا جائے اور اس کا حکم قبول کیا جائے اور فقہا کی کثرت کی وجہ سے الٰہی حکم کو معطل نہیں رہنا چاہیے[32]۔

شہید ثانی

شہید ثانی نے محقق حلی کے امر بالمعروف کے باب میں اقوال کی شرح کرتے ہوئے کہا: فقیہِ جامع‌الشرائط، غیبتِ معصوم (علیہ السلام) کے زمانے میں اور تقیہ کی حالت میں، حتیٰ کہ جائر حاکموں کے تسلط میں بھی، الٰہی حدود کو نافذ کرے۔ ان حالات میں فقیہ جو ظالم حاکم کے تسلط میں ہے، اسے معصوم کی نیابت کے ارادے سے الٰہی حدود نافذ کرنی چاہئیں۔ پھر فرمایا: یہ مطلب مقبولۂ عمر بن حنظلہ سے استدلال کرکے ثابت ہوتا ہے اور اس کے مضمون کے مطابق صرف فقیہِ جامع‌الشرائط ہی لوگوں پر ولایت رکھتا ہے[33]۔ شہید ثانی کے اقوال میں قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ ولایتِ فقیہ، غیبت کے زمانے میں جائر سلطان کے وجود میں بھی نافذ ہے، لہٰذا اولویت کے تصور کے ساتھ، شرعی حکومت میں اسلامی حاکم کی موجودگی میں بطریقِ اولیٰ فقیہ کا حکم نافذ ہوگا۔

کاشف‌الغطاء

شیخ جعفر کاشف‌الغطاء (متوفی ۱۲۲۸ ہجری) نے جہاد کے باب میں لکھا ہے: اگر امام (علیہ السلام) موجود ہوں تو وہ اسلامی معاشرے کی قیادت سنبھالیں گے، ورنہ فقیہِ جامع‌الشرائط کو امام (علیہ السلام) کے نائبِ عام کے طور پر اسلامی معاشرے کی حکومت کا ذمہ دار ہونا چاہیے: «التائب العام من المجتهدین الافضل الافضل»۔ پھر فرمایا: اگر بفرض محال کوئی فقیہ قابل نہ ہو، تو ہر مسلمان مدبر و منتظم پر لازم ہے کہ اسلامی حکومت کی قیادت سنبھالے اور اس کی اطاعت ویسی ہی واجب ہوگی جیسے مجتہدِ جامع‌الشرائط کی اطاعت، اور جو اس کی نافرمانی کرے گا گویا اس نے امام (علیہ السلام) کی نافرمانی کی ہے[34]۔ کاشف‌الغطاء کا قول شہید ثانی کے قول کی مانند ولایتِ فقیہ کے اثبات میں اعلیٰ ترین درجے کا ہے، جو ہر صاحبِ علم و فضل شخص کے لیے روشن ہے۔

ملا احمد نراقی

ملا احمد نراقی (متوفی ۱۲۴۵ ہجری)، کاشف‌الغطاء کے بعد شیعہ فقیہ ہیں جنہوں نے آیات و احادیث سے استناد کرتے ہوئے ولایتِ مطلقۂ فقیہ کو پورے معنی میں ثابت کیا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب عوائد الایام میں درجنوں معتبر احادیث اور قرآن کی آیات سے استدلال کرکے ولایتِ مطلقۂ فقیہ کو ثابت فرمایا، جن میں سے چند احادیث کا ذیل میں اشارہ کیا جا رہا ہے: امام عصر (عجّل‌اللہ‌فرجہ‌الشریف) کا توقیع کہ جس میں فرمایا: «اما الحوادث الواقعة فارجعوا فیها الی رواة حدیثنا.» امام حسین (علیہ السلام) نے فرمایا: «ان مجاری الامور و الاحکام علی ایدی العلماء بالله الامناء علی حلال و حرامه.» امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: «العلماء ورثة الانبیاء.» امام کاظم (علیہ السلام) سے صادر ہوا ہے کہ: «ان المؤمنین الفقهاء حصون الاسلام». رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: «الفقهاء امناء الرسل ما لم یدخلوا فی الدنیا، علماء امتی کسائر الانبیاء قبلی»[35]۔

انہوں نے ان احادیث کے نقل کے بعد اس کی سند اور دلالت پر مفصل اور مستدل بحث کی اور فقیہِ جامع‌الشرائط کی ولایتِ مطلقہ کو ثابت کیا۔ پھر امام رضا (علیہ السلام) کی ایک طویل حدیث سے استناد کرتے ہوئے ولایتِ فقیہ کی فلسفہ بیان کی کہ امام (علیہ السلام) نے فرمایا: اگر الٰہی پیشوا اور دین کا محافظ، الٰہی حکومت کے ساتھ، کام میں نہ ہو تو دین و مذہب ختم ہو جائے گا اور ملحدوں کی طرف سے ناجائز بدعات الٰہی احکام کی جگہ لے لیں گی[36]۔

پھر ولایتِ فقیہ کے حدود کے بارے میں فرمایا: مذکورہ احادیث کے مطابق، جن کی سند اور دلالت پر بحث ہو چکی ہے، تمام امور میں جو معصوم (علیہ السلام) کو الٰہی احکام کے نفاذ کے سلسلے میں حاصل ہیں اور تھیں، فقیہ کو بھی وہی ولایت حاصل ہے، مگر وہ مورد جہاں شرعی دلائل سے اس عموم و اطلاق سے خارج ہو گیا ہو۔ یہ امر اتنا واضح ہے کہ ان پڑھ افراد بھی اسے سمجھ لیتے ہیں، عالم و دانشمند کی تو بات ہی کیا ہے۔

صاحب جواہر

میرزا حسن صاحب جواہر (متوفی ۱۲۶۶ ہجری)، نراقی کے بعد شیعہ فقیہ ہیں جنہوں نے اس باب میں خوب دادِ سخن دی اور ولایت کو اس کے عروج پر ثابت کیا۔ انہوں نے امر بالمعروف کے باب جواہر الکلام (کتاب) میں محقق حلی کے اس قول کے تحت کہ: «یجوز للفقهاء العارفین اقامة الحدود فی حال غیبة الامام (علیه‌السلام) کما لهم الحکم بین الناس ویجب علی الناس مساعدتهم»؛ فقیہانِ جامع‌الشرائط کے لیے غیبتِ امام (علیہ السلام) کے زمانے میں الٰہی حدود قائم کرنا جائز ہے جیسا کہ لوگوں کے درمیان حکم رانی انہی کے لیے ہے اور لوگوں پر ان کی مدد کرنا واجب ہے؛ تو فرمایا: جس طرح الٰہی حدود کے قیام اور حکمرانی کے لیے معصوم (علیہ السلام) کی مدد کرنا لوگوں پر واجب ہے، اسی طرح فقیہِ جامع‌الشرائط کی مدد کرنا بھی واجب ہے۔

یہ مطلب مشہور قول ہے بلکہ تمام شیعہ فقہائے کرام کا قول ہے: «لا اجد خلافا الا ما یحکی عن البعض و لم تتحقه بل لعل المتحقق خلافه»؛ میں نے کسی مخالف کو نہیں پایا سوائے بعض فقہا کے قول کے نقل کے، جس پر میں نے تحقیق نہیں کی، اور اگر تحقیق کی جائے تو شاید اس نقل کے خلاف ثابت ہو جائے[37] پھر فرمایا: ولایتِ مطلقۂ فقیہ پر دلالت کرنے والی بہت سی احادیث ہیں، جیسے حدیثِ مقبولۂ عمر بن حنظلہ جس میں امام صادق (علیہ السلام) نے اس حدیثِ شریف میں فقیہِ جامع‌الشرائط کو حکومت پر منصوب فرمایا اور اس کے قول کو رد کرنا معصوم اور خدا کے قول کو رد کرنے کے درجہ میں قرار دیا، جس کا نتیجہ خدا کے ساتھ شرک اور کفر ہے؛ امام زمان (علیہ السلام) کا مبارک توقیع، جو تمام شیعہ فقہا کی قبولیت کے بارے میں ہے۔ امام (علیہ السلام) نے اس حدیث کے آخر میں فرمایا: فقیہان میرے لیے حجت ہیں، یا میرے خلیفہ ہیں: «فانهم حجتی علیکم و فی بعض الکتب، فانهم لیتی علیکم»؛ اس حدیث کی دلالت بھی ولایتِ مطلقۂ فقیہ پر بہت روشن ہے۔ ان کے علاوہ، حدیثِ نبوی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: «انهم کانبیاء بنی اسرائیل»؛ اس حدیث کی دلالت بھی بہت روشن ہے جو دوسری احادیث کی مؤید ہے۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمودہ کے مطابق، جس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام)، حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حکومت قائم کی، فقیہان کو بھی الٰہی حکومت قائم کرنی چاہیے۔ اور نیز حضرت علی (علیہ السلام) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جو کوئی الٰہی حدود میں سے کسی حد کو معطل کرے گا اس نے خدا سے دشمنی کی ہے[38]۔

پھر ولایتِ فقیہ کے حدود کے بارے میں فرمایا: «یظهر عدم الفرق بین مناصب الامام (علیه‌السلام) اجمع بل یمکن دعوی المفروغیه عنه بین الاصحاب قال المحقق الکرکی: اتفق اصحابنا علی ان الفقیه العادل الجامع الشرائط الفتوی نایب من جانب الامام (علیه‌السلام) حال الغیبة فی جمیع ماللنیابة مدخل»؛ معصوم (علیہ السلام) کے تمام حکومتی مناصب اور فقیہِ جامع‌الشرائط کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ مطلب صحابہ کے درمیان مفروغ عنہ ہے۔ محقق کرکی نے فرمایا: ہمارے اصحاب اس بات پر متفق ہیں کہ عادل اور جامع‌الشرائط فقیہ، غیبت کی حالت میں تمام معاملات میں جن میں نیابت کا دخول ہے، امام (علیہ السلام) کی جانب سے نائب ہے۔

قابلِ توجہ اہم نکتہ یہ ہے کہ اس عظیم فقیہ کے نزدیک، اگر فقیہ جامع‌الشرائط نہ ہو، یعنی علم و تقویٰ کے اعتبار سے اس میں کوئی کمی ہو، تو اس کی طرف سے حکم یا فتویٰ صادر کرنا جائز نہیں ہے اور اسے لوگوں پر کوئی ولایت حاصل نہیں ہے۔ ان کے اقوال کا ایک حصہ یہ ہے: «ثم من المعلوم کما لا یجوز الحکم الا للفقیه الجامع الشرائط لا تجوز الفتوی الا له»۔

آخر میں فرمایا: «فمن الغریب وسوسة بعض الناس فی ذلک بل کانه ماذاق من طعم الفقه شیئا»؛ ان تمام دلائل کے باوجود، بعض لوگوں کا اس امر میں شک و وسوسہ تعجب خیز ہے، گویا جس نے ولایتِ فقیہ کو قبول نہیں کیا اس نے فقہ کا مزہ ہی نہیں چکھا۔

اور ان کا آخری قول یہ ہے کہ البتہ بعض مناصب ان عمومات سے خارج ہیں جو خاص حضورِ معصوم سے مخصوص ہیں، جیسے جہادِ ابتدائی۔

امام خمینی

امام خمینی کا ولایتِ فقیہ کے باب میں نظریہ نراقی اور صاحب جواہر کی مانند ہے، لیکن انہوں نے کتابِ حکومت اسلامی اور کتاب البیع میں فقیہِ جامع‌الشرائط کی ولایتِ مطلقہ کو عقل، آیات اور معتبر روایات سے استناد کرتے ہوئے ثابت کیا۔ حضرت امام (رحمة اللہ علیہ) نے فقیہ کے لیے دو بنیادی شرائط ذکر کی ہیں اور فرمایا ہے:

اسلامی حاکم کو عمومی شرائط (جیسے عقل اور تدبیر) کے علاوہ دو شرائط کا حامل ہونا چاہیے: ایک الٰہی قوانین کا علم، یعنی اسے مطلق مجتہد ہونا چاہیے؛ دوسرا اسے عدالت کی صفت کا حامل ہونا چاہیے[39]۔

خلاصہ یہ کہ امام خمینی نے ولایتِ فقیہ کو ثابت کرنے کے لیے ان تمام روایات سے استناد کیا جن سے نراقی اور صاحب جواہر نے استناد کیا تھا، جیسے امام عصر (عجّل اللہ فرجہ الشریف) کا مبارک توقیع؛ مقبولۂ عمر بن حنظلہ جن دو حدیثوں پر ان کا خاص تاکید ہے؛ احادیثِ نبوی جن میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فقہا کو اپنا خلیفہ معرفی فرمایا ہے اور...

امام خمینی (رحمة اللہ علیہ) نے ولایتِ فقیہ کے مباحث کے آخر میں فرمایا: «فتحصل مما مر ثبوت الولایة للفقهاء من جانب المعصومین (علیهم‌السلام) فی جمیع ما ثبت لهم الولایة فیه من جهة کونهم سلطانا للامة فلابد للاخراج من هذه الکلیة من دلیل»؛ ہمارے گذشتہ بیان سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ فقہا کے لیے معصومین (علیہم السلام) کی جانب سے ولایت ثابت ہے ان تمام چیزوں میں جن میں انہیں اس حیثیت سے ولایت حاصل ہے کہ وہ امت کے حاکم ہیں، لہٰذا اس کلیت سے خارج کرنے کے لیے دلیل درکار ہے۔

امام خمینی (رحمة اللہ علیہ) کے بارے میں قابلِ ذکر نکتہ یہ ہے کہ معصومین کے بعد یہ واحد فقیہ تھے جنہیں اللہ کے فضل سے ولایتِ فقیہ کی حکومت کو تحقق دینے اور ان تمام نظریات کو عینیت بخشنے کی توفیق ملی۔

حوالہ جات

  1. ملاحظہ ہو: دراسات فی ولایة الفقیہ، حسینعلی منتظری، ج۱، ص۴۰۹۔
  2. دراسات فی ولایة الفقیہ، حسینعلی منتظری، ج۱، ص۵۱۱-۵۲۷۔
  3. دراسات فی ولایة الفقیہ، حسینعلی منتظری، ج۱، ص۱۶۔
  4. ملاحظہ ہو: کتاب نقد، شمارہ ۷، ص۵۱۔
  5. نصرتی، علی اصغر، نظام سیاسی اسلام، ص ۲۶۶۔
  6. ولایت فقیه زیربنای حکومت اسلامی، آیت‌اللہ جوادی آملی، ص۱۲۰۔
  7. ملاحظہ ہو: مجلہ حکومت اسلامی، سال دوم، شمارہ ۳، بہار ۱۳۷۶، ص۱۲۹۔
  8. حکومت دینی و ولایت فقیہ، سید مہدی میرباقری۔
  9. ملاحظہ ہو: سیرۂ ابن ہشام، ص۴۳۳۔
  10. سیرۂ ابن ہشام، ص۴۳۳۔
  11. صحیح مسلم، ج۴، باب ۱۸، ص۱۳۰-۱۳۱۔
  12. صحیح مسلم، ج۴، باب ۱۸، ص۱۳۴۔
  13. فصلنامہ علوم سیاسی، ش۵، مضمون "حاکم اسلامی؛ نصب یا انتخاب"، تحریر محمد جواد ارسطا، ص۴۶۳-۴۴۹۔
  14. سورہ انفال: ۶۲۔
  15. نہج البلاغہ، خطبہ سوم۔
  16. سورہ آل عمران: ۱۵۹۔
  17. سورہ شوریٰ: ۳۸۔
  18. ملاحظہ ہو: الاسلام و اصول الحکم، علی عبدالرازق۔
  19. تنبیہ الامة و تنزیه الملة، میرزائے نائینی، ص۵۳۔
  20. بررسی‌های اسلامی، علامہ طباطبائی، ج۱، ص۱۹۲؛ تفسیر المیزان، ج۴، ص۱۲۴۔
  21. ملاحظہ ہو: مجلہ حوزه، شمارہ ۸۵-۸۶، ص۱۴۵۔
  22. حکومت و مشروعیت، محمدتقی مصباح یزدی۔
  23. نصرتی، علی اصغر، نظام سیاسی اسلام، ص ۲۶۸-۲۷۴۔
  24. کلینی، الکافی، ۱۳۸۷ش، ج۱، ص۱۶۹۔
  25. امام خمینی، کتاب البیع، ۱۴۲۱ق، ج۲، ص۶۳۸-۶۴۲۔
  26. شیخ صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۴۸۴۔
  27. امام خمینی، ولایت فقیه، ۱۳۷۴ش، ص۷۸-۸۲۔
  28. جوادی آملی، ولایت فقیه، ۱۳۷۸ش، ص۱۵۱۔
  29. سیدمرتضی، علی بن حسین، الانتصار، ص۵۳۰۔
  30. طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی فقه الامامیة، ج۸، ص۸۳۔
  31. ابن‌ادریس، محمد بن منصور، السرائر لتحریر الفتاوی، ج۳، ص۴۹۸۔
  32. شہید اول، محمد مکی عاملی، الدروس الشرعیة فی فقه الامامیة، ج۲، ص۶۷
  33. شہید ثانی، زین‌الدین بن علی عاملی، مسالک الافهام الی تنقیح شرائع الاسلام، ج۳، ص۱۰۷-۱۰۸۔
  34. کاشف‌الغطاء، جعفر بن خضر، کشف الغطاء، ج۴، ص۲۹۰۔
  35. نراقی، ملااحمد، حدود ولایت حاکم اسلامی، ص۱۷ - ۲۳۔
  36. نراقی، ملااحمد، حدود ولایت حاکم اسلامی، ص۲۴
  37. نجفی، میرزا محمدحسن، جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، ج۲۱، ص۳۹۴۔
  38. نجفی، میرزا محمدحسن، جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، ج۲۱، ص۳۹۴ - ۳۹۶۔
  39. خمینی، سیدروح‌اللہ، حکومت اسلامی، مقدمہ، ص۱۰۔