محمد بن موسی الکاظم
| محمد بن موسی الکاظم | |
|---|---|
| دوسرے نام | حضرت سبزقبا، امامزاده سبزقبا |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1312 ش، 1934 ء، 1351 ق |
| پیدائش کی جگہ | صوبۂ خوزستان، ایران، ضلع ذزفول |
| وفات | 183 ق، 799 ء، 178 ش |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| مناصب | اسلام اور مذہبِ تشیع کی ترویج و تبلیغ |
محمد بن موسیٰ الکاظم، امام موسیٰ کاظمؑ کے فرزند اور امام رضاؑ کے حقیقی بھائی، جو حضرت سبزقباؑ کے نام سے مشہور ہیں [1]۔ ان کا روضۂ مبارک ایران کے صوبہ خوزستان، شہر دزفول میں واقع ہے اور اسے ملک کے چوتھے معنوی حرم کے طور پر جانا جاتا ہے۔ حضرت سبزقباؑ کی زندگی کی تفصیلات کے بارے میں زیادہ مستند معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
ہجرت
حضرت سبزقباؑ کا تعلق ایک معصوم امام سے تھا اور وہ اپنے والد امام موسیٰ کاظمؑ کے افکار و عقائد اور اپنے بھائی علی بن موسیٰ الرضاؑ کی امامت کی ترویج کے لیے سرگرم تھے۔
عباسی ظالم خلفاء کے دور میں سیاسی اور مذہبی آزادی کے فقدان کے باعث انہوں نے مدینہ چھوڑ دیا۔ وہ عرب جزیرہ نما کے بے آب و گیاہ اور تپتے صحراؤں سے گزرتے ہوئے بصرہ پہنچے، وہاں سے خرمشہر، پھر اہواز اور بالآخر شہر دزفول آئے اور وہیں سکونت اختیار کی۔
لقب سبزقبا کی وجہ
محمد بن موسیٰ الکاظمؑ اپنی زندگی میں عموماً سبز رنگ کا لمبا لباس (قبا یا عبا) پہنتے تھے جو علویوں سے مخصوص تھا، اسی وجہ سے بعد میں وہ سبزقبا کے لقب سے مشہور ہوئے۔
وفات

اس امامزادے کی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں، تاہم کہا جاتا ہے کہ سنہ 183 ہجری قمری میں، 19 سال کی عمر میں، شہر دزفول میں ان کا انتقال ہوا۔
ان کا مزار دزفول میں ایک بارگاہ اور زیارت گاہ کی صورت میں تعمیر کیا گیا جو اہلِ بیتؑ کے چاہنے والوں کے اجتماع، عبادت اور توسل کا مرکز ہے۔
بقعۂ سبزقبا
بقعۂ سبزقبا میں ایک نماز خانہ، اجتماعاتی ہال، کتب خانہ، ضریح، گنبد، ایوان اور جوتا خانہ شامل ہے، جن پر نستعلیق خط میں کاشی کاری کی گئی ہے۔ یہ مرقد سال کے تمام موسموں میں ایران کے مختلف شہروں سے آنے والے بے شمار زائرین کی میزبانی کرتا ہے جو یہاں زیارت اور دعا کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ یہ آستانہ ہر سال ہزاروں عقیدت مندوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ دزفول کے عوام میں حضرت سبزقباؑ اور ان کے حرم کا خاص احترام ہے، یہاں تک کہ شہر کی قدیم روایت کے مطابق تاسوعا اور عاشورائے حسینی کے موقع پر عزاداری کے جلوس حرمِ مطہر کے گرد اور دزفول کے قدیم محلّوں اور گلیوں سے ہو کر نکالے جاتے ہیں۔
ضریح مطہر کی تخریب

18 دی 1404 شمسی کو شرپسندوں اور مسلح دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں حرمِ مطہر سبزقبا کو تقریباً 80 ارب تومان کا نقصان پہنچا۔
اس بے حرمتی کے واقعے میں امامزادہ سبزقباؑ کی ضریح کو شدید نقصان پہنچا اور حرم کے تمام قالین مکمل طور پر جل گئے۔ اسی طرح گنبد کی آئینہ کاری بھی آگ اور تخریب کے باعث بری طرح متاثر ہوئی اور حرم کی اندرونی تزئینات کے ایک حصے کو بنیادی مرمت کی ضرورت پیش آئی [2]۔
مرکزی ملزم کی گرفتاری
خوزستان صوبے کے محکمہ اطلاعات کی جانب سے بدھ 24 دی کو جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا:“الٰہی توفیق اور ائمہ اطہارؑ کی عنایت سے، اور امام موسیٰ بن جعفرؑ کی شہادت کی برسی کے موقع پر، دزفول میں امامزادہ سبزقبا حضرت محمد بن موسیٰ الکاظمؑ کے روضۂ مبارک کی بے حرمتی اور آتش زنی میں ملوث تمام افراد کو امام زمانہؑ کے گمنام سپاہیوں نے شناخت کر لیا
اور مرکزی ملزم (آپریشن کا لیڈر) کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ کرائے کے دہشت گرد 18 دی کی شام آستانۂ مقدس امامزادہ سبزقبا میں داخل ہوئے اور داعش جیسا طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے، صہیونی رژیم کے ہاتھوں 12 روزہ جنگ میں شہید ہونے والے سپہبد غلام علی رشید اور ان کے فرزند کے مزار کی بے حرمتی کے بعد، امامزادہ کے روضے کو آگ لگا دی۔
خوزستان کے محکمہ اطلاعات کی سکیورٹی و انٹیلیجنس کارروائیاں اس توہین کے آخری مجرم اور تمام فسادی و تخریب کار عناصر کی گرفتاری تک جاری رہیں گی[3]۔
بیرونی ربط
متعلقہ موضوعات
- 12 روزہ جنگ کا تسلسل اور ایک اور فتح (تبصرہ)
- اسرائیل کا ایران پر حملہ 2025
- موسیٰ بن جعفر (کاظم)
- غلام علی رشید
حوالہ جات
- ↑ آستانه متبرکه سبزقبای دزفول برادر امام رضا و فرزند امام هفتم - شائع شدہ از: 29 اسفند 1394ش- اخذ شدہ بہ تاریخ: 7 فروری 2026ء
- ↑ حمله تروریستی به حرم سبزقبا ۸۰ میلیارد تومان خسارت برجای گذاشت، وبسایت خبرگزاریمهر- شائع شدہ 9 بہمن 1404ش- اخذ شدہ بہ تاریخ: 7 فروری 2026ء
- ↑ بازداشت عامل اصلی آتشزدن سبزقبای دزفول و مرقد سردار شهید رشید، وبسایت خبرگزاری ایسنا- شائع شدہ از: 9 بہمن 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 7 فروری 2026ء