مندرجات کا رخ کریں

مجھے خامنہ ای سے ہاتھ نہ ملانا پڑے (نوٹس اور تجزیے)

ویکی‌وحدت سے

مجھے خامنہ ای سے ہاتھ نہ ملانا پڑےیہ ایک سچا واقعہ ہے۔ نفرت، شرمندگی اور جرأتِ اعتراف کا واقعہ، محترم مفتی معرفت شاہ صاحب بتاتے ہیں۔۔۔ میں ایران گیا تھا۔ ایک کانفرنس میں شریک تھا۔ میرے ساتھ مرحوم ثاقب اکبر صاحب بھی تھے [1]۔

کانفرنس ختم ہوئی

کانفرنس ختم ہوئی۔ لوگ ایک سمت بڑھنے لگے۔ رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای ای لوگوں کے درمیان موجود تھے۔ ہر شخص آگے جا رہا تھا۔ مصافحہ کر رہا تھا۔

سب بڑھ بڑھ کر ہاتھ ملانے کی تگ و دو کررہے تھے۔ میں بھی وہیں کھڑا تھا۔ مگر دل میں ایک عجیب کھچاؤ تھا۔ ایک انجانی سی دیوار۔

میں نے قدم پیچھے کر لیے۔ پھر آہستہ سے دائیں بائیں ہو گیا۔

دل میں صرف ایک خیال تھا مجھے خامنہ ای سے ہاتھ نہ ملانا پڑے۔

بطورِ سُنی شیعوں سے نفرت میری ذاتی نہیں تھی

بطورِ سُنی شیعوں سے نفرت میری ذاتی نہیں تھی۔ یہ بس سُنی سنائی تھی۔ یہ سکھائی گئی تھی، مدرسوں میں، مسجدوں میں،

حُجروں میں اور نجی محفلوں میں، شیعوں سے متعلق ہر طرح کا جھوٹ، میرے دل کی نفرت کا معمار تھا

میں خاموشی سے بچ نکلا۔ اور دل مطمئن بھی تھا۔ کہ میں نے خود کو “بچا لیا”۔

وقت گزرتا رہا۔ زندگی چلتی رہی۔

پھر ایک دن خبر آئی

سید علی خامنہ ای شہید ہو گئے۔ مگر ایک مسلمان ملک و ملت کو، امریکہ و اسرائیل کی جھولی میں نہیں ڈالا

یہ خبر سن کر دل میں کچھ ٹوٹ گیا۔ وہی دل ۔۔۔ جو کبھی ان سے ملنے سے کتراتا تھا۔ اب مجھ سے سوال پوچھ رہا میں کس سے بچ رہا تھا؟

میں نے اپنے اندر جھانکا۔ تو نفرت کی گہری جڑیں نظر آئیں۔ اور ساتھ ہی شرمندگی بھی۔

یہ نفرت کس نے ڈالی تھی؟ کیوں ڈالی تھی؟

اور جب وہ دنیا میں نہ رہے، تو احساس ہوا جس نے اکیسویں صدی کے بھولے بھسرے، تھکے ہارے مسلمانوں کا تشخص بچا لیا میں اُسی مسلمان سے ہاتھ ملانے کا روادار نہ تھا

میں ہاتھ نہ ملا سکا

مگر اب کفِ افسوس ملتا ہوں اے پڑھنے والے۔۔۔ کبھی ایک لمحہ

انسان کو پہچاننے کے لیے کافی ہوتا ہے، اور کبھی ایک پوری زندگی بھی کم پڑ جاتی ہے۔

ہم میں سے بہت سے بدنصیب حوضِ کوثر کے کنارے سے پیاسے لوٹ آتے ہیں لیکن پیالہ اُسی کے ہاتھ میں آتا ہے جسے ساقی کی معرفت حاصل ہو

خوش نصیب ہیں وہ لوگ، شہداء کے خون کے چھینٹے جن کے ضمیر پر پڑتے ہیں تو وہ بیدار ہوجاتے ہیں[2]۔

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. کالم نگار: سید اسفر الحسن
  2. مجھے خامنہ ای سے ہاتھ نہ ملانا پڑے کالم نگار: سید اسفر الحسنشائع شدہ از: 15 اپریل 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 15 اپریل 2026ء