بمناسبت چہلم شہدائے میناب؛ مجھے کس جرم میں قتل کر دیا گیا؟

بمناسبت چہلم شہدائے میناب؛ مجھے کس جرم میں قتل کر دیا گیا؟ 165 ننھی کلیوں کی میناب پرائمری اسکول ایران میں بے رحمانہ شہادتوں پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی بے حس خاموشی قیامت کا پتہ دیتی ہے[1]۔
تفصیلی رپورٹ
کل پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے ملالہ کے لیے جہاز بھیجے گئے نیشنلٹی دی گئی اور مشرق میں انسانی حقوق کے استحصال کا شور مچایا گیا اور پھر اسلامی جمہوریہ ایران کی ایک خاتون مہسا امینی کے لیے مغربی اخبارات میں شہ سرخیاں لگائی گئیں۔
پوری دنیا میں انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹا گیا مگر آج وہی نام نہاد انسانی حقوق کے نمائندے اور ٹھیکے دار 165 بے گناہ معصوم کلیوں کو اپنے بارود کی بھینٹ چڑھا کر خدا کے غضب کو آواز دے رہے ہیں
مگر افسوس کہ خلق خدا اس المناک سانحے پر خاموش ہے خود ہمارے ملک کی بے شمار انسانی حقوق کی تنظیمیں اتنے بھیانک جرم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔
یاد رکھیئے ظالموں کے ظلم پر آواز نہ اٹھانے والا بھی اس جرم میں خدا کے ہاں شریک جرم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ مصلحت آمیز خاموشی ظالموں کے حوصلے بڑھاتی رہتی ہے اور ان کی نخوت اور تکبر میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
میں نے ذاتی طور پر کئی انسانی حقوق کی تنظیموں کے سرکردہ افراد سے تعزیتی کانفرنس منعقد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا مگر دوسری جانب ایک مجرمانہ خاموشی طاری رہی یہاں تک کہ ابھی انٹرنیشنل میڈیا سے ایک مغربی انسداد دہشت گردی کی سرکردہ خاتون نے اس اندوہناک سانحے پر خود کو دہشت گرد قرار دیا
اور کہا کہ ہم خود دہشت گرد ہیں جنہوں نے 165 بچیوں کو بلا قصور جان بوجھ کر بارود کی نذر کر دیا وہ خاتون بتا رہی تھی کہ پہلے حملے میں زندہ بچ جانے والی بچیوں نے پریئر روم میں جا کر دعا کرنا شروع کی
مگر پھر جان بوجھ کر دوسرا حملہ کر کے ان معصوم بچیوں کو بھی قتل کر دیا گیا اور جب میں نے اس پوسٹ کو شیئر کرنا چاہا تو فیس بک انتظامیہ نے مجھ سے شیئر کرنے کی سہولت چھین لی۔
وائے ہو ایسی بے ضمیر خلقت پر جو ظالموں کی شریک جرم ہے
یاد رہے کہ پوری قوم عاد پر خدائی عذاب کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب ایک ننھی بچی کے کانوں سے گوشوارے چھین کر سپاہیوں نے اس کا چہرہ خون آلود کیا اور اس نے تڑپ کر آسمان کی طرف دیکھا اور خدا سے مدد مانگی خدا نے اس پوری قوم کو عذاب الٰہی میں مبتلا کر دیا۔
شاید 165 بچیوں کا خون اس وقت کے فرعون وقت کی نابودی کا سبب بن رہا ہے اور امریکہ جیسی سپر طاقت کو ہزیمت اور شرمندگی کا سامنا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟
یاد رکھیئے کہ آواز اٹھانا اور صدائے احتجاج بلند کرنا بڑے بڑے بے ضمیروں کو مشکل میں ڈال دیا کرتا ہے۔ ایک مضبوط بیانیہ قوموں کے ضمیر جھنجھوڑ کر ان ظالموں کے ظلم کو خاک میں ملا دیتا ہے۔
ملک کی تمام انسانی حقوق کی تنظیموں سے التماس ہے کہ اس وحشیانہ ظلم پر ضرور آواز اٹھائیں، تعزیتی ریفرنس اور تعزیتی کانفرنسز منعقد کریں۔
فنڈز دینے والوں سے نہ ڈریں وہ آپ کے پالن ہار نہیں ہیں، کیونکہ سب سے بڑا رزق دینے والا خود خدا ہے ایک دعا کے بڑے خوبصورت جملے ہیں کہ رزق لینے والوں کی پجائے مجھے رزق دینے والا کافی ہے۔
پلنے والوں کی بجائے میرے لیے پالنے والا کافی ہے۔ اگر آج ہم نے ان معصوم اور مظلوم جانوں کے ظالمانہ ضیاع پر آواز احتجاج بلند نہ کی تو ہمارا شمار بھی ظالمین میں سے ہوگا[2]۔
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
- ↑ تحریر: محترمہ معصومہ شیرازی
- ↑ بمناسبت چہلم شہدائے میناب؛ مجھے کس جرم میں قتل کر دیا گیا؟- شائع شدہ از: 9 اپریل 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 10 اپریل 2026ء