مندرجات کا رخ کریں

ایران اور عالمی استعمار: ایک ہمہ گیر تحلیلی و تجزیاتی مطالعہ

ویکی‌وحدت سے

ایران اور عالمی استعمار: ایک ہمہ گیر تحلیلی و تجزیاتی مطالعہ موجودہ عالمی فکری و عسکری تصادم محض زمین کے ٹکڑوں یا مادی وسائل کی تقسیم کی جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر "جنگِ توحیدی" ہے جہاں ایک طرف تمام ابلیسی اور شیطانی قوتیں مجتمع ہیں اور دوسری طرف حق کی وہ قوت ہے جو "مزاحمت" کے ایک نکتے پر مرکوز ہے [1].

1۔ تمہید: حق و باطل کا معرکہ اور عصری تناظر

موجودہ عالمی فکری و عسکری تصادم محض زمین کے ٹکڑوں یا مادی وسائل کی تقسیم کی جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر "جنگِ توحیدی" ہے جہاں ایک طرف تمام ابلیسی اور شیطانی قوتیں مجتمع ہیں اور دوسری طرف حق کی وہ قوت ہے جو "مزاحمت" کے ایک نکتے پر مرکوز ہے۔

غزہ پر ہونے والے حالیہ وحشیانہ مظالم اور خون کی ہولی نے جہاں انسانی ضمیر کو جھنجھوڑا، وہاں دہریوں اور منکرینِ خدا کو یہ زہریلا پروپیگنڈا کرنے کا موقع دیا کہ "اگر خدا کا وجود ہے تو وہ اس ظلم پر خاموش کیوں ہے اور آسمان کیوں نہیں گر پڑتا؟"

اس فکری حملے کا سٹریٹجک جواب ایران کے حالیہ اقدامات اور 28 فروری کے واقعات میں پنہاں ہے۔ یہ جنگ جس میں سپریم لیڈر کی شہادت کا بیانیہ اور مدرسہ شجرہِ طیبہ میں 168 معصوم بچیوں کی مظلومانہ شہادت کے نقوش ثبت ہیں، محض ایک المیہ نہیں

بلکہ اس سوال کا عملی جواب ہے کہ غیبی نصرت اور انتقامِ الٰہی کس طرح ظہور پذیر ہوتا ہے۔ ایران نے ثابت کیا کہ جب باطل سچائی کا مذاق اڑاتا ہے، تو حق کا دفاع صرف لفظوں سے نہیں بلکہ "انتقامِ سخت" سے کیا جاتا ہے۔ یہ معرکہ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ اس کا ایک بڑا حصہ میڈیا کے "نفسیاتی تھیٹر" پر لڑا جا رہا ہے۔

2۔ میڈیا کی سیاست: "گودی میڈیا" اور عوامی شعور کا اغوا

عصری سیاست میں میڈیا اب آزاد ادارہ نہیں بلکہ عالمی استعمار کے ہاتھ میں ایک خطرناک سٹریٹجک ہتھیار ہے۔ "گودی میڈیا" یا "گود لیے ہوئے میڈیا" کے تصور سے مراد وہ ادارے ہیں جنہیں بھاری فنڈنگ کے ذریعے ذہنی غلامی کے مخصوص اسکرپٹ کا پابند بنا دیا گیا ہے۔

یہ صحافی درحقیقت "باوردی غلام" (Uniformed Slaves) ہیں جن کا کام حق بیان کرنا نہیں بلکہ مخصوص ایجنڈے کے تحت سچائی کا تمسخر اڑانا ہے۔

تھئیٹریکل صحافت: گودی میڈیا کا کام حق پسند آوازوں کو کاٹ کر پیش کرنا یا ان کا مذاق اڑا کر عوامی رائے عامہ کو حقیقت سے دور کرنا ہے۔

منافقانہ بیانیہ: یہ میڈیا ایران کو "دہشت گرد" ثابت کرنے کے لیے یہ سوال تو اٹھاتا ہے کہ ایران عرب سرزمین پر کیوں حملہ آور ہے، لیکن یہ سچائی چھپا جاتا ہے کہ وہی سرزمین ایران کے خلاف امریکی حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

عوامی شعور کا تحفظ: عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ میڈیا معلومات کے لیے نہیں بلکہ مخصوص پروپیگنڈے کے تحت کام کر رہا ہے۔ یہ وہ مزدور ہیں جو سچ نہیں بلکہ اپنے آقاؤں کی بولی بولنے کی تنخواہ لیتے ہیں۔

میڈیا کی اس جنگ کا اصل ہدف ایران کی خود مختاری (استقلال) کو نشانہ بنا کر اسے عالمی نظام کے سامنے جھکنے پر مجبور کرنا ہے۔

3۔ ایران-امریکہ تصادم: استقلال بمقابلہ استعمار

ایران اور امریکہ کے درمیان 47 سالہ مزاحمت کا مرکز و محور صرف ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ ایران کا "استقلال" اور اس کی اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق ہے۔ امریکہ کے 14 نکاتی مطالبات درحقیقت ایک "زنجیر" ہیں جسے ہم "الف، ب، پ کا فارمولا" کہہ سکتے ہیں۔

امریکہ جانتا ہے کہ اگر ایران پہلا مطالبہ (الف) مان لے گا، تو اسے ترتیب وار ایٹمی پروگرام سے دستبرداری (ب) کے بعد میزائلوں کی حد کم کرنے، حجاب، اسلامی اقدار اور بالآخر نماز و قرآن کے سماجی کردار (ج) کے خاتمے تک جانا پڑے گا۔

ترکی اور سعودی عرب کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں مغربی شرائط کی قبولیت نے اسلامی تشخص کو "لبرل ازم" کی بھینٹ چڑھا دیا۔ مکہ کا کلاک ٹاور محض ایک عمارت نہیں بلکہ کعبہ کی روحانی حاکمیت پر ایک "آرکیٹیکچرل گرہن" ہے،

جس کی شکل سلیب (Sign of the Cross) سے مماثلت رکھتی ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران بھی اسی طرح اپنی شناخت مٹا دے، لیکن ایران کا اسرائیل کو "ریاست" کے بجائے "غصب شدہ فلسطین" ماننا اس کے نظریاتی استحکام کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

4۔ سپاہِ پاسداران (IRGC): ایک منفرد عسکری نظریہ

آئی آر جی سی دنیا کی روایتی افواج (آرٹش) کے مقابلے میں ایک خالص نظریاتی اور رضاکارانہ فورس ہے۔ اس کا موازنہ دنیا کی کسی بھی فوج سے نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کی بنیاد ایمان پر ہے۔

نمازِ باجماعت کا عسکری ماڈل: آئی آر جی سی "شطرنج کی بساط" (جہاں بادشاہ پیچھے چھپتا ہے اور پیادوں کو مرواتا ہے) کے بجائے "ایمان کی بساط" پر لڑتی ہے۔ یہاں امامِ جماعت کی طرح جنرل اگلی صفوں میں ہوتا ہے اور پہلا زخم کھاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سپاہ نے جتنے جرنیل میدانِ جنگ میں کھوئے، دنیا کی کسی فوج نے نہیں کھوئے۔

سستے ہتھیاروں کی فلاسفی: ایرانی ہتھیار دنیا میں سب سے سستے لیکن انتہائی تباہ کن ہیں۔ اس کا راز ان کے سائنسدانوں کا جذبہ ہے جو اپنا "ٹفن" (Lunch Box) گھر سے لاتے ہیں اور ریاست سے ایک پیسہ لیے بغیر "جہاد فی سبیل اللہ" کے جذبے سے کام کرتے ہیں۔

تقسیم شدہ دفاع: ایران نے اپنی عسکری قوت کو ایک مرکز کے بجائے زاگرس کے پہاڑوں میں 29 سے 30 مختلف زیرِ زمین ٹنلز اور مقامات پر پھیلا دیا ہے، جس کی وجہ سے دشمن کے لیے اسے مفلوج کرنا ناممکن ہے۔

5۔ اندرونی فتنہ گری اور "نرم انقلاب" کی ناکامی

امریکہ نے براہِ راست جنگ میں ناکامی کے بعد ایران کو اندرونی طور پر کھوکھلا کرنے کے لیے 20 سالہ منصوبہ بندی کی، جس کا آغاز محمد خاتمی کے دور سے ہوا جب ایرانی طلباء کے لیے یورپ کے دروازے "برین واشنگ" کے لیے کھولے گئے۔

دشمن کا منصوبہ "مخملی انقلاب" (Regime Change) کے ذریعے 3000 مخصوص پوائنٹس (1000 شہروں میں ہر شہر میں 3 مراکز) پر فتنہ بھڑکانا تھا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ ایران "دیوار چاٹنے والی دیماک" کی طرح اندر سے گر جائے۔

تاہم، علی لاریجانی کی حکمتِ عملی اس فتنے کے خلاف ایک ماسٹر اسٹروک ثابت ہوئی۔ انہوں نے پولیس کو غیر مسلح رہنے کا حکم دیا تاکہ دشمن کے "60,000 شہداء" یا "خونی انقلاب" کے اسکرپٹ کو ناکام بنایا جا سکے۔

طاقت کے بجائے تدبر کے استعمال نے لاکھوں کے فتنے کو بغیر خون بہائے کچل دیا۔

6۔ قیادت کا نسب اور فکری ورثہ: ایک تاریخی وضاحت

ایران کے استحکام میں اس کی قیادت کا نسبی اور فکری تسلسل ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ میڈیا اکثر امام خمینی اور امام خامنہ ای کے خاندانی پس منظر کے بارے میں ابہام پیدا کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امام خمینی (سید روح اللہ موسوی) موسوی سید ہیں جن کے جدِ امجد کشمیر سے ہجرت کر کے ایران آئے تھے، جبکہ امام خامنہ ای (سید علی حسینی) حسینی سید ہیں۔

میڈیا میں امام خمینی کے بھائی کے لیے "ہندی" کا لقب پروپیگنڈے کے طور پر نہیں بلکہ ان کے کشمیری خاندان سے تعلق کی وجہ سے استعمال ہوتا تھا۔

امام خمینی کی فکری بصیرت کا شاہکار ان کا گورباچوف کے نام وہ تاریخی خط ہے جسے آیت اللہ جوادی آملی نے نہ صرف پہنچایا بلکہ وہاں بیٹھ کر مکمل پڑھ کر سنایا۔

اس خط میں کمیونزم کے میوزیم میں جانے کی جو پیشگوئی کی گئی تھی، وہ حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔

7۔ اختتامیہ: امریکہ کی سٹریٹجک شکست اور مستقبل کا منظرنامہ

آج امریکہ اپنے تینوں بڑے اہداف (رجیم چینج، عوامی بغاوت، اور معاشی مفلوجی) میں مکمل ناکام ہو چکا ہے۔ سی آئی اے اور موساد کی انٹلیجنس اس حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہی کہ شخصیت کی شہادت سے "ولایتِ فقیہ" کا نظام ختم نہیں ہوتا بلکہ مزید جڑیں پکڑتا ہے۔

مستقبل کے عسکری نصابوں میں آئی آر جی سی کے جنگی طریقے ایک مستقل باب کے طور پر پڑھائے جائیں گے، جہاں جنرل "ہراول دستہ" (Vanguard) بن کر قوم کی حفاظت کرتا ہے۔

ایران کی 28 فروری کی جنگ اور اس کی غیبی نصرت (جنگِ بدر کے مماثل) یہ ثابت کرتی ہے کہ جب ایمان اور سٹریٹجی یکجا ہو جائیں، تو دنیا کی کوئی استعماری طاقت اس کا راستہ نہیں روک سکتی۔ شخصیتیں شہید ہو سکتی ہیں، مگر وہ نظام جو خونِ شہداء سے سینچا گیا ہو، ہمیشہ قائم رہتا ہے[2]۔

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. تحریر : مولانا سید تقی رضا عابدی
  2. ایران اور عالمی استعمار: ایک ہمہ گیر تحلیلی و تجزیاتی مطالعہ- شائع شدہ از: 10 اپریل 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 11 اپریل 2026ء