امریکہ کی اصلیت، آیت اللہ خمینی کی نگاہ میں(نوٹس اور تجزیے)

امریکہ کی اصلیت، آیت اللہ خمینی کی نگاہ میں امریکہ و اسرائیل اسلام کی اساس و بنیاد سے دشمنی رکھتے ہیں ، چونکہ وہ اسلام ، کتاب (قرآن) اور سنت کو اپنے راستہ کا کانٹا اور ان سب کو اپنی غارت گری اور غنڈہ گردی میں رکاوٹ سمجھتے ہیں اور ایران نے انھیں( اسلام ، قرآن اور سنت)کی پیروی کرتے ہوئے ان کے مقابلہ میں کھڑے ہوکر انقلاب برپا کیا اور کامیابی حاصل کی ہے [1]۔ بلاشبہ حضرت آیت اللہ العظمی سید روح اللہ الموسوی الخمینی علیہ الرحمہ امت مسلمہ کے ایک باعمل دینی عالم ، نہایت بصیر و دور اندیش مفکر ، عظیم ولی و قائد اور بڑے دلسوزو ہمدردر رہبر و راہنما تھے۔
دین اسلام اور سیرت اھل بیت و ائمہ طاہرین علیہم السلام کے سچے پیرو اور مطیع و فرمانبردار سالک
وہ درحقیقت دین اسلام اور سیرت اھل بیت و ائمہ طاہرین علیہم السلام کے سچے پیرو اور مطیع و فرمانبردار سالک تھے۔ حق یہ ہے کہ انہوں نے اسلام و قرآن اور اھل بیت و ائمہ طاھرین علیہم السلام کے وقیع و گرانقدر اصول و تعلیمات کے زیر سایہ شاہی استبدادی نظام کو نیست و نابو کر کے ایران میں جو اسلامی انقلاب برپا کیا اور دینی حکومت قائم کی ، وہ اس دنیا میں بے نظیر نہیں تو کم نظیر ضرور ہے۔
یہ ایک زمینی اور مشاہداتی حقیقت ہے کہ ان کے لائے ہوئے اسلامی انقلاب اور ان کی تاسیس کی ہوئی دینی حکومت کے سائے تلے ملک ایران نے ہر میدان میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ عالمی منظر نامہ پر سرسری نظر رکھنے والا بھی اس حقیقت کو جانتا ہے کہ جب سے یہ اسلامی انقلاب اور دینی نظام حکومت وجود میں آیا ہے، ٹھیک اسی وقت سے ایران تعمیر و ترقی کی طرف رواں دواں ہے۔
اور اس کا یہ تعمیری و مترقی سفر مسلسل جاری و ساری ہے جبکہ ٹھیک اسی وقت سے بلا وفقہ اس مبارک انقلاب و نظام کو کچلنے اور اس کی اس مترقی رفتار کو روکنے کے لئے جملہ ظالمانہ و مستکبرانہ طاقتیں اپنی تمامتر طاقت و قدرت کو سمیٹ کر جو بھی کر سکتی تھیں وہ پوری قوت و شدت کے ساتھ کرتی چلی آرہی ہیں۔
یوں تو پوری دنیا کی شیطانی و ابلیسی ظالمانہ و سفاکانہ طاقتیں اس مبارک انقلاب و نظام سے کھلی عداوت و دشمنی پر کمربستہ ہیں لیکن ان میں پیش پیش" شیطان بزرگ امریکہ " ہے ، اور اسے"شیطان بزرگ " کا یہ پلید و منحوس نام ، حکیم و دور اندیش مرجع و فقیہ اھل بیت سرکار آیت اللہ امام خمینی علیہ الرحمہ ہی نے دیا تھا۔
امریکہ واقعا شیطان بزرگ ہے اور اس وسیع و عریض کائنات میں جہاں بھی کسی ملک و ملت کے خلاف کوئی فساد و ھنگامہ ہوتا ہے تو اس کی پشت پر خود امریکہ یا اس کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔
سب سے بڑا شیطان
بلاشبہ شیطان تو بہت ہیں لیکن اس کرہ ارض پر سب سے بڑا شیطان ، مفسد ، شر انگیر اور فتنہ پرور یہی ظالم و ستمگر ہے۔ اس لئے اس سفاک و خوں ریز کی ماھیت و اصلیت کو گہرائی کے ساتھ پہچاننا بلا استثناء تمام اقوام عالم کے لئے اشد ضروری ہے اور اس کا آسان راستہ حضرت آیت اللہ خمینی علیہ الرحمہ کے ان بیانات کا بغور مطالعہ کرنا ہے جو ان کی پاک اور سچی زبان سے اس کے بارے میں صادر ہوئے ہیں ، ہم ان میں سے کچھ مگر نہایت اہم بیانات اپنے محترم قارئین کے لئے یہاں ذکر کر رہے ہیں:
1۔ آپ نے بڑے صاف و شفاف الفاظ میں فرمایا ہے کہ : امریکہ ، ہمارا اور بشریت و انسانیت کا نمبر ون دشمن ہے [2]۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بشریت و انسانیت کے دشمن تو اور بھی ہیں مگر ان میں سب سے پہلا اور بڑا دشمن امریکہ ہے۔
سوال : آخر کیوں ؟ اس کی علت و وجہ کیا ہے؟
جواب : ہم اس کا اصلی سبب امام خمینی کے اس نیچے آنے والے اشاد سے حاصل کر سکتے ہیں: 2۔ امریکہ دنیا کے محروم و مستضعف لوگوں کا اول نمبر کا دشمن ہے ، امریکہ دنیا پر اپنا سیاسی ، مالی و اقتصادی ، اجتماعی و سماجی اور فوجی و لشکری قبضہ جمانے یا ا سے حاصل کرنے کے لئے کسی بھی ظلم و ستم اور جرم و خطا سے گریز نہیں کرتا [3]۔
یعنی امریکہ وہ خبیث ملک ہے جو اپنے نفع اور فائدہ کے لئے کچھ بھی کرسکتا ہے اور کسی بھی حد سے گزر سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اندر انسانیت اور شرم و حیا نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی ، چونکہ وہ فقط شیطان نہیں بلکہ شیطان بزرگ ہے اور اس کا ایک منھ بولتا ثبوت حالیہ دنوں میں وینزوئیلا کی مسلم و قانونی حاکمیت و حیثیت پر اس کا کھلی ڈکیتی ڈالنا ہے۔
3۔ امریکہ تمام دینوں کا دشمن ہے یہانتک کہ عیسائیت کا بھی ، امریکہ ادیان کو کوئی اہمیت نہیں دیتا وہ تو فقط اپنا نفع چاہتا ہے بلاشبہ یہ ایک ایسی منھ بولتی سچائی ہے ، جس کا مشاہدہ ساری کائنات آج خود اپنی آنکھوں سے کر رہی ہے ، لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ امریکہ ادیان میں سب سے زیادہ دین اسلام اور اقوام میں سب سے زیادہ مسلمانوں سے عداوت و دشمنی برتتا ہے[4]۔
آخر کیوں؟
اس سوال کے واضح جواب تک ہم آیت اللہ خمینی علیہ الرحمہ کے اس بیان سے بآسانی پہنچ سکتے ہیں: 4۔ امام خمینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ : محمدی اسلام ناب کی دشمنی و عداوت امریکہ کی ذات و طبیعت میں موجیں مارتی ہے [5]۔
امریکہ و اسرائیل اسلام کی اساس و بنیاد سے دشمنی رکھتے ہیں ، چونکہ وہ اسلام ، کتاب (قرآن) اور سنت کو اپنے راستہ کا کانٹا اور ان سب کو اپنی غارت گری اور غنڈہ گردی میں رکاوٹ سمجھتے ہیں اور ایران نے انھیں( اسلام ، قرآن اور سنت)کی پیروی کرتے ہوئے ان کے مقابلہ میں کھڑے ہوکر انقلاب برپا کیا اور کامیابی حاصل کی ہے [6]۔
اسی لئے وہ دونوں ( امریکہ و اسرائیل ) اسلام کے ساتھ ساتھ مسلمان ملک ایران سے بھی شدید عداوت و دشمنی رکھتے ہیں اور ھمہ وقت اسے تباہ و برباد کرنے کی نہایت گھناونی منصوبہ بندی اور گٹھیا کوششیں کرتے رہتے ہیں جو آئے دن مختلف رنگ و روپ اور غیر معقول اور بے جا بہانوں کی صورت میں دنیا کے سامنے آتی رہتی ہیں، جسکا ایک نمونہ ابھی پیش والا ایرانی تاجروں کا وہ جائز احتجاج ہے جو انھوں نے ایرانی کرنسی کی غیر معمولی گراوٹ اور ڈالر کی روز بروز بڑھتی ہوئی قیمت سے متعلق کیا تھا،
لیکن مکار و عیار امریکہ نے اس سے سوء استفادہ کرتے ہوئے انھیں مظاہرین کے مابین اپنے زر خرید انساں نما بھیڑیوں کو چھوڑ دیا ، جنھوں نے ایران کے مختلف شہروں میں خوب فساد مچایا اور بہت تباہی و بربادی اور نا امنی پھیلائی اور جب ایرانی پولیس نے انھیں پہچان کر ان پر سختی کی تو امریکی صدر ٹرمپ کے پیٹ میں ایرانی قوم کی ھمدردی کا اچانک ایسا درد اٹھا کہ اسے خون کی الٹیاں ہونے لگیں اور وہ یوں بڑ بڑانے لگا:
اگر تہران حکومت نے مخالف مظاہرین کے خلاف کریک ڈاون میں اضافہ کیا تو امریکہ ایران کے ساتھ سختی سے پیش آئے گا۔
خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
ایک طرف یہ سازش و فریب لبریز منحوس بیان تھا اور دوسری طرف تقریبا ساری دنیا کا ظالم و ستمگر ، بکا ہوا اندھا ، جھوٹا اور بے غیرت میڈیا تھا جو ایران کے خلاف اس طرح چلا رہا تھا کہ ایسے تو مرگی اور پاگل پن کے مریض بھی نہیں چلاتے۔ ہر طرف یہی شور تھا کہ ایران کا تختہ پلٹ گیا اور خامنہ ای فرار کر گئے۔
یہ اسی ظالم و سنگدل میڈیا کا نہایت جھوٹا مگر کان پھاڑ دینے والا شور و غل تھا ، جو فلسطینیوں پر اسرائیلی بموں اور میزائیلوں کی لگاتار برستی ہوئی موسلا دھار بارش کو اپنی انکھوں سے دیکھ کر اور اس کی مہیب آواز کو اپنے کانوں سے سن کر بھی مہر بلب رہتا ہے اور مغربی ملکوں میں حکومتوں کے خلاف آئے دن ہونے والے بکثرت احتجاجات کو یکسر جان بوجھ کر نظر انداز کرتا رہتا ہے اور اس طرح ان کا حق نمک ادا کرنا اپنی ڈیوٹی سمجھتا ہے۔
خیر الحمد للہ اب ایران میں حالات اپنے معمول پر آر ہے ہیں چونکہ وہاں کے سمجھدار اور جائز مطالبہ کرنے والے تاجروں اور دیگر لوگوں نے فسادی اور فتین ٹولے سے اپنی علاحدگی اور بیزاری کا ببانگ دہل اعلان کردیا ہے اور انھوں نے امریکی صدر کی ایران کے داخلی معاملات میں بے جا اور غیر قانونی مداخلت پر کھل کر اپنے قہر و غصب کا اظہار بھی " مرگ بر امریکہ اور مرگ اسرائیل" کے فلک شگاف نعروں سے کرکے امریکہ و اسرائیل پھر ان کی اوقات بتادی ہے۔
صرف یہی نہیں بلکہ ایران کی فہیم و غیور قوم نے " انقلاب زندہ باد" اور " ہم اپنے خون کے آخری قطرہ تک ولایت فقیہ کی نصرت و حمایت کرتے رہیں گے" جیسے پرجوش اور استکبار شکن نعرے لگا کر اسلامی انقلاب اور اپنے عز یز و محبوب رھبر سے ھمیشہ کی طرح پھر اپنی وفاداری کا کھلا ثبوت بھی فراہم کیا ہے۔
پس حق تو یہ ہے کہ اب ان جھوٹے مبصرین اور زر خرید و مفلوج تجزیہ کاروں اور خبرنگاروں کو چلو بھر پانی میں ڈوب کر مر جانا چاہیئے کہ جو ایران میں حکومت کا تختہ پلٹنے اور اسلامی ایران و انقلاب کے حکیم ، دانشمند ، بصیر اور شجاع و بہادر رہبر حضرت آیت اللہ خامنہ ای دام ظلہ الشریف پر فرار کا ناروا اتہام لگا رہے تھے اور دن رات اس طرح کی بے بنیاد خبریں دیتے ہوئے نہیں تھک رہے تھے[7]۔