مندرجات کا رخ کریں

امریکہ ایران سے کیوں ہارا؟(کتاب)

ویکی‌وحدت سے
امریکہ ایران سے کیوں ہارا؟(کتاب)
نامامریکہ ایران سے کیوں ہارا؟
مؤلفین/ مصنفینمیتسوگو سایتو (Mitsugu Saito)
زبانجاپانی
زبان اصلیجاپانی
ناشرشون شینشو“ (Bunshun Shinsho)
موضوعاتامریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا تبصرہ

امریکہ ایران سے کیوں ہارا؟ گزشتہ دنوں جاپان کے معتبر اشاعتی ادارے ”بون شون شینشو“ (Bunshun Shinsho) سے ایک جسورانہ کتاب ”امریکہ ایران سے کیوں ہارا؟“ (なぜ米国はイランに負けたのか) کی اشاعت نے جاپان کے سیاسی اور نشرواشاعتی حلقوں میں بحث و مباحثے کی ایک لہر دوڑا دی ہے۔ یہ کتاب جو اس وقت جاپان کی ایمیزون پر سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں کی فہرست میں سرفہرست ہے، کوئی جذباتی سیاسی روایت نہیں بلکہ ایک ایسے تجربہ کار اور سینیئر سفارت کار کا گہرا تجزیہ ہے جس نے برسوں مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کے عین درمیان زندگی بسر کی ہے۔ درج ذیل ہم اس کتاب کے دستاویزی جائزے اور اس کی فکری جہتوں کا احاطہ کرتے ہیں[1]۔

۱۔ مصنف؛ بحران کے دل سے ایک منفرد نگاہ

اس کتاب کے مصنف میتسوگو سایتو (Mitsugu Saito) ہیں، جو ایران اور عمان میں جاپان کے سابق سفیر رہ چکے ہیں۔ اس کتاب کے تجزیے کو دیگر اسی طرح کی تصانیف سے جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ ان کا منفرد سفارتی سابقہ ہے: سایتو واحد جاپانی سفارت کار ہیں جنہیں بیک وقت ایران اور اسرائیل میں جاپانی سفارت خانوں میں خدمات انجام دینے کا تجربہ حاصل ہے۔

اس سے پہلے وہ عراق، سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور اقوامِ متحدہ میں جاپان کی نمائندگی جیسی اہم ذمہ داریاں بھی نبھا چکے ہیں۔ اس طرح کا پس منظر انہیں اس قابل بناتا ہے کہ وہ تنازعات کا تجزیہ کسی دور کے مبصر کی نظر سے نہیں بلکہ اس دریچے سے کریں جس سے انہوں نے دونوں فریقین (ایران اور اسرائیل) کو قریب سے محسوس کیا ہے۔

2۔ کتاب کا بنیادی محور؛ ”غیر روایتی حکمتِ عملی“ اور ”خالص ٹیکنالوجی“ کی ناکامی

مصنف کتاب کے مرکزی سوال کے جواب میں ”غیر روایتی حکمتِ عملی“ (Asymmetric Strategy) نامی ایک کلیدی تصور پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ سایتو کی نظر میں امریکہ نے گزشتہ دو دہائیوں میں عسکری اور تکنیکی برتری (جیسے سیارہ بر، مصنوعی ذہانت اور پیٹریاٹ میزائل) کے بل بوتے پر میدان میں قدم رکھا، لیکن ایران نے تین بنیادی عوامل کو بروئے کار لا کر اس برتری کو بے اثر کر دیا:

الف. تزویراتی صبر (Strategic Patience): ایران نے فوجی و اقتصادی دباؤ کے مقابلے میں فرسودگی آور جنگ (جنگِ استحالہ) اور طویل المدت مزاحمت سے فائدہ اٹھایا اور پابندیوں کے اخراجات برداشت کرتے ہوئے حریفوں کے سامنے اپنی ”قوتِ ارادی“ کا مظاہرہ کیا۔

ب. تاریخی اور تشخصی عمق: مصنف دو ٹوک الفاظ میں ”سلطنتِ فارس“ (ایران کا تاریخی پس منظر) کے ”امریکہ کی ڈھائی سو سالہ بنیاد“ کے مقابلے کی طرف اشارہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ایرانیوں کی تاریخ اور قومی وقار سے وابستہ سمجھ نے انہیں مغربی ممالک کے مقابلے میں بالکل مختلف حسابی ڈھانچہ عطا کیا ہے۔

ج. فیصلہ سازی کی مختلف ترتیب: جہاں امریکہ اور اسرائیل ”جلد از جلد اور فوری فتح“ (Pokémon or short-term strike) کے درپے رہتے ہیں، وہیں ایران ”شطرنج کا کھیل“ کھیلتا ہے اور اپنے حسابات دہائیوں بلکہ صدیوں کی بنیاد پر طے کرتا ہے۔

3۔ امریکہ عملاً ”کیوں“ ہار گیا؟

سایتو استدلال کرتا ہے کہ فوجی کامیابی (جو خود ایک اضافی تصور ہے) کو سیاسی فتح سے خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ امریکہ بھاری فوجی اخراجات کے باوجود ایران کے سامنے اپنے بنیادی سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا؛ جن میں حکومت کی تبدیلی میں ناکامی، ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر روکنے میں ناتوانی اور جوہری معاہدے (برجام) سے پسپائی (جسے ایک بڑی تزویراتی غلطی کے طور پر دیکھا جاتا ہے) شامل ہیں۔

ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش جیسے دباؤ کے ہتھیار، خطے میں متبادل عناصر کے استعمال اور بین الاقوامی میدان میں ہوشیار سیاسی چالوں (جیسے چین اور روس سے قربت) کے ذریعے کئی مواقع پر امریکہ سے ”پیش قدمی کی پہل“ چھین لی۔

4۔ ردِّعمل اور جاپان میں اثر انگیزی

جاپان میں اس کتاب کے ایک ”متنازع“ تصنیف بن جانے کی وجہ عالمی طاقت کے بارے میں اس کا غیر معمولی زاویۂ نظر ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں جاپان امریکہ کا اسٹریٹجک اتحادی سمجھا جاتا ہے، ایران کے خلاف ایک پوشیدہ شکست کی چھان بین نے ٹوکیو میں رائج عمومی ذہنیت کے لیے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔

یہ تصنیف جاپانی پالیسی سازوں کو یاد دلاتی ہے کہ 21ویں صدی میں محض عسکری طاقت پر انحصار کرنا پہلے جیسی کارآمدی نہیں رکھتا اور ضروری ہے کہ ٹوکیو کے تہران کے ساتھ خارجہ تعلقات، بطور ایک بااثر علاقائی کردار، زیادہ نزاکت اور پیچیدگی کے ساتھ آگے بڑھائے جائیں۔

خلاصہ: ایک کتاب سے بڑھ کر، ایک تزویراتی انتباہ

”امریکہ ایران سے کیوں ہارا؟“ بالآخر کوئی خالص عسکری تجزیہ نہیں ہے؛ بلکہ یہ سیاسی نفسیات، تاریخ اور تزویراتی عمرانیات کے میدان میں ایک مطالعہ ہے۔ یہ کتاب قارئین کو دکھاتی ہے کہ مخلوط اور غیر روایتی جنگوں کے دور میں ”ٹیکنالوجی“ میں برتری ”سیاست“ میں برتری کی ضمانت نہیں فراہم کرتی۔ ایک جاپانی سفارت کار کا زیستی تجربہ جو اس میدانِ جنگ کے دونوں جانب کھڑا رہا، اس روایت کو بین الاقوامی

سوال یہ ہے کہ اگر ٹرمپ نے حملے کا فیصلہ کیا تو کیا ہوگا؟ کیا ایران ثابت کر دے گا کہ اس کے پاس توقع سے کہیں زیادہ دفاعی طاقت موجود ہے؟ اور اس میدان میں چین اور روس کا کردار کیا ہوگا جو براہِ راست نہیں تو بالواسطہ معلومات اور تصاویر کے ذریعے ایران کی مدد کر رہے ہیں؟ یا کیا ہم ٹرمپ کو ایک بار پھر پیچھے ہٹتے دیکھیں گے جس سے ان کی دھمکیوں کی باقی ماندہ ساکھ بھی ختم ہو جائے گی؟

اس پوری صورتحال میں اب صرف دو ہی عوامل تبدیلی لا سکتے ہیں: یا تو کسی فریق کا غیر روایتی ہتھیاروں کا استعمال، یا پھر ایران کے اندر کوئی ایسی غیر متوقع پیش رفت جس کا اندازہ نہ لگایا گیا ہو۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. درباره کتاب ژاپنی «چرا ایالات متحده از ایران شکست خورد؟»-شائع شدہ از: 16 اگست 2026ء-اخذ شدہ بتاریخ: 17 اگست 2026ء