مندرجات کا رخ کریں

اتحاد بین المسلمین، فکری تحریک سے ڈیجیٹل میدان تک(نوٹس اور تجزیے)

ویکی‌وحدت سے

اتحاد بین المسلمین، فکری تحریک سے ڈیجیٹل میدان تک وحدت المسلمین کوئی انتخاب نہیں بلکہ ایک اسلامی فریضہ ہے اور سوشل میڈیا وہ جدید ذریعہ ہے، جس کے ذریعے یہ فریضہ نہ صرف انجام دیا جا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر اسلام کے حسین و متفقہ چہرے کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر نیت اخلاص پر مبنی ہو اور حکمت کو راہبر بنایا جائے تو سوشل میڈیا وحدت امت کے لیے سب سے طاقتور ہتھیار بن سکتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وحدت المسلمین صرف ایک نظریاتی نعرہ نہیں بلکہ عصر حاضر کی سب سے بڑی دینی، فکری اور عملی ضرورت ہے۔ انقلاب اسلامی ایران نے امام خمینی (رح) کی قیادت میں امت کو بیدار کرنے، استکبار کے خلاف متحد کرنے اور مسلکی فاصلے مٹانے کا جو ماڈل پیش کیا، وہ آج بھی امت کے لیے مشعلِ راہ ہے [1]۔

تعارف

اسلام کا بنیادی پیغام وحدت، اخوت اور یگانگت کا ہے۔ قرآن کریم مسلمانوں کو "واعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا" [2]۔ کی صورت میں صریح ہدایت دیتا ہے کہ وہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور تفرقہ بازی سے دور رہیں۔ لیکن آج امت مسلمہ مسلکی، لسانی، قومی اور جغرافیائی تقسیم کا شکار ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا ایک ایسا جدید اور مؤثر ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے، جو ان فاصلوں کو کم کرنے، غلط فہمیوں کو دور کرنے اور وحدت المسلمین کے فروغ میں مرکزی کردار ادا کرسکتا ہے۔

عصر حاضر میں سوشل میڈیا ایک ایسا طاقتور ذریعہ بن چکا ہے، جو مسلمانوں کے درمیان موجود غلط فہمیوں کو دور کرنے، مشترکہ دینی و اخلاقی اقدار کو اجاگر کرنے اور فرقہ وارانہ بیانیے کا علمی و اخلاقی جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں برپا ہونے والے انقلاب اسلامی ایران نے وحدت امت کو صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک عملی تحریک میں بدل دیا، جس کی مثال "ہفتہ وحدتیوم القدس اور عالمی وحدت کانفرنسز ہیں۔ اگر انقلابی فکر، سوشل میڈیا کی طاقت اور وحدت کے عملی مواقع کو یکجا کیا جائے تو امت مسلمہ کو فرقہ واریت، تعصب اور استکباری سازشوں سے نکال کر ایک عالمی، بیدار اور متحد قوت بنایا جا سکتا ہے۔

وحدت المسلمین، قرآنی و نبوی تصور

اسلامی وحدت کا مطلب ہے: تمام مسلمانوں کا ایک اللہ، ایک رسول اور ایک قرآن پر متفق ہونا۔ اختلاف رائے کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے فکری تنوع کے طور پر قبول کرنا۔ باہمی رواداری، مکالمہ اور اسلامی اخوت کو فروغ دینا۔ پیامبر اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری خطبے میں فرمایا: "تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوا تقویٰ کے۔" یہ تعلیم آج کے دور میں بھی ویسی ہی اٹل ہے، جیسے چودہ سو سال پہلے تھی۔

انقلاب اسلامی ایران اور اتحاد بین المسلمین

1979ء میں امام خمینی رضوان اللہ علیہ کی قیادت میں ایران میں ایک دینی و عوامی انقلاب برپا ہوا، جس کی بنیاد اسلامی حاکمیت، استکبار مخالف فکر، مظلومین کی حمایت اور فرقہ واریت کی نفی پر رکھی گئی۔ امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے وحدت امت کو اپنی جدوجہد کا مرکزی نکتہ بنایا۔ انہوں نے سنی و شیعہ اتحاد کو فروغ دیتے ہوئے "12 تا 17 ربیع الاول ،ہفتہ وحدت" کا اعلان کیا، قبلہ اول (فلسطین) کو امت کی وحدت کا مرکز قرار دیا۔

اور "اسلامِ محمدی" کو "اسلامِ امریکایی" سے جدا کرکے اصل اسلام کی پہچان کروائی۔ انقلاب اسلامی کے بعد وحدت کے فروغ کے لیے عالمی وحدت کانفرنسز، بین الاقوامی جامعات، سفارتی تعلقات اور میڈیا کے ذریعے عملی اقدامات کیے گئے۔ موجودہ دور میں اسلامو فوبیا، مظلوم اقوام کی حمایت اور استعماری سازشوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے لیے وحدت کی اشد ضرورت ہے۔ انقلاب اسلامی نے اتحاد بین المسلمین کو محض نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی تحریک بنا دیا، جس کے اثرات ایران سے نکل کر پوری امت مسلمہ میں پھیل چکے ہیں۔

سوشل میڈیا، ابلاغ و مکالمہ کا جدید میدان

سوشل میڈیا یعنی فیس بک، ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، انسٹاگرام، یوٹیوب، واٹس ایپ، ٹیلیگرام، ٹک ٹاک اور دیگر نیٹ ورکس نے دنیا کو ایک "گلوبل ولیج" بنا دیا ہے۔ ان کی خصوصیات درج ذیل ہیں:

پہلو وضاحت

فوری ترسیل معلومات، ویڈیوز، پیغامات لمحوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ سکتے ہیں۔ بین السرحدی رسائی سوشل میڈیا کسی ایک ملک یا زبان تک محدود نہیں۔ امت مسلمہ کے تمام خطے جُڑ سکتے ہیں۔ مکالمے کی آزادی ہر فرد اپنی بات رکھنے کا حق رکھتا ہے اور دوسروں کی بات سن سکتا ہے۔ بیانیہ سازی کی طاقت عوامی ذہن سازی اور جذبات کی سمت متعین کرنے میں سوشل میڈیا کی طاقت بے مثال ہے۔

سوشل میڈیا اور وحدت المسلمین، ممکنات و مواقع

مشترکہ دینی پیغامات کی ترویج

سوشل میڈیا کے ذریعے قرآن و سنت پر مبنی متفقہ تعلیمات کو عام کیا جا سکتا ہے، جیسے: احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اخلاقِ اسلامی، سیرتِ رسول (ص) کے مشترکہ پہلو۔

مسلکی غلط فہمیوں کا خاتمہ

شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور دیگر مکاتب فکر کے درمیان موجود تصورات کی غلط فہمیاں سوشل میڈیا پر مکالمہ اور سوال و جواب کے ذریعے رفع کی جا سکتی ہیں۔

مشترکہ دشمن کے خلاف بیانیہ

اسلامو فوبیا، قرآن سوزی، فلسطین پر ظلم، کشمیر کی تحریک یا اسلام دشمن میڈیا پروپیگنڈا۔ ان سب کے خلاف متحدہ آواز سوشل میڈیا کے ذریعے بلند کی جا سکتی ہے۔

علمی و فکری کانٹینٹ کی تخلیق

ویڈیوز، شارٹ فلمز، کارٹونز، ڈاکیومنٹریز، پوڈکاسٹس کے ذریعے نوجوان نسل تک وحدت کا پیغام پرکشش انداز میں پہنچایا جا سکتا ہے۔

وحدت پر مبنی عالمی مہمات (Campaigns)

مثلاً:

  1. UnityOfUmmah
  2. WeAreOneMuslimNation
  3. AgainstSectarianism

ایسی hashtags کی مدد سے بین الاقوامی رجحانات قائم کیے جا سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وحدت کے فروغ کی عملی تجاویز

شعبہ عملی اقدام

علماء و مفکرین سوشل میڈیا پر اپنے صفحات سے وحدت پر مبنی مختصر بیانات، سوالات کے جوابات اور لائیو سیشنز کا انعقاد۔ ادارے و تنظیمیں ہفتہ وحدت، ربیع الاول، یوم بدر، شب قدر جیسے مواقع پر مشترکہ سوشل میڈیا مہمات کا انعقاد۔ طلباء و نوجوان یونیورسٹیوں، کالجوں اور دینی مدارس کے طلبہ کو ڈیجیٹل سفیر بنایا جائے۔ ڈیجیٹل کریئیٹرز اسلامی تاریخ کی وحدت پر مبنی واقعات کو فکاہیہ، کارٹون یا شارٹ ویڈیوز کی صورت میں تخلیق کریں۔

چیلنجز اور ان کا حل

فرقہ وارانہ نفرت انگیز مواد متحدہ رپورٹنگ، علمی رد اور مثبت متبادل مواد کی تخلیق۔ جعلی معلومات مستند علماء و اداروں کے تصدیق شدہ اکاؤنٹس کی تشہیر۔ "Echo Chambers" یعنی یک طرفہ حلقے بین المسلکی مکالمے کو فروغ دینا، مختلف مسالک کے پیجز کو فالو کرنا۔ حکومتی یا انٹرنیٹ بندش متبادل ذرائع جیسے بلاگز، آف لائن کانٹینٹ، وائی فائی شراکت سے استفادہ۔

ممکنہ اقدامات

سوشل میڈیا آج کا سب سے مؤثر ذریعہ اظہار و ابلاغ ہے، جس کے ذریعے: نوجوانوں کو فکری رہنمائی دی جا سکتی ہے، فرقہ واریت کے بیانیے کو شکست دی جا سکتی ہے، امتِ مسلمہ کو مشترکہ مقاصد اور چیلنجز کے خلاف جوڑا جا سکتا ہے، وحدت المسلمین کو عملی تحریک میں بدلا جا سکتا ہے۔

سفارشات:

  • اسلامی تنظیمیں ڈیجیٹل ڈیسک قائم کریں۔
  • وحدت کے موضوع پر سالانہ آن لائن کانفرنس منعقد کی جائے۔
  • دینی مدارس اور یونیورسٹیوں میں سوشل میڈیا تربیتی ورکشاپس ہوں۔
  • سوشل میڈیا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت و اخلاق پر مبنی مہمات چلائی جائیں۔
  • مسلکی اختلافات کو مکالمے اور نہ کہ مناظرے کے ذریعے حل کیا جائے۔

اختتامیہ

وحدت المسلمین کوئی انتخاب نہیں بلکہ ایک اسلامی فریضہ ہے اور سوشل میڈیا وہ جدید ذریعہ ہے، جس کے ذریعے یہ فریضہ نہ صرف انجام دیا جا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر اسلام کے حسین و متفقہ چہرے کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر نیت اخلاص پر مبنی ہو اور حکمت کو راہبر بنایا جائے تو سوشل میڈیا وحدت امت کے لیے سب سے طاقتور ہتھیار بن سکتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وحدت المسلمین صرف ایک نظریاتی نعرہ نہیں بلکہ عصر حاضر کی سب سے بڑی دینی، فکری اور عملی ضرورت ہے۔ انقلاب اسلامی ایران نے امام خمینی (رح) کی قیادت میں امت کو بیدار کرنے، استکبار کے خلاف متحد کرنے اور مسلکی فاصلے مٹانے کا جو ماڈل پیش کیا، وہ آج بھی امت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

سوشل میڈیا جیسے جدید ذرائع اگر شعور، حکمت اور اخلاص کے ساتھ استعمال کیے جائیں تو یہ وحدت کے پیغام کو سرحدوں، زبانوں اور مسلکوں سے بالاتر ہو کر عالمگیر تحریک میں بدل سکتے ہیں۔ اب وقت آچکا ہے کہ مسلمان، ماضی کے فروعی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر، قرآنی اصولوں، نبوی اخلاق اور انقلابی بصیرت کے تحت باہم جڑ جائیں، تاکہ امت مسلمہ ایک بار پھر دنیا میں عدل، امن اور حق کی نمائندہ قوت بن سکے[3]۔

حوالہ جات

  1. تحریر و ترتیب: آغا زمانی
  2. سورہ آل عمران، آیہ 103
  3. اتحاد بین المسلمین، فکری تحریک سے ڈیجیٹل میدان تک- شائع شدہ از: 6 ستمبر 2025ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 6 ستمبر 2025ء