آلپ ارسلان کویتول

    ویکی‌وحدت سے
    آلپ ارسلان کویتول
    آلپ ارسلان کویتول.webp
    دوسرے نامشیخ آلپ ارسلان کویتول
    ذاتی معلومات
    پیدائش1983 ء، 1361 ش، 1402 ق
    پیدائش کی جگہترکی صوبہ آدانا
    مذہباسلام، سنی
    مناصبفورکان ایجوکیشنل اینڈ سروسز فاؤنڈیشن کے بانی

    آلپ ارسلان کویتول ‌(Alparslan Kuytul) جو ترک عالم دین اور مفسر قرآن اور فورکان ایجوکیشنل اینڈ سروسز فاؤنڈیشن کے بانی ہیں جن کو فرقان موومنٹ کہا جاتا ہے، اور الازہر یونیورسٹی کے فارغ التحصیل افراد میں سے ایک ہے۔ سیکولرازم ، قوم پرستی، ایران کی فوبیکزم اور شیعوں کی تکفیر کے مخالف اور اخوت اسلامی پر مبنی دولت اسلامیہ کی تشکیل ، اور اسرائیلزم ان کے اہم نظریات میں سے ہیں۔ ان کو کئی بار ترک حکومت کے ذریعہ گرفتار اور قید کیا گیا ہے۔

    سوانح عمری

    آلپ ارسلان 1965ء کو ترکی کے صوبہ آدانا میں پیدا ہوئے۔

    ابتدائی تعلیم

    انہوں نے آدانا کے اسکولوں میں اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم مکمل کی۔ انہوں نے اس عرصے کے دوران اپنے اسکول کے دوستوں کو اسکول میں چھٹی ہونے کے بعد اور ہر ہفتہ کے آخر میں، اسکول کے سامنے مسجد والی لے جاتے اور مذہبی لیکچر دیتے تھے۔

    یونیورسٹی تعلیم

    1991ء میں، انہوں نے یونیورسٹی آف چوکوکوا (Çukurova Üniversitesi) سے گریجویشن کیا ، جو ایک محکمہ آرکیٹیکچر اینڈ انجینئرنگ تھا ، اور 1993ء سے 1997ء کے درمیان ،اپنی فوجی خدمات مکمل کرنے کے بعد مصر کے الازہر یونیورسٹی کے شریعت فیکلٹی میں اسلامی قانون تعلیم حاصل کی۔ الازہر یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ترکی واپس آئے۔ 1986ء میں طالب علمی کے دوران، انہوں نے اپنے پہلے طالب علم گھر کی بنیاد رکھی تھی اور اس نے طلباء اور کاریگروں کے لئے اسلامی لیکچر دیا تھا ، اور 1988ء میں کویتول نے مردوں کے لیے کتابوں کی دوکان (Kardeşler Kitabevini kurdu) کی بنیاد رکھی تھی تاکہ وہ اپنی سرگرمیوں کو آگے بڑھا سکے۔

    فورکان ایجوکیشنل اینڈ سروس فاؤنڈیشن کا قیام

    1994ء میں ، وہ الازہر یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے ساتھ ، مخیر حضرات کی مدد سے اسلام اور اسلامی علوم کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے، بچپن سے ہائی اسکول تک بچوں اور نوجوانوں کو اسلامی بنیادی اور حقیقی عقائد سے رواشناس کرانے کے لیے دینے اور معاشرے میں اخلاقی اقدار کو پروان چھڑانے اور کار خیر کار کی طرف لوگوں راغب کرانے کے لیے فورکان ایجوکیشنل اینڈ سروس فاؤنڈیشن (Kurulan Furkan Vakfı) جسے فروکان موومنٹ بھی کہا جاتا ہے، کا قیام عمل میں لایا گیا اور اس فاؤنڈیشن کے قیام کے بعد ، فورکان رضاکاروں نے فاؤنڈیشن کی عمارت میں اپنی تربیت اور خدمات کی سرگرمیاں جاری رکھی ہیں۔ آلپ ارسلان کی اس فاؤنڈیشن میں کچھ سرگرمیوں کو بیان کریں گے:

    اسلامی دروس کی تعلیم

    الپ ارسلان ، ہر جمعہ کی شام فاؤنڈیشن سینٹر میں تفسیر قرآن کے دروس کے علاوہ اور ویب سائٹ کے جس کا آیڈریس یہ ہے: www.furkanvakfi.org براہ راست پروگرام نشر کرتے ہیں اور ہزاروں افراد ان کے فقہی ، سیاسی اور روزمرہ واقعات پر سوال و جواب سیکشن میں اس کا تجزیہ اور تحلیل سوشل میڈیا پر سنتے ہیں اور اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ ایک کے علاوہ وہ علمی دورس جیسے: حدیث ، سیرا ، فقہ ، اصول اور عربی کی بھی تدریس کرتا ہے ، جو اس کے طلباء کو علم حاصل کرنے میں مدد کرتا ہے۔ وہ مشرق وسطی کی حقیقت ، انسانی نظریات، دور حاضر مفاہیم اور تصورات اور عالمی سیاست جیسے دروس کو بھی پڑھاتا ہے جس نے انہیں دانشور کا لقب دیا گیا ہے۔

    پبلشنگ میگزین

    تعلیم اور خدمات کی سرگرمیوں کے علاوہ ، 2011ء میں، اسلام اور امت اسلامی موجودہ صورتحال کے موضوعات پر مضامین اور تحریریں لکھنا شروع کیا، اور نسل نو اور نسل پیشرو نامی میگزین (FurkanNesli – Öncü Nesil)کی بنیاد رکھی اور وہ خود اس میگزین اور مجلہ کا ایڈیٹر ہے۔ آپ سیاسی اور علمی مضامین اس ماہانہ میگزین کے لئے لکھتے ہیں۔

    کانفرنس

    اسلامی دروس کی تعلیم دینے اور میگزین کی اشاعت کے علاوہ ، وہ اندرون و بیرون ملک عوامی کانفرنسوں کا انعقاد کرکے معاشرتی شعور اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس میں طلباء کے ساتھ گفتگو اور کتابوں کی دکان میں نوجوانوں اور طلباء کے ساتھ ، ورچوئل دروس ، ظلم کے خلاف ریلیوں ، رمضان میں افطار پروگراموں اور ماہ رمضان مختلف موضوعات پر گفتگو میں بھی کرتے ہیں۔

    سنتوں کی بحالی

    اس فاؤنڈیشن تقریبا 15 سالوں سے ترکی میں اعتکاف کی سنت، جو اس ملک متروک ہو رہا تھا،کو زندہ کیا ہے اور اس سنت میں دلچسپی رکھنے والے ہر سال ترکی کے مختلف صوبوں میں متعدد مساجد میں معتکف ہوتے ہیں۔

    ضرورت مندوں پر خاص توجہ

    فورکان فاؤنڈیشن ان خاندانوں کو مدد فراہم کرتی ہے جن میں نقد رقم اور نان کیش چندہ اور وظائف ، اور خیراتی اداروں کاقیام ، مختلف دورہ جات، مضمون لکھنے کے مقابلوں، اخوان کی راتیں اور دیگر ثقافتی پروگرام جو ہر سال منعقد کیا جاتا ہے ان کی ضروریات کو فراہم کیا جاتا ہےاور حقیقی اسلام کی تعلیمات کو معاشرہ میں لانے کی کوشش کرتا ہے۔

    نظریات

    دستورات الہی طرف کی توجہ

    کویتول کا عقیدہ ہے کہ جوانی سے ہی انسان یہ احساس اور مشاہدہ کرتا ہے جس دنیا میں وہ زندگی گزار رہا ہے اس میں لوگ خدا کے احکامات سے زیادہ اپنے میلانات اور گفتار پر توجہ دیتا ہے اور یہ کہ خدا ان کی دنیا اور زندگی میں موجود نہیں ہے۔ اسی وجہ سے خدا کے حکمرانی کا حق غصب کیا گیا ہے۔ اس کی نگاہ میں خدا کی دنیا اور جہاں میں، جو خدا کہتا اور چاہتا ہے وہی انجام پانا چاہے۔

    مسلمانوں کو قرآن اور سنت کی رہنمائی حاصل کرنی ہوگی اور دین اسلام کی خدمت کا طریقہ کار، اپنے ذہنوں سے نہیں بلکہ خدا اور اس کے رسول سے حاصل کر لینا چاہے، اور اس طرح کے لازمی اور ممنوعہ چیز کے بارے میں اس طرح کی تفہیم اور حرام یا ان معاملات میں جو علماء کے مابین مورد اختلاف ہیں ان چیز کے بارے میں زیادہ سے زیادہ رواداری سے کام لینا چاہئے۔


    علمی افہام و تفہیم اور اسلامی ڈھانچے : یہ نہ صرف علوم انسانی بلکہ اسلامی علوم کو بھی اہمیت دیتا ہے اور علم اپنے لیے قطب نما قرار دیتا ہے۔علماء اور روشن فکروں کو میدان میں آنا چاہے۔ اسلامی علوم کو اہمیت نہ دینے سے قرآن مجید سے دور ہونے اور صراط مستقیم سے انحراف اور حرام چیز کو حلال قرار دینے جیسے خطرات سے سابقہ پڑسکتا ہے۔

    تیسرا ، اسلامی تفہیم اور ڈھانچے کی جامعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ قرآن فارمیسی میں انسانوں کو درکار تمام وٹامن اور ادویات موجود ہیں۔

    قرآن مجید کی جامعیت پر توجہ دینا: قرآن مجید نے وٹامن اور ادویات جیسے عقیدہ ، عبادت ، اخلاقیات ، جہاد ، حب اللہ اور تقویٰ جیسے ضروری چیزوں کاحکم دیا ہے۔ان میں سے ایک یا زیادہ وٹامنز کا استعمال کرنا اور باقی وٹامن اور ادویات کا استعمال نہ کرنا مسلمانوں کے زوال، کمزور اور بیمار مسلمانوں کے وجود میں آنے کا سبب بنتا ہے۔ لہذا ، قرآن کو ایک ایسی کتاب ہونی چاہئے جو ہر معاشرے اور مسلمان زیادہ سے زیادہ پڑھ سکتے ہیں۔ قرآن اور حدیث کے لئے کوئی کتاب پردہ نہیں ہونا چاہئے۔

    نسل نو کی تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت

    الپ ارسلان کویتول کا نظریہ ہے کہ مسلمانوں کی نجات کا انحصار دانشوروں کی اہم نسل کی تعلیم پر ہے ، اور ایسی نسلیں اپنے معاشرے کی رہنمائی اور اسلامی تہذیب کی تشکیل کے قابل ہو جائیں گے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے وہ اپنی زندگی نسل نو کی تعلیم اور تربیت اور اسلامی تہذیب کی تشکیل پر وقف کردی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خواہش امت کی رہنمائی کرنے والی ایک اہم نسل ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ دن رات کی تعلیم دے کر اس نسل کی تربیت کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنا سارا وقت اس کے لئے وقف کردیا ہے۔ یہ کئی سالوں سے اپنی تعلیمی اور خدمات کی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

    ترک حکومت کی پالیسیوں پر تنقید

    حالیہ برسوں میں ، اس نے عالم اسلام کے بارے میں ترک حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے ، جیسے: صیہونی حکومت کے ساتھ مذاکرت اور فلسطینی مسئلے کو کم اہمیت دینا، ترکی کا شام کی حکومت کو گرانے اس ملک کا مداخلت اور ترکی، امریکہ و اسرائیل کے تعاون سے جولانی کا برسرکار اقتدار آنا ، اور ترک قومی علاقہ جیسے کورڈسٹیزم سے متعلق ہے اور وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ اردگان ایک مغربی منصوبہ ہے ان کا خیال ہے کہ ترکی اور مغربی دنیا کے مابین حالیہ تناؤ میڈلز جیتنے کے عمل کا آغاز ہے جسے مغرب نے اردگان کو دیا ہے اور اب اسے دوبارہ حاصل کر رہا ہے۔

    گرفتاری

    آلپ ارسلان کویتول ، تمام علماء صالح افراد اور دانشوروں کی طرح جنہوں نے اسلام کو ایک اصول کے طور پر قبول کیا ہے اور اس کے لئے لڑی ہیں، بہت ساری پریشانیوں کا مقابلہ کیا اور اس پر ظلم کیا گیا ہے۔ وہ 30 سال سے زیادہ عرصے سے معاشرے کو زندہ کرنے کے لئے کام کر رہا ہے ، اور اپنے علمی تحقیقات کے ساتھ ، انہوں نے ترک لوگوں کو بہت سے اسلامی اور سیاسی امور کو واضح و اور روشن کیا ہے۔

    اسے 30 جنوری ، 2018 کو صبح 5:30 بجے اسپیشل آپریشن ٹیموں نے گرفتار کیا تھا ، اور تمام معائنے کے باوجود ، گھر میں کوئی مجرمانہ ثبوت نہیں ملا ، اور اس حقیقت کے باوجود کہ اس نے 8 فروری کو ، بولرین میں کوئی جرم نہیں کیا تھا۔ زندوں کی قبر (Dirilerin mezarı) نامی جیل میں «Bolu F tipi» میں پابند سلاسل کیا کیا ہے، گویا یہ کافی نہیں ہے ، اس نے یورپی ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی قید ور دیگر قیدیوں کے لئے دیئے گئے حقوق سے محروم رکھا گیا یہاں تک اس سے لائبریری میں جانے سے محروم کردیا۔

    تین سے نفر سے زیادہ اس سے ملنے کی اجازت نہیں ہے ، اور اس کے اہل خانہ کو ہر ہفتے اڈانا اور جیل کے درمیان سفر کرنا پڑتا تھا۔ اس کے پہلے کیس کا پہلا اجلاس 8 نومبر ، 2018 کو جاری کیا گیا تھا، لیکن اسے دوسرے معاملے سے رہا نہیں کیا گیا تھا ، اور 663 دن ، 22 ماہ کے بعد ، غیر منصفانہ گرفتاری 5 دسمبر ، 2019 کو جاری کی گئی تھی[1]۔

    حوالہ جات

    1. آلپ ارسلان کویتول کیست ؟؟ ؛ سنگ های بسته، سگ های باز(آلپ ارسلان کویتول کون ہے؟؟ - شائع شدہ از: 18 بہمن 1396ش- اخذ شدہ بہ تاریخ: 16 فروری 2025ء۔