اصول دین
اصول دین، تین بنیادی عقائد پر مشتمل ہیں: توحید، نبوت اور معاد۔ شیعہ عقیدے کے مطابق ان تین اصولوں کے ساتھ عدل اور امامت کو بھی اصولِ مذہب کی حیثیت حاصل ہے۔ پہلے تین اصولوں کا انکار انسان کو اسلام کے دائرے سے خارج کر دیتا ہے، جبکہ عدل اور امامت کے انکار سے انسان مذہبِ تشیع سے خارج ہوتا ہے، اسلام سے نہیں [1]۔
اعتقاد
شیعہ عقیدے کے مطابق اصولِ دین پر ایمان تحقیق اور دلیل کی بنیاد پر ہونا چاہیے، محض تقلید کی بنیاد پر نہیں [2]۔ جو شخص اصولِ دین پر ایمان نہیں رکھتا، وہ دین سے خارج سمجھا جاتا ہے۔
بعض رسالہ ہائے عملیہ کے آغاز میں بھی اصولِ دین کا ذکر کیا جاتا ہے۔ توحید، نبوت اور معاد دینِ اسلام کے مشترک اصول ہیں، جبکہ امامت اور عدل مذہبِ شیعہ کے مسلمہ اصول ہیں۔ لہٰذا جو شخص ان دونوں اصولوں پر ایمان نہیں رکھتا، وہ مذہبِ شیعہ سے خارج ہے، اگرچہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔
اصطلاح اصولِ دین کی تاریخ
یہ واضح نہیں کہ اصطلاح اصولِ دین کب رائج ہوئی اور سب سے پہلے کس نے اسے استعمال کیا۔ ممکن ہے کہ اصولِ خمسہ کی اصطلاح، جسے بظاہر پہلی مرتبہ معتزلی متکلم ابوالہذیل علاف نے استعمال کیا، اصطلاح اصولِ دین کے وجود میں آنے کا مقدمہ بنی ہو، کیونکہ معتزلہ کے نزدیک اصولِ خمسہ ہی ان کے بنیادی دینی اصول تھے [3]۔
ابن ندیم نے بھی ابوموسیٰ مردار کی طرف اصول الدین کے نام سے ایک رسالہ منسوب کیا ہے [4]۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تیسری صدی ہجری کے آغاز تک یہ اصطلاح ایک معروف اور رائج تعبیر بن چکی تھی۔
قرآن میں اصول اور فروعِ دین
اصول اور فروعِ دین کی یہ تقسیم قرآنی بنیاد رکھتی ہے، کیونکہ دین کے بنیادی عقائد، جیسے توحید، وحی، رسالت، نبوت، امامت، عدل، برزخ، قیامت وغیرہ، ان بنیادی تعلیمات میں شامل ہیں جنہیں قرآن مجید نے دین کے عنوان سے بیان کیا ہے۔ یہ اصول تمام انبیائے الٰہی، خصوصاً اولوالعزم پیغمبروں کے لیے بیان کیے گئے۔
ارشادِ الٰہی ہے: " شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ ۖ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ۚ " [5]۔
اللہ نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کی اس نے نوح کو وصیت کی تھی اور جس کی ہم نے تمہاری طرف وحی کی، اور جس کی ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو وصیت کی تھی کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔
یہ بنیادی اصول تمام آسمانی ادیان میں مشترک ہیں اور توحید، نبوت اور معاد کی صورت میں نمایاں ہوتے ہیں۔ لیکن جب قرآن عملی احکام، عبادات اور شریعتوں کا ذکر کرتا ہے تو ان میں مختلف امتوں کے درمیان فرق اور تنوع کو بیان کرتا ہے:
لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا ۚ" [6]۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک طریقہ مقرر کیا ہے۔
لہٰذا عملی احکام اور شریعتیں مختلف ادیان میں مختلف ہو سکتی ہیں، جبکہ دین کے بنیادی اصول آدم سے لے کر خاتم الانبیاء تک بنیادی طور پر ایک ہی رہے ہیں [7]۔ [8]۔
اصولِ دین کا مفہوم
اصولِ دین علمِ کلام کی ایک اصطلاح ہے اور اس سے مراد اسلام کے وہ بنیادی عقائد ہیں جنہیں قبول کرنے سے انسان مسلمان شمار ہوتا ہے [9]۔
ان عقائد کو اصولِ دین اس لیے کہا جاتا ہے کہ فقہ، اصولِ فقہ، تفسیر اور حدیث جیسے اسلامی علوم ان بنیادی اعتقادات پر قائم ہیں [10] ۔
اصولِ دین کے مقابلے میں فروعِ دین ہیں، جن سے مراد دین کے عملی احکام ہیں [11]۔ متکلمین نے اصولِ دین کے لیے مختلف اصطلاحات استعمال کی ہیں، مثلاً اصولِ اعتقادات، اصولِ ایمان، اصولِ اسلام، بنیادی ایمانی عقائد اور اسلامی اصول [12]۔
بعض علماء کے نزدیک اصولِ دین کی اصطلاح وسیع مفہوم رکھتی ہے اور اس میں تمام اعتقادی مسائل شامل ہو سکتے ہیں۔ بعض دیگر استعمالات میں اخلاقی اور فقہی مسائل کو بھی اصولِ دین کہا گیا ہے۔
مثال کے طور پر امام غزالی نے بعض فقہی اور اخلاقی مسائل کو بھی اصولِ دین کے ضمن میں بیان کیا اور نماز اور زہد کو بھی بنیادی دینی امور میں شمار کیا [13]۔
بعض علماء کے مطابق اصولِ دین ایک اصطلاحی عنوان ہے اور مختلف معانی میں استعمال ہو سکتا ہے۔ ایک اعتبار سے تمام اعتقادی مسائل کو اصولِ دین کہا جا سکتا ہے، جبکہ دوسرے اعتبار سے صرف ان بنیادی عقائد کو اصولِ دین کہا جاتا ہے جو تمام آسمانی ادیان یا کسی مخصوص دین یا مذہب کی بنیاد ہوں۔
مصباح یزدی کے مطابق، اصولِ دین ایک اصطلاحی اور قراردادی عنوان ہے، جسے مختلف معانی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک اعتبار سے دین کے تمام اعتقادی مسائل کو اصولِ دین کہا جا سکتا ہے۔ دوسرے اعتبار سے اصولِ دین کو صرف آسمانی ادیان یا کسی خاص دین کے بنیادی عقائد تک محدود کیا جا سکتا ہے [14]۔
اسی طرح اصولِ دین سے کسی مخصوص مذہب کے بنیادی عقائد بھی مراد لیے جا سکتے ہیں۔ مثلاً شیعہ عقیدے کے مطابق اصولِ دین پانچ ہیں: توحید، نبوت، معاد، عدل اور امامت۔
اسی طرح مرتضیٰ مطہری نے بھی شیعہ نقطۂ نظر سے اصولِ دین بیان کرتے ہوئے انہی پانچ بنیادی عقائد کو شمار کیا ہے [15]۔
شیعہ نقطۂ نظر سے اصولِ دین کو پانچ بنیادی عقائد کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے:
- توحید
- عدل
- نبوت
- امامت
- معاد
اصولِ دین کے ارکان
توحید
توحید سے مراد یہ عقیدہ ہے کہ تمام مخلوقات اور کائنات کا واحد خالق اور تمام امور کا حقیقی تدبیر کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے اور تخلیق و تدبیر میں اس کا کوئی شریک نہیں۔
توحید کی چار اہم قسمیں بیان کی جاتی ہیں:
- توحیدِ ذاتی
- توحیدِ صفاتی
- توحیدِ افعالی
- توحیدِ عبادی
نبوت
نبوت سے مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت پر ایمان رکھنا اور یہ عقیدہ رکھنا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کی ہدایت کے لیے آخری رسول ہیں۔
معاد
معاد سے مراد قیامت کے دن پر ایمان رکھنا اور اس بات پر یقین رکھنا ہے کہ تمام انسان اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے اور ان کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔
توحید، نبوت اور معاد کے یہ اصول تمام اسلامی مکاتبِ فکر کے نزدیک بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، اگرچہ بعض جزئیات اور ان کی تشریح میں اختلاف پایا جاتا ہے [16]۔
شیعہ علماء ان کے علاوہ عدل اور امامت کو بھی بنیادی اعتقادی اصولوں میں شمار کرتے ہیں۔
اصولِ دین میں تقلید جائز نہیں اور ہر مکلف پر ضروری ہے کہ وہ اپنی استعداد کے مطابق علم، دلیل اور یقین کی بنیاد پر ان اصولوں کو قبول کرے۔
اصولِ دین میں سے کسی بنیادی اصل کا انکار انسان کو دائرۂ اسلام سے خارج کر دیتا ہے [17]۔
اصولِ دین اور فروعِ دین میں فرق
لغت میں دین کے معنی اطاعت کے ہیں، جبکہ اصطلاح میں دین سے مراد کائنات اور انسان کے خالق پر ایمان اور اس عقیدے کے مطابق عملی احکام و ہدایات پر عمل کرنا ہے [18]۔
اس لحاظ سے دین کے دو بنیادی پہلو ہیں: اعتقادی پہلو اور عملی پہلو۔ اعتقادی پہلو کو اصولِ دین اور عملی پہلو کو فروعِ دین کہا جاتا ہے۔
وہ عقائد جن کا یقین عقل، دلیل اور تحقیق کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے، دین کی بنیاد اور اصل کہلاتے ہیں۔ ان بنیادی عقائد کو عموماً تین بڑے عنوانات کے تحت بیان کیا جاتا ہے:
- خدا شناسی
- نبوت یا رہبر شناسی
- معاد شناسی
ان بنیادی عقائد سے متعلق دیگر اعتقادی مسائل ان کی شاخوں اور لوازمات کے طور پر بیان کیے جاتے ہیں۔
دین کے عملی احکام، عبادات اور شرعی ذمہ داریوں کو فروعِ دین کہا جاتا ہے۔ ایک اہم فرق یہ بھی ہے کہ اصولِ دین میں تقلید جائز نہیں، جبکہ فروعِ دین میں انسان دینی مسائل کے ماہر اور مجتہد کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔ عملی احکام میں اہلِ علم اور ماہر کی رائے پر اعتماد کرکے اس کے مطابق عمل کرنے کو تقلید کہا جاتا ہے [19]۔
اصولِ دین میں تقلید یا تحقیق
بہت سے مسلمان متکلمین کا عقیدہ ہے کہ اصولِ دین میں تقلید جائز نہیں اور انسان کا ایمان تحقیق اور دلیل کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں بعض علماء نے اجماع کا دعویٰ بھی کیا ہے [20]۔
تقلید کے عدمِ جواز کے لیے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ جس شخص کی تقلید کی جا رہی ہے، اگر اس کے حق پر ہونے کا علم ہی نہ ہو تو اس کے غلط ہونے کا امکان موجود ہے، کیونکہ وہ بھی خطا اور جہالت سے محفوظ نہیں۔
اور اگر کسی شخص کو یہ معلوم ہے کہ جس کی وہ پیروی کر رہا ہے وہ حق پر ہے، تو یہ علم یا تو بدیہی طور پر حاصل ہوا ہوگا یا کسی دلیل سے۔ اگر دلیل سے حاصل ہوا ہے تو اس صورت میں اس شخص نے خود تحقیق اور استدلال سے اس کے حق پر ہونے کو پہچانا ہے، لہٰذا یہ محض تقلید نہیں رہی۔ اسی لیے اصولِ دین میں تحقیق، معرفت اور یقین پر زور دیا جاتا ہے [21]۔
عدل اور امامت پر خصوصی تاکید کی وجہ
شیعہ مذہب میں عدل اور امامت پر خصوصی تاکید ان دونوں عقائد کی اہمیت کی وجہ سے کی جاتی ہے۔
عدل اگرچہ صفاتِ الٰہی میں شامل ہے اور ایک لحاظ سے توحید کے مباحث سے متعلق ہے، لیکن عدلِ الٰہی کا مسئلہ اسلامی علمِ کلام میں انتہائی اہم رہا ہے۔ اسی مسئلے کی وجہ سے اشاعرہ اور عدلیہ کے درمیان بنیادی اختلاف پیدا ہوا۔
شیعہ امامیہ اور معتزلہ کو عدلِ الٰہی کے قائل ہونے کی وجہ سے عدلیہ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح امامت شیعہ عقیدے کی بنیادی خصوصیات میں سے ہے۔ شیعہ عقیدے کے مطابق امام اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہوتا ہے، [22]۔
جبکہ اہلِ سنت اس نظریے کو اس صورت میں قبول نہیں کرتے ۷۰ اسی بنیادی اختلاف کی وجہ سے امامت کو شیعہ مذہب کے اہم اعتقادی اصولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اہلِ سنت کے نزدیک اصولِ دین
اہلِ سنت کے مختلف کلامی مکاتب رہے ہیں، جن میں معتزلہ اور اشاعرہ خاص طور پر نمایاں ہیں۔
معتزلہ پانچ بنیادی اصولوں کے قائل تھے:
- توحید: اللہ تعالیٰ ذات اور صفات کے اعتبار سے یکتا ہے۔
- عدل: اللہ تعالیٰ ظلم اور قبیح کام انجام نہیں دیتا اور انسان کے افعال کے سلسلے میں عقل کے حسن و قبح کو اہمیت حاصل ہے۔
- منزلۃ بین المنزلتین:کبیرہ گناہ کا مرتکب نہ مکمل مومن ہے اور نہ کافر، بلکہ ایک درمیانی حالت میں ہوتا ہے۔
- وعد و وعید:اللہ تعالیٰ اپنے وعدے اور وعید کے خلاف عمل نہیں کرتا۔
- امر بالمعروف اور نہی عن المنکر:نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ایک بنیادی دینی ذمہ داری ہے۔
اشاعرہ نے اصولِ دین کو اسی ترتیب اور عنوان سے بیان نہیں کیا، بلکہ انہوں نے عقائد کو مختلف ارکان کے تحت بیان کیا۔
ان کے عقائد کے اہم مباحث میں یہ امور شامل ہیں:
پہلا رکن اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی یکتائی سے متعلق ہے، جس میں اللہ کے وجود، وحدانیت، قدیم ہونے اور جسم، جوہر اور مکان سے منزہ ہونے جیسے مباحث شامل ہیں۔
دوسرا رکن صفاتِ الٰہی سے متعلق ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا زندہ، قادر، صاحبِ ارادہ، سننے والا، دیکھنے والا اور کلام کرنے والا ہونا۔
تیسرا رکن اللہ تعالیٰ کے افعال، انسان کے اعمال، قدرتِ الٰہی، نبوت اور انبیاء کی بعثت سے متعلق مباحث پر مشتمل ہے۔
چوتھا رکن آخرت اور قیامت سے متعلق ہے، جس میں نکیر و منکر، عذابِ قبر، میزان، صراط، جنت، جہنم اور دیگر متعلقہ اعتقادات شامل ہیں۔
مجموعی طور پر تمام مسلمانوں کا اتفاق توحید، نبوت اور معاد جیسے بنیادی عقائد پر ہے، البتہ ان عقائد کی تشریح، تفصیلات اور بعض متعلقہ اعتقادی مسائل میں مختلف اسلامی مکاتبِ فکر کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
- ↑ علامه طباطبایی، آموزش دین، ۱۸
- ↑ سجادی، سید جعفر. فرهنگ معارف اسلامی
- ↑ (تعلیق) شرح الاصول الخمسه، ص۱۲۲-۱۲۳، بهکوشش عبدالکریم عثمان، نجف، ۱۳۸۳ق/۱۹۶۳م
- ↑ ابن ندیم، الفهرست، ج۱، ص ۲۰۷
- ↑ سورۂ شوری، آیۂ 13
- ↑ سورۂ مائدہ، آیۂ 48
- ↑ شریعت در آینه معرفت، عبدالله جوادی آملی، ص۱۰۰-۱۰۱؛ معالم النبوّة فی القرآن، جعفر سبحانی، ج۳، ص۱۱۹-۱۲۰۔
- ↑ ابراهیمزاده آملی، عبدالله، امامت و رهبری، ص:۷۲-۷۷
- ↑ مقدس اردبیلی، اصول دین، ص82
- ↑ مقدس اردبیلی، اصول دین، ص۲۸۲
- ↑ مصباح یزدی، آموزش عقاید، ۱۳۸۴ش، ص۱۲
- ↑ محمدی، «اصول دین: بررسی تعریف و مصادیق آن از دیدگاه متکلمان»، ص۹
- ↑ محمدی، «اصول دین: بررسی تعریف و مصادیق آن از دیدگاه متکلمان»، ص۷، ۸
- ↑ مصباح یزدی، آموزش عقاید، ۱۳۸۴ش، ص۱۴
- ↑ مطهری، مجموعه آثار، ۱۳۸۹ش، ج۳، ص۹۶
- ↑ جمعی از پژوهشگران زیر نظر سید محمود هاشمی شاهرودی، فرهنگ فقه مطابق مذهب اهلبیت (علیهمالسّلام)، جلد 1، ص 536
- ↑ فرهنگ فقه مطابق مذهب اهل البیت علیهمالسّلام به نقل از حاشیة مجمع الفائدة/730
- ↑ مصباح یزدی، محمد تقی، آموزش عقاید، قم، سازمان تبلیغات اسلامی، ۱۳۶۶ش، ج۱، ص۲۹
- ↑ کاشفی، محمد رضا، کلام شیعه، قم، پژوهشگاه علوم و فرهنگ اسلامی، ۱۳۸۶ش، ص۳۵
- ↑ انیس الموحدین، ص۲۲، حقائق الایمان، ص۵۹
- ↑ سیدمرتضی، ۱۶۴- ۱۶۵
- ↑ مطهری، مجموعه آثار، ج۳، صص ۶۹-۷۰