مندرجات کا رخ کریں

اسلامی دنیا کی آبی گذرگاہیں(مقاله)

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 21:27، 6 جون 2026ء از Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (Saeedi نے صفحہ مسودہ:اسلامی دنیا کی آبی گذرگاہیں(مقاله) کو اسلامی دنیا کی آبی گذرگاہیں(مقاله) کی جانب منتقل کیا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)

اسلامی دنیا کی آبی گذرگاہیں، (Waterways) دیگر بین الاقوامی آبی راستوں کی طرح دنیا میں رابطے کا کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر یہ گذرگاہیں قدرتی ہوں تو انہیں آبنائے / تنگہ کہا جاتا ہے اور اگر انسان نے انہیں تعمیر کیا ہو تو انہیں نہر یا کینال کہا جاتا ہے۔

قدرتی ہوں یا مصنوعی، بین الاقوامی آبنائیں دنیا کے اہم ترین اسٹریٹجک مقامات شمار ہوتی ہیں، کیونکہ یہ سمندری راستوں کو مختصر کرتی ہیں، بار برداری اور مسافر برداری میں سہولت پیدا کرتی ہیں، اور عالمی تجارت و معیشت پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔

دنیا میں ایک سو سے زیادہ سمندری آبنائیں موجود ہیں جن کی چوڑائی چالیس کلومیٹر (پچیس میل) سے کم ہے۔ آبناؤں اور آبی گذرگاہوں کی اہمیت عام طور پر ان عوامل سے ناپی جاتی ہے:

- روزانہ گزرنے والے جہازوں کی تعداد - سامان کی مقدار اور نوعیت - متبادل راستوں کی موجودگی یا عدم موجودگی - عسکری استعمال - جغرافیائی حساسیت (لمبائی، چوڑائی، گہرائی)

اسلامی دنیا میں مجموعی طور پر آٹھ اہم آبنائیں اور نہریں موجود ہیں جنہیں اہمیت کے اعتبار سے درج ذیل ترتیب میں بیان کیا جاتا ہے:

آبنائے جبل الطارق

یہ آبنائے اسپین اور مراکش کے درمیان واقع ہے۔ اس کی چوڑائی تقریباً 10 بحری میل (15.5 کلومیٹر)، لمبائی 35 بحری میل (65 کلومیٹر)، اور گہرائی 80 سے 600 میٹر ہے۔

یہ دنیا کی مصروف ترین بین الاقوامی آبی گذرگاہوں میں سے ایک ہے جو بحیرۂ روم کو بحرِ اوقیانوس سے ملاتی ہے۔ روزانہ تقریباً 150 جہاز اس تنگہ سے گزرتے ہیں۔ اہم اسٹریٹجک سامان میں شامل ہیں:

- جنوبی افریقہ سے کوئلہ - خلیج فارس کا تیل مغربی یورپ اور امریکہ کی طرف - بڑی تعداد میں مسافر بھی روزانہ عبور کرتے ہیں

آبنائے بسفر

یہ آبنا ترکی میں واقع ہے، جس کی:

- چوڑائی: 0.33 بحری میل (600 میٹر) - لمبائی: 17 بحری میل (31 کلومیٹر) - گہرائی: 49 میٹر

یہ بحیرۂ مرمرہ کو بحیرۂ اسود (Black Sea) سے ملاتا ہے۔ روزانہ تقریباً 50 جہاز گزرتے ہیں۔

آبنائے داردانل

اس کی:

- چوڑائی: 0.75 بحری میل (1.389 کلومیٹر) - لمبائی: 63 بحری میل (116.5 کلومیٹر) - گہرائی: 46 تا 91 میٹر

یہ بحیرۂ مرمرہ کو بحیرۂ ایجیئن (Aegean Sea) سے ملاتا ہے۔ روزانہ تقریباً 60 جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔

آبنائے باب المندب

یہ آبنا یمن، ایتھوپیا اور جیبوتی کے سواحل کے درمیان ہے۔ اس کی مخصوصات:

- چوڑائی: 10.5 میل (19 کلومیٹر) - لمبائی: 35 بحری میل (65 کلومیٹر) - گہرائی: 12 تا 183 میٹر

یہ خلیج عدن کو بحرِ احمر سے ملاتا ہے۔ روزانہ تقریباً 55 جہاز گزرتے ہیں۔ اہمیت: یورپ کی 70 فیصد تیل درآمدات اسی راستے سے گزرتی ہیں۔

آبنائے ہرمز

یہ آبنائے ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے۔ اس کی:

- چوڑائی: 21 میل (39 کلومیٹر) - لمبائی: 100 بحری میل (185 کلومیٹر) - گہرائی: 76 تا 213 میٹر

روزانہ تقریباً 80 جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔ یہ عالمی تجارتِ تیل کا اہم ترین راستہ ہے۔ بحرین، کویت اور عراق کی درآمدات مکمل طور پر اسی تنگہ پر منحصر ہیں۔

نہرِ سوئز (Suez Canal)

یہ نہر مصر میں واقع ہے، جس کی:

- چوڑائی: 584 فٹ (178 میٹر) - لمبائی: 101 بحری میل (187 کلومیٹر) - گہرائی: 16 میٹر

یہ بحیرۂ احمر کو بحیرۂ روم سے ملاتی ہے۔ روزانہ تقریباً 60 جہاز گزرتے ہیں۔ دنیا کے تیل کا بڑا حصہ اسی نہر سے گزرتا ہے۔

آبنائے تیران

یہ تنگہ مصر اور سعودی عرب کے درمیان ہے۔

- چوڑائی: 3 میل (5.5 کلومیٹر) - لمبائی: 7 بحری میل (13 کلومیٹر) - گہرائی: 73 تا 183 میٹر

روزانہ 10 سے کم جہاز گزرتے ہیں۔ اہمیت: یہ اردن کے بندرِ عقبہ اور اسرائیلی بندر ایلات تک رسائی کا واحد بحری راستہ ہے۔

آبنائے مالاکا

یہ تنگہ ملائیشیا اور انڈونیشیا کے جزیرہ سوماترا کے درمیان واقع ہے۔

- لمبائی: 805 کلومیٹر (435 میل) - چوڑائی: 40 تا 135 میٹر

یہ دنیا کی سب سے اہم تجارتی آبی گذرگاہوں میں سے ایک ہے، جو نہرِ سوئز اور پاناما کے ہم پلہ ہے۔ یہ تنگہ اقیانوسِ ہند کو بحرالکاہل (Pacific) سے ملاتا ہے اور یوں چین، بھارت اور انڈونیشیا جیسے آبادی کے لحاظ سے بڑے ممالک کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔

سالانہ 50 ہزار سے زیادہ جہاز گزرنے کی وجہ سے یہ عالمی تجارت کا 20 تا 25 فیصد حصہ سنبھالتا ہے۔ معنی خیز بات یہ ہے کہ دنیا کی آدھی سے زیادہ تیل تجارت اسی تنگہ سے ہوتی ہے۔[1]

متعلقه مضامین

حوالہ جات

  1. درایسدل، آلا سدیر و جرالداچ بلیک، جغرافیای سیاسی خاورمیانه و شمال آفریقا، ترجمه دره میر حیدر، دفتر مطالعات سیاسی و بین‌المللی وزارت خارجه، 1360. www.IranEconomics.net