آبنائے باب المندب

باب المندب آبنائے (عربی: باب المندب، جس کا مطلب ہے "آنوؤں کا دروازہ") بحیرہ احمر کے جنوب میں ایک تزویراتی آبی گزرگاہ ہے، جو اس سمندر کو خلیج عدن، بحیرہ عرب اور بالآخر بحیرہ ہند سے ملاتی ہے۔ یہ آبنائے ایشیا، افریقہ اور یورپ کے براعظموں کے درمیان ایک قدرتی پل کے طور پر جانی جاتی ہے اور عالمی تجارت، خاص طور پر تیل اور کنٹینرائزڈ سامان کی نقل و حمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ باب المندب آبنائے ہرمز اور آبنائے جبرالٹر کے بعد دنیا کی تیسری اہم ترین سمندری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ آبنائے جزیرہ نما عرب (ایشیا) میں یمن اور افریقہ کے ہارن میں جبوتی اور اریٹیریا کے درمیان واقع ہے۔ اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے، نہر سویز اور بحیرہ روم تک پہنچنے کے لیے اس آبنائے سے گزرنا ضروری ہے۔ اس آبنائے کی جغرافیائی اہمیت اس قدر ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔
تاریخ
باب المندب کی تشکیل کی تاریخ میوسین دور کے ٹیکٹونک واقعات سے جڑی ہوئی ہے۔ اس دور میں، "داناکیل" نامی ایک زمینی پٹی یمن اور ایتھوپیا کو آپس میں ملاتی تھی۔ گزشتہ ایک لاکھ سال کے دوران سمندر کی سطح میں اتار چڑھاؤ نے اس گزرگاہ کو بار بار کھلنے اور بند ہونے پر مجبور کیا۔
جدید انسان کے "حالیہ افریقی ماخذ" کے ماڈل کے مطابق، یہ آبنائے ممکنہ طور پر افریقہ سے باہر انسانی ہجرت کا پہلا مقام تھی، جب سمندر کی سطح نیچے تھی اور آبنائے کم گہری یا خشک تھی [1] ۔ "باب المندب" کا نام عربی دیومالائی کہانیوں سے نکلا ہے۔
ان کہانیوں کے مطابق، ایک شدید زلزلے نے افریقہ کے ہارن کو جزیرہ نما عرب سے الگ کر دیا، اور اس تباہی کے دوران بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی وجہ سے یہ آبنائے "آنوؤں کا دروازہ" کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کے علاوہ ماضی میں طوفان، تیز سمندری لہریں اور چھپی ہوئی چٹانیں جیسے قدرتی خطرات بھی اس نام کی وجوہات رہے ہیں۔
عصر حاضر کی تاریخ میں، برطانیہ نے 1799 عیسوی میں "پریم" جزیرے کو اپنی ہندوستانی سلطنت میں شامل کیا اور 1861 عیسوی میں اس جزیرے پر لائٹ ہاؤس نصب کر کے بحیرہ احمر اور نہر سویز کی طرف تجارتی راستوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ 1869 عیسوی میں نہر سویز کے کھلنے کے بعد، باب المندب کی تزویراتی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی اور یہ ایشیا اور یورپ کے درمیان مختصر ترین سمندری راستہ بن گیا[2]۔
جغرافیہ اور ساخت
آبنائے باب المندب، خلیج عدن کے ساحل پر واقع گاؤں 'ذباب' سے 36 کلومیٹر جنوب میں اور ساحلی شہر 'مخا' سے تقریباً 84 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس آبنائے کی چوڑائی اپنے تنگ ترین مقام پر (یمن میں راس منہلی سے جبوتی میں راس سیان تک) تقریباً 30 کلومیٹر ہے، اگرچہ کچھ ذرائع 22 سے 32 کلومیٹر کا فاصلہ بھی بتاتے ہیں۔ اس کی لمبائی تقریباً 70 سے 150 کلومیٹر کے درمیان تخمینہ لگائی گئی ہے۔ جزیرہ "پریم" (یا میون) آبنائے کے وسط میں واقع ہے، جو اسے دو اہم چینلز میں تقسیم کرتا ہے:
- مشرقی چینل (باب الاسکندر): تقریباً 3 کلومیٹر چوڑا اور 30 میٹر گہرا ہے۔ یہ راستہ زیادہ تنگ اور کم گہرا ہے اور بنیادی طور پر چھوٹی اور مقامی کشتیوں کی آمدورفت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس چینل میں پانی کا سطحی بہاؤ اندر (بحیرہ احمر) کی طرف ہے۔
- مغربی چینل (دقة المعیون):** تقریباً 25 کلومیٹر چوڑا اور 310 میٹر تک گہرا ہے۔ یہ آئل ٹینکرز، کنٹینر جہازوں اور بڑے تجارتی بحری جہازوں کے گزرنے کا مرکزی راستہ ہے۔ اس چینل میں زیرِ سطح پانی کا بہاؤ باہر (خلیج عدن) کی طرف ہے
[[3]۔
جبوتی کے ساحل کے قریب، "ہفت برادران" کے نام سے چھوٹے جزیروں کا ایک گروہ واقع ہے۔ اس آبنائے کے ارد گرد کے پہاڑ، بشمول تقریباً 300 میٹر بلند "جبال المندب"، "شیخ سعید" پہاڑ اور "منہلی" پہاڑ، اس خطے کی عسکری اور نگرانی کی حکمت عملی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
یمن کے ساحل پر واقع گاؤں "المندب"، جس کی آبادی تقریباً 809 نفوس پر مشتمل ہے، تاریخی اعتبار سے 'سبا' اور 'ذوریدان' کی سلطنتوں کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔
اقتصادی اور جغرافیائی اہمیت
آبنائے باب المندب عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ روزانہ تقریباً 3 سے 6 ملین بیرل خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات اس آبنائے سے گزرتی ہیں، جو دنیا بھر میں ٹینکروں کے ذریعے منتقل ہونے والے کل تیل کا تقریباً 9 سے 12 فیصد ہے۔
مزید برآں، سالانہ 20 ہزار سے زائد جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں، اور دنیا کا تقریباً 30 فیصد تیل اور 40 فیصد خشک مال بحیرہ احمر اور نہر سویز (جس کا آغاز باب المندب سے ہوتا ہے) کے راستے سے گزرتا ہے۔
ایران کے لیے اس آبنائے کی حفاظت دوگنا اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ ایران کی یورپ اور افریقہ کے ساتھ سمندری تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے ہوتا ہے۔ ایران کی جنوبی بندرگاہیں، جیسے بندر عباس اور چاہ بہار، بالواسطہ طور پر اس آبنائے میں نیویگیشن کی صورتحال پر منحصر ہیں۔
اسرائیل کے لیے بھی یہ آبنائے معاشی زندگی کی ضامن ہے۔ اسرائیل کی تقریباً 99 فیصد درآمدات سمندری راستے سے ہوتی ہیں، جن کا ایک بڑا حصہ بحیرہ احمر اور بندرگاہ 'ایلات' کے ذریعے ٹرانزٹ کیا جاتا ہے۔ آبنائے کا بند ہونا اسرائیل کی درآمدات و برآمدات کو مفلوج کر سکتا ہے، جن کی مالیت 2023 میں 270 بلین ڈالر سے زیادہ تخمینہ لگائی گئی تھی۔
حالیہ برسوں میں اسرائیل سے منسلک جہازوں پر یمن کے انصار اللہ کے حملوں نے اس آبی گزرگاہ کی سیکیورٹی کے حوالے سے اسرائیل کے شدید تزویراتی کمزور پہلو کو نمایاں کیا ہے[4]۔
کنٹرول اور سیکیورٹی
آبنائے باب المندب بین الاقوامی پانیوں میں واقع ہے اور سمندری قوانین کے تحت تمام جہازوں کو یہاں سے پرامن گزرنے کا حق حاصل ہے۔ تاہم، اس کا عملی اور سیکیورٹی کنٹرول پیچیدہ ہے۔
آبنائے کے ارد گرد یمنی ساحلوں کا ایک اہم حصہ یمن کے انصار اللہ کے زیر اثر ہے، اور اس گروپ نے حالیہ برسوں میں جہازوں کو دھمکیاں دے کر یا ان پر حملے کر کے خطے کی سیکیورٹی کے حوالے سے اپنی سودے بازی کی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔
دوسری جانب، امریکہ، یورپی ممالک اور خطے کے کچھ ممالک بحری جہازوں کی حفاظت اور اپنے تزویراتی مفادات کے تحفظ کے لیے اس خطے میں فوجی موجودگی رکھتے ہیں۔
کسی بھی قسم کا تناؤ یا آبنائے کا ممکنہ بند ہونا تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے، عالمی سپلائی چین میں خلل اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے کا باعث بنے گا۔ اگر آبنائے بند ہو جائے تو جہازوں کو افریقہ کے براعظم کا چکر لگانا پڑے گا، جس سے سفر کے دورانیے میں 10 سے 14 دن کا اضافہ ہو جائے گا۔ حالیہ برسوں میں، خطے میں کشیدگی بڑھی ہے
اور تنازعات کے شدت اختیار کرنے کی صورت میں علاقائی اداکاروں کی جانب سے آبنائے کو بند کرنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں، جس نے توانائی کی سیکیورٹی اور سمندری تجارت کے بارے میں عالمی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ در مورد باب المندب در ویکی تابناک بیشتر بخوانید-اخذ شدہ بہ تاریخ: 25 مئی 2026ء
- ↑ تنگه باب المندب کجاست و چه اهمیتی دارد؟ - شائع شدہ از: 10 فروردین 1405ش-اخذ شدہ بہ تاریخ: 25 مئی 2026ء
- ↑ https://aslforwarder.com/blog/%D8%AA%D9%86%DA%AF%D9%87-%D8%A8%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%86%D8%AF%D8%A8/ تنگه باب المندب کجاست و چه اهمیتی دارد؟]-اخذ شدہ بہ تاریخ: 25 مئی 2026ء
- ↑ اهمیت ژئوپلتیکی تنگه باب المندب و تاثیر آن بر امنیت اقتصادی رژیم صهیونیستی-شائع شدہ از: 2 بہمن 1042ش-اخذ شدہ بہ تاریخ: 25 مئی 2026ء