ڈونلڈ ٹرمپ
| ڈونلڈ ٹرمپ | |
|---|---|
| پورا نام | ڈونلڈ جان ٹرمپ |
| ذاتی معلومات | |
| یوم پیدائش | 14 جون |
| پیدائش کی جگہ | امریکا، نیویارک کے علاقے کوئنز میں |
| مناصب | امریکہ کے 47ویں اور 45ویں صدر |
ڈونلڈ جان ٹرمپ ایک امریکی سیاست دان، ماہرِ اقتصادیات اور تاجر ہیں۔ وہ 5 نومبر 2024 ء کو ہونے والے امریکہ کے صدارتی انتخابات میں 277 الیکٹورل ووٹ حاصل کر کے امریکہ کے صدر منتخب ہوئے۔ اس سے قبل وہ 8 نومبر 2016 ء کو ہونے والے انتخابات میں 306 الیکٹورل ووٹ حاصل کر کے، ہیلری کلنٹن کے 232 ووٹوں کے مقابلے میں کامیاب ہوئے تھے۔
امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی مذاکرات کی تجدید، آزاد تجارتی معاہدوں (جیسے ٹرانس پیسفک پارٹنرشپ) کی مخالفت، امریکہ کے امیگریشن قوانین کو سخت بنانا اور مکزیک ـ ریاستہائے متحدہ امریکا سرحد پر دیوار کی تعمیر، سابق فوجیوں کی نگہداشت میں اصلاحات، ’’افورڈ ایبل کیئر ایکٹ‘‘ کی جگہ متبادل قانون، ٹیکسوں میں کمی اور خارجہ پالیسی میں عدم مداخلت کی حمایت، ٹرمپ کے سیاسی مؤقف میں شامل ہیں۔
اس کے علاوہ برجام سے امریکہ کا انخلا، ایران کے خلاف وسیع پابندیوں کا نفاذ، سردار شہید حاج قاسم سلیمانی کے قتل کا حکم دینا اور ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی اختیار کرنا، ایران کے عوام کے خلاف ان کے اقدامات میں شمار ہوتا ہے اور اسپسٹین فائلز میں ان کا نام سب سے زیاده آیا هے۔
سوانح عمری
ڈونلڈ جان ٹرمپ 14 جون 1946 ء کو نیویارک شہر کے علاقے کوئنز میں پیدا ہوئے۔
تعلیم
ٹرمپ نے دو سال برانکس میں واقع فورڈھم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی، اس کے بعد وہ یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے وارٹن اسکول منتقل ہوگئے، کیونکہ وارٹن امریکہ کی ان چند جامعات میں سے ایک تھی جہاں رئیل اسٹیٹ کی تعلیم دی جاتی تھی۔ انہوں نے 1968 ء میں معاشیات میں بیچلر ڈگری حاصل کی۔[1]
ذاتی زندگی
ٹرمپ نے 1977 ء میں نیویارک میں چیک نژاد ماڈل ایوانا ٹرمپ سے شادی کی۔ ان کے تین بچے ہیں: ڈونلڈ جونیئر، ایوانکا ٹرمپ اور ایرک۔ ایوانا نے 1988 ء میں امریکی شہریت حاصل کی اور 1991 ء میں دونوں میں طلاق ہوگئی۔
1993 ء میں ٹرمپ نے اداکارہ مارلا میپلز سے شادی کی، جن سے ان کی ایک بیٹی ٹفنی ہے۔ دونوں 1999 ء میں الگ ہوگئے۔
1998 ء میں ٹرمپ کی ملاقات سلووینیا سے تعلق رکھنے والی ماڈل میلانیا کناوس سے ہوئی اور 2005 ء میں فلوریڈا کے پام بیچ میں ان سے شادی کی۔ میلانیا نے 2006 ء میں امریکی شہریت حاصل کی اور اسی سال ان کے بیٹے بیرن کی پیدائش ہوئی۔[2]
سرگرمیاں
اقتصادی سرگرمیاں
ٹرمپ تقریباً 45 سال تک ’’ٹرمپ آرگنائزیشن‘‘ کے سربراہ رہے، جو کہ رئیل اسٹیٹ کی تعمیراتی کمپنی ہے اور جس کی بنیاد ان کے خاندان نے رکھی تھی۔ ان کی سرگرمیوں میں تجارتی عمارتوں، ہوٹلوں، کیسینو اور گالف کورسز کی تعمیر شامل تھی۔
وہ 2004 ء سے 2015 ء تک NBC کے مشہور ریئلٹی شو ’’دی اپرنٹس‘‘ کے میزبان بھی رہے، جس کے باعث انہیں ہالی ووڈ واک آف فیم میں ایک ستارہ دیا گیا۔ فوربس میگزین نے 2017 ء میں ان کی دولت کا تخمینہ 3.5 ارب ڈالر لگایا اور انہیں دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل کیا۔
سیاسی سرگرمیاں
ٹرمپ نے وقت کے ساتھ مختلف سیاسی مؤقف اختیار کیے اور کبھی ریپبلکن، کبھی ڈیموکریٹ اور کبھی آزاد سیاسی وابستگی ظاہر کی۔ انہوں نے مختلف ادوار میں دونوں بڑی جماعتوں کے امیدواروں کو مالی مدد بھی فراہم کی۔
صدارتی انتخابات میں شرکت
16 جون 2015 ء کو ٹرمپ نے نیویارک کے ٹرمپ ٹاور سے 2016 ء کے صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی نامزدگی کے لیے اپنی امیدواری کا اعلان کیا۔ ان کی انتخابی مہم کا مرکزی نعرہ تھا: ’’امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں‘‘۔
ابتدائی انتخابات
ریپبلکن پارٹی کے ابتدائی انتخابات میں 17 امیدوار شریک تھے جو امریکی تاریخ کا سب سے بڑا ابتدائی انتخاب تھا۔ ٹرمپ نے اس مرحلے میں زیادہ تر ڈیلیگیٹس حاصل کیے اور بالآخر پارٹی کے متوقع امیدوار بن گئے۔
عام انتخابات
عام انتخابات میں ٹرمپ کا مقابلہ ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن سے ہوا۔ ابتدائی سروے میں کلنٹن کو برتری حاصل تھی، لیکن جولائی 2016 ء میں دونوں کے درمیان مقابلہ برابر ہوگیا۔
45ویں صدارتی انتخابات میں کامیابی
8 نومبر 2016 ء کو ٹرمپ نے 306 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے جبکہ کلنٹن کو 232 ووٹ ملے۔ اگرچہ عوامی ووٹوں میں کلنٹن کو زیادہ ووٹ ملے، لیکن الیکٹورل کالج کی بنیاد پر ٹرمپ صدر منتخب ہوگئے۔
مواخذہ (Impeachment)
19 دسمبر 2019 ء کو امریکی ایوان نمائندگان نے ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا اور ان پر اختیارات کے غلط استعمال اور کانگریس کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا۔ بعد ازاں امریکی سینیٹ نے انہیں ان الزامات سے بری قرار دے دیا۔[3]
47ویں صدارتی انتخابات میں کامیابی
5 نومبر 2024 ء کو ہونے والے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے 277 الیکٹورل ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی جبکہ ان کی حریف کامالا ہیرس کو 224 ووٹ ملے۔[4]
متنازعہ مؤقف
ٹرمپ کے سیاسی مؤقف میں چین کے ساتھ تجارتی مذاکرات کی تجدید، آزاد تجارتی معاہدوں کی مخالفت، امیگریشن قوانین کو سخت کرنا، اور میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر شامل ہے۔ اسی طرح مسلمانوں اور تارکین وطن کے بارے میں ان کے بیانات نے صدارتی انتخابی مہم کے دوران وسیع تنازع پیدا کیا۔[5]
ایران کے خلاف ٹرمپ کے اقدامات
ایرانیوں کے امریکہ داخلے پر پابندی
ٹرمپ کے ابتدائی اقدامات میں سے ایک چند ممالک کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے کی پابندی تھی جس میں ایران بھی شامل تھا۔
قانون CAATSA
11 مرداد 1396 ھ ش کو ٹرمپ نے ’’قانون مقابله با دشمنان آمریکا از طریق تحریم‘‘ (CAATSA) پر دستخط کیے جس کے تحت ایران، روس اور شمالی کوریا پر نئی پابندیاں عائد کی گئیں۔
برجام سے امریکہ کا انخلا
18 اردیبهشت 1397 ھ ش کو ٹرمپ نے باضابطہ طور پر امریکہ کو برجام سے نکالنے کا اعلان کیا اور ایران کے خلاف نئی پابندیاں نافذ کیں۔
سپاہ پاسداران کو دہشت گرد قرار دینا
19 فروردین 1398 ھ ش کو ٹرمپ نے سپاه پاسداران انقلاب اسلامی کو امریکی فہرست میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔
ایران کی تیل برآمدات کو صفر کرنے کی کوشش
ٹرمپ حکومت نے ایران کی تیل برآمدات کو صفر تک پہنچانے کی پالیسی اپنائی اور اس مقصد کے لیے متعدد اقتصادی پابندیاں عائد کیں۔
زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی
ٹرمپ دور میں ایران پر 1500 سے زیادہ پابندیاں لگائی گئیں جن میں بینکنگ، تیل، پیٹروکیمیکل، نقل و حمل اور مختلف صنعتی شعبے شامل تھے۔
سرکاری دہشت گردی
13 دی 1398 ھ ش کو ٹرمپ کے براہ راست حکم پر شہید حاج قاسم سلیمانی اور ابو مهدی المهندس کو بغداد ایئرپورٹ کے قریب امریکی ڈرون حملے میں شہید کیا گیا۔
ایران کے خلاف مسلسل دھمکیاں
ٹرمپ نے ایران کے خلاف متعدد سیاسی اور فوجی دھمکیاں بھی دیں، جن میں ایران کے 52 مقامات کو نشانہ بنانے کی دھمکی شامل تھی۔[6]
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
منابع
- زندگینامہ، تابناک، تاریخ درج مطلب: بیتا، تاریخ مشاہدہ:28/ مارچ/2026۔
- نتیجہ انتخابات ریاستجمهوری 2024 آمریکا/ ترامپ با کسب حدنصاب آرای الکترال رئیسجمهور آمریکا شد، خبرگزاری میزان، تاریخ درج مطلب:6/نومبر/2024، تاریخ مشاہدہ: 28/مارچ/2026۔
- دونالد ترامپ کیست؟، شبکه العالم، تاریخ درج مطلب: 9/ نومبر/2016، تاریخ مشاہدہ:28/ مارچ/ 2026۔
- کارنامه ضد ایرانی پیمان شکن ترین سیاستمدار جهان، همشهری آنلاین، تاریخ درج مطلب:6/ نومبر/ 2024، تاریخ مشاہدہ:28/مارچ /2026ء