حسین وحید خراسانی
| حسین وحید خراسانی | |
|---|---|
| پورا نام | حسین وحید خراسانی |
| دوسرے نام | آیتالله العظمی وحید خراسانی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1299 ش، 1921 ء، 1338 ق |
| پیدائش کی جگہ | ایران، صوبه خراسان نیشابور |
| اساتذہ |
|
| شاگرد | مهدی شبزندهدار، سید محمدرضا مدرسی یزدی، سید علی میلانی |
| مذہب | اسلام، شیعه |
| اثرات |
|
| مناصب |
|
حسین وحید خراسانی، معاصر شیعہ مراجعِ تقلید میں سے ہیں۔ وہ قم میں مقیم ہیں اور سید ابوالقاسم خوئی، مرزا مہدی اصفہانی اور سید محسن حکیم کے شاگرد رہے ہیں۔ فقہ اور اصول میں ان کا درسِ خارج، حوزۂ علمیہ قم کے سب سے زیادہ پررونق دروس میں شمار ہوتا ہے۔ وہ طلبہ کی جانب سے فلسفہ کی تعلیم کے مخالف ہیں اور قرآن اور روایات کو انسان کے لیے درکار تمام معارف کا جامع سمجھتے ہیں۔ ان کی تصانیف میں آشنایی با اصولِ دین، شرحِ شرائع الاسلام، کفایہ پر حاشیہ اور مکاسبِ محرّمہ پر حاشیہ شامل ہیں۔
سوانح حیات
ان کی پیدائش ۱ فروردین ۱۳۰۰ شمسی (۱۱ رجب ۱۳۳۹ قمری) کو نیشابور میں ہوئی، جو مشہدِ مقدس سے تقریباً ۱۲۰ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ وہ ایک متقی اور پرہیزگار خاندان میں پیدا ہوئے۔
تعلیم
انہوں نے بچپن کا زمانہ گزارنے اور ادبیات پڑھنے کے بعد ابتدائی اور اعلیٰ سطح کی تعلیم مرحوم آیت اللہ شیخ محمد نہاوندی صاحبِ تفسیر سے حاصل کی۔ اس کے بعد فقہ و اصول کے درسِ خارج، نیز فلسفہ، حکمت اور عقلی علوم کو ایران اور نجفِ اشرف کے اس زمانے کے بزرگ علماء سے سیکھا۔ اپنی فطری صلاحیت اور فکری نبوغ کی بنا پر وہ فقہ اور اجتہاد کے اعلیٰ درجات تک پہنچ گئے۔
اجازۂ اجتہاد
سن ۱۳۲۷ شمسی میں ری میں آیت اللہ حجت کوہکمرہای کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ علمی گفتگو کے بعد انہیں اجتہادِ مطلق کی اجازت حاصل ہوئی۔
مرجعیت
سن ۱۳۷۳ شمسی میں مرجعِ تقلید محمدعلی اراکی کے انتقال کے بعد، جامعۂ مدرسینِ حوزۂ علمیہ قم نے سات فقہاء کو ایسے افراد کے طور پر متعارف کرایا جن کی تقلید جائز ہے، جن میں وحید خراسانی بھی شامل تھے۔
تدریس
سن ۱۳۹۰ قمری میں وہ ایران واپس تشریف لائے۔ علمائے خراسان اور فضلاء کے اصرار، نیز بعض مراجعِ تقلیدِ عظام کے حکم پر انہوں نے ایک سال تک حوزۂ علمیہ مشہد میں تدریس فرمائی، اور اس کے بعد حوزۂ علمیہ قم کی طرف ہجرت کی۔
اب وہ قم میں فقہ و اصولِ فقہ کے درسِ خارج میں مصروف ہیں۔ ان کا درس نہایت دقیق اور علمی اعتبار سے بلند پایہ ہے، جس میں سینکڑوں فاضل اہلِ علم شریک ہوتے ہیں۔ وہ مسائلِ فقہیہ میں باریک بینی، اصولِ فقہ پر گہری توجہ، اور فروعِ فقہیہ کی واضح تبیین کے لیے معروف ہیں۔
ان کا درسِ خارجِ اصول صبح ، اور درسِ خارجِ فقہ عصر کے وقت، اذانِ مغرب سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے مسجدِ اعظم قم میں منعقد ہوتا رها ہے۔ ان کے فقہ و اصول کے دروس حوزۂ علمیہ قم کے سب سے زیادہ پررونق اور ازدحام والے جلسات میں شمار کیے جاتے ہیں۔
اساتذہ
آیتالله وحید خراسانی نے اپنے دورِ تحصیل میں متعدد عظیم علماء اور مراجعِ کرام سے علمی استفادہ کیا۔ ان کے نمایاں اور مؤثر اساتذہ درج ذیل ہیں:
- آیتالله شیخ محمد نهاوندی؛
- آیتالله میرزا مهدی اصفهانی؛
- آیتالله میرزا مهدی آشتیانی؛
- آیتالله میرزا ابوالقاسم الهی؛
- آیتالله حجت کوه کمرهای؛
- آیتالله میرزا عبدالهادی شیرازی؛
- آیتالله سید محسن حکیم؛
- آیتالله سید ابوالقاسم خوئی.
نمایاں شاگرد آیتالله حسین وحید خراسانی نے اپنی طویل تدریسی زندگی میں متعدد ممتاز علماء و فضلاء کی تربیت فرمائی، جو آج حوزۂ علمیہ قم اور دیگر علمی مراکز میں صاحبِ نام و اثر ہیں۔ ان کے چند نمایاں شاگرد درج ذیل ہیں:
- مهدی شبزندهدار؛
- سید محمدرضا مدرسی یزدی؛
- سید محمدجواد علوی بروجردی؛
- سید علی میلانی؛
- میر سید محمد یثربی.
تصنیفات
آیتالله وحید خراسانی کے علمی آثار نہایت متنوع اور وقیع ہیں۔ ان کی متعدد تصانیف فقہ و اصول کے موضوعات پر مشتمل ہیں، جو مرحوم آیتالله سید ابوالقاسم خوئی اور دیگر بزرگ علماء کے دروس و تقریرات پر مبنی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے بعض دیگر اہم علمی آثار بھی ہیں، جن میں درجِ ذیل کتب قابلِ ذکر ہیں:
- آشنایی با اصول دین (اصول عقائد شیعه)؛
- شرح بر شرایع الاسلام؛
- حاشیه بر کفایةالاصول؛
- حاشیه بر مکاسب محرمه؛
- حاشیه بر عروةالوثقی؛
- مصباح الهدی و سفینة النجاة (مشتمل بر ۲۷ جلسه از بیانات معظّمله، درباره حضرت سیدالشهدا علیهالسّلام)؛
- مناسک حج؛
- توضیح المسائل (رساله عملیه)؛
- احکام مهاجران؛
- حلقه وصل رسالت و امامت؛
- به یاد اول مظلوم روزگار؛
- ریحانه رسول الله؛
- به یاد آن که مذهب حق یادگار اوست؛
- به یاد بضعه خاتم الانبیاء در طوس حضرت شمس الشموس؛
- به یاد آخرین خلیفه و حجت پروردگار.
نظریات اور افکار
- آیتالله وحید خراسانی کے نمایاں فکری اور نظریاتی مؤقف درج ذیل ہیں:
- حوزاتِ علمیہ کا استقلال اور ان کا کسی فرد یا شخصیت سے وابستہ نہ ہونا؛
- شیعہ اور اہلِ سنت کے درمیان معقول اور منطقی تعامل کی ضرورت؛
- کفار کے حملے کی صورت میں اہلِ سنت کے دفاع کو شیعہ پر واجب سمجھنا؛
- نظام کے مقابلے میں عمل کرنے اور نظام کو کمزور کرنے والے اقدامات کی حرمت؛
- فلسفہ کی مخالفت اور اس عقیدے پر اصرار کہ قرآن اور روایات انسان کے لیے درکار تمام معارف کے لیے کافی ہیں۔[1]
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ مروری بر زندگی آیت الله العظمی وحید خراسانی (زبان فارسی) درج شده تاریخ: ۲۳/فروری/۲۰۲۱ء اخذشده تاریخ: ۷/ فروری/۲۰۲۶ء