محمد مدنی
| محمد مدنی | |
|---|---|
| پورا نام | محمد مدنی |
| دوسرے نام | شیخ محمد مدنی، شیخ الاسلام گنابادی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1310 ش، 1932 ء، 1349 ق |
| یوم پیدائش | 1 شهریور |
| پیدائش کی جگہ | ایران شهر گناباد، خیبری علاقه |
| وفات | 1400 ش، 2022 ء، 1442 ق |
| یوم وفات | 12 دی |
| اساتذہ |
|
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| اثرات |
|
| مناصب |
|
“محمد مدنی، جنہیں ناشر الاسلام گناباد کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک معروف عالم دین تھے اور انہوں نے بہائیت، تصوف، بدعتوں اور جھوٹے عرفان کے دعویداروں کے انحرافات کے خلاف جدوجہد میں پیش پیش رہے۔ کئی سالوں کی علمی اور تبلیغی مجاہدات کے بعد، وہ سنہ 1400 شمسی (ہجری شمسی کیلنڈر کے مطابق) میں وفات پا گئے۔ ان کی تصانیف میں سے ‘میزان المطالب’، ‘عارف و صوفی چہ می گویند؟’ (عارف اور صوفی کیا کہتے ہیں؟)، اور ‘بہائی چہ می گوید؟’ (بہائی کیا کہتا ہے؟) شامل ہیں۔”
سوانح حیات
محمد مدنی، جو ناشر الاسلام گناباد کے نام سے مشہور ہیں، 1310 شمسی میں شهر گناباد کے گاؤں خیبری میں پیدا ہوئے۔
تعلیم
ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، انہوں نے اپنے والد حجت الاسلام حاج شیخ ذبیح اللہ مدنی کے ہاں عربی علوم کی تعلیم حاصل کی۔
1324 شمسی میں، مزید تعلیم کے لیے وہ مشہد کے حوزہ علمیہ میں چلے گئے، جہاں انہوں نے ادیب نیشابوری سے سیوطی، مغنی اور مطول کی کتب پڑھیں، حاج مرزا احمد یزدی سے لمعہ حاصل کی، آیت اللہ حاج شیخ ہاشم قزوینی سے مکاسب المسائل پڑھی، اور جواد آقای تہرانی سے ملاّ حاجی سبزواری کی الٰہیات منظومہ کا علم حاصل کیا۔
مشہد کے علماء سے فیض یاب ہونے کے بعد، وہ مزید تعلیم کے لیے نجف اشرف گئے، جہاں انہوں نے نجف کے حوزہ علمیہ کے اساتذہ سے استفادہ کیا، جن میں سید ابوالقاسم خوئی کے اصول کے درس، اور سید محمود شاہرودی اور آیت اللہ بجنوردی کے فقہ کے دروس شامل تھے۔
تصانیف
- میزان المطالب؛
- عارف و صوفی چہ می گویند؟ (عارف اور صوفی کیا کہتے ہیں؟)؛
- بہائی چہ می گوید؟ (بہائی کیا کہتا ہے؟)۔
گنابادی صوفیوں کے خلاف جدوجہد کی ابتداء
شیخ محمد مدنی نے نجف اشرف میں چند سال قیام کے بعد، 1337 شمسی میں گناباد واپس آ گئے اور خیبری کے گاؤں میں مستقر ہوئے۔ 7 محرم کے روز، جب انہوں نے دیکھا کہ حسینی مجالس نوحہ خوانی حسینی، ملا سلطان کے قبر پر پاؤں جڑ کر چلتی ہوئی آ رہی ہیں، تو اس بدعت کو روکنے کے لیے گاؤں کے بزرگوں سے بات چیت کی۔
بزرگوں سے مایوس ہونے کے بعد، وہ لوگوں کے پاس گئے اور 7 محرم کی رات جامع مسجد میں دو نمازوں کے درمیان اس موضوع پر ایک پرجوش خطاب کیا۔ لوگوں کی آواز بلند ہوئی اور انہوں نے شکایت کی کہ انہیں زبردستی ملا سلطان کے قبرستان لے جایا جاتا ہے۔
اس تقریر کے بعد، حسینی مجالس قطب دراویش کے قبرستان نہیں گئیں، اور اس وجہ سے بیدخت خانقاہ کے سربراہ قطب حسن نے شیخ محمد مدنی کے خلاف کارروائی شروع کر دی اور ان کی تکفیر، تبعید اور قید کی۔ یہ واقعہ شیخ محمد مدنی کی گناباد دراباویش فرقہ کے انحرافات کے خلاف جدوجہد کی ابتدا تھی۔[1]
امور حسبیہ اور شرعیہ میں امام خمینی (رہ) کی طرف سے اجازت نامہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
26 ذی القعدہ 1407 ہجری قمری۔
تمام جہانوں کے رب کی حمد ہے، اور محمد اور ان کی پاک آل پر درود و سلام ہو، اور ان کے تمام دشمنوں پر اللہ کی لعنت ہو۔
اور اس کے بعد، جناب حجت الاسلام آقای حاج شیخ محمد مدنی گناباد، دامت توفیقاتہ (اللہ ان کی توفیقات میں اضافہ کرے)، میری طرف سے امور حسبیہ (عبادات سے متعلق انتظامی امور) انجام دینے، شرعی واجبات وصول کرنے، کفارات اور بندوں کے مظالم کی رقوم اور زکوٰۃ کو مقررہ شرعی مصارف میں خرچ کرنے کے مجاز ہیں۔
اورسهمین مبارکین کے معاملے میں بھی، وہ سهم مبارک امام علیہ السلام کو اپنے مصارف میں کفایت شعاری کے ساتھ، اور اپنے ذاتی اخراجات کے مازاد کا ایک تہائی حصہ، اورسهم سادات کا نصف حصہ بھی مقامی طور پر مقررہ موارد میں خرچ کرنے کے مجاز ہیں۔ اور باقی ماندہ کو کلمہ طیبہ اسلام کی سربلندی کے لیے میرے پاس ارسال کریں۔
میں انہیں (اللہ تعالی ان کی تائید کرے) ان امور کی وصیت کرتا ہوں جن کی وصیت صالحین نے کی ہے: تقویٰ کو لازم پکڑیں، خواہشات سے اجتناب کریں، اور دین و دنیا کے معاملات میں احتیاط کے مضبوط رسّے کو تھامے رہیں۔ سید روالله موسوی خمینی[2]
وفات
بالآخر، شیخ محمد مدنی نے سالوں کی علمی اور تبلیغی جدوجہد کے بعد، 12 دی 1400 شمسی کو 90 سال کی عمر میں گناباد میں وفات پا گئے۔
حوزہ علمیہ کے تبلیغ اور ثقافتی امور کے معاونت کا تسلیت نامه
بسم اللہ الرحمن الرحیم
... إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَیْهِ رَاجِعُونَ [بقره–156]
«إِذَا مَاتَ الْعَالِمُ ثُلِمَ فِی الْإِسْلَامِ ثُلْمَةٌ لَا یَسُدُّهَا شَیْءٌ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ»
ہم حضرت ولی عصر، امام زمان (عج) اورگناباد کے معزز لوگوں اور خاص طور پر مرحوم کے محترم خاندان کو عالم مجاہد، محافظ مکتب اہل بیت (علیہم السلام)، حجت الاسلام والمسلمین آقای حاج شیخ محمد مدنی (ناشر الاسلام گنابادی) رحمۃ اللہ علیہ کے وفات پر تعزیت اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اللہ سے ان کے لیے اعلیٰ درجے اور اللہ کے أولیاء کے ساتھ حشر کے لیے دعا کرتے ہیں۔[3]
تبلیغ اور ثقافتی امور کے معاونت، حوزہ علمیہ
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ ، ناشر الاسلام گنابادی کی زندگی کا ایک مختصر جائزہ پایگاه جامع فرق و ادیان کی ویب سائٹ.( زبان فارسی) درج شده تاریخ: 21/ اپریل/ 2013ء اخذ شده تاریخ: 20/ جنوری /2026ء
- ↑ امورحسبیہ اور شرعیه میں جناب محمد مدنی گنابادی کے نام( امام خمینی کا) اجازت نامہ، ، امام خمینی پورٹل کی ویب سائٹ( زبان فارسی) درج شده تاریخ: ... اخذشده تاریخ: 20 / جنوری/ 2026ء
- ↑ ملک بھر کے دینی مدارس کی تبلیغی شعبے کی طرف سے گناآباد کے لوگوں کے نام تعزیت نامه، حوزه نیوز ایجنسی کی ویب سائٹ( زبان فارسی) درج شده تاریخ: ۲/ جنوری/ ۲۰۲۲ء اخذشده تاریخ: ۲۰/ جنوری/ ۲۰۲۶ء