خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری
| خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری | |
|---|---|
| دوسرے نام | خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری سَجِزی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1141ء |
| یوم پیدائش | 14 رجب |
| پیدائش کی جگہ | سیستان ایران |
| وفات | 1230ء |
| یوم وفات | 4 رجب |
| مذہب | اسلام، سنی |
| مناصب | چستیہسلسلہ کا بانی |
خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری سَجِزی اجمیری رحمہ اللہ تعالیٰ برصغیر پاک وہند میں تصوف کے سلسلۂ چشتیہ کے بانی ہیں۔ سلسلۂ چشتیہ حضرت ابواسحاق شامی کی طرف منسوب ہے ،جو حضرت حسن بصری کے توسط سے حضرت علی علیہ السلام تک جا پہنچتا ہے، کہا جاتاہے کہ ہرات کے قریب چشت نامی ایک گاؤں ہے اور چشتی اسی کی طرف منسوب ہے،عام طورپر اُنہیں سَنجری کہاجاتاہے ، لیکن اُن کے وطنِ مالوف سجستان کی طرف نسبت کے حوالے سے صحیح لفظ سَجِزہے۔ خواجہ معین الدین حسن سَجِزی کا سلسلۂ بیعت وخلافت خواجہ عثمان ہارونی(بعض روایات میں ہَروَنی)سے ہے،ہارون یاہَروَن ایک قصبے کا نام ہے۔خواجہ اجمیری نے حضرت سید علی ہجویری رحمہ اللہ تعالیٰ کے مزار پر مراقبہ کیا اور یہ شعر انہی کی طرف منسوب ہے :
گنج بخش فیضِ عالَم مَظہرِ نورِ خدا
ناقصاں را پیرِ کامل ، کاملاں را رہنما
سوانح عمری
آپ 14 رجب 536ھ بمطابق 1141ء یا بروز پیر 14 رجب 530ھ مطابق 1135ء[18])کو جنوبی ایران کے علاقے سیستان آپ ایران میں خراسان کے نزدیک سنجر نامی گاؤں کے ایک امیر گھرانے میں پیدا ہوئے۔
معین الدین کا بچپن میں نام حسن تھا۔ آپ نسلی اعتبار سے نجیب الطرفین صحیح النسب سید تھے آپ کا شجرہ علی ابن ابی طالب سے جا ملتا ہے۔ آپ کے والد سیدغیاث الدین امیر تاجر اور با اثر تھے۔
السید غیاث الدین صاحبِ ثروت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عابد و زاہد شخص بھی تھے۔ دولت کی فراوانی کے باوجود معین الدین چشتی بچپن سے ہی بہت قناعت پسند تھے۔ معین الدین کی والدہ کا اسم گرامی بی بی سیدہ ماہ نور ہے۔
نسب
سید معین الدین چشتی الاجمیری بن سید غیاث الدین بن سید سراج الدین بن سید عبد اللہ بن سید کریم بن سید عبد الرحمن بن سید اکبر بن سید محمد بن سید علی بن سید جعفر بن سید باقر بن سید محمد بن سید علی بن سید احمد بن ابراہیم مرتضی بن امام موسی کاظم علیہ السلام۔
القابات
- معین الحق،
- حجۃ الاولیاء،
- سراج الاولیاء،
- فخر الکاملین،
- قطب العارفین،
- ہند الولی،
- عطاء رسول،
- تاج اولیاء،
- شاہ سوار قاتل کفار،
- مغيث الفقراء
- او معطي الفقراء،
- سلطان الہند،
- ولی الہند،
- وارث النبی فی الہند،
- خواجہء خواجگان، خواجہ اجمیری،
- خواجہ غریب نواز،
- امام الطریق،
- خواجہ بزرگ،
- پیشواء
- مشایخ ہند،
- شیخ الاسلام،
- نائب النبی فی الہند
بچپن
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی اور اس کے بعد حفظ قرآن پاک کی تکمیل فرمائی بعد اس کے ابھی تعلیم آگے جاری تھی کہ جب آپ کی عمر صرف 15 سال تھی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔
ایسے لمحات میں آپ کی والدہ سیدبی بی نور نے بڑی استقامت کا ثبوت دیا اور بڑے حوصلے کے ساتھ بیٹے کو سمجھایا اور کہا: ”فرزند! زندگی کے سفر میں ہر مسافر کو تنہائی کی اذیتوں سے گذرنا پڑتا ہے اگر تم ابھی سے اپنی تکلیفوں کا ماتم کرنے بیٹھ گئے تو زندگی کے دشوار گزار راستے کیسے طے کرو گے۔
تمھارے والد کا ایک ہی خواب تھا کہ ان کا بیٹا علم و فضل میں کمال حاصل کرے۔ چنانچہ تمھیں اپنی تمام تر صلاحیتیں تعلیم کے حصول کے لیے ہی صرف کر دینی چاہئیں“۔
مادر گرامی کی تسلیوں سے سیدخواجہ معین الدین چشتی کی طبیعت سنبھل گئی اور آپ زیادہ شوق سے علم حاصل کرنے لگے۔ مگر سکون و راحت کی یہ مہلت بھی زیادہ طویل نہ تھی مشکل سے ایک سال ہی گذرا ہو گا کہ آپ کی والدہ سیدبی بی نور بھی خالق حقیقی سے جاملیں۔
اب سیدخواجہ معین الدین چشتی اس دنیا میں اکیلے رہ گئے۔
تعلیم
کمسنی میں آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محمد غیاث الدین سے حاصل کی جو اس دور میں رواج ہوا کرتا۔ والد ماجد کے وصال سے حفظ قرآن کی تکمیل فرمائی۔ والد ماجد و والدہ کے وصال کے بعد گھریلو ذمہداری کی وجہ سے باغ کی دیکھ بھالی فرما رہے۔
والد کی وفات پر ایک باغ اور ایک آٹا پیسنے والی چکی آپ کو ورثے میں ملی۔ والدین کی جدائی کے بعد باغبانی کا پیشہ آپ نے اختیار کیا۔ تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا۔ آپ کو اس کا بڑا افسوس تھا لیکن یہ ایک ایسی فطری مجبوری تھی جس کا بظاہر کوئی علاج نہ تھا۔
ایک دن خواجہ معین الدین چشتی اپنے باغ میں درختوں کو پانی دے رہے تھے کہ ادھر سے مشہور بزرگ ابراہیم قندوزی کا گذر ہوا۔ آپ نے بزرگ کو دیکھا تو دوڑتے ہوئے پاس گئے اور ابراہیم قندوزی کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔
ابراہیم قندوزی ایک نوجوان کے اس جوش عقیدت سے بہت متاثر ہوئے۔ انھوں نے شفقت سے آپ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور چند دعائیہ کلمات کہہ کر آگے جانے لگے تو آپ نے ابراہیم قندوزی کا دامن تھام لیا۔ سیدابراہیم نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا: اے نوجوان! ”آپ کیا چاہتے ہیں؟“
خواجہ معین الدین چشتی نے عرض کی کہ ”آپ چند لمحے اور میرے باغ میں قیام فرمائیے۔ کون جانتا ہے کہ یہ سعادت مجھے دوبارہ نصیب ہوگی کہ نہیں“۔
آپ کا لہجہ اس قدر عقیدت مندانہ تھا کہ ابراہیم قندوزی سے انکار نہ ہو سکا اور آپ باغ میں بیٹھ گئے۔ پھر چند لمحوں بعد انگوروں سے بھرے ہوئے دو طباق معین الدین چشتی نے ابراہیم قندوزی کے سامنے رکھ دیے اور خود دست بستہ کھڑے ہو گئے۔
ابراہیم قندوزی نے اپنے پیرہن میں ہاتھ ڈال کر جیب سے روٹی کا ایک خشک ٹکڑا نکال کر معین الدین کی طرف بڑھایا اور فرمایا ”وہ تیری مہمان نوازی تھی یہ فقیر کی دعوت ہے“۔ اس کے بعد نے وہ باغ فروخت فرما کر اس کی رقم کو غرباء و مساکین میں تقسیم فرما دیا۔ مزید حصول دین کی خاطر سفر کیا اور اپنے جاے ولادت کو خیرآباد کہہ دیا علوم ظاہری
بعد ازاں آپ نے سب کچھ اللہ کی راہ میں لُٹانے کے بعد تحصیل علم کے لیے خراساں کو خیرباد کہہ دیا اور آپ نے سمرقند بخارا کا رُخ کیا جو اس وقت علوم و فنون کے اہم مراکز تصور کیے جاتے تھے۔ یہاں پہلے آپ نے قرآن پاک حفظ کیا۔ پھر تفسیر‘ فقہ‘ حدیث اور دوسرے علوم ظاہری میں مہارت حاصل کی۔
علوم باطنی
علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد آپ نے مرشد کامل کی تلاش میں عراق کا رخ کیا۔ اپنے زمانے کے مشہور بزرگ خواجہ عثمان ہارونی کی خدمت میں آئے خواجہ معین الدین چشتی اپنے مرشد کی خدمت میں تقریباً اڑھائی سال رہے۔ آپ پیرو مرشد کی خدمت کے لیے ساری ساری رات جاگتے رہتے کہ مرشد کو کسی چیز کی ضرورت نہ پڑ جائے۔
سرورِ کائنات کے روضہ اقدس کی حاضری ہوئی سیدعثمان ہارونی نے خواجہ معین الدین چشتی کو حکم دیا۔ ”معین الدین! آقائے کائنات کے حضور سلام پیش کرو۔ خواجہ معین الدین چشتی نے گداز قلب کے ساتھ لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔ ”السلام علیکم یا سید المرسلین۔ “ وہاں موجود تمام لوگوں نے سنا۔ روضہ رسول سے جواب آیا۔ ”وعلیکم السلام یا سلطان الہند“۔۔
اسفار
سفر بغداد کے دوران میں آپ کی ملاقات شیخ نجم الدین کبریٰ سے ہوئی اولیائے کرام میں شیخ نجم الدین کبریٰ کا مقام بہت بلند ہے۔ معین الدین چشتی اڑھائی ماہ تک شیخ نجم الدین کبریٰ کے ہاں قیام پزیر رہے اور ایک عظیم صوفی کی محبتوں سے فیض یاب ہوئے۔
اس کے بعد معین الدین چشتی بغداد میں شیخ عبدالقادر جیلانی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ کچھ عرصہ یہاں قیام کیا۔ پھر آپ تبریز تشریف لے گئے اور وہاں خواجہ ابو سعید تبریزی سے فیض حاصل کیا۔ ابو سعید تبریزی کو تصوف کی دنیا میں ہمہ گیر شہرت حاصل ہے۔
چند دن یہاں گزارنے کے بعد آپ اصفہان تشریف لے گئے۔ وہاں مشہور بزرگ شیخ محمود اصفہانی کی محبت سے فیض یاب ہوئے۔ جب آپ اصفہان سے روانہ ہوئے تو قطب الدین بختیار کاکی جو ابھی نوعمر تھے آپ کے ساتھ ہوئے جو بعد میں تاجدار ہند کہلائے۔
آپ گنج شکر بابا فرید کے مرشد اور نظام الدین اولیاء کے دادا مرشد ہیں۔ بہرکیف معین الدین چشتی اصفہان سے خرقان تشریف لے آئے یہاں آپ نے دو سال وعظ فرمایا اور ہزاروں انسانوں کو راہ راست پر لائے۔
پھر ایران کے شہر استرآباد تشریف لے آئے ان دنوں وہاں ایک مرد کامل سیدشیخ ناصر الدین قیام پزیر تھے۔ جن کا دو واسطوں سے سلسلہ بایزید بسطامی سے جا ملتا ہے چند ماہ یہاں سیدشیخ ناصرالدین سے روحانی فیض حاصل کیا۔ پھر ہرات کا قصد کیا۔
یہ شہر ایرانی سرحد کے قریب افغانستان میں واقع ہے۔ یہاں خواجہ عبداللہ انصاری کے مزار مبارک پر آپ کا قیام تھا۔ بہت جلد سارے شہر میں آپ کے چرچے ہونے لگے۔ جب بات حد سے بڑھ گئی اور خلق خدا کی ہر لمحے حاضری کی وجہ سے وظائف اور عبادت الٰہی میں فرق پڑنے لگا تو آپ ہرات کو خیرباد کہہ کر سبزوار تشریف لے گئے۔ سلسلہ چشتیہ ہندوستان میں آپ ہی سے پھیلا اور ہندوستان میں نوے لاکھ آدمی آپ کے ہاتھ پر اسلام لائے۔
سفر ہند
مدینہ منورہ سے وہ عاشق صادق بغداد پہنچا جہاں کچھ دنوں مشائخین وقت سے صحبتیں رہیں پھر 586ھ / 1190ء کو بقصد اجمیر بغداد سے عازم سفر ہوا۔ دوران سفر چشت، خرقان، جہنہ، کرمان، استرآباد، بخارا، تبریز، اصفہان، ہرات، سبزہ وار ہوتا ہوا بلخ پہنچا جہاں کچھ ایام شیخ احمد خضریرہ کے یہاں قیام کیا۔
پھر بلخ سے روانہ ہو کر سمر قند ہوتا ہوتا غزنین پہنچا یہاں شمس العارفین عبدالواحد سے ملاقات کی اور کچھ دنوں روحانی صحبت گرم رہی پھر اپنے روحانی قافلہ کے ساتھ لاہور پہنچا حضرت ابوالحسن علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش علیہ الرحمہ کے مزار اقدس پر حاضری دی اور روحانی فیوض سے مالا مال ہوا۔
دہلی میں آمد
لاہور سے سمانا ہوتا ہوا ہندوستان کی راجدھانی دہلی پہنچ کر راجہ کھانڈے راؤ کے راج محل کے سامنے ایک بت کدہ کے پاس قیام کیا اور اپنے اعلٰی اخلاق و کردار، سادہ مؤثر نصیحتوں سے راج کھانڈے راؤ کے کاریگروں اور بہت سے راجپوتوں کو کلمہ اسلام پڑھنے پر مجبور کر دیا۔ لوگ جوق در جوق آنے لگے اور اسلام کا نور پھیلنے لگا، دیکھتے ہی دیکھتے دہلی کی سر زمین پر مسلمانوں کا ایک وسیع حلقہ تیار ہو گیا۔
چونکہ اس مرد مجاہد کی منزل مقصود اجمیر تھی اس لئے اپنے خلیفہ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو دہلی میں خلق خدا کی ہدایت کے لئے چھوڑ کر عازم اجمیر ہو گیا۔
اجمیر میں آمد
چند ثقہ مؤرخوں کے مطابق وہ مرد مجاہد 587ھ / 1191ء کو وارد اجمیر ہوا جہاں روز اول ہی سے باطن شکن کرامتوں کے ظہور نے ایک بوریہ نشیں درویش کی روحانی عظمت و قوت کا سکہ اہل اجمیر کے دلوں پر بٹھا دیا۔
اجمیر کے عوام و خواص کی کثیر تعداد شرک و بت پرستی کے قعر عمیق سے نکال کر فرمان باری تعالٰی ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا کی ڈور سے منسلک ہونے لگی اور ایک وقت وہ آیا کہ شہر اجمیر کی پوری فضا کلمہ توحید سے گونجنے لگی۔ قبل ازیں کہ اس مرد خدا کی کچھ کرامتیں سپرد قرطاس کی جائیں نام و نسب اور ولادت و بچپن کا بیان بھی ضروری ہے[1]۔
وصال
ایک روایت کے مطابق تاريخ وفات 6 رجب627ہ 661هـ-1230ء ہے۔ آپ 97 سال حیات رہے جبکہ دوسری روایت میں 103 سال کی عمر میں آپ کا وصال 633ھ ْ 1229ء میں اجمیر میں ہوا۔
تصنیفات
- انیسالارواح : یا انیس دولت، جو ملفوظات خواجہ عثمان ہاروَنیتحریر کیے
- گنج اسرار، مجموعہ دیگر از ملفوظات خواجہ عثمان ہارونی اور شرح مناجات خواجہ عبد اللّہ انصاری ہیں
- دلیلالعارفین، یہ کتاب مسائل طہارت، نماز، ذکر، محبت، وحدت و آداب سالکین ہیں
- بحرالحقائق، ملفوظاتخواجہ معینالدین چشتی خطاب ہے خواجہ قطبالدین بختیار
- اسرارالواصلین، اس میں شامل آٹھ خطوط جو خواجہ قطبالدین اوشي بختیار کو لکھے
- رسالہ وجودیہ
- کلمات خواجہ معینالدین چشتی
- دیوان مُعین الدين چشتي، اس میں شامل غزلیات فارسی
خلفا
معین الدین کے کئی خلفاء ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں:
- قطب الدین بختیار کاکی (خلیفہ و جانشین)
- حميد الدين سعيد ناگوری
- فخرالدين بن معین الدین چشتی
- جمال بنتِ معین الدین چشتی
- محمد يادگار سبزواری
- شمس الدين التتمش بادشاہ ہندوستان
- فخرالدين گرديزی
- ضياء الدين بلخی
- شہاب الدين محمد بن سام غوری فاتح دہلی
- علی بخاری
شجرہ طریقت خواجہ معین الدین چشتی
پانچویں اور چھٹی صدی ہجری میں بعض بزرگان دین نے خراسان کے ایک قصبہ چشت میں رشد و ہدایت کا ایک سلسلہ شروع کیا٬ جو دور دور تک پھیلتا چلا گیا، یہ خانقاہی نظام طریقہ سلسلہ چشتیہ کے نام سے موسوم ہوا٬
- محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم
- علی ابن ابی طالب
- حسن بصری
- عبدالواحد بن زید
- فضیل ابن عیاض
- ابراہیم بن ادہم البلخی
- حذیفہ مرعشی
- ابو ہبیرہ بصری
- ممشاد علوی دینوی
- ابو اسحاق شامی
- ابو احمد ابدال
- ابو محمد چشتی
- ابو یوسف چشتی
- قطب الدین مودود چشتی
- شریف زندانی
- عثمان ہارونی
خواجہ معین الدین سلطان شہاب الدین محمد غوری،جن کا اصل نام مُعِز الدین محمد غوری تھا،سے پہلے اجمیر پہنچے ۔ خواجہ معین الدین چشتی نے پرتھوی راج کے زمانے میں اپنی خانقاہ بنائی۔ لفظِ خانقاہ کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ ’’خوانگاہ‘‘ کا مُعَرَّب ہے۔
اور اس کے معنی ہیں: ’’کھانے کی جگہ‘‘ ، یعنی جہاں فقراء اور مسافروں کے لیے لنگر کا انتظام ہو اور بعض نے اسے ’’خان اور قاہ‘‘ سے مُرکب مانا ہے، اس کے معنی ہیں:’’عبادت اور دعا کی جگہ‘‘۔دراصل ’’خانقاہ‘‘ سے مراد وہ جگہ ہے۔
جہاں اللہ تعالیٰ سے لو لگانے والے باصفابندے دنیا کی لذتوں سے کنارہ کش ہوکراللہ تعالیٰ کے ذکر وفکر میں مشغول رہیں، تزکیہ وروحانی تربیت کی منزلیں طے کریں، اسی کو قرآن مجید میں ’’تَبَتُّلْ‘‘سے تعبیر کیا گیا ہے،
’’تَبَتُّلْ‘‘کے معنی ہیں :سب سے کٹ کر اپنی توجہ خالص اللہ تعالیٰ کی طرف مبذول کیے رکھنا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اور آپ اپنے رب کے نام کا ذکر کرتے رہیں اور سب سے منقطع ہوکر اُسی کے ہورہیں ، [2]۔‘‘، نیز فرمایا:’’پس جب آپ (امت کے نظمِ اجتماعی کی تدبیر سے)فارغ ہوجائیں ،تو اپنے رب کی عبادت میں میںمشغول ہوجائیں، [3]۔
‘‘۔ ظاہر ہے اللہ کے ذکر وفکر کی تمام صورتوں پر یہ کلمہ محیط ہے۔الغرض یکسو ہوکر اللہ کا ہوجانا، جسے قرآنِ کریم میں ’’اخلاص ‘‘ اور حدیثِ مبارک میں ’’ احسان‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔
حقیقی سالک
صوفیۂ کرام سب سے پہلے توبہ کے ذریعے سالک کے قلب کو پاک کرتے ہیں اور پھر اس پر اللہ تعالیٰ کی جَلالَت اور محبت کانقش ثبت کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی نیا اور پائیدار رنگ چڑھانے کے لیے سب سے پہلے لوحِ قلب کو پاک کرناضرور ی ہے۔
تاکہ دنیا اور عَلائقِ دنیا یعنی ماسِوَی اللہ ہر چیز کی محبت کے غلبے سے دل پاک ہوجائے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرم کے سوا کسی اورکی محبت کے غلبے کا شائبہ نہ رہے، اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیںبنائے، [4]۔‘‘،
یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی شخص کے دل میں شیطان کا بھی ٹھکانا ہو اور وہ محبتِ الٰہی کا بھی مرکز بنا رہے۔توبہ کے بعد انسان ایک نئی روحانی زندگی میں داخل ہوتاہے اور ماضی کے گناہوں سے آلودہ زندگی سے رشتہ توڑدیتا ہے،
چنانچہ مشایخِ چشت نے توبہ کی تین قسمیں بتائی ہیں:
1۔توبۂ ماضی : یعنی انسان ماضی کی معصیتوں سے صدقِ دل کے ساتھ توبہ کرے اور اُن کی تلافی کے لیے شریعت نے جو طریقہ بتایا ہے، اس پر کاربند ہو۔
الغرض اللہ اور اس کے بندوں کے تمام حقوق جواُس نے پامال کیے ہیں ، اُن پر دل سے نادم ہو اور شریعت کے اَحکام کے مطابق اُن کی تلافی کرے، ورنہ صرف زبانی توبہ کوئی معنی نہیں رکھتی،
2۔ توبۂ حال :اس سے مراد یہ ہے کہ بندۂ مومن کا حال اِطاعتِ الٰہی اور اِطاعتِ رسول کے سانچے میں ڈھل جائے،
3۔ توبۂ مستقبل:اس سے مراد یہ ہے کہ اپنی آئندہ زندگی میں اللہ تعالیٰ کی حقیقی بندگی اور اس کے رسولِ مکرّم کی تعلیمات پر پورے طریقے سے کاربند رہنے کا عہدوپیمان اپنے خالق ومالک سے کرے۔
خواجہ معین الدین حسن اجمیری کے مکمل حالات ثقہ اور مستند ذرائع سے دستیاب نہیں ہیں، کچھ اُن کے اقوال ہیں اور زیادہ تر اُن کی کرامات ہیںجو واعظین پُر اثر انداز میں بیان کرتے ہیں اور عامّۃ المسلمین انہیں سن کر روحانی سرور حاصل کرتے ہیں۔
بزرگانِ دین کے تذکرے کا بنیادی مقصد تواُن کی سیرت وکردار اور شِعار پر عمل کرنا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان اُن کی اتباعِ سنت اور عزیمت واستقامت کی زندگی کواپنے لیے مَشعلِ راہ اور نمونۂ عمل بنائیں۔
تبلیغی سرگرمیاں
خواجہ صاحب جب ہندوستان میں وارد ہوئے تو وہاں کے سِماج میں ذات پات کا نظام تھا، ایک طبقہ ’’اَچُھوت‘‘کہلاتا تھا، اُن سے ہر طرح کی خدمت تو لی جاتی تھی ، لیکن انہیں اتنا حقیر اور قابلِ نفرت سمجھا جاتا تھا کہ اُن سے بدن کاچھوجانا بھی گوارا نہ تھا ۔
ہندو سماج چار ذاتوں میں منقسم تھا، ان میں برہمن سب سے اعلیٰ اور شُودَر سب سے حقیر ذات تھی،انہی کو اچھوت کہاجاتا تھا، انگریزوں نے ان کے لیے ’’شیڈولڈ کاسٹ ‘‘کی اصطلاح وضع کی تھی، یعنی پست ذاتوںکے نام ایک الگ فہرست میں درج کر رکھے تھے، آج کل ہندوستان میں انہی کو دَلِت کہا جاتا ہے۔
قرآن نے اِن زیردست اورکمزورطبقات کو ’’مُسْتَضْعَفِیْن‘‘(Oppressed Class) سے تعبیر فرما یا ہے ۔ صوفیۂ کرام کا شِعار یہ رہا ہے کہ انہوں نے سماج کے اِن پست طبقات اور دھتکارے ہوئے لوگوں کو انسانیت کا وقار اور احترام عطا کیا، انہیں اپنے ساتھ بٹھایا ، انہیں محبت اور اعتماد عطا کیا ، جس کی وجہ سے وہ ان کے گِرویدہ ہوگئے۔
خواجہ معین الدین حسن اجمیری اور تمام صوفیہ ٔ کرام کی خانقاہوں میں لنگر کا نظام اسی وجہ سے چلا کہ یہ خانقاہیں غریب اور نادار طبقات کے لیے دارالکفالت کی حیثیت رکھتی تھیں۔
انہوں نے ایسے انسانوں کو ،جو اپنے ہاتھ سے تراشے ہوئے پتھر کے بتوں کے آگے سجدہ ریز تھے یاانہوں نے اپنے دل ودماغ میں خیالی معبود سجا رکھے تھے، اللہ وحدہٗ لاشریک کی بندگی کی معراج عطا کی ۔
انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام پر سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں اکثریت انہی کمزور طبقات کے لوگوں کی ہوتی تھی ، چنانچہ قیصرِ روم نے سیدالمرسلین اور آپ کی تعلیمات کی بابت جاننے کے لیے اپنے دربار میں مکہ کے تجارتی قافلے کے سربراہ ابوسفیان کو طلب کیا اور اس وقت اُن کے درمیان جو مکالمہ ہوا ،
اُس میں قیصر نے ابوسفیان سے پوچھا : اس مدعیِ نبوت پر ایمان لانے والے زیادہ تر کون لوگ ہیں، تو ابوسفیان نے جواب دیا:’’ یہ کمزور طبقات کے لوگ ہیں ‘‘، قیصر نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:’’تمام انبیائے کرام کے اولین پیروکار ہمیشہ کمزور طبقات کے لوگ رہے ہیں‘‘۔
یہ فطری بات ہے کہ باطل مذہب کے نام پر جن طبقات نے اجارہ داری قائم کر رکھی ہوتی ہے ،وہ اپنی مراعات اوربرتر سماجی حیثیت سے دست بردار ہونے کے لیے آسانی سے آمادہ نہیں ہوتے اور ہمیشہ حق کی مزاحمت کرتے ہیں،یعنی وہ اسٹیٹس کو کے محافظ ہوتے ہیں،
کیونکہ اس میں ان کا اپنا طبقاتی مفاد ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک موقع پر مکے کے سرداروں نے رسول اللہ سے کہا : چلیے! ہم آپ کی بات سن لیتے ہیں، لیکن آپ کے ارد گرد جو زیردست طبقات کے لوگ ہیں،
جب ہم آپ کے پاس آئیں توآپ انہیں اپنے پاس سے اٹھا دیا کریں ، کیونکہ اِن کا ہمارے برابر بیٹھنا ہمارے شایانِ شان نہیں ہے، یعنی انہوں نے دین کی بات سننے کے لیے بھی خصوصی سماجی حیثیت کا مطالبہ کیا۔ رسول اللہ کی شدید خواہش تھی کہ لوگ کسی بہانے اللہ کے پیغامِ ہدایت کو سن لیں،
سو آپ کے دل میں خیال آیا کہ اِن کی یہ حُجَّت بھی پوری کردی جائے، تواللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:’’اور آپ اپنے آپ کو اُن لوگوں کے ساتھ وابستہ رکھیں جو صبح شام اپنے رب کی رضا چاہتے ہوئے اس کی عبادت کرتے ہیں اور آپ اپنی نگاہِ التفات کو اُن سے نہ ہٹائیں ، [5]۔‘‘،
دوسرے مقام پر فرمایا: ’’اور اُن لوگوں کو اپنے آپ سے دور نہ کیجیے جو صبح وشام اپنے رب کی رضا چاہتے ہوئے اس کی عبادت کرتے ہیں،[6]۔‘‘۔
پس خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ تعالیٰ کا اندازِ دعوت وتبلیغ اِسی شِعارِ نبوت کے مطابق تھا۔آپ نے ہندو سماج میں انسان کی بے توقیری کے باطل مذہبی نظریے کو دعوتِ اسلام کی ترویج کے لیے اپنی طاقت میں تبدیل کردیا اور اسی باعت وہ مرجعِ خلائق بن گئے۔
تاریخِ انسانیت شاہد ہے کہ جب انسانوں کے کمزور طبقات کو ایمان اور عقیدے کی روحانی طاقت ملتی ہے، تواُن کاضُعف قوت میں بدل جاتا ہے اور وہ ناقابلِ شکست ہوجاتے ہیں۔
معاشرے کابالائی طبقہ جو مادّی طاقت اور ظاہری اسباب کے زَعم میں رہتاہے، وہ وقت آنے پر ایمان اور عقیدے کی کمزوری کی وجہ سے ریت کی دیوار ثابت ہوتاہے۔ مسجد نبوی میں صُفّہ کے مکتبِ نبوت اور صوفیۂ کرام کی خانقاہوں میں تعلیم وتربیت اور تزکیۂ نفس قدرِ مشترک ہے
اور اس کی معراج یہ ہے کہ دنیا اپنی تمام تر چکا چوند اور آب وتاب کے باوجود اصحابِ ایمان وعرفان کی نظر میں بے توقیر قرار پاتی ہے ۔ حدیثِ پاک میں ہے:رسول اللہ نے فرمایا:’’اے حارثہ! تو نے کیسے صبح کی، انہوں نے عرض کی:’’
میں نے اس حال میں صبح کی کہ میرا ایمان یقینِ کامل کے درجے میں تھا‘‘، آپ نے فرمایا:’’ ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے ، تو تمہارے اِس دعوے کی حقیقت کیا ہے‘‘، انہوں نے عرض کی:’’میں نے اپنے نفس کو دنیا (کی محبت کے غلبے ) سے لاتعلق کرلیا،
تو (اب) میرے نزدیک اس دنیاکا پتھر اور سونا، چاندی اور ڈھیلا(بے توقیری میں) برابر ہوگئے ہیں، میں نے اپنی راتیں بیدار رہ کر (اللہ کی عبادت میں) گزاریںاور دن میں (روزہ رکھ کر )اپنے اوقات پیاس میں گزارے ،
تو اب مجھے ایسا محسوس ہوتاہے کہ میں عرشِ الٰہی کو اپنی نظروں کے سامنے دیکھ رہا ہوں اور میں اہلِ جنت کو (خوش وخرم) ایک دوسرے کے ساتھ ملاقاتیں کرتے ہوئے اور اہلِ جہنم کو (شدتِ عذاب کے باعث ) فریادیں کرتے ہوئے سن رہاہوں(یعنی غیبی حقائق مجھ پر منکشف ہونے لگے ہیں)، [7]۔ ‘‘۔
چنانچہ خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری نے فرمایا:صفائے قلب، اخلاص ورضا اور للّٰہیت کی معراج یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں سمندر جیسی سخاوت، آفتاب جیسی شفقت اورزمین جیسی تواضع پیدا ہوجائے ، یعنی سمندر اور آفتاب کی طرح اُس کا فیض اعلیٰ وادنیٰ کی تمیز کے بغیر سب کے لیے عام ہواور اس فیض رسانی میں تکبر اور احسان جتلانے کا شائبہ نہ ہو،
بلکہ زمین جیسی تواضع ہوجواپناسینہ سب کے لیے کشادہ رکھتی ہے اور کسی کو محروم نہیں رکھتی اور آفتاب جیسی سخاوت ہو کہ اُس کی حرارت اور روشنی سے سب یکساں مستفید ہوتے ہیں[8]۔
حوالہ جات
- ↑ اس کے طفیل حج بھی خدا نے کرا دئیے، اصل مراد حاضری اس پاک در کی ہے-اخذ شدہ بہ تاریخ: 30 جون 2026ء
- ↑ سورۂ مزمل، آیۂ 8
- ↑ سورۂ انشراح، آیۂ7-8
- ↑ سورۂ الاحزاب، آیۂ 4
- ↑ سورۂ کہف، آیۂ 28
- ↑ سورۂ انعام، آیۂ52
- ↑ مجمع الزوائد للہیثمی، ج57، ص1
- ↑ خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری رحمہ اللہ تعالیٰ-اخذ شدہ بہ تاریخ: 30 جون 2026ء