مندرجات کا رخ کریں

کوفہ

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 15:18، 19 جون 2026ء از Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (« '''کوفہ''' ، عراق کے اہم شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ شہر بغداد سے تقریباً 170 کلومیٹر جنوب میں صوبۂ نجف میں واقع ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں تعمیر ہونے والی مسجد کوفہ اس شہر کی اہم ترین عمارتوں میں شمار ہوتی ہے اور شیعہ مسلمانوں کے لیے ای...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)

کوفہ ، عراق کے اہم شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ شہر بغداد سے تقریباً 170 کلومیٹر جنوب میں صوبۂ نجف میں واقع ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں تعمیر ہونے والی مسجد کوفہ اس شہر کی اہم ترین عمارتوں میں شمار ہوتی ہے اور شیعہ مسلمانوں کے لیے ایک مقدس زیارت گاہ ہے۔ ایک عرصے تک یہ شہر امام علی بن ابی طالب کے دارالخلافہ کی حیثیت رکھتا تھا، اسی وجہ سے سامرا، کربلا، کاظمین اور نجف کے ساتھ شیعوں کے نزدیک اسے خاص اہمیت حاصل ہے۔ عرب مردوں کے سر پر پہنا جانے والا رومال، جسے چفیہ کہا جاتا ہے، اسی شہر سے منسوب ہے۔

ابتدائی دو صدیوں میں کوفہ نہایت اہمیت کا حامل تھا، لیکن بعد کے ادوار میں سیاسی اور اقتصادی عوامل کے باعث اس کی اہمیت کم ہوتی گئی اور بغداد و نجف جیسے شہر زیادہ نمایاں ہو گئے۔ شیعہ روایات کے مطابق مستقبل میں کوفہ دوبارہ مرکزِ توجہ بنے گا اور ظہور کے بعد حضرت مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی حکومت کا مرکز یہی شہر ہوگا۔

وجہ تسمیۂ کوفہ

کوفہ کے نام کی وجہ کے بارے میں متعدد اقوال موجود ہیں۔ ایک قول کے مطابق ’’کوفہ‘‘ اس مقام کو کہتے ہیں جہاں ریت اور کنکریاں ملی جلی ہوں [1]۔ مقدسی کے مطابق اس علاقے کی زمین کی ساخت اسی نوعیت کی ہے، اس لیے اسے کوفہ کہا گیا [2]۔

ایک اور قول یہ ہے کہ چونکہ یہ علاقہ دائرے کی شکل میں تھا یا یہاں دائرہ نما ریتیلے ٹیلے موجود تھے، اس لیے اسے کوفہ کہا گیا۔ بعض روایات کے مطابق سعد بن ابی وقاص نے فتحِ قادسیہ کے بعد اپنی فوج کو اس مقام پر جمع کرتے ہوئے کہا:

’’تَکَوَّفُوا فِی ہٰذَا الْمَوْضِع‘‘ (اس جگہ جمع ہو جاؤ)، اور اسی لفظ سے ’’کوفہ‘‘ کا نام وجود میں آیا [3]۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں موجود ایک چھوٹے پہاڑ ’’کوفان‘‘ کی نسبت سے اس شہر کا نام کوفہ پڑا۔

تاریخی پس منظر

شیعہ اور اہل سنت کی بعض روایات کے مطابق اس شہر کی تاریخ حضرت آدمؑ کے زمانے تک پہنچتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فرشتوں نے حضرت آدمؑ کو سجدہ اسی سرزمین پر کیا تھا [4]۔

اسی طرح کوفہ کے مغربی حصے میں واقع ایک بستی کو حضرت نوحؑ کی سکونت گاہ اور ان کی کشتی کی تعمیر کی جگہ قرار دیا گیا ہے [5]۔ مسجدِ کوفہ میں اس تنور کی جگہ بھی متعین کی گئی ہے جہاں سے پانی ابلنا طوفانِ نوح کی علامت بنا تھا [6]۔

آج بھی مسجدِ کوفہ میں ’’تنور‘‘ اور ’’کشتیِ نوحؑ‘‘ کے مقامات کی نشان دہی کی جاتی ہے، جبکہ حضرت نوحؑ کی نماز کی جگہ کو ’’مسجد‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق حضرت نوحؑ کی کشتی دریائے فرات میں روانہ ہوئی تھی۔

اسی طرح کوفہ کو حضرت ابراہیمؑ کی سکونت گاہ بھی قرار دیا گیا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ منجنیق، جس کے ذریعے حضرت ابراہیمؑ کو آگ میں ڈالا گیا تھا، اسی علاقے میں تیار کی گئی تھی۔

حضرت ہودؑ کی قبر کو ناحیۂ نخیلہ میں بتایا جاتا ہے، جو کوفہ کے شمال میں تقریباً دو فرسخ کے فاصلے پر واقع ہے۔ اسی طرح شمال مشرقی جانب ’’قریۃ ذی الکفل‘‘ نامی بستی واقع ہے، جسے حضرت ذوالکفلؑ کی سکونت گاہ اور مدفن قرار دیا جاتا ہے۔

بعض روایات کے مطابق مسجدِ کوفہ وہ مقام ہے جہاں وہ کدو کی بیل اگائی گئی تھی جس نے حضرت یونسؑ کو سایہ فراہم کیا تھا۔ مزید یہ کہ مسجدِ کوفہ کو ایک ہزار ستر (1070) انبیائے کرامؑ کی نماز کی جگہ بھی قرار دیا گیا ہے [7]۔

اگر یہ روایات درست ہوں تو ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطہ قدیم زمانوں ہی سے آباد اور اہمیت کا حامل رہا ہے۔

جغرافیۂ کوفہ

کوفہ، نجف اشرف سے تقریباً آٹھ کلومیٹر مشرق میں دریائے فرات کے کنارے واقع ہے۔ یہ علاقہ سطح سمندر سے تقریباً 22 میٹر بلند ہے۔ اس کے مشرق میں دریائے فرات، مغرب میں صحرا، جنوب مغرب میں قدیم شہر حیرہ (جو تقریباً چھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے) اور شمال مشرق میں ذی الکفل واقع ہیں۔

دریائے فرات سے قربت اور اس کی ایک شاخ کے مشرقی جانب بہنے کی وجہ سے اس کے اطراف کی زمینیں انتہائی زرخیز ہیں [8]۔ جغرافیہ دان اصطخری کے مطابق اسی سبب کوفہ کی آب و ہوا بصرہ کے مقابلے میں زیادہ خوشگوار ہے [9]۔

  1. احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم،ص ۱۶۱
  2. طبری، تاریخ الطبری، ۳/۱۴۵
  3. بکری، معجم مااستعجم،ص ۱۱۴۱
  4. بحارالانوار، ج١١، ص١4٩و ج١٠٠، ص٢٣٢
  5. بحارالانوار، ج١١، ص٣٣٢ و ج١٠٠، ص٣٨
  6. بحارالانوار، ج١١، ص٣٣٣
  7. حارالانوار، ج١٠٠، ص٣٨٩
  8. اصطخری، المسالک والممالک، ۸۳؛ ابن بطوطه، سفرنامه ابن بطوطه، ترجمه محمدعلی موحد، ۱/۲۷۰
  9. یاقوت حموی، معجم البلدان، ۴/۴۹۰