مندرجات کا رخ کریں

احمد محرم

ویکی‌وحدت سے
احمد محرم
پورا ناماحمد بن حسن بن عبد‌الله
ذاتی معلومات
پیدائش1877 ء
پیدائش کی جگہمصر، صوبہ بحیرہ، شہر دلنجات، گاؤں ابیاء الحمراء
وفات1945 ء
وفات کی جگہمصر، صوبہ بحیرہ، دمنہور
اساتذہمحمد عبدہ، سید جمال الدین اسدآبادی ،احمد شوقی، محمد سامی البارودی، حافظ ابراہیم، احمد نسیم.
مذہباسلام، سنی
اثراتدیوان شعر، مقالات

احمد بن حسن بن عبد اللہ مشہور بہ احمد مُحَرَّم، تیرہویں اور چودہویں ہجری قمری صدی کے مذہبی، حب الوطن اور اتحاد پسند مصری شعرا میں سے ہیں، جن کی نسلی جڑیں ترکی ہیں لیکن ان میں مصری خون بھی شامل ہے۔ ان کی شاعری پر شخصیات جیسے: محمد عبدہ، جمال الدین اسدآبادی، احمد شوقی، محمد سامی البارودی، حافظ ابراہیم اور احمد نسیم کا گہرا اثر ہے۔ اسلام پسندی، وطن سے محبت، اسلامی وحدت، قوم کی بیداری، عربی اتحاد، اسلامی شعائر جیسے: اسلام، پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، کعبہ، قدس، قرآن اور اخوت و بھائی چارے کو وحدت کا ذریعہ بنانا، تفرقہ اور قومیت پرستی سے اجتناب ان کی شاعری کے اہم اجزاء ہیں۔

سوانح حیات

احمد محرم کی پیدائش 5 محرم 1294 ہجری کو بروز ہفتہ، صوبہ بحیرہ کے مرکز دلنجات کے گاؤں ابیاء الحمراء میں ہوئی۔ ان کے والد حسن افندی عبد اللہ چرکسی مملوک نسل سے تھے، جو ترک فوجی تھے اور تقریباً تین صدیوں (13ویں سے 16ویں عیسوی صدی تک) شام و مصر پر حکمران رہے، جبکہ ان کی والدہ بھی اصل میں ترک تھیں۔ تاہم، احمد محرم کے اپنے الفاظ میں یہ ترکی نسل مصری خون میں گھل مل گئی تھی۔ حسن افندی عبد اللہ، اگرچہ ترکی النسل تھے، لیکن وہ عربیت کے گہرے شائق، عربی ادب اور اس کی تاریخ کے عاشق تھے۔

وہ ایک متدین شخص تھے جو کثرت سے قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور اصول اسلام اور اس کے شعائر کے پابند تھے۔ یہ خصوصیات ان کے بیٹے (احمد محرم) کی دینی تربیت، دین اسلام کی تعریف میں اشعار کہنے، سیرت اور غزوات پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اثر انداز ہوئیں، اور انہوں نے دینداری، اسلام کی شان و شوکت کی تعریف اور اس کا دفاع اپنے والد سے ورثے میں پایا[1]۔

تعلیم

احمد محرم اپنے گاؤں میں اس دور کے متمول لوگوں کی طرح پرورش پائے۔ ان کے والد نے ان کی تعلیم کے لیے گاؤں میں اساتذہ مقرر کیے، جس کی وجہ سے انہیں حساب، پڑھنے اور لکھنے کے اصول اور قرآن کریم کی حفظ پر عبور حاصل ہوا۔ بعد ازاں ان کے والد نے انہیں قاہرہ کے ایک ایسے مدرسے میں داخل کروایا جو صرف امیر طبقے کے بچوں کے لیے مخصوص تھا۔

لیکن اس مدرسے کا نصاب محرم کو پسند نہ آیا، اس لیے والد نے انہیں ایک دوسرے مدرسے میں منتقل کر دیا جو ان کے خیال میں پہلے سے بہتر تھا۔ تاہم، چونکہ ان مدارس میں ان کے اندر عربی ادب سے محبت اور لگن کو زندہ کرنے کی صلاحیت نہیں تھی، اس لیے وہ ان مدارس سے منہ موڑ بیٹھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے والد کے لیے ایک شعر میں ان مدارس میں عربی زبان سے اپنی بیگانگی کا درد و الم بیان کیا، حالانکہ ان کی عمر اس وقت پندرہ سال سے زیادہ نہیں تھی۔

اس بنا پر ان کے والد کے پاس کوئی چارہ نہ رہا سوائے اس کے کہ وہ انہیں گاؤں واپس لے آئیں اور ان کی تعلیم کے لیے الازہر کے چند اساتذہ کو گاؤں بلوایا تاکہ وہ انہیں فقہ اللغہ (لسانیات) اور عربی ادب سکھا سکیں۔ محرم نے گاؤں میں اپنے والد کی کتب خانے میں اپنی پسند کی کتابوں کا مطالعہ کر کے اپنے ذہن کی تربیت کی اور عربی شاعری کے چشموں سے اپنے وجدان اور احساسات کو سیراب کیا۔ ان کے والد نے انہیں اپنے دوستوں کی لکھی ہوئی جدید عربی شاعری سے بھی متعارف کرایا تاکہ ان میں عرب دوستی کا جذبہ ابھرے، اور صوبہ بحیرہ مصر کے شہر دمنہور کے اپنے سفرات میں انہیں اپنے ساتھ لے جاتے تاکہ وہ شیوخ، حاضرین، مصنفین اور بزرگان سے رابطہ قائم کر سکیں[2]۔

آثار

احمد محرم کے آثار و تالیفات، جو شاعری اور تنقیدی مضامین کی صورت میں ہیں، کا مقصد اپنی امت اور پھر پوری دنیا کے لوگوں کی اصلاح و تربیت ہے۔ ان کے موضوعات میں اسلام پسندی، حب الوطنی، وحدت اسلامی، قوم کی بیداری، عرب وحدت، خواتین کی تعلیم و تربیت، معاصر شاعری کا تعارف اور شعرا کے کلام کا تنقیدی جائزہ شامل ہیں[3]۔

دیوانِ شعر

احمد محرم نے اپنی شاعری کے ذریعے متعدد آثار تخلیق کیے، جن میں پانچ جلدوں پر مشتمل مجموعہ کلام معروف بہ "دیوان" شامل ہے۔ ان دیوانوں میں دیوان «مجدالإسلام» اور دیوان «الأقصی الحزین» کے علاوہ درج ذیل مجموعے شامل ہیں:

  1. السیاسیات؛
  2. الاجتماعات و المراثی؛
  3. الخواطر و التأملات و المسجلات؛
  4. الإخوانیات و التحایا و التهانی؛
  5. الطبیعه و الوصف و الغزل؛

یہ پانچوں مجموعے (دیوان) سن 1988ء میں کویت میں مکتبہ الفلاح پبلی کیشنز نے احمد محرم کے فرزند محمود احمد محرم کی مرتب کردہ ابواب بندی اور تاریخ وار ترتیب کے ساتھ شائع کیے۔ دیوان "مجد الإسلام" بھی محمود احمد محرم کی کاوش سے اسی ادارے نے کویت سے سن 1982ء میں ڈاکٹر ابراہیم الجیوشی کے مقدمے کے ساتھ شائع کیا تھا۔

مقالات

یہ مضامین تعلیم و تربیت، سیاست، جدید شاعری، شعرا کے کلام کا تنقیدی جائزہ وغیرہ جیسے متنوع موضوعات پر مشتمل متعدد تحقیقی و تنقیدی کاوشیں ہیں جو اس دور کے رسائل و جرائد میں شائع ہوئیں:

  1. خواتین کی تعلیم و تربیت کے بارے میں آراء (آراء في تعليم المرأة وتربيتها)، رسالہ "أنيس الجليس" سن 1899ء اور رسالہ "المفتاح" سن 1900ء؛
  2. سیاسی مضامین (مقالات في السياسه)، حزبِ وطن کے اخبارات میں؛
  3. جدید شاعری پر تحقیق (بحث في الشعر العصری)، رسالہ "أنيس الجليس" میں سن 1900ء سے 1901ء تک چودہ مسلسل شماروں میں؛
  4. شاعر اسماعیل صبری کا تنقیدی جائزہ (نقد الشاعر إسماعيل صبری)، رسالہ "أبولو"؛
  5. شاعر حافظ ابراہیم کا تنقیدی جائزہ (نقد الشاعر حافظ إبراهيم)، رسالہ "أبولو"؛
  6. شاعر سید توفیق البکری کا تنقیدی جائزہ (نقد الشاعر السيّد توفيق البكری)، رسالہ "أبولو"؛
  7. شاعر احمد زکی ابوشادی کے دیوان "الشعلہ" پر تنقیدی تقریر (محاضرة في نقد الشاعر أحمد زكي أبو شادي في ديوانه "الشعله" )، اشاعت: أبولو؛
  8. عربی ادب کے رقت انگیز کلام پر تحقیق ( بحث في الشعر الباكي في الأدب العربي)، اخبار "الصدق"؛
  9. ہجوئی شاعری پر تحقیق (بحث في شعر الهجاء)، اخبار "الصدق"؛
  10. فراموش شدہ ادیبوں پر تحقیق (بحث في "أدباؤنا المنسيون")، اخبار "الصدق"؛
  11. "ساقط ادب" کے عنوان تحت زجل پر مضامین (مقالات في الزّجل تحت اسم "الأدب السّاقط "، اخبار "الصدق"۔

ثقافتی و سیاسی حالات

احمد محرم نے اپنی زندگی کے دور میں مصر اور عرب ممالک کے اہم ترین سیاسی واقعات، داخلی و قومی حوادث کا مشاہدہ کیا۔ ان کی پیدائش کے سال سید جمال‌الدین اسدآبادی کے مصر میں قیام کے ہم عصر تھے، جہاں انہوں نے آٹھ سال تک لوگوں کو دین میں اصلاح اور مغربی ثقافت کے مقابلے میں اسلام کے دفاع کی دعوت دی۔ سن 1881ء میں مصر میں انقلابِ عرابی کا وقوع بھی قومِ مصر کی بیداری کی راہ میں ایک بڑا قدم تھا، لیکن برطانیہ کی جانب سے مصر پر قبضے اور اس کے بعد عوام میں پھیلنے والے مایوسی و یاس کے جذبات کی وجہ سے یہ کوشش ناکام ہو گئی۔ ان کے دور کے دیگر اہم واقعات میں مصطفیٰ کامل کی بغاوت، دنشوائے کا واقعہ، عالمی پهلی جنگ، جماعتوں کی آپسی جنگ اور سن 1459ء (ہجری) کا معاہدہ شامل ہیں[4]۔

شعری اجزاء

محبّتِ وطن، تفرقہ سے اجتناب، نسلی تعصب اور قومیت پرستی سے گریز، اور اسلامی وحدت کے قیام کے لیے مذہبی شعائر سے وابستگی، احمد محرم کے شعری فن کے اہم ترین اجزاء ہیں۔

محبّتِ وطن

محبّتِ وطن احمد محرم کے شعری فن کا ایک اہم جزو ہے، اور انہوں نے اپنی شاعری میں وطن سے محبت کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ ان کی شاعری میں محبتِ وطن کی مثالیں درج ذیل ہیں[5]:

قومی اور ملی مفاخر کا ذکر

فیَا نیـلُ‌‌أنتَ‌‌المُنَی‌‌و الحَیاةُ‌‌‌‌‌وَ أنـتَ ألامیرُ‌‌ و أنـتَ ألاب
وَ یَا نِیلُ‌‌ أنتَ الصَّدِیقُ الوَفیُّوَ أنتَ ألخُ ألاصدَقُ ألطیَبُ
وَ أنـتَ‌‌ القـرِیضُ‌‌ الَّذی‌‌ أقتَفِی‌‌‌فَیزهَـی‌‌ بِهِ‌‌ الشَّـرقُ‌‌ وَ المَغرِب؛

اے نیل! تو امید اور زندگی ہے، اور تو ہی اس سرزمین کا سردار اور باپ ہے۔ اے نیل! تو وفادار دوست، سچا بھائی اور پاکیزہ طینت ہے۔ تو وہ نظم ہے جس کی میں پیروی کرتا ہوں، اور جس کی بدولت مشرق و مغرب منور اور تابناک ہو جاتا ہے۔

داخلی استبداد کے خلاف مخالفت

سَلِ التّارِیخَ‌‌ وَانظُر مَا أعَدَّت‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌لَکَ ألاممُ‌‌الخَوالی و القُرونُ
عِظاتُ الدّهرِ وَ ألجیالُ‌‌ منها‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌بِبَغـدادَ‌‌ وَ أنـدُلسَ‌‌‌ فُنـون؛

تاریخ سے سوال کر اور ان عبرتوں پر غور کر جو گزشتہ اقوام اور صدیوں نے تیرے لیے تیار کی ہیں۔ زمانے کی نصیحتیں اور ان کی نسلیں بغداد اور اندلس (اسپانیا) میں فنون کی صورت میں موجود ہیں۔

استعمار کے خلاف جدوجہد اور ان کے سامنے ڈٹ جانا

بنی التامیز، کونوا کیف شئتم‌‌‌‌‌‌‌‌‌فلن ندعَ الکفـاحَ و لـن‌‌ نلینام
خذوا أنصارکـم‌‌‌‌ إنّا‌‌ نراهم‌‌‌‌‌‌‌‌‌لنـا و لقومنـا الـداءَ‌‌‌ الـدَّفِینا
همُ ألعـداءُ‌‌ لسنا من ذویهم‌‌‌‌‌‌‌‌‌و لیسوا فیذ الشدائد من ذوینا
ذممنا عهدکم‌‌‌ فمتی نراکـم‌‌‌‌‌‌‌‌‌تشـدّون‌‌‌ الرّحـالَ‌‌ مودّعـینا
زعمتم أن‌‌ موعدکم‌‌ قـریبٌ‌‌‌‌‌‌‌‌‌کذبتم‌‌ أمّـةً‌‌‌ تُحصَـی السنینا؛

اے دریائے ٹیمز کی اولاد! (اے انگریز استعمار) جو چاہو کرو، ہم اپنی جدوجہد ہرگز نہیں چھوڑیں گے اور نہ ہی کبھی نرمی دکھائیں گے۔ وہ ہمارے دشمن ہیں، ہم ان میں سے نہیں ہیں، اور نہ ہی وہ مصیبت کے وقت ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے ہمدرد ہیں۔ ہم نے تمہارے عہد کی پاسداری کی، تو کب ہم تمہیں دیکھیں گے کہ تم اپنا سامان باندھ رہے ہو اور ہم سے وداع کر رہے ہو؟ تم نے دعویٰ کیا کہ تمہاری واپسی قریب ہے، تم نے جھوٹ کہا، اے امت! جو سالوں کو گنتی ہے۔

وطن کی آزادی کے لیے اتحاد اور یکجہتی کی دعوت

إیه یا بنــی مصــر أما‌‌‌ وعظتکم‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌ما تصنــع ألاحـــداثُ و‌‌ ألایامُ
إیه فقد طمــت الخطوبُ و ها لنا‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌فیها‌‌‌‌ رکـــامٌ‌‌‌‌ یعتلیــه رکـامُ
سوســوا أمــورکم سیاس حازم‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌ فلعلّ‌‌‌ معــوّج‌‌ ألمــورِد یقـام؛

اے مصر کے لوگو! کیا میں نے تمہیں زمانے کے حوادث اور ایام سے عبرت حاصل کرنے کی نصیحت نہیں کی؟ ہاں! مصیبتیں طوفان کی طرح امڈ آئی ہیں اور ہم مشکلات کے انبار میں گھر گئے ہیں۔ اپنی تدبیر اور حکمتِ عملی سے اپنے معاملات کو سنبھالو، شاید کہ ٹیڑھے راستے سیدھے ہو جائیں!

تفرقہ سے گریز

احمد محرم مسلمانوں کی غفلت اور جہالت کی بنیادی وجہ تفرقہ اور اختلاف کو قرار دیتے ہیں، اور اسے قوم کی پسماندگی اور بربادی کا سبب سمجھتے ہیں۔ چنانچہ ان کی شاعری میں ہے:

عزاء بنی مصر عن فقدهو ظننّا بشرعته و اعتدادا
لا تعادور فإن الشعوب تموتانقساما و تحیّا و اتحادا؛

مصریوں کا ماتم یکجہتی کے فقدان پر ہے، اور ان کا غم اس احساس کے اظہار میں بخل اور اس کی پرواہ نہ کرنے پر ہے۔ لہٰذا آپس میں دشمنی نہ کرو، کیونکہ قومیں تفرقہ سے مرتی ہیں اور اتحاد سے زندہ ہوتی ہیں[6].

قومیت پرستی اور نیشنلزم کے جذبات سے گریز

عرب ممالک میں قومیت پرستی اور نیشنلزم کے جذبات ہمیشہ اسلامی ممالک کے درمیان بدانتظامی، جنگ اور فساد کا باعث رہے ہیں۔ اسی لیے احمد محرم نے اپنی شاعری میں ہمیشہ کوشش کی ہے کہ نسلی اور قومی علامات کو واضح طور پر بھائی چارے اور باہمی تعامل میں تبدیل کیا جائے۔

تعالوا الینا انما نحن اخوهو إنی رایت الاخذ بالرفق احزما
و إنّ سبیلنا سواء و کلنّابنو مصر نأبی أن تضام و تهضما
تفرقنّا الادیان و الله واحدو کل بنی الدنیا الی آدم انتمی؛

ہمارے پاس آؤ، کیونکہ ہم سب بھائی ہیں۔ اور میں نرمی اور تعامل کو زیادہ دانشمندی کا کام سمجھتا ہوں۔ ہمارا راستہ ایک ہے، اور ہم سب مصر کی اولاد ہیں؛ ہم ہرگز یہ برداشت نہیں کرتے کہ ہماری زمین پر حملہ ہو یا ظلم کیا جائے۔ ہمارے مذاہب الگ الگ ہیں، لیکن ہمارا خدا ایک ہے، اور دنیا کے تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں۔

اسلامی وحدت کے قیام کے لیے مذہبی شعائر سے وابستگی

احمد محرم ان شعراء میں سے ہیں جنہوں نے وحدت اسلامی کے موضوع پر خوبصورت اشعار کہے ہیں۔ انہوں نے اپنے دور کے تقریبی فکر رکھنے والی شخصیات جیسے سید جمال‌الدین اسدآبادی اور محمد عبده سے متاثر ہو کر مسلمانوں کو وحدت اسلامی کی دعوت دی ہے۔

اسلام سے وابستگی

هو الاسلام ما للناس واقسواء فأین یذهب من تعامی
یذود عن الضعیف فیتقیهمن الاقوام انفذهم سهاما؛

یہی وہ دینِ اسلام ہے جو لوگوں کے لیے ایک مضبوط ڈھال ہے، پس جو لوگ خود کو اندھا بناتے ہیں وہ کہاں جائیں گے؟ یہ کمزور کی حفاظت کرتا ہے اور اسے ان اقوام کے شر سے بچاتا ہے جن کے تیر بہت تیز اور کاری ہوتے ہیں۔

پیغمبر سے وابستگی

الله اکبر و محمد الاماممن‌ذا یجادل فیها و یماری؛

خدا سب سے بڑا ہے اور محمد امام ہیں، تو پھر کون اس میں جھگڑا کرے گا یا انکار کرے گا؟

قدس سے وابستگی

فی حم القدس و من حول الحرم أمه تؤذی و شعب یهتضم
فزع القدس ضجّت مکهو بکت یثرب من فرط الألم؛

قدس کے حوالے سے اور حرم کے گرد و نواح میں، ایک امت ستائی جا رہی ہے اور ایک قوم کچلی جا رہی ہے۔ قدس چیخ اٹھا، مکہ نے نالہ کیا، اور مدینہ شدید درد سے رو پڑا۔

کعبہ اور قرآن کی دعوت

مرحبا بالإخاء فی حرم اللهو أهلا قومنا الصالحینا
حیّ المسیحا بیت و اقضالحق عن آل أحمد أجمعنا
أکتب العهد و بیننا و اجعلالمصحف خیر الشهود فیهم و فینا؛

خدا کے حرم میں بھائی چارا کتنا خوب ہے! اور ہمارے نیک لوگوں پر خوش آمدید۔ اے کعبہ! مسیح کو خوش آمدید کہو، اور ہم سب کی طرف سے آلِ احمد کے حق کو قائم کرو۔ ہمارے درمیان عہد نامہ لکھ دو، اور قرآن کو ہمارے اور ان کے درمیان بہترین گواہ بنا دو۔

اخوت اور بھائی چارے کی دعوت

یا من یحاول أن یغیر عهدناأنظر الی الإیمان هل یتغیر؛

اے وہ شخص جو ہمارے عہد کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہے، کیا تو ایمان کی طرف دیکھتا ہے کہ کیا وہ بھی بدل سکتا ہے؟


وفات

احمد محرم 2 رجب 1364 ہجری کو فقر اور بدحالی کی حالت میں انتقال کر گئے۔ نصف صدی تک قلم تھامے رکھنے اور لوگوں کے لیے عظمت کے راستے دکھانے والے ان کی جوانی کی تازگی ماند پڑ گئی۔ وہ اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اس ادبی کاوش کا حسرت مند رہے جس کے لیے انہوں نے اپنی زندگی قربان کر دی، اور رخصتی کے وقت تک وہ اس فن کے ساتھ وفادار رہے[7].

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. خدیجہ قداوی، الشعر الملحمی فی العصر الحدیث، احمد محرم نموذجا، ص 9۔
  2. وہی، ص 11۔
  3. همان، ص 12.
  4. حسن‌نژاد، محمد، تحليل ميهن دوستی و آزادی خواهی در اشعار احمد محرم، ص 55.
  5. همان، ص 56.
  6. مالک عبدی، واکاوی مؤلفه‌های وحدت اسلامی در اشعار احمد محرم، ص 205.
  7. خدیجه قداوی، الشعر الملحمی فی العصر الحدیث -احمد محرم نموذجا -، ص 15.

ماخذ

  • خدیجہ قداوی، الشعر الملحمی فی العصر الحدیث- احمد محرم نموذجا -، بحث تخرج لنيل شهادة الليسانس، الجزایر (تلمسان)، وزاره التـعـلـيـم العالي و البحث العلمي، 2014 م۔
  • حسن‌نژاد، محمد، تحليل ميهن دوستی و آزادی خواهی در اشعار احمد محرم، دو فصلنامه پژوهش در آموزش زبان و ادبیات عرب، شماره 2، زمستان 1401 ش۔
  • مالک عبدی، واکاوی مؤلفه‌های وحدت اسلامی در اشعار احمد محرم، فصلنامه ادب عربی، شماره 1، بهار و تابستان 1397 ش۔