مسجد

مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ اور اجتماع کا مقام ہے۔ قرآن کی آیات کے مطابق کعبہ زمین پر قائم ہونے والی پہلی مسجد ہے۔ مسجدِ نبوی کی بنیاد حضرت محمد بن عبد اللہ، پیغمبرِ اسلام، کی مدینہ میں آمد کے بعد رکھی گئی۔ مدینہ سعودی عرب میں واقع ہے۔ اس حقیقت کو قبول کرنا کہ کسی شہر کے شہری ڈھانچے میں مساجد، گنبدوں اور میناروں کی موجودگی اس شہر کے اسلامی ہونے کی لازمی دلیل نہیں بن سکتی، اس بات کو واضح کرتا ہے کہ مسلمانوں کے طرزِ حیات اور ایک اسلامی شہر کے نمونوں کی نشان دہی کے لیے صرف مادی ساخت نہیں بلکہ اُن دیگر عناصر اور مؤلفہ جات میں بھی تلاش ضروری ہے جو شہروں کی روح اور شناخت کی تشکیل کرتے ہیں۔
مسجد کا لغوی معنی
لغوی اعتبار سے مسجد سجدہ کرنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ سجدہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی زمین پر جھکنے، عاجزی اور فروتنی اختیار کرنے کے ہیں۔ دیگر ادیان میں خدا کے حضور سجدہ اور عبادت صرف مخصوص مقامات پر انجام دی جاتی ہے، لیکن اسلام کے نقطۂ نظر سے پوری زمین پاک ہے اور سجدہ گاہ اور مسجد شمار ہوتی ہے۔ روایات کے مطابق رسولِ خدا حضرت محمد بن عبد اللہ نے فرمایا کہ پوری زمین مسجد ہے، اور یہ اسلامی امت کی امتیازی خصوصیات میں سے ہے۔
اصطلاحی معنی میں مسجد اُس مخصوص جگہ کو کہا جاتا ہے جو عبادت اور اللہ تعالیٰ کے حضور خشوع و خضوع کے لیے وقف کی گئی ہو۔ لغت میں مسجد[1] کا اطلاق پیشانی پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ سجدے کا اثر اس پر باقی رہتا ہے۔[2] اسی طرح مسجد کے معنی سجدہ گاہ کے ہیں، اور اہلِ علم کی اصطلاح میں سجدے کی جگہ کو کہا جاتا ہے خواہ وہ کہیں بھی ہو۔[3] انسانی جسم کے وہ سات اعضاء جن پر سجدہ کے وقت زمین لگتی ہے، جیسے پیشانی، دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کے انگوٹھے، سب سجدہ گاہ کہلاتے ہیں، اور انہی مقامات کی بنا پر مسجد کا لفظ استعمال ہوا ہے۔[4]
مسجد کے کارکردگی پہلو
اگرچہ مسجد کی تعمیر کا بنیادی مقصد عبادت اور اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کے لیے ایک مخصوص جگہ فراہم کرنا ہے، اور اسی وجہ سے اسے مسجد کہا جاتا ہے کیونکہ یہ سجدہ اور تواضع کا مقام ہے، لیکن مسجد کے دیگر پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخ اور اس کے بعد کے زمانوں پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مسجد ابتدا ہی سے رسولِ خدا کی دینی ذمہ داری کی ادائیگی کا ایک اہم مرکز رہی ہے، جہاں سے فکری، سماجی اور دینی خدمات انجام پاتی رہی ہیں اور الٰہی پیغامات کی تبلیغ کی جاتی رہی ہے۔ آج بھی مساجد مختلف میدانوں میں وسیع سرگرمیوں کی حامل ہیں، اور جتنی زیادہ یہ سرگرمیاں متنوع ہوں گی، اتنی ہی مساجد کی کشش اور مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجے میں معاشرے کے تمام طبقات، بالخصوص نوجوان نسل، زیادہ رغبت کے ساتھ مساجد کی طرف متوجہ ہوں گے، جس کا ثمر معاشرے میں دینی عقیدے اور مذہبی شعور کے فروغ کی صورت میں ظاہر ہوگا۔
اگرچہ اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر آج تک مسجد کے تمام کارکردگی پہلوؤں کا احاطہ اس تحریر میں ممکن نہیں، تاہم ان میں سے بعض ایسے پہلوؤں کا تعارف جو آج بھی بہت سی مساجد میں قابلِ عمل ہیں، مفید ثابت ہوگا۔
تعلیمی کردار
ایک زمانے میں مسجد اسلامی ممالک میں تعلیم کا سب سے اہم اور واحد مرکز تھی۔ بدقسمتی سے مساجد میں تعلیمی سرگرمیاں اب کمزور پڑ گئی ہیں، حالانکہ مناسب منصوبہ بندی، دستیاب وسائل کے مطابق اقدامات اور ماہرین کے تعاون سے احکامِ دین اور قرآن کی تعلیم، بالخصوص خواتین اور نوجوانوں کے لیے، اور دینی سوالات کے جوابات جیسے پروگرام منعقد کیے جا سکتے ہیں۔
رسولِ اکرم کے نزدیک مسجد میں علمی و تعلیمی نشستوں کا مقام دعائیہ مجالس کے مقابلے میں کہیں زیادہ بلند اور قابلِ قدر تھا۔ روایت میں آیا ہے کہ ایک دن رسولِ خدا مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہاں دو الگ الگ حلقے قائم ہیں۔ ایک گروہ علم سیکھنے اور سکھانے میں مصروف تھا اور دوسرا دعا اور اللہ سے مناجات میں مشغول تھا۔ آپ نے فرمایا کہ دونوں گروہ خیر کی طرف گامزن ہیں؛ ایک گروہ اللہ کو پکارتا ہے اور دوسرا علم حاصل کرتا ہے اور نادانوں کو تعلیم دیتا ہے، لیکن یہ دوسرا گروہ زیادہ برتر عمل انجام دے رہا ہے، کیونکہ مجھے لوگوں کو تعلیم دینے کے لیے ہی مبعوث کیا گیا ہے۔ اس کے بعد رسولِ خدا نے اسی تعلیمی حلقے میں بیٹھنے کو ترجیح دی۔ [5]۔
تاہم اس نکتے پر توجہ ضروری ہے کہ مسجد میں ہر قسم کی تعلیم کی سفارش نہیں کی گئی۔ امام موسیٰ بن جعفر کاظم سے منقول ہے کہ رسولِ خدا مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھا کہ کچھ لوگ ایک شخص کے گرد جمع ہیں۔ آپ نے پوچھا یہ کون ہے؟ عرض کیا گیا کہ یہ بڑا عالم ہے۔ آپ نے فرمایا عالم سے کیا مراد ہے؟ لوگوں نے کہا کہ وہ عربوں کے نسب، ان کی تاریخ، دورِ جاہلیت کے حالات اور عربی شاعری کا سب سے بڑا جاننے والا ہے۔ رسولِ خدا نے فرمایا کہ یہ ایسا علم ہے جس سے ناواقف ہونا نقصان دہ نہیں اور جسے جان لینا فائدہ نہیں پہنچاتا۔ پھر فرمایا کہ علم صرف تین چیزوں پر مشتمل ہے: محکم آیت، عادل فریضہ اور قائم سنت، اور ان کے علاوہ جو کچھ ہے وہ اضافی علم ہے۔ [6] یعنی ایسے علوم سیکھنا اچھا ہے، لیکن اگر کوئی ان سے ناواقف ہو تو اس پر کوئی ملامت نہیں۔
ثقافتی کردار
عبادی اور تعلیمی کردار کے بعد مسجد کا ثقافتی کردار دیگر تمام کرداروں میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ رسولِ اسلام مسجد کے ماحول کو مکمل طور پر ثقافتی فضا سمجھتے تھے، یہاں تک کہ بعض مقابلے آپ کی اجازت اور موجودگی میں منعقد ہوتے تھے اور آپ اس پر خوشی کا اظہار فرماتے اور کامل صبر و تحمل کے ساتھ ان سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔[7]
اگرچہ آج تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں کافی وسعت آ چکی ہے، پھر بھی مسجد کے اس اہم کردار اور اس کی ثقافتی زرخیزی سے غفلت نہیں برتنی چاہیے۔ شبانہ قرآنی نشستیں، مسابقے، کتاب خوانی اور اس نوعیت کے دیگر پروگرام مقامی ذمہ داران کی حمایت سے منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح امامِ جماعت کا نماز سے پہلے اور بعد مسجد میں موجود رہنا، سوال و جواب اور مشاورت کے مواقع فراہم کرنا، عوام کی ثقافتی نشوونما کے لیے نہایت مؤثر حالات پیدا کرتا ہے۔
تبلیغی کردار
تبلیغ کا مقصد لوگوں کے دینی شعور اور معرفت میں اضافہ کرنا اور انہیں دینی و اسلامی فرائض کی ادائیگی سے آگاہ کرنا ہے۔ رسولِ خدا کے تبلیغی طریقۂ کار کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ آپ نے مختلف انداز اختیار فرمائے۔
- عارضی تبلیغی مراکز: یہ وہ مقامات یا اوقات تھے جہاں مسجد موجود نہ تھی، چنانچہ رسولِ خدا بعض صحابہ کے گھروں کو نماز کے قیام اور دین کی تبلیغ کے لیے استعمال فرمایا کرتے تھے۔
- سیار تبلیغی مراکز: عرب قبائل کے منتشر ہونے کی وجہ سے رسولِ خدا کو خود مختلف علاقوں کا سفر کرنا پڑتا تھا تاکہ براہِ راست وہاں کے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا سکیں۔ آج بھی ہمارے ملک کے بعض دیہات اور خانہ بدوش قبائل دینی راہنماؤں کی نعمت سے محروم ہیں، لہٰذا مناسب ہے کہ ان علاقوں کے قریب مقیم علما، بعض اداروں یا دیندار افراد کے تعاون سے سواری کا انتظام کر کے ان علاقوں کا دورہ کریں اور دینی خدمات انجام دیں۔
بنیادی اور مستقل تبلیغی مراکز
شاید کسی بھی مرکز نے ’’مساجد‘‘ کی طرح اسلامی تبلیغ میں اتنا اہم کردار ادا نہیں کیا۔ رسولِ خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے زمانے سے لے کر آج تک اذان، نماز، وعظ اور خطابت مساجد کے اہم ترین پروگرام رہے ہیں اور آج بھی ہیں۔
تاہم اس بات پر توجہ دینا ضروری ہے کہ موجودہ دور میں طویل وعظ اور لمبی تقاریر نہ صرف بہت سے افراد کے مسجد سے نکل جانے کا سبب بنتی ہیں بلکہ عموماً کوئی مؤثر نتیجہ بھی پیدا نہیں کرتیں۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تقاریر، خصوصاً ہفتہ وار اور مسلسل تقاریر، نہایت مختصر ہوں اور حتیٰ الامکان سوال و جواب کی صورت میں پیش کی جائیں۔
سیرتِ رسولِ اسلام (صلّی اللہ علیہ وآلہ) میں ہم دیکھتے ہیں کہ آپؐ سامعین کی تھکن سے بچانے کے لیے صرف بعض دنوں میں وعظ فرمایا کرتے تھے۔ عبدالله بن مسعود کہتے ہیں: «کَانَ النَّبِیُ یَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَهِ فِی الْاَیَّامِ کِرَاهَهَ السَّامَهِ عَلَیْنَا»[8]؛ ’’رسولِ خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) اس اندیشے سے کہ کہیں ہم (سننے والے) تھک نہ جائیں، بعض دنوں میں ہمیں نصیحت فرمایا کرتے تھے۔‘‘
اسی طرح آپؐ دوسروں کو بھی تبلیغ میں آسانی اختیار کرنے کی تاکید فرماتے تھے: «یَسِّرُوا وَ لاَ تُعَسِّرُوا وَ بَشِّرُوا وَ لاَ تُنَفِّرُوا»؛[9] ’’آسانی پیدا کرو، سختی نہ کرو؛ خوشخبری دو اور لوگوں کو متنفر نہ بناؤ۔‘‘
اس میں کوئی شک نہیں کہ مسجد میں تبلیغی سرگرمی معنویت اور روحانیت سے بھرپور ہوتی ہے۔ الٰہی تعلیمات ان لوگوں کو جو ہدایت کے لیے کچھ نہ کچھ آمادگی رکھتے ہوں اسلام کا شیفتہ بنا دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر: میرے ایک دوست جو انقلاب کے ابتدائی زمانے کے نہایت کامیاب مبلغین میں سے ہیں، انہوں نے مسجد کے ذریعے بہت سے نوجوانوں کو حوزه علمیه کی طرف متوجہ کیا، جن میں سے بہت سے آج امام جمعه، ثقافتی اور حوزوی مدیران وغیرہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ سب نوجوانوں کو مسجد سے وابستہ کرنے کا نتیجہ ہے۔
یہاں مسجد کی تبلیغ کے بارے میں ایک نہایت اہم موضوع کی طرف اشارہ ضروری ہے، اور وہ ہے مکارمِ اخلاق کی تبلیغ۔ تاریخ کے دوران مساجد میں علماء کی جانب سے تعطیلات اور عمومی فراغت کے اوقات میں اخلاق کے خصوصی دروس [فردی، سماجی، خاندانی وغیرہ] منعقد کیے جاتے رہے ہیں۔ آج بھی بعض بڑے شہروں جیسے قم، اصفهان اور مشهد میں علماء کے ذریعے، اور بعض چھوٹے شہروں میں تجربہ کار اور بااخلاق علماء و روحانیوں کے ذریعے، جن کی طرف عوام کا عمومی رجحان زیادہ ہوتا ہے، ایسے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں اور انہیں خوب پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
مناسب ہے کہ اس طرح کے پروگرام عوامی دلچسپی کے مطابق مسجد کے پروگراموں کے ضمن میں ہفتہ وار یا ماہانہ بنیاد پر منعقد کیے جائیں۔ اسی طرح احادیث اور اخلاقی نکات کا ’’ایک منٹ کا بیان‘‘ ائمۂ ہدیٰ (علیہم السّلام) اور بزرگانِ دین کی زندگی کے واقعات کے ساتھ نمازِ مغرب و عشاء کے درمیان بیان کرنا نہایت مؤثر اور دلکش ہوتا ہے۔
سماجی
دین اسلام کی بنیاد سماجی زندگی پر رکھی گئی ہے تاکہ انسان کو انفرادی اور گوشہ نشینی کی زندگی سے نکالا جا سکے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام خلوت اور تنہائی کے ساتھ راز و نیاز یعنی اعتکاف کو بھی اجتماعی ماحول میں اور وہ بھی مسجد جامع میں انجام دینے کی سفارش کرتا ہے۔
اصولاً رسولِ اسلام (صلّی اللہ علیہ وآلہ) اور ائمۂ معصومین کی جانب سے نماز جماعت میں منظم اور قریب قریب صفوں کے ساتھ شرکت پر جو تاکید کی گئی ہے، اس کا ایک مقصد نمازیوں کے درمیان تعاون کے جذبے کو پیدا کرنا اور عبادت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے سماجی پہلو کو مضبوط کرنا ہے۔
یہ اجتماعی شرکت معاشرے میں وقت کے ساتھ پیدا ہونے والی بے نظمی اور انتشار کو روک سکتی ہے، اور مقدس مقام مسجد میں ان اجتماعات کا انعقاد اس بات کا سبب بنتا ہے کہ مؤمنین علماء اور دینی مبلغین کی رہنمائی اور ارشاد کے زیرِ اثر رہیں[10]۔ دوسری طرف مسجد میں مسلمانوں کی یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ ان کی باہمی ہمدردی اور ہم آہنگی کو روزانہ نمایاں کرتا ہے۔
اسی طرح مسجد مؤمنین کی ایک دوسرے سے آشنائی، باہمی حالات سے باخبر رہنے، ضرورت کے وقت مدد کرنے اور مصیبت کے وقت ایک دوسرے کے لیے دعا کرنے کا اہم مرکز بھی ہے۔
مزید برآں مسجد اللہ کی راہ میں انفاق اور خیرات، ضرورت مندوں کی مدد، ظالم حکمرانوں کے خلاف جدوجہد اور قوتوں اور وسائل کو منظم کرنے کا ایک مضبوط مرکز رہی ہے اور آج بھی ہے۔
امام رضا (علیہ السّلام) فرماتے ہیں: «إِنَّمَا جُعِلَتِ الْجَمَاعَهُ لِئَلَّا یَکُونَ الْإِخْلَاصُ وَ التَّوْحِیدُ وَ الْإِسْلَامُ وَ الْعِبَادَهُ لِلَّهِ إِلَّا ظَاهِراً مَکْشُوفاً مَشْهُوداً لِأَنَّ فِی إِظْهَارِهِ حُجَّهً عَلَی أَهْلِ الشَّرْقِ وَ الْغَرْبِ لِلَّهِ وَحْدَهُ وَ لِیَکُونَ الْمُنَافِقُ وَ الْمُسْتَخِفُّ مُؤَدِّیاً لِمَا أَقَرَّ بِهِ یُظْهِرُ الْإِسْلَامَ وَ الْمُرَاقَبَهَ وَ لِیَکُونَ شَهَادَاتُ النَّاسِ بِالْإِسْلَامِ بَعْضِهِمْ لِبَعْضٍ جَائِزَهً مُمْکِنَهً مَعَ مَا فِیهِ مِنَ الْمُسَاعَدَهِ عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوَی وَ الزَّجْرِ عَنْ کَثِیرٍ مِنْ مَعَاصِی اللَّهِ عَزَّ وَ جَل»؛[11]
’’نمازِ جماعت اس لیے مقرر کی گئی ہے تاکہ اخلاص، توحید، اسلام اور اللہ کی عبادت سب ظاہر، آشکار اور مشاہدہ میں ہوں؛ کیونکہ ان امور کو ظاہر کرنا مشرق و مغرب کے لوگوں پر خدا کی حجت قائم کرتا ہے۔ نیز اس لیے کہ منافق اور کمزور ایمان والا بھی اس بات کو جس کا اس نے اقرار کیا ہے عملاً ادا کرے اور اسلام اور اس کی نگرانی کو ظاہر کرے، اور اس لیے بھی کہ مسلمانوں کا ایک دوسرے کے مسلمان ہونے کی گواہی دینا جائز اور ممکن ہو۔ اسی طرح اس میں نیکی اور تقویٰ پر باہمی مدد اور اللہ تعالیٰ کی بہت سی نافرمانیوں سے روکنے کا پہلو بھی موجود ہے۔‘‘
لہٰذا اس گرانقدر ارشاد کی روشنی میں ضرورت مندوں کے لیے امداد جمع کرنا، قرضِ حسنہ فراہم کرنا، طبی خدمات فراہم کرنا، نوجوانوں کی شادیوں میں سہولت پیدا کرنا، مریضوں خصوصاً اہلِ مسجد کی عیادت کا انتظام کرنا اور اس قسم کے دیگر امور سب ’’برّ و تقویٰ‘‘ پر تعاون کے مصادیق ہیں۔
سیاسی
مسجد کے اہم ترین کارکردگیوں میں سے ایک اس کی سیاسی کارکردگی ہے، جس پر زمانۂ رسولِ خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) سے مسلسل تاکید کی گئی ہے اور آج بھی اس کی اہمیت پوری طرح نمایاں ہے۔ اسی بنیاد پر آن حضرت نے جب اسلامی نظام کی بنیاد رکھی، تو مسجد — جو عوامی مرکز اور مسلمانوں کے دینی فرائض کی ادائیگی کا اجتماع گاہ تھا — اسے حکومت کے مرکز اور اسلام کے سیاسی ادارے کے طور پر منتخب فرمایا۔ بعد کے ادوار میں بھی اُس زمانے کے اکثر سیاسی امور، جیسے خلیفہ کا تعارف، اس کے ساتھ بیعت کی تقاریب، گورنروں اور حکام کی تقرری و برطرفی وغیرہ، سب مسجد ہی میں انجام پاتے تھے۔
انقلابِ اسلامی ایران کے دوران، اعتقادی و عبادی محور کے بعد، سب سے نمایاں، فعال اور مؤثر کردار مساجد نے ہی سیاسی میدان میں ادا کیا؛ کیونکہ مساجد نے انقلاب سے پہلے اور بعد میں عوام کی بیداری اور سیاسی شعور میں بنیادی کردار ادا کیا۔ آج بھی عالمی استعمار مساجد سے ہر انقلابی ادارے سے بڑھ کر خوف محسوس کرتا ہے۔
جہادی
تاریخی کتب کے مطالعے سے یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہے کہ ابتداءِ اسلام سے ہی تمام سرگرمیاں، جیسے کہ: افراد کی جمع آوری، تیاری، تنظیم اور دشمن کے حملے کے خطرے کے وقت فوراً اکٹھا کرنا، مسجد ہی میں انجام پاتی تھیں۔ مسجد نہ صرف جنگی دستوں کی روانگی کا مرکز تھی بلکہ جنگی منصوبہ بندی بھی وہیں ہوتی تھی۔ رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) حکم دیتے تھے کہ اگر کسی جگہ مسجد موجود ہو تو ان کا لشکری خیمہ بھی مسجد کے پہلو میں نصب کیا جائے۔ چنانچہ جنگ «بنی نضیر» میں آپ نے بلال کو حکم دیا کہ خیمہ مسجد کے قریب نصب کریں، مگر جب دشمن نے خیمے کو نشانہ بنانا شروع کیا تو آپ نے خیمہ کو «مسجد فضیخ» کے پہلو میں منتقل کرنے کا ارشاد فرمایا تاکہ دشمن کے تیر برسنے سے محفوظ رہے۔ [12]
عصر حاضر کی انقلابی جدوجہد، چاہے انقلابِ اسلامی ایران سے پہلے ہو، دورانِ انقلاب ہو یا بعد از انقلاب، ایک حقیقت کو نمایاں کرتی ہے: کہ مساجد ہی وہ واحد مراکز ہیں جہاں اتحاد، اخوت اور روحانیت سے لبریز ماحول میں مجاہد، مومن اور بہادر افراد کو جمع کیا جاتا ہے، اور اسی روحانی و اجتماعی طاقت کے ذریعے عوام کے مختلف طبقات میں بیداری اور آگاہی پیدا کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن ہمیشہ سے مساجد کو انقلاب کے مضبوط پشتبان اور رہبرِ انقلاب کے عملیاتی ہیڈکوارٹر کے طور پر دیکھ کر خوف زدہ رہتے ہیں، اور کئی بار مساجد کو حملوں کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ آج بھی اندرونی و بیرونی دشمن پوری کوشش کررہے ہیں کہ عوام، خصوصاً نوجوانوں کو مساجد سے دور رکھا جائے۔
بت شکنِ عصر، امام خمینی; نے دشمن کی اسی سازش کو خوب سمجھتے ہوئے بارہا انقلاب کی مسجد سے جدائی کے خطرے پر شدید تاکید فرمائی۔ آپ کا فرمان ہے: «اگر یہ مسجد اور اسلام کا یہ مرکزی ہیڈکوارٹر مضبوط رہے، تو فینٹم طیاروں سے مت ڈرو! امریکا، سوویت یونین اور دیگر طاقتوں سے مت ڈرو! اُس دن سے ڈرنا چاہیے جب تم اسلام سے منہ موڑ لو، مسجد سے پیٹھ پھیر لو!» [13]
ابلاغی وسائل
انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک یہ ہے کہ ایسے ابلاغی وسائل موجود ہوں جو لوگوں کو اہم خبروں سے باخبر رکھیں، حوادث و سانحات کے وقت انہیں ایک دوسرے کی مدد کے لیے پکار سکیں، دشمن کے حملے کی خبر دے کر دفاع کے لیے آمادہ کریں۔ دینِ مبین اسلام نے ۱۴۰۰ سال پہلے ہی اس ضرورت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے «مسجد» کو ایک ایسے عظیم ارتباطی و اطلاعاتی مرکز کے طور پر متعارف کرایا جو انسانی ربط و تعلقات کو مضبوط بنانے اور اسلامی ثقافت کو وسعت دینے میں بنیادی کردار ادا کرے۔ اسی وجہ سے، اجتماعی ابلاغ کے ہر اُس وسیلہ کو حقیقی معنی میں کامیاب تبھی سمجھا جا سکتا ہے جب وہ اپنے مخاطب کے ساتھ گہرا، زندہ اور مؤثر ربط پیدا کرنے میں کامیاب ہو؛ اور یہ امتیازی خصوصیت صرف مسجد میں موجود ہے۔
اگرچہ بظاہر یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ آج کے جدید اور پیش رفتہ ذرائع ابلاغ کی موجودگی میں مساجد کا یہ نقشہ اپنی سابقہ اہمیت کھو چکا ہے، لیکن ایک طرف شہروں اور دیہاتوں کے ہر گوشے میں مساجد کا پھیلاؤ، اور دوسری طرف مسجد کی وہ خاص حرمت، تقدس اور روحانیت جو مسلمانوں کے دلوں میں راسخ ہے، اس بات کا سبب بنی ہے کہ مساجد آج بھی اس ارتباطی و رسانهای کارکردگی میں اپنا اہم اور ناقابلِ انکار کردار ادا کرتی رہیں۔
روحانی اور نفسیاتی پہلو
اضطراب اور بے چینی انسانی زندگی کے بڑے مسائل میں سے ہیں، اور سکون انسان کی اہم ترین گمشدہ نعمتوں میں شمار ہوتا ہے جس کی تلاش انسان ہمیشہ کرتا آیا ہے۔ قرآنِ کریم نہایت مختصر مگر بامعنی انداز میں سکون تک پہنچنے کا سب سے یقینی اور قریب راستہ بیان کرتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے: اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ یعنی آگاہ رہو کہ اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح فرمایا گیا ہے: ہُوَ الَّذِی أَنْزَلَ السَّکِینَةَ فِی قُلُوبِ الْمُؤْمِنِینَ لِیَزْدَادُوا إِیمَانًا مَعَ إِیمَانِهِمْ یعنی وہی ہے جس نے اہلِ ایمان کے دلوں میں سکون نازل کیا تاکہ ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہو۔
امام جعفر صادق مسلمانوں کو یہ نصیحت فرماتے ہیں کہ جب دنیاوی مشکلات اور غموں کا سامنا ہو تو نماز اور مسجد کا سہارا لیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی کو دنیا کے غموں میں سے کوئی غم لاحق ہو تو کیوں نہ وضو کرے، مسجد میں داخل ہو، دو رکعت نماز ادا کرے اور ان میں اللہ سے دعا کرے؟ کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا کہ صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرو۔ [14] مسجد کے مختلف کارکردگی پہلوؤں سے آگاہی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کم سے کم وسائل کے ذریعے بھی مؤمنین خصوصاً نوجوانوں کو مسجد کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے، اور پھر اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی جا سکتی ہے کہ وہ ہمارے قول، عمل اور سرگرمیوں میں برکت عطا فرمائے تاکہ وہ نماز گزاروں پر اثر انداز ہوں۔ چنانچہ بہت سے مبلغین نے نوجوانوں کے لیے ہفتہ وار نشستوں کے انعقاد کے ذریعے متعدد نوجوانوں کو دینی مدارس کی طرف راغب کیا یا انہیں اپنے علاقوں میں صالح اور بااعتماد نوجوانوں میں شامل کیا۔
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ دینی اور ثقافتی سرگرمیوں کے اثرات عموماً طویل مدت میں ظاہر ہوتے ہیں، اور یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ کسی ایک پروگرام کے نتائج فوراً سامنے آ جائیں۔ مثال کے طور پر، عوام کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں، امام خمینی کی قیادت میں برسوں بعد انقلاب کامیاب ہوا اور اسلامی نظام وجود میں آیا۔ [15]
مسجد کی بعض مخصوص ابلاغی خصوصیات
مسجد کا پیغام ہمہ گیر ہوتا ہے اور اس میں خفیہ یا نجی خبریں شامل نہیں ہوتیں، برخلاف بعض ذرائع ابلاغ کے۔ مسجد کا پیغام منفی نہیں ہوتا، جبکہ بعض میڈیا ذرائع منفی پیغامات بھی پھیلاتے ہیں۔ مسجد کا پیغام سامعین کے دلوں اور اذہان میں گہرے طور پر اثر انداز ہوتا ہے، برخلاف بہت سی میڈیا خبروں کے۔ مسجد کا پیغام انقلابی تبدیلی پیدا کر سکتا ہے، جبکہ بعض میڈیا پیغامات تخریبی اثرات رکھتے ہیں۔ میڈیا کی خبریں چند گھنٹوں یا ایک دن بعد پرانی ہو جاتی ہیں، جبکہ مسجد کے پیغامات دیرپا ہوتے ہیں۔ مسجد کے ابلاغ میں دینی پیغام کو اولیت حاصل ہوتی ہے اور وہ دینی احکام کے زیرِ اثر ہوتا ہے، جبکہ اکثر میڈیا میں معاشی اور سیاسی امور کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مسجد کا پیغام ہدایت اور اصلاح پر مبنی ہوتا ہے، برخلاف بعض میڈیا خبروں کے جو محض اطلاع رسانی یا کبھی گمراہی کا سبب بنتی ہیں۔ مسجد میں پیغام دینے والا امام عادل اور صاحبِ علم ہونا چاہیے، جبکہ بہت سے میڈیا میں پیغام دینے کے لیے کوئی خاص شرط نہیں ہوتی۔ مسجد کا پیغام دینے والا مخاطب کو جانتا ہے اور اس کی استعداد کے مطابق گفتگو کرتا ہے، جبکہ میڈیا عمومی طور پر ہر وصول کنندہ کو ایک ہی پیغام دیتا ہے۔ مسجد کا پیغام سکون بخش ہوتا ہے، جبکہ اکثر میڈیا اس کے برعکس ہوتا ہے۔ تاریخ کے دوران حقیقی مساجد نے اپنے مخاطبین کو راہِ حق سے منحرف نہیں کیا، جبکہ بعض ذرائع ابلاغ نے باطل کو حق اور حق کو باطل کے طور پر پیش کیا۔ [16]
قرآن میں لفظ مسجد
لفظ مسجد قرآنِ کریم میں مجموعی طور پر 28 مرتبہ آیا ہے، جن میں 22 مرتبہ واحد اور 6 مرتبہ جمع کی صورت میں استعمال ہوا ہے۔[17]. [18] [19] [20] [21] [22] ان آیات میں اسلام میں مسجد کی عظمت و اہمیت، مسجد الحرام کے احکام، مسجد الاقصیٰ اور اصحابِ کہف کی مسجد کا ذکر ملتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض دیگر آیات میں اگرچہ لفظ مسجد صراحت کے ساتھ نہیں آیا، لیکن مفسرین کے مطابق ان کا مفہوم مساجد سے مربوط ہے۔ [23]
مکانی اعتبار سے مسجد کی اقسام
عمومی طور پر ایک مسلمان کے لیے چار قسم کی مساجد قابلِ تصور ہیں: محلے کی مسجد۔ شہر کی مرکزی جامع مسجد۔ عیدین کی نماز کے لیے مخصوص عیدگاہ۔ مسجد الحرام، جہاں تمام مسلمان جمع ہوتے ہیں۔ [24]
پہلی مسجد
مسجدِ قباء مدینہ کے موجودہ علاقے کی اہم ترین اور خوبصورت مساجد میں سے ہے اور عالمِ اسلام کی پہلی عبادت گاہ شمار ہوتی ہے۔ اس کی تعمیر کا آغاز رسولِ خدا کی مدینہ کے قریب پہنچنے کے ساتھ ہی ہوا۔ یہ مسجد مدینہ کے قریب واقع ہے اور رسولِ خدا اور چار معصوم ائمہ کی زیارت گاہ سمجھی جاتی ہے، نیز حضرت فاطمہ زہرا سے منسوب ایک مقام بھی یہاں موجود ہے۔
مسجدِ قباء کی تعمیر کا پس منظر یہ ہے کہ ہجرت سے قبل بعض مہاجرین نے عارضی طور پر قباء میں سکونت اختیار کی۔ بعد ازاں رسولِ خدا وہاں تشریف لائے اور چند دن قیام فرمایا یہاں تک کہ آپ کے اہلِ خانہ اور حضرت علی آپ سے آ ملے۔ مدینہ میں آپ کی آمد کے بعد، 24 ستمبر 622 عیسوی کے قریب، چار روزہ قیام کے دوران صحابہ کے تعاون سے اسلام کی تاریخ کی پہلی مسجد اسی علاقے کے نام پر تعمیر کی گئی۔ ابتدائی طور پر اس کی چھت کھجور کی شاخوں سے بنی تھی۔ بعد کے ادوار میں اس کی توسیع و تعمیر نو ہوئی، جن میں 1161 عیسوی اور 1969 عیسوی کی تعمیرات قابلِ ذکر ہیں۔
روایات کے مطابق مسجدِ قباء اس قرآنی آیت کا مصداق ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ وہ مسجد جو پہلے دن سے تقویٰ کی بنیاد پر قائم کی گئی، اسی میں نماز ادا کرنا زیادہ مناسب ہے۔ اسی بنا پر اس مسجد کو مسجد التقویٰ بھی کہا جاتا ہے۔
رسولِ خدا نے فرمایا کہ جو شخص مسجدِ قباء میں نماز ادا کرے اسے عمرہ کے برابر ثواب ملتا ہے۔ [25]
مسلمانوں کی ابتدائی مساجد
اسلامی تاریخ میں یہ سوال زیرِ بحث رہا ہے کہ بعثت کے بعد سب سے پہلی مسجد کون سی تھی۔ بعض مورخین کے مطابق مسجدِ قباء پہلی مسجد ہے، جبکہ دیگر شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی بعض مقامات پر مسلمان اجتماعی نماز ادا کرتے تھے۔ امام جعفر صادق کے فرمان کے مطابق مسجدِ قباء وہ پہلی مسجد ہے جہاں رسولِ خدا نے علانیہ نمازِ جماعت ادا کی۔ بحوالہ وسائل الشیعہ، شیخ حر عاملی، جلد 10، صفحہ 276۔
بعثت کے ابتدائی برسوں میں مکہ کے سخت حالات کے باعث علانیہ تبلیغ ممکن نہ تھی، اس لیے رسولِ خدا گھروں میں دعوت دیتے تھے۔ ارقم بن ابو الارقم کا گھر مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کا مرکز تھا۔ بعد میں مسجد الحرام اور حجر اسماعیل بھی تبلیغ کا مرکز بنے۔ مکہ میں سب سے پہلے قرآن کی تلاوت بلند آواز سے عبد اللہ بن مسعود نے مقامِ ابراہیم کے قریب کی۔ ترجمہ اردو:
مسجد نبوی
مدینہ منورہ میں واقع ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے یہ دوسرا مقدس مقام ہے۔ یہ مقام 24 ڈگری 28 منٹ 5 سیکنڈ اور 35 ڈگری طول البلد پر زمین پر واقع ہے۔ اس کی سطح دریا سے بلندی 595 میٹر ہے۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) جب مدینہ (یثرب) میں داخل ہوئے، فرمایا: “اونٹ کی راہ کو خالی چھوڑ دو، وہ خود مامور ہے مقام کا انتخاب کرنے کے لیے۔” اونٹ نے بنی ساعدہ، بنی حارث اور بنی عدی کے گھروں کے پاس سے گزر کر غریبوں کے علاقے میں پہنچا۔ ایک غیر ہموار جگہ جس کا نام "مربد" تھا، وہاں رکا۔ یہ زمین دو یتیم بچوں سحل اور سہیل کی ملکیت تھی، ان کے سرپرست کا نام “اسامہ اسعد بن زرارہ” تھا، وہ اسے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو بغیر معاوضہ دینا چاہتے تھے، لیکن پیغمبر نے اسے 10 دینار میں خرید لیا۔ آپ نے ایوب انصاری (خالد بن زید) کے گھر میں قیام کیا۔ زمین کو پیغمبر کے حکم سے ہموار کیا گیا، جاہلیت کے دور کی قبریں کھود کر باہر نکالا گیا، خشک پانی کے ذخیروں کو جمع کیا گیا اور کھجور کا درخت کاٹا گیا[26]۔
ایران کے اولین مساجد
یزد کے وسطی علاقے میں، گاؤں فہرج میں ایک کچی مسجد موجود ہے جسے “مسجد جامع فہرج” یا “مسجد کهن” کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ایران کی سب سے قدیم مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ کچھ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ فہرج ہی سب سے قدیم اور ابتدائی مسجد ہے جو اسلام کے آغاز سے آج تک قائم ہے۔ مسجد جامع فہرج یا امام حسن مسجد (علیہ السلام) پہلی صدی ہجری کے پہلے نصف میں تعمیر ہوئی۔ ماہرین آثار قدیمہ اور مؤرخین کے مطابق، اس مسجد کی تعمیر کے بعد سے آج تک اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ آج بھی اس مسجد میں نماز ادا کی جاتی ہے اور اس کی حرمت برقرار ہے۔ کچھ محققین کہتے ہیں کہ دامغان کی تاریخانہ مسجد، ایران کی سب سے قدیم مسجد ہے۔ بہرحال، دونوں مساجد تاریخی ہیں اور ان کے ہر گوشے میں تاریخی یادیں محفوظ ہیں۔ مسجد فہرج کی معماری اور ساخت کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ساسانی دور میں تعمیر ہوئی۔ یہ مسجد ایران کی ابتدائی عمارات میں سے ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی بلکہ کچھ مرمت اور بازسازی ضرور عمل میں آئی ہے۔ کیونکہ وقت کے ساتھ کچھ حصے انسانی اور موریانہ نقصان سے محفوظ نہیں رہے۔ سال 1969 میں فہرج کو ایک قومی یادگار کے طور پر رجسٹر کیا گیا[27]۔
جامع مسجد
جامع مسجد، اسلامی دور کے ایرانی معماری میں، وہ مسجد ہے جو ہر شہر میں عوام کے اجتماع کے لیے حکام کے ذریعے قائم کی جاتی تھی اور اہم اجتماعی نمازوں جیسے جمعہ نماز اور عید کی نماز بھی اس میں ادا کی جاتی تھی۔ اسی لیے اسے وسیع پیمانے پر تعمیر کیا جاتا تھا۔ جامع مسجد مسلمانوں کی عبادت کے مقام کے ساتھ ساتھ سیاسی، سماجی اور تعلیمی اجتماعات کا مرکز اور مذہبی تقریبات کا مقام ہے۔ لغت میں جامع کا مطلب اجزا کا ملنا اور جمع ہونا ہے۔ “المسجد الجامع” یعنی وہ مسجد جہاں نماز، خصوصاً نماز جمعہ کے لیے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ جامع مسجد شہر کے مرکز یا اہم حصے میں تعمیر کی جاتی ہے اور اسے مصلی، مسجد کبیر اور مسجد اعظم کے ساتھ نہیں ملانا چاہیے۔ مصلی شہر کے باہر واقع ایک کھلی جگہ ہوتی ہے جہاں عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز ہوتی ہے۔ جامع مسجد کو اس لیے جامع کہا جاتا ہے کہ اس میں نماز جمعہ ادا کی جاتی ہے، وسعت اس کے نام کا سبب نہیں۔ ماضی میں کچھ مساجد میں نماز جمعہ نہیں ہوتی تھی اگرچہ وہ بڑی اور عظیم تھیں، اس لیے جامع مسجد کے بعد ان کا درجہ تھا۔ اسلام سے پہلے عرب قبیلے ایک مقام "سقیفہ" میں اجتماع کرتے تھے، مکہ میں اسے “دارالندوہ” کہا جاتا تھا۔ اسلام کے بعد محمد نے مسجد کی بنیاد رکھی جسے “مسجد النبی” کہا گیا۔ نو مسلموں کی تعداد بڑھنے کے بعد مزید مساجد کی اجازت دی گئی۔ مسجد النبی حکومت کا مرکز اور اصل مسجد تھی، دیگر مساجد عبادت و تعلیم کے لیے منتخب ہوئی تھیں۔ ممکن ہے پہلی بار “مسجد جماعت” کا لفظ عمر نے استعمال کیا ہو، کیوں کہ اس سے نماز جماعت کی اہمیت دکھائی گئی۔ دورِ علی بن ابیطالب میں مسجد کوفہ کو جامع مسجد کہا جاتا تھا اور اعتکاف وہاں رکھا جاتا تھا۔ ابتدائی فتح کے وقت مساجد کو چھوٹا اور “مسجد النبی” جیسا بنایا جاتا تھا۔ ابتدائی مساجد کی چھت پلاس یا لکڑی کی ہوتی تھی اور دیواریں مٹی کی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ایرانی معماروں نے دیواروں اور چھت کے لیے خشت اور اینٹ استعمال کی، پھر آیوان، محراب، ستون اور دیگر عنصرصلح ہوئے[28]۔
دنیا میں مساجد کی تعداد
اسلامی اور غیر اسلامی ممالک میں مساجد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ مساجد دنیا کے سب سے بڑے دینی اجتماعات میں شامل ہیں، لیکن مختلف ممالک اور شہروں میں ان کی تعداد مختلف ہے۔ نیچے والے انفوگراف میں سب سے زیادہ مساجد والے ممالک کو دکھایا گیا ہے۔
- انڈونیشیا 800,000 مساجد اور 209 ملین مسلمان کے ساتھ دنیا میں سب سے زیادہ مساجد والا ملک ہے۔
- بھارت 300,000 مساجد اور 176 ملین مسلمان کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، بنگلادیش 250,000 مساجد اور 134 ملین مسلمان کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
- پاکستان 120,000 مساجد اور 185 ملین مسلمان کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے، مصر 108,000 مساجد اور 77 ملین مسلمان کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔
- سعودی عرب میں 94,000 مساجد اور 30 ملین مسلمان چھٹے نمبر پر، ترکی میں 82,000 مساجد اور 81 ملین مسلمان ساتویں نمبر پر ہے۔
- مراکش میں 41,000 مساجد اور 32 ملین مسلمان ساتویں نمبر پر ہیں[29]۔
دنیا کی خوبصورت ترین مساجد
- مسجدالحرام (سعودی عرب)
- مسجدالنبی (سعودی عرب)
- سلطان احمد مسجد (ترکی)
- کوالالمپور جامع مسجد (ملائیشیا)
- شاہ فیصل مسجد (پاکستان)
- نصیرالملک مسجد (مسجد صورتی) (ایران)
- شیخ زاید مسجد ابوظبی (بڑی مسجد امارات)
- امام مسجد اصفهان (ایران)
- آزادی مسجد (جنوب–مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد) (انڈونیشیا)
- سلیمانیہ مسجد (ترکی)
- حسن دوم مسجد (سب سے بلند مینار والی مسجد) (افریقہ)
- جامع دوحہ مسجد (قطر)
- لاله مصطفی پاشا مسجد (ترکی)
- پوترا مسجد کوالالمپور (ملائیشیا)
- سلطان قابوس مسجد عمان (عمان)
- کریستال مسجد ملائیشیا (پہلی اسمارٹ مسجد)
- جامع مسجد ماسکو (روس)
- قل شریف مسجد (روس)[30]۔
ایران میں شیعہ اور سنی مساجد کی تعداد
سنہ 1978 تک ایران میں 25,000 مساجد تھیں، اسلامی انقلاب اور آبادی میں اضافے کے بعد اور عوام بالخصوص خیرین کے جذبے کی بدولت 2014 تک مساجد کی تعداد 72,000 ہو گئی۔ تین سال بعد یعنی 2017 میں ایران میں مساجد کی تعداد 74,000 ہوگئی۔ ایران کے آٹھ ملین آبادی والے دارالحکومت میں اس وقت 3,439 مساجد ہیں۔ آئندہ منصوبہ بندی کے مطابق، سال 2025 تک ایران میں 92,000 مساجد ہونا ضروری ہے۔ یعنی اگلے سات سالوں میں ایران میں 18,000 نئی مساجد تعمیر کرنا لازمی ہے۔ اگر ہم سال 2014 سے 2017 کے دوران صرف 2,000 نئی مساجد کی تعمیر کو دیکھیں تو مطلوبہ ہدف تک پہنچنے کے لیے تعمیر کی رفتار میں تیزی ضروری ہے۔ جس رفتار سے ہر تین سال میں 2,000 مساجد بنتی ہیں، مطلوبہ تعداد تک پہنچنے کے لیے 27 سال درکار ہیں۔
سنہ 2017 تک اگر ایران میں شیعہ اور اہل سنت مراکز عبادت کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ 62,000 مساجد شیعہ اکثریتی علاقوں میں ہیں (ہر 1,112 شیعہ پر ایک مسجد) اور 10,000 مساجد اہل سنت اکثریتی علاقوں میں ہیں (ہر 525 اہل سنت پر ایک مسجد)، یعنی ایران میں شیعہ مساجد کی تعداد نسبتاً کم ہے۔ ایران کے شہروں میں نسبتاً سب سے زیادہ مساجد سنندج میں (141 مسجد)، سب سے زیادہ مساجد صوبہ خراسان رضوی میں (5,346 مسجد) اور سب سے کم مساجد صوبہ البرز میں (376 مسجد) موجود ہے۔ یہ اعداد و شمار خیرین کو بتاتے ہیں کہ کن علاقوں میں مساجد کی تعمیر ضروری ہے۔
مسجد تک سب سے زیادہ رسائی تہران کے مرکزی، جنوبی اور مشرقی اضلاع میں ہے یعنی اضلاع 4، 8، 10، 11، 12، 13، 14، 17 اور 20۔ ایران کے جامع مساجد کے نظام میں کل آئمہ جماعات کی تعداد 3,429 ہے۔ ان مساجد کی بہتر تنظیم و انتظام کے لیے آئمہ جماعت کو چاہیے کہ اپنی معلومات جامع مساجد کے نظام میں رجسٹر کریں[31]۔
مسجد کا انقلاب اسلامی ایران میں کردار
صدر اسلام میں، مساجد عوامی روابط کے مرکزی ادارے کے طور پر، سماج کے سرگرم عناصر کے لیے کئی کردار ادا کرتی تھیں۔ جدید دور میں، ساخت اور تقسیم کار کی وجہ سے مساجد کے سماجی و سیاسی کردار پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ تاہم انقلاب اسلامی ایران میں، مساجد صرف عبادت نہیں بلکہ ثقافتی، سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کے مراکز تھیں، حکومت مخالف اقدامات اور عوام کے درمیان رابطے میں کلیدی کردار ادا کرتی تھیں۔ یہ مضمون انقلاب اسلامی ایران کے دوران عوام کی بسیج اور مساجد کی کارکردگی و نظام کا جائزہ لیتا ہے۔
مسجد قرون دراز تک اسلامی معاشروں کے بنیادی سیاسی و سماجی ادارے کے طور پر اہم اور ناقابل تبدیل کردار ادا کرتی رہی ہے۔ ہر شہر کے والی اور خلیفہ (مسلمانوں کے حکمران) کی پہلی کارروائی مسجد میں خطبہ پڑھنا ہوتی تھی۔ تمام جمعہ کی نمازیں اور کئی دوسری نمازیں مسجد میں ہی ہوتی تھیں، اور عوام کے ساتھ والی کا تعلق بھی مسجد کے ذریعے قائم رہتا تھا۔ مزید حکومتی امور جیسے عدلیہ، فوج کا اجتماع، عوام کی بسیج، ایسے دیگر امور بھی مساجد میں انجام پاتے تھے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد نہ صرف اہمیت کی حامل ہے بلکہ یہ ادارہ معاشرے کی ضروریات، وقت اور مقام کے مطابق متعدد کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس لیے اسلامی معاشروں میں سیاسی و سماجی انقلابات کا جائزہ مساجد کے کردار کے بغیر ناقص ہے۔ یہ خصوصیت ایران کے انقلاب اسلامی جیسے دینی رنگ والے واقعات میں مزید اہم ہوجاتی ہے[32]۔
لیکن یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں طویل وعظ و تقریریں نہ صرف بہت سے افراد کو مسجد سے دور کر دیتی ہیں بلکہ کوئی خاص نتیجہ بھی نہیں دیتیں۔ اس لیے، ایسا لگتا ہے کہ تقریریں، بالخصوص ہفتہ وار اور مستقل تقریریں، بہت مختصر ہونی چاہییں اور حتی الامکان سوال و جواب کی شکل میں انجام پائیں۔
پیغمبرِ اسلام کے طرزِ عمل میں ہم دیکھتے ہیں کہ آپ سامعین کی اکتاہٹ سے بچنے کے لیے صرف بعض دنوں میں وعظ فرماتے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں: "کَانَ النَّبِیُ یَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَهِ فِی الْاَیَّامِ کِرَاهَهَ السَّامَهِ عَلَیْنَا" (بخاری، کتاب العلم، باب: ما کان النبی (صلّی اللہ علیہ و آلہ) یتخولہم بالموعظة و العلم)؛ "رسولِ خدا اس لیے کہ کہیں ہم (سامعین) تھک نہ جائیں، صرف بعض دنوں میں ہمیں وعظ فرماتے تھے۔"
اسی طرح آپ دوسروں کو بھی تبلیغ میں آسانی برتنے کی تاکید فرماتے تھے: "یَسِّرُوا وَ لاَ تُعَسِّرُوا وَ بَشِّرُوا وَ لاَ تُنَفِّرُوا" (بخاری، کتاب العلم، باب: ما کان النبی (صلّی اللہ علیہ و آلہ) یتخولہم بالموعظة و العلم)؛ "آسانی پیدا کرو، سختی نہ کرو، خوش خبری دو اور لوگوں کو متنفر نہ کرو۔" بلاشبہ مسجد میں تبلیغی کام روحانی اور معنوی گہرائیوں سے مالا مال ہے۔ الٰہی تعلیمات ایسے افراد کو، جن میں ہدایت کے لیے معمولی سی بھی استعداد ہو، اسلام کا شیدائی بنا دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر، اوائل انقلاب کے ایک انتہائی کامیاب مبلغ دوست نے مسجد کے ذریعے بہت سے نوجوانوں کو دینی مدارس کی طرف راغب کیا، جن میں سے کئی آج امامِ جمعہ، ثقافتی اور حوزوی منتظمین وغیرہ کے طور پر سرگرم عمل ہیں، اور یہ سب نوجوانوں کی مسجد سے وابستگی کا ثمر ہے۔
یہاں مسجد کی تبلیغ میں ایک بہت اہم موضوع کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے، اور وہ ہے مکارمِ اخلاق کی تبلیغ۔ تاریخ کے دوران، سابقہ علماء کرام مساجد میں عوامی تعطیلات اور فرصت کے اوقات میں اخلاقیات [فردی، سماجی، خاندانی وغیرہ] پر خصوصی کلاسز منعقد کیا کرتے تھے۔ آج بھی ایسے پروگرام بعض بڑے شہروں جیسے قم، اصفہان اور مشہد میں علماء کرام کے ذریعے اور بعض چھوٹے شہروں میں باصلاحیت اور خوش اخلاق اساتذہ اور روحانیوں کی مدد سے منعقد ہوتے ہیں، جن کی طرف عام لوگوں کا رجحان زیادہ ہوتا ہے، اور انہیں خوب پذیرائی ملی ہے۔
مناسب ہوگا کہ ایسے پروگرام، لوگوں کی دلچسپی کے مطابق، مسجد کے دیگر پروگراموں کے ساتھ ہفتے میں ایک بار یا مہینے میں ایک بار منعقد کیے جائیں۔ نیز، مغرب اور عشاء کی نمازوں کے درمیان ائمہ ہدیٰ کی احادیث اور بزرگانِ دین کی سوانح عمری سے "ایک منٹ کے اخلاقی نکات" بیان کرنا بہت مؤثر اور پرکشش ہوتا ہے۔
سماجی کردار
دینِ اسلام کی بنیاد اجتماعی زندگی پر رکھی گئی ہے تاکہ انسان کو انفرادی زندگی اور تنہائی سے نجات دلائی جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام اعتکاف جیسی تنہائی اور مناجات کو بھی اجتماع میں، اور وہ بھی جامع مسجد میں، انجام دینے کی سفارش کرتا ہے۔
اصولی طور پر، رسولِ اسلام اور ائمہ معصومین کی طرف سے نمازِ باجماعت میں مضبوط اور منظم صفوں کے ساتھ شرکت پر زور دینے کی ایک وجہ نماز گزاروں میں تعاون کا جذبہ پیدا کرنا اور مسلمانوں کے عبادی اعمال کے ساتھ ساتھ ان کے سماجی پہلو کو فروغ دینا تھا۔ یہ شرکت معاشرے میں وقت کے ساتھ پیدا ہونے والی بے راہ روی اور افراتفری کو روک سکتی ہے، اور مسجد جیسے مقدس مقام پر یہ اجتماعات مؤمنین کو علماء اور دینی مبلغین کی توجہ اور رہنمائی میں رکھتے ہیں۔ بحوالہ آیین مسجد، محمد علی موظف رستمی، جلد 2، صفحہ 63۔ دوسری طرف، مسجد میں مسلمانوں کی یکجہتی اور باہمی وابستگی کا اظہار روزانہ کی بنیاد پر ان کے باہمی تعاون اور ہمدردی کو نمایاں کرتا ہے۔ مزید برآں، مسجد مؤمنین کے آپس میں تعارف، ایک دوسرے کے احوال سے آگاہی، ضرورت کے وقت مدد اور پریشانی کے وقت دعا کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
اس کے علاوہ، مسجد اللہ کی راہ میں خیرات و انفاق، ضرورت مندوں کی حاجت روائی، جابر حکمرانوں کے ظلم کے خلاف جدوجہد کا مرکز اور جدوجہد کو جاری رکھنے، کامیابیوں کو برقرار رکھنے اور فتوحات کے لیے قوت و وسائل کو منظم کرنے کا ایک مضبوط ٹھکانہ رہی ہے اور ہے۔ امام رضا فرماتے ہیں: "إِنَّمَا جُعِلَتِ الْجَمَاعَهُ لِئَلَّا یَکُونَ الْإِخْلَاصُ وَ التَّوْحِیدُ وَ الْإِسْلَامُ وَ الْعِبَادَهُ لِلَّهِ إِلَّا ظَاهِراً مَکْشُوفاً مَشْهُوداً لِأَنَّ فِی إِظْهَارِهِ حُجَّهً عَلَی أَهْلِ الشَّرْقِ وَ الْغَرْبِ لِلَّهِ وَحْدَهُ وَ لِیَکُونَ الْمُنَافِقُ وَ الْمُسْتَخِفُّ مُؤَدِّیاً لِمَا أَقَرَّ بِهِ یُظْهِرُ الْإِسْلَامَ وَ الْمُرَاقَبَهَ وَ لِیَکُونَ شَهَادَاتُ النَّاسِ بِالْإِسْلَامِ بَعْضِهِمْ لِبَعْضٍ جَائِزَهً مُمْکِنَهً مَعَ مَا فِیهِ مِنَ الْمُسَاعَدَهِ عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوَی وَ الزَّجْرِ عَنْ کَثِیرٍ مِنْ مَعَاصِی اللَّهِ عَزَّ وَ جَل" (وسائل الشیعہ، شیخ حر عاملی، مؤسسة آل البیت:، قم 1988، جلد 8، صفحہ 287)؛ "نمازِ جماعت اس لیے مقرر کی گئی ہے تاکہ اخلاص، توحید، اسلام اور خدا کی پرستش سب ظاہر، آشکار اور مشہود ہوں؛ کیونکہ ان امور کو آشکار کرنے میں خدائے واحد کی مشرق و مغرب کے لوگوں پر حجت موجود ہے۔"
اسی طرح [اس لیے کہ اسلام کے احکام علانیہ انجام دیے جائیں اور ان پر عمل کی نگرانی کی جائے] تاکہ منافق اور سست دین شخص بھی اپنے اقرار کو ادا کرے اور اسلام اور اس کی نگرانی کا اظہار کرے۔ اور تاکہ لوگوں کی ایک دوسرے کے لیے اسلام کی گواہی جائز اور ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ، نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد اور بہت سے گناہوں سے روک تھام [نمازِ جماعت میں شرکت سے حاصل ہوتی ہے]۔ اس گراں قدر کلام کی روشنی میں، ضرورت مندوں کے لیے امداد جمع کرنا، قرض دینا، طبی خدمات فراہم کرنا، نوجوانوں کی شادی میں سہولتیں پیدا کرنا، مریضوں بالخصوص اہلِ مسجد کے مریضوں کی عیادت اور خبر گیری کے پروگرام بنانا اور اسی طرح کے دیگر امور سب "نیکی اور تقویٰ پر تعاون" کی مثالیں ہیں۔
سیاسی کردار
مسجد کے اہم کرداروں میں سے ایک سیاسی کردار ہے جس پر رسولِ خدا کے زمانے سے ہی زور دیا گیا ہے اور آج بھی اس کی اہمیت مکمل طور پر واضح ہے۔ اسی بنیاد پر آپ نے اسلامی نظام کی بنیاد رکھنے کے بعد، مسجد کو، جو کہ مسلمانوں کے لیے دینی فرائض کی ادائیگی کے لیے ایک عمومی اور اجتماع کا مقام تھا، اسلامی حکومت اور سیاسی نظام کے مرکز کے طور پر چنا۔ بعد کے ادوار میں بھی، اس وقت کے زیادہ تر سیاسی امور جیسے خلیفہ کا تعارف، اس کی بیعت کی رسومات، صوبائی گورنروں اور کارگزاروں کی تقرری و معزولی وغیرہ، مسجد میں انجام پاتے تھے۔
ایران کے اسلامی انقلاب کے دوران، اعتقادی اور عبادی محور کے بعد، مساجد کا سب سے نمایاں، فعال اور واضح کردار سیاسی محور میں رہا ہے۔ کیونکہ مساجد نے انقلاب سے پہلے اور بعد کے ادوار میں عوام کی بیداری اور آگاہی میں مؤثر کردار ادا کیا ہے، اور آج بھی دنیا کے استعمار کرنے والے مساجد سے کسی بھی انقلابی ادارے سے زیادہ خوفزدہ ہیں۔
جہادی کردار
تاریخی کتب کا جائزہ اس بات کو بخوبی واضح کرتا ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور سے ہی تمام سرگرمیاں، بشمول فوجیوں کی جمع آوری، تیاری، تنظیم اور اجتماع، دشمن کے حملے کے خوف یا خطرے کے احساس پر، مسجد میں انجام پاتی تھیں۔ مسجد نہ صرف فوجیوں کو روانہ کرنے اور جنگی منصوبے بنانے کی جگہ تھی، بلکہ رسولِ خدا حکم فرماتے تھے کہ اگر مسجد موجود ہو تو ان کا کمانڈ پوسٹ کا خیمہ اس کے ساتھ ہی نصب کیا جائے۔ چنانچہ "بنی نضیر" کی جنگ میں آپ نے بلال کو حکم دیا کہ ان کا خیمہ ایک چھوٹی مسجد کے قریب نصب کریں؛ لیکن جب وہ خیمہ دشمن کی شناخت میں آیا اور تیر اندازی کا ہدف بن گیا تو آپ نے حکم دیا کہ خیمہ کو "مسجد فضیخ" کے قریب منتقل کیا جائے تاکہ وہ دشمن کی دسترس سے دور رہے۔ بحوالہ آیین مسجد، جلد 2، صفحات 75 تا 81۔
موجودہ دور میں اور اسلامی انقلاب ایران سے پہلے، دوران اور بعد کے انقلابی جدوجہد اور سرگرمیوں کے دوران جو بات واضح ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ مساجد ہی وہ واحد مقام ہیں جو وحدت، اخوت اور روحانیت سے بھرپور ماحول میں مجاہد، مؤمن اور بہادر قوتوں کو پناہ دیتی ہیں، اور اس طرح مختلف عوامی گروہوں کی بیداری اور آگاہی کے لیے اپنے کردار کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن مساجد کو انقلاب کے مضبوط معاون مراکز اور اسلامی انقلاب کے رہنما کے آپریشنل ہیڈ کوارٹر کے طور پر خوف اور دہشت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہوں نے بارہا مساجد کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ آج بھی اندرونی اور بیرونی دشمن لوگوں، بالخصوص نوجوانوں کو مساجد سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
زمانے کے بت شکن، امام خمینی نے دشمنوں کی اس حساسیت کو سمجھتے ہوئے بارہا انقلاب کو مساجد سے الگ کرنے کے خطرے پر زور دیا اور فرمایا: "اگر یہ مسجد اور اسلام کا یہ مرکزی ہیڈ کوارٹر مضبوط ہو تو فینٹم طیاروں سے نہ ڈرو! امریکہ اور روس اور ان سے نہ ڈرو! وہ دن تمہیں ڈرنا چاہیے جب تم اسلام سے منہ موڑو، مسجد سے منہ موڑو۔" (صحیفہ نور، مرکز ثقافتی انقلاب اسلامی، جلد 12، صفحہ 234)۔
تبلیغی کردار (میڈیا)
انسان کی اہم ضروریات میں سے ایک ابلاغی ذرائع ہیں تاکہ لوگوں کو اہم خبروں سے آگاہ کیا جا سکے، حادثات میں ایک دوسرے کی مدد کے لیے پکارا جا سکے، دشمنوں کے حملے سے آگاہ کیا جا سکے اور انہیں دفاع کے لیے تیار کیا جا سکے۔ دینِ اسلام نے 1400 سال پہلے اس ضرورت کو مدنظر رکھا اور "مسجد" نامی جگہ کو انسانی روابط کو بڑھانے اور اسلام کی ثقافتی ترقی میں ایک انتہائی اہم ابلاغی مرکز کے طور پر متعارف کرایا۔ یہی وجہ ہے کہ ابلاغی میڈیا کا کردار، تمام تکنیکی تبدیلیوں کے باوجود، تبھی کامیاب سمجھا جاتا ہے جب وہ اپنے سامعین کے ساتھ گہرا ترین تعلق اور رابطہ قائم کر سکے، اور یہ خصوصیت صرف مسجد میں پائی جاتی ہے۔
اگرچہ ایسا تصور کیا جا سکتا ہے کہ آج کے جدید ابلاغی ذرائع کی موجودگی میں مساجد کا یہ کردار اپنی سابقہ اہمیت کھو چکا ہے؛ لیکن شہری اور دیہی ہر علاقے میں مساجد کا پھیلاؤ ایک طرف، اور دوسری طرف مسلمانوں کے نزدیک مسجد کی خاص حرمت، تقدس اور روحانیت نے مساجد کو اس کردار میں اپنا اہم اور ناقابلِ انکار حصہ ادا کرنے کا سبب بنایا ہے۔ ترجمهی دقیق اردو به گونهای که ساختار و منابع حفظ شوند و در قالب کد قرار گیرند به شکل زیر است:
مساجد اور ممتاز افراد کی رضاکارانه فوج
مساجد کے عوامی بسیج میں کردار کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے، سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مساجد اور اسلامی و انقلابی اقدار سے وابستہ نیک نیت نخبگان کا باہمی تعامل کس طرح ہوا؛ کیونکہ ان دونوں کے بغیر کوئی بھی تحریک نامکمل رہتی اور مطلوبہ نتیجہ نہ دیتی۔ اسلامی انقلاب کے محفوظ شدہ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مساجد نے اپنے انقلابی کردار کو مختلف قالبوں میں ادا کیا۔
اسلامی مفکرین کے اجتماعات مساجد میں اس میدان میں نمایاں قدم تھے۔ مثال کے طور پر شہید مطہری اور آیت اللہ مفتح جیسے مفکرین نے شہید بہشتی اور شہید باہنر جیسے نخبگان کے ساتھ مل کر مساجد میں متعدد کلاسیں منعقد کیں۔ ان اجتماعات کا مقصد مذہبی نخبگان کی بسیج کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی ان اجتماعات میں بھرپور شرکت پر آمادہ کرنا تھا۔ اس قسم کے پروگرام شیراز، بجنورد اور دیگر شہروں میں بھی منعقد ہوئے جو مساجد کے مثبت اثرات کے مظہر تھے۔ تاریخی رپورٹس سے واضح ہے کہ انقلاب کے دوران، مساجد اسلامی و انقلابی اقدار کے بنیاد پر نخبگان اور ہم فکروں کے لیے مشاورت و تبادلۂ خیال کا مرکز تھیں۔ [33]
مساجد اور عوام کو اسلامی و انقلابی اقدار کی تعلیم
دوسرا مرحلہ جس میں مساجد نے عوام کو منظم و متحرک کیا، وہ سماجی و سیاسی تعلیم تھی۔ اس عمل میں مذہبی، سیاسی اور سماجی ماڈلز کو تقریروں، درسوں اور کتابوں کے ذریعے عام کیا گیا۔
علماء کی تقاریر خصوصاً محرم، صفر، رمضان اور دیگر مذہبی مناسبتوں میں منعقد ہوتیں۔ تہران اور دیگر شہروں میں ایسے منظم منبر قائم ہوئے جن کا مقصد مذہبی بحثوں میں سیاسی و سماجی مضامین کو شامل کرنا تھا۔ ساواک کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ان جلسوں کا مقصد عوام میں انقلابی و اسلامی افکار کو فروغ دینا تھا، جو صرف تہران نہیں بلکہ مشہد، تبریز، شیراز اور قم میں بھی پرجوش طریقے سے جاری تھا۔ [34]
تعلیمی کلاسز بھی عوامی بسیج کا ایک اہم ذریعہ تھیں۔ مسجد کرامت مشہد میں رہبر معظم انقلاب نماز کے بعد قرآن کی آیات کی سیاسی و سماجی تشریح فرماتے تھے۔ اسی طرح مسجد ہدایت تہران میں آیت اللہ طالقانی کا درس تفسیر، جو سیاسی و سماجی پہلو رکھتا تھا، بہت مقبول ہوا۔ ان سرگرمیوں کے سبب شاہی حکومت نے کئی مساجد کے درس و کلاسز بند کر دیے اور علمائے کرام کو قید کیا۔ [35]
مساجد کے ذریعے کتابوں کی اشاعت بھی تعلیمی و انقلابی کوششوں کا حصہ تھی۔ مرکز اسناد انقلاب اسلامی کے سند نمبر ۱۷۸ میں درج ہے کہ حکومت نے ان مساجد کی کتاب خانوں کو محدود کرنے کے احکامات جاری کیے جو عوامی شعور بیدار کر رہی تھیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ شاہی حکومت کو عوامی افکار کی بسیج ایک خطرہ محسوس ہوتا تھا۔ [36]
مساجد اور اطلاعاتی نیٹ ورک کی تشکیل
مساجد نے عوامی افکار کی بسیج میں ایک خفیہ لیکن مؤثر کردار ادا کیا، اور ایک اطلاعاتی نیٹ ورک تشکیل دیا جو شاہی حکومت کے ذرائع ابلاغ کو غیر مؤثر بنا رہا تھا۔ مثال کے طور پر جان ڈی اسٹمپل نے لکھا: «۱۳۵۶ شمسی میں، پہلی بار مسجدی نیٹ ورک نے حکومت کے میڈیا انحصار کو توڑ دیا... عوام کو حکومت سے آزاد ایک ذرائع اطلاع میسر آیا...» [37]
میشل فوکو نے ۱۳۵۷ میں آبادان میں مشاہدہ کیا: «یہ ایک مکمل اطلاعاتی نیٹ ورک ہے جو فون، ٹیپ، مسجد، منبر، وکلا کے دفاتر اور فکری حلقوں سے بنا ہے...» [38]
عوام زیادہ تر مساجد کی خبریں سنتے، قمری تاریخ استعمال کرتے اور امام جماعت کی رہنمائی پر عمل کرتے؛ یہی نئی مواصلاتی راہ تھی جس نے شاہی میڈیا کو مفلوج کر دیا۔
مساجد اور عوامی احتجاجی تحریک
جب مساجد نے نخبگان کو منظم کر کے اسلامی و انقلابی اقدار کو عام کیا، تو حکومت کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی نظام سے عوام میں اختلاف بڑھا۔ علماء اور سماجی کارکنوں نے منبروں، اعلامیوں اور نواروں کے ذریعے رژیمِ شاہی پر تنقید کی اور عوام کو احتجاج و مظاہروں پر آمادہ کیا۔ میشل فوکو کے مطابق: «مساجد اور علماء ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور عوامی بیداری کے مرکز ہیں... مذهب شیعه ایک ایسا فریم ہے جس کے اندر عوامی احتجاج سیاسی اظہار میں ڈھلتا ہے...» [39]
ان اقدامات نے عوامی تحریک کو تقویت دی اور رژیم پهلوی کی بنیادیں ہلا دیں، حتیٰ کہ ۲۲ بہمن ۱۳۵۷ کو اس کا مکمل زوال ہوا۔ [40]
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ [م َ ج َ] (ع اِ) پیشانی منتهی الارب.
- ↑ از اقرب الموارد.
- ↑ از کشاف اصطلاحات الفنون.
- ↑ ج، مَساجِد (اقرب المواردwww.vajehyab.co.
- ↑ بحار الانوار، علامہ مجلسی، مؤسسة الوفاء، بیروت، 1984، جلد 1، صفحہ 206
- ↑ الکافی، ثقة الاسلام کلینی، دار الکتب الاسلامیہ، تہران، جلد 1، صفحہ 32۔
- ↑ بحوالہ آیین مسجد، محمد علی موظف رستمی، گویہ، تہران، 2002، جلد 2، صفحات 27 تا 28۔
- ↑ رواه البخاری فی کتاب العلم، باب: ما کان النبی(صلّی الله علیه و آله) یَتَخَوَّلَهُمْ بِالْمَوْعِظَةِ وَ الْعِلْمِ.
- ↑ رواه البخاری فی کتاب العلم، باب: ما کان النبی(صلّی الله علیه و آله) یَتَخَوَّلَهُمْ بِالْمَوْعِظَةِ وَ الْعِلْمِ.
- ↑ آیین مسجد، محمد علی موظف رستمی، ج 2، ص 63.
- ↑ وسائل الشیعه، شیخ حر عاملی، مؤسسه آل البیت:، قم 1409 ق، ج 8، ص 287.
- ↑ آیین مسجد، ج 2، ص 75 ـ 81.
- ↑ صحیفه نور، مرکز فرهنگی انقلاب اسلامی، ج12، ص234.
- ↑ بحوالہ مجمع البیان فی تفسیر القرآن، علامہ طبرسی، ناصر خسرو پبلی کیشنز، تہران، 1993، جلد 1، صفحہ 217۔
- ↑ بحوالہ hawzah.net، مجلہ، مضمون۔
- ↑ بحوالہ hawzah.net، مجلہ، مضمون۔
- ↑ بقره/سوره۲، آیه۱۴.
- ↑ ؛ بقر: ۱۸۷
- ↑ توبه/سوره۹، آیه۱۷.
- ↑ توبه/سوره۹، آیه۱۷.
- ↑ حج/سوره۲۲، آیه۴۰.
- ↑ جن/سوره۷۲، آیه۱۸.
- ↑ بحوالہ hawzah.net، مجلہ، مضمون۔
- ↑ بحوالہ hawzah.net، مجلہ، مضمون۔
- ↑ بحوالہ شعبہ قرآن و عترت، ثقافتی گروپ۔
- ↑ اولین مسجد در اسلام - سازمان تبلیغات اسلامی.
- ↑ www.alaedin.travel › blog
- ↑ بادکوبه هزاوه، «جامع مسجد»، دانشنامه جهان اسلام.
- ↑ شبکه «خلیج آنلاین».
- ↑ lahzeakhar.com.
- ↑ Iqnaiqna.ir.
- ↑ اولین مسجد در اسلام - سازمان تبلیغات اسلامی؛ www.alaedin.travel › blog؛ بادکوبه هزاوه، «جامع مسجد»، دانشنامه جهان اسلام؛ شبکه «خلیج آنلاین»؛ lahzeakhar.com؛ Iqnaiqna.ir.
- ↑ مرکز بررسی اسناد تاریخی وزارت اطلاعات، ج ۲۶، ۱۳۸۲، ص ۲۷.
- ↑ رسول جعفریان، جریانها و سازمانهای مذهبی-سیاسی ایران؛ از روی کار آمدن محمدرضاشاه تا پیروزی انقلاب اسلامی، قم، ۱۳۸۵، ص ۲۶۴ و ۲۶۵.
- ↑ مهناز میزبانی، منیژه صدری و حشمتالله سلیمی، نقش مساجد و دانشگاهها در پیروزی انقلاب اسلامی تهران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، ۱۳۸۳، ص ۳۶.
- ↑ مهناز میزبانی، منیژه صدری و حشمتالله سلیمی، پیشین، ص ۳۱.
- ↑ جان. دی استمپل، درون انقلاب ایران، ترجمه منوچهر شجاعی، تهران، رسا، ۱۳۷۷، ص ۱۲۹ و ۱۳۰.
- ↑ میشل فوکو، پیشین، ص ۵۸ و ۵۹.
- ↑ میشل فوکو، پیشین، ص ۵۸ و ۵۹.
- ↑ حمیدرضا کشاورز، پژوهشگر تاریخ معاصر/برهان.