مندرجات کا رخ کریں

چین

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 16:50، 22 اگست 2026ء از Halimi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (مآخذ)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)


چین

چین جس کا سرکاری نام عوامی جمہوریہ چین ہے، مشرقی ایشیا کا ایک قدیم ملک ہے۔ چین کی آبادی ۱٬۴۰۱٬۷۷۰٬۰۰۰ افراد ہے اور یہ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

چین کا جغرافیائی محلِ وقوع

یہ ملک ۹٬۵۹۶٬۹۶۱ مربع کلومیٹر کے رقبے کے ساتھ مشرقی ایشیا میں واقع ہے۔ یہ وسیع ملک شمال میں منگولیا، شمال مشرق میں روس، مشرق میں شمالی کوریا، زرد سمندر اور مشرقی بحیرۂ چین، جنوب میں جنوبی بحیرۂ چین، ویتنام، لاؤس، میانمار (برما)، بھارت، بھوٹان اور نیپال، مغرب میں بھارت، پاکستان، افغانستان، تاجکستان اور کرغیزستان، جبکہ شمال مغرب میں قازقستان سے ملحق ہے۔

چین کا سب سے بڑا مذہب بدھ مت ہے اور چین میں مذاہب کو ایک تقسیم کے اعتبار سے درج ذیل بیان کیا جاتا ہے: آبا و اجداد کی پرستش: چین کا قدیم ترین اعتقادی نظام آبا و اجداد کا احترام اور ان کی تعظیم ہے۔ بدھ مت: بدھ مت کو چین میں شاکیامونی کا مذہب کہا جاتا ہے۔ تاؤ مذہب: تاؤ ازم ابتدا میں ایک فلسفیانہ نظام تھا جو لاؤتزو اور چوانگ تزو کی تعلیمات سے ماخوذ تھا۔ یہ دونوں شخصیات بالترتیب چھٹی اور چوتھی صدی قبل از میلاد میں زندگی گزارتی تھیں۔

کنفیوشس مذہب: اس کا تعلق سیاسی فلسفے سے تھا اور اس کے پیروکار قدیم دور کی حکمت و دانائی کے سنہری عہد کی طرف واپسی کے قائل تھے۔ ایک عمومی تقسیم کے مطابق کہا جا سکتا ہے کہ ۵۲٫۲ فیصد چینی باشندے کسی مذہب کے پیروکار نہیں ہیں، جبکہ ۲۱٫۹ فیصد روایتی چینی مذاہب، ۱۸٫۲ فیصد بدھ مت، ۵٫۱ فیصد مسیحیت اور ۸٫۱ فیصد اسلام پر اعتقاد رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ چین میں دوسرے مذاہب اور فرقے، جیسے زرتشتیت، مانویت اور یہودیت بھی موجود ہیں، تاہم ان کی تعداد بہت کم ہے۔ اس ملک کی کرنسی یوان ہے اور اس کا دارالحکومت بیجنگ ہے۔

احزاب

سب سے اہم سیاسی جماعت کمیونسٹ پارٹی ہے، جو ۱۹۲۱ء میں قائم ہوئی۔ کمیونسٹ پارٹی کے علاوہ دیگر جماعتوں کو بھی چین میں محدود پیمانے پر سرگرمی کی اجازت ہے، جن میں کومین تانگ کی انقلابی کمیٹی، چینی جمہوری لیگ، قومی تعمیر نو کے لیے چینی جمہوری قومی اتحاد، جمہوریت کے فروغ کے لیے چینی لیگ، چینی مزدوروں اور کسانوں کی جمہوری پارٹی، تائیوان کی خودمختار جمہوری سوسائٹی، جیوسان سوسائٹی، چینی جی گنگ دانگ اور دیگر جماعتیں شامل ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ تین رجحانات، یعنی کمیونسٹ نظریے کا تسلسل، سماجی و سیاسی لبرل ازم کی ترقی، اور کنفیوشیوسی بنیاد پرستی کا ابھار، آئندہ دو دہائیوں میں چین کی ثقافت اور سیاست پر اثرانداز ہوں گے اور یہ تینوں رجحانات چین کی آئندہ دو دہائیوں کی سمت اور مستقبل کا تعین کریں گے۔

ثقافت اور تہذیب

چینی ثقافت اور تہذیب تین بنیادی اصولوں پر قائم ہے: انسان اور فطرت کے درمیان تعلق، مسلسل تبدیلی اور ارتقا، اور دیگر ثقافتوں کو جذب کرنے اور موجودہ حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت۔ قدیم زمانے سے ہی ایک مخصوص روح چینی ثقافت پر حاوی رہی ہے، جس نے پوری تاریخ میں اس ثقافت کی وحدت اور تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اسے چینی سرزمین میں ہزاروں سال تک زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مختلف ثقافتوں کے حملوں اور اثرات کے باوجود چینی ثقافت کے انہدام کو روکا گیا اور اس کی بنیادی شناخت برقرار رہی۔

چین میں اسلام

چین میں اسلام کا داخلہ

رسول اکرم (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحلت کے پانچ سال بعد اسلام چین میں پہنچا۔ سعد بن ابی وقاص کو چین میں داخل ہونے والا پہلا مسلمان قرار دیا جاتا ہے، اور انہوں نے شنگھائی کی بندرگاہ میں پہلی مسجد قائم کی۔

مسلمانوں اور چینیوں کے درمیان پہلا باقاعدہ تصادم ۱۳۰ ہجری میں اس وقت ہوا جب کوہسین چعِیہ کی قیادت میں چینی فوج کا سامنا زیاد کی قیادت میں مسلمانوں سے ہوا۔ چین کی سرحد پر دونوں کے درمیان ایک شدید جنگ ہوئی۔ ابتدا میں فتح چینیوں کے ساتھ تھی، لیکن ان کی شکست کے بعد مسلمانوں نے وسطی ایشیا پر اپنا تسلط قائم کرلیا۔ یہ فتح چین اور وسطی ایشیا میں اسلام کے اثر و رسوخ کے پھیلاؤ کا مقدمہ ثابت ہوئی[1]۔

مورخ طبری نے اپنی کتاب تاریخ الرسل والملوک میں مذکورہ زمانے کو ۷۱۴-۷۱۵ء قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق قتیبہ، جسے ۷۰۵ء میں خراسان بزرگ کا حاکم مقرر کیا گیا تھا، نے بلخ، بخارا، سمرقند، خوارزم اور وسطی ایشیا کے دیگر علاقوں پر حملے کیے۔ ان علاقوں پر غلبہ حاصل کرنے کے بعد اس نے ۷۱۴ء میں اپنا آخری حملہ شروع کیا اور ۷۱۵ء میں کاشغر فتح کرکے چین کی سرزمین میں داخل ہوا۔

«انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا» کے ’’مشرقی ترکستان‘‘ کے حصے میں ذکر کیا گیا ہے کہ قتیبہ نے ۹۵ ہجری (۷۱۳ء) میں خجند پر قبضہ کرنے کے بعد اپنی پیش قدمی جاری رکھی اور تنگ درّہ ’’دیلک‘‘ سے گزرنے کے بعد اسی سال کے اواخر میں کاشغر میں داخل ہوا۔ اس کے بعد اس نے ختن، ’’آق سو‘‘، ’’تورفان‘‘ اور دیگر علاقوں کو فتح کیا۔ اس طرح جنوبی ’’سنکیانگ‘‘ کا ایک بڑا حصہ ولید کی حکومت کے زیرِ اقتدار آگیا۔

مسلمانوں کی جغرافیائی صورتِ حال

چین کے بیشتر مسلمان اس ملک کے مشرقی حصے اور سنکیانگ کے صوبے میں آباد ہیں، یہاں تک کہ اس علاقے کے باشندوں کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ان علاقوں میں اسلامی روایات آٹھویں صدی ہجری کے بعد ایران اور ماوراءالنہر میں موجود اسلامی روایات سے متاثر ہیں، جو بتدریج چین میں داخل ہوئیں۔ چین میں موجود اسلام اس معنی میں زیادہ مذہبی رنگ نہیں رکھتا کہ اسے شیعہ یا سنی کہا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آٹھویں سے دسویں صدی ہجری کے دوران ایران سے چین میں پہنچنے والا اسلام صوفیانہ نوعیت کا تھا، جس میں تشیع اور تسنن دونوں عناصر جمع ہوگئے تھے اور اسے ایک طرح سے اثنا عشری سنی اسلام کہا جا سکتا ہے۔

چین کے بیشتر اہل سنت، اہل بیت (علیہم السلام) سے شدید محبت رکھتے ہیں اور ہر سال ۱۳ رمضان المبارک کو حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کی خوشی اور جشن مناتے ہیں و امام علی اور امام حسن و امام حسین (علیہم السلام) سے عشق و محبت رکھتے ہیں۔ آج پورے چین میں چین کے امورِ ادیان کے ادارے کے سربراہ کے بیان کے مطابق[2] اس ملک میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ۲۳ ملین بیان کی جاتی ہے، لیکن غیر سرکاری ذرائع نے ان کی تعداد ۵۰ سے ۷۰ ملین کے درمیان اور بعض ذرائع نے حتیٰ کہ ۱۰۰ ملین تک بھی بتائی ہے۔ آج چین میں تقریباً ۳۵ ہزار مساجد موجود ہیں، جہاں ۴۵ ہزار سے زیادہ ائمۂ جماعت اور خطباء مسلمانوں کے دینی امور کی انجام دہی کرتے ہیں۔ مزید برآں، ۲۰ ہزار افراد اس ملک کے ۱۰ سے زیادہ اسلامی علوم کے تعلیمی اداروں اور مراکز میں سرگرم ہیں۔

چین میں موجود ۵۶ نسلی گروہوں میں سے ۱۰ قومیتوں میں اسلام کے پیروکار پائے جاتے ہیں، جو مجموعی طور پر چین کی آبادی کا تقریباً دو فیصد ہیں۔ چین کے مسلمان نسلی گروہ خُوئی، اویغور، قازق، تاتار، ازبک، سالار، دونگ شیانگ، باؤآن، قرغیز اور تاجک ہیں۔ ان دس مسلم اقوام میں سے بعض، مثلاً خُوئی قوم، جو چین میں مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی قومیت ہے، ایرانی اور عرب مہاجرین کے مقامی چینی باشندوں کے ساتھ اختلاط کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔

چین کے اویغور مسلمانوں میں ۹۹ فیصد اہل سنت ہیں، جنہیں چینی حکومت کی جانب سے دباؤ اور پابندیوں کا سامنا ہے اور انہیں روزہ رکھنے سے بھی روکا جاتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ائمۂ جماعت کو عوامی مقامات پر رقص کرنے پر مجبور کرنا، مسلمانوں کو سگریٹ اور شراب فروخت کرنے پر مجبور کرنا، مردوں کو داڑھی رکھنے کا حق نہ دینا اور خواتین کو حجاب پہننے سے روکنا، چین میں مسلمانوں پر عائد کیے جانے والے دباؤ کی بعض مثالیں ہیں۔

چین میں دینی اور اسلامی رجحانات

چین میں مسلمانوں کی آمد کے بعد، چینگ دور میں مسلم شناخت کی تشکیل اور اسلامی شناخت کی تجدید، اصلاحات کے دور کے آغاز، دینی اصولوں اور اصیل مذہبی جڑوں کی طرف واپسی، چینی مسلم معاشرے کے بعض طبقات کا روایتی چینی ثقافت کے ساتھ اختلاط اور تعامل سے دور ہونا، اور اس سرزمین میں صوفیانہ افکار کے داخل ہونے کے نتیجے میں، رفتہ رفتہ مسلمانوں کی متحد صفیں فرقہ واریت اور اختلافات کو ہوا دینے کی طرف مائل ہوگئیں۔ اس کے نتیجے میں چین میں اسلام پسندوں کے تین بڑے رجحانات وجود میں آئے۔


۱۔ چین میں روایتی اسلامی رجحان چین میں ابتدائی مسلم معاشروں کی تشکیل عرب اور ایرانی مسلمان تاجروں کی اولاد، وسطی ایشیا کے مسلمانوں، نیز سرکاری عہدیداروں اور فوجی اہلکاروں نے کی۔ یہ لوگ ساتویں سے چودھویں صدی کے دوران چین کے جنوبی ساحلی علاقوں، شمال مغربی اور مغربی چین میں چھوٹے اور بڑے گروہوں کی صورت میں آباد رہے۔

یہ رجحان حنفی مذہب کے پیروکار مسلمانوں پر مشتمل تھا اور یہ لوگ ایک قدامت پسندانہ طرزِ زندگی گزارتے تھے۔ وہ عموماً مساجد تعمیر کرتے اور انہی مساجد کے آس پاس رہائش اختیار کرتے تھے۔ ان کی آبادی نسبتاً چھوٹی ہوتی تھی اور ہر آبادی کے سربراہ کے طور پر ایک انتظامی کمیٹی اور ایک مذہبی عالم موجود ہوتا تھا۔ بعد میں یہ رجحان قدیم اور روایتی اسلامی رجحان کے نام سے معروف ہوا۔

۲۔ صوفی طریقتوں کی پیروی کرنے والا اسلامی رجحان سترہویں صدی عیسوی سے پہلے اس رجحان کو چین میں کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں تھی، لیکن جب بعض علماء فریضۂ حج کی ادائیگی یا اسلامی علوم کی مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے جزیرۂ عرب گئے تو وہ عالمِ اسلام میں موجود صوفیانہ تحریکوں سے آشنا ہوئے۔ چین واپس آنے کے بعد وہ اپنے ساتھ صوفیانہ افکار بھی لے کر آئے اور رفتہ رفتہ چین میں مختلف صوفی طریقتیں وجود میں آئیں۔ چین میں اہم صوفی طریقتوں میں قادریہ، خوفیہ، جہریہ اور کبرویہ شامل ہیں۔ البتہ ان میں سے ہر ایک طریقت مزید چھوٹی شاخوں میں تقسیم ہوتی ہے۔


۳۔ جدید اسلامی افکار کا رجحان یہ رجحان منگ سلطنت کے اواخر کے فکری دور سے متعلق ہے، جب مسلمان نسبتاً آسانی کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں آمد و رفت کر سکتے تھے اور ان علاقوں میں جاری اصلاحی اور احیائی تحریکوں سے متاثر ہوکر نئے اسلامی افکار چین میں لے آئے۔ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں حج کے لیے سفر کرنے اور نوجوانوں کے مصر کی جامعہ الازہر میں تعلیم حاصل کرنے کے نتیجے میں چینی مسلمان نئے اسلامی افکار سے متعارف ہوئے۔ انہوں نے بعض رفاہی ادارے قائم کیے اور ان مراکز کی آڑ میں جدید اسلامی افکار کو فروغ دیا۔ بعض مواقع پر ان افکار میں سلفی فکر اور اخوان المسلمین سے وابستگی کا رنگ اور رجحان بھی پایا جاتا تھا۔

۴۔ چوتھا اسلامی رجحان ۱۹۷۹ء میں اقتصادی اصلاحات اور دروازے کھولنے کی پالیسی کے آغاز کے بعد چین کے مسلمانوں نے بھی اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور مختلف ممالک، اسلامی و دینی تحریکوں اور مذہبی و اسلامی مراکز کے ساتھ روابط قائم کیے۔ مسلم معاشروں اور مؤثر دینی مراکز کے ساتھ دینی اور ثقافتی تعامل و تبادلے کے ذریعے انہوں نے اسلامی فکر کی توسیع اور ترقی کے میدان میں مزید تبدیلیوں کے لیے زمینه فراہم کیا۔


چین میں اہل بیت (علیہم السلام) کے پیروکار

چین میں دو قسم کے لوگوں کو اہل بیت (علیہم السلام) کے پیروکار کہا جاتا ہے: اعتقادی شیعہ اور ثقافتی شیعہ۔

اعتقادی شیعہ ان افراد کو کہا جاتا ہے جو امام علی اور آپ کے بعد آنے والے ائمہ (علیہم السلام) کی امامت پر اعتقاد رکھتے ہیں۔ یہ لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں: اسماعیلیہ اور امامیہ۔

ثقافتی شیعہ سے مراد مکتب اہل بیت (علیہم السلام) کے پیروکار ہیں، خواہ وہ شیعہ ہوں یا اہل سنت میں سے ایسے افراد جو مکتب اہل بیت (علیہم السلام) کی پیروی کرتے ہیں۔

چین کے ثقافتی شیعہ، اہل بیت (علیہم السلام) سے محبت اور دینی عقائد کے حوالے سے اعتقادی شیعوں کے ساتھ بہت سی قربتیں اور مشترکات رکھتے ہیں اور وہ اعتقادی تشیع کی ثقافت اور مذہب سے متاثر ہیں۔ چین میں مسلمانوں کی بڑی تعداد اہل بیت (علیہم السلام) کے ساتھ قربت اور ان کی آداب و ثقافت کے باوجود، اثنا عشری شیعوں کی تعداد بہت کم ہے اور ان میں سے زیادہ تر سنکیانگ کے صوبے کے یارکند کے علاقے میں آباد ہیں۔

بعض چینی مسلمانوں کا انتہا پسند گروہوں کی طرف رجحان

سعودی عرب مساجد اور دینی و مذہبی مراکز کی تعمیر، بعض علماء، ائمۂ جماعت اور چین کے بااثر مسلم شخصیات کی کبھی کبھار مالی حمایت، نیز طلبہ کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر بیرونِ ملک بھیجنے کے ذریعے چینی مسلمانوں کے افکار اور عقائد پر اثر انداز ہوتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں سعودی عرب نے پاکستان وغیرہ جیسے ممالک سے بھیجے جانے والے بعض مسلمان طلبہ کی حمایت کے ذریعے چین کے مسلمانوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی ہے اور وہابی اور سلفی افکار کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ بعض چینی مسلمانوں کو تکفیری گروہوں کی طرف راغب کرنا اور ان کا داعش میں شامل ہونا بھی اسی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ متعدد ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ برسوں میں بعض چینی رضاکار تکفیری گروہ داعش میں شامل ہوئے ہیں۔ سکیورٹی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ داعش میں چینی عناصر، بالخصوص شمال مشرقی شام میں، اعلیٰ کمان اور قیادت کے عہدوں پر فائز ہیں۔

فرانسیسی صحافی تیئری میسان نے جون ۲۰۱۴ء میں ایک صحافتی رپورٹ میں تصریح کی کہ سینکڑوں چینی جنگجو، جو مسلمان اویغور اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں، داعش میں شامل ہوکر شمال مشرقی شام چلے گئے ہیں۔ ان میں سے بعض نے سنکیانگ کے علاقے میں حاصل کیے گئے جنگی تجربات کی وجہ سے مختصر مدت میں اعلیٰ کمان کے عہدے حاصل کرلیے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں اور بعض بھاری ہتھیاروں کے استعمال میں مہارت رکھتے ہیں۔

بنیادی طور پر افغانستان اور پاکستان میں بعض اویغور گروہوں کے درمیان وہابی، انتہا پسند اور تکفیری افکار کا فروغ ریاض کی مالی پشت پناہی سے نہیں ہوتا، بلکہ سعودی عرب کی انتہا پسندانہ پالیسیاں چین میں اویغور مسلمانوں کو درپیش مشکلات اور چیلنجوں کی ایک وجہ ہیں۔

چین میں سرگرم بعض اسلامی تحریکیں

۱۔ مشرقی ترکستان اسلامی تحریک مشرقی ترکستان اسلامی تحریک ۱۹۹۳ء میں قائم ہوئی۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد اس تنظیم نے وسطی ایشیا میں موجود انتہا پسند جماعتوں اور گروہوں کے ساتھ روابط قائم کیے اور اس کے بعد افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے ساتھ تعاون کیا۔ آج بھی اس کے بعض ارکان داعش میں شامل ہوچکے ہیں۔

۲۔ عالمی اویغور کانگریس عالمی اویغور کانگریس ایک علیحدگی پسند گروہ ہے، جو ۲۰۰۴ء میں قائم ہوا۔ یہ کوشش کرتا ہے کہ خود کو سنکیانگ میں جمہوریت پسندی اور انسانی حقوق کے دفاع کی علامت کے طور پر پیش کرے۔ اس کانگریس نے واضح کیا ہے کہ اس کی احتجاجی تحریک مذہبی نوعیت کی نہیں ہے۔

اس کانگریس کا دعویٰ ہے کہ چینی زبان کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ، اویغوروں کی ثقافتی نسل کشی اور ان کی ثقافت و شناخت کو نظر انداز کرنے کے ساتھ ساتھ چینی حکومت اویغوروں کے اقتصادی حقوق کو بھی پامال کر رہی ہے۔ ان کا اعتراض ہے کہ سنکیانگ میں چینی ہان باشندوں کی موجودگی میں دانستہ اور منظم طریقے سے اضافہ کیا گیا ہے اور چینی حکومت دہشت گردی اور بنیاد پرستی کے خلاف جنگ کے نام پر سنکیانگ میں اویغوروں کے خلاف اپنے اقدامات اور دباؤ کو جائز قرار دینا چاہتی ہے۔ یہ اس صورتِ حال میں ہے کہ سنکیانگ کے اویغوروں کے پیشِ نظر اسلام، مشرقی ترکستان اسلامی تحریک کے حامیوں کے علاوہ، بنیاد پرست اور تکفیری نام نہاد اسلام سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔

چین میں مسجد اور اسلامی انجمن

چین میں مساجد سے وابستہ مدارس اور مکتبوں کے علاوہ پورے ملک میں بڑی تعداد میں غیر سرکاری دینی مدارس اور حوزۂ علمیہ بھی موجود ہیں، جنہیں مسلمان عوام کی حمایت سے قائم اور فعال کیا گیا ہے۔ ان اداروں میں ہزاروں طلبہ دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

چین کے مسلمان پوری تاریخ میں عموماً مساجد کے اطراف میں آباد رہے ہیں۔ ۱۹۱۱ء میں چینی سلطنت کے خاتمے اور چینی معاشرے میں آنے والی تبدیلیوں کے بعد مسلمان بھی طبعی طور پر اپنی طرزِ زندگی میں مختلف تبدیلیوں اور تحولات سے دوچار ہوئے۔ رفتہ رفتہ مسلمانوں نے جدید انداز میں اسلامی تعلیمات کی تبلیغ اور ترویج کے بارے میں سوچنا شروع کیا اور احتیاط کے ساتھ بعض اداروں اور تنظیموں کی بنیاد رکھی۔

چین میں اسلامی اور عوامی اداروں کے طور پر اسلامی قومی نجات فیڈریشن، چائنا اسلامک اسٹڈیز سوسائٹی، چائنا اسلامک کلچر سوسائٹی اور چنگ دا اسلامک پبلک اسکول کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔

چین کے امورِ ادیان کے ادارے نے کمیونسٹ پارٹی کی پالیسیوں کے مطابق، بدھ مت کے پیروکاروں کی انجمن، تاؤ مت کے پیروکاروں کی انجمن، کنفیوشس کے پیروکاروں کی انجمن اور مسیحی محبِ وطن محاذ کے ساتھ مل کر اسلامی انجمنِ چین قائم کی، تاکہ چینی حکومت اور کمیونسٹ پارٹی کی پالیسیوں کو مسلمانوں کے درمیان نافذ کیا جاسکے اور یہ انجمن حکومت اور چین کے مسلمانوں کے درمیان رابطے کا بنیادی ذریعہ بنے۔ اس طرح مسلمانوں کے مذہبی امور کی نگرانی اور انتظام کیا جائے اور مسلم آبادی والے علاقوں میں کمیونسٹ پارٹی کے عملی اصولوں اور پالیسیوں کو مضبوط اور برقرار رکھا جائے۔

چین میں دینی مدارس اور حوزہ ہائے علمیہ

غیر سرکاری مدارس ۱۹۸۰ء کی دہائی کے اواخر سے عوامی اور شخصی حمایت کے ذریعے بتدریج قائم اور پھیلنے لگے۔ ۱۹۱۱ء میں صوبہ یون نان کے شہر دالی کے نواح میں پہلا حوزۂ علمیہ قائم کیا گیا۔ رفتہ رفتہ بڑی تعداد میں طلبہ ان مدارس کی طرف متوجہ ہوئے اور مقامی و روایتی ذرائع ابلاغ کے نیٹ ورک کے ذریعے ان حوزہ ہائے علمیہ کے اندرونی روابط مزید مضبوط ہوئے۔ آج چینی حکومت کی جانب سے ان دینی طلبہ کے لیے رکاوٹیں پیدا کیے جانے کے باوجود یہ ادارے منظم اور مربوط انتظامی ڈھانچے کے حامل ہیں۔

چینی حکومت اور حکمران کمیونسٹ پارٹی نے غیر سرکاری حوزہ ہائے علمیہ کے قیام اور ان سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی انجمن کے زیرِ نگرانی دس سرکاری دینی مدارس قائم کیے۔ یہ مدارس بیجنگ، کون منگ (صوبہ یون نان کا مرکز)، شی آن (صوبہ شانشی کا مرکز)، شن یانگ (صوبہ لیاؤ نینگ کا مرکز)، شی نینگ (صوبہ چنگ ہائی کا مرکز)، لان ژو (صوبہ گانسو کا مرکز)، ینچوان (صوبہ نینگ شیا کا مرکز)، ارومچی (صوبہ سنکیانگ کا مرکز) اور جنگ ژو (صوبہ ہہ نن کا مرکز) میں قائم کیے گئے۔

ان مدارس کے تمام اخراجات چینی حکومت برداشت کرتی ہے اور ان کے فارغ التحصیل افراد حکومت کے زیرِ نگرانی مساجد میں استاد، امامِ جمعہ اور امامِ جماعت کے طور پر، نیز سرکاری کمپنیوں اور وزارتوں میں مترجم کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ سرکاری دینی مدارس کا تعلیمی دورانیہ بیچلر کی سطح کے لیے چار سال اور تخصصی (ماسٹرز) کورس کے لیے سات سال ہے۔ ان مدارس میں چینی زبان کو محور بنا کر تعلیم حاصل کرنے، چینی حکومت کی پالیسیوں سے آگاہی، کمپیوٹر اور غیر ملکی زبانوں کی تعلیم پر زور دیا جاتا ہے۔ کیانگ کے علاقے میں سب سے بڑا دینی مدرسہ ارومچی کا دینی مدرسہ ہے، جس میں ۲۰۰ سے زیادہ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔

چین میں مساجد

بیجنگ میں ۷۰ سے زیادہ مساجد موجود ہیں اور شہر شنگھائی میں ۸ مساجد ہیں، جن میں سے ایک مسجد خواتین کے لیے مخصوص ہے۔ چین کی بڑی مساجد میں غسل خانے، بیت الخلا، وضو خانے اور قربانی کے جانور ذبح کرنے کے لیے جگہ موجود ہوتی ہے۔ مساجد میں نکاح، مردوں کی تدفین، اسلامی معارف کی تعلیم، مسلمانوں کے مسائل کا حل، اسلامی ذبیحہ اور کھیلوں کے مقابلوں جیسی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ نومولود بچوں کے کان میں اذان و اقامت کہنے کی رسم یہاں انجام نہیں دی جاتی۔

تمام مساجد میں ایک پتھر کا ٹکڑا موجود ہوتا ہے جس پر مسجد کی تاریخ اور وہاں کے مسلمانوں کے بارے میں مختصر معلومات درج ہوتی ہیں۔ چین کی اکثر مساجد میں متعدد مذہبی علماء موجود ہوتے ہیں اور ان کے حجرے بھی مسجد ہی میں ہوتے ہیں۔ یہ چینی طلبہ کے لیے ایک امتیاز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں امامِ جماعت کے انتخاب میں عمر کو معیار نہیں بنایا جاتا؛ جو شخص اچھی قراءت رکھتا ہو، نماز کے وقت اسے مسجد کے نمازیوں کا امامِ جماعت مقرر کیا جاتا ہے۔ شہر شنگھائی چین کا اقتصادی دارالحکومت کہلاتا ہے۔ یہاں واقع اسلامی انجمنِ چین کی مسجد اس کثیرالثقافتی اور کثیر شناختی سرزمین میں اسلام کے پرچم کو بلند کرنے کا ایک مرکز ہے۔ اس مسجد کا رقبہ ۱۰ ہزار مربع میٹر سے زیادہ ہے۔ اس میں ایک سنہری گنبد اور ۲۶ میٹر بلند مینار ہے۔ اسلامی انجمنِ چین کی عمارت اس مسجد کو گھیرے ہوئے ہے اور اس کے عقب میں ایک بڑا پارک واقع ہے، جسے مختلف مذہبی تہواروں اور مواقع پر اور کبھی نماز کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مسجد میں خواتین کے لیے ایک خصوصی نماز گاہ بھی موجود ہے۔ لکڑی کے ٹکڑوں پر خطاطی کیے گئے قرآنی آیات اس عبادت گاہ کی زینت ہیں۔

مسجد کی بالائی منزل پر ایک بڑی لائبریری موجود ہے، جس میں ایک لاکھ سے زیادہ دینی اور قرآنی کتابیں، نیز اسلامی علوم کے طلبہ اور محققین کے لیے اسلامی مراجع موجود ہیں۔ اس لائبریری میں اسلام کی تعلیمات، دینی و فقہی احکام اور سنتِ رسول (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیم کے لیے آڈیو کیسٹوں اور ویڈیو مواد کا ایک ذخیرہ بھی محفوظ ہے۔

چین اور ایران کے باہمی تعلقات

چین ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے جمہوری اسلامی ایران میں جوہری توانائی کی صنعت کی ترقی اور اس کی تنصیبات میں تعاون کیا۔ چین نے ایرانی سائنس دانوں کو اس علم سے متعلق تربیت اور ٹیکنالوجی فراہم کی۔ اسی طرح برجام (ایران کے جوہری معاہدے) اور بین الاقوامی پابندیوں کے معاملے میں بھی چین نے جمہوری اسلامی ایران کے ساتھ قریبی تعاون کیا۔ روس کے ساتھ مل کر چین نے بعض قراردادوں اور بیانات کو بھی ایران کے خلاف ویٹو کیا۔ چین نے ایران کی منڈی میں تجارت اور منافع کے اعتبار سے بھی ایک بڑا حصہ حاصل کیا ہے، اور آج مختلف معیار کی چینی مصنوعات نے ایران کی منڈیوں میں نمایاں جگہ بنا لی ہے۔ موجودہ دور میں چین کے جمہوری اسلامی ایران کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی میدانوں میں اچھے تعلقات اور وسیع باہمی تعاون موجود ہیں۔ اب تک ایران اور چین کے درمیان چھ ثقافتی مفاہمت ناموں پر دستخط ہو چکے ہیں، جن میں پہلا مفاہمت نامہ بیجنگ یونیورسٹی اور تہران یونیورسٹی کے درمیان طے پایا تھا۔ اس وقت چین کی چار جامعات میں فارسی زبان کی تدریس کے لیے فارسی زبان کی باقاعدہ کرسی موجود ہے۔

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. گلی زوارہ‌ای، سرزمین اسلام، ص ۲۷۱
  2. http://hawzahnews.com/detail/News/293599

مآخذ

  • جعفریان، رسول، اطلسِ شیعہ، انتشارات سازمان جغرافیایی نیروهای مسلح، تہران، ۱۳۸۷ش۔
  • گلی زوارہ، غلام رضا، سرزمینِ اسلام؛ شناخت کشورهای اسلامی و نواحی مسلمان‌نشین جهان، دفتر تبلیغات اسلامی، قم، ۱۳۷۶ش۔
  • «چین» کے عنوان سے C.I.A کی ویب سائٹ پر مضمون، نظرِ ثانی کی تاریخ: ۲۵ شهریور۔
  • چین کے مسلمانوں کی زندگی کی تلخ حقیقت جس سے آپ واقف نہیں + تصاویر۔

سانچہ:دنیا کے ممالک