مندرجات کا رخ کریں

متحدہ عرب امارات

ویکی‌وحدت سے
متحدہ عرب امارات
سرکاری نامعرب امارات
پورا ناممتحدہ عرب امارات
طرز حکمرانیوفاقی بادشاہت اور نیم آئینی حکومت
دارالحکومتابوظبی
آبادی۸٬۱۰۶٬۰۰۰
مذہباسلام
سرکاری زبانعربی
کرنسیدینار

متحدہ عرب امارات ، خلیج فارس کے کنارے واقع ایک ملک ہے جو 1971ء میں 7 شیخ نشینوں کے اتحاد سے تشکیل پایا۔ اس ملک کے سات شیخ نشین ابوظبی، دبئی، شارجہ، رأس الخیمہ، فجیرہ، ام القوین اور عجمان ہیں۔ یہ ملک وفاقی طرزِ حکومت کے تحت چلایا جاتا ہے، اس کا دارالحکومت ابوظبی ہے اور سرکاری زبان عربی ہے۔ اس کی تقریباً 80٪ آبادی غیر اماراتی ہے۔

یہ ملک مشرق میں عمان اور جنوب میں سعودی عرب سے زمینی سرحد رکھتا ہے۔ متحدہ عرب امارات خلیج فارس کے آبی راستوں کے ذریعے قطر اور ایران کا بھی ہمسایہ ہے۔ اس خطے کا قدیم نام جلفاوه ہے۔

ابوظبی اس کا سب سے بڑا شیخ نشین ہے اور دوسرا بڑا شیخ نشین دبئی ہے۔ اس سرزمین کا بڑا حصہ صحراؤں پر مشتمل ہے۔ اس ملک میں دو پہاڑی سلسلے بھی موجود ہیں۔ اس کے ساحلی علاقے، جہاں ملک کی اکثریت آباد ہے، زیادہ تر نمک زاروں پر مشتمل ہیں۔ یہ ملک دنیا کے امیر ترین تیل کے ذخائر میں سے ایک رکھتا ہے اور تقریباً 10 فیصد عالمی تیل کے ذخائر اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

تاریخی پس منظر

متحدہ عرب امارات ایک ایسا ملک ہے جو جزیرۂ عرب کے مشرقی حصے میں، خلیج فارس کے جنوب مشرقی ساحل اور خلیج عمان کے شمال مغربی ساحل پر واقع ہے۔ متحدہ عرب امارات سات شیخ نشینوں پر مشتمل ہے اور 2 دسمبر 1971ء کو ایک وفاق کے طور پر قائم ہوا۔

سات میں سے چھ امارتیں — ابوظبی، دبئی، شارجہ، عجمان، ام القوین اور فجیرہ — اسی تاریخ کو اس میں شامل ہوئیں۔ ساتویں، رأس الخیمہ، 10 فروری 1972ء کو اس وفاق میں شامل ہوئی۔

ان سات شیخوں کو ماضی میں ان کے برطانیہ کے ساتھ انیسویں صدی میں قائم ہونے والے معاہداتی تعلقات کی بنا پر ساحلِ قراصنہ کہا جاتا تھا۔

متحدہ عرب امارات میں دریافت ہونے والے آثارِ قدیمہ انسانی سکونت اور ہجرت کی تاریخ کو ظاہر کرتے ہیں جو 125,000 سال پر محیط ہے۔ یہ خطہ پہلے مَگان کے لوگوں کا مسکن تھا، جو سمیریوں کے نزدیک معروف تھے، اور ساحلی شہروں اور اندرونی علاقوں میں کان کنی کرنے والے مزدوروں کے ساتھ ساتھ کانسی کے کام اور کان کنی کے کارخانوں میں بھی سرگرم تھے۔

ہڑپہ تہذیب کے ساتھ قدیم تجارتی روابط کی گواہی قیمتی پتھروں اور دیگر اشیاء کی دریافت سے بھی ملتی ہے، اور افغانستان ، باختر اور شام کے ساتھ ابتدائی وسیع تجارتی شواہد بھی موجود ہیں۔

لوہے کے دور اور اس کے بعد آنے والے ہیلینی دور سے یہ خطہ ایک اہم ساحلی تجارتی مقام کے طور پر قائم رہا۔ ارتداد کی جنگوں کے نتیجے میں یہ علاقہ ساتویں صدی میں اسلامی ہو گیا۔ لیوا، العین اور ذید جیسے اندرونی نخلستانی علاقوں میں چھوٹی تجارتی بندرگاہیں اور قبائلی معاشرہ ساحلی بستیوں میں مقیم آبادی کے ساتھ ہم آہنگ رہا۔

آج متحدہ عرب امارات ایک جدید تیل برآمد کرنے والا ملک ہے جس کی معیشت بہت متنوع ہے، اور خصوصاً دبئی سیاحت، ریٹیل اور مالیات کے ایک عالمی مرکز کے طور پر ترقی کر رہا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بلند عمارت اور دنیا کی سب سے بڑی مصنوعی بندرگاہ کا مرکز بھی ہے۔

جغرافیہ

متحدہ عرب امارات کی سرحدیں شمال اور شمال مغرب میں خلیج فارس، جنوب اور جنوب مغرب میں عمان اور سعودی عرب، مغرب میں قطر اور سعودی عرب، اور مشرق میں خلیج عمان اور عمان سے ملتی ہیں۔

اس ملک کو ہمیشہ جن اہم مسائل اور مشکلات کا سامنا رہا ہے، ان میں ایک طرف سات شیخ نشینوں کے باہمی سرحدی اختلافات اور دوسری طرف ان میں سے ہر ایک کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تنازعات شامل ہیں، حتیٰ کہ اس کے نتیجے میں شیخ نشینوں اور ہمسایوں کے درمیان سرحدی جھڑپیں بھی ہوئیں [1]۔

علاقائی تنازعات میں سب سے اہم اس ملک کا تین جزیروں — تنب بزرگ، تنب کوچک اور ابوموسیٰ — پر ارضی دعویٰ ہے۔ اسی طرح عمان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان ہمیشہ بُرَیمی کے نخلستان پر بھی منازعہ اور کشمکش رہی ہے[2]۔

متحدہ عرب امارات کا موسم

متحدہ عرب امارات کا موسم ایشیا کے خشک استوائی خطے اور شمالی افریقہ کے دائرے میں واقع ہے۔ اس خطے کے موسمی حالات خلیج فارس اور خلیج عمان کے ساتھ اس ملک کی سرحدوں کی وجہ سے بحرِ ہند کے شدید اثرات کے تابع ہیں۔

اسی وجہ سے گرمیوں کے موسم میں ساحلی علاقوں میں بلند درجہ حرارت کے ساتھ ہمیشہ زیادہ نمی بھی ہوتی ہے۔ ساحلی علاقوں، ملک کے صحراؤں اور پہاڑی علاقوں کے موسم میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔

آبان سے اسفند تک دن کے وقت اوسط درجہ حرارت خوشگوار اور 27 درجۂ سینٹی گریڈ کے برابر ہوتا ہے۔ رات کے وقت موسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور اوسط درجہ حرارت 13 درجۂ سینٹی گریڈ ہوتا ہے، جبکہ صحراؤں کی گہرائیوں اور بلند پہاڑی علاقوں میں اوسط درجہ حرارت 5 درجۂ سینٹی گریڈ سے بھی کم ہوتا ہے۔

گرمیوں میں درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور اندرونی علاقوں میں 74 درجۂ سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، اگرچہ ساحلی علاقوں میں درجہ حرارت نسبتاً کم رہتا ہے۔ ساحلی علاقوں میں نمی اوسطاً 47 سے 57 فیصد کے درمیان ہوتی ہے۔

اندرونی علاقوں میں نمی اس سے کہیں کم ہوتی ہے۔ اس ملک میں اوسط بارش بہت کم ہے اور سالانہ 6.5 سینٹی میٹر سے بھی کم ہوتی ہے، جس میں سے نصف سے زیادہ بارش آذر اور دی کے مہینوں میں ہوتی ہے [3]۔

انتظامی تقسیم

امارات سات امارتوں/شیخ نشینوں — ابوظبی، دبئی، شارجہ، ام القوین، عجمان، فجیرہ اور رأس الخیمہ — پر مشتمل ہے، جن میں ابوظبی اور دبئی کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ شیخ نشین ابوظبی، جو متحدہ عرب امارات کا دارالحکومت بھی ہے، اس ملک کی سب سے اہم امارت ہے، جو دولت اور عسکری حیثیت دونوں کے اعتبار سے اہمیت رکھتی ہے [4]۔

ابوظبی خلیج فارس کے جنوبی کنارے پر واقع سات شیخ نشینوں میں سب سے وسیع اور عسکری لحاظ سے برتر شیخ نشین ہے، اور متحدہ عرب امارات کا سب سے اہم رکن سمجھا جاتا ہے۔ فی کس آمدنی کے لحاظ سے ابوظبی دنیا میں سب سے زیادہ آمدنی رکھتا ہے، اور صرف ابوظبی کی دولت ہی وفاقی حکومت میں اس کی منفرد حیثیت کو جائز قرار دیتی ہے۔

متحدہ عرب امارات کا دوسرا شیخ نشین، جو تجارتی اور آبادی کے لحاظ سے اہم ہے، دبئی ہے۔ آبادی کے اعتبار سے یہ امارات کا سب سے زیادہ گنجان آباد شہر ہے، جبکہ تجارتی لحاظ سے یہ امارات کی ایک بندرگاہی، خوشحال اور آزاد تجارتی شہر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

حکمرانوں نے تجارت اور آزاد تجارتی پالیسیوں کو اپنا کر، تیل کی کم آمدنی اور کم رقبے کے باوجود، اس امارت کو نہایت خوشحال علاقوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ امارات میں ایک آزاد تجارتی زون "جبل علی" کے نام سے موجود ہے۔

"جبل علی" میں سرمایہ کار برسوں سے تجارت کرتے آ رہے ہیں۔ یہ آزاد بندرگاہ مشرقی ایشیا میں تیار شدہ سامان کی آمد کا دروازہ اور خلیجی ممالک کو ان اشیاء کی دوبارہ برآمد کا مرکز ہے۔ دبئی، جس کی آبادی تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار ہے، زیادہ تر ہول سیل اور ریٹیل تجارت پر انحصار کرتا ہے، تیل پر کم [5]۔

دیگر شیخ نشین سہولتوں، شہری ترقی اور تمدن کے لحاظ سے ان دو شیخ نشینوں سے کافی پیچھے ہیں۔ اس ملک کی اہم صنعتیں تیل صاف کرنا اور سیمنٹ ہیں، اور تیل کی پیداوار کے میدان میں ابوظبی نے دیگر امارتوں کے مقابلے میں زیادہ کامیابی حاصل کی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی معیشت

اس ملک کی مجموعی ملکی پیداوار (GDP) 167.3 بلین ڈالر ہے، جسے 410 بلین ڈالر تک بھی تخمینہ لگایا گیا ہے ملک کی لیبر فورس 3 ملین 65 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ بے روزگاری کی شرح 2.4 فیصد ہے۔

19.5 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں۔ 2007ء میں افراطِ زر کی شرح 11 فیصد تھی۔ اس ملک میں کرنسی کنٹرول کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ بہت سے کمرشل بینک مرکزی بینک کی نگرانی میں کام کر رہے ہیں۔ اس ملک میں انفرادی ٹیکس (انکم ٹیکس) نہیں لیا جاتا۔

متحدہ عرب امارات روزانہ 2 ملین 540 ہزار بیرل تیل پیدا کرتا ہے، جس کا تمام تر حصہ برآمد کر دیا جاتا ہے۔ ملک کی یومیہ تیل کی کھپت 372 ہزار بیرل ہے جسے وہ درآمد کرتا ہے۔

برآمدی مصنوعات میں خام تیل، قدرتی گیس، ٹرانزٹ سامان، خشک مچھلی اور کھجور شامل ہیں جو جاپان، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور بھارت کو بھیجی جاتی ہیں۔ درآمدی اشیاء میں مشینری اور نقل و حمل کے آلات، کیمیکل اور خوراک شامل ہیں جو چین، بھارت، امریکہ، جاپان، جرمنی اور اٹلی سے درآمد کی جاتی ہیں [6]۔

سیاست

متحدہ عرب امارات میں دستوری بادشاہت کا وفاقی نظام رائج ہے جو ایک فیڈریشن (7 شیخ نشینوں) پر مشتمل ہے، جسے خاندانی موروثی نظام یعنی "شیخ ڈم" (شیخ نشین) کہا جاتا ہے۔ ہر شیخ نشین کی اپنی الگ مقامی حکومت ہے اور وہ اپنے قوانین مکمل طور پر آزادانہ طور پر منظور کر سکتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ وسیع سفارتی اور تجارتی تعلقات ہیں۔ یہ ملک اوپیک (OPEC) اور اقوام متحدہ میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے اور خلیج تعاون کونسل (GCC) کے بانی ارکان میں سے ایک ہے۔

امارات کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں سے ایک دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ باہمی تعاون پر مبنی تعلقات قائم کرنا ہے۔ یہ ملک تمام بڑی بین الاقوامی اقتصادی تنظیموں کا رکن ہے اور بہت سی سیاسی بین الاقوامی تنظیموں میں بھی مؤثر حیثیت رکھتا ہے [7]۔

سیاسی نظام

متحدہ عرب امارات سات چھوٹی امارتوں—ابوظبی، دبئی، شارجہ، عجمان، فجیرہ، رأس الخیمہ اور ام القوین—کا اتحاد ہے، جن میں سے ہر ایک کو کافی خودمختاری حاصل ہے، تاہم ایک موروثی امیر بطور حکمرانِ ملک اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے۔

"سپریم کونسل آف رولرز" ملک کا سب سے بڑا سیاسی ادارہ ہے جو ساتوں امارتوں کے حکمرانوں پر مشتمل ہے۔ قیامِ امارات کے آغاز سے ہی اس کی صدارت ابوظبی کے حکمران کے پاس رہی ہے۔

ملک کی عمومی پالیسی کا تعین، صدر اور وزیراعظم کا انتخاب، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ججوں کا انتخاب، وفاقی قوانین کے نفاذ سے قبل ان کی منظوری، اور بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق اس کونسل کے اہم اختیارات ہیں۔

فی الحال متحدہ عرب امارات کے امیر اور صدر شیخ خلیفہ بن زاید النہیان ہیں۔ ملک کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شیخ نشین ابوظبی ہے۔ اس ملک میں کسی قسم کی جماعتی سیاسی سرگرمی نہیں ہے، اور یہاں زیادہ تر سماجی، فنکارانہ، صنفی (پیشہ ورانہ)، ثقافتی اور فکری کلب موجود ہیں جو اماراتی نظام کی سٹریٹجک اور اہم پالیسیوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں [8]۔

اسلام پسندی کے خلاف امارات کی پالیسیاں

  1. اسلام پسندی کے خلاف میڈیا سرگرمی:اسلام پسند تحریکوں کے خلاف متحدہ عرب امارات کے اہم اقدامات میں سے ایک مغربی، سیکولر، لبرل اور اسلام مخالف میڈیا کا قیام اور ان کی حمایت ہے۔ مثال کے طور پر، دبئی میں "میڈیا فری زون" کا قیام جہاں زیادہ تر معتبر عالمی اور عرب چینلز اور اخبارات (جیسے 'شرق الاوسط' جو امارات کے اہداف سے ہم آہنگ ہے) کام کر رہے ہیں۔ ابوظبی میں بھی اسی طرح کی سرگرمیاں موجود ہیں، جیسے کہ 'سکائی نیوز عربی'۔ نیز، ملک سے باہر بھی 'الغد العربی' (مصر) جیسے نیٹ ورکس کی حمایت کرنا جو اسلام پسندی مخالف افکار کی ترویج کرتے ہیں۔
  2. اسلام پسند گروپوں کی سرگرمیوں پر پابندی: امارات کا ایک اور اقدام انسدادِ دہشت گردی کے نام پر اکثر اسلام پسند گروپوں (چاہے تکفیری ہوں یا غیر تکفیری) کی سرگرمیوں پر پابندی ہے۔ اس پابندی میں یمن کے انصار اللہ، اخوان المسلمین اور اس کی شاخیں، حزب اللہ لبنان، اور انٹرنیشنل یونین آف مسلم سکالرز جیسے گروپ شامل ہیں۔
  3. اسلام پسند گروپوں کے خلاف عسکری آپریشنز میں فعال شرکت: متحدہ عرب امارات ان عرب ممالک میں سے ایک ہے جو عسکری اور سکیورٹی سطح پر تکفیری اور غیر تکفیری اسلامی گروپوں کے خلاف سرگرم ہے۔ اسی تناظر میں ہم یمن، لیبیا اور شام میں اماراتی فوج اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں شرکت دیکھتے ہیں۔
  4. سکیورٹی اقدامات: اماراتی سکیورٹی فورسز تکفیری اور اخوانی اسلام پسندوں کی طاقت کو کم کرنے اور سیکولر تحریکوں کو مضبوط کرنے کے لیے شام، لیبیا اور یمن میں فعال کردار ادا کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، کچھ ذرائع ابلاغ کے مطابق، شام کے منظرنامے میں اسلام پسندوں کے غلبے کی مخالفت کی وجہ سے اماراتی سکیورٹی ایجنسی کو شامی فوج کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے، یا لیبیا میں جنرل خلیفہ حفتر کے ساتھ وسیع سکیورٹی تعاون اسی حکمت عملی کا حصہ ہے[9]۔

متحدہ عرب امارات میں اسلامی بیداری

اسلامی بیداری کی نئی تحریک کے آغاز سے ہی اماراتی حکام سخت تشویش کا شکار ہیں اور مخالفین پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ گزشتہ برس متحدہ عرب امارات نے مخالفین کی آواز دبانے کے لیے اپنا دباؤ جاری رکھا۔ اس وقت 15 پرامن سیاسی کارکن قید ہیں، جن میں سے دو کے علاوہ باقی تمام کا تعلق 'الاصلاح' (معاشرے کی اصلاح اور رہنمائی کے لیے تعاون) نامی گروہ سے ہے، جو اسلامی اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے ملک میں اصلاحات کا مطالبہ کرتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں ان گرفتاریوں کو آمرانہ قرار دیتی ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی ڈائریکٹر سارہ وٹسن کہتی ہیں: "ایسے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت اپنے شہریوں کے سیاسی سرگرمیوں اور اظہارِ رائے کی آزادی جیسے حقوق کا احترام نہیں کرتی۔"

خلیجی سینٹر برائے انسانی حقوق (GCHR) نے اعلان کیا کہ احمد التبور النعیمی جیسے گرفتار شدگان کے گھروں کی تلاشی لی گئی ہے۔ جس دن انہیں گرفتار کیا گیا، راس الخیمہ کی سکیورٹی سروس کے تفتیش کاروں نے صبح 10 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک ان کے گھر کی تلاشی لی۔

النعیمی ان 133 اماراتی شہریوں میں شامل تھے جنہوں نے 2011 میں ایک عرضداشت پر دستخط کر کے امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید آل نہیان اور خلیجی امارات کی سپریم کونسل کو بھیجی تھی۔

اس خط میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ملک کو عوام کے براہ راست ووٹ سے چلایا جائے۔ اس گروہ نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ 'فیڈرل نیشنل کونسل' (FNC) کو بااختیار بنایا جائے۔

یہ کونسل فی الحال زیادہ تر مشاورتی اور رسمی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کونسل کے ارکان کے آخری انتخابات 2011 کے موسم خزاں میں ہوئے تھے، لیکن تمام اماراتیوں کو ووٹ دینے کی اجازت نہیں تھی، بلکہ صرف 130 ہزار افراد جو سات امارات کی طرف سے منتخب کیے گئے تھے، وہی ووٹ ڈال سکے۔ وہ صرف اس کونسل کے 20 ارکان کا انتخاب کر سکے، کیونکہ باقی 20 ارکان کا تقرر براہ راست حکومت کی طرف سے کیا گیا تھا۔

متحدہ عرب امارات کی آبادیاتی ساخت

الف: عرب امارات میں آباد عرب زیادہ تر مقامی ہیں، جبکہ کچھ ایرانی نژاد عرب بھی ہیں جو ایران کے ساحلی بندرگاہوں اور جزیروں بشمول قشم (ہرمز، ہنگام، لارک، قشم)، بندر لنگہ اور شمالی خلیج فارس کے دیگر مقامات سے وہاں جا کر مقیم ہوئے اور سیاسی اقتدار کے ایوانوں میں بھی موجود ہیں۔

ب: ایرانی بہت سے ایرانی برسوں پہلے امارات منتقل ہوئے اور ملک کے مختلف شعبوں میں مصروفِ عمل ہیں۔ ان میں لاری، گراشی، خنجی اور عوضی شامل ہیں، جو شیخ نشین ریاستوں کی معیشت اور بازار پر چھائے ہوئے ہیں۔

نیز، بہت سے ایرانی جو مختلف وجوہات کی بنا پر ایران سے باہر نکلے، امارات کے تجارتی اور زرعی شعبوں میں سرگرمِ عمل ہیں۔

ج: ہندو اور پاکستانی امارات کی شہری خدمات کا انحصار بھارتی اور پاکستانی مزدوروں پر ہے۔ یہ افرادی قوت دبئی، شارجہ اور ابوظہبی کی مزدور کلاس کی اکثریت تشکیل دیتی ہے۔

د: مغربی شہری امارات میں مختلف قومیتوں کے ماہرین کام کرتے ہیں، جن میں زیادہ تر امریکی اور برطانوی شامل ہیں جو تیل کی صنعت، بلدیہ، زراعت اور تجارت کے شعبوں میں سرگرم ہیں۔

امارات میں مذہب

امارات کی ثقافت اور مذہب، جس کی جڑیں اسلامی ثقافت میں پیوست ہیں، نے باقی عرب اور اسلامی دنیا کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کیے ہیں۔ اماراتی حکومت بنیادی طور پر ابوظہبی کلچرل فاؤنڈیشن کے ذریعے فن اور ثقافت کی روایتی شکلوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

تاہم، سماجی زندگی میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں؛ خواتین کے بارے میں نقطہ نظر بدلا ہے اور روایتی اونٹوں کی دوڑ کے ساتھ ساتھ نئے کھیل جیسے گالف (ابوظہبی گالف ٹورنامنٹ) اور دنیا کی مہنگی ترین گھڑ دوڑ (دبئی ورلڈ کپ)، جو ہر سال مارچ میں منعقد ہوتی ہے، رواج پا چکے ہیں۔

اپنے پڑوسی ملک سعودی عرب کے برعکس، جو دیگر مذاہب کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کرتا ہے، امارات میں بہت سے گرجا گھر موجود ہیں۔ چونکہ بہت سے ایشیائی باشندوں نے امارات کو اپنا دوسرا وطن تسلیم کر لیا ہے، اس لیے وہاں بہت سے ایشیائی ریستوران اور ثقافتی مراکز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ یورپی مراکز اور اسکول بھی موجود ہیں۔

ثقافتی صورتحال

متحدہ عرب امارات میں تعلیم و تربیت کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ عربی ملک کی سرکاری اور انتظامی زبان ہے، جو فصیح عربی اور خلیجی لہجے میں بولی جاتی ہے۔ غیر ملکی زبانوں میں فارسی، ہندی، اردو، بلوچی، انگریزی اور پشتو شامل ہیں۔

امارات کے اسکولوں میں صرف اہل سنت کا مسلک پڑھایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 'خوجہ اثنا عشری' شیعہ دینی اور مذہبی تعلیم و تربیت کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے، جہاں بھی وہ جمع ہوتے ہیں، فوری طور پر دینی مدارس قائم کر لیتے ہیں۔

وہ اپنے بچوں کو 5 سے 16 سال کی عمر تک، 10 سال کے عرصے کے لیے، سرکاری اسکولوں کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزانہ دو گھنٹے ان مدارس میں جانے کا پابند کرتے ہیں اور تمام اسباق انگریزی زبان میں ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ نوجوان کھوجہ دینی مسائل سے بہت اچھی آگاہی رکھتے ہیں اور سب کے سب انگریزی زبان پر مکمل عبور رکھتے ہیں۔

مذہبی اور ثقافتی سرگرمیاں

دبئی کے علاقے السواق الکبیر میں امام جعفر صادق (ع) کے نام سے ایک شیعہ مدرسہ قائم ہے، اور ایک اور القوز کے علاقے میں ہے جو خاص طور پر شیعہ برادری کے لیے مختص ہے، جہاں شیعہ بچوں کو تشیع مذہب سے روشناس کرایا جاتا ہے۔

ملک میں اسلامی اور دینی مدارس کی کمی واضح ہے جو نوجوانوں کو اسلامی علوم، فقہ، حدیث اور قرآن سے روشناس کر سکیں اور ان کی صلاحیتوں کو تبلیغی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ، مسجد حسین بن علی (سید الشہداء) (ع) میں "نسیم" نامی ایک اشاعت جو ایرانی شیعہ آبادی کے لیے ہے، کی اشاعت بھی نہیں ہوتی۔ اس مسجد میں دس ہزار سے زائد جلدوں پر مشتمل ایک لائبریری بھی موجود ہے جو ایرانی شیعہ نوجوانوں اور بڑوں کے لیے قابلِ استعمال ہے [10] ۔ پورے ملک میں اسلامی کتابوں کی دکانوں، لائبریریوں اور ویڈیو کلبوں کی کمی، شیعوں کے لیے نشر و اشاعت اور کتاب بینی کی صنعت کے اہم ترین مسائل میں سے ہے [11] ۔

متحدہ عرب امارات کا قومی یومِ آزادی:

ہر سال 2 دسمبر کو متحدہ عرب امارات کا قومی دن منایا جاتا ہے۔ 1920 سے یہ شیخ نشین برطانوی زیرِ تحفظ اور نو آبادیات کا حصہ تھے۔ ہر علاقے کے شیخ انگریز حکام کے ماتحت معاہدوں کے تحت اپنے علاقے چلاتے تھے اور برطانیہ نے اس علاقے میں متعدد فوجی اڈے قائم کر رکھے تھے۔

2 دسمبر 1971 کو سات شیخ نشینوں ابوظہبی، فجیرہ، ام القیوین، عجمان، دبئی، شارجہ اور راس الخیمہ نے اتحاد کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات کا قیام عمل میں آیا۔

شیخ نشینوں کے درمیان اتحاد کا تجویز زاید بن سلطان آل نہیان (ابوظہبی کے حاکم) اور راشد بن سعید آل مکتوم (دبئی کے حاکم) نے پیش کی۔ کچھ عرصے بعد راس الخیمہ بھی متحدہ عرب امارات میں شامل ہو گیا۔

قطر اور بحرین کے شیخ نشینوں نے بھی ان اجلاسوں میں شرکت کی لیکن انہوں نے اتحاد قبول نہیں کیا اور خود کو آزاد ملک بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح متحدہ عرب امارات یعنی "متحدہ عرب شیخ نشین" کا قیام عمل میں آیا۔

امارات کے لوگ ہر سال اس دن پر متحدہ عرب امارات کا پرچم اٹھا کر، گاڑیوں اور عمارتوں پر پرچم بنا کر اور سڑکوں کو سجا کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ دن امارات میں سرکاری تعطیل ہوتا ہے [12]۔

سرکاری اور مذہبی تعطیلات:

امارات میں ہفتہ وار تعطیلات جمعہ اور ہفتہ ہیں۔ جمعہ کو نجی کمپنیوں اور بینکوں کے اوقات کار جزوی طور پر کھلے رہتے ہیں، لیکن سرکاری ادارے اور اسکول بند ہوتے ہیں۔ امارات میں سرکاری تعطیلات میلادی کیلنڈر کے مطابق اور مذہبی تعطیلات اسلامی کیلنڈر کے مطابق ہوتی ہیں۔ چونکہ اسلامی کیلنڈر کے دن میلادی کیلنڈر سے 11 سے 12 دن کم ہوتے ہیں، لہذا میلادی کیلنڈر میں مذہبی تعطیلات مختلف ہوتی ہیں۔

امارات میں 1 جنوری سالِ نو، 2 دسمبر قومی دن (دو دن)، 30 نومبر یومِ شہداء، عید الفطر (رمضان کے اختتام پر تین دن)، عید الاضحیٰ (تین دن)، اسلامی سال کا آغاز (1 ربیع الاول)، معراج النبی اور میلاد النبی سرکاری اور مذہبی تعطیلات میں شامل ہیں [13]۔

عید الفطر پر مہندی کا لال رنگ:

رمضان المبارک کے آخری ایام میں امارات کے مسلمان نئے کپڑے خرید کر اور گھر کی کچھ چیزیں تبدیل کر کے عید سعید الفطر کا استقبال کرتے ہیں۔ ایک قدیم رسم کے مطابق، لوگ عید کا دن خاندان، دوستوں اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے گزارتے ہیں۔

عید الفطر کے پہلے دن، کھجوریں اور کچھ روایتی مٹھائیاں کھانے کے بعد، نئے کپڑے پہن کر عید کی نماز کے لیے مسجد جاتے ہیں۔ اجتماعی کھیل، ہاتھوں پر مہندی لگانا اور کہانیاں سنانا اس دن کی دیگر تقریبات ہیں۔

عید الفطر اس ملک میں تین دن کی تعطیل ہوتی ہے، اور عید سے ایک دن پہلے بھی تعطیلات میں شامل ہوتا ہے [14]۔

دبئی کی سب سے شاندار مساجد

  • 'مسجد الفاروق عمربن آلخطاب دبی (Al Farooq Omar Bin Al Khattab Mosque)

یہ مسجد، جو سال 2011 میں افتتاح کی گئی تھی، بیک وقت 2000 نمازگزار کو اپنے اندر جگہ دے سکتی ہے۔ اس کی مساحت8700 مربع میٹر سے زیادہ ہے اور اسے سلطان احمد (17ویں صدی، استنبول) کی مسجد سے متاثر ہو کر تعمیر کیا گیا ہے۔ مسجد الفاروق کو دبئی کی خوبصورت ترین مساجد میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مسجد دبئی میں مقیم تاجر خلف الهبوتور نے قائم کی۔ یہ عمارت پہلے 1988 میں تعمیر ہوئی تھی اور بعد میں 2000 میں اس میں توسیع بھی کی گئی۔ یہ عمارت شیخ زاید روڈ پر واقع ہے اور اس کے چہرے (فاساد) میں عثمانی اور اندلس کے انداز کی جھلک نظر آتی ہے۔ مسجد کے پاس 4000 سے زیادہ اسلامی کتابوں کا ذخیرہ ہے، اور یہاں بین المذاہب تقاریر بھی ہوتی ہیں۔ یہ بڑی مسجد دبئی کے معزز مذہبی شخصیات جیسے شیخ احمدعلی آل نہیان اور معین حرّام آل مکی کی آمد و استقبال کرتی رہی ہے۔ مسجد کا نام الفاروق حضرت محمد ﷺ کے صحابی عمر بن خطاب کے نام پر رکھا گیا ہے، جو ابوبکر کے بعد خلیفہ تھے۔ عربی میں “الفاروق” کے معنی **نیکی اور برائی کے درمیان واضح فرق** کے طور پر بیان کیے جاتے ہیں۔

  • مسجد جمیرا دبی (Jumeriah Mosque)

یہ ایک اور خوبصورت شاہکار ہے اور دبئی میں سب سے زیادہ جس مسجد کی تصاویر لی جاتی ہیں۔ یہ 1200 نمازگزار کے لیے کافی بڑی ہے اور اسے مکمل طور پر سفید سنگ سے، فاطمی طرز کے مطابق تعمیر کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ دبئی کی مشہور ترین مساجد میں سے ایک ہے، لیکن غیر مسلموں کو یہاں داخلے کی اجازت نہیں ہوتی۔ تاہم دبئی کی مساجد کھلے دروازوں اور وسیع ذہن کے پروگراموں کے ذریعے وزیٹرز کو دعوت دیتی ہیں تاکہ انہیں اماراتی ثقافت اور مذہب کے بارے میں معلومات دی جا سکیں۔

  • مسجد حُور ال اَنز دبی (Hor Al Anz Mosque)

یہ مسجد اپنی خُوبصورتی اور پُرسکون و وسیع ماحول کی وجہ سے مشہور ہے، جس سے نمازگزار سکون کے ساتھ دعا کر سکتے ہیں۔ روزانہ کی پانچ وقتہ نماز کے علاوہ، یہ مسجد رمضان کے دوران خدمات بھی فراہم کرتی ہے، جس کی وجہ سے رمضان المبارک میں یہاں بہت زیادہ ہجوم ہوتا ہے۔ اس مسجد کا **معماری کام** واقعی شاندار ہے۔

  • مسجد بستاکیا دبی (Bastakia Mosque)

یہ دبئی میں ڈیزائن کی گئی سب سے حیرت انگیز مساجد میں سے ایک ہے۔ اگرچہ یہ سب سے بڑی نہیں، مگر اس کی صورت (فوٹوجینک) نہایت دلکش ہے۔ یہ چھوٹی مسجد اپنے ہر کونے میں مُشبّک نقش و نگار رکھتی ہے، جن میں پیچیدہ اور باریک تفصیل نمایاں ہوتی ہے۔ اس مسجد کے قریب بستاکیا کے علاقے میں دبئی کی شہر کی دیواروں کے آخری باقیات موجود ہیں، جو 19ویں صدی میں بنائی گئی تھیں۔ یہاں روزانہ نمازیں ہوتی ہیں اور رمضان کے دوران ایک شاندار افطاری کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔

  • مسجد ایرانیان دبی (Iranian Mosque)

یہ شیعہ مسجد بور دبئی میں واقع ہے اور اس کی تعمیر میں فارسی معماری کا انداز نمایاں ہے۔ اگرچہ یہ اپنی نوعیت کی سب سے خوبصورت مسجد نہیں، پھر بھی اس کا منظر و جمال بہترین ہے۔ اس میں دلچسپ فاساد اور گنبد موجود ہے۔ مزید یہ کہ یہاں مربع نما ٹائل ورک بھی ہے جو سنہری اور روشن رنگوں میں کیا گیا ہے۔ اندر کی دیواریں سبز، پیلا، سرخ اور سفید رنگوں میں اسلامی خطاطی سے آراستہ ہیں۔

  • مسجدِ بزرگ دبی (Grand Mosque)

یہ جگہ نساجی میوزیم سوک اور دبئی میوزیم کے درمیان واقع ہے۔ اسے پہلے 1998 میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ 1200 نمازگزار کو ایک ساتھ اپنے اندر رکھ سکتی ہے۔ شروع میں یہ مسجد قرآن پڑھنے کے لیے ایک مدرسے کے طور پر بنائی گئی تھی۔ یہ مسجد شاندار معماری اور دبئی کی مساجد میں سب سے بلند منارہ (تقریباً 70 میٹر ) رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ 45 چھوٹے گنبد اور 9 کچھ بڑے گنبد نہیں ہیں جو چھت کو ڈھانپتے ہیں۔ غیر مسلموں کو داخلے کی اجازت نہیں ہوتی، البتہ منارہ کے حصے سے تصاویر لی جا سکتی ہیں۔ اس مسجد کو دبئی کے مذہبی اور ثقافتی زندگی کے مرکز کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔

  • مسجد خلیفہ تاجر دبی (Khlifa Al Tajer)

یہ مسجد 2014 میں تعمیر ہوئی اور افتتاح کی گئی۔ مسجد خلیفہ تاجر دیرہ میں واقع ہے اور یہ مسجد ماحول دوست ہے۔ اس کی تعمیر پر 22 ملین درہم لاگت آئی اور یہ بیک وقت 3500 نمازگزار کو جگہ دے سکتی ہے۔ اس مسجد میں AC اور روشنی کے لیے سینسرز موجود ہیں، ساتھ ہی سولر ہیٹر بھی لگے ہیں۔ مزید یہ کہ پانی کی بچت کے لیے وضو کے اسٹیشن کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ کم پانی استعمال ہو۔ اس مسجد کا بنیادی مقصد نماز کے وقت آرام و سکون فراہم کرنا اور ایک سبز ماحول کے لیے کردار ادا کرنا ہے۔ یہ مسجد 4180 مربع میٹر پر مشتمل ہے، اور اس میں 3 بڑے ہال (نماز خانے) ، روزانہ نماز کے لیے نماز خانہ اور خواتین کے لیے نماز خانہ شامل ہے۔ یہ امریکی گرین بلڈنگ کونسل کے LEED سرٹیفیکیشن کے مطابق “سلور” معیار پر پوری اترتی ہے۔

  • مسجد الرحیم دبی (Masjid Al Rahim)

یہ دبئی کی مارینا میں واقع واحد مسجد ہے اور اسے 2013 میں افتتاح کیا گیا۔ یہ مسجد ابوظہبی کے شیخ منصور بن زاید آل نہیان کی درخواست پر تعمیر کی گئی، جو امارات کے وزیر اعظم اور ڈپٹی صدر کے عہدے پر بھی فائز تھے۔ یہ مسجد منارے پر مشتمل ہے اور اسے ایک نقش و نگار گنبد کے ساتھ بنایا گیا ہے، جو اسلامی معماری میں جنت کے طاق کی علامت پیش کرتا ہے۔ یہ مسجد 2000 افراد کو اپنے اندر سما سکتی ہے اور جمعہ کے دنوں میں یہاں بہت رش رہتا ہے۔

  • مسجد السلام دبی (Al Salam Mosque)

مسجد السلام دبئی کے البرشا میں واقع ہے اور یہ دبئی کی نئی ترین مساجد میں سے ایک ہے۔ اسے جولائی 2014 میں دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم (جو امارات کے وزیر اعظم اور نائب صدر بھی ہیں) نے افتتاح کیا۔ یہ مسجد امارات بازار کے پیچھے واقع ہے اور اتنی بڑی ہے کہ کسی بھی وقت تقریباً 1500 افراد کو اپنے اندر جگہ دے سکے۔ اگرچہ یہ بہت بڑی ہے، لیکن اس کی نمایاں خصوصیت واقعی اس کی معماری اور ڈیزائن ہے۔ یہاں کی تعمیر میں اندلس اور عثمانی کے عناصر کا امتزاج ہے، ساتھ ہی اماراتی طرزِ تعمیر پر زور دیا گیا ہے۔ سامنے والے حصے کی ڈیزائننگ اسے مزید خوبصورت اور منظم بناتی ہے، جس کی وجہ سے یہ دبئی کی مشہور مساجد میں شامل ہو گئی ہے[15]۔


متحدہ عرب امارات کے دیدنی مقامات

جبلِ حجر، امارات کا وحشی دل جبلِ حجر کے پہاڑ صحرا کے درمیان واقع ہیں اور متحدہ عرب امارات کے پراسرار اور وحشی دل کی صورت بناتے ہیں۔ ان کے درمیان سے پیچ و خم والی سڑکیں گزرتی ہیں، اور یہاں کی سیر کسی رولر کوسٹر کی سواری جیسی محسوس ہوتی ہے۔

راستے میں آپ چھوٹے چھوٹے دیہات بھی دیکھتے ہیں، جو اس سفر کو اور بھی دلکش بنا دیتے ہیں۔

یہ پہاڑی سلسلہ عمان کے مسندم صوبے سے شروع ہوتا ہے اور آگے چل کر امارات کے راس الخیمہ اور فجیرہ تک پہنچتا ہے۔ فطرت سے محبت کرنے والوں کو یہاں کئی پیدل چلنے کے راستے ملیں گے، اور پرندوں کو دیکھنے کے لیے بھی بہترین مواقع موجود ہیں۔

صحرائی تاریخی وادیاں بھی کھوج اور سیر کے لیے خوبصورت جگہیں ہیں [16].

جبل جیص، امارات کا سب سے بلند قدرتی مقام

متحدہ عرب امارات کی سب سے بلند چوٹی جبل جیص راس الخیمہ میں واقع ہے۔ حالیہ برسوں میں یہاں تک رسائی آسان ہو گئی ہے، کیونکہ پہاڑ کے اندر سے اوپر تک جانے والی پیچ دار سڑک تعمیر اور بہتر کی گئی ہے۔

سڑک کے اوپر پہنچ کر آپ کو شاندار مناظر کا ایک مجموعہ نظر آئے گا، جن میں سے کچھ کا رخ سمندر کی طرف ہے۔

اگر آپ کو پہاڑی فطرت سے خاص لگاؤ ہے تو ضرور جبل جیص جائیں، اور دنیا کی طویل ترین زپ لائن پر سواری کریں، جو چوٹی کے اوپر سے دو کلومیٹر سے زیادہ لمبی ہے اور حیرت انگیز طور پر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچتی ہے۔

یاد رہے کہ امارات کی شدید گرمی کے باوجود یہاں سردیوں میں برفباری بھی ہوتی ہے، جو سب کو خوب حیران کر دیتی ہے [17].

شارجہ کا میوزیم برائے فنون، عرب دنیا کا ثقافتی دارالحکومت

یہ میوزیم 1997 میں قائم ہوا تھا اور یہاں مستقل اور عارضی نمائشوں کے لیے مختلف حصے موجود ہیں۔ اس کے تین مختلف منزلوں پر 72 مختلف گیلریاں قائم ہیں،

جن میں بنیادی طور پر عرب دنیا اور مشرق وسطیٰ کے فنکاروں کے کاموں پر توجہ دی جاتی ہے۔ ابوظہبی میں لوور میوزیم کے افتتاح سے قبل، یہ امارات کا سب سے بڑا اور اہم میوزیم تھا۔

علاوہ ازیں، یورپی فنکاروں کے وہ کام بھی یہاں رکھے جاتے ہیں جن کا موضوع عرب دنیا ہے۔ عارضی نمائشوں اور وقتاً فوقتاً ہونے والی خصوصی نمائشوں کے باعث، امارات کی اس سیاحتی کشش کی ہر بار وزٹ کی اپنی ایک خاص اہمیت ہوتی ہے [18].

جبل حفیت، امارات اور عمان کا مشترکہ کشش

یہ متحدہ عرب امارات کا تیسرا بلند ترین پہاڑ ہے، جہاں آپ کو خم دار سڑکیں اور لامتناہی صحرا کے خوبصورت مناظر آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ چوٹی پر پہنچنے کے بعد، آپ صحرا سے آگے کا منظر دیکھ سکتے ہیں اور نظاروں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

صحرا، امارات کی سب سے مشہور سیاحتی کشش

جب امارات کے سفر کا ذکر آتا ہے، تو عام طور پر دو چیزیں ذہن میں آتی ہیں: ایک تو فلک بوس عمارتیں اور دوسری وہ صحرا جو جہاں تک نظر جائے پھیلے ہوئے ہیں۔

صحرا میں تفریح کے لیے بہت سے انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں سب سے مشہور فور وہیل ڈرائیو گاڑیوں کے ساتھ سفاری، حشرات شناسی، ریت پر اسکیئنگ، پیدل چلنا اور اونٹ کی سواری شامل ہیں۔

دبئی آنے والے اکثر مسافر اپنے سفر نامے میں صحرا جانے کا پروگرام ضرور شامل کرتے ہیں، لیکن یہ بتانا ضروری ہے کہ ابوظہبی اور فجیرہ میں بھی خوبصورت اور دلکش صحرا موجود ہیں [19].

اگر آپ زیادہ ایڈونچر کے شوقین نہیں ہیں، تو صحرا کی خاموشی میں پرسکون شام کا کھانا اور یہاں کے بادِیہ (بیابان) کا تجربہ آپ کے لیے ایک بہترین متبادل ہو سکتا ہے۔

مسجد بدیع، امارات کی 600 سالہ پرانی کشش

مسجد بدیع اسی نام کے گاؤں کے مشرق میں واقع ہے، جو فجیرہ سے 35 کلومیٹر شمال میں ہے۔ مسجد کے ساتھ دو پرانے مینار بھی ہیں، جو کبھی شہر کے دفاع کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ یہ ڈھانچہ پہاڑوں کی دامن میں تعمیر کیا گیا ہے، اور مسجد کا محراب بالکل پہاڑ کے ساتھ ہے۔

وہ راستہ جو آپ کو مسجد تک لے جاتا ہے، وہ ملک کے ساحلوں کے ساتھ ساتھ گزرتا ہے اور ایک خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ اس کی تعمیر میں **کسی بھی لکڑی کا استعمال نہیں** کیا گیا ہے۔

یہ بتانا ضروری ہے کہ مسجد بدیع ایک چھوٹا سا ڈھانچہ ہے اور اس میں **20 سے زیادہ افراد ایک ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتے۔ اس کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک اس کی متعدد گنبدیں (قُبّہ) ہیں جو چھت پر نصب ہیں اور اندر سے بھی نظر آتی ہیں۔ فجیرہ کے حکمرانوں نے چند سال قبل مسجد کی مرمت کروائی اور اسے دنیا کے سامنے متعارف کرا کر اس ڈھانچے کو ایک مشہور سیاحتی مقام بنا دیا ہے [20].

دبئی کی دیدنی چیزیں

دبئی میں سیاحتی مقامات کی بہت وسیع اقسام ہیں اور یہ ہر قسم کے سیاح کو مطمئن کر سکتی ہیں۔ پچھلی چند دہائیوں میں دبئی نے اتنی ترقی کی ہے کہ اب یہ دنیا کے سب سے پرتعیش شہروں میں سے ایک ہے، جہاں ہر قسم کے حیرت انگیز مقامات موجود ہیں، اور ان میں سے کچھ اپنی نوعیت کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہیں۔

سیاحتی گاؤں بستکیہ، دبئی

بستکیہ کو 1890 میں بستکی تارکین وطن نے تعمیر کیا تھا (بستک شہر آج صوبہ ہرمزگان، جنوبی ایران کے آباد شہروں میں سے ایک ہے)۔ اس محلے کے گھروں کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ سمندری مرجانی پتھروں، گچ اور چونے سے بنائے گئے ہیں۔

ان کے دروازے اور کھڑکیاں ساگھون اور ٹِک کی لکڑی سے بنی ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو ہندوستان اور ممباسا سے اس علاقے میں لایا گیا تھا۔ گھروں کے اوپر، ہمارے ملک کے جنوبی شہروں کی طرح، بادگیر (ونڈ کیچر) نصب ہیں تاکہ گھروں کے اندر کی ہوا کو خوشگوار بنایا جا سکے۔

یہ جگہ دبئی کی موجودہ تیز رفتار اور جدید تبدیلیوں سے متاثر نہیں ہوئی ہے، اور اس کا موجودہ ارادہ یہ ہے کہ وہ اپنی روایتی ساخت کو برقرار رکھے۔ فی الحال، اسے ایک سیاحتی گاؤں میں تبدیل کرنے کا ارادہ ہے۔ مسجد اور پرانے شہر کی دیوار کا کچھ حصہ بھی دبئی کی پرانی یادوں کے باقیات ہیں۔

برج خلیفہ

برج خلیفہ  800 میٹر سے زیادہ اونچائی کے ساتھ  دنیا کی بلند ترین عمارت  ہے اور دبئی کے سب سے شاندار نظاروں میں سے ایک ہے۔ علاوہ ازیں، اس عمارت کی 148 ویں منزل سے آپ دبئی کا ایک شاندار منظر دیکھ سکتے ہیں؛ سمندر سے لے کر صحرا تک کا منظر۔ برج خلیفہ کا دورہ ایک انوکھا تجربہ ہے۔

دبئی مال

دبئی مال ان لوگوں کے لیے ایک پرجوش تجربہ ہے جو خریداری کے شوقین ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا شاپنگ سینٹر ہے اور یہاں دنیا کے سب سے پرتعیش برانڈز کے 1200 آؤٹ لیٹ اسٹورز ہیں۔

اس کے علاوہ، اس شاپنگ سینٹر میں سونے اور جواہرات کی پرتعیش دکانیں اور کچھ فوڈ اینڈ ڈرنک آؤٹ لیٹس بھی موجود ہیں۔

دبئی کے میوزیکل فوارے

دبئی کے میوزیکل فوارے دبئی کے خوبصورت ترین مقامات میں سے ایک ہیں۔ یہ فوارے دبئی مال اور برج خلیفہ کے مصنوعی جھیل کے کنارے واقع ہیں، اور بہت سے سیاح ان فواروں کے رقص کو دیکھنے کے لیے اس جھیل کے گرد جمع ہوتے ہیں۔

آپ ہر روز شام 7 بجے سے میوزیکل فواروں کے رقص کو دیکھنے کے لیے اس جگہ کا دورہ کر سکتے ہیں۔

آکواونچر واٹر پارک

آکواونچر واٹر پارک دبئی کے بہترین تفریحی مراکز میں سے ایک ہے، جو ایٹلانٹس دی پام کے علاقے میں واقع ہے۔ جو لوگ آبی تفریح سے لطف اندوز ہوتے ہیں، وہ دبئی کے سفر میں اس واٹر پارک کا دورہ کر سکتے ہیں۔

آکواونچر واٹر پارک کے مختلف حصے ہیں، اور خاندان کے تمام افراد، بڑوں سے لے کر بچوں تک، یہاں خوب مزے کر سکتے ہیں۔ آکواونچر واٹر پارک میں آپ خصوصی لباس پہن کر شارک مچھلیوں کے ساتھ تیر بھی سکتے ہیں۔

برج العرب

برج العرب دبئی کا واحد 7 ستارہ ہوٹل ہے۔ دبئی کا سفر کرنے والے ہر شخص کو اس کشتی کی شکل کے ہوٹل کو ضرور دیکھنا چاہیے۔ آپ ساحل سے برج العرب کا نظارہ کر سکتے ہیں، یا دوپہر کی چائے کے لیے یہاں میز بک کروا سکتے ہیں، یا پھر شام کا انتظار کر سکتے ہیں اور شہر کے کسی بھی کونے سے اس فلک بوس عمارت کو دیکھ سکتے ہیں جب اس کی روشنیاں جل اٹھتی ہیں۔

معجزاتی پارک (Miracle Garden)

معجزاتی پارک یا میراکل گارڈن دبئی کی سب سے دلکش دیدنی چیزوں میں سے ایک ہے اور اپنی نوعیت میں منفرد سمجھا جاتا ہے۔

اس باغ کا فن تعمیر اس طرح ہے کہ یہ ھری ڈی نظر آتا ہے، اور اس کی تعمیر میں پہاڑیوں اور ماڈلز کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ باغ نمایاں نظر آئے۔ البتہ، یہ جان لیں کہ ہر سال گرمیوں میں باغ بند کر دیا جاتا ہے۔

گلوبل ولیج

دبئی کا گلوبل ولیج شیخ محمد بن زاید روڈ پر واقع ہے، اور اس گاؤں میں آپ 90 ممالک کی ثقافتوں کا امتزاج دیکھ سکتے ہیں۔ گلوبل ولیج میں مختلف ممالک کے اسٹالز متعلقہ اشیاء، دستکاری اور کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اس گاؤں میں خوشگوار اور متنوع تقریبات اور تہوار منعقد ہوتے ہیں جو بہت دل لگی کا باعث بنتے ہیں۔

دبئی کریک

دبئی کریک شہر کی دھڑکتی نبضہے اور دبئی کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے: دیرہ (شمال میں) اور بور دبئی (جنوب میں)۔ دبئی کریک نے اس شہر کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے، اور پہلی بار، تارکین وطن نے مچھلی اور موتیوں کے شکار کے لیے اس نہر سے دبئی میں قدم رکھا۔ سالوں گزرنے کے باوجود، دبئی کریک اب بھی اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے اور شہر کے سب سے گنجان مقامات میں سے ایک ہے۔

اسکی دبئی

اسکی دبئی کا رن وے 2005 سے کام کر رہا ہے اور یہ مشرق وسطیٰ کا پہلا انڈور اسکی ریزورٹ ہے۔

دبئی میں تقریباً برفباری نہیں ہوتی، اور اس کمپلیکس کو بنانے اور ٹھنڈا رکھنے کے لیے خاص تکنیک، کیمیائی مرکبات اور جدید ترین کولنگ سسٹم استعمال کیے جاتے ہیں۔

دبئی کا ایکویریم

دبئی ایکویریم اور انڈرو واٹر زو ایک ایسا مجموعہ ہے جہاں آپ 140 سمندری انواع کو دیکھ سکتے ہیں، جو دبئی مال کے اندر ایک بڑے کنٹینر میں رکھے گئے ہیں۔ یہ زیر آب چڑیا گھر ایک سرنگ کی شکل کا ہے،

اور اس سرنگ سے گزر کر آپ زیر آب دنیا کے نظاروں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ اس مجموعہ میں، آپ پنجرے میں غوطہ خوری کرکے شارک مچھلیوں کو قریب سے بھی دیکھ سکتے ہیں۔

ابوظہبی کی دیدنی چیزیں

ابوظہبی متحدہ عرب امارات کی 7 شیخ ریاستوں میں سے سب سے بڑی امارت اور اس ملک کا دارالحکومت ہے۔ یہ شہر امارت ابوظہبی کا مرکز ہے، اور ملک کے دیگر شہروں میں سے، سیاحوں کے لیے سب سے زیادہ مقبول شہروں میں سے ایک ہے۔ اس شہر کا فن تعمیر خاص ہے، اور اس کی زیادہ تر عمارتیں جاپانی معماروں نے بنائی ہیں۔

شیخ زاید گرینڈ مسجد، ابوظہبی

شیخ زاید گرینڈ مسجد سینٹر کی تعمیر شیخ زاید بن سلطان آل نہیان کے حکم پر کی گئی تھی، اور جمعہ کے روز، شہر کے لوگ جمعہ کی نماز کے لیے یہاں جمع ہوتے ہیں۔ مسجد کی تعمیر میں جدید فن تعمیر اور اسلامی ثقافت** کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ مسجد مسجد الحرام اور مسجد النبی کے بعد دنیا کی تیسری سب سے بڑی مسجد سمجھی جاتی ہے۔

لوور ابوظہبی میوزیم

لوور ابوظہبی میوزیم جزیرہ سعدیات کے ثقافتی علاقے میں، فرانسیسی معمار "ژاں نوول" نے ڈیزائن کیا ہے، اور یہ اب عجائب گھروں کے شائقین کے لیے ایک مقبول سیاحتی کشش ہے۔

یہ عجائب گھر، جو فن اور تہذیب کا عجائب گھر ہے، 8 نومبر 2017 کو کھولا گیا۔ اس عجائب گھر میں آپ فرانس کے 600 مستقل فن پارے اور دیگر عجائب گھروں سے 300 ادھار لیے گئے فن پارے دیکھ سکتے ہیں۔

یاس مرینا سرکٹ

یاس مرینا سرکٹ ابوظہبی کے جزیرہ یاس پر واقع ہے اور موٹر اسپورٹس کے لیے ایک ریس ٹریک اور متحدہ عرب امارات کے گرینڈ پری آٹوموبائل مقابلوں کا مقام ہے۔ یہ ٹریک، بحرین کے فارمولا 1 ریس ٹریک کے بعد، مشرق وسطیٰ میں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ یہ سرکٹ بندرگاہ اور یاس ہوٹل کے پاس سے گزرتا ہے اور ابوظہبی کے ساحل پر 21 تیز موڑ رکھتا ہے۔

یاس واٹرورلڈ

یاس واٹرورلڈ ابوظہبی یا یاس کا آبی پارک اُن لوگوں کے لیے بہت دلکش ہے جو آبی تفریحات کے شوقین ہیں۔ اس پارک میں 42 واٹر سلائیڈز اور کئی دیگر سنسنی خیز تفریحی سرگرمیاں موجود ہیں، جو یقیناً ہر کسی کو پسند آئیں گی۔

کُرنیش اسکائی لائن اور ساحل

Corniche کی اسکائی لائن اور ساحل، سفید ریتلے ساحلوں اور خوبصورت سیرگاہ کے ساتھ، شہر کے شمال مغربی ساحل کے ساتھ ساتھ پھیلا ہوا ہے۔ اس مقام سے آپ ساحل کے ساتھ واقع شہر کی بلند ترین عمارتوں کا منظر دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں Corniche کے باغات میں پیدل چلنے اور سیر کرنے کے لیے مخصوص راستے بھی موجود ہیں۔

فراری ورلڈ

فراری ورلڈ ابوظہبی دنیا کا پہلا فراری برانڈ تھیم پارک ہے۔ اس جگہ فراری سے متعلق بہت سی تفریحی سرگرمیاں موجود ہیں۔ فراری ورلڈ میں آپ مختلف سواریوں پر بیٹھ کر خوب سنسنی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ زائرین کے لیے ضروری سہولیات بھی موجود ہیں۔

اتحاد ٹاور ہوٹل کا ویو پوائنٹ

اتحاد ٹاور ہوٹل کا ویو پوائنٹ وہ جگہ ہے جہاں سے آپ ابوظہبی کا شاندار منظر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ویو پوائنٹ اتحاد ٹاور کی 74 ویں منزل پر واقع ہے؛ اگر آپ اتحاد ہوٹل میں مقیم نہیں ہیں تو ویو پوائنٹ تک جانے کے لیے داخلہ فیس ادا کرنا ہوگی۔ یہ مقام دبئی کے برج خلیفہ کے ویو پوائنٹ کے مقابلے میں بنایا گیا ہے۔

یاس مال

یاس مال ایک بڑا شاپنگ سینٹر ہے جس میں 370 دکانیں اور 60 سے زیادہ ریستوران اور کیفے موجود ہیں۔ اس میں بہت سی سہولیات بھی ہیں، جن میں ایک مکمل اور جدید سنیما کمپلیکس، تفریحی جگہ، اور فراری ورلڈ تک براہِ راست رسائی شامل ہے۔

اگر آپ ابوظہبی میں خریداری کا ارادہ رکھتے ہیں تو یاس مال ایک مناسب انتخاب ہے۔

سعدیات پبلک بیچ

سعدیات بیچ جزیرہ سعدیات پر واقع ہے اور شہر کے مشہور ترین ساحلوں میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔ یہاں آپ مختلف آبی تفریحات اور کھیلوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ سعدیات بیچ بہت صاف ستھرا ہے، اسی لیے سیاحوں میں بہت مقبول ہے۔

مرینا مال

مرینا مال ابوظہبی شہر کے بڑے شاپنگ سینٹروں میں سے ایک ہے، جو 2001 میں کھولا گیا تھا۔ اس کے 5 منزلیں ہیں اور اس کی عمارت کا ڈیزائن ہر سیاح کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ معروف اور پرتعیش برانڈز سے خریداری کے علاوہ، آپ یہاں آئس سلائیڈ، سنیما، بولنگ کلب اور میوزیکل فواروں جیسی تفریحات سے بھی لطف اٹھا سکتے ہیں [21]۔

متحدہ عرب امارات کے 5 مشہور میوزیم

دبئی میوزیم

قلعہ الفہیدی آج کل دبئی میوزیم کے نام سے جانا جاتا ہے اور قدیم دبئی کے شہر بور دبئی میں، اس شہر کے کچھ اہم آثارِ قدیمہ کے درمیان واقع ہے۔ یہ میوزیم دبئی کی ثقافتی اور روایتی تاریخ کا گھر ہے۔ یہ ہمیں ماضی کی کہانی سناتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ شہر کس طرح صحیح قیادت اور مستقبل بینی کے ساتھ آج کی شکل میں ترقی کرتا گیا۔

شیخ سعید المختوم کا گھر

المختوم شاہی خاندان کا سابق گھر دبئی کے قدیم حصے الشندغہ میں واقع ہے۔ آج یہ ایک آثارِ قدیمہ کا مقام سمجھا جاتا ہے اور کئی میوزیموں کی میزبانی کرتا ہے۔ اس گھر کی اسٹریٹجک پوزیشن شاہی خاندان کو دیرہ اور بور دبئی کے علاقوں پر نظر رکھنے میں مدد دیتی تھی۔

سیاح اس گھر کی سیر کر سکتے ہیں اور اس کی روایتی معماری، تاریخی دستاویزات، تصاویر، زیورات، سکّوں، مہروں اور شاہی خاندان کی تاریخ سے متعلق مجموعے کو دیکھ سکتے ہیں۔

شارجہ میوزیم آف نیچرل ہسٹری

شارجہ متحدہ عرب امارات کا ثقافت اور فنون کا مرکز سمجھا جاتا ہے، اور اس کا نیچرل ہسٹری میوزیم بھی ایک عام تفریح سے کہیں بڑھ کر ہے۔ جب آپ اس میوزیم میں ہوں گے تو آپ فطرت سے ایک خاص تعلق محسوس کریں گے۔

بچے میوزیم کے تعلیمی حصے کو پسند کریں گے اور جانوروں کی دیکھ بھال والے حصے کو دیکھ کر لطف اندوز ہوں گے۔ یہ میوزیم شارجہ کے باہر واقع ہے اور عربی جنگلی حیات کو متعارف کرانے کا ایک مرکز ہے، جہاں قدرتی مساکن، چڑیا گھر اور نباتاتی باغات کے ذریعے اس علاقے کی حیاتیاتی دنیا سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

شارجہ اسلامک سولائزیشن میوزیم

شارجہ اسلامک سولائزیشن میوزیم شہر کے دل میں واقع ہے اور اسلامی تہذیب کے تمام سالوں کی قدیم فنون، دستکاریوں اور ایجادات کے دستاویزات کا گھر ہے۔ یہ جدید عمارت، جو مسجد کی طرح نظر آتی ہے، اپنے اندرونی حصے میں روایتی پلستر کے کام سے مزین ہے۔

سیاحوں کا استقبال ایک گائیڈ کے ذریعے کیا جاتا ہے اور وہ میوزیم کی لائبریری، آرٹ کلیکشن، اور سائنس و ٹیکنالوجی گیلری کا دورہ کر سکتے ہیں۔

العین محل میوزیم

العین محل دارالحکومت سے ایک گھنٹے کی دوری پر ہے، لیکن یہ ملک کے سب سے بڑے اور بہترین ثقافتی ورثے کے تحفظ کے مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ عمارت ماضی میں متحدہ عرب امارات کے سابق حکمران شیخ زاید بن سلطان آل نہیان کا مسکن تھی، اور آج بھی اس میں موجود تمام سامان اچھی طرح محفوظ ہے۔

یہ کسی حکمران کے قلعے میں روزمرہ کی زندگی کا حقیقی احساس حاصل کرنے کے لیے ایک مثالی جگہ ہے [22]۔

متحدہ عرب امارات میں شیعہ

متحدہ عرب امارات میں شیعہ آبادی کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں ۔ اس ملک میں شیعہ آبادی کے اعدادوشمار بھی مختلف ہیں۔ ورلڈ اٹلس کے مطابق، ملک کی کل آبادی کا تقریباً 16 فیصد شیعہ ہے؛ جبکہ کچھ ذرائع میں ان کی آبادی کا تخمینہ 6 سے 20 فیصد لگایا گیا ہے۔

بہرحال، ان میں سے زیادہ تر شیعہ دبئی امارت میں مقیم ہیں، جو متحدہ عرب امارات کی سب سے اہم اور آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی امارتوں میں سے ایک ہے [23]۔

بعض مضامین میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دبئی کی 23 فیصد سے زیادہ آبادی شیعہ پر مشتمل ہے۔ متحدہ عرب امارات کی سب سے اہم امارت میں یہ ارتکاز، وہی مسائل پیدا کرتا ہے جو دیگر امارتوں میں پیدا ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ، بحرین کی طرح دبئی میں بھی ایران کا اثر و رسوخ موجود ہے [24]۔

بنیادی طور پر، متحدہ عرب امارات ایک مہاجر دوست ملک ہے، یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ اس کی چار پانچویں آبادی تارکین وطن پر مشتمل ہے، لہذا یہ کہنا کہ اس ملک کے زیادہ تر شیعہ ایرانی ہیں، غیر متوقع نہیں ہے۔

بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس ملک کے شیعہ "بحارنہ" قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، جو ممکنہ طور پر تین سو سال قبل، تشیع مذہب اختیار کرنے کے بعد عرب قبیلے "نعین" سے وجود میں آیا ہو۔

اگرچہ بعض کا خیال ہے کہ یہ لوگ اس علاقے کے اصل اور مقامی باشندے ہیں جنہیں عربوں نے شکست دی تھی۔ قبیلے کے تمام لوگ شیعہ مذہب کے پیروکار ہیں اور تجارت اور زراعت میں مصروف ہیں [25]۔

شیعہ گروہ

متحدہ عرب امارات میں موجود شیعہ، تحقیق و مطالعات کے مطابق، خواہ وہ شہری ہوں یا مقیم ، درج ذیل گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں:

یہ شیعہ عموماً بحرین، عراق، لبنان اور خلیج فارس کے دیگر عرب ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ زیادہ تر ایرانی شیعہ جنوبی ایران کے علاقوں سے ہیں۔

خوجہ اثنا عشری شیعہ

یہ شیعہ اصل میں بھارت کے علاقوں گجرات اور کَچھ سے تعلق رکھتے ہیں، دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں، اور ان کی تعداد دنیا میں دو لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ یہ اقلیت میں ہیں اور ان کی کوئی خاص منظم تنظیم موجود نہیں۔

مذکورہ شیعہ عزاداری کی مجالس اور مذہبی تقاریر کے انعقاد کے پابند ہیں، لیکن ان کی مضبوط تنظیمی ساخت نہیں ہے۔

  • ایرانی شیعہ؛
  • عربی زبان بولنے والے شیعہ؛
  • بھارت یا پاکستان کے شیعہ؛
  • عراق، لبنان اور شام کے شیعہ [26]۔

امارات میں وہابیوں کی کارروائیوں کے تشیع پر اثرات

اس ملک میں فقہِ مالکی کے پیرو سنی مسلمانوں اور شیعہ مسلمانوں کے درمیان ایک طویل عرصے سے قائم پرامن بقائے باہمی ، بعض امارتوں مثلاً شارجہ، رأس الخیمہ اور فجیرہ میں نسبتاً وسیع وہابی تبلیغات کے باوجود متاثر نہیں ہوئی۔

اس ملک کی وزارتِ اوقاف و امورِ دینیہ کی عمومی پالیسی اتحاد کی تلقین اور تفرقہ و انتشار سے بچنے کی ہے، لیکن بہرحال وہابیت نے اپنی سرگرمیاں بند نہیں کیں۔ وہ تشیع کے خلاف بہت زیادہ کتابچے اور کتابیں تقسیم کر کے اس اتحاد کو ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش کرتی ہے،

یہاں تک کہ اکثر مواقع پر دیکھا گیا ہے کہ انہوں نے یہ مواد مختلف زبانوں میں شائع کیا ہے تاکہ مختلف شیعہ طبقات، مثلاً ایرانیوں، عربوں اور دیگر افراد کے لیے قابلِ استفادہ ہو۔ یہ مواد فارسی، عربی، انگریزی اور حتیٰ کہ اردو میں بھی شائع کیا گیا ہے۔

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ نہ صرف شیعہ بلکہ مالکی سنی بھی وہابیت کے افکار و نظریات سے تضاد اور کشمکش میں ہیں، یہاں تک کہ دبئی کے امامِ جمعہ نے کئی خطبات میں وہابیت کے طرزِ فکر پر شدید تنقید کی ہے اور بعض مواقع پر انہیں اسلام سے خارج بھی قرار دیا ہے۔

ان کے مطابق وہ ایک ایسا فرقہ ہیں جو اسلام اور اس کی اعتقادی بنیادوں کو منہدم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہابیت کی جانب سے تشیع پر کیے گئے بہت سے اعتراضات کو بھی وہ رد کرتے ہیں [27]۔

امارات کی مشہور حسینیہ اور مساجد

ذیل میں ابوظہبی اور دبئی میں شیعہ مسلمانوں کے مذہبی مراکز کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔

  • متحدہ عرب امارات کے ابوظہبی میں شیعہ مساجد اور حسینیے:
  • مسجد عیسیٰ محفوظ (ہندیوں کی مسجد اور حوزہ علمیہ)
  • مسجد سید عبدالحجۃ ذی‌شأن (مسجدِ رسولِ اعظم)
  • مسجد امام علی
  • مسجد حاج عبید
  • مسجد نور

حسینیے:

  • حسینیہ بحرینی‌ها
  • حسینیہ پاکستانی‌ها
  • حسینیہ ہاشم
  • حسینیہ ارشاد
  • حسینیہ بلقیس

دبئی میں متحدہ عرب امارات کے شیعہ مساجد:

  • مسجد امام حسین (نمایندہ مقام معظم رهبری)
  • مسجد امام علی اوقاف جعفری
  • مسجد لاری‌ها (اوقاف جعفری)
  • مسجد الحسین (ہیئت امناء)
  • مسجد الامام الباقر (ہیئت امناء)
  • مسجد الزہرا
  • مسجد برج دیرہ (اوقاف و امور اسلامی)
  • مسجد جافلیہ
  • مسجد جدیدالاحداث

حسینیے:

  • حسینیہ حاج عباس
  • حسینیہ العدوانی (جو پہلے سید مہدی حکیم کی لائبریری تھی)
  • حسینیہ حاج ناصر
  • حسینیہ امام صادق
  • حسینیہ کراچی‌ها

شارجہ میں شیعہ مساجد

  • مسجد الزہرا، امامت: شیخ عبدالحسین
  • مسجد الامام حسین، امامت: صلاح الدین

یہ مراکز سیاسی امور میں کوئی کردار یا سرگرمی نہیں رکھتے [28]۔

شیعہ روحانیت

عموماً دنیا بھر کے خوجہ اثنا عشری شیعہ ، جن میں امارات کے شیعہ بھی شامل ہیں، نجف کے مراجع تقلید ، بالخصوص آیت اللہ سیستانی کی تقلید کرتے ہیں اور ہمیشہ سیاست سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔

امارات میں ایک جامع، عالم، اور بااثر روحانی شخصیت کی کمی محسوس کی جاتی ہے۔ ایسے باصلاحیت، پرعزم، تعلیم یافتہ اور عوام سے جڑے ہوئے روحانیوں کی کمی ہے جو شیعہ برادری کی قیادت کر سکیں، انہیں زندگی کے تمام پہلوؤں میں رہنمائی فراہم کر سکیں، اور اس طرح ملک میں شیعوں کے لیے ایک مضبوط مرکزیت قائم کر سکیں۔

ایسی ممتاز شخصیت کا وجود کلیدی اور حیاتی کردار ادا کر سکتا ہے۔ بدقسمتی سے، اب تک متحدہ عرب امارات میں رہبر معظم کے نمائندے نے اپنی اصل حیثیت حاصل نہیں کی ہے اور بہت کمزور کارکردگی دکھائی ہے۔ ان کی سرگرمیاں ایران کی سرکاری اداروں اور تنظیموں کی طرف سے بھیجے گئے خاندانوں کے دائرے تک محدود رہی ہیں۔

اس ملک کے شیعہ عدالتوں کا رخ نہیں کرتے اور اختلافات کے حل کے لیے شیعہ علما سے رجوع کرتے ہیں، کیونکہ ایسی کوئی عدالت موجود نہیں ہے جہاں جعفری مذہب کے مطابق فیصلے کیے جا سکیں۔

تمام اسلامی اور شرعی امور، جیسے کہ شادی، طلاق، اور اسلام میں میراث کے مسائل، نیز مہر، نفقہ، عاقلہ کا تاوان اور دیگر فقہی معاملات **شیعہ علما کی نگرانی میں حل** کیے جاتے ہیں۔ یہ علما مانتے ہیں کہ رسول خدا اور معصوم امام کے بعد، **جامع الشرائط فقیہ** یعنی آیت اللہ العظمیٰ کو عوام کے دینی مسائل حل کرنے چاہئیں۔ ان علما کو متحدہ عرب امارات کی عدالتوں کی طرف سے اس امر کی **سرکاری اجازت** حاصل ہے۔

اس ملک میں شیعہ شخصیات میں سے **رہبر معظم کے نمائندے**، دبئی میں مقرر کردہ امام جمعہ **جناب حجت الاسلام و المسلمین شاہ چراغی**، اور آیت اللہ سیستانی کے نمائندے **حجت الاسلام و المسلمین سید مرتضیٰ کشمیری** کا نام نمایاں ہے۔ جناب **مہدی تاجر** بھی شیعہ برادری کی اہم **اقتصادی شخصیات** میں سے ہیں۔ اس کے علاوہ، اسفند 1388 (2010) میں رہبر معظم نے **حجت الاسلام و المسلمین سید محمود مدنی بجستانی** کو اپنا نمائندہ اور دبئی کا امام جمعہ مقرر کیا۔ وہ 1395 (2016) میں ایران واپس تشریف لے گئے اور قم میں **جامعتہ الزہرا(س)** کی مدیریت سنبھالی۔[39]

ایرانی اسلامی انقلاب کے متحدہ عرب امارات کے شیعوں پر اثرات

متحدہ عرب امارات کے شیعہ، جنہیں **مقامی اور غیر مقامی** گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، ایران کے اسلامی انقلاب کی فتح سے قبل **اکثریتی سنی آبادی اور مرکزی حکومت کے لیے کوئی خاص تشویش کا باعث نہیں** تھے۔ لیکن اسلامی انقلاب کی فتح کے بعد، **جوش و جذبات کی ایک لہر** نے خطے کے تمام مسلمانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور امارات کے شیعہ بھی اس سے مستثنیٰ نہ تھے۔

    • ایران کے خلاف منفی پروپیگنڈے** کے پیش نظر، امارات کے حکمرانوں نے **خطرہ محسوس کیا** اور شیعوں پر **خاص پابندیاں عائد** کر دیں۔ لہذا، انہوں نے ملک اور فوج کے اہم عہدوں اور حساس ترین شعبوں میں شیعوں کے اثر و رسوخ کو پہلے سے کہیں زیادہ روکا۔ البتہ، آج تک شیعوں کو **نسبتاً آزادی حاصل** ہے۔ یہ آزادی **ابوظہبی میں دبئی اور شارجہ کے مقابلے میں کم** ہے، یہاں تک کہ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت میں شیعوں کے نام سے کوئی **سرکاری سرگرمی نہیں** ہوتی۔

مجموعی طور پر، حکومت یا شہری شیعوں کے ساتھ **نامناسب سلوک نہیں** کرتے، لیکن حکومت ہمیشہ ان پر **شبہ کی نظر** رکھتی ہے اور شیعوں کو **ایران کا حامی اور طرفدار** سمجھتی ہے۔ یہ شیعہ، اگرچہ ایران کو اپنا "قبلہ" سمجھتے ہیں، لیکن حکومتی حلقوں میں موجود ** وہابیوں کی حساسیت** کے باعث، وہ **ایران کی سرکاری اداروں سے قربت** اور ایران کے لیے **ظاہری وابستگی کے اظہار سے گریز** کرتے ہیں۔

خاص طور پر ایرانی تارکین وطن، جو اماراتی مذہبی حکام کی **سخت نگرانی** میں ہیں، اگر کوئی **مذہبی سرگرمی** کرتے ہیں جو ان کے لیے حساسیت کا باعث بنے، تو ان کی رہائش منسوخ کر دی جاتی ہے یا تجدید نہیں کی جاتی۔[40]

امارات میں مشہور ایرانی شیعہ خاندان

دبئی میں بااثر ایرانی خاندانوں میں **گلہ داری، گرگاش، العقیلی، اور رفیق دوست** شامل ہیں۔ ان خاندانوں کی **متعدد اقتصادی سرگرمیاں اور سرمایہ کاری** ہیں اور یہ دبئی میں دستیاب روزگار کے مواقع کی مثال ہیں۔

    • خاندان گلہ داری** کی کاروباری اور تنظیمی سرگرمیوں کی تاریخ **1940 کی دہائی** سے ہے۔ وہ اصل میں **فارس صوبہ کے شہر گلہ دار** سے ہیں۔ گلہ داری کے تین بھائیوں نے 1970 کی دہائی کے وسط میں دبئی کا **پہلا جدید ہوٹل** تعمیر کیا، جس میں انٹرکانٹینینٹل ہوٹل اور ہیتھ رو (Heathway Regency) شامل تھے۔

آج کل دبئی کے سب سے بڑے چوراہوں میں سے ایک کا نام **عبدالوہاب گلہ داری** کے نام پر ہے، جو ان کے کار شو روم "گلہ داری موٹرز" کے قریب واقع ہے۔ عبدالوہاب نے **"خلیج ٹائمز"** اخبار کا بھی آغاز کیا تھا، اور ان کے ایک بیٹے **"خلیج ٹائمز"** اخبار کے ایڈیٹر تھے۔ گلہ داری کے ایک اور بیٹے، **عصام**، **عمار انٹرنیشنل ڈویلپرز** کے سی ای او ہیں، جو **برج خلیفہ** کی تعمیر کر رہی ہے، اور جسے دنیا کی سب سے بڑی عمارت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ، **العقیلی** جیسے دیگر بڑے خاندانوں کے بھی **امریکہ اور ایران کے ساتھ قابلِ ذکر تجارتی تعلقات** ہیں۔ البتہ، العقیلی خاندان کو **ایران میں سرمایہ کاری کے حوالے سے کچھ مشکلات** کا سامنا رہا ہے۔[41]

عرب امارات صہیونی منصوبوں کا مرکز کیوں بنتا جا رہا ہے؟

ابراہیمی معاہدے کے بعد واضح ہوا کہ امارات اور اسرائیل کے تعلقات صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ ابوظہبی اسرائیلی سکیورٹی اثر و نفوذ کا بھی مرکز بنتا جارہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک؛ متحدہ عرب امارات نے برسوں تک خود کو خطے کی ایک مستحکم معیشت، جدید ریاست اور سرمایہ کاری کے محفوظ مرکز کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، مگر حالیہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے سکیورٹی اور انٹیلی جنس تعلقات نے اس تاثر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

سن 2020 میں “ابراہیم معاہدے” کے بعد ابتدا میں یہ کہا گیا کہ ابوظہبی اور تل ابیب کے تعلقات صرف اقتصادی، تجارتی اور سفارتی تعاون تک محدود رہیں گے، لیکن بعد کے واقعات نے واضح کیا کہ معاملہ محض تجارت یا سفارتکاری کا نہیں بلکہ خطے میں اسرائیلی سکیورٹی و انٹیلی جنس اثر و نفوذ کے پھیلاؤ کا ہے۔

آج صورتحال یہ ہے کہ خلیج فارس میں امارات اسرائیلی منصوبوں کے لیے ایک اہم اڈے کی صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

خلیج فارس میں اسرائیلی انٹیلی جنس کا پھیلتا اثر

خلیج فارس تعاون کونسل کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ابوظہبی نے جس سرعت اور گہرائی کے ساتھ اسرائیلی سکیورٹی اداروں کے ساتھ روابط قائم کیے، اس نے پورے خطے میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی داخلی خفیہ ادارے “شاباک” کے سربراہ کی خفیہ طور پر امارات آمد اور محمد دحلان سے ملاقات نے ان تعلقات کی نوعیت پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

محمد دحلان، جو کبھی فتح تحریک کے اہم رہنما اور غزہ میں سکیورٹی کے ذمہ دار تھے، آج فلسطینی عوام کے ایک بڑے طبقے میں متنازع شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔

ان کی ابوظہبی میں موجودگی اور اسرائیلی حکام سے روابط سے یہ تاثر مضبوط ہورہا ہے کہ امارات فلسطینی سیاسی منظرنامے پر بھی اسرائیلی ایجنڈے کے مطابق کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

علاقائی ساکھ پر منفی اثرات

اسرائیل کے ساتھ گہرے سکیورٹی تعاون نے امارات کو عرب عوام کی تنقید کا مرکز بنا دیا ہے۔ عرب دنیا میں بڑی تعداد اب بھی اسرائیل کے ساتھ انٹیلی جنس اور عسکری تعاون کو فلسطینی کاز سے غداری تصور کرتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امارات کی پالیسیوں پر عرب سوشل میڈیا، سیاسی حلقوں اور عوامی مباحث میں شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

دوسری جانب خلیج فارس کے ممالک میں بھی یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ اسرائیلی سکیورٹی موجودگی خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جا سکتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال نے عرب ممالک کے علاقائی اتحاد کے اندر اعتماد کے بحران کو بھی جنم دیا ہے۔

محمد دحلان اور فلسطینی سیاست

اسرائیل اور بعض علاقائی حلقے مستقبل میں فلسطینی سیاسی ڈھانچے میں محمد دحلان کے کردار کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس منصوبے کا مقصد مغربی کنارے میں ایسی قیادت لانا ہے جو اسرائیلی سکیورٹی مفادات کے لیے زیادہ قابل قبول ہو۔

تاہم فلسطینی مزاحمتی حلقے اور عوامی رائے اس منصوبے کو مسترد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ غزہ اور مغربی کنارے کے حالیہ تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ فلسطینی عوام بیرونی حمایت یافتہ سیاسی منصوبوں کو آسانی سے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

امارات نے یہ راستہ کیوں اختیار کیا؟

بعض مبصرین کے مطابق ابوظہبی کی موجودہ حکمت عملی کے پیچھے تین بڑے عوامل کارفرما ہیں:

الف۔ عرب دنیا میں جمہوری تحریکوں کا خوف متحدہ عرب امارات عرب بہار کے بعد خطے میں ابھرنے والی جمہوری اور عوامی تحریکوں کو اپنی سیاسی بقا کے لیے خطرہ سمجھتا رہا ہے۔

ابوظہبی کی قیادت کا خیال ہے کہ اگر عرب ممالک میں عوامی دباؤ کے ذریعے سیاسی تبدیلیاں کامیاب ہوئیں تو اس کے اثرات خلیج فارس میں قائم بادشاہتوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

اسی وجہ سے امارات نے ان قوتوں کے مقابلے کے لیے ایسے علاقائی اور بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے جو موجودہ سیاسی نظام کو برقرار رکھنے کے حامی ہیں، اور اسرائیل بھی انہی اتحادیوں میں شامل ہے۔

ب۔ اسلامی سیاسی تحریکوں کے اثر و رسوخ کا خدشہ امارات خاص طور پر اخوان المسلمون اور دیگر اسلامی سیاسی جماعتوں کو اپنے لیے بڑا چیلنج تصور کرتا ہے۔

ابوظہبی کا ماننا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر منظم سیاسی تحریکیں عوام میں مقبولیت حاصل کرکے خطے کے موجودہ حکمران نظاموں کو کمزور کر سکتی ہیں۔

اسی لیے امارات نے ان تحریکوں کے خلاف سخت پالیسی اختیار کی اور اسرائیل کے ساتھ انٹیلی جنس اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دیا، کیونکہ اسرائیل بھی سیاسی اسلام کی بعض تحریکوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

ج۔ خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرات امارات خلیج فارس اور مشرق وسطی میں ایران کے بڑھتے ہوئے سیاسی، عسکری اور علاقائی اثر و رسوخ کو اپنی سلامتی کے لیے اہم چیلنج سمجھتا ہے۔

یمن، عراق، شام اور لبنان میں ایران کے کردار نے خطے کے عرب ممالک میں تشویش پیدا کی، جس کے بعد ابوظہبی نے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کو ایک اسٹریٹجک ضرورت کے طور پر دیکھا۔ امارات کا خیال ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعاون سے اسے جدید سکیورٹی ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس معلومات اور علاقائی سطح پر ایک مضبوط اتحادی حاصل ہو سکتا ہے۔

صہیونی حکومت نے بھی خود کو خلیج فارس کی حکومتوں کے لیے ایک سکیورٹی شراکت دار کے طور پر پیش کیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ عرب امارات کو اس تعاون کی قیمت اپنی خودمختاری، علاقائی ساکھ اور داخلی سلامتی کی صورت میں ادا کرنا پڑسکتا ہے۔

حاصل سخن

عرب امارات اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے سکیورٹی تعلقات نے پورے خطے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا ابوظہبی واقعی ایک متوازن علاقائی کردار ادا کر رہا ہے، یا وہ بتدریج اسرائیلی سکیورٹی منصوبوں کا عملی مرکز بنتا جا رہا ہے۔

خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں یہ معاملہ صرف فلسطین یا اسرائیل تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب خلیج فارس کی مجموعی سلامتی، سیاسی استحکام اور مستقبل کی علاقائی صف بندیوں سے جڑچکا ہے[29]۔

حوالہ جات

  1. غلامرضا محمدی، «امارات با بحران زنده است»، رسالت، ۲۹ فروردین ماه ۱۳۷۸
  2. سید محسن توکلی، «نگاهی به اختلافات عمان و امارات متحده عربی» نشریۀ دیدگاه‌ها و تحلیل ها، ش ۱۲۸
  3. متحده عربی امارات «- ثبت احوال www.sabteahval.ir › tab-9894
  4. مهدی مظفری، امارات خلیج فارس، پژوهش اقتصادی، سیاسی و اجتماعی، ص ۸۶٫
  5. قتصاد دبی از کاهش شمار گردشگران روس» نشریه بررسی‌های بازرگانی، شماره۱۴۲، ص۱٫
  6. آشنایی با امارات متحده عربی - همشهری آنلاین www.hamshahrionline.ir › news › آش..
  7. «آشنایی با امارات متحده عربی». همشهری آنلاین. ۲۰۰۸-۰۸-۲۱. دریافت‌شده در ۲۰۲۰-۰۳-۱۰
  8. متحده عربی امارات «- ثبت احوال www.sabteahval.ir › tab-9894
  9. بررسی مخالفت جدی امارات متحده عربی با افزایش اسلام‌گرایی
  10. جعفریان، 1388، ص453
  11. جعفریان، 1388، ص453
  12. روز ملی استقلال امارات متحده عربی | بیسان گشت bisungasht.com › mag › national-day..
  13. راهنمای سفر به امارات متحده عربی - نقشه، کد کشور، تاریخچه... www.touristgah.com › About › کشو...
  14. آداب و رسوم کشورهای مختلف در عید فطر - خبرگزاری برنا www.borna.news › قرآن و معارف
  15. مساجد دبی(شاهکارهای معماری مسلمانان) - تور لحظه آخری
  16. مورد از مشهورترین جاذبه‌های گردشگری امارات کدامند؟ - الی گشت www.eligasht.com › خانه › راهنمای سفر
  17. مورد از مشهورترین جاذبه‌های گردشگری امارات کدامند؟ - الی گشت www.eligasht.com › خانه › راهنمای سفر
  18. مورد از مشهورترین جاذبه‌های گردشگری امارات کدامند؟ - الی گشت www.eligasht.com › خانه › راهنمای سفر
  19. مورد از مشهورترین جاذبه‌های گردشگری امارات کدامند؟ - الی گشت www.eligasht.com › خانه › راهنمای سفر
  20. 10مورد از مشهورترین جاذبه‌های گردشگری امارات کدامند؟ - الی گشت www.eligasht.com › خانه › راهنمای سفر
  21. بهترین دیدنی‌های امارات متحده عربی که نباید از دست داد - کجارو www.kojaro.com › united-arab-emir...
  22. با ۵ موزه مشهور در امارات متحده عربی آشنا شوید | فلایتیو flightio.com › blog › travel-tips › 5-...
  23. محمدرضا حافظ نیا، خلیج فارس و نقش استراتژیک تنگه هرمز، ص۲۴۴
  24. رسول جعفریان، جغرافیای تاریخی و انسانی شیعه در جهان اسلام، ص۱۰۱
  25. امارات متحده، از سری انتشارات نظری اجمالی به کشورها، شماره ۷ دی ماه ۱۳۶۴، مؤسسه مطالعات و پژوهش‌های بازرگانی، ص۶۹
  26. شیعیان امارات متحده عربی - شیعه‌شناسی
  27. شیعیان امارات 2 - مجمع جهانی شیعه‌شناسی shiastudies.com ›...
  28. شیعیان امارات 2 - مجمع جهانی شیعه‌شناسی shiastudies.com ›...
  29. عرب امارات صہیونی منصوبوں کا مرکز کیوں بنتا جا رہا ہے؟- شائع شدہ از: 27 مئی 2026ء-اخذ شدہ بہ تاریخ:27مئی 2026ء