مندرجات کا رخ کریں

مکه

ویکی‌وحدت سے

‘’‘مکہ’‘’ سعودی عرب کے اہم ترین شہروں میں سے ایک ہے اور صوبۂ حجاز کا حصہ ہے جو جزیرۂ عرب کے مغربی حصے میں واقع ہے[1]۔ کعبہ اسی شہر میں واقع ہے اور یہ شہر آغازِ تخلیق سے ہی ایک خاص تقدس رکھتا ہے، لیکن اس کی جغرافیائی تاریخ اور آبادکاری کا آغاز حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کی یہاں سکونت سے ہوتا ہے۔ اسلام سے پہلے بھی کعبہ کی وجہ سے یہ شہر جزیرۂ عرب کی تجارت کا مرکز تھا[2]۔ مکہ مکرمہ کی خصوصی اہمیت صرف کعبہ کی موجودگی تک محدود نہیں بلکہ اس لیے بھی ہے کہ رسولِ اسلام (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کی بعثت اسی شہر میں ہوئی اور دینِ اسلام کا ظہور بھی یہیں سے ہوا۔

مکہ شہر اور مسجد الحرام کا جغرافیائی منظر

مکہ کا عرضِ جغرافیائی ۲۱ درجے اور ۲۵ منٹ ہے اور طولِ جغرافیائی گرینویچ سے ۳۹ درجے اور ۵۰ منٹ ہے[3]۔ یہ شہر وادیٔ ابراہیم میں واقع ہے اور ایک تنگ اور ہلالی شکل کی وادی میں واقع ہے جسے ابطح کہا جاتا ہے، اور یہ مشرق و مغرب کی جانب بلند پہاڑی سلسلوں کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ سطحِ سمندر سے اس کی بلندی تقریباً ۳۳۰ میٹر بیان کی گئی ہے۔ مکہ بحرِ احمر کے مشرق میں واقع ہے اور بندرگاہ جدہ سے تقریباً ۶۲ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس کی حدود شمال میں مدینہ، مغرب میں جدہ، مشرق میں ریاض اور نجد، اور جنوب میں یمن اور عسیر سے ملتی ہیں[4]۔

مکہ ایک پہاڑی شہر ہے اور اس کا موسم نہایت خشک اور گرم ہے۔ گرمیوں میں درجۂ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے، تاہم رات کے وقت موسم نسبتاً بہتر ہو جاتا ہے۔ مکہ میں پانی کا اصل ذریعہ بارش ہے۔ یہاں قدرتی طور پر کوئی دریا یا بہتا ہوا چشمہ موجود نہیں، اس لیے پانی کنوؤں اور زیرِ زمین ذخائر سے نکالا جاتا ہے۔ جوں جوں حرمِ مکہ سے دور ہوتے جائیں، چشمے، کنویں، کھیت اور کھجور کے باغات زیادہ نظر آتے ہیں، اور شہر کی غذائی ضروریات زیادہ تر دیگر علاقوں سے پوری کی جاتی ہیں[5]۔

مکہ سال بھر مختلف سمتوں سے آنے والی ہواؤں کے زیرِ اثر رہتا ہے، جیسے شمال مغربی، شمال مشرقی اور جنوب مغربی ہوائیں۔ یہ ہوائیں عموماً خشک ہوتی ہیں، تاہم کبھی کبھار موسمِ سرما میں بارش کا باعث بھی بنتی ہیں[6]۔

مکہ کا نام اور شہرت

لفظ مکہ قرآن کریم میں صرف ایک مرتبہ سورۂ فتح کی آیت ۲۴ میں آیا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«وَ هُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ أَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَ كَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا»

یعنی: وہی ہے جس نے مکہ کے اندر تمہیں ان پر غالب کرنے کے بعد ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے، اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔

البتہ قرآن میں اس شہر کو دوسرے ناموں سے بھی چودہ آیات میں یاد کیا گیا ہے، جیسے: بکہ، اُمّ القریٰ، البلد، البلد الامین، البلدة، الحرم اور اسی طرح کے دیگر تعبیری نام جیسے: قریتک، من القریتین اور وادٍ غیر ذی زرع[7]۔

مکہ نام رکھنے کی وجہ

بعض علماء اسلام کے مطابق مکہ کا نام اس جگہ پانی کی کمی کی وجہ سے رکھا گیا۔ ان کے مطابق لغت میں آیا ہے: اِمتَکَّ الفصیلُ ضرعَ أمّه یعنی بچہ اپنی ماں کے تھن سے دودھ چوستا ہے۔ اس بنا پر لفظ مک کے معنی دودھ پینے والے بچے کے ماں کے تھن سے دودھ چوسنے کے ہیں، اور امتصاص کے معنی ہیں کسی چیز کو چوس کر اپنی طرف کھینچ لینا۔

بعض دوسرے علماء کہتے ہیں کہ مکہ اس لیے کہلاتا ہے کہ یہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے؛ یعنی تَذهبُ بها یعنی انہیں ختم کر دیتا ہے۔ یا یہ کہ یہ بدکار شخص کو اپنے سے دور کر دیتا ہے: تُخرجه منها۔ اسی طرح کہا گیا ہے کہ اسے بکہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس شہر میں لوگ ایک دوسرے کو دھکیلتے ہیں: یَدفع بعضهم بعضاً[8]۔

بکہ سے کیا مراد ہے؟

«إِنَّ اوَّلَ یَبْتٍ وُضِعَ لِلنّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّةَ مُبَارَکاً وَ هُدیً لِلْعالَمِینَ؛ لوگوں کے لیے قائم کیا گیا پہلا گھر (بیت اللہ) وہی ہے جو "بکہ" میں ہے، جو برکتوں والا ہے اور تمام جہانوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے» [9]۔

لفظی اعتبار سے "بک" کا مطلب ہجوم یا بھیڑ ہے، اور "بکہ" کا مطلب بھی ہونے والی جگہ ہے جیسا کہ طبری نے فرمایا ہے۔ لہذا، چونکہ کعبہ اور اس کے اطراف کا مقام طواف، حجر اسود کو چومنے، نماز اور دعا کے لیے ہجوم کا مرکز ہے، اس لیے اسے "بکہ" کہا گیا ہے۔ یہ ایک وصف (صفت) کے طور پر استعمال ہوا ہے نہ کہ کسی خاص نام کے طور پر۔ اگر کوئی دوسری جگہ بھی ہجوم کی جگہ ہو، جیسے منی کے جمرة، تو انہیں بھی "بکہ" کہا جا سکتا ہے۔

المیزان میں فرمایا گیا ہے: "بکہ" سے مراد کعبہ کی زمین ہے، جو لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے "بکہ" کہلائی گئی۔

طبری نے امام باقر (علیہ السلام) سے نقل کیا ہے کہ "بکہ" مسجد الحرام ہے اور مکہ مکرمہ پورا حرم (مقدس علاقہ) ہے۔ یہ بات اوپر بیان کردہ مطلب کی تائید کرتی ہے، کیونکہ مسجد الحرام ہجوم کا مقام ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ "بکہ" سے مراد مکہ ہے، جس میں میم (م) کی جگہ باء (ب) لے لیا گیا ہے۔ کچھ نے کہا ہے کہ کعبہ کا مقام اور طواف کی جگہ وغیرہ بھی مراد ہے [10]۔

ام القرى (Umm al-Qura) سے کیا مطلب ہے؟

شہرِ مقدس مکہ کو "ام القرى" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نام قرآن مجید کی دو آیات میں اس شہر کے لیے استعمال ہوا ہے: «لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرى وَ مَنْ حَوْلَها» [11] اور [12]۔ (پیامبر سے خطاب:) تاکہ تم ام القرى (شہروں کی ماں) اور اس کے گرد رہنے والوں کو ڈرا سکو۔

"ام القرى" کا مطلب "شہروں کی ماں" ہے، یعنی شہرِ مکہ۔ مکہ کو "ام القرى" کہا جانے کی وجہ یہ ہے کہ روایات کے مطابق، حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کے ٹھہرنے کے بعد، وہ پہلا خشک علاقہ جو پانی سے باہر نکلا، وہ مکہ کی زمین تھی۔ اس واقعے کو "حوالِ ارض" کہا جاتا ہے۔ اسی لیے مکہ کو "شہروں کی ماں" کہا گیا [13]۔

بلد الامین

مکہ کے مشہور ناموں میں سے ایک نام "بلد الامین" ہے، جو اس مقدس زمین کی انتہائی عزت اور قدسیت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ نام اسی شکل میں قرآن کریم میں آیا ہے اور اس پر اللہ کی قسم کھائی گئی ہے: «وَالتِّینِ وَالزَّیتُونِ وَ طُورِ سِینِینَ وَ هذَاالْبَلَدِ الْأَمِینِ» [14]۔ انجیر اور زیتون کی قسم، اور طور سینا کی قسم، اور اس امن والے شہر کی قسم۔ (بلد الامین سے مراد)

بے شک اس آیت میں "بلد الامین" سے مراد شہرِ مکہ ہے، کیونکہ سورہ التین مکہ میں نازل ہوئی۔ اس کے علاوہ قرآن کی دیگر آیات میں مکہ اور حرم کی امن کی جگہ ہونے کا صراحت کے ساتھ ذکر آیا ہے، جیسے: «أَوَ لَمْ نُمَکنْ لَهُمْ حَرَماً آمِناً» کیا ہم نے ان کے لیے ایسا حرم (مقدس علاقہ) نہیں بنایا جو امن کی جگہ ہو؟ «وَمَنْ دَخَلَهُ کانَ آمِناً» [15]۔ جو بھی اس میں داخل ہو، وہ محفوظ رہے گا۔

خداوند نے شہرِ مکہ کو امن و سکون کی زمین اور محفوظ ٹھکانہ بنایا ہے، جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے برکت سے ہے، جنہوں نے کعبہ کے بانی ہونے کے ناطے خدا سے یہ درخواست کی تھی: «وَ إِذْ قالَ إِبْراهِیمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِناً» [16]۔ جب ابراہیم نے کہا: اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا دے۔

اس طرح خداوند نے مکہ اور حرم کو سب کے لیے، حتیٰ کہ مجرموں اور گنہگاروں کے لیے بھی امن اور سکون کا مقام بنا دیا ہے۔ کسی کو اس جگہ پر تکلیف یا پریشان نہیں کیا جا سکتا، چاہے وہ کوئی جرم کیسے ہی کر چکا ہو یا اس پر کوئی حد طے ہوئی ہو، اور اس مقدس زمین میں تمام مخلوقات، حتیٰ کہ جانوروں اور وحوش کے لیے بھی حفاظت یقینی ہے۔ تاہم، یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ ان مجرموں کی حفاظت صرف اس صورت میں یقینی ہے اگر ان کا جرم خودِ حرم کے اندر نہ ہو۔ جو شخص حرم کی حرمت کی پاسداری نہ کرے، اس کے لیے کوئی حرمت باقی نہیں رہتی اور اسے اسی جگہ سزا دی جا سکتی ہے [17]۔

مکہ کے شہر کے لیے، ہم نے جو نام ذکر کیے ہیں، ان کے علاوہ کتب میں دیگر نام بھی درج ہیں، جو درج ذیل ہیں: ام، ام الارضین، ام راحم، ام رحم، ام رحمان، ام رحمه، ام روح، ام زحم، ام صبح، ام الصفا، ام القرى، ام کوثى، ام المشاعر، امین، امینہ، باسہ، برہ، بساسہ، بساق، بطحا، بکہ، بلد، بلد الامین، بلد اللہ، بلد اللہ تعالیٰ، بلد الامین، بلد حرام، بلدہ، بلدۃ المروزقہ، بیت الدعاء، بیت العروس، بینہ، تاج، تہامہ، جامعہ، حاطمہ، حجاز، حرام، حرم، حرم آمن، حرم اللہ، حرم اللہ تعالیٰ، حرم آمن، حرمہ، خیر البلاد، رأس، رتاج، رحم، ساق، سبوحہ، سلام، سیل، شباشعہ، صلاح، طیبہ، عاقر، عذراء، عرش، عرش اللہ، عروش، عروض، عریش، عزیز، غاشہ، فاران، قادس، قادسیہ، قریہ، قریۃ الحمس، قریۃ النمل، کبیرہ، کریساء، کوثی، ماحی، مبارکہ، متحفہ، مخرج صدق، مدینۃ الرب، مذہب، مرویہ، مشرفہ، مسجد الحرام، معاد، معطشہ، مفخمہ، مقدسہ، مکتان، مکرمہ، مہابہ، مہبط، نادرہ، ناسہ، ناشتہ، ناشر، ناشہ، نامیہ، نجر، نساسہ، نقرة الغراب، وادی، وادی، وادی غیر ذی ذرع، والدہ... [18]۔

مکہ بر اعصارِ گذشتہ

مکہ قدیم الایام سے یمن اور شام کے کاروان‌راہوں میں واقع تھا، لیکن اس کی تاریخی جغرافیہ اور آبادی حضرت ہاجر (علیہا السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے وہاں سکونت پذیر ہونے سے شروع ہوتی ہے۔ اس دور میں جب حضرت ابراہیم علیہ السلام، جو ایک عظیم الشان نبی تھے، اپنے بیوی و فرزند کو الٰہی حکم کے تحت بیابانِ غیرِ ذی ذرع (بے آب و علف) میں آباد کیا، تو الٰہی ارادے سے بچے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے قدموں کے نیچے ایک چشمہ پھوٹ نکلا۔ پانی (زمزم) کے پیدا ہونے کے بعد، جرہم قبیلہ (جو یمن کے قبائل میں سے تھا) جو مکہ کے قریب رہائش پذیر تھا، اس مقام پر مستقل رہائش اختیار کرنے لگا۔ پھر جب کعبہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طاقتور ہاتھوں اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مدد سے مکمل ہوئی، تو مکہ مذہی مراسم اور تجارتی امور کی لحاظ سے اہمیت اور وقار حاصل کرنے لگا۔

اور دوسری طرف، وہ شہر مکہ جسے توحید کا مرکز بنایا گیا تھا، اپنی حیاتی اور عالمی اہمیت کو اسلام کے ظہور کے ساتھ حاصل کرنے لگا۔ اسلام کی پیدائش کے ساتھ ہی مکہ نے وہ مقامِ توحیدِ ابراہیمی دوبارہ حاصل کر لیا تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ فراموش ہو چکا تھا۔

ابتدا میں کفار و مشرکین نے اسلام کے پیامبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پریشان کیا اور ان کی قتل کی کوشش کی، جس کی وجہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دعوتِ نبوت کے تیرہویں سال ربیع الاول کی رات کو الٰہی حکم سے مکہ چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔ یہاں تک کہ دس رمضان کو سال ہجری کی دہم کو، حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ سے دس ہزار مسلمانوں پر مشتمل ایک فوج لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ دس دن بعد مکہ پہنچے اور ذی طویٰ کے علاقہ میں فوج کو چار حصوں میں تقسیم کیا تاکہ ہر طرف سے شہر کی طرف بڑھیں۔ مکہ والوں میں مزاحمت کی طاقت نہیں رہی تھی اور وہ پناہ کی طرف بھاگ نکلے۔ مکہ بغیر کسی خون خرابے کے فتح ہوا اور حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ والوں پر رحمت نازل فرمائی اور انہیں آزاد کر دیا۔ مکہ کفر کے قید سے آزاد ہو گیا اور توحید کا مرکز بن گیا [فرہنگِ اصطلاحاتِ حج، ص ۱۹۰]۔

شہر مکہ کا "حرم" ہونا

قرآن مجید میں مکہ کی تعریف میں یہ الفاظ آئے ہیں: «أَوَ لَمْ نُمَکِّنْ لَهُمْ حَرَماً آمِناً یُجْبَی إِلَیْهِ ثَمَرَاتُ کُلِّ شَیْءٍ» (سورہ قصص، آیت ۵۷)۔ کیا ہم نے ان لوگوں کے لیے ایک محفوظ حرم نہیں بنایا جس کی طرف ہر قسم کے میوہ جات لائے جاتے ہیں؟

علامہ شیرانی اپنی کتاب "نثرِ طوبیٰ" میں اس بارے میں فرماتے ہیں: "حرم سے مراد مقدس زمین ہے جو مکہ کے گرد ہے اور ہر طرف سے اسے گھیرے ہوئے ہے۔ لوگوں نے اس کے ہر طرف سے حدود مقرر کر دی ہیں اور وہاں کے رہائشی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور اور اس سے پہلے سے نسل در نسل حرم کی حدود کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے دیگر مشاعر (جیسے عرفات، مشعر الحرام، منی، جمرات کی جگہیں، مسجدِ نبوی، صفا و مروہ کے درمیان سعی کی جگہ اور حجر اسماعیل وغیرہ) کی تواتر سے معلوم شدہ حدود ہیں۔ حرم کی حد مغرب (سمندر کی طرف) سے مکہ کے قریب ہے، تقریباً ایک فرسخ، لیکن مشرق (منی اور عرفات کی طرف) سے تقریباً تین فرسخ ہے، اور شمال و جنوب میں بھی اس کی واضح حدود ہیں۔ ان فاصلوں کو ذراع اور اشبار (پرانی پیمائش کی اکائیاں) میں طے کیا گیا ہے۔

منی حرم کا حصہ ہے، جبکہ عرفات حرم کے باہر ہے، سوائے اس کے کہ عرفات کے ابتدائی حصے میں ایک مسجد ہے جس کا آدھا حصہ حرم میں اور آدھا باہر ہے۔ شرعاً مکہ کے حرم کے کچھ احکام ہیں، جن میں سے یہ کہ اس جگہ جانوروں کا شکار حرام ہے، درخت کترنا جائز نہیں، اور زمین پر پڑی ہوئی چیز (لقطہ) اٹھانا درست نہیں ہے [فرہنگِ اصطلاحاتِ حج، ص ۱۸۸]۔

مکہ کے مقدس مقامات

مسجد الحرام: یہ ایک انتہائی عظیم مسجد ہے جس کی فضیلت اور شرافت بے مثال ہے۔ اس میں ایک نماز پڑھنا دوسری مساجد میں سو ہزار نمازوں کے برابر ہے، لہذا وقت کو غنیمت جانے چاہیے اور مسجد الحرام کی معنوی فضیلتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔ کعبہ مسجد الحرام کے وسط میں واقع ہے۔

حجرِ اسماعیل: یہ ایک نیم دائرے کی شکل کی عمارت ہے جس کی دیوار تقریباً ایک میٹر تیس سینٹی میٹر اونچی ہے اور یہ کعبہ کے شمالی جانب واقع ہے۔ یہاں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) کا مقبرہ ہے، اور بعض روایات کے مطابق یہاں بعض انبیاء کرام (علیہم السلام) کے مزارات بھی ہیں۔

مقامِ ابراہیم: یہ کعبہ کے قریب، تقریباً تیرہ میٹر کی دوری پر ایک مقام ہے جس کے اوپر ایک چھوٹا گنبد ہے جسے شیشے سے گھیرا ہوا ہے، اور اس کے اندر ایک پتھر رکھا ہے، جس پر کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کھڑے ہوئے تھے اور لوگوں کو اللہ کے حج کی دعوت دی تھی، اور ان کے مبارک قدموں کے نشانات اس پر موجود ہیں۔ حاجی اس مقام کے پیچھے طواف کی نماز ادا کرتے ہیں۔

زمزم: یہ ایک کنواں ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے قدموں کے نیچے جاری فرمایا۔ تاریخ کے مختلف ادوار اور واقعات میں اس کی مرمت اور لایروبی (گندگی صاف کرنا) بار ہوئی ہے۔ فی الحال اس کا پانی بیت اللہ الحرام کے حاجیوں کے استعمال کے لیے نہیں دیا جاتا، اور اس پانی کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خاص توجہ دی تھی، اور تاریخِ اسلام میں مومنین نے اس سے تبرک حاصل کیا ہے۔ زمزم کا پانی مبارک ہے اور ہر بیماری کا شفا بخش ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں زمزم کا پانی طلب فرماتے تھے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ جب آپ زمزم کا پانی پیئیں، تو یہ کہیں: «اَللّهُمَّ اجْعَلْهُ عِلْماً نافِعاً وَ رِزْقاً واسِعاً وَ شِفاءاً مِنْ کُلِّ داء وَ سُقْم» (اے اللہ! اسے نافع علم، وسیع رزق اور ہر بیماری سے شفا بنات۔) طواف کی نماز کے بعد زمزم پینا مستحب ہے۔

صفا و مروہ: صفا کعبہ کے جنوب مشرقی جانب اور مروہ شمال مشرقی جانب واقع ہیں۔ صفا و مروہ کا منظر بہت خوبصورت اور شاندار ہے، اور مردوں کے لیے مستحب ہے کہ سعی کے تقریباً سات میٹر کے فاصلے پر "ہَرْوَلہ" (تیز چال) سے چلیں، جس کی حدود رنگ اور سبز چراغ سے واضح کی گئی ہیں۔

شعب ابی طالب: شعب ابی طالب مسجد الحرام کے شمال مشرقی جانب اور صفا و مروہ کے قریب واقع ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت فاطمہ زہرا (علیہا السلام) کی پیدائش ہوئی۔ بنو ہاشم اور عبد المطلب کا خاندان اسی مقام پر رہتا تھا، اور بعثت کے بعد مشرکین نے ان پر تقریباً تین سال تک معاشی محاصرہ کر رکھا تھا۔ مورخین کے نقل کے مطابق قریش کے کچھ سردار "دار الندوہ" میں جمع ہوئے اور ایک معاہدہ تیار کیا جس میں بنو عبد المطلب کے خلاف سختی، معاشی پابندی اور اذیت و آزار کا فیصلہ کیا گیا۔ آخرکار تین سال بعد مشرکین کے پانچ افراد کو توبہ ہوئی اور انہوں نے معاہدہ پھاڑ دیا۔

نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقامِ پیدائش: صفا و مروہ کے قریب ایک میدان ہے جس میں "مکتبہِ مکہِ مکرمہ" نامی لائبریری واقع ہے۔ اس نورانی مکان میں عالمِ تاب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جہان والوں پر روشنی ڈالی، اور اسی جگہ پر انہوں نے کچھ عرصہ اپنی والدہ آمنہ کے ساتھ گزارا۔

غارِ حرا: جبلِ نور مکہ کے اندر ایک پہاڑ کا نام ہے، اور اس میں "غارِ حرا" نامی غار ہے جہاں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعثت سے پہلے تفکر اور عبادت کے لیے جاتے تھے، اور ہر موقع پر اس کی طرف جلدی کرتے تھے، یہاں تک کہ ۲۷ رجب کو جبرئیل امین (علیہ السلام) ان پر نازل ہوئے اور سورہ علق کی آیات «اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ» لا کر انہیں نبوت کے لیے مبعوث فرمایا۔

کوهِ ثور: یہ ایک پہاڑ ہے جو مکہ کے نیچے، تقریباً مسجد الحرام سے دو فرسخ کی دوری پر واقع ہے۔ اس پہاڑ میں ایک غار ہے جہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کی طرف ہجرت کے وقت چھپ گئے تھے، اور اس لیے اس پہاڑ کو "جبل الثور" کہا جاتا ہے۔

عرفات: سرزمین عرفات ایک وسیع اور ہموار میدان ہے جو مکہ کے شمال میں تقریباً ۲۱ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے، اور یہ حرم کی حد سے باہر ہے۔ عرفات وہ سرزمین ہے جہاں حضرت آدم و حوا (علیہما السلام) طویل جدائی کے بعد دوبارہ ملے اور ایک دوسرے سے آشنا اور عارف ہوئے۔ عرفات وہ سرزمین ہے جہاں آدم (علیہ السلام) نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا۔ عرفات وہ سرزمین ہے جہاں دعا قبول ہوتی ہے۔ عرفات کے پہاڑ کو "جبل الرحمہ" کہا جاتا ہے، اور امام حسین (علیہ السلام) نے دعائے عرفہ اسی پہاڑ کے کنارے پڑھی۔ عرفات میں وقوف حج کے ارکان میں سے ہے۔

مزدلفہ (مشعر الحرام): عرفات کی سمت میں مازمین کے آخر سے لے کر منی کی سمت میں وادی محسر تک کے علاقے کو مزدلفہ یا مشعر الحرام کہا جاتا ہے۔

منی: منی، وادی محسر اور جمرة عقبہ کے درمیان ایک سرزمین ہے جو حرم کا حصہ ہے، اور مکہ اور مشعر الحرام کے درمیان مشرقی جانب تھوڑی دوری پر واقع ہے۔ جمرة عقبہ (جو مکہ کی آخری حد ہے) سے لے کر مزدلفہ کی طرف وادی محسر تک منی ہے، اور اس کی لمبائی تقریباً ۳۶۰۰ میٹر ہے۔ اس جگہ کو منی اس لیے بھی کہا جاتا ہے کہ جبرئیل امین نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس حصار میں کہا تھا کہ خدا سے تمنا اور درخواست کرو۔

مسجدِ خیف: یہ بہت عظیم الشان مساجد میں سے ایک ہے جو منی میں واقع ہے [19]۔

قبرستان معلا: قبرستان معلا (اوپر والا محلہ) یا حجون، جو ایرانیوں میں قبرستانِ ابوطالب کے نام سے مشہور ہے، ایک قدیم قبرستان ہے جو اپنے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اجداد، اصحاب، علما اور تابعین کے بہت سے نمایاں چہروں کو سموئے ہوئے ہے۔ یہ قبرستانِ بقیع کے بعد مسلمانوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے اور بیت اللہ کے زائرین کے لیے عام زیارت گاہوں میں سے ہے۔ حالیہ صدیوں میں اس مقام کو "مقبرہِ بنو ہاشم" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے [20]۔

مکہ کی پستی و بلندی

مکہ کے گرد پہاڑ: مکہ ایک وادی میں واقع ہے اور اسے چند پہاڑوں نے گھیرا ہوا ہے، اس قدر کہ اس سے یمن، بحرِ احمر (سرخ سمندر) اور شام کی طرف صرف چند راستے نکلنے کے لیے ہیں۔ مکہ کے اہم ترین پہاڑ درج ذیل ہیں:

  1. ابوقبیس: اس کی بلندی ۴۲۰ میٹر ہے اور یہ مسجد الحرام کے مشرقی جانب واقع ہے۔ فی الحال اس کے اوپر "قصرِ ملک" تعمیر کیا گیا ہے، اور اس کا ایک حصہ مسجد الحرام کے سامنے کھلے میدان میں واقع ہے، اور درحقیقت پہاڑ کا ایک حصہ اتار لیا گیا ہے۔ کعبہ کی پڑوسی کی وجہ سے اس پہاڑ کو مقدس پہاڑوں میں شمار کیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کے دوران حجر الاسود کی حفاظت اس پہاڑ کی ذمے تھی۔ صفا کا پہاڑ، جو سعی کا آغاز ہے، اسی پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے۔
  2. قُعَیْقعان یا جبلِ ہندی: مکہ کے مغرب میں ۴۳۰ میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ ان دو پہاڑوں کے درمیان کا فاصلہ مکہ کی قدیم حد ہے۔ قدیم دور سے ہی ان پہاڑوں کے گرد اور چوٹی پر مسکونی عمارتیں بنائی جاتی رہی ہیں۔
  3. جبلِ نور یا حرا: مکہ کے شمال مشرق میں ۶۳۴ میٹر کی بلندی پر ہے، اور یہیں پہلی الٰہی آیات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئیں۔
  4. ثور: ۷۵۹ میٹر کی بلندی پر جنوب میں واقع ہے؛ وہ جگہ جہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کے وقت چھپے تھے۔
  5. خَنْدمہ: یہ ابوقبیس کے پہاڑ کے پیچھے واقع ہے۔
  6. عمر: یہ مکہ کے مغرب میں واقع ہے۔
  7. ثبیر: یہ مکہ کے مشرق میں واقع ہے۔

وادیِ ابراہیم: یہ مکہ کے پہاڑوں کے درمیان واقع ہے اور ایک نسبتاً طویل وادی ہے جس کے وسط میں مسجد الحرام واقع ہے۔ درحقیقت، یہ راستہ اور نالی ہے جو مکہ یا معلا کے اوپری حصے کی بارش کی پانی کو حجون کی جانب سے نیچے مَسْفلہ (مسجد الحرام کے اس طرف) سے اجیاد کی طرف لے جاتی ہے۔ [21]۔

مکہ کے گرد ویرانوں (دریوں) کے نام:

مکہ کی وادیاں درج ذیل ہیں: "شعبِ حجون"، "شعبِ دار اللہ"، "شعبِ بطاطین"، "شعبِ فلْقِ ابنِ زبیر"، "شعبِ ابنِ عامر"، "شعبِ الجوف"، "شعبِ خوز"، "شعبِ اذخر"، "شعبِ خط"، "شعبِ صفا"، "شعبِ رزازین"، "شعبِ جبیریوں"، "شعبِ الجوف"، "شعبِ جزارین"، "شعبِ زقاق النار"، "شعبِ جبلِ تفاحہ"، "شعبِ حجاج"، "شعبِ عطارین"، "شعبِ جیادِ کبیر"، "شعبِ جیادِ صغیر"، "شعبِ نفر"، "شعبِ ثور و خِیامِ عنقود"، "شعبِ یرنی"، "شعبِ علی"، "شعبِ ثنیۃ المدینین"، "شعبِ حمام" [22]۔

متعلقہ مضامین

مآخذ

  • نثر طوبیٰ، ابوالحسن شیرانی، تہران: ادارہ اشاعتِ اسلامیہ
  • فرہنگِ اصطلاحاتِ حج، محمد یوسف حریری؛ قم: ادارہ اشاعتِ ہجرت، پہلا ایڈیشن، ۱۳۸۲۔
  • آثارِ اسلامیٰ مکہ و مدینہ، رسول جعفریان؛ قم: مشعر۔
  • حج اور عمرہ در قرآن و حدیث، محمد محمدی ری شہری / مترجم: جواد محدثی؛ قم: دار الحدیث، پہلا ایڈیشن، ۱۳۷۸۔
  • تاریخِ مکہ از آغاز تا پایانِ دولتِ شرفاءِ مکہ، احمد سباعی، رسول جعفریان (مترجم)، قم: مشعر، ۱۳۸۵۔
  • قاموس القرآن، سید علی اکبر قرشی؛ تہران: اسلامیہ، پانچواں ایڈیشن، ۱۳۶۷ ش۔
  • کوثر، جعفری یعقوب۔
  • آثار البلاد و اخبار العباد، زکریا بن محمد بن محمود القزوینی؛ تہران: امیر کبیر، پہلا ایڈیشن، ۱۳۷۳ ش۔
  • مکہ و مدینہ تصویراً از توسعہ و نوسازی، عبید اللہ محمد امین کردی؛ ترجمہ: حسین صابری۔
  • البلدان / ترجمہ: الیعقوبی، احمد بن ابی یعقوب؛ تہران: ادارہ ترجمہ و نشر کتاب، ۲۵۳۶ ش۔
  • ادعیہ و آدابِ حرمینِ خاصہِ مکہ مکرمہ، حوزہ نمایندگی ولی فقیہ در امور حج و زیارت، مرکز تحقیقات حج۔

حوالہ جات

  1. فرہنگ اصطلاحات حج، ص ۱۸۷.
  2. سفرنامۂ ناصر خسرو، ص ۲۸۸.
  3. تعیین سمتِ قبلہ و تشخیصِ ظہرِ حقیقی مدینہ منورہ بہ اعجازِ رسول اللہ (ص)، حسن حسن زادہ آملی، نشر قیام، ۱۳۷۹، ص۷.
  4. فرہنگ اصطلاحات حج، ص ۱۸۸.
  5. آثار البلاد و اخبار العباد، ص ۱۶۳.
  6. مکہ و مدینہ؛ تصویری جائزہ برائے ترقی و جدید تعمیر، ص ۱۴۸.
  7. حج و عمرہ در قرآن و حدیث.
  8. تاریخ مکہ از آغاز تا پایان دولت شرفای مکہ، ص ۴۶.
  9. [آل عمران، آیت 96]
  10. [قاموس القرآن، جلد 1، صفحہ 220]
  11. [سورہ انعام، آیت 92]
  12. [سورہ شوریٰ، آیت 7]
  13. [کوثر، جلد 3، صفحہ 493]
  14. [سورہ التین، آیات 1-2]
  15. [سورہ قصص، آیت 57]
  16. [سورہ آل عمران، آیت 91]
  17. [سورہ ابراہیم، آیت 38]
  18. [کوثر، جلد 2، صفحہ 197]
  19. [نثرِ طوبیٰ، ج ۱، ص ۱۶۸]
  20. [ادعیہ و آدابِ حرمینِ خاصہِ مکہ مکرمہ، ص ۱۹۵]
  21. [آثارِ اسلامیٰ مکہ و مدینہ، ص ۳۷]
  22. [البلدان، ص ۹۴]