مندرجات کا رخ کریں

"نظامِ جمہوری اسلامی ایران" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
«'''نظامِ جمہوری اسلامی ایران'''، ایران میں بہمن 1357 شمسی سے قائم سیاسی نظام ہے۔ یہ نظام دو بنیادی ارکان پر مشتمل ہے: اسلامیت ، جو اس کی مشروعیت کی بنیاد ہے، اور جمہوریت، جو حکومت کی مقبولیت کی اساس ہے۔ نظامِ ولایتِ فقیہ، انقلاب اسلامی|اسلامی ا...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 11: سطر 11:
آئین میں موجود بعض ابہامات اور خامیوں اور بعض تبدیلیوں کی ضرورت کے باعث، 2 اردیبهشت 1368 شمسی کو امام خمینی نے مجلس کے نمائندوں اور سپریم جوڈیشل کونسل کی درخواست پر آئین میں نظرِ ثانی کے لیے مناسب طریقۂ کار پیش کرنے کی غرض سے ایک کونسل کو آئین پر نظرِ ثانی کی ذمہ داری سونپی۔
آئین میں موجود بعض ابہامات اور خامیوں اور بعض تبدیلیوں کی ضرورت کے باعث، 2 اردیبهشت 1368 شمسی کو امام خمینی نے مجلس کے نمائندوں اور سپریم جوڈیشل کونسل کی درخواست پر آئین میں نظرِ ثانی کے لیے مناسب طریقۂ کار پیش کرنے کی غرض سے ایک کونسل کو آئین پر نظرِ ثانی کی ذمہ داری سونپی۔


مذکورہ کونسل نے 7 اردیبهشت سے اپنا کام شروع کیا۔ خرداد 1368 شمسی میں امام خمینی کے انتقال کے بعد بھی اس نے اپنی ذمہ داری جاری رکھی۔ نظرِ ثانی اور اصلاح کے بعد آئین کی نئی شکل مرداد 1368 شمسی میں ایک عوامی ریفرنڈم کے ذریعے عوام کی منظوری سے منظور ہوئی <ref>"متن کامل پیشنهادی پیش‌نویس قانون اساسی"، ص‌۵۶</ref>۔،<ref>هاشمی‌، ۱۳۷۴ش‌، ج‌۱، ص ‌۲۷۴۱</ref>۔
مذکورہ کونسل نے 7 اردیبهشت سے اپنا کام شروع کیا۔ خرداد 1368 شمسی میں امام خمینی کے انتقال کے بعد بھی اس نے اپنی ذمہ داری جاری رکھی۔ نظرِ ثانی اور اصلاح کے بعد آئین کی نئی شکل مرداد 1368 شمسی میں ایک عوامی ریفرنڈم کے ذریعے عوام کی منظوری سے منظور ہوئی <ref>"متن کامل پیشنهادی پیش‌نویس قانون اساسی"، ص‌۵۶</ref>۔ <ref>هاشمی‌، ۱۳۷۴ش‌، ج‌۱، ص ‌۲۷۴۱</ref>۔
== نظامِ جمہوری اسلامی کی بنیادیں ==
== نظامِ جمہوری اسلامی کی بنیادیں ==


جمہوری نظام کے اصول چار بنیادی اجزا پر مشتمل ہیں:
جمہوری نظام کے اصول چار بنیادی اجزا پر مشتمل ہیں:
1. عوام پر حکمران کا انتخاب براہِ راست یا بالواسطہ طریقے سے کیا جائے، جیسے مجلس کے ذریعے۔
# عوام پر حکمران کا انتخاب براہِ راست یا بالواسطہ طریقے سے کیا جائے، جیسے مجلس کے ذریعے۔
2. حکمران کی مدتِ اقتدار محدود ہو، تاکہ اس کا دوبارہ انتخاب ایک یا دو مرتبہ سے زیادہ ممکن نہ ہو۔
# حکمران کی مدتِ اقتدار محدود ہو، تاکہ اس کا دوبارہ انتخاب ایک یا دو مرتبہ سے زیادہ ممکن نہ ہو۔
3. حکمران قانون کے سامنے ملک کے دوسرے افراد کے برابر ہو۔ وہ بھی قانون کا پابند ہو اور اپنے تمام اعمال کے لیے جواب دہ ہو۔
# حکمران قانون کے سامنے ملک کے دوسرے افراد کے برابر ہو۔ وہ بھی قانون کا پابند ہو اور اپنے تمام اعمال کے لیے جواب دہ ہو۔
4. حکمران پر قانونی اور سیاسی اعتبار سے دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
# حکمران پر قانونی اور سیاسی اعتبار سے دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔


مذکورہ اجزا کے عملی نفاذ کے نتیجے میں درج ذیل امور سامنے آتے ہیں:
مذکورہ اجزا کے عملی نفاذ کے نتیجے میں درج ذیل امور سامنے آتے ہیں:
1. ملک کی حکمرانی اور انتظام، خواہ رہبر کے انتخاب میں بالواسطہ ووٹ کے ذریعے ہو، یا صدرِ جمہوریہ کے انتخاب میں براہِ راست ووٹ کے ذریعے، اور نیز حکومت کو قانونی حیثیت دینے کے لیے مجلسِ شورای اسلامی کے اعتماد کے ووٹ کے ذریعے، سب عوامی رائے کی بنیاد پر انجام پاتے ہیں۔
# ملک کی حکمرانی اور انتظام، خواہ رہبر کے انتخاب میں بالواسطہ ووٹ کے ذریعے ہو، یا صدرِ جمہوریہ کے انتخاب میں براہِ راست ووٹ کے ذریعے، اور نیز حکومت کو قانونی حیثیت دینے کے لیے مجلسِ شورای اسلامی کے اعتماد کے ووٹ کے ذریعے، سب عوامی رائے کی بنیاد پر انجام پاتے ہیں۔
2. صدرِ جمہوریہ کی مدتِ حکومت چار سال ہوتی ہے اور اسے ایک مرتبہ دوبارہ منتخب ہونے کا حق حاصل ہوتا ہے۔
# صدرِ جمہوریہ کی مدتِ حکومت چار سال ہوتی ہے اور اسے ایک مرتبہ دوبارہ منتخب ہونے کا حق حاصل ہوتا ہے۔
3. رہبر، صدرِ جمہوریہ اور دیگر حکومتی عہدیدار قانون کے سامنے ملک کے دیگر تمام افراد کے برابر ہیں۔
# رہبر، صدرِ جمہوریہ اور دیگر حکومتی عہدیدار قانون کے سامنے ملک کے دیگر تمام افراد کے برابر ہیں۔
4. مقامِ رہبری، صدرِ جمہوریہ اور وزراء کے لیے قانونی ذمہ داری موجود ہے، جو مقدمے اور سزا تک پہنچ سکتی ہے، اور سیاسی ذمہ داری بھی موجود ہے، جو عہدے سے برطرفی تک جا سکتی ہے۔
# مقامِ رہبری، صدرِ جمہوریہ اور وزراء کے لیے قانونی ذمہ داری موجود ہے، جو مقدمے اور سزا تک پہنچ سکتی ہے، اور سیاسی ذمہ داری بھی موجود ہے، جو عہدے سے برطرفی تک جا سکتی ہے۔

نسخہ بمطابق 15:30، 26 اگست 2026ء

نظامِ جمہوری اسلامی ایران، ایران میں بہمن 1357 شمسی سے قائم سیاسی نظام ہے۔ یہ نظام دو بنیادی ارکان پر مشتمل ہے: اسلامیت ، جو اس کی مشروعیت کی بنیاد ہے، اور جمہوریت، جو حکومت کی مقبولیت کی اساس ہے۔ نظامِ ولایتِ فقیہ، اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد 22 بہمن 1357 شمسی کو امام خمینی کی قیادت میں ایران میں قائم ہوا۔ یہ سیاسی نظام 1357 کے انقلاب کے بعد سابقہ شاہی اور مطلق العنان سلطنتی نظام کا جانشین بنا۔ 12 فروردین 1358 شمسی کو ہونے والے ریفرنڈم میں ووٹ دینے کے اہل افراد میں سے 98.2 فیصد نے شرکت کی، جن میں 97 فیصد سے زیادہ افراد نے اسلامی جمہوریہ کے حق میں ووٹ دیا۔ اس ریفرنڈم میں مجموعی طور پر 20,834,054 ووٹ موافقت میں اور 367,604 ووٹ مخالفت میں ڈالے گئے۔ ریفرنڈم کے اختتام پر اسلامی انقلاب کے عظیم رہنما امام خمینی نے 12 فروردین 1358 کی رات 24 بجے اپنے ایک پیغام میں اس دن کو زمین پر حکومتِ الٰہی کے قیام کا دن قرار دیا اور باضابطہ طور پر اسلامی جمہوریہ کے قیام کا اعلان کیا [1]۔

آئین

اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا مجوزہ متن عارضی حکومت کی جانب سے خرداد 1358 شمسی میں ماہرین اور دلچسپی رکھنے والے افراد کے اختیار میں دیا گیا۔ اسی سال آئین کے حتمی جائزے کے لیے عام انتخابات کے ذریعے مجلس خبرگانِ آئین تشکیل دی گئی۔ اس کے بعد آئین کی حتمی صورت اسی سال آذر کے مہینے میں ایک عوامی ریفرنڈم کے ذریعے ایرانی عوام کی منظوری سے منظور ہوئی۔

آئین پر نظرِ ثانی

آئین میں موجود بعض ابہامات اور خامیوں اور بعض تبدیلیوں کی ضرورت کے باعث، 2 اردیبهشت 1368 شمسی کو امام خمینی نے مجلس کے نمائندوں اور سپریم جوڈیشل کونسل کی درخواست پر آئین میں نظرِ ثانی کے لیے مناسب طریقۂ کار پیش کرنے کی غرض سے ایک کونسل کو آئین پر نظرِ ثانی کی ذمہ داری سونپی۔

مذکورہ کونسل نے 7 اردیبهشت سے اپنا کام شروع کیا۔ خرداد 1368 شمسی میں امام خمینی کے انتقال کے بعد بھی اس نے اپنی ذمہ داری جاری رکھی۔ نظرِ ثانی اور اصلاح کے بعد آئین کی نئی شکل مرداد 1368 شمسی میں ایک عوامی ریفرنڈم کے ذریعے عوام کی منظوری سے منظور ہوئی [2]۔ [3]۔

نظامِ جمہوری اسلامی کی بنیادیں

جمہوری نظام کے اصول چار بنیادی اجزا پر مشتمل ہیں:

  1. عوام پر حکمران کا انتخاب براہِ راست یا بالواسطہ طریقے سے کیا جائے، جیسے مجلس کے ذریعے۔
  2. حکمران کی مدتِ اقتدار محدود ہو، تاکہ اس کا دوبارہ انتخاب ایک یا دو مرتبہ سے زیادہ ممکن نہ ہو۔
  3. حکمران قانون کے سامنے ملک کے دوسرے افراد کے برابر ہو۔ وہ بھی قانون کا پابند ہو اور اپنے تمام اعمال کے لیے جواب دہ ہو۔
  4. حکمران پر قانونی اور سیاسی اعتبار سے دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

مذکورہ اجزا کے عملی نفاذ کے نتیجے میں درج ذیل امور سامنے آتے ہیں:

  1. ملک کی حکمرانی اور انتظام، خواہ رہبر کے انتخاب میں بالواسطہ ووٹ کے ذریعے ہو، یا صدرِ جمہوریہ کے انتخاب میں براہِ راست ووٹ کے ذریعے، اور نیز حکومت کو قانونی حیثیت دینے کے لیے مجلسِ شورای اسلامی کے اعتماد کے ووٹ کے ذریعے، سب عوامی رائے کی بنیاد پر انجام پاتے ہیں۔
  2. صدرِ جمہوریہ کی مدتِ حکومت چار سال ہوتی ہے اور اسے ایک مرتبہ دوبارہ منتخب ہونے کا حق حاصل ہوتا ہے۔
  3. رہبر، صدرِ جمہوریہ اور دیگر حکومتی عہدیدار قانون کے سامنے ملک کے دیگر تمام افراد کے برابر ہیں۔
  4. مقامِ رہبری، صدرِ جمہوریہ اور وزراء کے لیے قانونی ذمہ داری موجود ہے، جو مقدمے اور سزا تک پہنچ سکتی ہے، اور سیاسی ذمہ داری بھی موجود ہے، جو عہدے سے برطرفی تک جا سکتی ہے۔
  1. ↑ امام خمینی‌، ج‌۳، ص ‌۴۸۶؛ روزها و رویدادها، ج‌۱، ص ‌۸۱
  2. ↑ "متن کامل پیشنهادی پیش‌نویس قانون اساسی"، ص‌۵۶
  3. ↑ هاشمی‌، ۱۳۷۴ش‌، ج‌۱، ص ‌۲۷۴۱