مندرجات کا رخ کریں

"رشید احمد گنگوہی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
«'''رشید احمد گنگوہی'''، (پیدائش: 10 مئی 1829ء— وفات: 11 اگست 1905ء) ہندوستانی سنی عالم دین، مبلغ، محقق، مفسر ومحدث، فقیہ، مصنف اور شیخ طریقت تھے۔ آپ جنگ آزادی کے مجاہد، امداد اللہ مہاجر مکی کے خلیفہ اور دارالعلوم دیوبن...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 22: سطر 22:


پھر وہاں سے مظفرنگر منتقل کر دیا گیا، چھ مہینے جیل میں گذرے، وہاں بہت سے قیدی آپ کے معتقد ہو گئے اور جیل خانے میں جماعت کے ساتھ نماز اداکرنے لگے۔
پھر وہاں سے مظفرنگر منتقل کر دیا گیا، چھ مہینے جیل میں گذرے، وہاں بہت سے قیدی آپ کے معتقد ہو گئے اور جیل خانے میں جماعت کے ساتھ نماز اداکرنے لگے۔
== جنگ آزادی میں مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا کردار ==
رشید احمد گنگوہی کی علمی و ملی خدمات سے نئی نسل کو اجاگر کرنے کے لیے (جمعیت علمائے اسلام کے زیر نگرانی کام کرنے والی) شیخ الہند اکیڈمی کی جانب سے لاہور میں ’’فقیہ ملتؒ سیمینار‘‘ کا انعقاد ایک اہم اور مستحسن کاوش ہے۔   
مولانا گنگوہی کا شمار ان بزرگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہندوستان میں انگریز سامراج کا راستہ روکنے کی علمی و عملی دونوں محاذوں پر جدوجہد کی۔ ویسے تو ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف [[جہاد]] کا فتویٰ نصف صدی قبل شاہ عبدالعزیز دے چکے تھے،
جس پرولی اللّٰہی فکر سے وابستہ مجاہدین عمل کرتے آئے تھے، تاہم دوسری جانب انگریز سرکار کی جانب سے اس جہاد کو فساد قرار دینے اور مجاہدین کوبدنام کرنے کے روایتی حربے بھی استعمال کیے جارہے تھے،
چنانچہ جہادِ آزادی کے آغاز پر ہی ایک اختلاف کا ماحول پیدا کیا گیا۔ شاہی دربار سے وابستہ بعض علماء کو سلطنت مغلیہ کی موجودگی میں پرائیویٹ جہاد کے جواز پر اشکال تھا، جبکہ کچھ علماء کا خیال تھا کہ چونکہ مسلمانوں کے پاس انگریزوں کی مزاحمت کی قوت ہی نہیں ہے، اس لیے یہ جہاد جائز نہیں ہے۔
انگریز فوج ان دونوں دلیلوں سے فائدہ اٹھارہی تھی۔ تاہم ولی اللّٰہی فکر کے اکثرعلماء نے اس موقع پر اس موقف کو رد کردیا اور مئی۱۸۵۷ء میں جامع مسجد دہلی میں ہونے والے ایک بڑے اجتماع میں انگریز فوج کے خلاف جہاد کو فرض عین قرار دے دیا۔   
دیوبند وسہارنپور ومظفرنگر کے تمام اکابر حضرت شاہ عبدالعزیز اور ان کے تلامذہ کے شاگرد اورخوشہ چیں رہے ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ یہ حضرات حضرت شاہ صاحبؒ اور ان کے خاندان کے مسلک اور حکم کے خلاف چلیں۔
جب انقلاب ۵۷ء کی تحریک اطراف وجوانب ِ ہند خصوصاً اطراف دہلی میں چلنی شروع ہوئی توان حضرات کے جذبۂ حریت میں نئی حرکت پیدا ہوئی۔ ان بزرگوں نے محسوس کیا کہ اس انقلاب میں حصہ لینا فرض اور لازم ہے۔
اس تمام جماعت میں حضرت حافظ ضامن صاحب  زیادہ پیش پیش تھے۔ حافظ صاحبؒ قطب العالم حضرت میاںجی نور محمد صاحب جھنجھانوی  کے اولین خلفاء میں سے تھے۔ اسی قصبہ تھانہ بھون میں میاںجی صاحب کے دوسرے خلیفہ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب  جب کہ تیسرے خلیفہ حضرت مولاناشیخ محمد صاحب  رہتے تھے،
چوںکہ تینوں حضرات پیربھائی اور ایک ہی مقدس ہستی میاںجی صاحب کے دریوزہ گرتھے، اس لیے آپس میں میل جول، اتحادواتفاق بڑے پیمانے پر رہتا تھا۔ مولانا شیخ محمدصاحب  علوم عربیہ کے باقاعدہ فاضل تھے۔
علمائے دہلی سے تمام نصاب علم ظاہر پڑھ چکے تھے۔ مولانا کی رائے یہ تھی کہ انگریز وں کے خلاف جہاد کرنا ہم مسلمانوں پر فرض تودرکنار موجودہ احوال میں جائزہی نہیں۔ اس اختلاف اور فتویٰ کی بنا پر حضرت مولانا رشیداحمد گنگوہی  اور حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی  کو ان کے علاقوں سے دونوں حضرات نے بلوایا۔
حضرت نانوتوی نے نہایت ادب سے مولانا شیخ محمدصاحب  سے پوچھا کہ حضرت! کیاوجہ ہے کہ آپ ان دشمنانِ دین ووطن کے خلاف جہاد کوفرض بلکہ جائز بھی نہیں فرماتے؟
توانہوں نے جواب دیاکہ ہمارے پاس اسلحہ وآلات جہادنہیںہیں، ہم بالکل بے سروسامان ہیں۔ مولانا نانوتوی نے عرض کیا کہ کیا اتناسامان بھی نہیں ہے جتنا کہ غزوۂ بدرمیںتھا؟ اس پر مولاناشیخ محمدصاحب نے سکوت فرمایا۔
اس پر حافظ ضامن صاحب  نے فرمایا کہ مولانا! بس سمجھ میں آگیا اور پھر جہاد کی تیاری شروع ہوگئی۔ ایک جماعت تشکیل دی گئی جس کو باقاعدہ ایک نظام حکومت کی صورت میں چلایا جانا تھا۔
اس کا احوال شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ’’ نقش حیات‘‘ میں یوں بیان فرماتے ہیں: "پھر جہاد کی تیاری شروع ہوگئی اوراعلان کردیاگیا۔ حضرت حاجی امداداللہ صاحبؒ کوامام مقررکیاگیااورحضرت مولانامحمدقاسم نانوتویؒ کو سپہ سالارِ افواج قراردیاگیا اور حضرت مولانارشیداحمد صاحب گنگوہیؒ کوقاضی بنایاگیا اور حضرت مولانامحمدمنیر صاحب نانوتویؒ اورحضرت حافظ ضامن صاحب تھانویؒ میمنہ اورمیسرہ (داہنے اوربائیں بازو) کے افسر مقررکیے گئے۔
چونکہ اطراف وجوانب میں مذکورہ بالاحضرات کے تقویٰ، علم کابہت شہرہ تھا۔ ان حضرات کے اخلاص وللہیت سے لوگ بہت زیادہ متأثرتھے، ہمیشہ ان کی دین داری اورخداترسی دیکھتے رہے تھے، اس لیے ان پربہت اعتماد کرتے تھے۔
علاوہ مریدین اور تلامذہ کے عام مسلمان بھی بے حدمعتقد تھے، اس لیے بہت تھوڑی مدت میں جوق درجوق لوگوں کااجتماع ہونے لگا۔ اس وقت تک ہتھیاروں پرپابندی نہیں تھی، عموماً لوگوں کے پاس ہتھیار پرانی قسم کے تھے۔بندوقیں توڑے دارتھیں، کارتوسی رائفلیں نہ تھیں، یہ صرف انگریزی فوجوں کے پاس تھیں۔
مجاہدین ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوگئے اورتھانہ بھون اوراطراف میں حکومت قائم کرلی گئی اوارنگریزوں کے ماتحت حکام نکال دیے گئے۔خبرآئی کہ انگریز فوج کا توپ خانہ سہارن پور سے شاملی بھیجاگیاہے، ایک پلٹن آرہی ہے، رات کویہاں سے گزرے گی۔
اس خبر سے لوگوں میں تشویش ہوئی، کیونکہ جوہتھیار ان مجاہدین کے پاس تھے وہ تلوار، توڑے دار بندوقیں اوربرچھے وغیرہ تھے، مگرتوپ کسی کے پاس نہ تھی۔ توپ خانہ کامقابلہ کس طرح کیاجائے گا؟ حضرت گنگوہی vنے فرمایا: فکرمت کرو۔
سڑک ایک باغ کے کنارے گزرتی تھی، حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی کوتیس یاچالیس مجاہدین پرحضرت حاجی امدادللہ صاحب vنے افسر مقررکردیاتھا۔ آپ اپنے ماتحتوں کولے کر باغ میں چھپ گئے اورسب کوحکم دیا کہ پہلے سے تیار رہو۔
جب میں حکم کروں سب ایک دم فائرکرنا۔ چنانچہ جب پلٹن مع توپ خانہ باغ کے سامنے پہنچی توسب نے یک دم فائر کردیا،
پلٹن گھبراگئی کہ خدا جانے کس قدر آدمی یہاں چھپے ہوئے ہیں، توپ خانہ چھوڑکر سب بھاگ گئے۔ حضرت گنگوہی  نے توپ خانہ کھینچ کر حضرت حاجی صاحب  کی مسجدکے سامنے لاکر ڈال دیا۔
اس سے لوگوں میں ان حضرات کی فراست، ذکاوت، فنون حربیہ کی مہارت، معاملہ فہمی اورہرقسم کی قابلیت کاسکہ بیٹھ گیا۔"شاملی اس زمانہ میں مرکزی مقام تھا، ضلع سہارن پورسے متعلق تھا، وہاں تحصیل بھی تھی، کچھ فوجی طاقت وہاں بھی رہتی تھی، قرار پایا کہ اس پرحملہ کیاجائے، چنانچہ چڑھائی ہوئی اورقبضہ کرلیاگیا۔
جوطاقت پولیس اورفوج کی وہاںتھی وہ مغلوب ہوگئی۔ حافظ ضامن صاحب vجو مجاہدین کے ایک بڑے جری کمانڈر تھے، اسی ہنگامہ میں شہیدہوگئے۔ حافظ ضامن صاحب  کاشہیدہوناتھا کہ معاملہ بالکل ٹھنڈا پڑگیا۔
== احوال جنگ ==
ان کی شہادت سے پہلے روزانہ خبرآتی تھی کہ آج فلاں مقام انگریزوں سے چھین لیاگیا، آج فلاں مقام پر ہندوستانیوں کاقبضہ ہوا، مگرحافظ صاحب  کی شہادت کے بعد پہلے پہل خبرآئی کہ دہلی پرانگریزوں کاقبضہ ہوگیا اوریہی حال ہر جگہ کی خبروں کاتھا۔
اس سے پہلے گورے فوجی چھپتے پھرتے تھے، ایک ایک سپاہی گوروں کی جماعت کوبھگائے پھرتاتھا، مگربعدمیں معاملہ برعکس ہوگیا۔ پہلے کسی کھیت میں گورا چھپا ہواتھا توکاشتکار عورت نے اْسے کھرپے سے قتل کرڈالا، مگربعد میں معاملات اْلٹ ہوگئے۔
حافظ صاحب vکی شہادت اوردہلی کے سقوط کی خبرسے لوگوں کی ہمتیں بالکل پست ہوگئیں اورسب اپنے اپنے اوطان کوواپس آگئے۔‘‘ ۱۹؍ ستمبر ۱۸۵۷ء کوبہادرشاہ ظفر گرفتارہوئے۔
دہلی پر انگریزوں کاقبضہ مکمل ہوا توپھر فتح مندفوجوں نے اطراف دہلی پرقبضہ شروع کردیا۔ چندروز بعدہی تھانہ بھون کانمبرآگیا، ایک شب کی تاریکی میں انگریزی فوج کی آمدکی خبرنے سنسنی پھیلادی۔
اب توشکست یقینی تھی، مگربہادری یہ ہے کہ اس یقین کے باوجود مقابلہ کی ہمت کی گئی۔ قصبہ کے گردفصیل تھی، اس کے دروازے بند کردیے گئے اوروہی ایک توپ جوآغاز جنگ میں حضرت گنگوہی  نے انگریزوں سے چھینی تھی، اس کوایک بلندمقام پرنصب کردیاگیا اورعجیب اتفاق یہ ہوا کہ اس توپ کاپہلا فائر ایسا کامیاب رہا کہ اس کاگولہ ٹھیک غنیم کی توپ کے دہانے پرجاکر پڑا، انگریزی فوج کی یہ توپ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی۔
لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا، یہاں ایک توپ تھی اورغنیم کے پاس بہت سی۔ یہاں توڑے دار بندوقیں تھیں اوروہ بھی بہت کم اوردوسری طرف نئی قسم کی رائفلوں کی بہتات تھی۔ دوگھنٹہ سے زیادہ مقابلہ جاری نہ رہ سکا۔
صبح صادق کے وقت مشرق کی جانب سے تھانہ بھون پرگولہ باری شروع ہوئی تھی،فصیل توڑدی گئی، دروازے اْڑادیے گئے، مٹی کاتیل ڈال کر مکانوں کوآگ لگا دی گئی، جوملا اس کوتہ تیغ کیاگیا، قیمتی مال واسباب سے فوج نے اپنی جیبیں بھریں، جو باقی تھا وہ آس پاس کے گاؤں والوں نے لُوٹ لیا۔ تھانہ بھون ایک اُجڑا دیاربن گیا۔
یہ چاروں بزرگ باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد تھانہ بھون میں تشکیل دی جانے والی جماعت بھی بظاہر منتشر ہوگئی۔ ملکہ وکٹوریہ نے اگرچہ جنگ کے بعد انقلابیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا،
مگر جن لوگوں کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ پھر کسی وقت کسی نئے عنوان سے میدان میں اتر سکتے ہیں، ان پر زمین تنگ کردی گئی۔ مولانا رشید احمد گنگوہی  گرفتار کرلیے گئے، کئی ایک علماء نے روپوشی اختیار کرلی۔
تحریک کے امیر حاجی امداد اللہ vنے آئندہ کے لائحہ عمل کی تشکیل کی خاطر مکہ مکرمہ کی جانب ہجرت کر لی جو اس تحریک کا اصل مرکز تھا۔یہ بظاہر تاریخ کے ایک باب کا اختتام تھا، لیکن یہیں سے قیام دارالعلوم دیوبند کی شکل میں تاریخ کا ایک اور روشن باب شروع ہونے والاتھا، جس سے ہندوستان کے مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کو ایک نیاعنوان ملا<ref>[https://www.banuri.edu.pk/bayyinat-detail/%D8%AC%D9%86%DA%AF-%D8%A7-%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7-%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%DA%AF%D9%86%DA%AF%D9%88%DB%81%DB%8C-%D8%B1%D8%AD%D9%85%DB%83-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81-%DA%A9%D8%A7-%DA%A9%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1 جنگ آزادی میں مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا کردار]-شائع شدہ از: نومبر 2014ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 23 اگست 2026ء</ref>۔
== درس حدیث ==
== درس حدیث ==



نسخہ بمطابق 00:00، 24 اگست 2026ء

رشید احمد گنگوہی، (پیدائش: 10 مئی 1829ء— وفات: 11 اگست 1905ء) ہندوستانی سنی عالم دین، مبلغ، محقق، مفسر ومحدث، فقیہ، مصنف اور شیخ طریقت تھے۔ آپ جنگ آزادی کے مجاہد، امداد اللہ مہاجر مکی کے خلیفہ اور دارلعلوم دیوبند کے سرپرست تھے۔ آپ کے فتاویٰ جات کا مجموعہ فتاویٰ رشیدیہ کے نام سے مطبوعہ ہے۔

ابتدائی زندگی

جناب رشید احمد گنگوہی 6/ذی قعدہ 1242ھ بمطابق 1829ءکو شنبہ کے دن گنگوہ، ضلع سہارنپور، یوپی میں پیدا ہوئے، ان کے والد مہدایت احمد اپنے زمانے کے ایک جید عالم دین تھے، وہ غلام علی سے مجاز تھے۔

تعلیم

قرآن شریف وطن میں پڑھ کر اپنے ماموں کے پاس کرنال چلے گئے اور ان سے فارسی کی کتابیں پڑھیں، پھر محمد بخش رامپوری سے صرف و نحو کی تعلیم حاصل کی۔

1261ھ میں دہلی پہنچ کر مملوک علی نانوتوی کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا، یہیں محمد قاسم نانوتوی سے تعلق قائم ہوا، جو پھر ساری عمر قائم رہا۔ دہلی میں معقولات کی بعض کتابیں مفتی صدرالدین خاں آزردہ سے بھی پڑھیں، آخر میں شاہ عبد الغنی مجددی کی خدمت میں رہ کر علم حدیث کی تحصیل کی۔

دار العلوم دیوبند کی سرپرستی

گرچہ قیامِ دار العلوم دیوبند میں کوئی فعال کردار آپ کا نہیں ملتا مگر طالب علمی کے زمانے سے ہی محمد قاسم نانوتوی سے تعلق رہا۔ اسی وجہ سے مؤرخین کا کہنا ہے کہ 1283ھ مطابق 1866ء میں دار العلوم کے قیام سے آپ بے خبر نہیں تھے۔

مدرسہ عربی اسلامی دیوبند کے قیام کے دوسال بعد 1285ھ میں دار العلوم دیوبند سے گنگوہی کے رسمی تعلق کا سراغ ملتا ہے۔ محمدقاسم نانوتوی بانئ دار العلوم دیوبند کی وفات کے بعد آپ دار العلوم دیوبند کے دوسرے سرپرست مقرر ہوئے۔

دار العلوم کے نصاب کو تیار کرنے میں آپ کا اہم کردار رہا ہے۔ اس لیے محمد قاسم نانوتوی کے ساتھ آپ بھی مسلک دار العلوم دیوبند کے پیشوا ہیں۔

برطانوی سامراج کے خلاف جنگ

1857ء میں خانقاہِ قدوسی سے مردانہ وار نکل کر انگریزوں کے خلاف صف آرا ہو گئے اور اپنے مرشد حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور دوسرے رفقا کے ساتھ شاملی کے معرکۂ جہاد میں شامل ہوکر خوب داد شجاعت دی۔

جب میدان جنگ میں حافظ ضامن شہید ہوکر گرے تو آپ ان کی نعش اٹھاکر قریب کی مسجد میں لے گئے اور پاس بیٹھ کر قرآن شریف کی تلاوت شروع کردی۔ معرکۂ شاملی کے بعد گرفتاری کا وارنٹ جاری ہوا اور ان کو گرفتار کرکے سہارنپور کی جیل میں بھیج دیا گیا،

پھر وہاں سے مظفرنگر منتقل کر دیا گیا، چھ مہینے جیل میں گذرے، وہاں بہت سے قیدی آپ کے معتقد ہو گئے اور جیل خانے میں جماعت کے ساتھ نماز اداکرنے لگے۔

جنگ آزادی میں مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا کردار

رشید احمد گنگوہی کی علمی و ملی خدمات سے نئی نسل کو اجاگر کرنے کے لیے (جمعیت علمائے اسلام کے زیر نگرانی کام کرنے والی) شیخ الہند اکیڈمی کی جانب سے لاہور میں ’’فقیہ ملتؒ سیمینار‘‘ کا انعقاد ایک اہم اور مستحسن کاوش ہے۔

مولانا گنگوہی کا شمار ان بزرگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہندوستان میں انگریز سامراج کا راستہ روکنے کی علمی و عملی دونوں محاذوں پر جدوجہد کی۔ ویسے تو ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ نصف صدی قبل شاہ عبدالعزیز دے چکے تھے،

جس پرولی اللّٰہی فکر سے وابستہ مجاہدین عمل کرتے آئے تھے، تاہم دوسری جانب انگریز سرکار کی جانب سے اس جہاد کو فساد قرار دینے اور مجاہدین کوبدنام کرنے کے روایتی حربے بھی استعمال کیے جارہے تھے،

چنانچہ جہادِ آزادی کے آغاز پر ہی ایک اختلاف کا ماحول پیدا کیا گیا۔ شاہی دربار سے وابستہ بعض علماء کو سلطنت مغلیہ کی موجودگی میں پرائیویٹ جہاد کے جواز پر اشکال تھا، جبکہ کچھ علماء کا خیال تھا کہ چونکہ مسلمانوں کے پاس انگریزوں کی مزاحمت کی قوت ہی نہیں ہے، اس لیے یہ جہاد جائز نہیں ہے۔

انگریز فوج ان دونوں دلیلوں سے فائدہ اٹھارہی تھی۔ تاہم ولی اللّٰہی فکر کے اکثرعلماء نے اس موقع پر اس موقف کو رد کردیا اور مئی۱۸۵۷ء میں جامع مسجد دہلی میں ہونے والے ایک بڑے اجتماع میں انگریز فوج کے خلاف جہاد کو فرض عین قرار دے دیا۔

دیوبند وسہارنپور ومظفرنگر کے تمام اکابر حضرت شاہ عبدالعزیز اور ان کے تلامذہ کے شاگرد اورخوشہ چیں رہے ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ یہ حضرات حضرت شاہ صاحبؒ اور ان کے خاندان کے مسلک اور حکم کے خلاف چلیں۔

جب انقلاب ۵۷ء کی تحریک اطراف وجوانب ِ ہند خصوصاً اطراف دہلی میں چلنی شروع ہوئی توان حضرات کے جذبۂ حریت میں نئی حرکت پیدا ہوئی۔ ان بزرگوں نے محسوس کیا کہ اس انقلاب میں حصہ لینا فرض اور لازم ہے۔

اس تمام جماعت میں حضرت حافظ ضامن صاحب زیادہ پیش پیش تھے۔ حافظ صاحبؒ قطب العالم حضرت میاںجی نور محمد صاحب جھنجھانوی کے اولین خلفاء میں سے تھے۔ اسی قصبہ تھانہ بھون میں میاںجی صاحب کے دوسرے خلیفہ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب جب کہ تیسرے خلیفہ حضرت مولاناشیخ محمد صاحب رہتے تھے،

چوںکہ تینوں حضرات پیربھائی اور ایک ہی مقدس ہستی میاںجی صاحب کے دریوزہ گرتھے، اس لیے آپس میں میل جول، اتحادواتفاق بڑے پیمانے پر رہتا تھا۔ مولانا شیخ محمدصاحب علوم عربیہ کے باقاعدہ فاضل تھے۔

علمائے دہلی سے تمام نصاب علم ظاہر پڑھ چکے تھے۔ مولانا کی رائے یہ تھی کہ انگریز وں کے خلاف جہاد کرنا ہم مسلمانوں پر فرض تودرکنار موجودہ احوال میں جائزہی نہیں۔ اس اختلاف اور فتویٰ کی بنا پر حضرت مولانا رشیداحمد گنگوہی اور حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کو ان کے علاقوں سے دونوں حضرات نے بلوایا۔

حضرت نانوتوی نے نہایت ادب سے مولانا شیخ محمدصاحب سے پوچھا کہ حضرت! کیاوجہ ہے کہ آپ ان دشمنانِ دین ووطن کے خلاف جہاد کوفرض بلکہ جائز بھی نہیں فرماتے؟

توانہوں نے جواب دیاکہ ہمارے پاس اسلحہ وآلات جہادنہیںہیں، ہم بالکل بے سروسامان ہیں۔ مولانا نانوتوی نے عرض کیا کہ کیا اتناسامان بھی نہیں ہے جتنا کہ غزوۂ بدرمیںتھا؟ اس پر مولاناشیخ محمدصاحب نے سکوت فرمایا۔

اس پر حافظ ضامن صاحب نے فرمایا کہ مولانا! بس سمجھ میں آگیا اور پھر جہاد کی تیاری شروع ہوگئی۔ ایک جماعت تشکیل دی گئی جس کو باقاعدہ ایک نظام حکومت کی صورت میں چلایا جانا تھا۔

اس کا احوال شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ’’ نقش حیات‘‘ میں یوں بیان فرماتے ہیں: "پھر جہاد کی تیاری شروع ہوگئی اوراعلان کردیاگیا۔ حضرت حاجی امداداللہ صاحبؒ کوامام مقررکیاگیااورحضرت مولانامحمدقاسم نانوتویؒ کو سپہ سالارِ افواج قراردیاگیا اور حضرت مولانارشیداحمد صاحب گنگوہیؒ کوقاضی بنایاگیا اور حضرت مولانامحمدمنیر صاحب نانوتویؒ اورحضرت حافظ ضامن صاحب تھانویؒ میمنہ اورمیسرہ (داہنے اوربائیں بازو) کے افسر مقررکیے گئے۔

چونکہ اطراف وجوانب میں مذکورہ بالاحضرات کے تقویٰ، علم کابہت شہرہ تھا۔ ان حضرات کے اخلاص وللہیت سے لوگ بہت زیادہ متأثرتھے، ہمیشہ ان کی دین داری اورخداترسی دیکھتے رہے تھے، اس لیے ان پربہت اعتماد کرتے تھے۔

علاوہ مریدین اور تلامذہ کے عام مسلمان بھی بے حدمعتقد تھے، اس لیے بہت تھوڑی مدت میں جوق درجوق لوگوں کااجتماع ہونے لگا۔ اس وقت تک ہتھیاروں پرپابندی نہیں تھی، عموماً لوگوں کے پاس ہتھیار پرانی قسم کے تھے۔بندوقیں توڑے دارتھیں، کارتوسی رائفلیں نہ تھیں، یہ صرف انگریزی فوجوں کے پاس تھیں۔

مجاہدین ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوگئے اورتھانہ بھون اوراطراف میں حکومت قائم کرلی گئی اوارنگریزوں کے ماتحت حکام نکال دیے گئے۔خبرآئی کہ انگریز فوج کا توپ خانہ سہارن پور سے شاملی بھیجاگیاہے، ایک پلٹن آرہی ہے، رات کویہاں سے گزرے گی۔

اس خبر سے لوگوں میں تشویش ہوئی، کیونکہ جوہتھیار ان مجاہدین کے پاس تھے وہ تلوار، توڑے دار بندوقیں اوربرچھے وغیرہ تھے، مگرتوپ کسی کے پاس نہ تھی۔ توپ خانہ کامقابلہ کس طرح کیاجائے گا؟ حضرت گنگوہی vنے فرمایا: فکرمت کرو۔

سڑک ایک باغ کے کنارے گزرتی تھی، حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی کوتیس یاچالیس مجاہدین پرحضرت حاجی امدادللہ صاحب vنے افسر مقررکردیاتھا۔ آپ اپنے ماتحتوں کولے کر باغ میں چھپ گئے اورسب کوحکم دیا کہ پہلے سے تیار رہو۔

جب میں حکم کروں سب ایک دم فائرکرنا۔ چنانچہ جب پلٹن مع توپ خانہ باغ کے سامنے پہنچی توسب نے یک دم فائر کردیا، پلٹن گھبراگئی کہ خدا جانے کس قدر آدمی یہاں چھپے ہوئے ہیں، توپ خانہ چھوڑکر سب بھاگ گئے۔ حضرت گنگوہی نے توپ خانہ کھینچ کر حضرت حاجی صاحب کی مسجدکے سامنے لاکر ڈال دیا۔

اس سے لوگوں میں ان حضرات کی فراست، ذکاوت، فنون حربیہ کی مہارت، معاملہ فہمی اورہرقسم کی قابلیت کاسکہ بیٹھ گیا۔"شاملی اس زمانہ میں مرکزی مقام تھا، ضلع سہارن پورسے متعلق تھا، وہاں تحصیل بھی تھی، کچھ فوجی طاقت وہاں بھی رہتی تھی، قرار پایا کہ اس پرحملہ کیاجائے، چنانچہ چڑھائی ہوئی اورقبضہ کرلیاگیا۔

جوطاقت پولیس اورفوج کی وہاںتھی وہ مغلوب ہوگئی۔ حافظ ضامن صاحب vجو مجاہدین کے ایک بڑے جری کمانڈر تھے، اسی ہنگامہ میں شہیدہوگئے۔ حافظ ضامن صاحب کاشہیدہوناتھا کہ معاملہ بالکل ٹھنڈا پڑگیا۔

احوال جنگ

ان کی شہادت سے پہلے روزانہ خبرآتی تھی کہ آج فلاں مقام انگریزوں سے چھین لیاگیا، آج فلاں مقام پر ہندوستانیوں کاقبضہ ہوا، مگرحافظ صاحب کی شہادت کے بعد پہلے پہل خبرآئی کہ دہلی پرانگریزوں کاقبضہ ہوگیا اوریہی حال ہر جگہ کی خبروں کاتھا۔

اس سے پہلے گورے فوجی چھپتے پھرتے تھے، ایک ایک سپاہی گوروں کی جماعت کوبھگائے پھرتاتھا، مگربعدمیں معاملہ برعکس ہوگیا۔ پہلے کسی کھیت میں گورا چھپا ہواتھا توکاشتکار عورت نے اْسے کھرپے سے قتل کرڈالا، مگربعد میں معاملات اْلٹ ہوگئے۔

حافظ صاحب vکی شہادت اوردہلی کے سقوط کی خبرسے لوگوں کی ہمتیں بالکل پست ہوگئیں اورسب اپنے اپنے اوطان کوواپس آگئے۔‘‘ ۱۹؍ ستمبر ۱۸۵۷ء کوبہادرشاہ ظفر گرفتارہوئے۔

دہلی پر انگریزوں کاقبضہ مکمل ہوا توپھر فتح مندفوجوں نے اطراف دہلی پرقبضہ شروع کردیا۔ چندروز بعدہی تھانہ بھون کانمبرآگیا، ایک شب کی تاریکی میں انگریزی فوج کی آمدکی خبرنے سنسنی پھیلادی۔

اب توشکست یقینی تھی، مگربہادری یہ ہے کہ اس یقین کے باوجود مقابلہ کی ہمت کی گئی۔ قصبہ کے گردفصیل تھی، اس کے دروازے بند کردیے گئے اوروہی ایک توپ جوآغاز جنگ میں حضرت گنگوہی نے انگریزوں سے چھینی تھی، اس کوایک بلندمقام پرنصب کردیاگیا اورعجیب اتفاق یہ ہوا کہ اس توپ کاپہلا فائر ایسا کامیاب رہا کہ اس کاگولہ ٹھیک غنیم کی توپ کے دہانے پرجاکر پڑا، انگریزی فوج کی یہ توپ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی۔

لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا، یہاں ایک توپ تھی اورغنیم کے پاس بہت سی۔ یہاں توڑے دار بندوقیں تھیں اوروہ بھی بہت کم اوردوسری طرف نئی قسم کی رائفلوں کی بہتات تھی۔ دوگھنٹہ سے زیادہ مقابلہ جاری نہ رہ سکا۔

صبح صادق کے وقت مشرق کی جانب سے تھانہ بھون پرگولہ باری شروع ہوئی تھی،فصیل توڑدی گئی، دروازے اْڑادیے گئے، مٹی کاتیل ڈال کر مکانوں کوآگ لگا دی گئی، جوملا اس کوتہ تیغ کیاگیا، قیمتی مال واسباب سے فوج نے اپنی جیبیں بھریں، جو باقی تھا وہ آس پاس کے گاؤں والوں نے لُوٹ لیا۔ تھانہ بھون ایک اُجڑا دیاربن گیا۔

یہ چاروں بزرگ باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد تھانہ بھون میں تشکیل دی جانے والی جماعت بھی بظاہر منتشر ہوگئی۔ ملکہ وکٹوریہ نے اگرچہ جنگ کے بعد انقلابیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا،

مگر جن لوگوں کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ پھر کسی وقت کسی نئے عنوان سے میدان میں اتر سکتے ہیں، ان پر زمین تنگ کردی گئی۔ مولانا رشید احمد گنگوہی گرفتار کرلیے گئے، کئی ایک علماء نے روپوشی اختیار کرلی۔

تحریک کے امیر حاجی امداد اللہ vنے آئندہ کے لائحہ عمل کی تشکیل کی خاطر مکہ مکرمہ کی جانب ہجرت کر لی جو اس تحریک کا اصل مرکز تھا۔یہ بظاہر تاریخ کے ایک باب کا اختتام تھا، لیکن یہیں سے قیام دارالعلوم دیوبند کی شکل میں تاریخ کا ایک اور روشن باب شروع ہونے والاتھا، جس سے ہندوستان کے مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کو ایک نیاعنوان ملا[1]۔

درس حدیث

جیل سے رہائی کے بعد آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ شروع فرمایا، 1299ھ میں تیسرے حج کے بعد آپ نے یہ التزام کیا کہ ایک سال کے اندر اندر پوری صحاح ستہ کو ختم کرادیتے تھے، معمول یہ تھا کہ صبح سے 12 بجے تک طلبہ کو پڑھاتے تھے۔

آپ کے درس کی شہرت سُن سُن کر طالبانِ حدیث دور دور سے آتے تھے، کبھی کبھی ان کی تعداد ستّر اسّی تک پہنچ جاتی تھی، جن میں ہندو بیرونِ ہند کے طلبہ بھی شامل ہوتے تھے۔

طلبہ کے ساتھ غایت محبت و شفقت سے پیش آتے تھے۔ درس کی تقریر ایسی ہوتی تھی کہ ایک عامی بھی سمجھ لیتا تھا، آپ کے درس حدیث میں ایک خاص خوبی یہ تھی کہ حدیث کے مضمون کو سن کر اس پر عمل کرنے کا شوق پیدا ہوجاتا تھا۔

جامع ترمذی کی درسی تقریر 'الکوکب الدری' کے نام سے شائع ہو چکی ہے، جو مختصر ہونے کے باوجود ترمذی کی نہایت جامع شرح ہے، 1314ھ تک آپ کا درس جاری رہا، تین سو سے زائد حضرات نے آپ سے دورۂ حدیث کی تکمیل کی۔ درسِ حدیث میں آپ کے آخری شاگرد حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کے والد ماجد محمد یحیٰ کاندھلوی تھے۔

آخر میں نزول الماء کی بیماری کی وجہ سے درس بند ہو گیا تھامگر ارشادوتلقین اور فتاویٰ کا سلسلہ برابر جاری رہا، ذکراللہ کی تحریص و ترغیب پر بڑی توجہ تھی، جو لوگ خدمت میں حاضر ہوتے، رغبتِ آخرت کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور لے کر جاتے، اتباع سنّت کا غایت اہتمام فرماتے تھے۔

دار العلوم کی سر پرستی

1297ھ میں قاسم نانوتوی کی وفات کے بعد دار العلوم دیوبند کے سرپرست ہوئے، مشکل حالات میں دار العلوم کی گتھیوں کو سلجھا دینا ان کی ایک بڑی خصوصیت تھی۔ 1314ھ سے مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کی سرپرستی بھی قبول فرمالی تھی۔

تصانیف

فقہ اور تصوف میں تقریباً 14 کتابیں تصنیف فرمائیں۔ چند مشہور تصانیف درج ذیل ہیں۔

  • فتاویٰ رشیدیہ
  • زبدۃ المناسک مع عمدۃ المناسک
  • تفسیر رشیدی
  • تشریحات بخاری
  • الکوکب الدرری
  • ہدایۃ الشیعہ
  • سبیل الرشاد
  • اوثق العری
  • تصفیہ القلوب
  • امداد السلوک
  • براہین قاطعہ
  • لطائف رشیدیہ
  • اصلاح الرسوم
  • فقہ اکبر ووصیت نامہ [2]۔

وفات

8 یا 9 جمادی الثانی 1323ھ مطابق 1905ء بروز جمعہ اذان جمعہ کے بعد 78 سال کی عمر میں وفات پائی۔

  1. جنگ آزادی میں مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا کردار-شائع شدہ از: نومبر 2014ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 23 اگست 2026ء
  2. مولانا رشید احمد گنگوہی کی ای-کتاب-اخذ شدہ بہ تاریخ: 23 اگست 2026ء