"سید مجتبی خامنهای" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 135: | سطر 135: | ||
انہوں نے کہا کہ ثقافتی میدان میں سرگرم افراد کی جدت اور تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے لسانی اور فکری دفاع کو مضبوط بنایا جائے اور بچوں، نوجوانوں اور نئی نسل کی تربیت و ترقی کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں تاکہ قوم حتمی کامیابی تک زیادہ استقامت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھ سکے<ref>[https://ur.mehrnews.com/news/1939300/%D9%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%B3%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%B2%D9%85%DB%8C%DB%81-%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%82%D9%88%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%AF%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%AC%DB%8C%D8%AA%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%DA%AF%D8%AA%DB%8C-%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1 فردوسی کی رزمیہ داستانیں ایرانی قوم کی بہادری کی جیتی جاگتی تصویر ہیں، رہبر انقلاب]- شائع شدہ از: 16 مئی 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 16 مئی 2026ء</ref>۔ | انہوں نے کہا کہ ثقافتی میدان میں سرگرم افراد کی جدت اور تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے لسانی اور فکری دفاع کو مضبوط بنایا جائے اور بچوں، نوجوانوں اور نئی نسل کی تربیت و ترقی کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں تاکہ قوم حتمی کامیابی تک زیادہ استقامت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھ سکے<ref>[https://ur.mehrnews.com/news/1939300/%D9%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%B3%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%B2%D9%85%DB%8C%DB%81-%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%82%D9%88%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%AF%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%AC%DB%8C%D8%AA%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%DA%AF%D8%AA%DB%8C-%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1 فردوسی کی رزمیہ داستانیں ایرانی قوم کی بہادری کی جیتی جاگتی تصویر ہیں، رہبر انقلاب]- شائع شدہ از: 16 مئی 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 16 مئی 2026ء</ref>۔ | ||
== احساس ذمہ داری اور عوام دوستی» شہید آیت اللہ رئیسی کی نمایاں خصوصیت تھی == | |||
[[فائل:رئیسی و مجتبی.jpg|تصغیر|بائیں|]] | |||
[[سید ابراہیم رئیسی|شہید رئیسی]] اور شہدائے خدمت کی شہادت کی دوسری برسی کی مناسبت سے رہبر انقلاب کا پیغام: | |||
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے بدھ 20 مئی کو شہید صدر مملکت سید ابراہیم رئیسی اور ان کے شہید رفقائے کار کی دوسری برسی کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا ہے۔ | |||
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے بدھ 20 مئی کو شہید صدر مملکت سید ابراہیم رئیسی اور ان کے شہید رفقائے کار کی دوسری برسی کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا ہے۔ رہبر انقلاب کا پیغام حسب ذیل ہے: | |||
بسم اللہ الرحمن الرحیم | |||
اردیبہشت (مئی) کی فلائٹ کے شہداء اور ان میں سرفہرست شہید صدر جمہوریہ حجت الاسلام والمسلمین رئیسی کی یاد منانا، اسلامی جمہوریہ ایران میں خدمت گزار شہداء کے عظیم کارواں کی شہادت کی یاد تازہ کرتا ہے؛ | |||
[[مرتضی مطهری|مطہری]]، بہشتی، [[محمد علی رجائی|رجائی]] اور باہنر سے لے کر رئیسی، آل ہاشم، امیر عبداللہیان اور [[علی لاریجانی|لاریجانی]] تک، [[سید روح اللہ موسوی خمینی|عظیم امام خمینی]] اور عزیز خامنہ ای اعلیٰ اللہ مقامہما کے مکتب کے سیکڑوں نمایاں اور تربیت یافتہ افراد، جنھوں نے اسلامی جمہوریہ کے عہدیداروں کی مخلصانہ اور مجاہدانہ خدمت کے دفتر کو اپنے خون آلود دستخط سے مزین کیا۔ | |||
شہید رئیسی کی نمایاں خصوصیات میں فرض شناسی، جوانوں کو آگے لانا، عدل و انصاف پر توجہ، فعال اور نفع بخش سفارت کاری اور خصوصاً ان کے عوامی ہونے کو شمار کیا جا سکتا ہے۔ یہ خصوصیات طاقتور مزاحمتی محاذ کے مجاہدوں اور نظام کے بہت سے خیر خواہوں سمیت ایران کے دوستوں کا حوصلہ بڑھنے کا سبب بنتی تھیں۔ | |||
البتہ یہ سب کچھ اس روحانیت کے ساتھ جڑا ہوا تھا جس کی جڑیں ان کے دل و جان کی گہرائیوں میں پیوست تھیں۔ عہدیداروں اور عوام کے درمیان تعلق میں، مؤثر مثبت خصوصیات، باہمی قدردانی کا سبب بنتی ہیں۔ | |||
یہی وجہ ہے کہ ان کے مولا اور آقا [[علی بن موسی|حضرت ابی الحسن الرضا صلوات اللہ و سلامہ علیہ]] کے جوار تک ان کا آخری سفر عدیم المثال شان و شوکت کے ساتھ انجام پایا۔ | |||
اس شہید کے ادھورے رہ جانے والے عہد صدارت نے قوم اور ملک کی خود مختاری کو محفوظ رکھتے ہوئے، اس کے لیے کوشش اور دلسوزی کا ایک معیار فراہم کیا۔ | |||
آج ہم دو عالمی دہشت گرد افواج کے مقابلے میں ایرانی قوم کی عظیم اور تاریخ کی بے نظیر شجاعت کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ چیز اسلامی جمہوریہ کے عہدیداروں؛ اعلیٰ قیادت اور انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے سربراہوں سے لے کر تمام سطحوں کے سربراہوں تک کی ذمہ داری کو پہلے سے زیادہ سنگین بنا دیتی ہے۔ | |||
آج قوم، حکومت اور اسلامی جمہوریہ کے تمام اداروں کے مابین اتحاد کی نعمت کا شکر، عہدیداروں کے خدمت کے جذبے کی تقویت اور ان کی دگنی اور مجاہدانہ خدمت، عوام کے مسائل اور پریشانیوں خصوصاً اقتصادی اور معاشی میدان میں ان کی مشکلات کو دور کرنا، میدان میں براہ راست موجودگی اور ملک کی پیشرفت اور روشن مستقبل کی جانب امید افزا حرکت کی راہ میں میدان میں موجود عوام کے سنجیدہ کردار کی تعریف پیش کرنا ہے۔ | |||
راہ خدمت کے شہداء پر خداوند کی رحمت ہو اور ہمارے آقا عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی دعا ایران کے مسلمان عوام کے خدمت گزاروں کی پشت پناہ ہو۔ | |||
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای | |||
20 مئی 2026<ref>[https://ur.hawzahnews.com/news/416954/%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3-%D8%B0%D9%85%DB%81-%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D9%88%D8%A7%D9%85-%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C-%D8%B4%DB%81%DB%8C%D8%AF-%D8%A2%DB%8C%D8%AA-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%B1%D8%A6%DB%8C%D8%B3%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%D9%85%D8%A7%DB%8C%D8%A7%DA%BA «احساس ذمہ داری اور عوام دوستی» شہید آیت اللہ رئیسی کی نمایاں خصوصیت تھی]- شائع شدہ از: 20 مئی 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 20مئی 2026ء</ref>۔ | |||
== متعلقہ مضامین == | == متعلقہ مضامین == | ||
* [[سید روح اللہ موسوی خمینی]] | * [[سید روح اللہ موسوی خمینی]] | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 20:46، 20 مئی 2026ء
| سید مجتبی خامنهای | |
|---|---|
| پورا نام | سید مجتبی خامنهای |
| دوسرے نام | آیتالله حاج سیدمجتبی خامنهایسید مجتبی حسینی خامنهای |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1970 ء |
| پیدائش کی جگہ | ایران مشهد |
| اساتذہ | احمدی میانجی، رضا استادی، اوسطی، سید علی خامنهای، شیخ جواد تبریزی، شیخ حسین وحید خراسانی، سید موسی شبیری زنجانی، آقا مجتبی تهرانی، شیخ محمد مؤمن قمی |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| اثرات | علمی مقالات فقه اور اصول کے موضوع پر |
| مناصب | جمہوری اسلامی ایران]] کے تیسرے رہبر، حوزه کے عالی سطح کے مدرس اور استاد خارج فقه و اصول |
سید مجتبی خامنهای، جمہوری اسلامی ایران کے تیسرے رہبر ہیں جو عظیم مرجع اور رہبر آیتالله العظمی امام سید علی خامنهای کی شهادت کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے۔ آیتالله خامنهای حوزه علمیه کے اعلیٰ دروس کے استاد اور فقه و اصول کے درس خارج کے صاحبِ کرسی ہیں۔ حوزوی علوم کے نظام میں مضبوط علمی نوآوریاں، خصوصاً فقه، اصول فقه اور رجال میں، اور اسلامی مدون علوم میں منظم فکری مبانی سے استفادہ اور ان مبانی کی پابندی کے ساتھ علمی تولیدات، نیز درس فقہ کے آغاز میں قرآن کریم کی آیات کی مختصر تفسیر، ان کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتی ہیں۔
سوانح حیات
سید مجتبی خامنهای، شہید رہبر اور مرجع آیتالله العظمی سید علی خامنهای کے دوسرے فرزند ہیں۔ وہ سنہ 1348 ش میں مشہد مقدس میں پیدا ہوئے۔
تعلیم
انہوں نے ہائی اسکول کی تعلیم مدرسہ علوی میں مکمل کی اور حوزه علمیه کی ابتدائی دروس مدرسہ آیتالله مجتهدی تهرانی میں شروع کیے۔ سنہ 1368 ش میں تکمیلِ حوزوی تعلیم کے لیے قم گئے اور 1371 ش کے اوائل تک وہاں مقیم رہے۔ اس کے بعد پانچ سال کے لیے تهران واپس آئے اور وہیں اپنی حوزوی تعلیم جاری رکھی۔ سنہ 1376 ش میں انہوں نے شہیدہ بانو زہرا حدادعادل سے ازدواج کیا اور اسی سال مزید علمی و معنوی استفادہ کے لیے دوبارہ قم ہجرت کی۔
محاذ پر حاضری
آیتالله خامنهای نے مقدس دفاع کے دوران لشکر حضرت محمد رسولالله (صلیالله علیه وآله) کے گردان حبیب کے مجاہدین کے ساتھ محاذِ جہاد میں شرکت کی۔
اساتذہ
آیتالله خامنهای نے سطوحِ عالی کے دروس حضرات آیات احمدی میانجی، رضا استادی، اوسطی اور دیگر ممتاز اساتذہ حوزه علمیه قم سے حاصل کیے۔ درس خارج فقہ و اصول اپنے شہید والد شهید آیتالله العظمی خامنهای کے علاوہ حضرات آیات عظام شیخ جواد تبریزی، شیخ حسین وحید خراسانی، سید موسی شبیری زنجانی، آقا مجتبی تهرانی اور شیخ محمد مؤمن قمی سے پڑھے۔ وہ سترہ برس سے زیادہ عرصہ تک مسلسل درس خارج فقہ و اصول میں شرکت کرتے رہے۔ عربی زبان میں علمی تقریرات کی پیشکش اور درس کے علاوہ علمی مباحث میں اشکال، نقد اور گفتگو کے ذریعے اساتذہ سے علمی پیگیری نے بعض بزرگ علماء کی خصوصی توجہ ان کی جانب مبذول کرائی۔
علمی نبوغ
ان کی فطری استعداد اور ذہانت، مسلسل کوشش، محنت، دقت اور علمی آزادی کے ساتھ مل کر حوزوی علوم کے نظام میں مضبوط علمی نوآوریوں کا سبب بنی، خصوصاً فقه، اصول اور رجال میں۔ اسلامی مدون علوم میں منظم فکری مبانی اور ان مبانی کی پابندی کے ساتھ علمی تحقیق ان کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتی ہے۔
حکم شرعی کی حقیقت و ماہیت، حکم کے مراتب، احکام کے ملاکات، تعددِ حکم، قیود کی رجوعیت، حدیثی معارف کی منتقلی کا طریقہ اور فقہی کتب کے ارتقائی مراحل جیسے بنیادی مباحث میں ان کی ابتکارات نے ایک جامع علمی مکتب کی تشکیل میں مدد دی۔ اس علم کے اکابر فقہاء و اصولیین کے مکاتب، شیخ اعظم انصاری سے لے کر امام خمینی تک، پر ان کی گہری دسترس نے اس مکتب کو مزید غنا بخشا ہے۔ ائمہ اطہارؑ کے اصحاب کے آثار اور قدیم شیعه علماء کی آراء، خصوصاً “ارتکاز عصر معصومؑ” کے مسئلے اور اس کے استنباطی عمل میں کردار پر خصوصی توجہ ان کے علمی منہج کی نمایاں خصوصیات میں سے ہے۔
حوزہ میں تدریس
آیتالله خامنهای نے تعلیم کے ساتھ ساتھ مسلسل تدریس بھی جاری رکھی۔ انہوں نے حوزہ کے ابتدائی دروس مدرسہ آیتالله مجتهدی تهران میں پڑھانا شروع کیے اور سنہ 1374 ش سے کتاب معالم کی تدریس کی۔ بعد ازاں آیتالله العظمی سید علی خامنهای کی طرف سے حوزہ میں تحول کی ضرورت اور شهید صدر کی کتب کی اہمیت کے بارے میں تاکید کے بعد انہوں نے معالم کی تدریس ترک کرکے حلقاتِ شہید صدر کی تدریس شروع کی۔
سنہ 1376 ش میں قم ہجرت کے بعد انہوں نے حلقات کی تدریس اپنے ایک ہم بحث کے سپرد کر دی۔ سنہ 1377 ش میں قم میں بیت شریف امام خمینی میں رسائل اور مکاسب کی خصوصی تدریس کا آغاز کیا۔ کچھ عرصہ بعد نماز، تسبیحاتِ اربعہ، سجود اور رکوع کے موضوعات پر خصوصی درس خارج کا انعقاد کیا جس میں ان کے سابق شاگرد شریک ہوتے تھے۔
سنہ 1383 ش میں دوبارہ حلقات کی تدریس شروع کی اور 1384 ش اور 1385 ش میں قم کے ایک مدرسہ میں سطوح عالی (مکاسب) پڑھائے۔ سنہ 1386 ش میں ان کا درس مدرسه فیضیه منتقل ہوا اور سنہ 1387 ش میں قم میں آیتالله العظمی خامنهای کے دفتر میں نماز پر خصوصی درس خارج منعقد ہوا۔ تعلیمی سال 1388 ش کے آغاز سے عمومی درس خارج فقہ اور 1389 ش سے رسمی طور پر درس خارج اصول شروع ہوا جو مبحث استصحاب کے آغاز تک جاری رہا۔
طریقۂ تدریس
وہ تدریس سے پہلے بحث کے مراحل اور اپنے علمی نظریات کو تحریری شکل دیتے اور تدریس کے بعد فقہی و اصولی مباحث کو خود مرتب کرتے تھے جن کی بعض جلدیں اشاعت کے لیے تیار ہیں۔ اگرچہ ان کے دروس کی تقریرات شاگردوں کی طرف سے اشاعت کے لیے تیار تھیں، مگر ان کی ذاتی عدم رغبت کے باعث ابھی تک عام طور پر شائع نہیں ہوئیں اور صرف بعض خاص علماء کے پاس موجود ہیں۔
علمائے سلف کے انداز پر درس کے وقت کا ایک حصہ شاگردوں کے ساتھ دوستانہ علمی نشستوں کے لیے مخصوص ہوتا تھا۔ ان کی ایک اہم ابتکار یہ تھی کہ درس فقہ کے آغاز میں قرآن کریم کی آیات کی مختصر تفسیر بیان کرتے تھے جس میں گہرے اور جدید تفسیری نکات شامل ہوتے تھے۔ شاگردوں کے اشکالات پر خصوصی توجہ، حتیٰ کہ درس کے بعد طویل گفتگو کے ذریعے، اور شاگردوں کو علمی طور پر فروعات پیش کرنے کی ترغیب دینا، تنقیدی صلاحیت اور استنباط کی مشق کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کرتا تھا[1]۔
جمہوری اسلامی ایران کے تیسرے رہبر

مجلس خبرگان رهبری کے ہنگامی اجلاس میں آیتالله سید مجتبی حسینی خامنهای (حفظه الله) کو نظام جمهوری اسلامی ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب اور متعارف کرایا گیا۔
بسم الله الرحمن الرحیم ملتِ شریف اور آزادہ ایران اسلامی؛ خدا کا سلام اور درود آپ پر ہو۔ مجلس خبرگان رهبری عظیم قائد حضرت آیتالله العظمی امام خامنهای (قدسالله نفسه الزکیه) کی شہادت اور دیگر گرانقدر شہداء خصوصاً مسلح افواج کے بلند مقام کمانڈروں اور میناب شہر کے مدرسہ شجره طیبه کے طلباء کی شہادت پر تعزیت پیش کرتی ہے اور مجرمانہ امریکہ اور رژیم صهیونیستی کے وحشیانہ حملے کی شدید مذمت کرتی ہے۔
یہ مجلس اعلان کرتی ہے کہ رہبرِ انقلاب کی شہادت کی خبر کے فوراً بعد، جنگی حالات اور دشمن کی براہِ راست دھمکیوں کے باوجود، اور مجلس خبرگان کے دفاتر پر بمباری کے نتیجے میں بعض کارکنوں کی شہادت کے باوجود، اسلامی نظام کے نئے رہبر کے انتخاب کے عمل میں کوئی توقف نہیں کیا گیا۔ آئین کے تقاضوں کے مطابق فوری ہنگامی اجلاس کی تیاری کی گئی تاکہ ملک کو قیادت کے خلاء کا سامنا نہ ہو۔
مجلس خبرگان رهبری ولایت فقیه کے بلند مقام کو مدنظر رکھتے ہوئے اور انقلاب کے دونوں رہبروں کی 47 سالہ حکیمانہ قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اعلان کرتی ہے کہ آئین کی دفعہ 108 کے مطابق مکمل تحقیق و بررسی کے بعد آج کے ہنگامی اجلاس میں آیتالله سید مجتبی حسینی خامنهای (حفظهالله) کو قاطع اکثریت کے ساتھ نظام جمهوری اسلامی ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔
آخر میں مجلس خبرگان ملتِ ایران خصوصاً حوزہ اور یونیورسٹی کے اہلِ علم کو قیادت کے ساتھ بیعت اور ولایت کے محور پر اتحاد برقرار رکھنے کی دعوت دیتی ہے[2]۔
والسلام علیکم و رحمهالله و برکاته مجلس خبرگان رهبری 1404/12/17
ردّ عمل
سپاه پاسداران انقلاب اسلامی
بسم الله الرحمن الرحیم يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَ أَطِيعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُم. سوره =نساء آیه =59
ملتِ مؤمن ایران اسلامی؛ مجلس خبرگان رهبری کی جانب سےامام زمان (عجلالله تعالی فرجه الشریف) کے نائب عام اور ولایت فقیه|ولی فقیہ کے طور پر آیتالله سید مجتبی خامنهای کے انتخاب پر ہم مبارکباد پیش کرتے ہیں اور خداوند متعال کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں نعمتِ ولایت عطا کی۔
ہم جامع الشرائط فقیه، جوان مفکر اور سیاسی و سماجی مسائل کے ماہر حضرت آیتالله سید مجتبی خامنهای کے انتخاب پر تبریک پیش کرتے ہوئے اپنے احترام، ارادت اور اطاعت کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ انتخاب انقلاب اسلامی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔
سپاه پاسداران انقلاب اسلامی ولایت کا سپاہی ہونے کے ناطے مجلس خبرگان کے اس انتخاب کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ولی فقیہ زمان حضرت آیتالله سید مجتبی خامنهای کے احکامات کی اطاعت اور انقلاب اسلامی کی اقدار کے دفاع کے لیے آمادہ ہے۔
سپاه پاسداران انقلاب اسلامی 18 اسفند 1404
معلم اور مزدور ثقافتی و معاشی جنگ میں ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، رہبر معظم انقلاب
رہبر معظم انقلاب آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے یوم معلم اور یوم مزدور کے حوالے سے کہا ہے کہ معلم اور مزدور ایران کی ثقافتی اور معاشی جدوجہد کے سب سے مضبوط ستون ہیں، ان کی قدر دانی صرف زبانی نہیں بلکہ عملی ہونی چاہیے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے یوم معلم اور یوم مزدور کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہر ملک کی ترقی دو بنیادی ستونوں پر قائم ہوتی ہے؛ علم اور عمل۔
انہوں نے کہا کہ علم کی بنیاد رکھنے میں معلم کا کردار سب سے نمایاں ہے کیونکہ وہ صرف تعلیم ہی نہیں دیتا بلکہ نئی نسل کی تربیت، سوچ کی تشکیل اور شناخت کی تعمیر میں بھی مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
آج کے طلباء مستقبل میں اپنے اساتذہ کے اخلاق، انداز گفتگو اور رویّے کو عملی زندگی میں ظاہر کریں گے۔
انہوں نے مزدور اور محنت کش طبقے کے بارے میں کہا کہ ملک میں کام کا میدان بہت وسیع ہے جو گھروں، دفاتر، بازاروں، کھیتوں، کارخانوں، ورکشاپس، کانوں اور مختلف خدماتی شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔
اگر یہ میدان محنت اور ذمہ داری کے جذبے سے بھر جائے تو قومی ترقی یقینی طور پر مضبوط ہوگی۔
پیغام میں مزید کہا گیا کہ بعض اوقات ایک مزدور اپنی محنت اور دیانت کے ذریعے اتنا بلند مقام حاصل کر لیتا ہے کہ اس کے ہاتھ کو بھی استاد کی طرح احترام کے ساتھ چومنے کے قابل سمجھا جانا چاہیے۔
یہ تربیت انسان کو سب سے پہلے والدین اور پھر استاد کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوری ایران نے 47 سال کی جدوجہد کے بعد دشمنوں کے مقابلے میں اپنی عسکری طاقت دنیا پر ثابت کر دی ہے،
اب ضروری ہے کہ ایران اقتصادی اور ثقافتی میدان میں بھی دشمن کو مایوس اور شکست سے دوچار کرے۔
رہبر انقلاب نے کہا کہ ثقافتی جنگ میں سب سے مؤثر کردار معلم کا ہے اور اقتصادی جنگ میں مزدور طبقہ سب سے اہم عناصر میں شامل ہے، اسی لیے یہ دونوں ملک کی ثقافت اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اساتذہ اور مزدوروں کو اپنے مقام کو صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ قومی ذمہ داری کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
رہبرِ انقلاب نے سالانہ رسمی تقریبات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف زبانی تعریف کافی نہیں، بلکہ ان طبقات کی عملی مدد ضروری ہے۔ جس طرح عوام اپنے دفاعی اداروں کی حمایت کے لیے میدان میں نکلتے ہیں، اسی طرح انہیں چاہیے کہ معلموں اور مزدوروں کے ساتھ بھی مضبوط تعاون کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے اپیل کی کہ اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے انتظام میں والدین اور خاندانوں کا کردار بڑھایا جائے اور ملکی مصنوعات کے استعمال کو ترجیح دے کر مزدور طبقے کی حمایت کی جائے۔
رہبر انقلاب نے کاروباری افراد کو بھی تاکید کی کہ وہ مشکل حالات میں ملازمین کو نکالنے سے حتی المقدور پرہیز کریں اور ہر مزدور کو ادارے کا اثاثہ سمجھیں۔ حکومت کو بھی ایسے خیر خواہانہ اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے۔
رہبر انقلاب نے امید ظاہر کی کہ ایران اپنی اسلامی و ایرانی شناخت کو مضبوط کرکے، نئی نسل کی تربیت اور ملکی پیداوار کی حمایت کے ذریعے ترقی اور بلندی کی منزلوں کی طرف مزید تیزی سے بڑھے گا[3]۔
فردوسی کی رزمیہ داستانیں ایرانی قوم کی بہادری کی جیتی جاگتی تصویر ہیں
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کہا ہے کہ فردوسی کی رزمیہ داستانیں دراصل ایرانی قوم کی حقیقی اور بہادرانہ زندگی کی عکاسی کرتی ہیں۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای نے حکیم ابوالقاسم فردوسی کی یاد اور فارسی زبان کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ فارسی زبان اور ادب، ایرانی اسلامی تہذیب اور ثقافت کو دنیا بھر میں فروغ دینے کی عظیم صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے تیسری مقدس دفاعی جنگ میں بھی گزشتہ دو مسلط کردہ جنگوں کی طرح ثابت کر دیا کہ فردوسی کی رزمیہ داستانیں دراصل ان کی حقیقی زندگی اور بہادرانہ شخصیت کی عکاس ہیں۔
رہبر انقلاب نے مزید کہا کہ شاہنامہ کے انسان ساز، شجاعانہ اور قرآنی تصورات نے ایران کی تمام قومیتوں اور طبقات کو اپنی شناخت، اصالت اور استقلال کے دفاع اور جارح ضحاک صفت دشمنوں کے خلاف متحد رکھا۔
انہوں نے کہا کہ قوم کی یہ عظیم قربانی، مزاحمت اور کامیابی اہل ثقافت، ادب اور فن پر ایک بڑی ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ وہ فردوسی کی طرح اٹھ کھڑے ہوں اور عوامی بیداری کے تسلسل میں فنکاروں کی ذمہ داری ادا کریں۔
رہبر معظم انقلاب نے زور دیا کہ اہل قلم اور فنکار فکر، قلم، زبان اور فن کو یکجا کر کے ایرانی قوم کی عظیم جدوجہد اور بیداری کی داستان کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ بنائیں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ شیطان صفت طاقتوں اور عالمی جارحیت کے خلاف ایرانی قوم کی غیرت مندانہ مزاحمت اور شاندار کامیابی نے عوام کو تہذیبی استقلال کے تحفظ اور امریکی ثقافتی، لسانی اور طرز زندگی کی یلغار کے مقابلے کے لیے مزید تیار کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ثقافتی میدان میں سرگرم افراد کی جدت اور تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے لسانی اور فکری دفاع کو مضبوط بنایا جائے اور بچوں، نوجوانوں اور نئی نسل کی تربیت و ترقی کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں تاکہ قوم حتمی کامیابی تک زیادہ استقامت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھ سکے[4]۔
احساس ذمہ داری اور عوام دوستی» شہید آیت اللہ رئیسی کی نمایاں خصوصیت تھی

شہید رئیسی اور شہدائے خدمت کی شہادت کی دوسری برسی کی مناسبت سے رہبر انقلاب کا پیغام: رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے بدھ 20 مئی کو شہید صدر مملکت سید ابراہیم رئیسی اور ان کے شہید رفقائے کار کی دوسری برسی کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا ہے۔
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے بدھ 20 مئی کو شہید صدر مملکت سید ابراہیم رئیسی اور ان کے شہید رفقائے کار کی دوسری برسی کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا ہے۔ رہبر انقلاب کا پیغام حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اردیبہشت (مئی) کی فلائٹ کے شہداء اور ان میں سرفہرست شہید صدر جمہوریہ حجت الاسلام والمسلمین رئیسی کی یاد منانا، اسلامی جمہوریہ ایران میں خدمت گزار شہداء کے عظیم کارواں کی شہادت کی یاد تازہ کرتا ہے؛
مطہری، بہشتی، رجائی اور باہنر سے لے کر رئیسی، آل ہاشم، امیر عبداللہیان اور لاریجانی تک، عظیم امام خمینی اور عزیز خامنہ ای اعلیٰ اللہ مقامہما کے مکتب کے سیکڑوں نمایاں اور تربیت یافتہ افراد، جنھوں نے اسلامی جمہوریہ کے عہدیداروں کی مخلصانہ اور مجاہدانہ خدمت کے دفتر کو اپنے خون آلود دستخط سے مزین کیا۔
شہید رئیسی کی نمایاں خصوصیات میں فرض شناسی، جوانوں کو آگے لانا، عدل و انصاف پر توجہ، فعال اور نفع بخش سفارت کاری اور خصوصاً ان کے عوامی ہونے کو شمار کیا جا سکتا ہے۔ یہ خصوصیات طاقتور مزاحمتی محاذ کے مجاہدوں اور نظام کے بہت سے خیر خواہوں سمیت ایران کے دوستوں کا حوصلہ بڑھنے کا سبب بنتی تھیں۔
البتہ یہ سب کچھ اس روحانیت کے ساتھ جڑا ہوا تھا جس کی جڑیں ان کے دل و جان کی گہرائیوں میں پیوست تھیں۔ عہدیداروں اور عوام کے درمیان تعلق میں، مؤثر مثبت خصوصیات، باہمی قدردانی کا سبب بنتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے مولا اور آقا حضرت ابی الحسن الرضا صلوات اللہ و سلامہ علیہ کے جوار تک ان کا آخری سفر عدیم المثال شان و شوکت کے ساتھ انجام پایا۔
اس شہید کے ادھورے رہ جانے والے عہد صدارت نے قوم اور ملک کی خود مختاری کو محفوظ رکھتے ہوئے، اس کے لیے کوشش اور دلسوزی کا ایک معیار فراہم کیا۔
آج ہم دو عالمی دہشت گرد افواج کے مقابلے میں ایرانی قوم کی عظیم اور تاریخ کی بے نظیر شجاعت کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ چیز اسلامی جمہوریہ کے عہدیداروں؛ اعلیٰ قیادت اور انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے سربراہوں سے لے کر تمام سطحوں کے سربراہوں تک کی ذمہ داری کو پہلے سے زیادہ سنگین بنا دیتی ہے۔
آج قوم، حکومت اور اسلامی جمہوریہ کے تمام اداروں کے مابین اتحاد کی نعمت کا شکر، عہدیداروں کے خدمت کے جذبے کی تقویت اور ان کی دگنی اور مجاہدانہ خدمت، عوام کے مسائل اور پریشانیوں خصوصاً اقتصادی اور معاشی میدان میں ان کی مشکلات کو دور کرنا، میدان میں براہ راست موجودگی اور ملک کی پیشرفت اور روشن مستقبل کی جانب امید افزا حرکت کی راہ میں میدان میں موجود عوام کے سنجیدہ کردار کی تعریف پیش کرنا ہے۔
راہ خدمت کے شہداء پر خداوند کی رحمت ہو اور ہمارے آقا عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی دعا ایران کے مسلمان عوام کے خدمت گزاروں کی پشت پناہ ہو۔
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
20 مئی 2026[5]۔
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
- ↑ آیتالله حاج سید مجتبی خامنهای، کانال دکتر شیخ مجتبی ابوترابی در بستر ایتا.
- ↑ رهبر جدید انقلاب اسلامی توسط مجلس خبرگان رهبری تعیین و معرفی شد، پایگاه اطلاع رسانی مجلس خبرگان رهبری.
- ↑ معلم اور مزدور ثقافتی و معاشی جنگ میں ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، رہبر معظم انقلاب- شائع شدہ از: 1 مئی 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 2 مئی 2026ء
- ↑ فردوسی کی رزمیہ داستانیں ایرانی قوم کی بہادری کی جیتی جاگتی تصویر ہیں، رہبر انقلاب- شائع شدہ از: 16 مئی 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 16 مئی 2026ء
- ↑ «احساس ذمہ داری اور عوام دوستی» شہید آیت اللہ رئیسی کی نمایاں خصوصیت تھی- شائع شدہ از: 20 مئی 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 20مئی 2026ء
مآخذ
- آیتالله حاج سید مجتبی خامنهای، چینل ڈاکٹر شیخ مجتبی ابوترابی در بستر ایتا، تاریخِ اشاعت: 27 فروری 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: 5 مارچ 2026ء
- رہبر جدید انقلاب اسلامی توسط مجلس خبرگان رهبری تعیین و معرفی شد، مجلس خبرگان رهبری کی اطلاع رسانی ویب سائٹ، تاریخِ اشاعت: 8 مارچ 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: 8 مارچ 2026ء