مندرجات کا رخ کریں

"امن" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
ترجمه خودکار از ویکی فارسی
 
ترجمه خودکار از ویکی فارسی
 
سطر 1: سطر 1:
[[فائل:صلح.jpg|بغیر کیپشن|بائیں|]]
[[تصویر:صلح.jpg|بے قاب|بائیں|]]


'''صلح'''، بین الاقوامی تعلقات میں ایک قانونی اور سیاسی تصور ہے جو دو یا دو سے زیادہ ممالک کے درمیان ایک مستقل اور قانونی معاہدہ ہے جو نہ صرف [[جنگ]] کا خاتمہ کرتا ہے، بلکہ ایک نئی صورتحال کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ [[اقوام متحدہ]] نے 21 ستمبر کو یوم عالمی صلح قرار دیا ہے۔ یہ تاریخ جنرل اسمبلی کے ستاونویں اجلاس میں منتخب کی گئی۔ ماضی میں اور قطعنامہ 36/67 کی بنیاد پر جو 30 نومبر 1981ء کو جاری ہوا، ستمبر کی تیسری منگل کو، جو جنرل اسمبلی کے باقاعدہ اجلاسوں کی افتتاحی تاریخ ہوتی تھی، یوم عالمی صلح کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔
'''صلح'''، بین الاقوامی تعلقات میں ایک قانونی اور سیاسی تصور ہے جو دو یا چند ممالک کے درمیان ایک مستقل اور قانونی معاہدہ ہے جو نہ صرف [[جنگ]] کا خاتمہ کرتا ہے، بلکہ ایک نئی صورتحال کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ [[اقوام متحدہ]] نے 21 ستمبر کو یوم عالمی صلح قرار دیا ہے۔ یہ تاریخ جنرل اسمبلی کے ستاونویں اجلاس میں منتخب کی گئی۔ ماضی میں اور قطعنامہ 36/67 کی بنیاد پر جو 30 نومبر 1981 کو جاری ہوا، ستمبر کی تیسری منگل کو، جو جنرل اسمبلی کے باقاعدہ اجلاسوں کی افتتاحی تاریخ ہے، یوم عالمی صلح کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔


== معاہدہ صلح ==
== معاہدہ صلح ==
صلح تنازعات کے اختتام میں سب سے اونچا اور حتمی مرحلہ ہے۔ یہ دستاویز دو یا دو سے زیادہ ممالک کے درمیان ایک مستقل اور قانونی معاہدہ ہے جو نہ صرف [[جنگ]] کا خاتمہ کرتا ہے، بلکہ ایک نئی صورتحال کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔
صلح تنازعات کے اختتام کا اعلیٰ اور حتمی مرحلہ ہے۔ یہ دستاویز دو یا چند ممالک کے درمیان ایک مستقل اور قانونی معاہدہ ہے جو نہ صرف [[جنگ]] کا خاتمہ کرتا ہے، بلکہ ایک نئی صورتحال کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔
* '''اختلافات کا بنیادی حل:''' اس معاہدے میں، بنیادی اختلافات جیسے بین الاقوامی سرحدیں، معاشی اور سیاسی مسائل اور حملہ آور کا تعین مکمل طور پر حل کیے جاتے ہیں۔
* '''اختلافات کا بنیادی حل:''' اس معاہدے میں، بنیادی اختلافات جیسے بین الاقوامی سرحدیں، معاشی اور سیاسی مسائل اور حملہ آور کا تعین مکمل طور پر حل کیے جاتے ہیں۔
* '''نقصانات کا ازالہ:''' اس میں جنگی ہرجانے کی ادائیگی اور پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کا طریقہ کار واضح کیا جاتا ہے۔
* '''نقصانات کا ازالہ:''' اس میں جنگی ہرجانے کی ادائیگی اور پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کا طریقہ کار واضح کیا جاتا ہے۔
* '''جنگی صورتحال کا سرکاری اختتام:''' صرف معاہدہ صلح کی منظوری اور دستخط سے ہی قانونی طور پر جنگی صورتحال ختم ہوتی ہے اور معمول کے سفارتی اور معاشی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔
* '''جنگی حالت کا سرکاری خاتمہ:''' صرف معاہدہ صلح کی منظوری اور دستخط سے جنگی حالت قانونی طور پر ختم ہوتی ہے اور معمول کے سفارتی اور معاشی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔
* '''اندرونی ضوابط:''' اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین میں، صلح کا اعلان [[سید علی حسینی خامنہ ای|مقام معظم رہبری]] کی ذمہ داریوں (اصل 110) میں سے ہے اور معاہدہ صلح کا انعقاد مجلس شوریٰ اسلامی کی منظوری (اصل 77) اور صدر کے دستخط (اصل 125) کا محتاج ہے۔
* '''داخلی قوانین:''' اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین میں، صلح کا اعلان [[سید علی حسینی خامنہ ای|مقام معظم رہبری]] کی ذمہ داریوں (اصل 110) میں سے ہے اور معاہدہ صلح کا انعقاد مجلس شورای اسلامی کی منظوری (اصل 77) اور صدر کے دستخط (اصل 125) کا محتاج ہے۔
* '''ضمنی شناخت:''' اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے قبضہ کرنے والی رژیم [[اسرائیل]] کے ساتھ معاہدہ صلح کرنا ممکن نہیں ہے، کیونکہ یہ اس رژیم کو تسلیم نہیں کرتی اور معاہدہ صلح اس کی ضمنی شناخت کے مترادف ہوگا۔ نیز ایران اور اسرائیل کے درمیان اختلافات کو بنیادی اور ناقابل حل سمجھا جاتا ہے، لہذا دونوں فریقین کے درمیان صورتحال صرف جنگ بندی ہی رہے گی۔
* '''ضمنی شناخت:''' اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے مقبوضہ رژیم [[اسرائیل]] کے ساتھ معاہدہ صلح کرنا ممکن نہیں ہے، کیونکہ یہ اس رژیم کو تسلیم نہیں کرتی اور معاہدہ صلح اس کی ضمنی شناخت کے مترادف ہوگا۔ نیز ایران اور اسرائیل کے درمیان اختلافات کو بنیادی اور حل نہ ہونے والا سمجھا جاتا ہے، لہذا دونوں فریقین کے درمیان صورتحال صرف جنگ بندی ہی رہے گی۔


=== جنگ بندی ===
=== آتش بندی ===
جنگ بندی کا مطلب ایک مخصوص علاقے یا وقت میں فوجی کارروائیوں کا عارضی اور محدود توقف ہے۔ یہ تصور ایک سطحی اور عارضی معاہدہ شمار ہوتا ہے اور ہر لمحے فریقین کے درمیان اس کے ٹوٹنے اور خلاف ورزی کا امکان موجود رہتا ہے۔
آتش بندی کا مطلب ایک مخصوص علاقے یا وقت میں فوجی کارروائیوں کا عارضی اور محدود توقف ہے۔ یہ تصور ایک سطحی اور عارضی معاہدہ شمار ہوتا ہے اور اس کے فریقین کی جانب سے کسی بھی وقت ٹوٹنے اور اس کی خلاف ورزی کا امکان موجود رہتا ہے۔
* '''عارضی نوعیت:''' جنگ بندی [[جنگ]] کا خاتمہ نہیں کرتی، بلکہ صرف مختصر مدت کے لیے جھڑپوں کو روکتی ہے۔
* '''عارضی نوعیت:''' آتش بندی [[جنگ]] کا خاتمہ نہیں کرتی، بلکہ صرف مختصر مدت کے لیے جھڑپوں کو روکتی ہے۔
* '''انسانی یا حکمت عملی کے مقاصد:''' عام طور پر زخمیوں کی evacuación، ہلاک شدگان کی تدفین، یا شکست خوردہ فورسز کی تسلیمی کے لیے اور کبھی کبھی صلح کے مذاکرات شروع کرنے کے پہلے قدم کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔
* '''انسانی یا حکمت عملی کے مقاصد:''' عام طور پر اس کا استعمال زخمیوں کی evacuación، ہلاک شدگان کی تدفین، یا شکست خوردہ فورسز کی تسلیمی کے لیے کیا جاتا ہے اور کبھی کبھار صلح کے مذاکرات کے آغاز کے لیے پہلا قدم بھی ہوتا ہے۔
* '''جنگی صورتحال کا خاتمہ نہ ہونا:''' فعال جنگ کے توقف کے باوجود، اختلافات، دشمنی اور جنگی حالت برقرار رہتی ہے۔
* '''جنگی حالت کا خاتمہ نہ ہونا:''' فعال جنگ کے توقف کے باوجود، اختلافات، دشمنی اور جنگی حالت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔
* '''قانونی مثال:''' سلامتی کونسل کا قطعنامہ 598 جو [[ایران]] اور [[عراق]] کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے ابتدائی قدم کے طور پر مقرر کیا گیا، جنگ بندی کی واضح مثال تھی۔
* '''قانونی مثال:''' سلامتی کونسل کا قطعنامہ 598 جو [[ایران]] اور [[عراق]] کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے ابتدائی قدم کے طور پر مقرر کیا گیا، آتش بندی کی واضح مثال ہے۔


=== ترک مخاصمہ ===
=== ترک مخاصمہ ===
ترک مخاصمہ جنگ بندی سے زیادہ رسمی، قانونی اور وسیع تر معاہدہ ہے جو فریقین [[جنگ]] کے درمیان فوجی جھڑپوں کو ختم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
ترک مخاصمہ ایک باضابطہ، قانونی اور آتش بندی سے وسیع تر معاہدہ ہے جو فریقین [[جنگ]] کے درمیان فوجی جھڑپوں کو ختم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
* '''جنگی کارروائیوں کا معطل ہونا:''' ترک مخاصمہ میں، فوجی کارروائیاں معطل ہو جاتی ہیں، لیکن قانونی طور پر جنگی صورتحال ختم نہیں ہوتی۔ یعنی جنگ رک گئی ہے، لیکن ابھی "ختم" نہیں ہوئی ہے۔
* '''جنگی کارروائیوں کا معطل ہونا:''' ترک مخاصمے میں، فوجی کارروائیاں معطل ہو جاتی ہیں، لیکن جنگی حالت قانونی طور پر ختم نہیں ہوتی۔ دوسرے لفظوں میں، جنگ رک جاتی ہے، لیکن ابھی تک «ختم» نہیں ہوتی۔
* '''غیر معینہ مدت:''' جنگ بندی کے برعکس جو محدود ہوتی ہے، ترک مخاصمہ لمبی یا غیر معینہ مدت کے لیے ہو سکتا ہے۔
* '''غیر معینہ مدت:''' آتش بندی کے برعکس جو محدود ہوتی ہے، ترک مخاصمہ لمبی یا غیر معینہ مدت کے لیے ہو سکتا ہے۔
* '''خلاف ورزی اور جنگ کی واپسی کی صلاحیت:''' یہ دستاویز پائیدار صلح کی ضمانت نہیں دیتی۔ 1907ء کے ہیگ صلح کنونشن کی شق 36 سے 41 کے مطابق، اگر فریقین میں سے کوئی ایک ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی کرے، تو دوسرا فریق دشمنی کی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا حق رکھتا ہے۔ ذیل میں اس موضوع کی تاریخی مثالیں دی گئی ہیں:
* '''خلاف ورزی اور جنگ کی واپسی کی صلاحیت:''' یہ دستاویز پائیدار صلح کی ضمانت نہیں دیتی۔ 1907ء کے ہیگ امن کنونشن کی شق 36 سے 41 کے مطابق، اگر فریقین میں سے کوئی ایک ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی کرے، تو دوسرا فریق دشمنی کی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا حق رکھتا ہے۔ ذیل میں اس موضوع کی تاریخی مثالیں دی گئی ہیں:


*'''پیمان حدیبیہ:''' بعض مورخین [[اسلام]] کی تاریخ میں ترک مخاصمہ کی سب سے اہم مثال چھٹی ہجری میں [[صلح حدیبیہ]] کے معاہدے کو جانتے ہیں جس کے تحت [[مسلمان]] اور [[مکہ]] کے مشرکین نے دس سال کے لیے جنگ سے دستبردار ہوئے۔
*'''معاہدہ حدیبیہ:''' بعض مورخین [[اسلام]] کی تاریخ میں ترک مخاصمے کی سب سے اہم مثال کو چھٹی ہجری میں [[صلح حدیبیہ]] کا معاہدہ قرار دیتے ہیں جس کے تحت [[مسلمان|مسلمانوں]] اور [[مکہ]] کے مشرکوں نے دس سال کے لیے جنگ سے دستبردار ہونے پر اتفاق کیا۔
*'''جنگ کوریا:''' 1950ء کی کوریا جنگ کے بعد، 1953ء میں ترک مخاصمہ کے معاہدے پر دستخط ہوئے، لیکن قانونی طور پر دونوں کوریا ابھی تک جنگ کی حالت میں ہیں اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ صلح دستخط نہیں ہوا تھا۔
*'''کوریا کی جنگ:''' 1950ء کی کوریا کی جنگ کے بعد، 1953ء میں ترک مخاصمے کے معاہدے پر دستخط ہوئے، لیکن قانونی طور پر دونوں کوریا ابھی تک جنگ کی حالت میں ہیں اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ صلح دستخط نہیں ہوا تھا۔


=== تصورات کا موازنہ جدول ===
=== تصورات کا موازنہ جدول ===
{| class="wikitable" style="font-size:90%; text-align:right; width:100%;"
{| class="wikitable" style="font-size:90%; text-align:right; width:100%;"
|+ '''جنگ بندی، ترک مخاصمہ اور معاہدہ صلح کا موازنہ'''
|+ '''آتش بندی، ترک مخاصمہ اور معاہدہ صلح کا موازنہ'''
! خصوصیت || جنگ بندی || ترک مخاصمہ || معاہدہ صلح
! خصوصیت || آتش بندی || ترک مخاصمہ || معاہدہ صلح
|-
|-
| '''نوعیت''' || عارضی اور محدود || رسمی اور قانونی (جنگ کا معطل ہونا) || مستقل اور حتمی
| ''' نوعیت''' || عارضی اور محدود || باضابطہ اور قانونی (جنگ کا معطل ہونا) || مستقل اور حتمی
|-
|-
| '''جنگی صورتحال''' || جاری رہتی ہے || جاری رہتی ہے (کارروائیوں کا معطل ہونا) || ختم ہو جاتی ہے
| '''جنگی حالت''' || برقرار رہتی ہے || برقرار رہتی ہے (کارروائیوں کا معطل ہونا) || ختم ہو جاتی ہے
|-
|-
| '''اختلافات کا حل''' نہیں ہوتا || نہیں ہوتا || بنیادی حل ہوتا ہے
| '''اختلافات کا حل''' نہیں ہوتا || نہیں ہوتا || بنیادی حل ہوتا ہے
سطر 40: سطر 40:
| '''جنگ کی واپسی کی صلاحیت''' || بہت زیادہ || ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی صورت میں ممکن || ناممکن (سوائے معاہدہ منسوخ ہونے کے)
| '''جنگ کی واپسی کی صلاحیت''' || بہت زیادہ || ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی صورت میں ممکن || ناممکن (سوائے معاہدہ منسوخ ہونے کے)
|-
|-
| '''تاریخی مثال''' || قطعنامہ 598 (ایران اور عراق) || پیمان حدیبیہ / کوریا معاہدہ | معاہدہ ورسائی / معاہدہ کیل
| '''تاریخی مثال''' || قطعنامہ 598 (ایران اور عراق) || معاہدہ حدیبیہ / کوریا معاہدہ | معاہدہ ورسائی / معاہدہ کیلیو
|}
|}


== اسلام میں صلح ==
== اسلام میں صلح ==
[[فائل:صلح 1.jpg|بغیر کیپشن|درمیان|]]
[[تصویر:صلح 1.jpg|بے قاب|درمیان|]]


الہی دین [[اسلام]] انسانوں کو سب سے زیادہ صلح، مصالحت اور پرامن زندگی کی دعوت دیتا ہے اور شعار «اَلصُّلْحُ خَیْرٌ» کے ساتھ صلح کو اپنے اہم ترین اعلیٰ مقاصد میں سے ایک کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اسلام کی خارجی اور داخلی پالیسی پرامن زندگی کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے اور ہمیشہ کوشاں رہتی ہے کہ دنیا میں صلح اور امن قائم ہو۔
الہی دین [[اسلام]] انسانوں کو سب سے زیادہ صلح، مصالحت اور پرامن زندگی کی دعوت دیتا ہے اور شعار «اَلصُّلْحُ خَیْرٌ» کے ساتھ صلح کو اپنے اہم ترین عالی مقاصد میں سے ایک کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اسلام کی خارجی اور داخلی پالیسی پرامن زندگی کی بنیاد پر ترتیب دی جاتی ہے اور ہمیشہ کوشش کرتی ہے کہ دنیا میں صلح اور امن قائم ہو۔
اس اصول کے مطابق، جب بھی دشمن کی جانب سے صلح اور امن کی تجویز پیش کی جائے، اسلامی حکمران (جن شرائط کا ذکر بعد میں کیا جائے گا) کو صلح کو قبول کرنے اور جنگ کو چھوڑنے کا پابند ہے۔ اب جب کہ ہم اسلام کی اس کلی پالیسی سے واقف ہو گئے، دیکھتے ہیں کہ کیا صلح ہر جگہ اور ہر حال میں اور بغیر کسی شرط کے اسلام کی جانب سے قبول کی گئی ہے یا صلح کی قبولیت کچھ خاص شرائط کی پابند ہے؟
اس اصول کے مطابق، جب بھی دشمن کی جانب سے صلح اور امن کی تجویز پیش کی جائے، اسلامی حکمران (جن شرائط کا ذکر بعد میں کیا جائے گا) کو صلح کو قبول کرنے اور جنگ کو ختم کرنے کا پابند ہے۔ اب جب کہ ہم اسلام کی اس کلی پالیسی سے واقف ہو گئے ہیں، دیکھتے ہیں کہ کیا صلح ہر جگہ اور ہر حال میں اور بغیر کسی شرط کے اسلام کی جانب سے قبول کی گئی ہے یا صلح کی قبولیت کچھ خاص شرائط کی پابند ہے؟
تمام شیعہ فقہاء کے اجماع کے مطابق، صلح پر رضامندی کی بنیادی شرط یہ ہے کہ مصالحت اسلام کے حق میں اور مسلمانوں کے فائدے میں ہو۔ اگر صلح اسلام کے نقصان کا باعث ہو اور مسلمانوں کی کمزوری کا سبب بنے، تو ایسی صلح پر رضامندی درست اور جائز نہیں ہے۔
تمام شیعہ فقہاء کے اجماع کے مطابق، صلح پر رضامندی کی بنیادی شرط یہ ہے کہ مصالحت اسلام کے حق میں اور مسلمانوں کے مفاد میں ہو۔ اگر صلح اسلام کے نقصان کا باعث ہو اور مسلمانوں کی کمزوری کا سبب بنے، تو ایسی صلح پر رضامندی درست اور جائز نہیں ہے۔


=== صلح کی شرائط اور فوائد ===
=== صلح کی شرائط اور فوائد ===
اسی بنیاد پر [[علی بن ابی طالب|حضرت علی (علیہ السلام)]] فرماتے ہیں:
اسی بنیاد پر [[علی بن ابی طالب|حضرت علی (علیہ السلام)]] فرماتے ہیں:
'''«وَ لا تَدْفَعَنَّ صُلْحاً دَعَاکَ إِلَیْهِ عَدُوُّکَ و لِلَّهِ فِیهِ رِضًا فَإِنَّ فِی الصُّلْحِ دَعَةً لِجُنُودِکَ وَ رَاحَةً مِنْ هُمُومِکَ وَ أَمْناً لِبِلادِکَ وَ لَکِنِ الْحَذَرَ کُلَّ الْحَذَرِ مِنْ عَدُوِّکَ بَعْدَ صُلْحِهِ فَإِنَّ الْعَدُوَّ رُبَّمَا قَارَبَ لِیَتَغَفَّلَ فَخُذْ بِالْحَزْمِ وَ اتَّهِمْ فِی ذَلِکَ حُسْنَ الظَّنِّ»'''؛ جو صلح دشمن تجھے پیش کرے اور اس میں خدا کی رضامندی ہو، اسے رد نہ کر؛ کیونکہ صلح تیرے لشکریوں کے لیے آسائش، تیری فکروں کے لیے آرام اور تیرے ملک کے لیے امن کا باعث ہوگا۔ لیکن صلح کے بعد اپنے دشمن سے ہر طرح محتاط اور ہوشیار رہ؛ کیونکہ ہو سکتا ہے صلح کی تجویز فریب دینے کے لیے ہو۔ لہذا بہتر ہے کہ احتیاط کو ہاتھ سے نہ جانے دے اور اس مصالحت میں خوش فہمی کو شک کی نگاہ سے دیکھے۔ حضرت کی عبارات پر غور کرنے سے صلح کے بنیادی فوائد بھی واضح ہو جاتے ہیں:
'''«وَ لا تَدْفَعَنَّ صُلْحاً دَعَاکَ إِلَیْهِ عَدُوُّکَ و لِلَّهِ فِیهِ رِضًا فَإِنَّ فِی الصُّلْحِ دَعَةً لِجُنُودِکَ وَ رَاحَةً مِنْ هُمُومِکَ وَ أَمْناً لِبِلادِکَ وَ لَکِنِ الْحَذَرَ کُلَّ الْحَذَرِ مِنْ عَدُوِّکَ بَعْدَ صُلْحِهِ فَإِنَّ الْعَدُوَّ رُبَّمَا قَارَبَ لِیَتَغَفَّلَ فَخُذْ بِالْحَزْمِ وَ اتَّهِمْ فِی ذَلِکَ حُسْنَ الظَّنِّ»'''؛ جس صلح کو دشمن تمہاری طرف پیش کرے اور وہ خدا کی رضامندی کے مطابق ہو، اسے رد مت کرو؛ کیونکہ صلح تمہارے لشکریوں کے لیے آسائش، تمہارے لیے فکر سے آرام اور تمہارے ملک کے لیے امن کا باعث ہوگی۔ لیکن صلح اور مصالحت کے بعد سخت احتیاط اور بیداری سے کام لو؛ کیونکہ ہو سکتا ہے صلح کی تجاویز فریق کو غافل کرنے کے لیے ہوں۔ لہذا بہتر ہے کہ احتیاط کو ہاتھ سے نہ جانے دو اور اس مصالحت میں خوش فہمی کو مشکوک سمجھو۔ حضرت کی عبارات پر غور کرنے سے صلح کے بنیادی فوائد بھی واضح ہو جاتے ہیں:
پرامن زندگی کے قیام اور حکمرانی سے، فوج اور مسلح افواج کو رفاه اور آسائش نصیب ہوتی ہے۔ اسلامی حکمران بھی ضروری روحی سکون اور امنیت سے بہرہ ور ہوتا ہے اور اس سکون کے سائے میں وہ مملکت کی بے ترتیبیوں کو درست کر سکتا ہے اور ان سب سے اہم یہ کہ معاشرے کے افراد جن کی بہترین خواہش امنیت ہوتی ہے، اسے حاصل کرتے ہیں<ref>[https://www.hawzahnews.com/news/905276/%D8%A8%D8%A7-%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA-%DA%A9%D9%84%DB%8C-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%AF%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D9%87-%D8%B5%D9%84%D8%AD-%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7-%D8%B4%D9%88%DB%8C%D9%85-%DA%86%D9%87-%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%85%DB%8C-%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86-%D8%A8%D8%A7 اسلام میں صلح کی کلی پالیسی سے واقف ہوں/ دشمن کے ساتھ کب صلح کی جا سکتی ہے؟، حوزہ نیوز ویب سائٹ]۔</ref>۔
پرامن زندگی کے قیام اور حاکمیت کے ساتھ، فوج اور مسلح افواج کو رفاه اور آسائش حاصل ہوتی ہے۔ اسلامی حکمران بھی ضروری روحی سکون اور امنیت سے بہرہ ور ہوتا ہے اور اس سکون کے سائے میں وہ مملکت کی بے ترتیبیوں کو درست کر سکتا ہے اور ان سب سے اہم یہ کہ معاشرے کے افراد جن کی بہترین خواہش امنیت ہے، اسے حاصل کرتے ہیں<ref>[https://www.hawzahnews.com/news/905276/%D8%A8%D8%A7-%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA-%DA%A9%D9%84%DB%8C-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%AF%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D9%87-%D8%B5%D9%84%D8%AD-%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7-%D8%B4%D9%88%DB%8C%D9%85-%DA%86%D9%87-%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%85%DB%8C-%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86-%D8%A8%D8%A7 اسلام کے ساتھ صلح کے بارے میں کلی پالیسی سے واقف ہوں/ دشمن کے ساتھ کب صلح کی جا سکتی ہے؟، حوزہ نیوز ویب سائٹ]۔</ref>۔


== مزید دیکھیے ==
== مزید دیکھیے ==
سطر 67: سطر 67:


== ماخذ ==
== ماخذ ==
*[https://www.khabarfoori.com/%D8%A8%D8%AE%D8%B4-%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C-59/3152815-%D8%AA%D9%81%D8%A7%D9%88%D8%AA-%D8%A2%D8%AA%D8%B4-%D8%A8%D8%B3-%D8%AA%D8%B1%DA%A9-%D9%85%D8%AE%D8%A7%D8%B5%D9%85%D9%87-%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%87%D8%AF%D9%87-%D8%B5%D9%84%D8%AD-%DA%86%DB%8C%D8%B3%D8%AA جنگ بندی، ترک مخاصمہ اور معاہدہ صلح میں کیا فرق ہے؟، خبر فوری ویب سائٹ]، مواد درج کرنے کی تاریخ: 18 جولائی 2025ء، مواد دیکھنے کی تاریخ: 7 اپریل 2026ء۔
*[https://www.khabarfoori.com/%D8%A8%D8%AE%D8%B4-%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C-59/3152815-%D8%AA%D9%81%D8%A7%D9%88%D8%AA-%D8%A2%D8%AA%D8%B4-%D8%A8%D8%B3-%D8%AA%D8%B1%DA%A9-%D9%85%D8%AE%D8%A7%D8%B5%D9%85%D9%87-%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%87%D8%AF%D9%87-%D8%B5%D9%84%D8%AD-%DA%86%DB%8C%D8%B3%D8%AA آتش بندی، ترک مخاصمہ اور معاہدہ صلح میں کیا فرق ہے؟، خبر فوری ویب سائٹ]، مواد درج کرنے کی تاریخ: 18 تیر ماہ 1404 ہجری شمسی، مواد دیکھنے کی تاریخ: 7 اردیبهشت ماہ 1405 ہجری شمسی۔


[[زمرہ:مفہوم اور اصطلاحات]]
[[زمرہ:مفہومات اور اصطلاحات]]
[[زمرہ:سیاسی مفہوم اور اصطلاحات]]
[[زمرہ:سیاسی مفہومات اور اصطلاحات]]


[[ar:صلح]]
[[ar:سلام]]
[[en:Peace]]
[[en:Peace]]
[[fa:صلح]]
[[fa:صلح]]

حالیہ نسخہ بمطابق 12:16، 28 اپريل 2026ء

صلح، بین الاقوامی تعلقات میں ایک قانونی اور سیاسی تصور ہے جو دو یا چند ممالک کے درمیان ایک مستقل اور قانونی معاہدہ ہے جو نہ صرف جنگ کا خاتمہ کرتا ہے، بلکہ ایک نئی صورتحال کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ اقوام متحدہ نے 21 ستمبر کو یوم عالمی صلح قرار دیا ہے۔ یہ تاریخ جنرل اسمبلی کے ستاونویں اجلاس میں منتخب کی گئی۔ ماضی میں اور قطعنامہ 36/67 کی بنیاد پر جو 30 نومبر 1981 کو جاری ہوا، ستمبر کی تیسری منگل کو، جو جنرل اسمبلی کے باقاعدہ اجلاسوں کی افتتاحی تاریخ ہے، یوم عالمی صلح کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔

معاہدہ صلح

صلح تنازعات کے اختتام کا اعلیٰ اور حتمی مرحلہ ہے۔ یہ دستاویز دو یا چند ممالک کے درمیان ایک مستقل اور قانونی معاہدہ ہے جو نہ صرف جنگ کا خاتمہ کرتا ہے، بلکہ ایک نئی صورتحال کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔

  • اختلافات کا بنیادی حل: اس معاہدے میں، بنیادی اختلافات جیسے بین الاقوامی سرحدیں، معاشی اور سیاسی مسائل اور حملہ آور کا تعین مکمل طور پر حل کیے جاتے ہیں۔
  • نقصانات کا ازالہ: اس میں جنگی ہرجانے کی ادائیگی اور پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کا طریقہ کار واضح کیا جاتا ہے۔
  • جنگی حالت کا سرکاری خاتمہ: صرف معاہدہ صلح کی منظوری اور دستخط سے جنگی حالت قانونی طور پر ختم ہوتی ہے اور معمول کے سفارتی اور معاشی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔
  • داخلی قوانین: اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین میں، صلح کا اعلان مقام معظم رہبری کی ذمہ داریوں (اصل 110) میں سے ہے اور معاہدہ صلح کا انعقاد مجلس شورای اسلامی کی منظوری (اصل 77) اور صدر کے دستخط (اصل 125) کا محتاج ہے۔
  • ضمنی شناخت: اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے مقبوضہ رژیم اسرائیل کے ساتھ معاہدہ صلح کرنا ممکن نہیں ہے، کیونکہ یہ اس رژیم کو تسلیم نہیں کرتی اور معاہدہ صلح اس کی ضمنی شناخت کے مترادف ہوگا۔ نیز ایران اور اسرائیل کے درمیان اختلافات کو بنیادی اور حل نہ ہونے والا سمجھا جاتا ہے، لہذا دونوں فریقین کے درمیان صورتحال صرف جنگ بندی ہی رہے گی۔

آتش بندی

آتش بندی کا مطلب ایک مخصوص علاقے یا وقت میں فوجی کارروائیوں کا عارضی اور محدود توقف ہے۔ یہ تصور ایک سطحی اور عارضی معاہدہ شمار ہوتا ہے اور اس کے فریقین کی جانب سے کسی بھی وقت ٹوٹنے اور اس کی خلاف ورزی کا امکان موجود رہتا ہے۔

  • عارضی نوعیت: آتش بندی جنگ کا خاتمہ نہیں کرتی، بلکہ صرف مختصر مدت کے لیے جھڑپوں کو روکتی ہے۔
  • انسانی یا حکمت عملی کے مقاصد: عام طور پر اس کا استعمال زخمیوں کی evacuación، ہلاک شدگان کی تدفین، یا شکست خوردہ فورسز کی تسلیمی کے لیے کیا جاتا ہے اور کبھی کبھار صلح کے مذاکرات کے آغاز کے لیے پہلا قدم بھی ہوتا ہے۔
  • جنگی حالت کا خاتمہ نہ ہونا: فعال جنگ کے توقف کے باوجود، اختلافات، دشمنی اور جنگی حالت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔
  • قانونی مثال: سلامتی کونسل کا قطعنامہ 598 جو ایران اور عراق کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے ابتدائی قدم کے طور پر مقرر کیا گیا، آتش بندی کی واضح مثال ہے۔

ترک مخاصمہ

ترک مخاصمہ ایک باضابطہ، قانونی اور آتش بندی سے وسیع تر معاہدہ ہے جو فریقین جنگ کے درمیان فوجی جھڑپوں کو ختم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

  • جنگی کارروائیوں کا معطل ہونا: ترک مخاصمے میں، فوجی کارروائیاں معطل ہو جاتی ہیں، لیکن جنگی حالت قانونی طور پر ختم نہیں ہوتی۔ دوسرے لفظوں میں، جنگ رک جاتی ہے، لیکن ابھی تک «ختم» نہیں ہوتی۔
  • غیر معینہ مدت: آتش بندی کے برعکس جو محدود ہوتی ہے، ترک مخاصمہ لمبی یا غیر معینہ مدت کے لیے ہو سکتا ہے۔
  • خلاف ورزی اور جنگ کی واپسی کی صلاحیت: یہ دستاویز پائیدار صلح کی ضمانت نہیں دیتی۔ 1907ء کے ہیگ امن کنونشن کی شق 36 سے 41 کے مطابق، اگر فریقین میں سے کوئی ایک ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی کرے، تو دوسرا فریق دشمنی کی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا حق رکھتا ہے۔ ذیل میں اس موضوع کی تاریخی مثالیں دی گئی ہیں:
  • معاہدہ حدیبیہ: بعض مورخین اسلام کی تاریخ میں ترک مخاصمے کی سب سے اہم مثال کو چھٹی ہجری میں صلح حدیبیہ کا معاہدہ قرار دیتے ہیں جس کے تحت مسلمانوں اور مکہ کے مشرکوں نے دس سال کے لیے جنگ سے دستبردار ہونے پر اتفاق کیا۔
  • کوریا کی جنگ: 1950ء کی کوریا کی جنگ کے بعد، 1953ء میں ترک مخاصمے کے معاہدے پر دستخط ہوئے، لیکن قانونی طور پر دونوں کوریا ابھی تک جنگ کی حالت میں ہیں اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ صلح دستخط نہیں ہوا تھا۔

تصورات کا موازنہ جدول

آتش بندی، ترک مخاصمہ اور معاہدہ صلح کا موازنہ
خصوصیت آتش بندی ترک مخاصمہ معاہدہ صلح
نوعیت عارضی اور محدود باضابطہ اور قانونی (جنگ کا معطل ہونا) مستقل اور حتمی
جنگی حالت برقرار رہتی ہے برقرار رہتی ہے (کارروائیوں کا معطل ہونا) ختم ہو جاتی ہے
اختلافات کا حل نہیں ہوتا نہیں ہوتا بنیادی حل ہوتا ہے
جنگ کی واپسی کی صلاحیت بہت زیادہ ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی صورت میں ممکن ناممکن (سوائے معاہدہ منسوخ ہونے کے)
تاریخی مثال قطعنامہ 598 (ایران اور عراق) معاہدہ ورسائی / معاہدہ کیلیو

اسلام میں صلح

الہی دین اسلام انسانوں کو سب سے زیادہ صلح، مصالحت اور پرامن زندگی کی دعوت دیتا ہے اور شعار «اَلصُّلْحُ خَیْرٌ» کے ساتھ صلح کو اپنے اہم ترین عالی مقاصد میں سے ایک کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اسلام کی خارجی اور داخلی پالیسی پرامن زندگی کی بنیاد پر ترتیب دی جاتی ہے اور ہمیشہ کوشش کرتی ہے کہ دنیا میں صلح اور امن قائم ہو۔ اس اصول کے مطابق، جب بھی دشمن کی جانب سے صلح اور امن کی تجویز پیش کی جائے، اسلامی حکمران (جن شرائط کا ذکر بعد میں کیا جائے گا) کو صلح کو قبول کرنے اور جنگ کو ختم کرنے کا پابند ہے۔ اب جب کہ ہم اسلام کی اس کلی پالیسی سے واقف ہو گئے ہیں، دیکھتے ہیں کہ کیا صلح ہر جگہ اور ہر حال میں اور بغیر کسی شرط کے اسلام کی جانب سے قبول کی گئی ہے یا صلح کی قبولیت کچھ خاص شرائط کی پابند ہے؟ تمام شیعہ فقہاء کے اجماع کے مطابق، صلح پر رضامندی کی بنیادی شرط یہ ہے کہ مصالحت اسلام کے حق میں اور مسلمانوں کے مفاد میں ہو۔ اگر صلح اسلام کے نقصان کا باعث ہو اور مسلمانوں کی کمزوری کا سبب بنے، تو ایسی صلح پر رضامندی درست اور جائز نہیں ہے۔

صلح کی شرائط اور فوائد

اسی بنیاد پر حضرت علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں: «وَ لا تَدْفَعَنَّ صُلْحاً دَعَاکَ إِلَیْهِ عَدُوُّکَ و لِلَّهِ فِیهِ رِضًا فَإِنَّ فِی الصُّلْحِ دَعَةً لِجُنُودِکَ وَ رَاحَةً مِنْ هُمُومِکَ وَ أَمْناً لِبِلادِکَ وَ لَکِنِ الْحَذَرَ کُلَّ الْحَذَرِ مِنْ عَدُوِّکَ بَعْدَ صُلْحِهِ فَإِنَّ الْعَدُوَّ رُبَّمَا قَارَبَ لِیَتَغَفَّلَ فَخُذْ بِالْحَزْمِ وَ اتَّهِمْ فِی ذَلِکَ حُسْنَ الظَّنِّ»؛ جس صلح کو دشمن تمہاری طرف پیش کرے اور وہ خدا کی رضامندی کے مطابق ہو، اسے رد مت کرو؛ کیونکہ صلح تمہارے لشکریوں کے لیے آسائش، تمہارے لیے فکر سے آرام اور تمہارے ملک کے لیے امن کا باعث ہوگی۔ لیکن صلح اور مصالحت کے بعد سخت احتیاط اور بیداری سے کام لو؛ کیونکہ ہو سکتا ہے صلح کی تجاویز فریق کو غافل کرنے کے لیے ہوں۔ لہذا بہتر ہے کہ احتیاط کو ہاتھ سے نہ جانے دو اور اس مصالحت میں خوش فہمی کو مشکوک سمجھو۔ حضرت کی عبارات پر غور کرنے سے صلح کے بنیادی فوائد بھی واضح ہو جاتے ہیں: پرامن زندگی کے قیام اور حاکمیت کے ساتھ، فوج اور مسلح افواج کو رفاه اور آسائش حاصل ہوتی ہے۔ اسلامی حکمران بھی ضروری روحی سکون اور امنیت سے بہرہ ور ہوتا ہے اور اس سکون کے سائے میں وہ مملکت کی بے ترتیبیوں کو درست کر سکتا ہے اور ان سب سے اہم یہ کہ معاشرے کے افراد جن کی بہترین خواہش امنیت ہے، اسے حاصل کرتے ہیں[1]۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

ماخذ