مندرجات کا رخ کریں

"جنگ کب تک جاری رہے گی(نوٹس)" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
سطر 19: سطر 19:


کوریا کے عوام پر جنگ مسلط کرنا (1950–1953)، 1950 میں ویتنام میں مداخلت اور اس ملک کے عوام پر جنگ مسلط کرنا (1965–1972)، جس کے نتائج نے کمبوڈیا اور لاؤس کے عوام کو بھی متاثر کیا اور کمبوڈین شہریوں میں سات لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بنا۔ ایران و عراق کی جنگ کے دوران ایران کے تیل کے پلیٹ فارموں پر حملہ، 1988 میں ایرانی مسافر طیارے کو مار گرانا، 1989 میں پاناما پر حملہ، 1991 میں عراق پر حملہ، 1999 میں نیٹو کے ساتھ مل کر یوگوسلاویہ پر بمباری، 2003 میں عراق پر دوبارہ حملہ جو 2010 تک جاری رہا۔ 2001 میں افغانستان پر حملہ اور اس ملک کا 2021 تک قبضہ، 2025 میں صہیونی حکومت کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ، 2026 میں وینیزویلا پر شبخون مار کر اس ملک کے قانونی صدر کو اغوا کرنا، اور 2026 میں ایران پر دوبارہ حملہ (اسفند 1404) — یہ سب امریکی حکومت کے تجاوزات، دھونس، طاقت کے استعمال اور ظلم و تشدد کی چند مثالیں ہیں۔
کوریا کے عوام پر جنگ مسلط کرنا (1950–1953)، 1950 میں ویتنام میں مداخلت اور اس ملک کے عوام پر جنگ مسلط کرنا (1965–1972)، جس کے نتائج نے کمبوڈیا اور لاؤس کے عوام کو بھی متاثر کیا اور کمبوڈین شہریوں میں سات لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بنا۔ ایران و عراق کی جنگ کے دوران ایران کے تیل کے پلیٹ فارموں پر حملہ، 1988 میں ایرانی مسافر طیارے کو مار گرانا، 1989 میں پاناما پر حملہ، 1991 میں عراق پر حملہ، 1999 میں نیٹو کے ساتھ مل کر یوگوسلاویہ پر بمباری، 2003 میں عراق پر دوبارہ حملہ جو 2010 تک جاری رہا۔ 2001 میں افغانستان پر حملہ اور اس ملک کا 2021 تک قبضہ، 2025 میں صہیونی حکومت کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ، 2026 میں وینیزویلا پر شبخون مار کر اس ملک کے قانونی صدر کو اغوا کرنا، اور 2026 میں ایران پر دوبارہ حملہ (اسفند 1404) — یہ سب امریکی حکومت کے تجاوزات، دھونس، طاقت کے استعمال اور ظلم و تشدد کی چند مثالیں ہیں۔
== عہد شکنی — اسرائیل اور امریکہ کی خصوصیت ==
ان دونوں مجرم طاقتوں کی خصوصیات میں سے ایک ان کا عہد شکنی ہے۔ یہود کی عہد شکنی تاریخ بھر میں ایک واضح امر ہے اور قرآن نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ خداوند نے قومِ یہود کی صفات میں عہد شکنی کا ذکر کیا ہے اور قرآن میں دو آیات میں اس پر تصریح کی ہے۔
سورۃ نساء میں فرمایا ہے:
فَبِما نَقْضِهِمْ ميثاقَهُمْ‏ وَ كُفْرِهِمْ بِآياتِ اللَّهِ وَ قَتْلِهِمُ الْأَنْبِياءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَ قَوْلِهِمْ قُلُوبُنا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللَّهُ عَلَيْها بِكُفْرِهِمْ فَلا يُؤْمِنُونَ إِلاَّ قَليلا
[نساء 155]
“تو ان کے عہد توڑنے، آیاتِ الٰہی کے ساتھ کفر کرنے، اور انبیاء کو ناحق قتل کرنے، اور اس بات کے کہ ہمارے دل غلاف میں ہیں — (ایسا نہیں)، بلکہ ان کے کفر کے سبب اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، پس وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔”
اور سورۃ مائدہ میں فرمایا ہے:
فَبِما نَقْضِهِمْ ميثاقَهُمْ‏ لَعَنَّاهُمْ وَ جَعَلْنا قُلُوبَهُمْ قاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَواضِعِهِ وَ نَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ وَ لا تَزالُ تَطَّلِعُ عَلى‏ خائِنَةٍ مِنْهُمْ إِلاَّ قَليلاً مِنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنين
[مائدہ 13]
“تو ان کے عہد توڑنے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کر دیے۔ وہ کلمات کو ان کی جگہوں سے بدل دیتے ہیں اور جو نصیحت انہیں کی گئی تھی اس کا ایک حصہ بھول گئے۔ اور تم ہمیشہ ان میں سے خیانت پر مطلع ہوتے رہو گے، سوائے ان میں سے چند کے۔ پس ان سے درگزر کرو اور چشم پوشی کرو، بے شک اللہ نیکوکاروں کو پسند کرتا ہے۔”
کوئی ایسا مورد نہیں ملتا کہ صہیونی حکومت نے اپنی پوری عمر میں کسی ایک عہد کی بھی پابندی کی ہو۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ دو سال سے کم عرصے میں اس نے حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کو دس ہزار بار توڑا؟ اسی طرح وہ ایک دن کے لیے بھی حماس کے ساتھ جنگ بندی کا پابند نہ رہا۔
امریکی حکومت بھی یہی ہے۔ کیا یہی امریکہ نہیں تھا جس نے برجام کے معاہدے کو آسانی سے نظر انداز کیا؟ کیا یہی امریکہ نہیں تھا جس نے سال 1404 میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران دو بار خیانت کی اور ایران کے عوام پر حملہ کیا؟
اکثر یہودیوں میں اور تمام صہیونیوں میں، نیز زیادہ تر مغربی سفید فام انسانوں میں عہد شکنی کی خصوصیت پائی جاتی ہے۔ وہ نِکولو میکیاولی کے فکری فرزند ہیں، جو ان کی سفارش کے مطابق کسی دینی، اخلاقی یا انسانی قید کے پابند نہیں ہوتے۔


== تاریخی تنازعات اور عسکری مداخلتیں ==
== تاریخی تنازعات اور عسکری مداخلتیں ==

نسخہ بمطابق 15:42، 16 اپريل 2026ء

بی‌قاب|چپ

جنگ کب تک جاری رہے گیُ ایک نوٹ کا عنوان ہے جو رمضان کی جنگ کے تسلسل اور اس سے متعلقہ مسائل پر گفتگو کرتا ہے۔ آج بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال موجود ہے کہ یہ جنگ کب تک چلے گی؟ اس سوال کا جواب چند نکات کی وضاحت کا تقاضا کرتا ہے۔ ابتدا میں ضروری ہے کہ ہم دشمن کی ماہیت کو سمجھیں۔ اس جنگ کے آغاز کرنے والے، جیسے کہ 12 روزہ جنگ میں بھی ہوا تھا، اسرائیل اور امریکہ ہیں، جن میں سے ہر ایک کی ماہیت پر مختصر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔

اسرائیل

"اسرائیل، جو صہیونیت کے زیرِ اقتدار ہے، ایک جعلی ریاست ہے جس نے 1948 میں برطانیہ اور فرانس جیسے دو استعمارگر کی سازش سے مسلمانوں کے سرزمین کو غصب کرتے ہوئے اعلانِ وجود کیا۔ امریکہ نے فوراً اس کی تسلیم داری کی۔ صہیونیوں کے سرمایہ داروں کی لابیگری کے نتیجے میں، امریکہ کی ایک ریاست نے اس کی حمایت کی۔ یہ 78 سالہ امریکہ صرف قتل، غارت، خونریزی اور ہمسایہ ممالک پر حملے کرنے کے لیے مشہور ہے۔ یہ ریاست صہیونیت کے زیرِ اقتدار ہے جو ایک نسل پرست سوچ ہے جو خود کو برتر вважає اور دوسروں کو ایسی مخلوقات سمجھتی ہے کہ ان کا وجود صہیونیوں کی خدمت کے لیے بنا ہے اور انہیں صہیونیوں کی خدمت میں رہنا چاہیے۔ اس بناءً، صہیونیوں کی یہ رژیم قتل، غارت اور تجاوز کا ذاتی عمل ہے۔ جب تک یہ رژیم اس علاقے میں موجود رہے گا، اس علاقے کے لوگ آرام اور سکون نہیں دیکھ سکتے۔ خصوصاً کہ اس رژیم کو اس سرزمین پر راضی نہیں ہے جس پر قبضہ کیا ہے اور وہ نیل اور فرات کے درمیان اپنے پھیلاؤ کی تلاش میں ہے۔"

امریکہ کی ماہیت

امریکہ کی حقیقت بہت سے لوگوں کے لیے واضح نہیں ہے۔ دنیا کے بہت سے لوگ، جن میں ایران بھی شامل ہے، امریکہ کی تکنیکی ترقی کو دیکھ کر اسے ایک ترقی یافتہ ملک کی علامت سمجھ بیٹھے ہیں اور اس کے دیگر پہلوؤں سے غافل ہو گئے ہیں۔ حالانکہ امریکہ ایک بے جڑ ملک ہے جس کے جغرافیائی علاقے کے بارے میں 1492ء تک کسی کو علم نہیں تھا۔ اسی سال ایک منحوس شخص، جس کا نام کرسٹوفر کولمبس تھا، اسپین کے بادشاہ کے مشن پر اس براعظم کی طرف روانہ ہوا اور اسے دریافت کیا۔

1497ء میں ایک اطالوی ملاح، امیریگو ویسپوچی (ویسپوس)، اس سرزمین میں داخل ہوا، اور اسی وجہ سے امریکہ کا نام اسی کے نام سے لیا گیا اور اس خطے پر رکھا گیا۔

سترہویں صدی سے یورپ کے مہم جو، چاقو بردار، غنڈے اور اوباش اس سرزمین کی طرف روانہ ہوئے اور اس پر قبضہ کرنے لگے۔ نئے آبادکاروں نے وہاں کے مقامی باشندوں کا قتلِ عام کیا اور ان کی زمینوں پر قبضہ کر لیا۔ اس غصب شدہ سرزمین کو آباد کرنے کے لیے انہوں نے افریقہ کے مظلوم لوگوں کو غلام بنا کر زبردستی اس سرزمین میں مشقت پر لگا دیا۔

مقامی آبادی کی تباہی کے بعد یورپی حملہ آور آپس میں لڑنے لگے، اور بالآخر اٹھارہویں صدی کے آخری عشروں میں اس علاقے کو متحد کر کے امریکہ کی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

اس بنیاد پر ان لوگوں کی فطرت کو شرپسند اور جارحانہ قرار دیا جاتا ہے، اور ان کی نوآبادیاتی زندگی کے دوران قتل، لوٹ مار اور خونریزی کے سوا ان جیسے انسان نما مخلوقات سے کچھ اور دیکھنے میں نہیں آیا۔

کوریا کے عوام پر جنگ مسلط کرنا

کوریا کے عوام پر جنگ مسلط کرنا (1950–1953)، 1950 میں ویتنام میں مداخلت اور اس ملک کے عوام پر جنگ مسلط کرنا (1965–1972)، جس کے نتائج نے کمبوڈیا اور لاؤس کے عوام کو بھی متاثر کیا اور کمبوڈین شہریوں میں سات لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بنا۔ ایران و عراق کی جنگ کے دوران ایران کے تیل کے پلیٹ فارموں پر حملہ، 1988 میں ایرانی مسافر طیارے کو مار گرانا، 1989 میں پاناما پر حملہ، 1991 میں عراق پر حملہ، 1999 میں نیٹو کے ساتھ مل کر یوگوسلاویہ پر بمباری، 2003 میں عراق پر دوبارہ حملہ جو 2010 تک جاری رہا۔ 2001 میں افغانستان پر حملہ اور اس ملک کا 2021 تک قبضہ، 2025 میں صہیونی حکومت کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ، 2026 میں وینیزویلا پر شبخون مار کر اس ملک کے قانونی صدر کو اغوا کرنا، اور 2026 میں ایران پر دوبارہ حملہ (اسفند 1404) — یہ سب امریکی حکومت کے تجاوزات، دھونس، طاقت کے استعمال اور ظلم و تشدد کی چند مثالیں ہیں۔

عہد شکنی — اسرائیل اور امریکہ کی خصوصیت

ان دونوں مجرم طاقتوں کی خصوصیات میں سے ایک ان کا عہد شکنی ہے۔ یہود کی عہد شکنی تاریخ بھر میں ایک واضح امر ہے اور قرآن نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ خداوند نے قومِ یہود کی صفات میں عہد شکنی کا ذکر کیا ہے اور قرآن میں دو آیات میں اس پر تصریح کی ہے۔

سورۃ نساء میں فرمایا ہے:

فَبِما نَقْضِهِمْ ميثاقَهُمْ‏ وَ كُفْرِهِمْ بِآياتِ اللَّهِ وَ قَتْلِهِمُ الْأَنْبِياءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَ قَوْلِهِمْ قُلُوبُنا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللَّهُ عَلَيْها بِكُفْرِهِمْ فَلا يُؤْمِنُونَ إِلاَّ قَليلا

[نساء 155]

“تو ان کے عہد توڑنے، آیاتِ الٰہی کے ساتھ کفر کرنے، اور انبیاء کو ناحق قتل کرنے، اور اس بات کے کہ ہمارے دل غلاف میں ہیں — (ایسا نہیں)، بلکہ ان کے کفر کے سبب اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، پس وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔”

اور سورۃ مائدہ میں فرمایا ہے:

فَبِما نَقْضِهِمْ ميثاقَهُمْ‏ لَعَنَّاهُمْ وَ جَعَلْنا قُلُوبَهُمْ قاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَواضِعِهِ وَ نَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ وَ لا تَزالُ تَطَّلِعُ عَلى‏ خائِنَةٍ مِنْهُمْ إِلاَّ قَليلاً مِنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنين

[مائدہ 13]

“تو ان کے عہد توڑنے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کر دیے۔ وہ کلمات کو ان کی جگہوں سے بدل دیتے ہیں اور جو نصیحت انہیں کی گئی تھی اس کا ایک حصہ بھول گئے۔ اور تم ہمیشہ ان میں سے خیانت پر مطلع ہوتے رہو گے، سوائے ان میں سے چند کے۔ پس ان سے درگزر کرو اور چشم پوشی کرو، بے شک اللہ نیکوکاروں کو پسند کرتا ہے۔”

کوئی ایسا مورد نہیں ملتا کہ صہیونی حکومت نے اپنی پوری عمر میں کسی ایک عہد کی بھی پابندی کی ہو۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ دو سال سے کم عرصے میں اس نے حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کو دس ہزار بار توڑا؟ اسی طرح وہ ایک دن کے لیے بھی حماس کے ساتھ جنگ بندی کا پابند نہ رہا۔

امریکی حکومت بھی یہی ہے۔ کیا یہی امریکہ نہیں تھا جس نے برجام کے معاہدے کو آسانی سے نظر انداز کیا؟ کیا یہی امریکہ نہیں تھا جس نے سال 1404 میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران دو بار خیانت کی اور ایران کے عوام پر حملہ کیا؟

اکثر یہودیوں میں اور تمام صہیونیوں میں، نیز زیادہ تر مغربی سفید فام انسانوں میں عہد شکنی کی خصوصیت پائی جاتی ہے۔ وہ نِکولو میکیاولی کے فکری فرزند ہیں، جو ان کی سفارش کے مطابق کسی دینی، اخلاقی یا انسانی قید کے پابند نہیں ہوتے۔

تاریخی تنازعات اور عسکری مداخلتیں

امریکہ مختلف عالمی تنازعات میں حصہ لیتا رہا ہے، جن میں شامل ہیں:

  • کوریا کی جنگ (1950–1953)
  • ویتنام جنگ سے متعلق مداخلتیں (1950–1972)
  • پاناما (1989)
  • عراق جنگیں (1991، 2003–2010)
  • افغانستان میں عسکری کارروائیاں (2001–2021)
  • خطے کے دیگر ممالک میں عسکری کارروائیاں اور سیاسی تنازعات

معاہدات اور سفارتی مشکلات

بین الاقوامی سیاست میں معاہدات کی خلاف ورزی اور سفارتی پیچیدگیاں ایک اہم موضوع رہی ہیں۔ مختلف ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدات اور اُن کے عملی نفاذ کے حوالے سے متعدد اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔ مختلف جنگ بندیوں، مذاکرات اور سیاسی سمجھوتوں کے تسلسل پر اس نوٹ میں گفتگو کی گئی ہے۔

موجودہ حالات میں جنگ بندی

نوٹ کے مطابق، جنگ بندی اس وقت مؤثر ہوتی ہے جب متعلقہ فریقین ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد بازدار مرحلے تک پہنچ جائیں۔ اس حوالے سے درج نکات بیان کیے گئے ہیں:

  • میدانی سطح پر مستحکم رہنا؛
  • داخلی اتحاد اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنا؛
  • غیر مصدقہ اطلاعات کے پھیلاؤ سے اجتناب؛
  • ذمہ دار اداروں پر اعتماد؛
  • جنگ سے متعلق خبروں کا حصول صرف مصدقہ ذرائع کے ذریعے؛
  • پالیسی سازی میں مختلف ماہرین کی آراء سے فائدہ اٹھانا۔

متعلقہ موضوعات

حوالہ جات

بیرونی روابط