"سعید جلیلی" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Sajedi نے صفحہ مسودہ:سعید جلیلی کو سعید جلیلی کی جانب منتقل کیا |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 4: | سطر 4: | ||
| name = سعید جلیلی | | name = سعید جلیلی | ||
| other names = | | other names = | ||
| brith year | | brith year 1965 ء | ||
| brith date = | | brith date = | ||
| birth place = ایران مشهد | | birth place = ایران مشهد | ||
نسخہ بمطابق 16:24، 15 اپريل 2026ء
| سعید جلیلی | |
|---|---|
| پورا نام | سعید جلیلی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش کی جگہ | ایران مشهد |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| مناصب | وزارتِ خارجہ کے معائنہ و نگرانی کے محکمے کے سربراہ، وزارتِ خارجہ میں امریکا سے متعلق اولین ڈائریکٹوریٹ کے نائب سربراہ، دفترِ رہبری میں جاری امور کی جائزہ شاخ کے سربراہ، اسلامی جمہوریۂ ایران کی وزارتِ خارجہ میں یورپ و امریکا کے امور کے نائب وزیر، ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری، اعلیٰ قومی سلامتی کونسل میں رہبرِ انقلاب کے نمائندہ، مصلحتِ نظام کی تشخیص کے مجمع کے رکن، خارجی تعلقات کی اسٹریٹجک کونسل کے رکن |
سعید جلیلی، دفاع مقدس کے جانباز، سیاست دان اور سفارت کار ہیں جو جمهوری اسلامی ایران میں متعدد اعلیٰ حکومتی مناصب پر فائز رہے۔ اکتوبر 2007ء سے ستمبر 2013ء تک وہ [قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری رہے اور اسی دوران ایران اور یورپی ممالک کے مابین ہونے والے مذاکراتِ ہستهای میں شریک ہوئے۔ وزارتِ خارجہ کا محکمۂ انسپکشن، اوّل امریکہ ڈیسک کی معاونت، دفترِ رهبری میں امورِ جاریہ کی مدیریت، وزارتِ خارجہ کے یورپ و امریکہ ڈویژن کی معاوِنت، نمائندۂ رهبری برائے شورائے عالی امنیت ملی، مجمع تشخیص مصلحت نظام کی رکنیت اور خارجہ تعلقات کی اسٹریٹیجک کونسل کی رکنیت اُن کے اہم اجرائی ریکارڈ میں شامل ہے۔
زندگینامہ
سعید جلیلی 6 ستمبر 1965ء کو مشہد میں پیدا ہوئے۔
تعلیم
ابتدائی سے قبل از یونیورسٹی تمام تعلیم مشہد میں حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے یونیورسٹی امام صادق (علیہ السلام) سے معارفِ اسلامی و علومِ سیاسی میں بی اے، ایم اے اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ زبانِ انگریزی اور عربی سے بھی واقفیت رکھتے ہیں۔
محاذِ جنگ میں شرکت
دفاعِ مقدس (1980ء–1988ء) کے دوران وہ محاذ پر موجود رہے اور ٹِیپ 21 امام رضا (علیہ السلام) خراسان کے دیدہبان تھے۔ دسمبر 1986 م میں وہ شدید زخمی ہوئے اور شلمچہ کے صحرائی اسپتال میں سہولیات کی کمی کے باعث اپنا دایاں پاؤں کھو بیٹھے۔
تدریس
انہوں نے یونیورسٹی امام صادق (علیہ السلام) میں ’’دیپلماسیِ پیامبر (صلی اللہ علیہ وآلہ)‘‘ کا درس دیا اور یونیورسٹی صنعتی شریف کے مینجمنٹ و اکنامکس فیکلٹی میں بھی تدریس کی۔[1]
وزارتِ امورِ خارجہ
جنگ کے اختتام کے بعد، 1989 م میں وزارتِ امورِ خارجہ میں داخل ہوئے۔ 26 سال کی عمر میں محکمۂ انسپکشن کے سربراہ مقرر ہوئے اور 1996 ء تک اس منصب پر رہے۔ صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کے دورِ دوم کے آخری سال میں انہوں نے وزارتِ خارجہ کے امریکہ ڈیسک میں معاونت کی۔ بعد ازاں دفترِ رهبری میں مدیرِ امورِ جاریہ بنے۔ صدر محمود احمدینژاد کے دور میں دوبارہ وزارتِ خارجہ لوٹے اور یورپ و امریکہ کے معاون مقرر ہوئے۔
قومی سلامتی کونسل
اکتوبر 2007ء میں علی لاریجانی کی اعلیٰ امنیتی مشیر کے عہد سے استعفے کے بعد، محمود احمدی نژاد نے سعید جلیلی کو اس منصب پر جانشین مقرر کیا۔ تقریباً ایک سال بعد، رهبر معظم نے احکامی ذریعے انہیں قومی سلامتی کونسل میں نمائندہ قرار دیا۔ سعید جلیلی کی اعلیٰ امنیتی مشیر کے طور پر اہم کارروائیاں جوہری مذاکرات کے ساتھ تھیں جو ایران اور یورپی ممالک کے درمیان ہوئے۔ اس کے نتیجے میں، حسن روحانی کی پہلی حکومت کے اقتدار پر آنے کے بعد، علی شمخانی کو اس منصب پر مقرر کیا گیا اور ایرانی جوہری فائل بھی سفارتی دباوے اور وزارت خارجہ کے سپرد کر دی گئی۔"
نمائندۂ رهبری برائے قومی سلامتی کونسل
امام خامنہای نے ڈاکٹر سعید جلیلی کو شورائے عالیِ امنِ ملی میں رہبر کے نمائندے کے طور پر مقرر کیا ہے۔ اس سلسلے میں رہبر معظم کے حکم نامے میں یوں فرمایا گیا ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جناب ڈاکٹر سعید جلیلی آئینِ جمہوریۂ اسلامی ایران کے اصل ایک سو چھہتر کی رو سے، میں آپ کو تین سال کی مدت کے لیے شورائے عالیِ امنِ ملی میں اپنے نمائندے کے طور پر مقرر کرتا ہوں۔ امید ہے کہ اس شورا کے فیصلوں کے اسلامی جمہوریۂ ایران کی آزادی اور قومی سلامتی کے حصول میں نمایاں اور ممتاز کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے، آپ اس میں فعال شرکت اور مجھ سے مسلسل تبادلۂ خیال کے ذریعے نظامِ عالیِ اسلامی کی اقتدار اور استقلال میں مددگار ثابت ہوں گے۔ میں ضروری سمجھتا ہوں کہ جناب ڈاکٹر لاریجانی کی اس شورا میں طویل عرصے تک رہبر کے نمائندے کی حیثیت سے انجام پانے والی قابلِ قدر خدمات کا شکریہ ادا کروں۔
سید علی خامنہای ۸ تیر ۱۳۸۷ شمسی[2]
اجرائی تجربات
- وزارتِ خارجہ میں محکمۂ انسپکشن کے سربراہ (1991–1997 م)
- وزارتِ خارجہ میں اوّل امریکہ ڈیسک کے معاون (1997–2000 م)
- دفترِ رهبری میں مدیرِ امورِ جاریہ (2000–2005 م)
- وزارتِ امورِ خارجہ کے یورپ و امریکہ ڈویژن کے معاون (2005–2007 م)
- شورائے عالی امنیت ملی کے سیکرٹری (2007–2013 م)
- نمائندۂ رهبری برائے شورائے عالی امنیت ملی (2007 م تا حال)
- رکنِ مجمع تشخیص مصلحت نظام (2013 م تا حال)
- رکنِ خارجہ تعلقات کی اسٹریٹیجک کونسل (2014 م تا حال)
انتخابی سرگرمیاں
سعید جلیلی نے انتخاباتِ ریاستِ جمهوری کے چودھویں دور سے قبل دو بار صدارتی انتخابات میں شرکت کی۔
- 2013 م میں انہوں نے چار ملین سے زائد ووٹ حاصل کیے اور محمدباقر قالیباف اور حسن روحانی کے بعد تیسرے نمبر پر رہے۔
- 2021 م کے انتخابات میں انہوں نے سید ابراہیم رئیسی کے حق میں دستبرداری اختیار کی۔
- 30 مئی 2024 م کو انہوں نے انتخاباتِ ریاستِ جمهوری کے چودھویں دور کے لیے نامزدگی درج کرائی اور 9 جون 2024 م کو شورای نگهبان نے ان کی اہلیت کی توثیق کی۔
وہ نعرہ "ایک جہان فرصت، ایک ایران جهش" کے ساتھ میدان میں اترے۔ دوسرے مرحلے میں مسعود پزشکیان کے مقابلے میں کم ووٹ ملنے پر ناکام رہے۔ [4]
نظریات
امریکا، صہیونیستی رژیم کا تعاون
آج ہم دیکھتے ہیں کہ امریکا، صہیونیستی رژیم کی جانب سے اسپتالوں پر حملوں اور خواتین و بچوں کے قتلِ عام جیسے جرائم پر نہ صرف پابندی نہیں لگاتا بلکہ پوری قوت کے ساتھ دنیا کے ممالک کے مقابل کھڑا ہو جاتا ہے۔ اگر اس رژیم کے جرائم کے خلاف کوئی قرارداد پیش کی جائے تو وہ اسے کئی بار ویٹو کر دیتا ہے۔ سنہ ۱۴۰۱ ش میں مغربی ممالک نے ایران کے واقعات پر مگرمچھ کے آنسو بہائے اور ’’عورت، زندگی، آزادی‘‘ جیسے نعروں کا شور مچایا، لیکن ایک سال بعد جب دوسرا منظر سامنے آیا تو فلسطینی خواتین و بچوں کے قتلِ عام پر نہ صرف خاموش رہے بلکہ پوری قوت سے مجرم کا ساتھ دیا۔ اگر کبھی چنگیز مغل یا ہٹلر نے ظلم کیا، تو کم از کم انسانی حقوق کا نعرہ نہیں لگاتے تھے، لیکن آج کے مجرمینِ عالم انسانی حقوق کے نام پر قتل و غارت کرتے ہیں۔
منطے اور جهان کے حالات کا درست فہم
آج ضروری ہے کہ ہم منطقه اور دنیا کے حالات کا درست ادراک حاصل کریں اور یہ سمجھیں کہ ہم کس مرحلے پر کھڑے ہیں۔ امریکا کی قومی سلامتی کی راهبردی دستاویز، جو اوباما کے دور میں ۲۰۱۵ م میں شائع ہوئی، میں واضح طور پر لکھا گیا کہ امریکا کی عالمی قیادت جو پچھلے ۱۰۰ برس میں جاری رہی ہے، آئندہ ۱۰۰ برس میں بھی برقرار رہنی چاہیے، اور یہ تب ممکن ہے جب امریکا کی برتری دوسرے ممالک پر قائم رہے۔ یہی مضمون ٹرمپ اور بائیڈن کی قومی سلامتی کی اسٹریٹجی میں بھی دہرایا گیا۔ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر ایران کی کسی یونیورسٹی کا ایک استاد ایسا تحقیقی کام کرے جو امریکا کی عالمی برتری کے لیے خطرہ ہو، تو اسے روکا جانا چاہیے؛ پہلے اسے پابندیوں کی فہرست میں ڈالیں گے اور پھر ترور کی فہرست میں، جیسا کہ ایرانی شہید جوہری سائنسدانوں کے ساتھ ہوا۔
توافقِ برجام اور FATF
اسی برجام میں درج ہے کہ اگر ایران کسی موضوع پر سائنسی تحقیق کرنا چاہے تو تحقیق کا دائرہ اور اس کی حدود مغربی فریق کی منظوری سے طے ہوں گی۔ اواخرِ دہہ ۸۰ میں دشمن نے تصور کیا کہ ۲۰ فیصد ایندھن کی ضرورت، جو ریڈیائیو ادویات کی تیاری کے لیے ضروری تھی، ایران کے خلاف دباؤ کا ہتھیار بن سکتی ہے، لیکن ایران نے اپنی صلاحیتوں، وسائل اور نوجوانوں—جیسے شہید شهریاری—کی مدد سے ۲۰ فیصد ایندھن تیار کر لیا۔ بعد کے مذاکرات میں یہی ۲۰ فیصد ایندھن ایران کے لیے اهرمِ فشار بن گیا۔ خارجہ پالیسی میں ہمیشہ ’’لاگت اور فائدہ‘‘ کا مسئلہ ہوتا ہے۔ هر ملک اپنی اصولوں اور مفادات کے مطابق زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے اور لاگت کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ممالک کے مفادات کا تقاطع خارجہ پالیسی کی صورت گری کرتا ہے۔
ضروری ہے کہ ہم اس رویے کو سمجھیں جو ملک کی لاگت کم سے کم اور فائدہ زیادہ سے زیادہ کرے۔ نہ بھولیں کہ سنہ ۱۳۹۴ ش میں برجام کے بارے میں کیسے دعوے کیے گئے تھے؛ کہا گیا کہ تمام پابندیاں ایکباره ختم ہو جائیں گی۔ جبکہ برجام کی شق ۳۷ میں لکھا ہے کہ اگر ایران صرف یہ شکایت بھی کرے کہ دوسری طرف نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے، تو تمام پابندیاں فوراً واپس آ جائیں گی؛ یعنی ہم ان سالوں میں شکایت کرنے کا بھی حق نہیں رکھتے تھے۔ برجام ایرانی قوم کی طلبکاری کا دستاویز ہونا چاہیے۔ دشمن کو ایک بیدار قوم کا سامنا ہونا چاہیے تاکہ اس میں مکر اور اقدام کی جرات نہ ہو۔
آج کہا جاتا ہے کہ اگر برجام ناکام ہوا تو نیا معاہدہ کر لیں! یہ بہت بڑی خطا ہے۔ کوئی مذاکرات کا مخالف نہیں، لیکن وہ فریق ۱۵ بار ہمارے تعهدات کی پابندی کا اعتراف کر کے بھی برجام سے نکل گیا۔ اب کچھ لوگ نئے معاہدے کی بات کرتے ہیں! کہتے ہیں یورپی ممالک اچھے ہیں! کیا یہی ممالک برجام میں اس بات کے پابند نہیں تھے کہ ہمارا تیل خریدیں؟ اگر ٹرمپ اچھا نہیں تھا اور برجام سے نکل گیا، تو یورپی ممالک نے تیل کی خریداری کیوں روک دی؟ برجام کے مطابق، یورپی ممالک آٹھویں سال میں—جو گزشتہ سال ۲۶ مهر کے مطابق تھا—ہمارے دفاعی پابندیوں کو اٹھانے کے ذمہ دار تھے؛ لیکن اسی روز انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنے وعدے پر عمل نہیں کریں گے۔
عملیاتِ وعدۂ صادق ۲
سعید جلیلی نے دانشگاه سمنان میں ایک طالب علم کے سوال کے جواب میں، وعدۂ صادق ۲ اور وعدۂ صادق ۳ کے بارے میں کہا: خارجہ پالیسی میں فعال موجودگی ضروری ہے۔ یہ ایک رومانوی میدان نہیں، بلکہ ایک حقیقی میدان ہے۔ عمل، تحلیل کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ بعض اوقات مفلوجکننده تحلیلیں، مفلوجکننده پابندیوں سے بھی بدتر ہوتی ہیں۔ معاشرہ ایسے رجحانات کے مقابل حساس ہونا چاہیے اور سمجھداری سے ان کا پیچھا کرنا چاہیے۔ دشمن نے آپ کی ارضی سالمیت کے خلاف براہِ راست اقدام کیا ہے اور اسے مناسب جواب ملنا چاہیے۔ اس موقع پر کچھ لوگ اندر سے کہتے ہیں ’’یہ جنگ کا جال ہے‘‘ یا ’’خبردار! جنگ میں نہ الجھ جائیں‘‘۔ جنگ کا مطلب ہے آپ پر لاگت اور دھمکی کا تحمیل ہونا۔ بعض جملے ظاہراً اچھے لگتے ہیں، لیکن عملی میدان میں نقصان دہ ہوتے ہیں۔ ہمیں تهدید کو دور کرنا ہے، نہ کہ تنشزدایی کے بہانے دشمن کو رعایت دینی ہے[5]۔
متعلقه مضامین
حوالہ جات
- ↑ ... زندگینامه سعید جلیلی، جماران( زبان فارسی) درج شده تاریخ: غیر مذکور اخذشده تاریخ: 15/ اپریل/ 2026ء
- ↑ انتصاب دکتر سعید جلیلی به عنوان نماینده رهبری در شورای عالی امنیت ملی، وبسایت دفتر نشر آیتالله العظمی خامنهای(زبان فارسی) درج شده تاریخ28/ جون/ 2008ء. اخذ شده تاریخ: 15/اپریل/ 2026ء
- ↑ سعید جلیلی کیست؟ ایمنا(زبان فارسی) درج شده تاریخ: 9/ جون/ 2024ء اخذ شده تاریخ: 15/ اپریل/ 2026ء
- ↑ ... زندگینامه سعید جلیلی، تابناک(زبان فارسی) درج شده تاریخ: ... اخذ شده تاریخ: 15/ اپریل/ 2026ء
- ↑ دکتر جلیلی در جمع دانشجویان دانشگاه سمنان، وبسایت حیات طیبه پایگاه اطلاعرسانی دکتر سعید جلیلی(زبان فارسی ) درج شده تاریخ: 4 / دسمبر/ 2024ء اخذشده تاریخ: 15/ اپریل/ 2026ء