"علی رضا تنگسیری" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 112: | سطر 112: | ||
اس کا ہر رزمنده ایک ’’تنگسیری‘‘ ہے، اور آنے والے دنوں اور مہینوں میں دیکھیں گے کہ وہ کیا حیرتانگیز کارنامے رقم کریں گے۔ | اس کا ہر رزمنده ایک ’’تنگسیری‘‘ ہے، اور آنے والے دنوں اور مہینوں میں دیکھیں گے کہ وہ کیا حیرتانگیز کارنامے رقم کریں گے۔ | ||
اس شجاع و غیور سربازِ وطن کی شہادت، جس نے رئیسعلی دلواری کی حماسهها کو یادوں میں زندہ کردیا، ہم فرمانده معظم کل قوا حضرت آیتالله خامنهای، تمام ملتِ شریف ایران، اور سپاه و ارتش کے رزمندگان کو تبریک و تسلیت عرض کرتے ہیں، اور ملتِ ایران کے ساتھ پیمان باندھتے ہیں کہ دشمن کی کامل نابودی اور قدسِ شریف کی آزادی تک آرام سے نہ بیٹھیں گے۔ | اس شجاع و غیور سربازِ وطن کی شہادت، جس نے رئیسعلی دلواری کی حماسهها کو یادوں میں زندہ کردیا، ہم فرمانده معظم کل قوا حضرت آیتالله خامنهای، تمام ملتِ شریف ایران، | ||
اور سپاه و ارتش کے رزمندگان کو تبریک و تسلیت عرض کرتے ہیں، اور ملتِ ایران کے ساتھ پیمان باندھتے ہیں کہ دشمن کی کامل نابودی اور قدسِ شریف کی آزادی تک آرام سے نہ بیٹھیں گے۔ | |||
=== نیشنل سیکورٹی کا بیان === | |||
محمدباقر ذوالقدر، دبیر شورای عالی امنیت ملی، کا سردار تنگسیری کی شہادت کے اعلان کے بارے میں بیان: | |||
یہ بیان مندرجہ ذیل ہے: | |||
بسم الله الرحمن الرحیم | |||
وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّهُ لِلَّهِ <ref>سورہ انفال، آیہ 39</ref>۔ | |||
سپاه پاسداران انقلاب اسلامی کے شجاع اور دلیر کمانڈر، تنگستان کے بہادر اور ایران و اسلام کے پر افتخار سردار، دریابان علیرضا تنگسیری، اپنی آرزو تک پہنچ گئے اور اپنے شہید راہبر اور ان کے بے شمار ساتھیوں سے جا ملے۔ | |||
ان کے لیے محاذِ جنوب، فوجی محاذ سے کہیں زیادہ تھا۔ محرومیت کے خاتمے، عوام دوستی، شیعہ اور سنی کے درمیان تعلق اور مسلمانوں کے اتحاد کے لیے ان کی کوششیں، ان کے عظیم باقیات الصالحات ہیں۔ | |||
دریابان تنگسیری نے بحریہ کی حکمت عملی — ایک اسٹریٹجک فورس اور غیر متناسب جنگی حربوں کے استعمال پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے — خلیج فارس کے دفاع کے لیے ایسی تیاری پیدا کی کہ آج ان کی شب و روز کی محنت کا شیریں پھل، آبنائے ہرمز میں تمام شریف ایرانی عوام کے لیے دفاعی طاقت کی صورت میں محسوس ہوتا ہے۔ | |||
اس عزیز شہید نے اپنی بابرکت زندگی مکمل طور پر ایران اور ایرانی کے دفاع کے لیے وقف کر دی اور اس راہ میں جہاد کا حق مکمل طور پر ادا کیا۔ خدا کا قانون یہ ہے کہ تنگسیری کا ورثہ ان کے عروج کے ساتھ، خداوندِ متعال کے فضل و کرم، ملتِ ایران کی عظیم پشت پناہی، | |||
اور رہبرِ معظم انقلاب کی ہدایت کے ساتھ، پہلے سے زیادہ مضبوطی اور استحکام کے ساتھ جاری رہے گا اور دشمنوں کو اس مقدس سرزمین پر تسلط کے خام خیال سے پہلے سے زیادہ مایوس کر دے گا۔ | |||
میں اس دلیر کمانڈر اور سربلند ایرانی بحریہ کے شہید کی شہادت پر رہبرِ معظم انقلاب، ان کے معزز خاندان، اور سپاه پاسداران انقلاب اسلامی کی نیروی دریایی کے ان کے ہمرزمان اور ساتھیوں کو مبارکباد اور تعزیت پیش کرتا ہوں، | |||
اور خداوندِ متعال سے ان کے لیے وسیع رحمت اور سید الشہداء حضرت اباعبداللہ الحسین (علیہ السلام) کی ہم نشینی کی دعا کرتا ہوں۔ | |||
محمدباقر ذوالقدر | |||
دبیر شورای عالی امنیت ملی | |||
۱۲ فروردین ۱۴۰۵ | |||
=== رئیس مجلس شورای اسلامی === | |||
محمدباقر قالیباف، پاریمنٹ کا سپیکر کا بیان: | |||
میرے عزیز بھائی، سردار علیرضا تنگسیری، سپاه پاسداران انقلاب اسلامی ایران کے شجاع کمانڈر کی شہادت کی خبر نے ایک بار پھر ایرانِ اسلامی کے حقیر دشمنوں کی عجز اور درماندگی کو ظاہر کیا ہے | |||
اور یہ دکھایا ہے کہ وہ دہشت گردی اور قتل و غارت کے علاوہ کوئی حل نہیں جانتے، ایک ایسا حل جس کی شکست پہلے سے ہی واضح ہے۔ | |||
ایران کا یہ غیور اور بہادر کمانڈر، جس نے شہید رئیس علی دلواری کی یادوں کو ہمارے لیے زندہ کیا، اپنی بابرکت زندگی کے دوران، ایسے درخشاں اور ناقابلِ تردید اثرات چھوڑے ہیں جن کا نمونہ دنیا آج آبنائے ہرمز میں واضح طور پر دیکھ رہی ہے۔ | |||
شہید تنگسیری شجاعت، ولایتمداری، اور استقامت کا ایک نمایاں نمونہ ہیں؛ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نے دفاع کے دوران ایسے بہادروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا شرف حاصل کیا، | |||
اور مجھے یقین ہے کہ ایران کی شریف ملت اور دنیا کے آزادی پسند کل فتح کے دن ان غیور مردوں کی خدمات کی قدردانی کریں گے اور ان کے نام ایرانِ عزیز کی تاریخ میں ہمیشہ باقی رہیں گے۔ | |||
وہ شخص جس کے دل میں امریکی جنگی جہازوں کے حملے نے لمحہ بھر کے لیے بھی شک پیدا نہیں کیا اور اس نے استکبار کے آلات پر ایسا زوردار مکا مارا کہ وہ جنگ کا میدان چھوڑ کر دور ترین ساحلوں پر لنگر انداز ہو گئے۔ | |||
اگر دشمن یہ تصور کرتا ہے کہ بہادروں کو ہٹانے سے شجاعت ختم ہو جائے گی، تو وہ اپنی قسمت آزما سکتا ہے تاکہ اس عظیم شہید کے جانشینوں کا دندان شکن جواب چکھ سکے۔ | |||
=== فرمانده قرارگاه خاتم === | |||
سرلشکر خلبان علی عبداللهی، فرمانده قرارگاه مرکزی حضرت خاتمالانبیاء، کا بیان: | |||
مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا <ref>سورۂ احزاب، آیہ 23</ref>۔ | |||
اسلام کے ناقابلِ شکست مجاہد اور سربلند، پر افتخار اور شجاع سردار، دریابان پاسدار علیرضا تنگسیری کی شہادت پر حضرت بقیةاللہ الاعظم (ارواحنا لتراب مقدمہ الفدا)، فرمانده معظم کل قوا (مدظلہ العالی)، | |||
تمام پاسداران و رزمندگان اسلام، ان کے ہمرزمان اور ان کے معزز خاندان کی خدمت میں تسلیت عرض کرتا ہوں۔ | |||
سرفراز شہید علیرضا تنگسیری نے اپنی بابرکت زندگی خدا کے راستے میں جہاد اور امتِ اسلامی کی خدمت کے لیے وقف کر دی، اور سیدھے کھڑے رہنے، استقامت، اخلاص، تدبیر، اور قابلِ ستائش شجاعت کے ساتھ اسلام، ملک اور ملت کے دشمنوں کو ذلت سے دوچار کیا۔ | |||
یہ عظیم شہید، مومنین اور ایران کے بہادر عوام کے سامنے عاجزی اور فروتنی کا نمونہ ہونے کے ساتھ ساتھ، انقلابِ اسلامی اور ایران کے باعزت عوام، خصوصاً امریکہ اور صہیونیوں کے دشمنوں کے سامنے ایک ناقابلِ تسخیر پہاڑ کی مانند کھڑے رہے۔ | |||
نسخہ بمطابق 11:37، 6 اپريل 2026ء
علی رضا تنگسیری، دفاعِ مقدس کے باعزّت دور کے کمانڈروں میں سے تھے۔ وہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے علمدار، سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ کے پہلے سمندری زون کے کمانڈر، اور بعد ازاں بحریہ کے نائب کمانڈر رہے۔ سال 1397 ہجری شمسی میں، رہبرِ معظم کی منظوری اور سپاہ پاسداران کے کمانڈر کی تجویز پر انہیں سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔
سوانحِ حیات
علی رضا تنگسیری سن 1341 ہجری شمسی میں صوبہ بوشہر کے شہر تنگستان میں پیدا ہوئے۔ اپنے والد کی ملازمت کے باعث وہ اروندکنار کے علاقے میں صوبہ خوزستان منتقل ہوئے۔
ان کے والد نیوی کے افسر (ناخدا) تھے، اور وہ ایک ایسے خاندان میں پروان چڑھے جو ماہی گیری اور دریائی سفر سے وابستہ تھا۔
ذمہ داریاں
- 1385 سے 1389 ہجری شمسی تک سپاہ پاسداران کے پہلے سمندری زون کے کمانڈر
- 1389 سے 1397 ہجری شمسی تک سپاہ پاسداران کی بحریہ کے نائب کمانڈر
- 1397 سے اپنی شہادت تک سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ کے کمانڈر
دریائے بحریہ کی تعیناتی اور سپاہ کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر
حضرت آیت اللہ خامنہ ای، سپریم کمانڈر، نے علیحدہ احکامات میں، ایڈمرل پاسدار علی رضا تنگسیری کو سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ کے کمانڈر کے عہدے پر تعینات کیا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ایڈمرل پاسدار علیرضا تنگسیری
سپاہ کے کمانڈر کی تجویز اور آپ کی لگن، اہلیت اور قیمتی تجربے کے پیش نظر، میں آپ کو سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ کے کمانڈر کے عہدے پر تعینات کرتا ہوں۔
متدین اور انقلابی اہلکاروں سے استفادہ، بحریہ کی تربیت، مہارت، سازوسامان اور سہولیات میں بہتری، اور بڑھتی ہوئی جنگی صلاحیتوں اور تیاریوں کے ساتھ ساتھ اطلاعاتی برتری، روحانی
اور بصیرتی ترقی، انقلابی اسلام کے معیار کے مطابق ایک متحرک اور ترقی پذیر بحریہ کی تعمیر کے نقطہ نظر کے ساتھ معاشی ضروریات پر توجہ، بحریہ کے وسیع خاندان، بسیج، اور بری، بحری اور سول شعبوں کے ساتھ بحری امور میں مؤثر اور ہم آہنگ تعامل کی توقع کی جاتی ہے۔
میں ایڈمرل پاسدار علی فدوی کی ان کی ذمہ داریوں کے دوران کی گئی مخلصانہ کوششوں اور خدمات پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں خدا سے سب کے لیے خوش بختی کی دعا کرتا ہوں۔ سید علی حسینی خامنہ ای، یکم ستمبر 2018
خلیج فارس میں غیر ملکی بحری جہازوں اور فوجیوں کی گرفتاری
بحریہ میں شہید تنگسیری کی ذمہ داری کے دوران، خلیج فارس میں غیر ملکی بحری جہازوں اور فوجیوں کی گرفتاری سے متعلق کئی واقعات پیش آئے۔ ان میں سے ایک یہ ہے:
بازداشتِ کچھ برطانوی ملاحوں کا واقعہ خلیج فارس میں
10 آذر 1388 ہجری شمسی کو، جب سردار تنگسیری سپاہ کی بحریہ کے پہلے زون کے کمانڈر تھے، خلیج فارس میں چند برطانوی ملاح گرفتار کیے گئے۔ اس خبر پر ردِعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا:
’’اگر انگریز خلیج فارس میں گرفتار ہوئے ہیں تو یقیناً واضح ہے کہ انہیں ملک کی کس فوجی طاقت نے گرفتار کیا ہے۔‘‘ انہوں نے سپاہ کی بحریہ کے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز پر تسلط کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا:
’’ہر جہاز جو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں داخل ہوتا ہے، وہ ہماری نگرانی میں ہوتا ہے اور یہ سپاہ کی بحریہ کے ذمّے بنیادی اور ذاتی مشن ہے۔‘‘
10 امریکی ملاحوں کی گرفتاری
نیز سپاہ کی بحریہ کے نائب کمانڈر کے دور میں، سردار تنگسیری کے زمانے میں، سپاہ پاسداران نے خلیج فارس میں 10 امریکی ملاحوں کو گرفتار کیا۔ یہ واقعہ برجام کے نفاذ کے دنوں میں پیش آیا اور ایران و امریکہ کے درمیان ایک سفارتی بحران بن گیا۔
ایرانی تیز رفتار کشتیوں کی امریکی جنگی جہاز کو وارننگ
ایک اور واقعے میں، ایرانی کشتیوں نے ایک امریکی جنگی جہاز کے قریب رسائی حاصل کی۔ سردار تنگسیری نے کہا: ’’فوج اور سپاہ کی فورسز امریکی جہاز تک پہنچ گئیں، انہوں نے اس پر اسپرے سے نشان لگایا اور فلیئر بھی فائر کیا۔‘‘
سپاہ کی بحریہ کی عسکری کامیابیاں
سردار تنگسیری کی بحریہ پر کمانڈ کے دوران، سال 1401 ہجری شمسی میں اعلان کیا گیا کہ سپاہ نے ’’شہپاد‘‘ یعنی دور سے کنٹرول ہونے والی کشتی کی تیاری شروع کردی ہے۔
بعد میں انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس مصنوعی ذہانت سے لیس شہپاد موجود ہیں، جن میں ایک لیڈر کشتی ہوتی ہے اور 30 پیچھے چلنے والی کشتیاں، اور اگر لیڈر تباہ ہوجائے تو اس کی جگہ دوسری لے لیتی ہے۔
سال 1403 ہجری شمسی میں انہوں نے کہا: ’’آج ہمارا فخر یہ ہے کہ ہم نے ہدایتی میزائل بردار کشتیوں (شہپاد) کی تیاری کا آغاز کر دیا ہے۔‘‘
سات سالہ کمانڈ کے عرصے میں بحریہ کو نئی عسکری صلاحیتیں حاصل ہوئیں، جن میں شہید باقری ڈرون بردار کشتی اور بحریہ کو جدید کروز میزائلوں سے لیس کرنا شامل تھا۔
مزید برآں، ان کے دور میں خلیج فارس کے ساحلی پٹی میں متعدد میزائل شہروں کی رونمائی کی گئی۔ سال 1400 ہجری شمسی میں ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا: ’’سپاہ کے زیرزمین میزائل شہرک، خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے ساحل کے ساتھ 70 کلومیٹر سے زیادہ گہرائی میں واقع ہیں۔
یہ تمام شہرک مسلح ہیں، اور ہمارے میزائل وہیں سے فائر ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ صرف میزائل شہرک ہی نہیں، بلکہ شناوری شہرک بھی موجود ہیں۔‘‘
سپاہ کے عمرانی اور بحری کارنامے اور ترقی
سپاہ کی بحریہ میں سردار تنگسیری کی کمان کے دوران اُن کے اہم اقدامات میں سے ایک، رہبرِ شہیدِ انقلاب کے حکم کے تحت خلیج فارس کی ایرانی جزائر میں رہائشی ساخت و ساز کا آغاز تھا۔ سال 1399 ہجری شمسی میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا:
’’ہم نے تنبِ بزرگ میں ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ بنایا ہے؛ تنبِ کوچک میں بھی ہوائی اڈہ تعمیر ہو چکا ہے، اور سپاہ کی بحریہ نے عوام کے لیے 50 سے زیادہ موجشکن (بریک واٹرز) بنائے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا: ’’ہماری نیت ہے کہ خلیج فارس کی جزائر میں رہائشی بنیادی ڈھانچے بنا کر لوگوں کے سکونت کے لیے انہیں قابلِ استفاده کریں، اور یہ فرمان فرمانده معظم کل قوا کا ہے کہ لوگ ان جزائر میں زندگی گزاریں۔ جب ملک کی پہلی شخصیت فرماتی ہیں کہ وہاں عوام کی سکونت کا انتظام ہونا چاہیے، اس کا مطلب ہے کہ ہم خطے کی امنیت کے پیچھے ہیں۔‘‘
اقتصادی پابندی
24 جون 2019 کو امریکہ کے وزارتِ خارجہ نے علیرضا تنگسیری کا نام سات دیگر سپاہ کمانڈروں کے ساتھ پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا۔
یہ تحریمیں ان افراد کے ایران کے میزائل پروگرام اور بین الاقوامی پانیوں میں تجارتی جہازوں سے متعلق واقعات میں مبینہ کردار کے باعث لگائی گئیں۔
اسی طرح 20 جولائی 2023 کو یورپی یونین نے چھ ایرانی مقامات—جن میں علیرضا تنگسیری بھی شامل تھے—پر پابندیاں عائد کیں، جن کا تعلق شام کو مبینہ طور پر دفاعی نظام بھیجنے اور روس کو ڈرون فراہم کرنے سے جوڑا گیا۔
ان تحریموں میں سفری پابندیاں، اثاثوں کا منجمد ہونا، اور یورپی شہریوں و کمپنیوں کے ساتھ ہر قسم کی مالی لین دین پر پابندی شامل ہے۔
شہادت
علی رضا تنگسیری، جزائر اور خلیج فارس و تنگۂ ہرمز کے ساحلی علاقوں میں نیرو کی ساماندهی کے دوران، جنگِ رمضان میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں زخمی ہوئے اور 10 فروردین 1405 ہجری شمسی کو انہی زخموں کے باعث شہید ہو گئے۔
رد عمل
رہبر انقلاب
رهبر معظم انقلاب اسلامی، آیتالله سید مجتبی خامنهای، نے دریابان علیرضا تنگسیری کی شہادت پر پیغام صادر کیا۔
بسم الله الرحمن الرحیم
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُون [1]۔
سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ کے غیرتمند اور شجاع فرمانده، دریابان علیرضا تنگسیری سالها مجاہدت کے بعد مقامِ شہادت سے سرفراز ہوئے۔
اُس دلیر فرزندِ تنگستان، سربازِ ایران اور پاسدارِ اسلام کی شہادت، تیسری تحمیلی جنگ کے حماسے میں، بوشہر کے دلاورخیز عوام، جنوب کے نوجوانوں، جمهوری اسلامی کی مسلح افواج اور ملتِ ایران کے لیے—
جو ہمیشہ ایران کی آزادی اور خصوصاً خلیج فارس کی آبی سرحدوں کے محافظ رہے ہیں—ایک عظیم سندِ افتخار ہے، تاکہ ایران کی بحری طاقت و مقاومت پہلے سے زیادہ مستحکم و قوی ہو، انشاءالله۔
میں اس سلحشور فرمانده کی شہادت کو خاندانِ گرامی، ہمرزمان، اور سپاه پاسداران و نیروی دریایی کے فرماندهان کے حضور تبریک و تسلیت پیش کرتا ہوں، اور خداوندِ متعال سے اس شہید کے لیے علوِّ درجات کی دعا کرتا ہوں۔
سید مجتبی حسینی خامنهای ۱۰ فروردین ۱۴۰۵
سپاه پاسداران انقلاب اسلامی ایران
سپاه کا شہادتِ سردار تنگسیری کے اعلان کا بیانیہ:
بسم الله الرحمن الرحیم
مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا [2]۔
خدا کا مردِ مجاهد، فی سبیلالله، اور دفاعِ مقدسِ سوم کا عظیم قهرمان، تقریباً نصف صدی کی نہ تھمنے والی جہاد کے بعد سید و سالار شہیدان کا مہمان بن گیا۔
دریابانِ پاسدار شہید علیرضا تنگسیری، جو اُن کاری ضربات کے بعد—جن کے نتیجے میں دشمن کی اہم تنصیبات و زیرساختیں تباہ ہوئیں اور ایک امریکی جنگنده بھی سقوط کا شکار ہوا—
جزائر اور ساحلوں میں دشمنوں کے استعمال میں آنے والے مقامات پر نیرو کی ساماندهی اور دفاعی سپر کی تقویت میں مصروف تھے، شدید جراحات کے سبب لقاءالله سے جا ملے۔
ہمارا ملت ایسی شہادتوں سے آشنا ہے اور جانتا ہے کہ وہ محاذ جو انسانی تاریخ کے عظیم اساطیر اور الہی رہبروں، چون خمینی و خامنهای، کی رخصتی کے باوجود لمحہای نہ رکا بلکہ زیادہ قدرت سے آگے بڑھا، وہ سردارانِ میدان کی شہادت سے بھی اپنی راہ مزید اقتدار کے ساتھ جاری رکھے گا۔
جس طرح سپاه کی بحریہ کے رزمندگان نے ان دنوں، اس رشید فرمانده کی عدم موجودی میں، تنگهٔ هرمز کے صحنے پر کوبنده ضربات اور قاطع مدیریت سے اس حقیقت کو ثابت کیا۔
وہ نیرو جس نے آٹھ سالہ دفاعِ مقدس میں ابرقدرتوں کے نفتکش اسکورت آپریشنز کو ابتدائی ترین ہتھیاروں سے درہم کیا اور کئی امریکی جنگی جہازوں کو نابود کیا، اور جس کی یادوں میں امریکی و برطانوی تفنگداران کی گرفتاری اور دشمن جہازوں کی غنیمت موجود ہے—
اس کا ہر رزمنده ایک ’’تنگسیری‘‘ ہے، اور آنے والے دنوں اور مہینوں میں دیکھیں گے کہ وہ کیا حیرتانگیز کارنامے رقم کریں گے۔
اس شجاع و غیور سربازِ وطن کی شہادت، جس نے رئیسعلی دلواری کی حماسهها کو یادوں میں زندہ کردیا، ہم فرمانده معظم کل قوا حضرت آیتالله خامنهای، تمام ملتِ شریف ایران،
اور سپاه و ارتش کے رزمندگان کو تبریک و تسلیت عرض کرتے ہیں، اور ملتِ ایران کے ساتھ پیمان باندھتے ہیں کہ دشمن کی کامل نابودی اور قدسِ شریف کی آزادی تک آرام سے نہ بیٹھیں گے۔
نیشنل سیکورٹی کا بیان
محمدباقر ذوالقدر، دبیر شورای عالی امنیت ملی، کا سردار تنگسیری کی شہادت کے اعلان کے بارے میں بیان:
یہ بیان مندرجہ ذیل ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم
وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّهُ لِلَّهِ [3]۔
سپاه پاسداران انقلاب اسلامی کے شجاع اور دلیر کمانڈر، تنگستان کے بہادر اور ایران و اسلام کے پر افتخار سردار، دریابان علیرضا تنگسیری، اپنی آرزو تک پہنچ گئے اور اپنے شہید راہبر اور ان کے بے شمار ساتھیوں سے جا ملے۔
ان کے لیے محاذِ جنوب، فوجی محاذ سے کہیں زیادہ تھا۔ محرومیت کے خاتمے، عوام دوستی، شیعہ اور سنی کے درمیان تعلق اور مسلمانوں کے اتحاد کے لیے ان کی کوششیں، ان کے عظیم باقیات الصالحات ہیں۔
دریابان تنگسیری نے بحریہ کی حکمت عملی — ایک اسٹریٹجک فورس اور غیر متناسب جنگی حربوں کے استعمال پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے — خلیج فارس کے دفاع کے لیے ایسی تیاری پیدا کی کہ آج ان کی شب و روز کی محنت کا شیریں پھل، آبنائے ہرمز میں تمام شریف ایرانی عوام کے لیے دفاعی طاقت کی صورت میں محسوس ہوتا ہے۔
اس عزیز شہید نے اپنی بابرکت زندگی مکمل طور پر ایران اور ایرانی کے دفاع کے لیے وقف کر دی اور اس راہ میں جہاد کا حق مکمل طور پر ادا کیا۔ خدا کا قانون یہ ہے کہ تنگسیری کا ورثہ ان کے عروج کے ساتھ، خداوندِ متعال کے فضل و کرم، ملتِ ایران کی عظیم پشت پناہی،
اور رہبرِ معظم انقلاب کی ہدایت کے ساتھ، پہلے سے زیادہ مضبوطی اور استحکام کے ساتھ جاری رہے گا اور دشمنوں کو اس مقدس سرزمین پر تسلط کے خام خیال سے پہلے سے زیادہ مایوس کر دے گا۔
میں اس دلیر کمانڈر اور سربلند ایرانی بحریہ کے شہید کی شہادت پر رہبرِ معظم انقلاب، ان کے معزز خاندان، اور سپاه پاسداران انقلاب اسلامی کی نیروی دریایی کے ان کے ہمرزمان اور ساتھیوں کو مبارکباد اور تعزیت پیش کرتا ہوں،
اور خداوندِ متعال سے ان کے لیے وسیع رحمت اور سید الشہداء حضرت اباعبداللہ الحسین (علیہ السلام) کی ہم نشینی کی دعا کرتا ہوں۔
محمدباقر ذوالقدر دبیر شورای عالی امنیت ملی ۱۲ فروردین ۱۴۰۵
رئیس مجلس شورای اسلامی
محمدباقر قالیباف، پاریمنٹ کا سپیکر کا بیان:
میرے عزیز بھائی، سردار علیرضا تنگسیری، سپاه پاسداران انقلاب اسلامی ایران کے شجاع کمانڈر کی شہادت کی خبر نے ایک بار پھر ایرانِ اسلامی کے حقیر دشمنوں کی عجز اور درماندگی کو ظاہر کیا ہے
اور یہ دکھایا ہے کہ وہ دہشت گردی اور قتل و غارت کے علاوہ کوئی حل نہیں جانتے، ایک ایسا حل جس کی شکست پہلے سے ہی واضح ہے۔
ایران کا یہ غیور اور بہادر کمانڈر، جس نے شہید رئیس علی دلواری کی یادوں کو ہمارے لیے زندہ کیا، اپنی بابرکت زندگی کے دوران، ایسے درخشاں اور ناقابلِ تردید اثرات چھوڑے ہیں جن کا نمونہ دنیا آج آبنائے ہرمز میں واضح طور پر دیکھ رہی ہے۔
شہید تنگسیری شجاعت، ولایتمداری، اور استقامت کا ایک نمایاں نمونہ ہیں؛ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نے دفاع کے دوران ایسے بہادروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا شرف حاصل کیا،
اور مجھے یقین ہے کہ ایران کی شریف ملت اور دنیا کے آزادی پسند کل فتح کے دن ان غیور مردوں کی خدمات کی قدردانی کریں گے اور ان کے نام ایرانِ عزیز کی تاریخ میں ہمیشہ باقی رہیں گے۔
وہ شخص جس کے دل میں امریکی جنگی جہازوں کے حملے نے لمحہ بھر کے لیے بھی شک پیدا نہیں کیا اور اس نے استکبار کے آلات پر ایسا زوردار مکا مارا کہ وہ جنگ کا میدان چھوڑ کر دور ترین ساحلوں پر لنگر انداز ہو گئے۔
اگر دشمن یہ تصور کرتا ہے کہ بہادروں کو ہٹانے سے شجاعت ختم ہو جائے گی، تو وہ اپنی قسمت آزما سکتا ہے تاکہ اس عظیم شہید کے جانشینوں کا دندان شکن جواب چکھ سکے۔
فرمانده قرارگاه خاتم
سرلشکر خلبان علی عبداللهی، فرمانده قرارگاه مرکزی حضرت خاتمالانبیاء، کا بیان:
مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا [4]۔
اسلام کے ناقابلِ شکست مجاہد اور سربلند، پر افتخار اور شجاع سردار، دریابان پاسدار علیرضا تنگسیری کی شہادت پر حضرت بقیةاللہ الاعظم (ارواحنا لتراب مقدمہ الفدا)، فرمانده معظم کل قوا (مدظلہ العالی)،
تمام پاسداران و رزمندگان اسلام، ان کے ہمرزمان اور ان کے معزز خاندان کی خدمت میں تسلیت عرض کرتا ہوں۔
سرفراز شہید علیرضا تنگسیری نے اپنی بابرکت زندگی خدا کے راستے میں جہاد اور امتِ اسلامی کی خدمت کے لیے وقف کر دی، اور سیدھے کھڑے رہنے، استقامت، اخلاص، تدبیر، اور قابلِ ستائش شجاعت کے ساتھ اسلام، ملک اور ملت کے دشمنوں کو ذلت سے دوچار کیا۔
یہ عظیم شہید، مومنین اور ایران کے بہادر عوام کے سامنے عاجزی اور فروتنی کا نمونہ ہونے کے ساتھ ساتھ، انقلابِ اسلامی اور ایران کے باعزت عوام، خصوصاً امریکہ اور صہیونیوں کے دشمنوں کے سامنے ایک ناقابلِ تسخیر پہاڑ کی مانند کھڑے رہے۔