مندرجات کا رخ کریں

"توحید اِسلامی تحریک لبنان" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
«{{خانہ معلومات پارٹی | عنوان = | تصویر = حرکت توحید اسلامی لبنان.jpg | نام = توحید اِسلامی تحریک لبنان | قیام کی تاریخ = ۱۹۸۲ء | بانی = شیخ سعید شعبان | رہنما = | مقاصد = {{افقی باکس کی فہرست | صیہونی حکومت کے لبنان کے بڑے حصوں پر قبضے کا مقابلہ کرنا، لبنان...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 9: سطر 9:
}}
}}


توحید اِسلامی تحریک لبنان، لبنان کی ایک سنی اسلامی تحریک ہے جس کی قیادت شیخ سعید شعبان — جو اس ملک کے تقریب پسند علماء میں سے تھے — کر رہے تھے۔ یہ تحریک 1982ء میں اسرائیلی قبضے کے بعد اُس وقت وجود میں آئی جب جنودُاللّٰہ تحریک (جس کی قیادت فواز حسین آغا کر رہے تھے)،  لبنانِ عربی تحریک (جس کی قیادت عصمت مراد کے ہاتھ میں تھی)، اور حرکتِ مقاومۃ الشعبیۃ (عوامی مزاحمت تحریک) (جس کی قیادت خلیل عکاوی نے کی) کو باہمی طور پر ضم کر دیا گیا۔   
'''توحید اِسلامی تحریک لبنان'''، لبنان کی ایک سنی اسلامی تحریک ہے جس کی قیادت شیخ سعید شعبان — جو اس ملک کے تقریب پسند علماء میں سے تھے — کر رہے تھے۔ یہ تحریک 1982ء میں اسرائیلی قبضے کے بعد اُس وقت وجود میں آئی جب جنودُاللّٰہ تحریک (جس کی قیادت فواز حسین آغا کر رہے تھے)،  لبنانِ عربی تحریک (جس کی قیادت عصمت مراد کے ہاتھ میں تھی)، اور حرکتِ مقاومۃ الشعبیۃ (عوامی مزاحمت تحریک) (جس کی قیادت خلیل عکاوی نے کی) کو باہمی طور پر ضم کر دیا گیا۔   


اس تحریک کے مقاصد میں لبنان کے وسیع حصّوں پر صہیونی قبضے کے خلاف مزاحمت کرنا، لبنانی سیاسی نظام سے طائفہ بندی کے ڈھانچے کو ختم کرنا، عالمی استکبار کی طرف سے پیدا کی گئی فرقہ وارانہ مراعات کو منسوخ کرنا اور لبنان میں عدل و انصاف کا قیام شامل تھا۔
اس تحریک کے مقاصد میں لبنان کے وسیع حصّوں پر صہیونی قبضے کے خلاف مزاحمت کرنا، لبنانی سیاسی نظام سے طائفہ بندی کے ڈھانچے کو ختم کرنا، عالمی استکبار کی طرف سے پیدا کی گئی فرقہ وارانہ مراعات کو منسوخ کرنا اور لبنان میں عدل و انصاف کا قیام شامل تھا۔


قیام کی تاریخ
== قیام کی تاریخ ==
توحیدِ اسلامی تحریک لبنان (حرکۃ التوحید الاسلامی) سن 1982ء میں قائم ہوئی۔ اس تحریک کی تشکیل پر ایک طرف اسلامی انقلابِ ایران کی کامیابی کے بعد ابھرنے والی اسلام پسند فضا کا اثر تھا اور دوسری طرف عرب دنیا میں قوم پرستانہ اور مارکسی تحریکوں کی ناکامی، نیز صہیونی رژیم کی جانب سے لبنان کے وسیع علاقوں پر قبضہ بھی ایک بنیادی عامل تھا۔   
توحیدِ اسلامی تحریک لبنان (حرکۃ التوحید الاسلامی) سن 1982ء میں قائم ہوئی۔ اس تحریک کی تشکیل پر ایک طرف اسلامی انقلابِ ایران کی کامیابی کے بعد ابھرنے والی اسلام پسند فضا کا اثر تھا اور دوسری طرف عرب دنیا میں قوم پرستانہ اور مارکسی تحریکوں کی ناکامی، نیز صہیونی رژیم کی جانب سے لبنان کے وسیع علاقوں پر قبضہ بھی ایک بنیادی عامل تھا۔   


اگست 1982ء میں، جنداللّٰہ تحریک کے اراکین جن کی قیادت فواز حسین آغا کر رہے تھے، لبنانِ عربی تحریک (حرکۃ لبنان العربی) جس کے رہنما عصمت مراد تھے، اور عوامی مزاحمت تحریک (حرکۃ المقاومۃ الشعبیۃ) جس کی قیادت خلیل عکاوی کے ہاتھ میں تھی، طرابلس شہر کی مسجد التوبہ میں جمع ہوئے۔ اس اجتماع کے نتیجے میں، شیخ سعید شعبان کی قیادت میں توحیدِ اسلامی تحریک لبنان (حرکۃ التوحید الاسلامی) کی تشکیل عمل میں آئی۔
اگست 1982ء میں، جنداللّٰہ تحریک کے اراکین جن کی قیادت فواز حسین آغا کر رہے تھے، لبنانِ عربی تحریک (حرکۃ لبنان العربی) جس کے رہنما عصمت مراد تھے، اور عوامی مزاحمت تحریک (حرکۃ المقاومۃ الشعبیۃ) جس کی قیادت خلیل عکاوی کے ہاتھ میں تھی، طرابلس شہر کی مسجد التوبہ میں جمع ہوئے۔ اس اجتماع کے نتیجے میں، شیخ سعید شعبان کی قیادت میں توحیدِ اسلامی تحریک لبنان (حرکۃ التوحید الاسلامی) کی تشکیل عمل میں آئی۔


تحریک کا بنیادی نظریه
== تحریک کا بنیادی نظریه ==
اس تحریک کے پاس جنوبی لبنان کے شہر صیدا میں ایک منظم عسکری قوت موجود تھی، جس نے اسرائیلی افواج اور آنتوان لحد کے زیرِ قیادت مزدور ملیشیاؤں کے ٹھکانوں کے خلاف جھڑپوں میں نمایاں کارکردگی دکھائی اور ایک مثبت ریکارڈ چھوڑا۔ حرکتِ توحیدِ اسلامی کا یہ عقیدہ تھا کہ لبنان کے سیاسی نظام سے طائفہ وارانہ نظام کو مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے، وہ فرقہ وارانہ مراعات جو عالمی استکبار کی پیداوار ہیں منسوخ کی جائیں، اور لبنان میں ایک اسلامی جمہوریہ کا قیام عمل میں لایا جائے۔<ref>[https://hawzah.net/fa/Article/View/85357/%DA%AF%D8%B1%D8%A7%DB%8C%D8%B4-%D9%87%D8%A7%DB%8C-%DA%AF%D9%88%D9%86%D8%A7%DA%AF%D9%88%D9%86-%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%D9%88-%D9%81%D8%B1%D9%87%D9%86%DA%AF%DB%8C-%D8%AF%D8%B1-%DA%A9%D8%B4%D9%88%D8%B1-%D9%84%D گرایش های گوناگون سیاسی و فرهنگی در کشور لبنان، پایگاه اطلاع‌رسانی حوزه]. </ref>


اس تحریک کے پاس جنوبی لبنان کے شہر صیدا میں ایک منظم عسکری قوت موجود تھی، جس نے اسرائیلی افواج اور آنتوان لحد کے زیرِ قیادت مزدور ملیشیاؤں کے ٹھکانوں کے خلاف جھڑپوں میں نمایاں کارکردگی دکھائی اور ایک مثبت ریکارڈ چھوڑا۔ حرکتِ توحیدِ اسلامی کا یہ عقیدہ تھا کہ لبنان کے سیاسی نظام سے طائفہ وارانہ نظام کو مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے، وہ فرقہ وارانہ مراعات جو عالمی استکبار کی پیداوار ہیں منسوخ کی جائیں، اور لبنان میں ایک اسلامی جمہوریہ کا قیام عمل میں لایا جائے۔
== سرگرمیاں ==
 
سرگرمیاں
توحیدِ اسلامی تحریک لبنان شہر طرابلس پر عسکری اور سیاسی غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی، یہاں تک کہ 1985ء اور 1986ء میں وہ طرابلس کی عملی طور پر مکمل حاکم بن گئی۔ اس تحریک نے اپنے نوجوان اراکین پر مشتمل ایک مسلح گروہ تشکیل دیا اور ان کے ذریعے طرابلس کو ایک اسلامی امارت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔   
توحیدِ اسلامی تحریک لبنان شہر طرابلس پر عسکری اور سیاسی غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی، یہاں تک کہ 1985ء اور 1986ء میں وہ طرابلس کی عملی طور پر مکمل حاکم بن گئی۔ اس تحریک نے اپنے نوجوان اراکین پر مشتمل ایک مسلح گروہ تشکیل دیا اور ان کے ذریعے طرابلس کو ایک اسلامی امارت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔   


سطر 29: سطر 28:
توحید اسلامی تحریک مارکسی نظریات کی سخت مخالف تھی، اسی بنا پر اس کے اور مارکسی جماعتوں و گروہوں کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئیں، اور اس تحریک پر ان میں سے بہت سے افراد کے قتل کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔
توحید اسلامی تحریک مارکسی نظریات کی سخت مخالف تھی، اسی بنا پر اس کے اور مارکسی جماعتوں و گروہوں کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئیں، اور اس تحریک پر ان میں سے بہت سے افراد کے قتل کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔


سوریہ کے ساتھ اختلاف
== سوریہ کے ساتھ اختلاف ==
 
1985ء میں، بائیں بازو کی قوتوں کی بغاوتوں اور ان کی طرابلس پر وسیع حملوں کے نتیجے میں—جو شامی حمایت کے تحت انجام پائے—اس اسلامی تنظیم کی طاقت بتدریج کمزور ہونے لگی۔ اس دوران اس کے متعدد اراکین کو گرفتار کر کے شامی جیلوں میں قید کر دیا گیا، جبکہ کچھ دیگر افراد شہر صیدا کی جانب فرار ہو گئے۔
1985ء میں، بائیں بازو کی قوتوں کی بغاوتوں اور ان کی طرابلس پر وسیع حملوں کے نتیجے میں—جو شامی حمایت کے تحت انجام پائے—اس اسلامی تنظیم کی طاقت بتدریج کمزور ہونے لگی۔ اس دوران اس کے متعدد اراکین کو گرفتار کر کے شامی جیلوں میں قید کر دیا گیا، جبکہ کچھ دیگر افراد شہر صیدا کی جانب فرار ہو گئے۔


اختلاف کے حل کے لیے ایران کی ثالثی
== اختلاف کے حل کے لیے ایران کی ثالثی ==
 
جمہوریۂ اسلامی ایران کی کوششوں کے نتیجے میں، حرکتِ توحیدِ اسلامی اور شامی حکومت کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے مطابق، شیخ سعید شعبان اپنے نیروؤں اور حامیوں کے ساتھ شہر طرابلس میں ہی مقیم رہیں گے، تاہم وہ عسکری سرگرمیوں سے دستبردار ہو جائیں گے اور صرف سیاسی سرگرمیوں تک خود کو محدود رکھیں گے۔
جمہوریۂ اسلامی ایران کی کوششوں کے نتیجے میں، حرکتِ توحیدِ اسلامی اور شامی حکومت کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے مطابق، شیخ سعید شعبان اپنے نیروؤں اور حامیوں کے ساتھ شہر طرابلس میں ہی مقیم رہیں گے، تاہم وہ عسکری سرگرمیوں سے دستبردار ہو جائیں گے اور صرف سیاسی سرگرمیوں تک خود کو محدود رکھیں گے۔


تحریک میں اختلاف
== تحریک میں اختلاف ==
 
شیخ سعید شعبان کے انتقال کے بعد اس تحریک کو دوسرا بڑا دھچکا پہنچا، جو شدت میں پہلے دھچکے—یعنی شامی فوج کے طرابلس میں داخلے—سے کم نہ تھا۔ اس مرحلے پر تحریک کی قیادت نے دو الگ راستے اختیار کر لیے۔   
شیخ سعید شعبان کے انتقال کے بعد اس تحریک کو دوسرا بڑا دھچکا پہنچا، جو شدت میں پہلے دھچکے—یعنی شامی فوج کے طرابلس میں داخلے—سے کم نہ تھا۔ اس مرحلے پر تحریک کی قیادت نے دو الگ راستے اختیار کر لیے۔   
شیخ ہاشم منقارہ اور شیخ ابراہیم صالح نے حرکة التوحید الاسلامی ـ مجلسُ القیادۃ (تحریکِ توحیدِ اسلامی ـ مجلسِ قیادت) کی بنیاد رکھی، جبکہ شیخ بلال شعبان (سعید شعبان کے فرزند) اور ان کے ساتھ دیگر افراد نے سعید شعبان کے طریقِ کار کو جاری رکھتے ہوئے حرکة التوحید الاسلامی ـ مجلسُ الامناء (تحریکِ توحیدِ اسلامی ـ مجلسِ امناء) کی قیادت سنبھالی۔
شیخ ہاشم منقارہ اور شیخ ابراہیم صالح نے حرکة التوحید الاسلامی ـ مجلسُ القیادۃ (تحریکِ توحیدِ اسلامی ـ مجلسِ قیادت) کی بنیاد رکھی، جبکہ شیخ بلال شعبان (سعید شعبان کے فرزند) اور ان کے ساتھ دیگر افراد نے سعید شعبان کے طریقِ کار کو جاری رکھتے ہوئے حرکة التوحید الاسلامی ـ مجلسُ الامناء (تحریکِ توحیدِ اسلامی ـ مجلسِ امناء) کی قیادت سنبھالی۔


وحدت کی کوششیں
== وحدت کی کوششیں ==
 
لبنان کے سابق وزیرِاعظم رفیق حریری کے 14 فروری 2005ء کو قتل کے بعد، تحریکِ توحید کے قائدین نے باہمی اتحاد کی کوشش کی اور اسے ایک واحد تحریک کی صورت دینے کی سعی کی، جس کی سربراہی شیخ ناجی کے سپرد کی گئی۔ اس مرحلے پر یہ تحریک اندرونی سیاست میں نسبتاً کم سرگرم رہی۔   
لبنان کے سابق وزیرِاعظم رفیق حریری کے 14 فروری 2005ء کو قتل کے بعد، تحریکِ توحید کے قائدین نے باہمی اتحاد کی کوشش کی اور اسے ایک واحد تحریک کی صورت دینے کی سعی کی، جس کی سربراہی شیخ ناجی کے سپرد کی گئی۔ اس مرحلے پر یہ تحریک اندرونی سیاست میں نسبتاً کم سرگرم رہی۔   
لبنانی پارلیمان کے بعض ووٹنگ مراحل میں اس نے جماعتِ اسلامی—جو لبنان کی اہم سنی اسلام پسند جماعتوں میں سے ایک ہے—کے امیدواروں کی حمایت کی، اور بلدیاتی انتخابات میں بھی تحریکِ توحید سے قریبی تعلق رکھنے والے بعض افراد کی تائید کی۔ اس کی عوامی سرگرمیاں مجموعی طور پر نہایت محدود رہیں۔   
لبنانی پارلیمان کے بعض ووٹنگ مراحل میں اس نے جماعتِ اسلامی—جو لبنان کی اہم سنی اسلام پسند جماعتوں میں سے ایک ہے—کے امیدواروں کی حمایت کی، اور بلدیاتی انتخابات میں بھی تحریکِ توحید سے قریبی تعلق رکھنے والے بعض افراد کی تائید کی۔ اس کی عوامی سرگرمیاں مجموعی طور پر نہایت محدود رہیں۔   


رفیق حریری کے قتل کے بعد وجود میں آنے والی سیاسی صف بندیوں میں، اگرچہ سنی حلقوں کی اکثریت 14 مارچ کے گروہ (حکومتِ لبنان کے حامیوں) میں شامل ہو گئی، تاہم تحریکِ توحید نے 8 مارچ کے گروہ—یعنی شام اور حزبُ اللہ کے حامیوں—کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔
رفیق حریری کے قتل کے بعد وجود میں آنے والی سیاسی صف بندیوں میں، اگرچہ سنی حلقوں کی اکثریت 14 مارچ کے گروہ (حکومتِ لبنان کے حامیوں) میں شامل ہو گئی، تاہم تحریکِ توحید نے 8 مارچ کے گروہ—یعنی شام اور حزبُ اللہ کے حامیوں—کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔<ref>[https://rch.ac.ir/article/Details/11556 از جنبش‌های اسلام‌گرای سنی لبنان، وب‌سایت بنیاد دایره المعارف اسلامی]. </ref>
 
== متعلقه تلاشیں ==
* [[لبنان]]
* [[سعید شعبان]]
* [[حزب اللہ لبنان]]


متعلقه تلاشیں
== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
{{حوالہ جات}}
[[زمرہ:ادارات اور جماعات]]
[[زمرہ:ادارات اور جماعات]]
[[زمرہ:لبنان]]
[[زمرہ:لبنان]]

نسخہ بمطابق 12:01، 21 فروری 2026ء

توحید اِسلامی تحریک لبنان
پارٹی کا نامتوحید اِسلامی تحریک لبنان
بانی پارٹیشیخ سعید شعبان
مقاصد و مبانی
  • صیہونی حکومت کے لبنان کے بڑے حصوں پر قبضے کا مقابلہ کرنا، لبنان کے سیاسی نظام سے فرقہ وارانہ نظام کے خاتمے کی کوششیں، عالمی استکبار سے پیدا ہونے والی فرقہ وارانہ مراعات کو ختم کرنا، لبنان میں انصاف کا قیام، شام اور حزب اللہ کے دوستوں کی حمایت

توحید اِسلامی تحریک لبنان، لبنان کی ایک سنی اسلامی تحریک ہے جس کی قیادت شیخ سعید شعبان — جو اس ملک کے تقریب پسند علماء میں سے تھے — کر رہے تھے۔ یہ تحریک 1982ء میں اسرائیلی قبضے کے بعد اُس وقت وجود میں آئی جب جنودُاللّٰہ تحریک (جس کی قیادت فواز حسین آغا کر رہے تھے)، لبنانِ عربی تحریک (جس کی قیادت عصمت مراد کے ہاتھ میں تھی)، اور حرکتِ مقاومۃ الشعبیۃ (عوامی مزاحمت تحریک) (جس کی قیادت خلیل عکاوی نے کی) کو باہمی طور پر ضم کر دیا گیا۔

اس تحریک کے مقاصد میں لبنان کے وسیع حصّوں پر صہیونی قبضے کے خلاف مزاحمت کرنا، لبنانی سیاسی نظام سے طائفہ بندی کے ڈھانچے کو ختم کرنا، عالمی استکبار کی طرف سے پیدا کی گئی فرقہ وارانہ مراعات کو منسوخ کرنا اور لبنان میں عدل و انصاف کا قیام شامل تھا۔

قیام کی تاریخ

توحیدِ اسلامی تحریک لبنان (حرکۃ التوحید الاسلامی) سن 1982ء میں قائم ہوئی۔ اس تحریک کی تشکیل پر ایک طرف اسلامی انقلابِ ایران کی کامیابی کے بعد ابھرنے والی اسلام پسند فضا کا اثر تھا اور دوسری طرف عرب دنیا میں قوم پرستانہ اور مارکسی تحریکوں کی ناکامی، نیز صہیونی رژیم کی جانب سے لبنان کے وسیع علاقوں پر قبضہ بھی ایک بنیادی عامل تھا۔

اگست 1982ء میں، جنداللّٰہ تحریک کے اراکین جن کی قیادت فواز حسین آغا کر رہے تھے، لبنانِ عربی تحریک (حرکۃ لبنان العربی) جس کے رہنما عصمت مراد تھے، اور عوامی مزاحمت تحریک (حرکۃ المقاومۃ الشعبیۃ) جس کی قیادت خلیل عکاوی کے ہاتھ میں تھی، طرابلس شہر کی مسجد التوبہ میں جمع ہوئے۔ اس اجتماع کے نتیجے میں، شیخ سعید شعبان کی قیادت میں توحیدِ اسلامی تحریک لبنان (حرکۃ التوحید الاسلامی) کی تشکیل عمل میں آئی۔

تحریک کا بنیادی نظریه

اس تحریک کے پاس جنوبی لبنان کے شہر صیدا میں ایک منظم عسکری قوت موجود تھی، جس نے اسرائیلی افواج اور آنتوان لحد کے زیرِ قیادت مزدور ملیشیاؤں کے ٹھکانوں کے خلاف جھڑپوں میں نمایاں کارکردگی دکھائی اور ایک مثبت ریکارڈ چھوڑا۔ حرکتِ توحیدِ اسلامی کا یہ عقیدہ تھا کہ لبنان کے سیاسی نظام سے طائفہ وارانہ نظام کو مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے، وہ فرقہ وارانہ مراعات جو عالمی استکبار کی پیداوار ہیں منسوخ کی جائیں، اور لبنان میں ایک اسلامی جمہوریہ کا قیام عمل میں لایا جائے۔[1]

سرگرمیاں

توحیدِ اسلامی تحریک لبنان شہر طرابلس پر عسکری اور سیاسی غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی، یہاں تک کہ 1985ء اور 1986ء میں وہ طرابلس کی عملی طور پر مکمل حاکم بن گئی۔ اس تحریک نے اپنے نوجوان اراکین پر مشتمل ایک مسلح گروہ تشکیل دیا اور ان کے ذریعے طرابلس کو ایک اسلامی امارت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔

طرابلس میں اس تحریک کے دورِ اقتدار کے دوران متعدد سماجی دینی احکام نافذ کیے گئے۔ اس کے تحت شراب کی خرید و فروخت کے مراکز، جوا خانوں، لہو و لعب کے اڈوں اور مخلوط تیراکی و تفریح کے مراکز کو بند کر دیا گیا۔ تحریک کے اراکین، جو خود کو احکامِ الٰہی کے نفاذ کا ذمہ دار سمجھتے تھے، محلّوں اور سڑکوں کی نگرانی پر مامور کیے گئے۔

توحید اسلامی تحریک مارکسی نظریات کی سخت مخالف تھی، اسی بنا پر اس کے اور مارکسی جماعتوں و گروہوں کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئیں، اور اس تحریک پر ان میں سے بہت سے افراد کے قتل کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔

سوریہ کے ساتھ اختلاف

1985ء میں، بائیں بازو کی قوتوں کی بغاوتوں اور ان کی طرابلس پر وسیع حملوں کے نتیجے میں—جو شامی حمایت کے تحت انجام پائے—اس اسلامی تنظیم کی طاقت بتدریج کمزور ہونے لگی۔ اس دوران اس کے متعدد اراکین کو گرفتار کر کے شامی جیلوں میں قید کر دیا گیا، جبکہ کچھ دیگر افراد شہر صیدا کی جانب فرار ہو گئے۔

اختلاف کے حل کے لیے ایران کی ثالثی

جمہوریۂ اسلامی ایران کی کوششوں کے نتیجے میں، حرکتِ توحیدِ اسلامی اور شامی حکومت کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے مطابق، شیخ سعید شعبان اپنے نیروؤں اور حامیوں کے ساتھ شہر طرابلس میں ہی مقیم رہیں گے، تاہم وہ عسکری سرگرمیوں سے دستبردار ہو جائیں گے اور صرف سیاسی سرگرمیوں تک خود کو محدود رکھیں گے۔

تحریک میں اختلاف

شیخ سعید شعبان کے انتقال کے بعد اس تحریک کو دوسرا بڑا دھچکا پہنچا، جو شدت میں پہلے دھچکے—یعنی شامی فوج کے طرابلس میں داخلے—سے کم نہ تھا۔ اس مرحلے پر تحریک کی قیادت نے دو الگ راستے اختیار کر لیے۔ شیخ ہاشم منقارہ اور شیخ ابراہیم صالح نے حرکة التوحید الاسلامی ـ مجلسُ القیادۃ (تحریکِ توحیدِ اسلامی ـ مجلسِ قیادت) کی بنیاد رکھی، جبکہ شیخ بلال شعبان (سعید شعبان کے فرزند) اور ان کے ساتھ دیگر افراد نے سعید شعبان کے طریقِ کار کو جاری رکھتے ہوئے حرکة التوحید الاسلامی ـ مجلسُ الامناء (تحریکِ توحیدِ اسلامی ـ مجلسِ امناء) کی قیادت سنبھالی۔

وحدت کی کوششیں

لبنان کے سابق وزیرِاعظم رفیق حریری کے 14 فروری 2005ء کو قتل کے بعد، تحریکِ توحید کے قائدین نے باہمی اتحاد کی کوشش کی اور اسے ایک واحد تحریک کی صورت دینے کی سعی کی، جس کی سربراہی شیخ ناجی کے سپرد کی گئی۔ اس مرحلے پر یہ تحریک اندرونی سیاست میں نسبتاً کم سرگرم رہی۔ لبنانی پارلیمان کے بعض ووٹنگ مراحل میں اس نے جماعتِ اسلامی—جو لبنان کی اہم سنی اسلام پسند جماعتوں میں سے ایک ہے—کے امیدواروں کی حمایت کی، اور بلدیاتی انتخابات میں بھی تحریکِ توحید سے قریبی تعلق رکھنے والے بعض افراد کی تائید کی۔ اس کی عوامی سرگرمیاں مجموعی طور پر نہایت محدود رہیں۔

رفیق حریری کے قتل کے بعد وجود میں آنے والی سیاسی صف بندیوں میں، اگرچہ سنی حلقوں کی اکثریت 14 مارچ کے گروہ (حکومتِ لبنان کے حامیوں) میں شامل ہو گئی، تاہم تحریکِ توحید نے 8 مارچ کے گروہ—یعنی شام اور حزبُ اللہ کے حامیوں—کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔[2]

متعلقه تلاشیں

حوالہ جات