مندرجات کا رخ کریں

"سانچہ:صفحۂ اول/تیسرے منتخب اثر" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 1: سطر 1:
[[فائل: خلافت ولی فقیه تحقق بخش امت واحده.png |بدون_چوکھٹا|بائیں]]
[[فائل: امت واحده اسلامی و اتحادیه کشورهای اسلامی (کتاب).png |بدون_چوکھٹا|بائیں]]
'''[[خلافت ولی فقیہ امت واحدہ کے تحقق کا ذریعہ(کتاب)|خلافت ولی فقیہ امت واحدہ کے تحقق کا ذریعہ]]'''،  ایک کتاب کا عنوان ہے جسے ذبیح اللہ نعیمیان نے تحریر کیا ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں عالم [[اسلام]] کے تجربات، صلاحیتوں اور بنیادی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔
'''[[امت واحدہ اسلامی اور اسلامی ممالک کی یونین]]'''،  ایک ایسی کتاب ہے جو [[اسلام]] میں '''"امت واحدہ"''' کے مفہوم اور تصوراتی نمونے کی وضاحت اور [[عالم اسلام]] کے اتحاد کے لیے ایک نئے ڈھانچے کی پیش کش کے مقصد سے لکھی گئی ہے۔ [[قرآن|قرآن کریم]] میں اس تصور کو امت واحدہ کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔ تمام اسلامی امتوں کے درمیان اتحاد اور [[وحدت اسلامی|وحدت]] آج کے معاشرے کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ جو شخص برسوں سے انقلاب کے میدان میں موجود رہا ہو اور بہت سے مسائل کو قریب سے دیکھا ہو وہ یقیناً [[انقلاب اسلامی|اسلامی انقلاب]] کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوگا۔ ایسا انقلاب جو بہت سی مشکلات کے بعد حاصل ہوا اور جس کے قیام اور ترقی کے لیے محراب کے شہداء، سات تیر کے شہداء، آٹھ شہریور کے شہداء اور لاکھوں شہداء اور جانبازوں کی عظیم قربانیاں پیش کی گئیں۔
خلافت [[اہل السنۃ والجماعت|اہل سنت]] کی دنیا کا ایک فکری تصور، تاریخی تجربہ اور آرمانی نظریہ ہے، جبکہ ولایت فقیہ [[شیعہ]] دنیا کے فکری نظام، عملی تجربے اور ایک حد تک اس کے سیاسی و مذہبی نصب العین کا حصہ ہے۔

نسخہ بمطابق 15:33، 17 ستمبر 2026ء

امت واحدہ اسلامی اور اسلامی ممالک کی یونین، ایک ایسی کتاب ہے جو اسلام میں "امت واحدہ" کے مفہوم اور تصوراتی نمونے کی وضاحت اور عالم اسلام کے اتحاد کے لیے ایک نئے ڈھانچے کی پیش کش کے مقصد سے لکھی گئی ہے۔ قرآن کریم میں اس تصور کو امت واحدہ کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔ تمام اسلامی امتوں کے درمیان اتحاد اور وحدت آج کے معاشرے کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ جو شخص برسوں سے انقلاب کے میدان میں موجود رہا ہو اور بہت سے مسائل کو قریب سے دیکھا ہو وہ یقیناً اسلامی انقلاب کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوگا۔ ایسا انقلاب جو بہت سی مشکلات کے بعد حاصل ہوا اور جس کے قیام اور ترقی کے لیے محراب کے شہداء، سات تیر کے شہداء، آٹھ شہریور کے شہداء اور لاکھوں شہداء اور جانبازوں کی عظیم قربانیاں پیش کی گئیں۔