مندرجات کا رخ کریں

"قاسم بن حسن" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
م Saeedi نے رجوع مکرر ہٹا کر صفحہ مسودہ:قاسم بن حسن کو قاسم بن حسن کی جانب منتقل کیا
 
(کوئی فرق نہیں)

حالیہ نسخہ بمطابق 14:58، 21 جون 2026ء

قاسم بن حسن
پورا نامقاسم بن حسن (علیہ السّلام)
دوسرے نامقاسم بن حسن بن علی بن ابی‌طالب (علیہ السّلام)
ذاتی معلومات
پیدائش47ق
پیدائش کی جگہکربلا، عراق
وفات61 ق
مذہباسلام، شیعہ

قاسم بن حسن، امام حسن مجتبیٰؑ کے فرزند اور شہدائے کربلا میں سے ایک ہیں۔

مختصر تعارف

حضرت قاسمؑ 47 ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے [1]۔ آپ کی والدہ ایک امّ ولد تھیں [2]۔ جن کا نام بعض روایات میں "نفیلہ"، [3]۔ بعض میں "رملہ"[4]۔ اور بعض میں "نجمہ" ذکر ہوا ہے۔ آپ نے دو سال کی عمر میں اپنے والد امام حسنؑ کو کھو دیا [5]۔

اور اس کے بعد اپنے چچا امام حسینؑ کی شفقت و محبت میں پرورش پائی۔ واقعۂ کربلا کے وقت آپ اپنی والدہ اور دیگر بھائی بہنوں کے ساتھ کربلا میں موجود تھے۔

شب عاشور کا واقعہ

ایک روایت کے مطابق شب عاشور امام حسینؑ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ کل میں اور میرے تمام ساتھی شہید ہو جائیں گے۔ حضرت قاسمؑ نے گمان کیا کہ یہ سعادت صرف بزرگوں کے لیے ہے، لہٰذا عرض کیا:

"کیا میں بھی کل شہید ہو جاؤں گا؟"

امام حسینؑ نے محبت سے فرمایا:

"بیٹے! تمہارے نزدیک موت کیسی ہے؟"

حضرت قاسمؑ نے جواب دیا:

"احلیٰ من العسل"، یعنی "شہد سے بھی زیادہ شیریں۔"

امام حسینؑ نے فرمایا:

"ہاں، خدا کی قسم! میرے بھتیجے، تم بھی انہی لوگوں میں سے ہو جو ایک سخت آزمائش کے بعد شہادت کے مقام پر فائز ہوں گے۔"[6]، [7]۔

میدان جنگ کی اجازت

روز عاشور جب حضرت قاسمؑ کی باری آئی تو آپ امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میدان میں جانے کی اجازت طلب کی۔ امامؑ نے انہیں سینے سے لگا لیا اور دونوں اس قدر روئے کہ بے حال ہو گئے۔

حضرت قاسمؑ بار بار اجازت چاہتے رہے لیکن امام حسینؑ ابتدا میں راضی نہ ہوئے۔ حضرت قاسمؑ مسلسل اصرار کرتے رہے، یہاں تک کہ امامؑ نے انہیں اجازت عطا فرمائی۔ اس وقت ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور ان کی والدہ خیمے کے دروازے پر کھڑی اپنے لختِ جگر کو دیکھ رہی تھیں۔

حضرت قاسمؑ کا رجز

میدان جنگ میں آپ یہ رجز پڑھتے تھے:

"اِنْ تَنْکُرُونِی فَاَنَا فَرْعُ الْحَسَنِ

سِبْطُ النَّبِیِّ الْمُصْطَفٰی وَالْمُؤْتَمَنِ

هٰذَا حُسَيْنٌ كَالْأَسِيْرِ الْمُرْتَهَنِ

بَيْنَ أُنَاسٍ لَا سَقَوْا صَوْبَ الْمَزَنِ" [8]۔

ترجمہ:

"اگر تم مجھے نہیں پہچانتے تو میں حسنؑ کا فرزند ہوں، جو رسولِ برگزیدہ اور امینِ خدا کے نواسے ہیں۔ یہ حسینؑ ایسے لوگوں کے درمیان ہیں گویا ایک قیدی اور محصور ہوں، خدا کی رحمت کی بارش ان لوگوں پر نہ برسے۔"

ابنِ اعثم نے اس رجز کو حضرت عبداللہ بن حسنؑ سے منسوب کیا ہے [9]۔

ابن شہر آشوب کی روایت کے مطابق حضرت قاسمؑ یہ رجز بھی پڑھتے تھے:

"إِنِّي أَنَا الْقَاسِمُ مِنْ نَسْلِ عَلِي

نَحْنُ وَبَيْتِ اللهِ أَوْلَى بِالنَّبِي

مِنْ شِمْرٍ ذِي الْجَوْشَنِ أَوِ ابْنِ الدَّعِي" [10]۔

ترجمہ:

"میں قاسم ہوں اور علیؑ کی نسل سے ہوں۔ خدا کے گھر کی قسم! ہم شمر ذی الجوشن اور ابنِ زیاد جیسے بدکردار لوگوں کی نسبت رسول خدا کے زیادہ حق دار اور قریب ہیں۔"[11]۔

(بعض روایات میں اس واقعے کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ قاتل نے ایک چیخ بلند کی اور وہاں سے دور ہٹ گیا۔ عمر سعد کے چند سپاہی آگے بڑھے تاکہ عمرو کو امام حسین (علیہ السّلام) کے ہاتھوں سے بچا سکیں، لیکن ان کی یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی اور عمر سعد کے سواروں کے حملے کے دوران حضرت قاسمؑ گھوڑوں کے سموں تلے آ کر شہید ہو گئے۔)

کچھ دیر بعد جب میدانِ جنگ کی گرد بیٹھ گئی تو ہم نے دیکھا کہ امام حسین (علیہ السّلام) اس نوجوان کے سرہانے کھڑے ہیں اور وہ اپنی ایڑیاں زمین پر رگڑ رہے ہیں۔ اس حالت میں امام حسین (علیہ السّلام) فرما رہے تھے:

"جن لوگوں نے تمہیں قتل کیا، وہ اللہ کی رحمت سے دور ہیں، اور قیامت کے دن تمہارے نانا ان کے دشمنوں میں شامل ہوں گے"

"بعداً لقوم قتلوک و من خصمهم یوم القیامة فیک جدک" [12]»، [13]۔

پھر فرمایا:

«خدا کی قسم! تمہارے چچا کے لیے یہ بہت سخت ہے کہ تم انہیں پکارو اور وہ تمہیں جواب نہ دے سکیں، یا جواب دیں لیکن وہ جواب تمہارے لیے سودمند نہ ہو، ایسے دن میں جبکہ ان کے دشمن بہت زیادہ اور مددگار بہت کم ہوں۔»

"عزّ والله علی عمّک ان تدعوه فلا یجیبک فلا ینفعک صوت والله کثر واتروه و قلّ ناصروه" [14]۔

کتاب الملہوف میں «صوت» کی جگہ «یوم» آیا ہے: "هذا یوم والله... " [15]۔

بظاہر «دشمنوں کی کثرت اور مددگاروں کی قلت» سے مراد یہ ہے کہ اگرچہ اس منظر میں حضرت قاسمؑ کے مددگار کم تھے، لیکن اس میدان سے باہر (مدینہ اور کوفہ میں) ان کے خون کا بدلہ لینے والے بہت تھے اور آئندہ بھی بہت ہوں گے، اور اللہ تعالیٰ، رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) اور اہل ایمان ان کے خون کا انتقام لینے والے ہوں گے۔

حمید بن مسلم بیان کرتے ہیں: پھر امام حسین (علیہ السّلام) نے حضرت قاسمؑ کے جسم مبارک کو اٹھایا۔ میں نے دیکھا کہ نوجوان کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے اور امام حسین (علیہ السّلام) نے انہیں اپنے سینے سے لگا رکھا تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا: "آپ انہیں کہاں لے جا رہے ہیں؟"

پھر امام حسین (علیہ السّلام) انہیں اپنے فرزند حضرت علی اکبر (علیہ السّلام) اور دیگر شہداء کے پاس لے گئے۔ میں نے اس نوجوان کا نام پوچھا تو بتایا گیا کہ وہ قاسم بن الحسن (علیہ السّلام) ہیں [16]، [17]، [18]، [19]۔

امام حسین (علیہ السّلام) نے جب حضرت قاسمؑ کے جسدِ مبارک کو اپنے خاندان کے دیگر شہداء کے ساتھ رکھ دیا تو آسمان کی طرف رخ کرکے عرض کیا:

«خداوندا! ان سب کو گن گن کر ہلاک فرما، ان میں سے کسی ایک کو بھی باقی نہ چھوڑ، اور انہیں کبھی معاف نہ فرما۔ اے میرے چچازادو! صبر کرو، اے میرے اہل بیت! صبر کرو، آج کے بعد تم ہرگز ذلت نہیں دیکھو گے۔»

"اللهم احصهم عددا و لا تغادر منهم احدا ولا تغفر لهم ابدا صبرا یا بنی عمومتی، صبرا یا اهل بیتی، لا رایتم هوانا بعد هذا الیوم ابداً".

شہادت

حضرت قاسمؑ نے میدانِ کربلا میں نہایت بہادری کا مظاہرہ کیا اور روایت کے مطابق پینتیس دشمنوں کو واصلِ جہنم کرنے کے بعد جامِ شہادت نوش فرمایا اور شہدائے کربلا میں شامل ہوئے۔

حضرت قاسم بن حسنؑ کی شہادت کا واقعہ

طبری اور ابوالفرج اصفہانی نے حمید بن مسلم سے نقل کیا ہے کہ:

"ایک نوجوان ہماری طرف بڑھا جس کا چہرہ چودھویں کے چاند کے ٹکڑے کی مانند روشن تھا۔ اس کے ہاتھ میں تلوار تھی، بدن پر قمیص اور تہبند تھا اور پاؤں میں دو جوتیاں تھیں، جن میں سے ایک کا تسمہ ٹوٹا ہوا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ بائیں پاؤں کی جوتی تھی۔

عمرو بن سعید ازدی نے مجھ سے کہا: خدا کی قسم! میں اس نوجوان پر حملہ کروں گا۔ میں نے کہا: سبحان اللہ! تمہیں اس سے کیا غرض ہے؟ اتنی بڑی فوج نے اسے گھیر رکھا ہے، وہی اس کے لیے کافی ہے۔ مگر اس نے کہا: خدا کی قسم! میں ضرور حملہ کروں گا۔

چنانچہ اس نے آگے بڑھ کر تلوار کا وار حضرت قاسمؑ کے سر پر کیا۔ حضرت قاسمؑ زمین پر گر پڑے اور بلند آواز سے پکارا:

"یا عَمّاہ!' (چچا جان! میری مدد فرمائیے)"

خدا کی قسم! امام حسینؑ عقاب کی طرح جھپٹے اور ایک غضبناک شیر کی مانند قاتل پر ٹوٹ پڑے۔ آپؑ نے ایسی کاری ضرب لگائی کہ اس نے اپنا ہاتھ ڈھال بنایا، مگر ہاتھ کہنی سے کٹ گیا۔ وہ چیخ مارتا ہوا پیچھے ہٹ گیا۔

کوفیوں کا ایک گروہ اسے بچانے کے لیے آگے بڑھا، مگر ہجوم میں وہ خود گھوڑوں کے سموں تلے روند دیا گیا اور ہلاک ہو گیا۔"

بعض مترجمین نے غلطی سے یہ سمجھا کہ حضرت قاسمؑ گھوڑوں کے سموں تلے شہید ہوئے، حالانکہ اصل روایت کے مطابق گھوڑوں کے نیچے آنے والا ان کا قاتل تھا [20]۔

جب میدان کی گرد بیٹھ گئی تو دیکھا گیا کہ امام حسینؑ حضرت قاسمؑ کے سرہانے کھڑے ہیں اور حضرت قاسمؑ جان کنی کے عالم میں اپنے پاؤں زمین پر رگڑ رہے ہیں۔ امام حسینؑ فرما رہے تھے:

"خدا کی رحمت سے دور ہوں وہ لوگ جنہوں نے تمہیں قتل کیا، اور قیامت کے دن تمہارے نانا ان کے دشمن ہوں گے۔"

پھر فرمایا:

"خدا کی قسم! تمہارے چچا پر یہ بہت گراں ہے کہ تم انہیں پکارو اور وہ تمہیں جواب نہ دے سکیں، یا جواب دیں لیکن تمہارے لیے کوئی فائدہ نہ ہو۔ آج کا دن ایسا ہے کہ ان کے دشمن بہت ہیں اور مددگار بہت کم۔"

حمید بن مسلم کہتے ہیں:

"میں نے دیکھا کہ امام حسینؑ نے حضرت قاسمؑ کو اٹھایا، ان کے پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے اور امامؑ نے انہیں اپنے سینے سے لگا رکھا تھا۔ میں نے سوچا کہ انہیں کہاں لے جا رہے ہیں؟ بعد میں معلوم ہوا کہ آپؑ انہیں حضرت علی اکبرؑ اور دیگر شہداء کے پہلو میں لے گئے تھے۔"

جب میں نے اس نوجوان کا نام پوچھا تو بتایا گیا:

"یہ قاسم بن حسنؑ ہیں۔" حضرت قاسمؑ کے جسدِ مبارک کو دوسرے شہداء کے پاس رکھنے کے بعد امام حسینؑ نے آسمان کی طرف رخ کرکے دعا فرمائی:

"اے اللہ! ان سب کو شمار میں لے اور ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑ، اور کبھی انہیں معاف نہ کرنا۔ اے میرے چچا زادو! صبر کرو، اے میرے اہل بیت! صبر کرو، آج کے بعد تم پر کبھی ذلت نہ آئے گی۔"

حضرت قاسمؑ کی شادی کا واقعہ

حضرت قاسمؑ کی شہادت کے ساتھ ایک مشہور داستان ان کی شادی کے بارے میں بھی بیان کی جاتی ہے۔ ملا حسین کاشفی نے "روضۃ الشہداء" میں لکھا ہے کہ امام حسینؑ نے حضرت قاسمؑ کو ایک بازوبند دکھایا جس میں امام حسنؑ کی وصیت درج تھی، پھر اپنی ایک صاحبزادی کا نکاح حضرت قاسمؑ سے پڑھایا۔

روایت میں مذکور ہے کہ جب حضرت قاسمؑ میدان کی طرف جانے لگے تو دلہن نے ان کا دامن پکڑ کر پوچھا:

"آپ کہاں جا رہے ہیں؟"

حضرت قاسمؑ نے فرمایا:

"میری آنکھوں کے نور! میرا ارادہ میدانِ جنگ کا ہے۔ ہماری شادی اور دامادی قیامت تک مؤخر ہو گئی ہے۔"

اور جب دلہن نے پوچھا کہ میں آپ کو کیسے پہچانوں گی، تو حضرت قاسمؑ نے فرمایا:

"اس پھٹی ہوئی آستین کے ذریعے مجھے پہچان لینا۔"[21]، [22]، [23]،

حضرت قاسمؑ کی شادی کے حامی علماء

علامہ ابوالحسن شعرانی نے اس روایت کے امکان کو تسلیم کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر یہ واقعہ صحیح ہو تو ممکن ہے کہ امام حسینؑ کی کوئی اور صاحبزادی رہی ہو، یا راویوں نے نام نقل کرنے میں اشتباہ کیا ہو۔ ان کے نزدیک صرف اس بنیاد پر اس واقعے کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس کی حکمت ہم پر واضح نہیں [24]۔

حضرت قاسمؑ کی شادی کے مخالف علماء

محدث نوری کا نظریہ

محدث نوری اس واقعے کو مردود قرار دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ شیخ مفید سے لے کر بعد کے معتبر مؤرخین اور محدثین کی کتابوں میں اس واقعے کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ ان کے مطابق یہ داستان بعد میں مشہور ہوئی اور اس کی کوئی مضبوط تاریخی بنیاد نہیں ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ نسب کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت قاسم بن حسنؑ کی کوئی اولاد نہیں تھی، اور اس قسم کی بے اصل روایات مذہبِ جعفریہ کے مخالفین کے لیے تمسخر کا ذریعہ بن سکتی ہیں [25]۔

محدث قمی کا نظریہ

محدث قمی بھی اس واقعے کو غیر معتبر قرار دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ معتبر تاریخی کتابوں میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ ان کے مطابق امام حسینؑ کی دو معروف صاحبزادیاں تھیں: سکینہؑ اور فاطمہؑ، اور فاطمہؑ پہلے ہی حسن مثنیٰ کے عقد میں تھیں [26]۔

زیارت ناحیہ میں حضرت قاسمؑ کا ذکر

زیارت ناحیہ مقدسہ میں حضرت قاسمؑ کے بارے میں یوں فرمایا گیا ہے:

"سلام ہو قاسم بن حسنؑ پر، جن کے سر پر تلوار ماری گئی اور جن کا زرہ لوٹ لیا گیا۔ جب انہوں نے اپنے چچا حسینؑ کو پکارا تو حسینؑ بازِ شکاری کی طرح ان کی طرف لپکے اور دیکھا کہ وہ جان کنی کے عالم میں اپنے پاؤں زمین پر رگڑ رہے ہیں۔ پھر فرمایا:

"خدا کی رحمت سے دور ہوں وہ لوگ جنہوں نے تمہیں قتل کیا، اور قیامت کے دن تمہارے نانا اور والد ان سے انتقام کا مطالبہ کریں گے۔"

اس کے بعد امام حسینؑ نے فرمایا:

"آج وہ دن ہے جب تمہارے چچا کے دشمن بہت زیادہ اور ان کے مددگار بہت کم ہیں۔"

اور دعا فرمائی:

"خدا ہمیں قیامت کے دن تمہارے ساتھ محشور فرمائے اور مجھے بھی تمہارے مقام و منزلت میں شریک کرے، اور تمہارے قاتل عمرو بن سعد بن نفیل ازدی پر لعنت کرے اور اس کے لیے دردناک عذاب تیار فرمائے۔" [27]، [28]۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. موسوی زنجانی، ابراهیم، وسيلة الدارين، ص ۲۵۳
  2. ابوالفرج اصفهانی، علی بن حسین، مقاتل الطالبیین، ص ۵۷-۵۸
  3. شریف قریشی، باقر، حیاة الامام الحسن بن علی علیهما السلام دراسة وتحلیل، ج ۲، ص ۴۶۰
  4. سماوی، محمد بن طاهر، ابصار العین فی انصار الحسین علیه‌السّلام، ص ۷۲
  5. موسوی زنجانی، ابراهیم، وسيلة الدارين، ص ۲۵۳
  6. بحرانی، هاشم، مدینة المعاجز، ج ۴، ص ۲۱۴-۲۱۵
  7. قمی، شیخ عباس، نفس المهموم، ص ۲۰۸
  8. خوارزمی، موفق بن احمد، مقتل الحسین، ج۲، ص۳۱
  9. ابن اعثم، احمد، الفتوح، ج۵، ص۱۱۲
  10. ابن شهرآشوب، مناقب آل ابی طالب، ج۳، ص۲۵۵
  11. موسوی زنجانی، ابراهیم، وسيلة الدارين، ص ۲۵۳
  12. شیخ مفید، محمد بن محمد، الارشاد، ج۲، ص۱۰۸
  13. سید بن طاووس، الملهوف علی قتلی الطفوف، ص۱۶۸
  14. شیخ مفید، محمد بن محمد، الارشاد، ج۲، ص۱۰۸
  15. سید بن طاووس، الملهوف علی قتلی الطفوف، ص۱۶۸
  16. طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج ۵، ص ۴۴۷
  17. ابوالفرج اصفهانی، علی بن حسین، مقاتل الطالبیین، ص ۵۸
  18. شیخ مفید، محمد بن محمد، الارشاد، ج۲، ص۱۰۷-۱۰۸
  19. خوارزمی، مقتل الحسین، ج۲، ص۳۱
  20. سپهر کاشانی، محمدتقی، ناسخ التواریخ، ج ۲، ص ۳۲۸
  21. کاشفی، ملا حسین، روضة الشهدا، ص ۴۰۰
  22. طريحی، فخرالدين، منتخب طريحى، ص ۳۶۵، مجلس هفتم
  23. دربندی، ملا آقا، اكسيرالعبادات فى اسرار الشهادات، ج ۲، ص ۳۸۴
  24. قمی، شیخ عباس، دمع السجوم، ترجمه نفس المهموم، ص ۱۷۱
  25. نوری، حسین، لؤلؤ و مرجان، ص ۱۹۴
  26. قمی، شیخ عباس، منتهى الامال، ج ۱، ص ۷۰۰
  27. ابن طاووس، علی بن موسی، الاقبال بالاعمال الحسنه، ج ۳، ص ۷۵
  28. مجلسی، مجمدباقر، بحارالانوار، ج ۴۵، ص ۶۷