"امیر کبیر" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 19: | سطر 19: | ||
}} | }} | ||
'''میرزا محمد تقی خان فراهانی''' معروف بہ '''امیر کبیر'''، ہزاوہ (فراہان کے نواح میں جو اراک کے توابع ہیں) کے رہنے والے تھے۔ وہ ناصر الدین شاہ قاجار کے دور کے سیاست دان اور صدر اعظم تھے۔ امیر کبیر کے صدر اعظم بننے کے بعد انہوں نے سماجی، ثقافتی اور سیاسی میدانوں میں اصلاحات کا آغاز کیا، جن میں ملک کی آزادی اور علاقائی سالمیت کا تحفظ، غیر ملکیوں اور استعمار کے اثر و رسوخ کا خاتمہ وغیرہ شامل ہیں، جس نے [[ | '''میرزا محمد تقی خان فراهانی''' معروف بہ '''امیر کبیر'''، ہزاوہ (فراہان کے نواح میں جو اراک کے توابع ہیں) کے رہنے والے تھے۔ وہ ناصر الدین شاہ قاجار کے دور کے سیاست دان اور صدر اعظم تھے۔ امیر کبیر کے صدر اعظم بننے کے بعد انہوں نے سماجی، ثقافتی اور سیاسی میدانوں میں اصلاحات کا آغاز کیا، جن میں ملک کی آزادی اور علاقائی سالمیت کا تحفظ، غیر ملکیوں اور استعمار کے اثر و رسوخ کا خاتمہ وغیرہ شامل ہیں، جس نے [[ایران]] میں گہری تبدیلی اور اصلاحات کا باعث بنا۔ ان کے اہم اقدامات میں مدرسہ دارالفنون کی تاسیس، اخبار وقایع اتفاقیہ کی اشاعت، توپ خانہ میدان کی تعمیر وغیرہ شامل ہیں۔ | ||
آخر کار امیر کبیر شاہ کے قریبی لوگوں، خاص طور پر مہد علیا (شاہ کی طاقت طلب ماں، جو معاملات میں مداخلت اور اس دور کے سیاسی واقعات میں اہم کردار ادا کرتی تھی) کی سازشوں کے نتیجے میں عہدہ صدارت سے معزول ہو گئے، کاشان میں جلاوطن کیے گئے اور ناصر الدین شاہ کے حکم پر حمام فین میں قتل کر دیے گئے۔ ابتدا میں ان کی لاش کو کاشان کے قبرستان "پشت مشهد" میں دفن کیا گیا، لیکن کچھ عرصے بعد ان کی اہلیہ عزت الدولہ نے ان کی لاش کو [[کربلا]] منتقل کروا دیا، جہاں انہیں [[حسین بن علی |حرم امام حسین (علیہ السلام)]] کے مشرقی رواق کے علاقے میں، جو "پائیں پا" کے نام سے معروف ہے، سپرد خاک کیا گیا۔ | آخر کار امیر کبیر شاہ کے قریبی لوگوں، خاص طور پر مہد علیا (شاہ کی طاقت طلب ماں، جو معاملات میں مداخلت اور اس دور کے سیاسی واقعات میں اہم کردار ادا کرتی تھی) کی سازشوں کے نتیجے میں عہدہ صدارت سے معزول ہو گئے، کاشان میں جلاوطن کیے گئے اور ناصر الدین شاہ کے حکم پر حمام فین میں قتل کر دیے گئے۔ ابتدا میں ان کی لاش کو کاشان کے قبرستان "پشت مشهد" میں دفن کیا گیا، لیکن کچھ عرصے بعد ان کی اہلیہ عزت الدولہ نے ان کی لاش کو [[کربلا]] منتقل کروا دیا، جہاں انہیں [[حسین بن علی |حرم امام حسین (علیہ السلام)]] کے مشرقی رواق کے علاقے میں، جو "پائیں پا" کے نام سے معروف ہے، سپرد خاک کیا گیا۔ | ||
نسخہ بمطابق 14:48، 30 مئی 2026ء
| امیر کبی | |
|---|---|
![]() | |
| پورا نام | میرزا محمد تقی خان فراهانی |
| دوسرے نام | امیر کبیر |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1186 ق |
| پیدائش کی جگہ | اراک، گاؤں ہزاوہ |
| وفات | 1852 ء |
| وفات کی جگہ | کاشان |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| مناصب | ناصر الدین شاہ قاجار کے دور کے صدر اعظم ، مدرسہ دارالفنون کے بانی، اخبار وقایع اتفاقیہ کی اشاعت، مالیاتی امور کی نگرانی۔ |
میرزا محمد تقی خان فراهانی معروف بہ امیر کبیر، ہزاوہ (فراہان کے نواح میں جو اراک کے توابع ہیں) کے رہنے والے تھے۔ وہ ناصر الدین شاہ قاجار کے دور کے سیاست دان اور صدر اعظم تھے۔ امیر کبیر کے صدر اعظم بننے کے بعد انہوں نے سماجی، ثقافتی اور سیاسی میدانوں میں اصلاحات کا آغاز کیا، جن میں ملک کی آزادی اور علاقائی سالمیت کا تحفظ، غیر ملکیوں اور استعمار کے اثر و رسوخ کا خاتمہ وغیرہ شامل ہیں، جس نے ایران میں گہری تبدیلی اور اصلاحات کا باعث بنا۔ ان کے اہم اقدامات میں مدرسہ دارالفنون کی تاسیس، اخبار وقایع اتفاقیہ کی اشاعت، توپ خانہ میدان کی تعمیر وغیرہ شامل ہیں۔
آخر کار امیر کبیر شاہ کے قریبی لوگوں، خاص طور پر مہد علیا (شاہ کی طاقت طلب ماں، جو معاملات میں مداخلت اور اس دور کے سیاسی واقعات میں اہم کردار ادا کرتی تھی) کی سازشوں کے نتیجے میں عہدہ صدارت سے معزول ہو گئے، کاشان میں جلاوطن کیے گئے اور ناصر الدین شاہ کے حکم پر حمام فین میں قتل کر دیے گئے۔ ابتدا میں ان کی لاش کو کاشان کے قبرستان "پشت مشهد" میں دفن کیا گیا، لیکن کچھ عرصے بعد ان کی اہلیہ عزت الدولہ نے ان کی لاش کو کربلا منتقل کروا دیا، جہاں انہیں حرم امام حسین (علیہ السلام) کے مشرقی رواق کے علاقے میں، جو "پائیں پا" کے نام سے معروف ہے، سپرد خاک کیا گیا۔
امیر کی شخصیت
مذہبی خصوصیات، رویوں اور اخلاقی صفات کے علاوہ ہر فرد کی شخصیت اس کی اتار چڑھاؤ سے بھرپور زندگی کے دورانیے کی عکاس ہوتی ہے۔ وہ خاندان جس میں وہ پیدا ہوا، وہ دوست جن کے ساتھ وہ کھیلا، وہ اساتذہ جنہوں نے اس کی تربیت کی، اور وہ لوگ جن کا اس سے واسطہ پڑا، سب انسان کی شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
میرزا تقی خان امیر کبیر ایک باورچی کے بیٹے تھے جو قائم مقام فراهانی کے ملازم تھے۔ اگرچہ ظاہری طور پر وہ ایران کے محروم اور کم تر طبقے سے تعلق رکھتے تھے، لیکن انہیں یہ امتیاز حاصل تھا کہ وہ اس دور کے ایران کے بہترین اور اصیل خاندانوں میں پرورش پائیں۔ وہ عوام کی خواہشات سے بھی واقف تھے اور ملک کے بزرگان کے خیالات سے بھی باخبر تھے۔ انہوں نے عوام کی تکالیف اور مصائب کو خود محسوس کیا تھا اور حکمرانوں کی خوشحالی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیتے ہوئے قائم مقام کی اولاد کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔ اسی لیے انہوں نے کبھی اپنی قوم سے غداری نہیں کی اور ان کی مصلحت کو ہر چیز پر مقدم رکھا۔ وہ ایک قابل منتظم، سیاست دان، حب الوطن، عوام دوست اور عوام ہی میں سے ایک ایسے شخص تھے جن کی سوچ عوام کی خدمت کے لیے وقف تھی۔
اجنبیوں کی نظر میں
تہران میں برطانیہ کے سفارت خانے کے منشی امیر کی شخصیت اور کردار کی یوں توصیف کرتے ہیں: "امیر نظام کسی سے وعدہ نہیں کرتے تھے، لیکن جب وہ کسی کام کی یقین دہانی کراتے تھے تو ان کے قول پر بھروسہ کیا جا سکتا تھا اور اس کام کی تکمیل یقینی سمجھی جاتی تھی۔ امیر نظام اس قدر بلند پایہ تھے کہ کوئی انہیں رشوت دے کر بہکا نہ سکتا تھا۔ وہ صبح سے شام تک دنوں اور ہفتوں کام کرتے تھے اور اپنا حصہ صرف اسی مقدس فرض کو سمجھتے تھے۔ مشکلات اور دھوکے بھی انہیں کام سے نہیں روک سکتے تھے اور نہ ہی ان کے حوصلے پست کر سکتے تھے۔ اگر امیر نظام اپنے تمام منصوبوں میں کامیاب نہ ہو سکے تو یہ ان کی دانائی یا محنت کی کمی کی وجہ سے نہیں تھا؛ قصور ان لوگوں کا تھا جنہوں نے ان کی مدد میں کوتاہی کی"۔
رشوت کے خلاف جدوجہد
سرکاری افسران کی بدعنوانی اور رشوت ستانی کا پھیلاؤ ایک فاسد اور عوام دشمن حکومت کا کڑوا پھل ہے۔ دوسری طرف، ایسے افسران کو عوام کے حقوق پر تجاوز کرنے کی کھلی چھوٹ دینا ملک کے رہنماؤں کی کمزوری کی علامت ہے۔ امیر کبیر نے مضبوط نظم و ضبط کی بنیادیں استوار کرنے اور بدعنوانی و رشوت ستانی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی؛ کیونکہ اس سے پہلے رشوت لینا اور باٹھ مانگنا درباریوں کی روزمرہ کی عادت بن چکی تھی۔
ایک انگریزی مشیر کہتے ہیں: "ایرانیوں کی ناپسندیدہ عادات میں سے ایک 'مداخل'(رشوت) ہے۔ یہ لفظ ایرانیوں کے کانوں کو بہت بھاتا ہے۔ سرکاری افسران صرف 'مداخل' سے خوش ہوتے ہیں۔ ان کی تنخواہ ان کے لیے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی اور صرف 'مداخل' ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جو ان کی تمام توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے... میرزا تقی خان ایسے شخص نہیں تھے جن کے سامنے 'مداخل' یا رشوت کا نام لیا جائے۔ اس لالچی شخص نے تمام ناپسندیدہ اصولوں اور رواجوں کو ختم کر دیا اور ان پر مکمل پابندی لگا دی"۔
مذہبی روشن خیال
جس طرح سخت گیر تعصب اور اندھی دین داری معاشرے کی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہے، اسی طرح مذہبی اور قومی روایات سے غفلت ملک کو بے شناختی اور غیر ملکی پرستی کا شکار بنا دیتی ہے۔ کامیاب لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنی مذہبی اور قومی ثقافت پر تکیہ کرتے ہوئے، اور ضروری نمونوں اور ذرائع (چاہے وہ غیر ملکیوں سے ہی حاصل کیے گئے ہوں) کی مدد سے معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔ امیر کبیر ایسے لوگوں کی بہترین مثال ہیں۔ جب اَرزنةُ الروم کے فوجی کمانڈر نے ان سے کچھ عرصے کے لیے ترکوں کے عثمانی لباس پہننے اور بدماشوں کے حملے سے بچنے کا کہا تو انہوں نے سختی سے جواب دیا: "اگر میرا سر تن سے جدا کر دیا جائے تب بھی میں ایرانیوں کے مخصوص لباس کو نہیں اتاروں گا"۔
جو امیر اپنے ملک کی روایات کے تحفظ میں اتنے سخت گیر تھے، وہ مغرب کی کامیابیوں سے بھی غافل نہیں تھے اور ان کی ترقی کا جائزہ لینے سے باز نہیں آتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے لوگوں کو مغربی ترقی کا مطالعہ کرنے اور مغرب کی جدید کامیابیوں کو سیکھنے کے لیے کمر کسنے کی ترغیب دی۔
انگلستان کی سازش
جب استعماری ممالک کسی فرد کو اپنے مقاصد کے حصول میں رکاوٹ سمجھتے ہیں، تو وہ اسے راستے سے ہٹانے کے لیے ہر ممکن ذریعہ اپناتے ہیں؛ دوستی کے معاہدے، رشوت، دھمکیاں، بدنامی اور آخر کار قتل۔ امیر کبیر ایک مضبوط بند تھے جنہوں نے کوشش کی کہ استعمارگران کے لیے ایران کی دولت پر ہاتھ ڈالنے کا کوئی موقع باقی نہ رہے۔
برطانیہ کے سفیر نے کئی بار امیر کو رشوت کی پیشکش کی، لیکن امیر نے کسی کو بھی قبول نہیں کیا، جس سے سفیر کا غصہ بھڑک اٹھا۔ سفیر نے بارہا کہا: "وہ رقم جو امیر کو رشوت کے طور پر پیش کی گئی اور انہوں نے قبول نہیں کی، وہ ان کے قتل پر خرچ کر دی گئی۔" بالآخر برطانیہ کی سازشوں اور دربار میں اس کے مراعات یافتہ حمایتیوں نے اس عظیم شخص کو موت کے گھات اتار دیا، جس کی شہادت دشمنوں کے ماتھے پر بدنامی کا ٹھپہ بن گئی اور ان کی زندگی قوم کے ہاتھوں میں فخر کا سند بن گئی۔
امیر کبیر اور صنعت
اس دور میں جب یورپ میں صنعتی انقلاب اپنی انتہا کو پہنچ رہا تھا، ایران جیسے ممالک کی پسماندگی پہلے سے زیادہ واضح ہو رہی تھی۔ اگر ہم امیر کبیر کے اقدامات کا جائزہ لیں، تو صنعت پر ان کی خصوصی توجہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ امیر کی مجموعی پالیکی صنعت کی ترقی اور زراعت کی بہتری پر مبنی تھی۔ ان کی کوشش ایرانی پیداوار میں اضافہ اور درآمدات میں کمی کی تھی۔ امیر نے ایران کے مختلف شہروں میں چینی، کپڑا بنائی، کاغذ سازی، دھات کاری، شیشہ گری، چینی مٹی کے برتن بنانے وغیرہ کے کارخانے قائم کیے۔
انہوں نے حکم دیا کہ نئے آلات ایران لائے جائیں اور یورپی انجینئرز اور صنعت کاروں سے کہا جائے کہ وہ ایران میں مختلف صنعتوں کی تعلیم دیں۔ کانوں کی نشاندہی کی گئی اور دھاتوں کی نکاسی کا آغاز ہوا۔ امیر نے صنعت کاروں کی حوصلہ افزائی اور ترویج میں اتنی زیادہ اصرار کیا کہ انہوں نے عہد کیا تھا کہ جو بھی کوئی نئی ہنر یا تازہ صنعت لائے گا، اسے اچھا انعام دیا جائے گا۔
زراعت کی ترقی
امیر کبیر کا اعتقاد تھا کہ ایک آزاد ملک کو اپنی تمام ضروریات اپنے ہی سرزمین میں پوری کرنی چاہئیں۔ زراعت کی ترقی کے لیے انہوں نے کئی اہم اقدامات کیے۔ ان کے اقدامات مستقبل میں منظم ہونے والی تحریک کا آغاز تھے۔ زراعت کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ان کے چند اہم ترین اقدامات یہ ہیں: کسانوں کے لیے امن و امان کا قیام، انہیں پیداواری عمل کو صنعتی بنانے کی ترغیب، ٹیکسوں میں کمی، دریاۓ کرخہ پر ناصر بند کی تعمیر اور گرگان اور قم میں دو دیگر بندوں کی تعمیر۔
صحت
وہ معاشرہ جو جسمانی اور ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہو، سکون کا مزہ نہیں چکھ سکتا۔ صحت اور صفائی کی طرف توجہ نہ دینا بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بنتا ہے۔ وہ لوگ جو غربت اور آلودگی میں پرورش پاتے ہیں، وہ آرام اور ترقی کا رنگ نہیں دیکھ سکتے۔ امیر کبیر، جو خود عوام میں سے اٹھے تھے اور ان کے دکھ درد سے گہرا واقفیت رکھتے تھے، نے عمومی صحت کے معیار کو بلند کرنے کے لیے بہت سی تخلیقی کوششیں کیں۔ انہوں نے ایران میں چیچک کی ویکسین کو عام کیا اور ان کے حکم سے اس موضوع پر ضروری کتابیں فارسی میں ترجمہ اور شائع کی گئیں۔ چیچک ٹیکہ لگانے والوں کو مناسب تنخواہ پر ملازم رکھا گیا اور مختلف شہروں میں بھیجا گیا۔ ہیضہ کے خلاف جدوجہد، پہلے سرکاری ہسپتالوں کی تعمیر، ڈاکٹروں کی تربیت، شہروں کی صفائی اور شہروں سے مریضوں کو اکٹھا کرنا، اس سلسلے میں امیر کے دیگر اقدامات ہیں۔
امیر علم دوست
علم و ادب پر توجہ اور علم کی ترقی کے لیے مناسب ماحول فراہم کرنا، عوام کی سمجھ بوجھ کو بلند کرنے کا پہلا قدم ہے۔ جو چیز امیر کبیر کو ایک روشن خیال اور دانشور شخصیت بناتی ہے، وہ علم اور ثقافت پر ان کی توجہ ہے۔ اس دور میں جب کتاب علم حاصل کرنے اور خیالات کی پیداوار کا سب سے اہم ذریعہ تھی، انہوں نے ایسی تخلیقی کوششیں کیں جن کی قدر آج اچھی طرح سمجھی جا سکتی ہے۔
ان کی وزارت کے دور میں یورپ سے ایران میں کئی کتابیں لائی گئیں جو مختلف موضوعات پر لکھی گئی تھیں۔ یہ کتابیں قدرتی علوم، صنعت، زراعت، تجارت، معاشیات، سیاست، کان کنی کے قوانین، پالتو اور گھریلو جانوروں کی تربیت، صنعتی اور پھل دار درختوں کی پرورش، باغبانی، فوجی نظام اور جنگ کے فنون، طب، ویٹرنری میڈیسن وغیرہ کے بارے میں تھیں۔ اس کے علاوہ، امیر نے دنیا کے 323 جغرافیائی نقشے ایک ساتھ ایران منگوائے۔
میرزا تقی خان نے مدرسہ دارالفنون کے کنارے ایک کتب خانہ قائم کیا تاکہ طلباء اپنے پسندیدہ علوم سے واقف ہو سکیں۔ مدرسہ دارالفنون میں پریس کا قیام بھی امیر کی دانشورانہ کوششوں میں سے تھا، جس نے کتابوں کی اشاعت کو آسان، تیز اور سستا بنا دیا۔ قاجاریہ دور کی تاریخ میں کبھی بھی علم کے لیے ایسا رویہ نہیں اپنایا گیا اور نہ ہی علمی خود کفیلی کے لیے اتنی ستائش کے ساتھ اقدامات کیے گئے۔
مقتدر امیر
امیر کبیر نے شراب کی فروخت پر پابندی لگا دی تھی۔ ایک دن ایک سیاہ فام غلام ایک آرمینی کے گھر گیا اور شراب مانگی۔ آرمینی نے انکار کر دیا۔ غلام نے اصرار کیا اور آرمینی کو دھمکی دی۔ آرمینی، جو امیر کے حکم کی نافرمانی اور شراب بیچنے کی جرات نہیں رکھتا تھا، نے سرکہ شربت کو پانی میں ملا کر غلام کو بیچ دیا۔ غلام نے سارا ایک ہی سانس میں پی لیا اور لوگوں کو تنگ کرنے اور شور مچانے لگا۔ غلام کو پکڑ کر امیر کے پاس لایا گیا۔ امیر نے حکم دیا کہ آرمینی کو لایا جائے اور سزا دی جائے۔ آرمینی نے پورا واقعہ بیان کیا کہ میں نے اسے شراب نہیں بلکہ سرکہ شربت بیچا تھا۔ غلام نے غصے سے کہا: تم نے یہ کیوں نہیں بتایا تاکہ میں نشہ نہ کرتا؟ امیر، جو پوری بات سمجھ چکے تھے، مسکرائے، آرمینی کو رہا کر دیا اور غلام کو کان پکڑ کر سزا دی۔
دارالفنون
فکر مند اور ہنر مند افراد کی پرورش نہ صرف تجربہ کار اساتذہ کی محتاج ہے، بلکہ مناسب مراکز کے قیام اور درست تنظیم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ امیرکبیر اپنی صدارت سے کئی سال پہلے ہی ایک مدرسہ قائم کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ ان کا ارادہ تھا کہ طلبا کو مختلف علوم میں تربیت دی جائے اور ایران کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔ بالآخر سن 1266 ہجری قمری میں ایک مدرسہ کی تعمیر کا آغاز کیا گیا جس کا نام «دارالفنون» رکھا گیا۔
چونکہ امیر بھی ایران کی عوام کی طرح انگریزوں اور روسیوں سے نفرت رکھتے تھے، اس لیے انہوں نے آسٹریا کے اساتذہ کو ملازم رکھا۔ دارالفنون مدرسہ نو آسٹریوی اساتذہ کے ساتھ انجینئرنگ، فوجی حکمت عملی، توپ خانہ، گھڑسوار فوج، کان کنی، طب اور فارمیسی کے شعبوں میں ایک سو پچاس طلبا کی موجودگی میں اس وقت شروع ہوا جب اس سے تیرہ دن پہلے امیرکبیر کو باغِ فین میں شہادت دی جا چکی تھی اور وہ دارالفنون کے قیام میں اپنی کاوشوں کا ثمر نہیں دیکھ سکے۔
بیگانگی سے وابستگی، ہرگز نہیں
ایران ایسے کئی سال یاد رکھتا ہے جب بیگانوں نے اس کے قومی وسائل پر دست درازی کی اور ایرانیوں کے مقدر میں مداخلت کی۔ قاجاریہ کا دور بھی انگلستان اور روس کی زور زبردستی کے ساتھ گزرا۔ میرزا تقی خان امیرکبیر ایران میں بیگانوں کی لوٹ مار اور نفوذ کی توسیع کے سخت مخالف تھے۔ وہ قومی آزادی کے حامی تھے اور بیگانوں کی ناجائز خواہشات کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرتے تھے۔ اسی لیے وہ کوشش کرتے تھے کہ ان ممالک کو کوئی رعایت نہ دی جائے۔
اتریش، ریاستہائے متحدہ امریکہ، فرانس اور جرمنی جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنا انگلستان اور روس کی دو حکومتوں پر انحصار کو محدود کرنے کی ایک اور حکمت عملی تھی۔ انگلستان کے ایک نمائندے نے کہا: «میری کوشش، روس کے نمائندے کی کاوش اور ہماری مشترکہ جدوجہد سب بیکار ہے۔ کوئی بھی میرزا تقی خان کو ان کے عزم سے باز نہیں رکھ سکتا»۔
وقایع اتفاقیہ
معاشرے کی سطح آگاہی کو بلند کرنا اور عوام کی ثقافتی نشوونما ان کی زندگی میں بہتری لاتی ہے۔ قاجاروں کے دورِ حکومت نے عوام کو اس قدر تنگ دستی اور جہالت میں مبتلا کر دیا تھا کہ کوئی یہ گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ امیرکبیر عوام کی ثقافت پر گہرا اثر ڈال سکیں گے۔
معاشرے کی معلومات اور آگاہی میں اضافے کے لیے ان کے بنیادی اقدامات میں سے ایک روزنامه وقایع اتفاقیہ کا اجرا تھا۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی فارسی زبان میں کئی اخبارات شائع ہو چکے تھے، لیکن کسی کو بھی وقایع اتفاقیہ جیسی کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ عوام کا اس اخبار کی طرف رجحان اس قدر بڑھا کہ حتیٰ ایلات اور عشائر بھی اسے پڑھنے کے لیے اس کی رقوم ادا کرتے تھے۔ یورپی ممالک کی ترقی، وہاں صنعت کا ارتقاء اور نئی دریافتیں اس اخبار میں سلسلہ وار شائع ہونے والے اہم ترین مضامین تھے۔
ایران میں انگلستان کے ایک نمائندے نے لکھا: «اس اخبار کا قیام امیر کے ایران کی ترقی اور اپنے ہم وطنوں کے افکار کو روشن کرنے کے پختہ عزم کی علامت ہے»۔
شاہ اور درباریوں کے اخراجات
بغیر محنت کے گزارا، عیش و عشرت، شہوت پرستی اور دولت اکٹھی کرنا قاجار شہزادوں کی سب سے اہم خصوصیت تھی۔ وہ شہزادے جو اپنی خوشیوں کے لیے قوم کے سرمائے کو نیلام کرتے تھے اور عوام کی غربت و بھوک پر آنکھیں بند کیے ہوئے تھے۔ قاجار دربار کا مالی فساد اور بھاری اخراجات عوام کی ان کی بادشاہت سے نفرت کی سب سے بڑی وجہ تھے۔ خزانے سے دوستوں اور رشتہ داروں کو دیے جانے والے بے حساب تحفے، مہنگے سفر اور بڑی پیمانے پر فضول خرچیاں دن بہ دن بڑھتی جا رہی تھیں۔
میرزا تقی خان امیرکبیر ایسے شخص نہیں تھے جو ناانصافی کو برداشت کر لیتے۔ اگرچہ ان کی مختصر صدارت میں مالی فساد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا موقع نہ ملا، لیکن انہوں نے پوری بہادری کے ساتھ درباریوں، شہزادوں اور حتیٰ کہ ناصرالدین شاه کے حقوق اور مراعات میں کمی کر دی۔ امیر نے ملک کے خزانے کے لیے اتنا منظم اور مضبوط بنیاد رکھا کہ ان کے بعد بھی کئی سال تک موقع پرستوں کا ہاتھ دولت اور قوم سے کٹا رہا۔
دیوار پر ایک نقش
وہ لمحہ جب امیر حمامِ فین کے صحن میں بیٹھے اپنے خون کے بہاؤ کو دیکھ رہے تھے، وہ ہمیشہ کی طرح پرسکون، وقار سے بھرپور اور گہری سوچ میں غرق تھے۔ اچانک ایسے شخص کی طرح جو کسی چیز کو یاد کر لے، وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنا خون آلود ہاتھ دیوار پر رکھا؛ گویا وہ کچھ لکھنا چاہتے تھے۔ شاید امیر کو اپنے استاد یعنی قائم مقام کی موت یاد آ گئی ہو، جنہیں بھی محمدشاه نے دہشت گردی کا نشانہ بنایا تھا اور انہوں نے بھی جان دیتے وقت نگارستان کی دیوار پر لکھا تھا:
| روزگار است این که گه عزت دهد، گه خوار دارد | چرخ بازیگر از این بازیچهها بسیار دارد |
کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ امیر نے بھی دیوار پر کچھ لکھا تھا لیکن وہ پڑھا نہیں جا سکا، جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ وہ واضح تھا لیکن قاجار خاندان کے حق میں نہ تھا اس لیے اسے مٹا دیا گیا۔ ایک یورپی سیاح جو ایران آیا تھا، نے کہا کہ دیوار پر «لا الہ الا اللہ» لکھا گیا تھا۔
تمام قیاس آرائیوں کو چھوڑ کر، جو بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے، وہ فرانسیسی کاؤنٹ ڈو گوبینو کا قول ہے۔ وہ لکھتے ہیں: «بہرحال، اگر ہم یہ جاننا چاہیں کہ وہ نقوش کیا تھے یا اس تحریر کا مضمون کیا تھا، تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایران کی دولت اور قوم کی بدبختی کی مہر تھی جو ملک کے پیشانی پر نقش ہو رہی تھی اور ناصرالدین شاہ کے دورِ حکومت کی تاریخی اور ابدی شرمندگی کا سند تھا جو ہمیشہ کے لیے تاریخ کے صفحات میں یادگار بن کر رہ گیا»۔
