"انجیل" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Sajedi نے صفحہ مسودہ:انجیل کو انجیل کی جانب منتقل کیا |
ترجمه خودکار از ویکی فارسی ٹیگ: ردِّ ترمیم |
||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
[[ | [[پرونده:انجیل.jpg|بیقاب|چپ]] | ||
''' | '''اِنْجیل''' (یونانی لفظ εὐαγγέλιون «ایوانجیلیون» euangelion کا عربی شکل ہے، جس کا معنی خوش خبری یا بشارت ہے) مسیحیوں کی مقدس کتاب ہے۔ عہد نامہ جدید کی پہلی چار کتابیں جو بالترتیب '''مَتّی'''، '''مَرقُس'''، '''لوقا''' اور '''یوحنّا''' کی طرف منسوب ہیں، انجیل کہلاتی ہیں۔ مسیحی انجیل کو [[حضرت عیسی|حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)]] کی آسمانی کتاب نہیں مانتے بلکہ ان کا اعتقاد ہے کہ [[حضرت عیسی|عیسیٰ]] خود [[وحی]] کا تجسم اور عین الہی پیغام تھے۔ | ||
[[قرآن|قرآن کریم]] اور اسلامی احادیث میں انجیل اس کتاب کا نام ہے جو [[حضرت عیسی|حضرت مسیح]] کو [[خدا|خداوند]] کی طرف سے [[وحی]] ہوئی، لیکن ادیان کی تاریخ کی کتابوں میں اور خاص طور پر مسیحیوں کے نزدیکی ان کتابوں کو انجیل کہا جاتا ہے جو [[مسیحیت]] کی ابتدائی صدیوں میں حضرت [[حضرت عیسی|مسیح]] کے اقوال و افعال کو ثبت کرنے کے لیے لکھی گئیں۔ انجیل کے مصنفین نے حضرت عیسیٰ مسیح کی سیرت حیات کی تدوین میں ان مواد سے استفادہ کیا ہے جو ان کے شاگردوں اور واقعات کے عینی گواہوں کے ذریعے ان تک پہنچا تھا۔ | |||
== | == آسمانی کتاب == | ||
اسلامی نقطہ نظر کے مطابق انجیل ایک آسمانی کتاب ہے جو خداوند نے [[حضرت عیسی]] علیہ السلام پر نازل فرمائی تاکہ وہ اسے [[لوگوں]] تک [[پیغام رسانی]] کریں اور یہ [[ہدایت]]، [[ذکر]] اور [[الہی احکام]] پر مشتمل تھی؛ لیکن [[مسیحی]] انجیل کے اس تصور کی بنیادی طور پر تردید کرتے ہیں۔ وہ کبھی نہیں کہتے کہ [[عیسیٰ]] نے انجیل نام کی کوئی کتاب لائی ہے۔ [[عیسیٰ]] کی طرف سے [[وحی]] کا لایا جانا اس طرح جیسے [[حضرت موسیٰ]] نے [[تورات]] اور [[حضرت محمد]] علیہما السلام نے [[قرآن]] لائی، [[مسیحی الہیات]] میں کوئی مقام نہیں رکھتا۔ [[اناجیل]] اربعہ شاگردان [[حضرت عیسی]] علیہ السلام کے ہاتھوں لکھی گئی ہیں اور مختلف [[اناجیل]] میں سے انتخاب اور ترویج کی گئی ہیں۔ | |||
مسیحی انجیل کی حقیقت کو [[نجات]] کی [[بشارت]] جانتے ہیں جو [[عیسیٰ]] میں [[خدا]] کے تجسم، [[صلیب]]، اور [[موت]] کے بعد اس حضرت کے زندہ ہو جانے کا نتیجہ ہے۔ لہذا کہا جا سکتا ہے کہ [[مسلمانوں]] اور [[مسیحیوں]] کے نزد انجیل کے تصور کی دو بالکل مختلف تعبیریں پائی جاتی ہیں۔ | |||
معاشرتی انگریزی زبان میں، لفظ «Gospel» «انجیل» کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتا ہے<ref>منیر بعلبکی، ''المورد قاموس انکلیزی ـ عربی''، بیروت، دارالعلم للملایین، 1995، ص 395۔</ref> جس کی اصل قدیم انگریزی میں «God-Spell» ہے。<ref>Encyclopedia Of Religion and Ethics, James Hastings (ed), New York, charles Scribners sons, 13 Volumes. V.6, P. 333. | |||
</ref> یہ لفظ بھی دو اینگلو سیکسن الفاظ «God» اور «Spell» کا مرکب ہے اور مجموعی طور پر اس کا معنی «الہی کلام»،<ref>Ibid, V. 6, P. 333۔</ref> یا «[[خداوند]] کا املا»<ref>محمّدرضا زیبایینژاد، ''مسیحیتشناسی مقایسهای''، تہران، سروش، 1382، ص 139۔</ref> یا «خوش خبری»<ref>The Catholic Encyclopedia, charles G. Herrermann (ed), New York, The Encyclopedia press, Inc, 1913, 16 Volumes. V. 6, P. 656۔</ref> ہے۔ یہ لفظ دراصل یونانی لفظ «Evangelion» (ایوانجیلیون) کا ترجمہ ہے جو لاطین میں «Evangelium» (ایوانجیلیوم) تلفظ کیا جاتا ہے۔ | |||
یہ آخری لفظ فرانسیسی، جرمن، اطالوی اور دیگر جدید زبانوں میں داخل ہوا ہے。<ref>Ibid; Britanica, 2002, Deluxe Edition CD-Rom. V. 5, P. 379۔</ref> چونکہ ابتدائی [[مسیحی]] متون یونانی زبان میں تھے، لہذا کہا جا سکتا ہے کہ لفظ «انجیل» بھی بالآخر یونانی لفظ «ایوانجیلیون» سے ماخوذ ہے؛ لیکن عربی زبان میں اس کے براہ راست یا بالواسطہ راستے پر اختلاف ہے۔ | |||
نولڈکے (Noldke) نے اس کے حبشی بولی یعنی «Wangel» کے ذریعے مستعار ہونے پر استدلال کیا ہے<ref>Encyclopedia Of Islam, prepared by a Number of Leading orientalists, Leiden, 1986, 10 Volumes. V. 3, P. 1205۔</ref> اور بعض نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ براہ راست یونانی یا [[سریانی]]، [[عبری]] یا سبائی زبانوں میں سے کسی کے ذریعے عربی میں داخل ہوا ہو。<ref>آرتور جعفری، ''واژههای دخیل در قرآن''، ترجمہ فریدون بدرہای، توس، 1372، ص 131 ـ 132۔</ref> اس سلسلے میں، کچھ [[مسلمان]] [[مفسرین]] نے مذکورہ لفظ کو عربی ثابت کرنے کی کوشش میں اسے وزن افعیل پر اور جذر «ن ج ل» سے مانا ہے اور اس کے لیے مختلف معانی بیان کیے ہیں。<ref> محمّدبن حسن طوسی، ''التبیان''، بہ کوشش احمد حبیب عاملی، بیروت، داراحیاء التراث العربی، ج 3، ص 542 / فضلبن حسن طبرسی، ''مجمعالبیان''، بیروت، دارالمعرفه، آفسٹ؛ تہران، ناصر خسرو، 1406، ج 2، ص 6 / محمّدبن احمد قرطبی، ''الجامع لاحکام القرآن''، چ پنجم، بیروت، دارالکتبالعلمیه،1417، ج 4، ص 6۔</ref> یہ رائے عربی لغت نگاروں کو منظور نہیں ہوئی。<ref>سید محمّدمرتضی حسینی زبیدی حنفی، ''تاج العروس''، بہ کوشش علی شیری، بیروت، دارالفکر، 1414، ج 8، ص 128 / ابن منظور، ''لسانالعرب''، بہ کوشش علی شیری، بیروت، داراحیاء التراث العربی، 1408، ج 14، ص 58 / حسن مصطفوی، ''التحقیق فی کلماتالقرآن الکریم''، تہران، وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامی، 1374، ج 12، ص 39، «نجل»۔</ref>وہ [[عبری]]، یونانی یا [[سُریانی]] زبان سے اس کے دخیل اور مستعار ہونے پر زور دیتے ہیں。<ref>ابن اثیر، ''النهایه فی غریب الحدیث والاثر''، بہ کوشش محمود محمّد طناحی و طاهر احمد زاوی، قم، اسماعیلیان، 1367، ج 5، ص 23 / فخرالدین طریحی، ''مجمعالبحرین''، بہ کوشش محمود عادل و احمد حسینی، چ دوم، تہران، نشر فرهنگ اسلامی، 1408، ج 4، ص 274 / ابن منظور، پیشین، ج 4، ص 58۔</ref>اکثر [[مسلمان]] [[مفسرین]] نے بھی «انجیل» کو دخیل الفاظ میں شمار کیا ہے<ref>محمّدبن عمر فخر رازی، ''التفسیر الکبیر''، چ چہارم، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، 1413، ج 7، ص 171 / محمّد رشیدرضا، ''تفسیر المنار''، چ چہارم، قاہرہ، دارالمنار، 1373، ج 3، ص 158 / سید محمود آلوسی، ''روحالمعانی فی تفسیر القرآنالعظیم''، بہ کوشش محمّدحسین عرب، بیروت، دارالفکر، 1417، ج 3، ص 124۔</ref> اور [[زمخشری]] اور [[بیضاوی]] جیسی شخصیات نے اسے عربی کہلانے کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا ہے。<ref>محمودبن عمر زمخشری، ''الکشّاف''، چ دوم، قم، بلاغت، 1415، ج 1، ص 335 / ناصرالدین عبداللّهبن عمر بیضاوی، ''تفسیر بیضاوی''، بیروت، مؤسسة¶الاعلمی للمطبوعات، 1410، ج 1، ص 237 / محمّدبن محمّدرضا قمی مشهدی، ''کنزالدقائق و بحرالغرائب''، بہ کوشش حسین درگاهی، تہران، وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامی، 1411، ص 237۔</ref> | |||
== مسیحی مذہبی ادب میں انجیل == | |||
انجیل کی حقیقت اور ماہیت کے بارے میں [[مسیحیوں]] کا اعتقاد اسلامی ادب میں اس کے تصور سے بالکل مختلف ہے۔ مسیحی الہیات میں انجیل کو [[عیسیٰ]] علیہ السلام پر نازل شدہ وحی کی تحریری شکل اور ایک آسمانی کتاب کے طور پر، جیسے [[تورات]] اور قرآن، کوئی مقام حاصل نہیں ہے۔ [[مسیحی]] خود [[حضرت عیسی]] علیہ السلام کو «[[وحی]] کا تجسم» اور عین الہی پیغام مانتے ہیں نہ کہ اس کے حامل کو، اور انجیل کو بطور تحریری وحی، جسے [[عیسیٰ]] [[مسیح]] نے لکھا ہو یا اپنے شاگردوں پر املا کرایا ہو، پر یقین نہیں رکھتے。<ref>توماس میشل، ''کلام مسیحی''، ترجمہ حسین توفیقی، قم، مرکز مطالعات و تحقیقات ادیان، 1381، ص 49 ـ 50 / و۔ م۔ میلر، ''تاریخ کلیسای قدیم در امپراطوری روم و ایران''، ترجمہ علی نخستینی، 1931، ص 66۔</ref> وہ «انجیل» کو [[عیسیٰ]] علیہ السلام کے بارے میں «بشارت» اور انسانیت کے لیے ان کے لائے ہوئے نجات کا پیام مانتے ہیں。<ref>New Catholic Encyclopedia, Second ed, Thomas Gale, second Edition, 2003, 14 Volume. V. 6, P. 366۔</ref> اس معنی کا سب سے زیادہ استعمال پولس کی تقریروں میں آیا ہے。<ref>رومیان، 1:1، 9، 16۔</ref> | |||
بعض نے «انجیل» کے معنی کی توضیح میں «فدیہ» کے تصور پر زور دیا ہے<ref> Encyclopedia Of Fundamentalism, Brenda E. Brasher (ed), New York, Routledge, 2002, P. 193۔</ref> جس کی بنیاد پر انجیل کا مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام نے مصائب، موت اور اپنی زندگی دوبارہ پانے کے ذریعے انسان کے گناہوں کا کفارہ بنا؛ لیکن جو چیز اب «اناجیل اربعہ» کے نام سے معروف ہے، وہ [[عہد نامہ جدید]] کی پہلی چار کتابیں ہیں اور محض ایک نام ہے جو دوسری صدی عیسوی کے آخر سے ان تحریروں پر لگایا گیا ہے جو حضرت [[عیسیٰ]] علیہ السلام کی زندگی، معجزات، تعلیمات، سیرت، اقوال اور صعود کی گزارش دیتی ہیں؛<ref> New Catholic Encylopedia, V. 6, P. 367۔</ref> کیونکہ یہ تحریریں بہترین بشارتیں رکھتی ہیں جو انسان کو دی جا سکتی ہیں。<ref>مستر ہاکس، ''قاموس کتاب مقدّس''، تہران، اساطیر، 1377، ص 111۔</ref> | |||
شاید انجیل کا نام ان چار کتابوں کے لیے خاص اس لیے ہے کہ وہ [[عہد نامہ جدید]] کے دیگر حصوں کی نسبت [[عیسیٰ]] علیہ السلام کی زندگی، اقوال و افعال پر زیادہ روشنی ڈالتی ہیں۔ تاہم، دیگر حصوں کو بھی جو [[مسیح]] علیہ السلام کی تعلیمات پر مشتمل ہیں، «انجیل» کہا جا سکتا ہے؛ جیسا کہ پولس نے بار بار اپنی باتوں کو «انجیل» کہا اور کبھی کبھی پورے [[عہد نامہ جدید]] کو بھی انجیل کہا جاتا ہے。<ref>ر۔ ک۔ انجیل عیسی مسیح ترجمہ تفسیری [[عہد نامہ جدید شمارہ ردیف در کتابخانہ مرکز فرهنگ و معارف قرآن Bs 315، 25 ف؛ انجیل شریف یا عہد نامہ جدید، چ سوم، تہران، انجمن کتاب مقدّس، 1981۔ 247. Encyclopedia of Islam, V. 4, p. 1205۔</ref> ر۔ ک۔ انجیل عیسی مسیح ترجمہ تفسیری عہد نامہ جدید شمارہ ردیف در کتابخانہ مرکز فرهنگ و معارف قرآن Bs 315، 25 ف؛ انجیل شریف یا عہد نامہ جدید، چ سوم، تہران، انجمن کتاب مقدّس، 1981۔ اس معنی کی تائید کرتا ہے۔ لہذا، «انجیل» سے مراد وہ پیغام ہے جو کم و بیش ان تمام تحریروں میں جاری ہے اور اس کی اصطلاحی معنی اور ان تحریری متون کے درمیان خلط ملط نہیں ہونا چاہیے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ خود اناجیل اور [[عہد نامہ جدید]] کی دیگر کتابوں میں بھی بار بار انجیل کا ذکر آیا ہے، وہ بھی صرف مفرد لفظ میں، بغیر اس کے کہ اس سے اناجیل اربعہ یا ان جیسی دیگر کتابیں مراد ہوں。<ref>و۔ م۔ میلر، پیشین، ص 66؛</ref> اس کے علاوہ، قدیم کلیسیا بھی انجیل کی وحدت پر زور دیتا تھا。<ref>و۔ م۔ میلر، پیشین، ص 66؛ | |||
The New Catholic Encyclopedia, V. 6, P. 367۔</ref> | |||
دیگر قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ [[مسیحی]] مذکورہ اناجیل اور دیگر [[عہد نامہ جدید]] کی کتابوں کے مصنفین کو نبی نہیں مانتے؛ لیکن ان کا یقین ہے کہ ان سب نے [[الہام]] اور الہی ہدایت کے تحت مذکورہ متون کی تحریر کی ہے<ref>توماس میشل، پیشین، ص 50 ـ 51۔</ref> اور یہ وہ بات ہے جس کی تصریح خود [[عہد نامہ جدید]] کے مصنفین نے بھی کی ہے؛<ref>ہمان، ص 43 و 50 / و۔ م۔ میلر، پیشین، ص 70۔</ref> لیکن یہ کہ انبوه اناجیل، خطوط، مکاشفات اور حواریوں کے اعمال سے متعلق کتابوں میں سے صرف [[عہد نامہ جدید]] میں موجود 27 رسالے ہی الہی الہام سے کیوں تھے، اس کی کوئی قانع کنندہ دلیل وہ پیش نہیں کرتے۔ بعض نے مذکورہ انتخاب کو روح القدس کی رہنمائی سمجھا ہے。<ref>ویلیام گلبن و ہنری مرتن، ''کتاب مقدّس''، ترجمہ فاضل خانہمدانی، تہران، اساطیر، 1380 / دوم تیموتائوس، 3:16۔</ref> | |||
«انجیل» کے [[مسیحی]] تصور کی بنیاد پر، قرآن کے [[حضرت عیسی]] علیہ السلام اور انجیل کے بارے میں نقطہ نظر سے آگاه [[مسیحی]]، انجیل کی بطور آسمانی کتاب جو [[حضرت عیسی]] علیہ السلام پر نازل ہوئی اور ان کے ذریعے اپنے ہم عصر لوگوں تک اس کی تعلیمات کی پہنچ کی معرفی کو قبول نہیں کرتے اور اگر قرآن کی مراد وہی اناجیل اربعہ ہوں، تو وہ اس پر جمع کے لفظ «اناجیل» کے استعمال نہ ہونے کو اعتراض کرتے ہیں۔ وہ قرآن کی [[مسیحیت]] اور انجیل کے بارے میں رپورٹوں کو سطحی اور شاید مدینہ کے [[مسیحیوں]] سے ماخوذ سمجھتے ہیں جو صرف مسیحیت کے بعض غیر رسمی ذرائع سے واقف تھے۔ اس بنیاد پر، ان کا اعتقاد ہے کہ قرآن کی رپورٹیں جیسے [[مریم]] کے لیے [[حضرت عیسی]] علیہ السلام کی پیدائش کے بعد «تازہ کھجور» کا معجزانہ طور پر آنا،<ref>«فناداها من تحتها الاّ تحزنی قد جعل ربّک تحتک سریّا و هزّی الیک بجذع النخلة تساقط علیک رطبا جنیا فکلی و اشربی و قرّی عیناً فاما ترینّ من البشر احدا فقولی انّی نذرت للرحمن صوما فلن اکلم الیوم اِنسیا.» مریم: 24 ـ 26</ref> گہوارے میں [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کا بولنا<ref>«فاشارت الیه قالوا کیف نکلّم من کان فی المهد صبیا قال انّی عبداللّه آتانی الکتاب و جعلنی نبیّا...» مریم: 29 ـ 33</ref> اور خداوند کی قدرت سے ان کے ہاتھوں مٹی کے پرندوں کا زندہ ہونا،<ref>«انّی اخلق لکم من الطین کهیئة الطیر فانفخ فیه فیکون طیرا باذن اللّه...» آلعمران: 49؛ مائده: 110۔</ref> مسیحیت کی معتبر اور رسمی مذہبی کتابوں میں موجود نہیں ہیں اور کبھی غیر معتبر اناجیل میں پائی جاتی ہیں。<ref> Encyclopedia of Islam, Vol. 3, P. 1205-1206۔</ref> یہ چیلنج ایک طرف قرآن کی وحیانی ہونے اور دوسری طرف اناجیل کی بشری تحریر، ان کے متعدد نسخوں اور ان کی تاریخ و مواد میں موجود شکوک و شبہات کی وجہ سے قابل جواب ہے۔ | |||
== تاریخ انجیل == | |||
مسیحیت کی ابتدائی دو تین دہائیوں کی تاریخ اور انجیل نامی کتاب کا وجود جو [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی طرف منسوب ہے، مسیحی اور اسلامی متون سے آزاد تاریخی مصادر کی رو سے ابہام کے گھیرے میں ہے، یہاں تک کہ بعض نے خود [[حضرت عیسی]] علیہ السلام کے وجود میں بھی شک کیا ہے。<ref>ول ڈورنٹ، ''تاریخ تمدّن''، ترجمہ احمد آرام، ع. پاشائی اور امیرحسین آریان پور، چھٹی اشاعت، تہران، علمی و فرهنگی، 1378، ج 3، ص 651 / سید جلال الدین آشتیانی، ''تحقیقی در دین مسیح''، تہران، نگارش، 1368، ص 170 ـ 174؛ | |||
Carl Lofmark, ''What is the Bible'', 1990, P. 66.</ref> حالانکہ تاریخی گزارشوں کا فقدان انجیل کے خارجی اور تاریخی وجود کے فقدان کی دلیل نہیں بن سکتا اور ہو سکتا ہے کہ [[حضرت عیسی]] علیہ السلام کے ظہور اور ان پر نازل ہونے والی وحی کی تفصیلات نامعلوم وجوہات کی بنا پر تاریخ میں درج نہ ہوئی ہوں یا ضائع ہو گئی ہوں۔ البتہ بعض اناجیل اربعہ میں [[مسیح]] علیہ السلام کی انجیل کا ذکر آیا ہے。<ref>فاضل خان ہمدانی، پیشینہ / ''انجیل متی''، 26:13 / ''انجیل مرقس''، 14:9 ـ 10.</ref> | |||
عیسوی سن کے ابتدائی تیس سے چالیس سالوں میں، [[مسیحیت]] کی تعلیم تقریباً صرف زبانی طور پر اور کبھی کبھار خط و کتابت کے ذریعے دی جاتی تھی۔ حواریون نے [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی تعلیمات کو اپنی وعظوں میں بیان کیا اور آن حضرت کی زندگی کے واقعات سے اس کی تصویر کشی کی؛ لیکن خطوط اور زبانی روایات کی تعلیمات کی کمی اور ناکافی ہونا انجیل نگاری کا باعث بنا。<ref>و۔ ایم۔ میلر، پیشینہ، ص 66 ـ 69.</ref> لہذا، [[عهد جدید]] کی تدوین کی تاریخ اور جو آج کل «مسیحیوں کی مقدس کتاب» کے نام سے جانی جاتی ہے، زیادہ تر عیسوی پہلی صدی کے پہلے نصف کے بعد اور [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کے صعود کے تقریباً بیس سے تیس سال بعد کی ہے<ref>عبدالرحیم سلیمانی اردستانی، ''مسیحیت''، قم، زلال کوثر، 1381، ص 67 / موریس بوکائے، ''القرآن و التوراة والانجیل و العلم''، ترجمہ قسم الترجمہ بالدار، القاہرہ، مکتبہ مدبولی، 1996، ص 107.</ref> جو ان کے رسولوں اور ان کے شاگردوں کے ذریعے عمل میں آئی۔ یہ تحریریں چار اقسام «رسولوں کے خطوط»، «رسولوں کے اعمال»، «اناجیل اربعہ» اور «مکاشفات» میں طبقہ بندی کی گئی ہیں۔ | |||
«رسولوں کے خطوط»، [[پولس|پولُس]]، [[یوحنا|یوحنّا]]، [[یعقوب]]، [[برنابا|بَرنابا]]، [[یهودا]] اور [[پطرس]] جیسے رسولوں کے مضامین اور تعلیمات ہیں جو افراد، گروہوں اور مختلف علاقوں کو [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کا پیغام پہنچانے اور اس کی ترویج کے لیے لکھے گئے تھے۔ ان میں سے بعض کو [[عهد جدید]] کے مجموعے میں قبول کیا گیا اور بعض کو [[مسیحیت]] کی تاریخ کی ابتدائی صدیوں میں [[کلیسا]] کی جانب سے رد کر دیا گیا۔ پولس کے خطوط کی تدوین کی تاریخ [[عهد جدید]] کے تمام حصوں سے قدیم ہے。<ref>جون، او۔ گریدی، ''مسیحیت و بدعتها''، ترجمہ عبدالرحیم سلیمانی اردستانی، قم، طہ، 1377، ص 46 ـ 47 / تھامس مشیل، پیشینہ، ص 54.</ref> | |||
«رسولوں کے اعمال»، [[حواریان]] اور [[رسولان]] کی تبلیغی سرگرمیوں کی رپورٹ ہے جو [[لُوقا]] جیسے افراد کے ذریعے درج کی گئی ہیں۔ [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی زندگی کی تاریخ، معجزات، تعلیمات، سیرت اور اقوال، [[عهد جدید]] کا دوسرا حصہ ہے جو کئی رسولوں اور ان کے شاگردوں کی جانب سے لکھا گیا ہے اور مصنفین کے ذاتی مشاہدات یا عینی گواہوں سے سنی گئی باتوں پر مبنی ہے۔ یہ تحریریں دوسری صدی کے پہلے نصف تک «رسولوں کی یادداشتیں» کے عنوان سے اور دوسری صدی کے اواخر سے «اناجیل» کے نام سے مشہور ہوئیں。<ref>سید جلال الدین آشتیانی، پیشینہ، ص 41 ـ 42 / قس۔ موریس بوکائے، پیشینہ، ص 77.</ref> | |||
مسیحیوں نے مذکورہ قسم کی تقریباً 50 انجیلوں کے ناموں کا اعتراف کرتے ہوئے، صرف ان میں سے 20 کے بارے میں معلومات کو دستیاب جانتے ہیں، جن میں انجیل عبرانیان، انجیل پطرس، انجیل مصریان، انجیل فیلیپ، انجیل توما، انجیل یعقوب، انجیل نیکودیمس، انجیل 12 حواری، انجیل یہودا اور انجیل مرکیون شامل ہیں。<ref>''The International Standard Bible Encyclopedia'', Geoffrey W. Bromiley, (ed), WM. B. Eerdmans publishing company, U.S.A. , 1988, 4 Volumes, Vol. 2, P. ¶529; ''Encylopedia Of Fundamentalism'', P. 193; ''New Catholic Encylopedia'', Vol, 6, P. 367. | |||
</ref> دیگر انجیلوں میں سے عربی زبان میں انجیل طفولیت بھی موجود ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کے طفولیت کے دور کے معجزات کی رپورٹ کرتی ہے。<ref> ''International Standard Bible Encyclopedia'', V, I, P. 183.</ref> | |||
دوسری صدی عیسوی کے اواخر میں [[کلیسا]] کے سربراہان نے مذکورہ چار اقسام میں شامل متنوع اور کثیر تحریروں میں سے بعض کو [[کلیسا]] کی تعلیمات کے مطابق ہونے کی وجہ سے قانونی اور معتبر کتابوں<ref>Canon.</ref> کے طور پر منتخب کیا اور «عہد نامہ جدید» کے نام سے «عہد نامہ قدیم» کے ساتھ اور مسیحیوں کی مقدس کتاب کے دوسرے حصے کے طور پر شامل کیا。<ref>تھامس مشیل، پیشینہ، ص 42.</ref> 382 عیسوی میں، بشپوں کی ایک مجلس نے 27 کتابوں اور خطوط پر مشتمل فہرست کو حتمی شکل دی جو بعد میں ٹرینٹ (Trent) کی کونسل کے ذریعے 1545 ـ 7 کے درمیانی سالوں میں دوبارہ منظور کی گئی。<ref>Carl Lofmark, op.cit, P. 27; ''The International Standard Bible Encyclopedia'', V. 1, P. 601-606.</ref> عہد نامہ جدید کا مجموعہ [[متّا]]، [[مَرْقُس]]، لوقا اور یوحنا کی طرف منسوب چار انجیلوں سے شروع ہوتا ہے۔ ان کے بعد، کتاب «اعمال [[رسولان]]» اور اس کے بعد [[پولس]] کی طرف منسوب تیرہ یا چودہ خطوط، [[یعقوب]] کی طرف منسوب ایک خط، پطرس کی طرف منسوب دو رسالے، یوحنا کی طرف منسوب تین رسالے اور یہودا کی طرف منسوب ایک خط موجود ہیں۔ کتاب «[[مکاشفه]] [[یوحنّا]]» اس مجموعے کا آخری حصہ ہے۔ | |||
[[ | |||
عہد نامہ جدید کو مواد کے لحاظ سے تین عمومی حصوں تاریخی، عقیدتی اور پیش گوئی میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ | |||
اناجیل اربعہ «اعمال [[رسولان]]» کے ساتھ مل کر عہد نامہ جدید کا تاریخی حصہ بناتی ہیں اور بنیادی طور پر حضرت مسیح علیہ السلام اور حواریون کی زندگی اور سرگرمیوں کی تاریخ کو تقریباً 63 عیسوی تک گزارش کرتی ہیں。<ref> ''The Catholic Encyclopedia''. V. 6. P. 656. ''The New International Dictionary of Bible''. P. 105.</ref> | |||
[[عهد جدید]] کا عقیدتی حصہ اس میں موجود 21 خطوط پر مشتمل ہے جو زیادہ تر [[عقاید]] کی وضاحت، اس کی دفاع اور دیگر عقائد کی رد پر مبنی ہیں۔ آخر الزمان کے واقعات اور [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی دوبارہ آمد کے بارے میں پیش گوئی کا حصہ، جو [[رؤیا]] اور [[مکاشفه]] کی شکل میں بیان ہوا ہے، کتاب «[[مکاشفه]] [[یوحنّا]]» میں موجود ہے۔ | |||
تعلیماتِ اعتقادی اور عملی کے لحاظ سے [[عهد جدید]] کا مجموعہ دوہرا اور غیر ہم آہنگ ہے؛ اس کا کچھ حصہ [[عهد قدیم]] کا تسلسل ہے اور [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کے [[انسان]] اور [[خدا]] کے رسول ہونے اور [[حضرت موسی]] علیہ السلام کی شریعت کی پابندی کی ضرورت پر زور دیتا ہے اور دوسرا حصہ آن حضرت کی الوہیت کے پہلو اور موسوی [[شریعت]] کے انکار پر زور دیتا ہے۔ یہ دو غیر ہم آہنگ روایات [[پطرس]] اور [[پولس]] کی فکری اور عقیدتی کشمکش کی عکاسی ہیں。<ref>عبدالرحیم سلیمانی، «عہد نامہ جدید» تاریخ نگارش و نویسندگان، فصلنامہ ہفت آسمان، قم، مرکز مطالعات و تحقیقات ادیان و مذاہب، ش 3 ـ 4، (1378)، ¶ص 73،74، 79 و 81.</ref> | |||
دیگر تحریریں، جنہیں [[کلیسا]] کی منظوری نہیں ملی، «اپوکریفا» یعنی مشکوک اور غیر معتبر تحریریں کے طور پر جانی جاتی ہیں جن میں سے بہت سی ضائع ہو گئی ہیں اور کچھ اب بھی باقی ہیں。<ref>موریس بوکائے، پیشینہ، ص 103 ـ 105 / محمدجواد شکور، ''خلاصه ادیان''، دوسری اشاعت، تہران، شرق، 1362، ص 168.</ref> انجیل برنابا، یوسف [[برنابا]] کے ساتھی، [[پولس]] اور [[مرقس]] کے دوست کی طرف منسوب، اسی قسم میں سے ہے جسے چوتھی صدی عیسوی کے بعد کلیسیا کی جانب سے پڑھنا ممنوع قرار دیا گیا۔ بعض نے اسے [[اسلام]] اور [[مسیحیت]] کے درمیان گمشدہ کڑی قرار دیا ہے۔ انجیل برنابا اگرچہ اس کی بعض تعلیمات [[اسلام]] اور سرکاری [[مسیحیت]] کی تعلیمات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں، بنیادی اصول درست ہیں اور اہم اور قابل ذکر موارد میں قرآن کے ساتھ ہم آہنگی رکھتی ہے۔ [[محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا)]] صلیاللهعلیہوآلہ کا نام، خصوصیات اور بعثت کی بشارت کا صریح ذکر، [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی الوہیت اور فرزند ہونے کا انکار، [[حضرت اسماعیل]] علیہ السلام کا [[ذبیح]] ہونا نہ کہ [[اسحاق]] علیہ السلام ـ [[حضرت عیسی]] علیہ السلام کا مصلوب ہونے کا انکار اور ان کی جگہ یہودا اسخریوطی کا مارا جانا اسی قسم میں سے ہے۔ | |||
== انجیلهای چهارگانه == | |||
اناجیل اربعہ بطور [[عهد جدید]] کا مشہور ترین حصہ، اس کی ابتدا میں موجود ہیں۔ [[الهیّات مسیحی]] میں، مذکورہ انجیلوں اور [[عهد جدید]] کے دیگر حصوں کے [[حضرت عیسی]] علیہ السلام پر وحیانی نزول کا اعتقاد رکھے بغیر، مذکورہ مجموعے کی تدوین عام انسانوں کے ہاتھوں اور [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کے صعود کے بعد کی جاتی ہے。<ref>و۔ ایم۔ میلر، پیشینہ، ص 67 / تھامس مشیل، پیشینہ، ص 28 / محمدعلی برو العاملی، ''الکتاب المقدّس فی المیزان''، بیروت، الدارالاسلامیة، 1413، ص 238.</ref> اناجیل اربعہ اپنے مصنفین کے ناموں کی وجہ سے [[انجیل مَتّا]]، [[انجیل مَرقُس]]، [[انجیل لُوقا]] اور [[انجیل یوحنّا]] کے نام سے مشہور ہوئے ہیں۔ تدوین کی تاریخ، مصنفین کی شناخت اور ان کے دستاویزات کی درستگی اور تسلسل کے بارے میں وسیع تحقیقات کے باوجود، اس بارے میں کوئی قطعی اتفاق رائے نہیں ہے۔ البتہ سنگین چیلنجز اور شکوک و شبہات کے ساتھ ساتھ بعض قرائن و شواہد کی بنیاد پر مضبوط قیاس آرائیاں بھی سامنے آئی ہیں。<ref>ول ڈورنٹ، پیشینہ، ج 3، ص 655 / سید جلال الدین آشتیانی، پیشینہ، ص 57 ـ 70 / موریس بوکائے، پیشینہ، ص 99 ـ 101.</ref> | |||
'''1[[. انجیل مَرقُس]]:''' | |||
مرقس کو [[حضرت عیسی]] علیہ السلام کے ساتھیوں میں سے نہیں بلکہ حواری [[پطرس]] کا دوست، ہم نشین اور شاگرد کہا جاتا ہے جو کبھی کبھار [[پولس]] کے ہم سفر بھی ہوتے تھے اور اپنی روایات پطرس سے لی ہیں。<ref>مریل سی بن، ''معرفی عهد جدید''، ترجمہ طاطوس میکائیلیان، تہران، حیات ابدی، 1362، ص 171 ـ 173؛ | |||
''The Encyclopedia of Religion'', V, P. 208.</ref> ان کی انجیل کو مختصر ترین، اس کی تحریر رومی زبان میں<ref>موریس بوکائے، پیشینہ، ص 86 ـ 90.</ref> اور زیادہ تر محققین کی رائے کے مطابق، 65 ـ 70 عیسوی کے درمیان اور شہر روم میں سمجھا جاتا ہے。<ref>جماعة من اللاهوتیین، ''تفسیر الکتاب المقدّس''، بیروت، منشورات النفیر، 1988 م، ج 5، ص 90 ـ 91 / القس فہیم عزیز، ''المدخل الی العهدالجدید''، قاہرہ، ¶دارالثقافہ المسیحیہ، 1980 م، ص 21 / موریس بوکائے، پیشینہ، ص 88.</ref> | |||
'''2. [[انجیل مَتّا]]:''' | |||
یہ سب سے مفصل انجیل ہے اور حواری متی کی طرف منسوب ہے۔ جدید دور میں تنقید کے آغاز سے قبل، اسے قدیم ترین انجیل سمجھا جاتا تھا اور اس کی تدوین کی تاریخ 50 ـ 60 اور کبھی 38 عیسوی کے درمیان تصور کی جاتی تھی؛<ref>القس فہیم عزیز، پیشینہ، ص 247؛ | |||
Cross, F.L. , ''The Oxford Dictionary of the Christian Church'', London, Oxford University Press, 1957, P. 859.</ref> لیکن محققین نے اس کی بعض رپورٹوں اور انجیل مرقس کے تمام مضامین کے اس میں دہرائے جانے کی بنیاد پر، اس کی تالیف کی تاریخ کو بھی 65 سے 70 عیسوی کے درمیان اور [[انجیل مرقس]] کے بعد قرار دیا ہے。<ref>القس فہیم عزیز، پیشینہ، ص 221 / جماعہ من اللاهوتیین، پیشینہ، ج 5، ص 91.</ref> اس کا اصل نسخہ عبری زبان میں تھا جو دستیاب نہیں ہے۔ بعد میں اس کا ترجمہ دیگر زبانوں میں کیا گیا جن میں یونانی بھی شامل ہے。<ref>مسٹر ہاکس، پیشینہ، ص 782 / محمدعلی برو العاملی، پیشینہ، ص 244 ـ 245. | |||
''The Oxford Dictionary of The Christian Church'', p.359.</ref> محققین نے اس کی حواری متی کی طرف نسبت کو چیلنج اور شک کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے،<ref>القس فہیم عزیز، پیشینہ، ص 242 ـ 247؛ | |||
''The Encyclopedia of Religion'', V. 9. P. 285.</ref> اس کے کسی اور ہم نام شخص کے ہاتھوں لکھے جانے کے امکان پر بات کی ہے<ref>القس فہیم عزیز، پیشینہ، ص 245؛ | |||
Achtemeier, Paul J. , ''Harper,s Bible Dictionary'', Harper San Francisco, 1985, P. 613.</ref> اور زیادہ تر اس کی تحریر کی جگہ «انطاکیہ» بتائی ہے。<ref>مریل سی بن، پیشینہ، ص 159.</ref> | |||
'''3[[. انجیل لوقا]]:''' | |||
[[لوقا]] حواری نہیں تھا، مسیح علیہ السلام کو نہیں دیکھا اور نصرانیت پولس سے سیکھی۔ اس کی انجیل کے زیادہ تر مضامین کو انجیل مرقس اور انجیل متی سے ماخوذ سمجھا جاتا ہے。<ref>ول ڈورنٹ، پیشینہ، ج 3، ص 655 / موریس بوکائے، پیشینہ، ص 90 ـ 92.</ref> مذکورہ تین انجیلیں باہمی مشترکات کی کثرت کی وجہ سے «اناجیل ہمنوا» کے نام سے مشہور ہیں。<ref>ول ڈورنٹ، پیشینہ، ج 3، ص 655 / مسٹر ہاکس، پیشینہ، ص 112 / عبدالرحیم سلیمانی اردستانی، پیشینہ، ص 67.</ref> روایتی نقطہ نظر کی بنیاد پر، مذکورہ انجیل لوقا، پولس کے ساتھی اور رفیق کی طرف منسوب ہیں اور ان کی روایت اس سے منقول ہے۔ ان کی تدوین کو 70 ـ 90 کے درمیان اور زیادہ امکان کے ساتھ 80 ـ 85 عیسوی سمجھا جاتا ہے。<ref>''The Encyclopedia of Religion'', V. 9. P. 51; ''Harper,s Bible Dictionary''. p. 583.</ref> اس کی بعض کہانیاں جیسے [[حضرت عیسی]] علیہ السلام کے طفولیت کے دور کے واقعات دیگر انجیلوں میں نہیں آئے ہیں。<ref>موریس بوکائے، پیشینہ، ص 92.</ref> | |||
'''4[[. انجیل یوحَنّا]]:''' | |||
یہ آخری انجیل ہے<ref>''Harper,s Bible Dictionary'', P. 583.</ref> اور اس کی تدوین کی تاریخ میں اختلاف باقی تین انجیلوں سے زیادہ ہے۔ کبھی اس کی تالیف کی تاریخ 65 عیسوی بتائی جاتی ہے، لیکن مضبوط ترین رائے کے مطابق، جسے [[مسیحی]] روایت بھی قبول کرنے کا مائل ہے، یہ 90 ـ 115 عیسوی کے درمیان لکھی گئی ہے。<ref>القس فہیم عزیز، پیشینہ، ص 560 ـ 561 / مریل سی بن، پیشینہ، ص 209؛ | |||
''The new International Dictionary of the Bible'', P. 499, 534.</ref> یوحنا کو [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کا انتہائی پسندیدہ حواری کہا جاتا ہے۔ مذکورہ انجیل کی اس کی طرف نسبت کی صحت میں بھی شکوک پائے جاتے ہیں۔ انجیل یوحنا باقی تین انجیلوں سے بالکل مختلف ہے اور [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی زندگی اور یونانی فلسفیانہ تصورات کا امتزاج ہے。<ref>ول ڈورنٹ، پیشینہ، ج 3، ص 696 / موریس بوکائے، پیشینہ، ص 93 ـ 97.</ref> | |||
== شبه جزیرہ عرب میں انجیل == | |||
کہا جاتا ہے کہ سن 400 عیسوی تک مناطق [[مشرق وسطیٰ]]، خاص طور پر [[سوریہ]] کی سرکاری انجیل ایک واحد انجیل تھی جو چار انجیلوں کے ملاپ سے وجود میں آئی تھی。<ref>''Britannica'', V. 7, P. 69.</ref> اس انجیل کا نام دیاتیسرون (Diatessaron) تھا۔ لہذا، ممکن ہے کہ قرآن کے نزول کے وقت بھی یہ انجیل کم و بیش جزیرہ نما عرب کے نصاریٰ میں رائج رہی ہو。<ref>Neal Robinson, ''Jesus in the Quran'', The Historical Jesus, P. 8.</ref> فی الحال اس انجیل کی مکمل اصل، جو سریانی زبان میں تھی، نایاب ہے اور صرف اس کے بعض حصوں کے ترجمے مختلف زبانوں میں دستیاب ہیں。<ref>''New Catholic Encyclopedia'', V. 4, P. 731.</ref> | |||
[[ | ایک اور انجیل جو شاید اس وقت رائج تھی، وہ [[عربی زبان]] میں کودکی کی انجیل (''Arabic Infancy Gospel'') ہے جو [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام کے دورانِ طفولیت کے واقعات کو قرآن کریم کی متعلقہ داستانوں سے مشابہت کے ساتھ نقل کرتی ہے۔ | ||
اس کے | == قرآن میں انجیل == | ||
لفظ «انجیل» 12 بار 12 آیات میں 6 [[سورت]]وں قرآن اور ہر جگہ اس کی مفرد شکل صراحت کے ساتھ ذکر ہوئی ہے۔ <ref>آل عمران: 3، 48، 65؛ مائدہ: 46،47، 66، 68، 110؛ اعراف: 157؛ توبہ: 111؛ فتح: 29؛ حدید: 27</ref> متعدد مواقع پر «ما بَینَ یَدَیه» <ref>آلعمران: 3؛ فاطر: 31؛ احقاف: 30</ref> اور «الَّذی بَینَ یَدَیه»<ref>انعام: 92؛ یونس: 37؛ یوسف: 111؛ سبأ: 31</ref> جیسی عبارات کے ساتھ، قرآن سے پیشتر کی آسمانی کتابوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مذکورہ باتوں کے علاوہ، کبھی «انجیل»، «اہل الکِتاب» <ref>آل عمران: 64 ـ 65؛ نساء: 171</ref> اور «الَّذینَ اُوتوا الکِتب» <ref>بقرہ: 146؛ نساء: 47، 13؛ مائدہ: 5</ref> جیسی ترکیبوں میں «الکِتاب» کی مصداق اور مذکورہ چیزوں میں سے ہے۔ | |||
قرآن مختلف مناسبتوں سے انجیل کا ذکر کرتا ہے۔ اس کی وحیانی ہونے اور [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام پر نازل ہونے والی [[آیات]] کے مجموعے کے طور پر تصریح <ref>آل عمران: 3؛ مائدہ: 46، 110؛ حدید: 27</ref>، [[تورات]] کی حقانیت پر اس کی گواہی <ref>مائدہ: 46</ref>، قرآن کی جانب سے اس کی تصدیق <ref>مائدہ: 48؛ یونس: 37</ref>، [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کی بعثت اور ان کی دعوت کے عام ہونے کے بارے میں انجیل کی بشارت <ref>اعراف: 157؛ فتح: 29</ref> اور اس کی تعلیمات کے کچھ حصوں کا تحریف، کتمان اور حذف ہونا <ref>مائدہ: 14 ـ 15</ref> ان میں سے ہے۔ | |||
'''1. انجیل؛ مسیح علیہ السلام کی آسمانی کتاب''' | |||
قرآن [[عیسیٰ]] [[مسیح]] علیہ السلام کی بعثت کو رسولوں کی بھیجے جانے اور کتابوں کے نازل ہونے کا سلسلہ قرار دیتا ہے اور ان کی [[آسمانی کتاب]] کا نام صراحت کے ساتھ «انجیل» رکھا ہے اور اس کی وحیانی ہونے پر زور دیا ہے: <ref>محمد بن جریر طبری، ''جامع البیان''، بہ کوشش صدقی جمیل العطار، بیروت، دارالفکر، 1415، ج 6، ص 358 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 3، ص 313 / سید محمد حسین طباطبائی، ''المیزان''، چ سوم، بیروت، اعلمی، افست، قم، اسلامی، 1393 ق، ج 3، ص 198.</ref>«لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَ أَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیزَانَ... ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلَی آثَارِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَآتَیْنَاهُ الْإِنجِیلَ...» <ref>حدید: 25 و 27</ref> نیز <ref>مائدہ: 46، 110</ref> آیت 30 مریم میں لفظ «کتاب» بھی «انجیل» کی طرف اشارہ ہے。<ref>«قالانی عبداللّه آتانی الکتاب و جعلنی نبیا。」 مریم: 30</ref> | |||
دوسری جانب اور انجیلوں کی کثرت، بشمول نزول کے زمانے اور اس سے قبل رسمی چار انجیلوں کے باوجود، قرآن اس سے متعلق تمام [[آیات]] میں مفرد صیغہ کے استعمال سے، [[حضرت مسیح]] علیہ السلام پر نازل ہونے والی انجیل کے ایک ہونے پر اصرار کرتا ہے۔ لہذا کہا جا سکتا ہے: قرآن [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام کی انجیل کے وحیانی ماخذ اور ایک ہونے کی تصریح کے ساتھ، اس کی بشری ہونے<ref>محمد رشید رضا، ایضاً، ج 3، ص 159 / حسن مصطفوی، ایضاً، ج 12، ص 40 / محمد صادقی، ''الفرقان''، چ دوم، تہران، فرهنگ اسلامی، 1365، ج 3، ص 12.</ref> اور اس کی تعدد<ref>محمد رشید رضا، ایضاً، ج 3، ص 159 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 3، ص 308 ـ 309 / محمد صادقی، ایضاً، ج 3، ص 12.</ref> کو رد کرتا ہے۔ نتیجتاً، موجودہ انجیلیں اور [[عہد نامہ جدید]] کے دیگر حصے، جو انسانی افراد کی تحریر کردہ ہیں، عیناً مسیح علیہ السلام پر نازل ہونے والی وہی انجیل نہیں ہو سکتیں،<ref>سید محمود آلوسی، ایضاً، ج 15، ج 28، ص 28 / محمد رشید رضا، ایضاً، ج 3، ص 159 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 3، ص 189.</ref> بلکہ اس کی مختلف روایتوں کو شامل ہیں اور زیادہ تر امکان ہے کہ مذکورہ انجیل کا ممکنہ نسخہ کسی وجہ سے معدوم ہو گیا ہے。<ref>حسن مصطفوی، ایضاً، ج 12، ص 40 ـ 41.</ref> | |||
نومسیحی [[مسیحی]] معاشرے پر حاکم انتہائی دشوار حالات اور [[یہود]] اور رومیوں کی جانب سے ان کے ساتھ سخت اور سرکوبانہ سلوک، ان وجوہات میں سے ہو سکتا ہے。<ref>محمد رشید رضا، ایضاً، ج 3، ص 159.</ref> نیز [[تورات]] اور [[قرآن]] کے ساتھ اور «کتاب» کے طور پر انجیل کا ذکر، آسمانی تعلیمات کے مجموعے کے طور پر اس کی خارجی موجودیت اور حقیقت کو ثابت کرتا ہے۔ وضاحت یہ کہ 8 بار [[تورات]] کے جوڑے کے طور پر <ref>آل عمران: 49؛ مائدہ: 66،68 و 110؛ توبہ: 111</ref> اور دو بار [[تورات]] اور [[قرآن]] کے ساتھ اس کا ذکر ہوا ہے: «نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ... وَ أَنزَلَ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ مِن قَبْلُ هُدی لِلنَّاسِ وَ أَنزَلَ الْفُرْقَانَ...» <ref>آل عمران: 3 ـ 4 نیز مائدہ: 46 ـ 48</ref> | |||
البته اہم اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ [[قرآن]] صرف «انجیل» کے نام سے وحیانی [[آیات]] کے مجموعے کے نزول کی تصدیق کرتا ہے، نہ کہ اس کے معروف معنوں میں کتاب ہونے کی، اور [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی حیات میں ان کے ہاتھ سے یا ان کے املا سے اس کی تحریر ہونے کے بارے میں نفیاً یا اثباتاً کوئی رپورٹ نہیں ہے۔ لہذا اور [[مسیحی]] اور اسلامی انجیل کے دو تصورات کا مشترک دائرہ فراہم کرنے کے لیے، [[قرآن]] میں مذکورہ انجیل کو [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام پر نازل ہونے والی [[آیات]] کی طرف اشارہ کہا جا سکتا ہے جسے اناجیل اربعہ نے بھی، روایت کی صحت و سقم سے قطع نظر، اس کے کچھ حصوں کی گزارش کی ہے ـ البتہ اس وضاحت کے ساتھ کہ [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام کے بارے میں [[مسیحیت]] کے مختلف نقطہ نظر کی بنیاد پر، اس حضرت کی تمام باتیں، اعمال اور زندگی کے واقعات بھی [[مسیحی]] انجیل کے مفہوم کے دائرے میں آ جاتے ہیں۔ | |||
شیعہ مفسرین کی ایک تعداد<ref>محمد بن حسن طوسی، ''جوامع الجامع''، بیروت، دارالاضواء، 1405، ج 1، ص 263 / مولی محسن فیض کاشانی، ''تفسیر الصافی''، بہ کوشش حسین اعلمی، چ دوم، بیروت، موسسہ اعلمی، 1402، ج 1، ص 315 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 3، ص 7.</ref> اور سنی،<ref>محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 7، ص 169 / محمد بن احمد قرطبی، ایضاً، ج 4، ص 5 / محمد رشید رضا، ایضاً، ج 3، ص 159.</ref> [[تورات]] اور انجیل کے بارے میں «تنزیل» کی جگہ «انزال» لفظ کے استعمال کو ان دونوں کے دفعی نزول کی دلیل مانتے ہیں؛ البتہ بعض معاصر صاحبانِ رائے اس نقطہ نظر کو نہیں مانتے。<ref>محمود رامیار، ''تاریخ قرآن''، چ دوم، تہران، امیرکبیر، 1362، ص 190 / محمد علی مہدوی راد، ''آفاق تفسیر''، تہران، ہستی نما، 1383، ص 334 ـ 340.</ref> بعض دیگر آیات 45 اور 48 آل عمران کی استناد پر اس یقین رکھتے ہیں کہ «انجیل» کا نام، [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی بعثت کی وعدہ کی طرح انبیاء اور پیشتر کی [[آسمانی کتابیں]] میں آیا تھا: «إِذْ قَالَتِ الْمَلآئِکَةُ یَا مَرْیَمُ إِنَّ اللّهَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَةٍ مِنْهُ اسْمُهُ الْمَسِیحُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ... وَ یُعَلِّمُهُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ。」 یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ [[حضرت مریم]] علیہا السلام «انجیل» کے نام سے واقف تھیں۔ ورنہ ان کی پیدائش اور انجیل کے نزول سے قبل اس کی الہی تعلیم کی خبر [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام کو دینا معقول نہ تھا。<ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 3، ج 3، ص 373.</ref> | |||
'''2. تورات کی حقانیت پر انجیل کی گواہی''' | |||
[[قرآن کریم]] [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام اور انجیل کو [[تورات]] کی تصدیق کرنے والا قرار دیتا ہے: «وَ قَفَّیْنَا عَلَی آثَارِهِم بِعَیسَیبْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَآتَیْنَاهُ الإِنجِیلَ فِیهِ هُدی وَ نُورٌ وَ مُصَدِّقا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ....» <ref>مائدہ: 46</ref> «تصدیق» کی تکرار اور اس کا الگ الگ [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام اور انجیل کی طرف نسبت کرنا، ظاہر کرتا ہے کہ [[تورات]] کی حقانیت اور اس کے الہی نزول کی گواہی، [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کے کلام کے علاوہ، انجیل کی [[آیات]] میں بھی آئی ہے۔ البتہ واضح ہے کہ مراد، موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی اصلی [[تورات]] ہے جسے خداوند نے پیدا شدہ تحریفات سے پاک، [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام کو سکھایا۔ <ref>آلعمران: 48؛ مائدہ: 110</ref> لہذا، مذکورہ تصدیق ہرگز [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام کے دور کی موجودہ [[تورات]] کی مکمل تائید اور اس کے [[تحریف]] سے پاک ہونے کے معنی میں نہیں ہے。<ref>سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 3، ص 201.</ref> | |||
مفسرین کی ایک تعداد<ref>سید محمود آلوسی، ایضاً، ج 3، ج 3، ص 273 / محمد رشید رضا، ایضاً، ج 3، ص 312 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 3، ص 201.</ref> مذکورہ آیت اور اس جیسی دیگر آیات کی استناد پر اس یقین رکھتے ہیں کہ [[حضرت مسیح]] علیہ السلام پر نازل ہونے والی انجیل نے [[تورات]] کے احکام کی توثیق اور تکمیل کی اور [[عیسیٰ]] علیہ السلام کا دین، کچھ احکام کے سوا، موسیٰ علیہ السلام کی [[شریعت]] کا ناسخ نہیں تھا۔ [[انجیل متیٰ]] میں اور [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام کی زبان سے بھی اس بات کی تصریح ہوئی ہے。<ref>فاضل خان ہمدانی، ایضاً، متی 5: 17 ـ 18.</ref> خدا کی جانب سے [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام کو [[تورات]] کی تعلیم پر [[قرآن]] کی تصریح اور اس پر ان کے لیے نعمت کے طور پر زور<ref>«اذ قال اللّه یا عیسیبن مریم اذکر نعمتی علیک... و اذ علّمتک الکتاب و الحکمة و التوراة والانجیل...」 مائدہ: 110؛ آلعمران: 48.</ref> <ref>آلعمران: 48؛ مائدہ: 110</ref> اس نقطہ نظر کی تائید کر سکتا ہے۔ | |||
مزید وضاحت یہ کہ بعض [[آیات]] ظاہر کرتی ہیں کہ گوشت اور حیوانات کے کچھ دیگر اجزاء کا حکم، جو [[تورات]] کی بنیاد پر یہودی قوم پر حرام کیا گیا تھا،<ref>«و علی الذین هادوا حرّمنا کلّ ذی ذفر ومن البقر و الغنم حرّمنا علیهم شحومهما الاّ ما حملت ظهورهما او الحوایا او ما اختلط بعظم ذالک جزیناهم ببغیهم و انّا لصادقون。」 انعام: 146</ref> انجیل کے ذریعے منسوخ ہو گیا ہے: «وَ مُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلِأُحِلَّ لَکُم بَعْضَالَّذِیحُرِّمَعَلَیْکُمْ。」 <ref>آلعمران: 50</ref> [[قرآن]] حلال ہونے کے باوجود مذکورہ تحریمات کی وجہ یہودی قوم کی ستمگری، حق ستیزی اور سرکشی اور ان کی سزا کے طور پر بیان کرتا ہے۔ <ref>نساء: 160؛ انعام: 146</ref> | |||
'''3. قرآن کی جانب سے انجیل کی تصدیق''' | |||
خداوند نے [[قرآن کریم]] کی متعدد [[آیات]] میں، اسے انجیل سمیت پیشتر کی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا قرار دیا ہے: «وَ أَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْکِتَابِ وَ مُهَیْمِنا عَلَیْهِ...» <ref>مائدہ: 48</ref> لیکن مذکورہ تصدیق اور تائید کا کیا مطلب ہے، اس بارے میں مفسرین اختلاف رکھتے ہیں؛<ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 1، ج 1، ص 615؛ ج 3، ج 3، ص 226؛ ج 4، ج 6، ص 361 / محمد بن حسن طوسی، ایضاً، ج 8، ص 429 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 2، ص 696 ـ 697؛ ج 3، ص 313؛ ج 8، ص 637.</ref> پہلا نقطہ نظر، اسے خداوند کی جانب سے ان کے نزول پر [[قرآن]] کی گواہی کے معنی میں مانتا ہے؛ اس وضاحت کے ساتھ کہ اس کا لازمی نتیجہ ان کتابوں کے تمام مندرجات کی تصدیق نہیں ہے جو آج [[تورات]] اور انجیل کے نام سے پکاری جاتی ہیں۔ دوسرا نقطہ نظر مذکورہ تصدیق کو گذشتہ آسمانی کتابوں کے تمام یا کچھ مندرجات کی تائید کے معنی میں مانتا ہے؛ اور تیسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ پیشتر کی آسمانی کتابیں خداوند کی جانب سے [[قرآن]] کے نزول کی خبر دیتی ہیں اور [[قرآن]] کا نزول ـ نہ کہ اس کی زبانی گواہی ـ اس غیبی خبر کی درستی اور گذشتہ آسمانی کتابوں کا خدا کی جانب سے ہونا ثابت کرتا ہے。<ref>محمد تقی مصباح، ''قرآن شناسی''، بہ کوشش محمود رجبی، قم، انتشارات اسلامی، 1376، ج 1، ص 182 ـ 183.</ref> | |||
متعلقہ [[آیات]] میں دقت اور عبارات کے فرق پر غور، مذکورہ چیلنج کو ختم کر سکتا ہے اور اتفاق رائے کی زمینہ فراہم کر سکتا ہے؛ اس وضاحت کے ساتھ کہ تصدیق کرنے والی [[آیات]] کو ایک نظر سے دو قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: پہلی قسم وہ آیات ہیں جن میں «الَّذی بَینَ یَدَیه» اور «ما بَینَ یَدَیه» جیسی عبارات آئی ہیں، یہ صراحت کے ساتھ [[قرآن]] سے پیشتر کی کتابوں کی تصدیق کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور [[تورات]] اور نازل ہونے والی انجیل جیسی کتابوں کی تائید کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتیں: «وَ مَا کَانَ هَـذَا الْقُرْآنُ أَن یُفْتَرَی مِن دُونِ اللّهِ وَلَکِن تَصْدِیقَ الَّذِی بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیلَ الْکِتَابِ...» <ref>یونس: 37 نیز یوسف: 111؛ بقرہ: 97؛ آلعمران: 3؛ مائدہ: 48؛ فاطر: 31؛ احقاف: 30</ref> ان [[آیات]] میں «تصدیق»، یقیناً حقیقی [[تورات]] اور انجیل کے الہی نزول پر [[قرآن]] کی گواہی اور ان دونوں کی تمام تعلیمات کی تائید کے معنی میں ہو سکتی ہے。<ref> محمد بن حسن طوسی، ایضاً، ج 3، ص 542 / فضلبن حسن طبرسی، ایضاً، ج 3، ص 313 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 5، ص 349.</ref> واضح ہے کہ اس معنی میں «تصدیق»، [[تورات]] اور انجیل کی [[بعثت]] [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ اور [[قرآن]] کے نزول کی بشارتوں کو بھی شامل ہے۔ | |||
قابل توجہ نکتہ یہ کہ [[قرآن]] گذشتہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کے بارے میں ایک تکمیلی وضاحت کے طور پر، ان کے مقابلے میں اپنی «مہیمن» ہونے پر تصریح کرتا ہے تاکہ بغیر کسی دخل و تصرف کے تصدیق کے وہم کے پیدا ہونے سے بچا جا سکے۔ [[قرآن]] کی «مہیمن» ہونے کو اگرچہ مختلف، لیکن قریب معانی میں بیان کیا گیا ہے。<ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 4، ج 6، ص 360 ـ 363 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 3، ص 313 / اسماعیلبن کثیر دمشقی، ''تفسیرالقرآن العظیم''، بہ کوشش یوسف مرعشی، چ سوم، بیروت، دارالمعرفہ، 1409، ج 2، ص 68.</ref> ان معانی کا حاصل یہ ہے کہ [[قرآن]] گذشتہ کتابوں کے مقابلے میں مسلط، فرادست اور فراگیر ہے اور اس کی بنیاد پر، اس میں مختلف قسم کے دخل و تصرف کر سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر، ان کی اصلی تعلیمات کو محفوظ اور توثیق، حذف اور تحریف شدہ موارد کی یاد دہانی اور اصلاح، اور خاص زمانے، مکان اور مخاطبین کی شرائط کے تابع تعلیمات کو منسوخ کیا ہے。<ref>محمد رشید رضا، ایضاً، ج 6، ص 410 ـ 411 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 5، ص 349.</ref> | |||
دوسری قسم کی [[آیات]] میں، «لِما مَعَکُم» اور «لِما مَعَهُم» جیسی عبارات استعمال ہوئی ہیں اور اہل کتاب ([[یہود]] اور [[نصارٰی]]) کی طرف اشارہ ہے: «یَا أَیُّهَا الَّذِینَ أُوتُواْ الْکِتَابَ آمِنُواْ بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقا لِمَا مَعَکُم مِّن قَبْلِ أَن نَّطْمِسَ وُجُوها...» <ref>نساء: 47 نیز بقرہ: 41،91</ref> اگرچہ ان عبارات کے ظاہر کو نزول کے دور کی موجودہ [[تورات]] اور انجیلوں کی طرف اشارہ کہا جا سکتا ہے جو [[اہل کتاب]] کے پاس تھیں؛ لیکن یقیناً تمام مندرجات کی تصدیق کے معنی میں نہیں، بلکہ ـ جیسا کہ بعض [[آیات]] بھی اشارہ کرتی ہیں ـ<ref>«و من الذین قالوا انّا نصاری اخذنا میثاقهم فنسوا حظّا ممّا ذکروا فاغرینا بینهم العداوة والبغضاء الی یوم القیامة。」 مائدہ: 14</ref> ان کی [[تحریف]] نہ شدہ تعلیمات کے کچھ حصوں کی تائید ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ انجیلیں متضاد اور شرک آمیز تعلیمات رکھتی ہیں اور [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام کی طرف ایسی باتیں، اعمال اور واقعات منسوب کرتی ہیں جو [[عقل]] اور توحیدی تعلیمات کے مطابق نہیں ہیں۔ [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کا مصلوب اور قتل ہونا، اس حضرت کی خداوندی اور خدا کا بیٹا ہونے کا اعتقاد اور «تثلیث» کا عقیدہ ان میں سے ہے۔ <ref>نساء: 157، 171؛ مائدہ: 17، 72 ـ 73، 116 ـ 117؛ توبہ: 30</ref> | |||
نزول کے دور کی انجیلوں کی ضمنی اور اجمالی تائید بعض دیگر [[آیات]] سے بھی نکلتی ہے۔ آیت 66 مائدہ اس قبیل سے ہے جو اہل کتاب کو [[تورات]] اور انجیل کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ترغیب میں، [[آسمان]] اور زمین کی برکتوں سے بہرہ ور ہونا اس کا نتیجہ قرار دیتی ہے: «وَ لَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَیهِم مِن رَّبِّهِمْ لأکَلُواْ مِن فَوْقِهِمْ وَ مِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم....» مفسرین نے [[تورات]] اور انجیل کے قیام سے مراد مبدأ، معاد،<ref>سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 6، ص 37 ـ 38.</ref> احکام اور الہی حدود<ref>محمد بن عمر فخررازی، ایضاً، ج 12، ص 46 / تفسیر بیضاوی، ج 1، ص 444 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 6، ص 37 ـ 38.</ref> اور نیز [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ سے متعلق بشارت کے وجود کا اعتراف،<ref>ابوجعفر نحّاس، ''معانی القرآن''، بہ کوشش الصابونی، عربستان، جامعة امّالقری، 1409، ج 2، ص 337 / محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 12، ص 46/ اسماعیلبنکثیردمشقی، ایضاً، ج 1، ص 169.</ref> بغیر کسی تحریف اور کتمان کے<ref>محمد بن حسن طوسی، ایضاً، ج 3، ص 585 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 3، ص 341 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 6، ص 37 ـ 38.</ref> اعتقاد اور عمل کو قرار دیا ہے۔ لہذا، کم از کم نزول کے دور کی موجودہ انجیلیں، نازل ہونے والی انجیل کی کچھ تعلیمات کو شامل تھیں۔ ورنہ اور حقیقی انجیل کے فقدان کو دیکھتے ہوئے، اس کے قیام کی دعوت، کوئی عقلی جواز نہیں رکھے گی۔ مذکورہ ضمنی اور اجمالی تائید کو آیت 68 مائدہ سے بھی اخذ کیا جا سکتا ہے: «قُلْ یَا أَهْلَ الْکِتَابِ لَسْتُمْ عَلَی شَیْءٍ حَتَّی تُقِیمُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ وَ مَا أُنزِلَ إِلَیْکُم مِن رَّبِکُمْ....» | |||
ان کی | اس [[آیت]] کی [[شان نزول]] میں کہا گیا ہے: [[یہودی]]وں کے ایک گروہ نے، [[تورات]] کی ان کی جانب سے تصدیق کے بارے میں [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کے جواب کے بعد، کہا: ہم بھی [[تورات]] کو قبول کرتے ہیں؛ لیکن اس کے سوا کسی چیز پر ایمان نہیں لاتے اور [[خداوند]] نے اس آیت کی بنیاد پر، [[تورات]] اور انجیل پر اعتقاد اور عمل کے بغیر ان کے دین اور آیین کو بے قدر اور بے بنیاد قرار دیا۔ اس پر اعتقاد اور عمل بھی [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ اور [[قرآن]] پر [[ایمان]] کا تقاضا کرتا ہے۔ [[قرآن کریم]] نے کسی اور جگہ، انجیل کے پیروکاروں کو اس میں «ما اَنزَلَ اللّه» کی بنیاد پر داوری اور حکم کرنے کی دعوت دی ہے: «وَلْیَحْکُمْ أَهْلُ الإِنجِیلِ بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فِیهِ....» <ref>مائدہ: 47</ref> یہ آیت بھی نزول کے دور کی انجیلوں کی ضمنی اور اجمالی تائید کو پہنچاتی ہے۔ | ||
'''4. انجیل کی تعلیمات''' | |||
[[قرآن کریم]] کبھی کچھ کلی اوصاف کے ساتھ اور کبھی کچھ خاص احکام اور تعلیمات کے ذکر کے ساتھ، انجیل کے مندرجات کی نسبتاً مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ مذکورہ موارد اس قبیل سے ہیں: | |||
'''''1. ہدایت، نور اور موعظہ:''''' | |||
«... وَ آتَیْنَاهُ الإِنجِیلَ فِیهِ هُدی وَ نُورٌ وَمُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدی وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِینَ。」 <ref>مائدہ: 46؛ آلعمران: 3 ـ 4</ref> [[مفسرین]] نے «[[ہدایت]]» کے معنی میں، [[خداوند]] کی [[توحید]] اور اس کو بیوی، بیٹا، شریک اور ہمسر رکھنے سے تنزیہ سے متعلق تعلیمات کے وجود،<ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 3، ج 3، ص 226 / محمد عمر فخررازی، ایضاً، ج 12، ص 9 / محمد رشید رضا، ایضاً، ج 6، ص 401.</ref> معاد سے متعلق معارف،<ref>محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 12، ص 9.</ref> [[انبیاء]] کی تصدیق اور تنزیہ، [[بعثت]] [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کی بشارت،<ref> محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 3، ج 3، ص 226 / محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 12، ص 9.</ref> الہی احکام اور اس کی دلیلیں<ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 4، ج 6، ص 358 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 3، ص 314.</ref> [[تفسیر]] کی ہیں۔ «ہدایت ہونے» کی صفت سے [[قرآن]] اور [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کی توصیف پر توجہ،<ref>«ذلک الکتاب لا ریب فیه هدی للمتقین。」 بقرہ: 2</ref> اس سلسلے میں بہت کارگر ہو سکتی ہے؛ جیسا کہ انجیل کے [[نور]] پر مشتمل ہونے کی [[تفسیر]] میں، اسے شرعی احکام کی بیان،<ref>محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 12، ص 9.</ref> دلیلیں، مثالیں، فضائل اور حق کی طرف رہنمائی کرنے والی اقدار<ref>محمد رشید رضا، ایضاً، ج 6، ص 401.</ref> اور جہل اور نادانی کی تاریکیوں کو روشن کرنے<ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 4، ج 6، ص 358.</ref> کی طرف انجیل کی طرف سے اشارہ قرار دیا ہے اور اس میں «موعظہ» کے وجود سے مراد، گناہ سے بچنے اور عبادات کرنے کے الہی احکام اور شیوا اور رسا نصیحتیں بتائی ہیں。<ref>فضلبن حسن طبرسی، ایضاً، ج 3، ص 311 / محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 12، ص 9.</ref> | |||
'''''2. پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی بعثت کی بشارت:''''' | |||
بعض [[قرآن]] [[آیات]] کے صریح نص اور نیز بعض دیگر کے ظاہر کے مطابق، [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کی [[بعثت]] کی خبر اور ان کا نام اور خصوصیات خدا کی جانب سے نازل ہونے والی [[تورات]] اور انجیل میں آئی ہیں۔ یہ موضوع [[قرآن]] میں مذکورہ [[تورات]] اور انجیل کی تعلیمات میں ـ خاص اہمیت رکھتا ہے: «الَّذِینَ یَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِیَّ الأُمِّیَّ الَّذِی یَجِدُونَهُ مَکْتُوبا عِندَهُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِیلِ....» <ref>اعراف: 157</ref> آیت کے ظاہر سے نکلتا ہے کہ تینہ اوصاف «رسول»، «نبی» اور «اُمّی» (ان پڑھ اور لکھا نہ ہونا) سب [[تورات]] اور انجیل میں [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کے لیے ذکر ہوئے ہیں<ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 6، ج 9، ص 112 ـ 113 / اسماعیلبن کثیر دمشقی، ایضاً، ج 2، ص 262؛ ج 3، ص 427 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 8، ص 280.</ref> اور اگر آیت اس بیان کی خواہاں نہ ہوتی، تینوں اوصاف کا ایک ساتھ ذکر، جو صرف اسی آیت میں ہے، خاص طور پر تیسری خصوصیت کا لانا، کوئی نمایاں نکتہ نہ تھا。<ref>سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 8، ص 280.</ref> کسی اور آیت میں اور [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی زبان سے، [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کے نام کی، جو ان کے بعد آئیں گے، تصریح ہوئی ہے: «وَ إِذْ قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ... وَ مُبَشِّرا بِرَسُولٍ یَأْتِی مِن بَعْدِی اسْمُهُ أَحْمَد....»(صف: 6) اگرچہ یہ آیت [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی زبان سے [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کی بعثت کی بشارت اور ان کے نام پر دلالت کرتی ہے، نہ کہ انجیل میں اس کے آنے پر،<ref>ایضاً، ج 19، ص 253.</ref> لیکن چونکہ اس حضرت نے اس سلسلے میں [[آیات]] انجیل اور الہی [[وحی]] کے سوا کچھ زبان پر نہیں لایا، یہ انجیل سے ماخوذ ہو سکتا ہے۔ یہ آیت مفسرین<ref>محمد بن حسن طوسی، ایضاً، ج 4، ص 559 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 4، ص 749 / محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 29، ص 313 ـ 314.</ref> اور 107 مسلمان محققین کی توجہ، جو موجودہ انجیلوں میں «احمد» کے نام کی تلاش میں نکلے، کو لفظ «فارقلیط» (Paraclete) یا «بارکلیت» کی طرف مبذول کراتی ہے۔ مذکورہ لفظ یونانی ہے اور «تسلی» اور «آرامش دہندہ» کے معنی میں ہے اور [[مسیحی]] اس کی مصداق «روح القدس» کہتے ہیں۔ | |||
اس | لیکن مذکورہ [[مفسرین]] اور محققین اس یقین رکھتے ہیں کہ یہ لفظ اصل میں، خاص نام تھا اور «پریکلیتوس» کی صورت میں اور «احمد» اور «ستودہ» کے معنی میں تھا جو بعد میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں، بعض [[مسیحیت]] کے محققین انجیل میں نام «احمد» کے ذکر پر [[آیت]] کی دلالت کو رد کرتے ہوئے، اس کی «[[فارقلیط]]» پر تطبیق کی کوششوں کو ناکام اور غیر ضروری شمار کرتے ہیں۔ وہ بعض قابل دفاع دلیلوں کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ مذکورہ لفظ [[اسلام]] سے صدیوں پہلے بھی اسی صورت اور «تسلی دہندہ» کے معنی میں استعمال ہوتا تھا اور اس کی مصداق «[[روح القدس]]» جانی جاتی تھی۔ وہ [[عہد نامہ جدید]] کے دیگر حصوں کو کلی اوصاف کی صورت میں ـ اور نہ کہ نام سے ـ [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کے آنے کی انجیل کی بشارت کی مصداق مانتے ہیں。<ref>عبدالرحیم سلیمانی، «قرآن کریم و بشارتهای پیامبران»، فصلنامہ ہفت آسمان، ش 16 زمستان 1381، ص 51 ـ 61.</ref> | ||
[[تورات]] اور انجیل کی بعثت، نام اور [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کی خصوصیات کے بارے میں رپورٹیں اتنی دقیق اور واضح تھیں کہ یہود و نصاریٰ یا کم از کم ان کے علماء کے لیے اس حضرت کی شناخت اور ان کی دعوت اور رسالت کی حقانیت میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا تھا؛<ref>سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 7، ص 41.</ref> لیکن ان میں سے ایک گروہ نے مختلف انگیزوں کی بنا پر اسے چھپایا: «الَّذِینَ آتَیْنَاهُمُ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَهُ کَمَا یَعْرِفُونَ أَبْنَاءهُمْ وَإِنَّ فَرِیقا مِنْهُمْ لَیَکْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ یَعْلَمُونَ。」 <ref>بقرہ: 146</ref> اس آیت اور اس جیسی دیگر سے نکلتا ہے کہ مذکورہ رپورٹیں نزول کے دور کی موجودہ [[تورات]] اور انجیل میں بھی تھیں۔ ورنہ، یہود و نصاریٰ اسے بہترین دلیل کے طور پر پیش کرتے ہوئے، [[قرآن]]، [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ اور ان کی دعوت کی شدید تکذیب کرتے،<ref>محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 17، ص 94 / سید ابوالقاسم خوئی، ''البیان''، چ ہشتم، انوارالہدی، 1401، ص 122 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 19، ص 253.</ref> جبکہ ان میں سے کچھ، خاص طور پر یہود و نصاریٰ کے بعض علماء، مذکورہ بشارتوں اور [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کی پیشتر شناخت کی بنیاد پر ان پر ایمان لائے:111«الَّذِینَ آتَیْنَاهُمُ الْکِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ یُؤْمِنُونَ وَ إِذَا یُتْلَی عَلَیْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا کُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِینَ。」 <ref>قصص: 52 ـ 53</ref> [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام کے بعد «فارقلیط» کے آنے کی بشارت، جو انجیل یوحنا میں ان کی زبان سے نقل ہوئی ہے<ref>یوحنا، 14:15 ـ 17 و 25 ـ 26؛ 15:26 ـ 27؛ 16: 5 ـ 15.</ref> ان میں سے ہے جو شیعہ مفسرین کی ایک تعداد <ref>فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 4، ص 749 / محمد تقی مصباح، ایضاً، ج 1، ص 188ـ189 / محمد صادقی، ایضاً، ج 26ـ27، ص 306.</ref>اور سنی <ref> محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 29، ص 313 / محمد رشید رضا، ایضاً، ج 9، ص 291 / سید محمود آلوسی، ایضاً، ج 15، ج 28، ص 128.</ref>کی توجہ اور استناد کا مرکز بنا ہے۔ البتہ [[عہد نامہ جدید]] کی بہت سی رپورٹوں کے غیر حقیقی ہونے کو دیکھتے ہوئے، جو کچھ [[قرآن]] نے اس بارے میں لایا ہے، وہ مکمل طور پر اس میں موجود نہیں ہے اور جو کچھ ملتا ہے وہ [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ پر منطبق ہونے والی کچھ کلی عبارات ہیں، جبکہ [[قرآن]] کے بیانات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ [[تورات]] اور انجیل میں واضح اور صراحت کے ساتھ، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کے آنے کی خبر دی گئی ہے。<ref>محمد تقی مصباح، ایضاً، ص 188.</ref> | |||
آیت 29 [[سورت فتح]] میں بھی [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ اور ان کے سچے پیروکاروں کے کچھ اوصاف کے [[تورات]] اور انجیل میں ذکر کی بات کی گئی ہے۔ اس آیت کی بنیاد پر، مذکورہ کتابوں میں آیا ہے کہ [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ اور ان کے پیروکار دشمنوں کے مقابلے میں سخت اور آپس میں بہت مہربان ہیں۔ نیز وہ ایسی کھیتی کی مانند ہیں جو دن بہ دن رشد، نشوونما اور استحکام پاتی ہے، کسانوں کو حیران کرتی ہے؛ اس معنی میں کہ مسلمان بھی ابتدا میں کم ہیں؛ لیکن ایام گزرنے کے ساتھ، ان کی تعداد اور طاقت میں ایسا اضافہ ہوتا ہے کہ [[کافران]] کو غصہ دلاتا اور خوفزدہ کرتا ہے:<ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 13، ج 25، ص 145 / محمد بن احمد قرطبی، ایضاً، ج 16، ص 292.</ref>«مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِینَ مَعَهُ أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاء بَیْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُکَّعا سُجَّدا یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانا سِیمَاهُمْ فِی وُجُوهِهِم مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِکَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْإِنجِیلِ کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَی عَلَی سُوقِهِ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیظَ بِهِمُ الْکُفَّارَ....» <ref>فتح: 29</ref> یہ کہ تمام مذکورہ اوصاف دونوں کتابوں [[تورات]] اور انجیل میں آئے ہیں یا کچھ [[تورات]] میں اور کچھ دیگر انجیل میں، [[مفسرین]] کے درمیان اختلاف ہے۔ | |||
[[مفسرین]] [[شیعہ]] کی ایک تعداد<ref>محمد بن حسن طوسی، ایضاً، ج 9، ص 337 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 9، ص 192.</ref> اور سنی <ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 13، ج 25، ص 145 ـ 146/ اسماعیلبن کثیر دمشقی، ایضاً، ج 4، ص 219 / ابوجعفر نحاس، ایضاً، ج 6، ص 515.</ref> نے پہلے مفسرین جیسے قتادہ، ضحاک اور ابن جبیر کی پیروی کرتے ہوئے،<ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 13، ج 25، ص 145 / عبدالرزاق صنعانی، ''تفسیر صنعانی''، بہ کوشش محمود محمد عبدہ، بیروت، دارالکتب العلمیہ، 1419، ج 3، ص 228 / جمالالدین جوزی، ''زاد المسیر فی علم التفسیر''، چ چہارم، بیروت، المکتب الاسلامی، 1407، ج 7، ص 449.</ref> لفظ «ذلِکَ» سے پہلے آئے اوصاف کو [[تورات]] میں ذکر شدہ، اور کھیتی اور کاشت سے تشبیہ کو انجیل میں آیا ہوا مانتے ہیں۔ طبری اس نقطہ نظر کے اثبات میں کہتے ہیں: اگر «کَزَرع» پچھلے اوصاف کا عطف ہوتا اور [[تورات]] سے بھی متعلق ہوتا، تو اسے «واوِ» عطف کے ساتھ آنا چاہیے تھا。<ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 13، ج 25، ص 146.</ref> اس کے مقابلے میں، شوکانی نے جملہ «کَزَرع» کو مستقل مانا اور مجاہد کی پیروی کرتے ہوئے، معتقد ہیں: تمام مذکورہ خصوصیات آیت کے آغاز سے انجام تک، هم [[تورات]] میں اور هم انجیل میں آئی ہیں。<ref>محمد بن علی شوکانی، ''فتح القدیر''، بیروت، دارالمعرفہ، ج 5، ص 56.</ref> ابوسلیمان دمشقی بھی اس یقین رکھتے ہیں کہ کھیتی اور کاشت سے تشبیہ [[تورات]] اور انجیل میں ذکر ہوئی ہے。<ref>جمالالدین جوزی، ایضاً، ج 7، ص 448/ ج 3، ص 503.</ref> | |||
'''''3. جہاد:''''' | |||
دیگر تعلیمات میں سے ایک جو [[قرآن]] اس کے [[تورات]] اور انجیل میں ذکر ہونے کی بات کرتا ہے، [[خدا]] کی راہ میں جنگ اور جہاد اور اس کی جانب سے ان مومنوں کو جو اس راستے میں [[خدا]] کے دشمنوں کو قتل کرتے ہیں یا خود قتل ہوتے ہیں، [[جنت]] کا حتمی وعدہ ہے: «إِنَّ اللّهَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنفُسَهُمْ وَ أَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللّهِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ وَعْدا عَلَیْهِ حَقّا فِی التَّوْرَاةِ وَالإِنجِیلِ وَالْقُرْآنِ....» <ref>توبہ: 111</ref> اس [[آیت]] کے نزول کو «بیعت عقبہ» والوں کی شان میں قرار دیا گیا ہے<ref>جمالالدین جوزی، ایضاً، ج 7، ص 448/ ج 3، ص 503.</ref> اور [[مفسرین]] کا یقین ہے کہ یہ تمام آسمانی ادیان میں جہاد کے حکم کے وجود کو ظاہر کرتا ہے。<ref>محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 16، ص 201 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 5، ص 113 ـ 114 / سعیدبن ہبہ اللہ راوندی، ''فقه القرآن''، بہ کوشش سیداحمد حسینی، چ دوم، قم، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، 1405، ج 1، ص 349.</ref> مذکورہ تعلیمات کے علاوہ، جن کا [[قرآن]] صراحت کے ساتھ انجیل میں ذکر ہونے کی بات کرتا ہے، [[قرآن]] میں [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی اپنے پیروکاروں کو دی گئی مذکورہ تعلیمات بھی ان پر نازل ہونے والی انجیل کی تعلیمات میں سے ہو سکتی ہیں۔ [[تقویٰ]]، یکتا پرستی، ان کی پیروی اور نیز [[تورات]] کی تصدیق اور شرک کی نفی ان میں سے ہے۔ <ref>آل عمران: 50 ـ 51؛ مائدہ: 72؛ توبہ: 31</ref> | |||
اس | |||
[[ | |||
«إِنَّ اللّهَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنفُسَهُمْ وَ أَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللّهِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ | |||
<ref>توبہ: 111</ref> | |||
اس آیت کے نزول کو | |||
<ref>جمالالدین جوزی، | |||
اور | |||
<ref>محمد بن عمر فخر رازی، | |||
مذکورہ تعلیمات کے علاوہ، | |||
<ref>آل عمران: 50 ـ 51؛ مائدہ: 72؛ توبہ: 31</ref> | |||
== حوالہ جات == | == حوالہ جات == | ||
| سطر 349: | سطر 141: | ||
[[زمرہ:کتب]] | [[زمرہ:کتب]] | ||
[[زمرہ:آسمانی | [[زمرہ:آسمانی کتب]] | ||
[[زمرہ:مسیحیت]] | |||
[[ | |||
نسخہ بمطابق 00:58، 29 اپريل 2026ء
بیقاب|چپ اِنْجیل (یونانی لفظ εὐαγγέλιون «ایوانجیلیون» euangelion کا عربی شکل ہے، جس کا معنی خوش خبری یا بشارت ہے) مسیحیوں کی مقدس کتاب ہے۔ عہد نامہ جدید کی پہلی چار کتابیں جو بالترتیب مَتّی، مَرقُس، لوقا اور یوحنّا کی طرف منسوب ہیں، انجیل کہلاتی ہیں۔ مسیحی انجیل کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی آسمانی کتاب نہیں مانتے بلکہ ان کا اعتقاد ہے کہ عیسیٰ خود وحی کا تجسم اور عین الہی پیغام تھے۔ قرآن کریم اور اسلامی احادیث میں انجیل اس کتاب کا نام ہے جو حضرت مسیح کو خداوند کی طرف سے وحی ہوئی، لیکن ادیان کی تاریخ کی کتابوں میں اور خاص طور پر مسیحیوں کے نزدیکی ان کتابوں کو انجیل کہا جاتا ہے جو مسیحیت کی ابتدائی صدیوں میں حضرت مسیح کے اقوال و افعال کو ثبت کرنے کے لیے لکھی گئیں۔ انجیل کے مصنفین نے حضرت عیسیٰ مسیح کی سیرت حیات کی تدوین میں ان مواد سے استفادہ کیا ہے جو ان کے شاگردوں اور واقعات کے عینی گواہوں کے ذریعے ان تک پہنچا تھا۔
آسمانی کتاب
اسلامی نقطہ نظر کے مطابق انجیل ایک آسمانی کتاب ہے جو خداوند نے حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل فرمائی تاکہ وہ اسے لوگوں تک پیغام رسانی کریں اور یہ ہدایت، ذکر اور الہی احکام پر مشتمل تھی؛ لیکن مسیحی انجیل کے اس تصور کی بنیادی طور پر تردید کرتے ہیں۔ وہ کبھی نہیں کہتے کہ عیسیٰ نے انجیل نام کی کوئی کتاب لائی ہے۔ عیسیٰ کی طرف سے وحی کا لایا جانا اس طرح جیسے حضرت موسیٰ نے تورات اور حضرت محمد علیہما السلام نے قرآن لائی، مسیحی الہیات میں کوئی مقام نہیں رکھتا۔ اناجیل اربعہ شاگردان حضرت عیسی علیہ السلام کے ہاتھوں لکھی گئی ہیں اور مختلف اناجیل میں سے انتخاب اور ترویج کی گئی ہیں۔ مسیحی انجیل کی حقیقت کو نجات کی بشارت جانتے ہیں جو عیسیٰ میں خدا کے تجسم، صلیب، اور موت کے بعد اس حضرت کے زندہ ہو جانے کا نتیجہ ہے۔ لہذا کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے نزد انجیل کے تصور کی دو بالکل مختلف تعبیریں پائی جاتی ہیں۔ معاشرتی انگریزی زبان میں، لفظ «Gospel» «انجیل» کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتا ہے[1] جس کی اصل قدیم انگریزی میں «God-Spell» ہے。[2] یہ لفظ بھی دو اینگلو سیکسن الفاظ «God» اور «Spell» کا مرکب ہے اور مجموعی طور پر اس کا معنی «الہی کلام»،[3] یا «خداوند کا املا»[4] یا «خوش خبری»[5] ہے۔ یہ لفظ دراصل یونانی لفظ «Evangelion» (ایوانجیلیون) کا ترجمہ ہے جو لاطین میں «Evangelium» (ایوانجیلیوم) تلفظ کیا جاتا ہے۔ یہ آخری لفظ فرانسیسی، جرمن، اطالوی اور دیگر جدید زبانوں میں داخل ہوا ہے。[6] چونکہ ابتدائی مسیحی متون یونانی زبان میں تھے، لہذا کہا جا سکتا ہے کہ لفظ «انجیل» بھی بالآخر یونانی لفظ «ایوانجیلیون» سے ماخوذ ہے؛ لیکن عربی زبان میں اس کے براہ راست یا بالواسطہ راستے پر اختلاف ہے۔
نولڈکے (Noldke) نے اس کے حبشی بولی یعنی «Wangel» کے ذریعے مستعار ہونے پر استدلال کیا ہے[7] اور بعض نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ براہ راست یونانی یا سریانی، عبری یا سبائی زبانوں میں سے کسی کے ذریعے عربی میں داخل ہوا ہو。[8] اس سلسلے میں، کچھ مسلمان مفسرین نے مذکورہ لفظ کو عربی ثابت کرنے کی کوشش میں اسے وزن افعیل پر اور جذر «ن ج ل» سے مانا ہے اور اس کے لیے مختلف معانی بیان کیے ہیں。[9] یہ رائے عربی لغت نگاروں کو منظور نہیں ہوئی。[10]وہ عبری، یونانی یا سُریانی زبان سے اس کے دخیل اور مستعار ہونے پر زور دیتے ہیں。[11]اکثر مسلمان مفسرین نے بھی «انجیل» کو دخیل الفاظ میں شمار کیا ہے[12] اور زمخشری اور بیضاوی جیسی شخصیات نے اسے عربی کہلانے کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا ہے。[13]
مسیحی مذہبی ادب میں انجیل
انجیل کی حقیقت اور ماہیت کے بارے میں مسیحیوں کا اعتقاد اسلامی ادب میں اس کے تصور سے بالکل مختلف ہے۔ مسیحی الہیات میں انجیل کو عیسیٰ علیہ السلام پر نازل شدہ وحی کی تحریری شکل اور ایک آسمانی کتاب کے طور پر، جیسے تورات اور قرآن، کوئی مقام حاصل نہیں ہے۔ مسیحی خود حضرت عیسی علیہ السلام کو «وحی کا تجسم» اور عین الہی پیغام مانتے ہیں نہ کہ اس کے حامل کو، اور انجیل کو بطور تحریری وحی، جسے عیسیٰ مسیح نے لکھا ہو یا اپنے شاگردوں پر املا کرایا ہو، پر یقین نہیں رکھتے。[14] وہ «انجیل» کو عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں «بشارت» اور انسانیت کے لیے ان کے لائے ہوئے نجات کا پیام مانتے ہیں。[15] اس معنی کا سب سے زیادہ استعمال پولس کی تقریروں میں آیا ہے。[16] بعض نے «انجیل» کے معنی کی توضیح میں «فدیہ» کے تصور پر زور دیا ہے[17] جس کی بنیاد پر انجیل کا مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام نے مصائب، موت اور اپنی زندگی دوبارہ پانے کے ذریعے انسان کے گناہوں کا کفارہ بنا؛ لیکن جو چیز اب «اناجیل اربعہ» کے نام سے معروف ہے، وہ عہد نامہ جدید کی پہلی چار کتابیں ہیں اور محض ایک نام ہے جو دوسری صدی عیسوی کے آخر سے ان تحریروں پر لگایا گیا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی، معجزات، تعلیمات، سیرت، اقوال اور صعود کی گزارش دیتی ہیں؛[18] کیونکہ یہ تحریریں بہترین بشارتیں رکھتی ہیں جو انسان کو دی جا سکتی ہیں。[19] شاید انجیل کا نام ان چار کتابوں کے لیے خاص اس لیے ہے کہ وہ عہد نامہ جدید کے دیگر حصوں کی نسبت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی، اقوال و افعال پر زیادہ روشنی ڈالتی ہیں۔ تاہم، دیگر حصوں کو بھی جو مسیح علیہ السلام کی تعلیمات پر مشتمل ہیں، «انجیل» کہا جا سکتا ہے؛ جیسا کہ پولس نے بار بار اپنی باتوں کو «انجیل» کہا اور کبھی کبھی پورے عہد نامہ جدید کو بھی انجیل کہا جاتا ہے。[20] ر۔ ک۔ انجیل عیسی مسیح ترجمہ تفسیری عہد نامہ جدید شمارہ ردیف در کتابخانہ مرکز فرهنگ و معارف قرآن Bs 315، 25 ف؛ انجیل شریف یا عہد نامہ جدید، چ سوم، تہران، انجمن کتاب مقدّس، 1981۔ اس معنی کی تائید کرتا ہے۔ لہذا، «انجیل» سے مراد وہ پیغام ہے جو کم و بیش ان تمام تحریروں میں جاری ہے اور اس کی اصطلاحی معنی اور ان تحریری متون کے درمیان خلط ملط نہیں ہونا چاہیے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ خود اناجیل اور عہد نامہ جدید کی دیگر کتابوں میں بھی بار بار انجیل کا ذکر آیا ہے، وہ بھی صرف مفرد لفظ میں، بغیر اس کے کہ اس سے اناجیل اربعہ یا ان جیسی دیگر کتابیں مراد ہوں。[21] اس کے علاوہ، قدیم کلیسیا بھی انجیل کی وحدت پر زور دیتا تھا。[22] دیگر قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ مسیحی مذکورہ اناجیل اور دیگر عہد نامہ جدید کی کتابوں کے مصنفین کو نبی نہیں مانتے؛ لیکن ان کا یقین ہے کہ ان سب نے الہام اور الہی ہدایت کے تحت مذکورہ متون کی تحریر کی ہے[23] اور یہ وہ بات ہے جس کی تصریح خود عہد نامہ جدید کے مصنفین نے بھی کی ہے؛[24] لیکن یہ کہ انبوه اناجیل، خطوط، مکاشفات اور حواریوں کے اعمال سے متعلق کتابوں میں سے صرف عہد نامہ جدید میں موجود 27 رسالے ہی الہی الہام سے کیوں تھے، اس کی کوئی قانع کنندہ دلیل وہ پیش نہیں کرتے۔ بعض نے مذکورہ انتخاب کو روح القدس کی رہنمائی سمجھا ہے。[25] «انجیل» کے مسیحی تصور کی بنیاد پر، قرآن کے حضرت عیسی علیہ السلام اور انجیل کے بارے میں نقطہ نظر سے آگاه مسیحی، انجیل کی بطور آسمانی کتاب جو حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئی اور ان کے ذریعے اپنے ہم عصر لوگوں تک اس کی تعلیمات کی پہنچ کی معرفی کو قبول نہیں کرتے اور اگر قرآن کی مراد وہی اناجیل اربعہ ہوں، تو وہ اس پر جمع کے لفظ «اناجیل» کے استعمال نہ ہونے کو اعتراض کرتے ہیں۔ وہ قرآن کی مسیحیت اور انجیل کے بارے میں رپورٹوں کو سطحی اور شاید مدینہ کے مسیحیوں سے ماخوذ سمجھتے ہیں جو صرف مسیحیت کے بعض غیر رسمی ذرائع سے واقف تھے۔ اس بنیاد پر، ان کا اعتقاد ہے کہ قرآن کی رپورٹیں جیسے مریم کے لیے حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے بعد «تازہ کھجور» کا معجزانہ طور پر آنا،[26] گہوارے میں حضرت مسیح علیہ السلام کا بولنا[27] اور خداوند کی قدرت سے ان کے ہاتھوں مٹی کے پرندوں کا زندہ ہونا،[28] مسیحیت کی معتبر اور رسمی مذہبی کتابوں میں موجود نہیں ہیں اور کبھی غیر معتبر اناجیل میں پائی جاتی ہیں。[29] یہ چیلنج ایک طرف قرآن کی وحیانی ہونے اور دوسری طرف اناجیل کی بشری تحریر، ان کے متعدد نسخوں اور ان کی تاریخ و مواد میں موجود شکوک و شبہات کی وجہ سے قابل جواب ہے۔
تاریخ انجیل
مسیحیت کی ابتدائی دو تین دہائیوں کی تاریخ اور انجیل نامی کتاب کا وجود جو حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب ہے، مسیحی اور اسلامی متون سے آزاد تاریخی مصادر کی رو سے ابہام کے گھیرے میں ہے، یہاں تک کہ بعض نے خود حضرت عیسی علیہ السلام کے وجود میں بھی شک کیا ہے。[30] حالانکہ تاریخی گزارشوں کا فقدان انجیل کے خارجی اور تاریخی وجود کے فقدان کی دلیل نہیں بن سکتا اور ہو سکتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے ظہور اور ان پر نازل ہونے والی وحی کی تفصیلات نامعلوم وجوہات کی بنا پر تاریخ میں درج نہ ہوئی ہوں یا ضائع ہو گئی ہوں۔ البتہ بعض اناجیل اربعہ میں مسیح علیہ السلام کی انجیل کا ذکر آیا ہے。[31]
عیسوی سن کے ابتدائی تیس سے چالیس سالوں میں، مسیحیت کی تعلیم تقریباً صرف زبانی طور پر اور کبھی کبھار خط و کتابت کے ذریعے دی جاتی تھی۔ حواریون نے حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیمات کو اپنی وعظوں میں بیان کیا اور آن حضرت کی زندگی کے واقعات سے اس کی تصویر کشی کی؛ لیکن خطوط اور زبانی روایات کی تعلیمات کی کمی اور ناکافی ہونا انجیل نگاری کا باعث بنا。[32] لہذا، عهد جدید کی تدوین کی تاریخ اور جو آج کل «مسیحیوں کی مقدس کتاب» کے نام سے جانی جاتی ہے، زیادہ تر عیسوی پہلی صدی کے پہلے نصف کے بعد اور حضرت مسیح علیہ السلام کے صعود کے تقریباً بیس سے تیس سال بعد کی ہے[33] جو ان کے رسولوں اور ان کے شاگردوں کے ذریعے عمل میں آئی۔ یہ تحریریں چار اقسام «رسولوں کے خطوط»، «رسولوں کے اعمال»، «اناجیل اربعہ» اور «مکاشفات» میں طبقہ بندی کی گئی ہیں۔
«رسولوں کے خطوط»، پولُس، یوحنّا، یعقوب، بَرنابا، یهودا اور پطرس جیسے رسولوں کے مضامین اور تعلیمات ہیں جو افراد، گروہوں اور مختلف علاقوں کو حضرت مسیح علیہ السلام کا پیغام پہنچانے اور اس کی ترویج کے لیے لکھے گئے تھے۔ ان میں سے بعض کو عهد جدید کے مجموعے میں قبول کیا گیا اور بعض کو مسیحیت کی تاریخ کی ابتدائی صدیوں میں کلیسا کی جانب سے رد کر دیا گیا۔ پولس کے خطوط کی تدوین کی تاریخ عهد جدید کے تمام حصوں سے قدیم ہے。[34]
«رسولوں کے اعمال»، حواریان اور رسولان کی تبلیغی سرگرمیوں کی رپورٹ ہے جو لُوقا جیسے افراد کے ذریعے درج کی گئی ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی کی تاریخ، معجزات، تعلیمات، سیرت اور اقوال، عهد جدید کا دوسرا حصہ ہے جو کئی رسولوں اور ان کے شاگردوں کی جانب سے لکھا گیا ہے اور مصنفین کے ذاتی مشاہدات یا عینی گواہوں سے سنی گئی باتوں پر مبنی ہے۔ یہ تحریریں دوسری صدی کے پہلے نصف تک «رسولوں کی یادداشتیں» کے عنوان سے اور دوسری صدی کے اواخر سے «اناجیل» کے نام سے مشہور ہوئیں。[35]
مسیحیوں نے مذکورہ قسم کی تقریباً 50 انجیلوں کے ناموں کا اعتراف کرتے ہوئے، صرف ان میں سے 20 کے بارے میں معلومات کو دستیاب جانتے ہیں، جن میں انجیل عبرانیان، انجیل پطرس، انجیل مصریان، انجیل فیلیپ، انجیل توما، انجیل یعقوب، انجیل نیکودیمس، انجیل 12 حواری، انجیل یہودا اور انجیل مرکیون شامل ہیں。[36] دیگر انجیلوں میں سے عربی زبان میں انجیل طفولیت بھی موجود ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کے طفولیت کے دور کے معجزات کی رپورٹ کرتی ہے。[37]
دوسری صدی عیسوی کے اواخر میں کلیسا کے سربراہان نے مذکورہ چار اقسام میں شامل متنوع اور کثیر تحریروں میں سے بعض کو کلیسا کی تعلیمات کے مطابق ہونے کی وجہ سے قانونی اور معتبر کتابوں[38] کے طور پر منتخب کیا اور «عہد نامہ جدید» کے نام سے «عہد نامہ قدیم» کے ساتھ اور مسیحیوں کی مقدس کتاب کے دوسرے حصے کے طور پر شامل کیا。[39] 382 عیسوی میں، بشپوں کی ایک مجلس نے 27 کتابوں اور خطوط پر مشتمل فہرست کو حتمی شکل دی جو بعد میں ٹرینٹ (Trent) کی کونسل کے ذریعے 1545 ـ 7 کے درمیانی سالوں میں دوبارہ منظور کی گئی。[40] عہد نامہ جدید کا مجموعہ متّا، مَرْقُس، لوقا اور یوحنا کی طرف منسوب چار انجیلوں سے شروع ہوتا ہے۔ ان کے بعد، کتاب «اعمال رسولان» اور اس کے بعد پولس کی طرف منسوب تیرہ یا چودہ خطوط، یعقوب کی طرف منسوب ایک خط، پطرس کی طرف منسوب دو رسالے، یوحنا کی طرف منسوب تین رسالے اور یہودا کی طرف منسوب ایک خط موجود ہیں۔ کتاب «مکاشفه یوحنّا» اس مجموعے کا آخری حصہ ہے۔
عہد نامہ جدید کو مواد کے لحاظ سے تین عمومی حصوں تاریخی، عقیدتی اور پیش گوئی میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
اناجیل اربعہ «اعمال رسولان» کے ساتھ مل کر عہد نامہ جدید کا تاریخی حصہ بناتی ہیں اور بنیادی طور پر حضرت مسیح علیہ السلام اور حواریون کی زندگی اور سرگرمیوں کی تاریخ کو تقریباً 63 عیسوی تک گزارش کرتی ہیں。[41]
عهد جدید کا عقیدتی حصہ اس میں موجود 21 خطوط پر مشتمل ہے جو زیادہ تر عقاید کی وضاحت، اس کی دفاع اور دیگر عقائد کی رد پر مبنی ہیں۔ آخر الزمان کے واقعات اور حضرت مسیح علیہ السلام کی دوبارہ آمد کے بارے میں پیش گوئی کا حصہ، جو رؤیا اور مکاشفه کی شکل میں بیان ہوا ہے، کتاب «مکاشفه یوحنّا» میں موجود ہے۔
تعلیماتِ اعتقادی اور عملی کے لحاظ سے عهد جدید کا مجموعہ دوہرا اور غیر ہم آہنگ ہے؛ اس کا کچھ حصہ عهد قدیم کا تسلسل ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کے انسان اور خدا کے رسول ہونے اور حضرت موسی علیہ السلام کی شریعت کی پابندی کی ضرورت پر زور دیتا ہے اور دوسرا حصہ آن حضرت کی الوہیت کے پہلو اور موسوی شریعت کے انکار پر زور دیتا ہے۔ یہ دو غیر ہم آہنگ روایات پطرس اور پولس کی فکری اور عقیدتی کشمکش کی عکاسی ہیں。[42]
دیگر تحریریں، جنہیں کلیسا کی منظوری نہیں ملی، «اپوکریفا» یعنی مشکوک اور غیر معتبر تحریریں کے طور پر جانی جاتی ہیں جن میں سے بہت سی ضائع ہو گئی ہیں اور کچھ اب بھی باقی ہیں。[43] انجیل برنابا، یوسف برنابا کے ساتھی، پولس اور مرقس کے دوست کی طرف منسوب، اسی قسم میں سے ہے جسے چوتھی صدی عیسوی کے بعد کلیسیا کی جانب سے پڑھنا ممنوع قرار دیا گیا۔ بعض نے اسے اسلام اور مسیحیت کے درمیان گمشدہ کڑی قرار دیا ہے۔ انجیل برنابا اگرچہ اس کی بعض تعلیمات اسلام اور سرکاری مسیحیت کی تعلیمات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں، بنیادی اصول درست ہیں اور اہم اور قابل ذکر موارد میں قرآن کے ساتھ ہم آہنگی رکھتی ہے۔ محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا) صلیاللهعلیہوآلہ کا نام، خصوصیات اور بعثت کی بشارت کا صریح ذکر، حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت اور فرزند ہونے کا انکار، حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذبیح ہونا نہ کہ اسحاق علیہ السلام ـ حضرت عیسی علیہ السلام کا مصلوب ہونے کا انکار اور ان کی جگہ یہودا اسخریوطی کا مارا جانا اسی قسم میں سے ہے۔
انجیلهای چهارگانه
اناجیل اربعہ بطور عهد جدید کا مشہور ترین حصہ، اس کی ابتدا میں موجود ہیں۔ الهیّات مسیحی میں، مذکورہ انجیلوں اور عهد جدید کے دیگر حصوں کے حضرت عیسی علیہ السلام پر وحیانی نزول کا اعتقاد رکھے بغیر، مذکورہ مجموعے کی تدوین عام انسانوں کے ہاتھوں اور حضرت مسیح علیہ السلام کے صعود کے بعد کی جاتی ہے。[44] اناجیل اربعہ اپنے مصنفین کے ناموں کی وجہ سے انجیل مَتّا، انجیل مَرقُس، انجیل لُوقا اور انجیل یوحنّا کے نام سے مشہور ہوئے ہیں۔ تدوین کی تاریخ، مصنفین کی شناخت اور ان کے دستاویزات کی درستگی اور تسلسل کے بارے میں وسیع تحقیقات کے باوجود، اس بارے میں کوئی قطعی اتفاق رائے نہیں ہے۔ البتہ سنگین چیلنجز اور شکوک و شبہات کے ساتھ ساتھ بعض قرائن و شواہد کی بنیاد پر مضبوط قیاس آرائیاں بھی سامنے آئی ہیں。[45]
مرقس کو حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھیوں میں سے نہیں بلکہ حواری پطرس کا دوست، ہم نشین اور شاگرد کہا جاتا ہے جو کبھی کبھار پولس کے ہم سفر بھی ہوتے تھے اور اپنی روایات پطرس سے لی ہیں。[46] ان کی انجیل کو مختصر ترین، اس کی تحریر رومی زبان میں[47] اور زیادہ تر محققین کی رائے کے مطابق، 65 ـ 70 عیسوی کے درمیان اور شہر روم میں سمجھا جاتا ہے。[48]
2. انجیل مَتّا:
یہ سب سے مفصل انجیل ہے اور حواری متی کی طرف منسوب ہے۔ جدید دور میں تنقید کے آغاز سے قبل، اسے قدیم ترین انجیل سمجھا جاتا تھا اور اس کی تدوین کی تاریخ 50 ـ 60 اور کبھی 38 عیسوی کے درمیان تصور کی جاتی تھی؛[49] لیکن محققین نے اس کی بعض رپورٹوں اور انجیل مرقس کے تمام مضامین کے اس میں دہرائے جانے کی بنیاد پر، اس کی تالیف کی تاریخ کو بھی 65 سے 70 عیسوی کے درمیان اور انجیل مرقس کے بعد قرار دیا ہے。[50] اس کا اصل نسخہ عبری زبان میں تھا جو دستیاب نہیں ہے۔ بعد میں اس کا ترجمہ دیگر زبانوں میں کیا گیا جن میں یونانی بھی شامل ہے。[51] محققین نے اس کی حواری متی کی طرف نسبت کو چیلنج اور شک کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے،[52] اس کے کسی اور ہم نام شخص کے ہاتھوں لکھے جانے کے امکان پر بات کی ہے[53] اور زیادہ تر اس کی تحریر کی جگہ «انطاکیہ» بتائی ہے。[54]
لوقا حواری نہیں تھا، مسیح علیہ السلام کو نہیں دیکھا اور نصرانیت پولس سے سیکھی۔ اس کی انجیل کے زیادہ تر مضامین کو انجیل مرقس اور انجیل متی سے ماخوذ سمجھا جاتا ہے。[55] مذکورہ تین انجیلیں باہمی مشترکات کی کثرت کی وجہ سے «اناجیل ہمنوا» کے نام سے مشہور ہیں。[56] روایتی نقطہ نظر کی بنیاد پر، مذکورہ انجیل لوقا، پولس کے ساتھی اور رفیق کی طرف منسوب ہیں اور ان کی روایت اس سے منقول ہے۔ ان کی تدوین کو 70 ـ 90 کے درمیان اور زیادہ امکان کے ساتھ 80 ـ 85 عیسوی سمجھا جاتا ہے。[57] اس کی بعض کہانیاں جیسے حضرت عیسی علیہ السلام کے طفولیت کے دور کے واقعات دیگر انجیلوں میں نہیں آئے ہیں。[58]
یہ آخری انجیل ہے[59] اور اس کی تدوین کی تاریخ میں اختلاف باقی تین انجیلوں سے زیادہ ہے۔ کبھی اس کی تالیف کی تاریخ 65 عیسوی بتائی جاتی ہے، لیکن مضبوط ترین رائے کے مطابق، جسے مسیحی روایت بھی قبول کرنے کا مائل ہے، یہ 90 ـ 115 عیسوی کے درمیان لکھی گئی ہے。[60] یوحنا کو حضرت مسیح علیہ السلام کا انتہائی پسندیدہ حواری کہا جاتا ہے۔ مذکورہ انجیل کی اس کی طرف نسبت کی صحت میں بھی شکوک پائے جاتے ہیں۔ انجیل یوحنا باقی تین انجیلوں سے بالکل مختلف ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی اور یونانی فلسفیانہ تصورات کا امتزاج ہے。[61]
شبه جزیرہ عرب میں انجیل
کہا جاتا ہے کہ سن 400 عیسوی تک مناطق مشرق وسطیٰ، خاص طور پر سوریہ کی سرکاری انجیل ایک واحد انجیل تھی جو چار انجیلوں کے ملاپ سے وجود میں آئی تھی。[62] اس انجیل کا نام دیاتیسرون (Diatessaron) تھا۔ لہذا، ممکن ہے کہ قرآن کے نزول کے وقت بھی یہ انجیل کم و بیش جزیرہ نما عرب کے نصاریٰ میں رائج رہی ہو。[63] فی الحال اس انجیل کی مکمل اصل، جو سریانی زبان میں تھی، نایاب ہے اور صرف اس کے بعض حصوں کے ترجمے مختلف زبانوں میں دستیاب ہیں。[64]
ایک اور انجیل جو شاید اس وقت رائج تھی، وہ عربی زبان میں کودکی کی انجیل (Arabic Infancy Gospel) ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دورانِ طفولیت کے واقعات کو قرآن کریم کی متعلقہ داستانوں سے مشابہت کے ساتھ نقل کرتی ہے۔
قرآن میں انجیل
لفظ «انجیل» 12 بار 12 آیات میں 6 سورتوں قرآن اور ہر جگہ اس کی مفرد شکل صراحت کے ساتھ ذکر ہوئی ہے۔ [65] متعدد مواقع پر «ما بَینَ یَدَیه» [66] اور «الَّذی بَینَ یَدَیه»[67] جیسی عبارات کے ساتھ، قرآن سے پیشتر کی آسمانی کتابوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مذکورہ باتوں کے علاوہ، کبھی «انجیل»، «اہل الکِتاب» [68] اور «الَّذینَ اُوتوا الکِتب» [69] جیسی ترکیبوں میں «الکِتاب» کی مصداق اور مذکورہ چیزوں میں سے ہے۔
قرآن مختلف مناسبتوں سے انجیل کا ذکر کرتا ہے۔ اس کی وحیانی ہونے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی آیات کے مجموعے کے طور پر تصریح [70]، تورات کی حقانیت پر اس کی گواہی [71]، قرآن کی جانب سے اس کی تصدیق [72]، محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء) صلی اللہ علیہ و آلہ کی بعثت اور ان کی دعوت کے عام ہونے کے بارے میں انجیل کی بشارت [73] اور اس کی تعلیمات کے کچھ حصوں کا تحریف، کتمان اور حذف ہونا [74] ان میں سے ہے۔
1. انجیل؛ مسیح علیہ السلام کی آسمانی کتاب قرآن عیسیٰ مسیح علیہ السلام کی بعثت کو رسولوں کی بھیجے جانے اور کتابوں کے نازل ہونے کا سلسلہ قرار دیتا ہے اور ان کی آسمانی کتاب کا نام صراحت کے ساتھ «انجیل» رکھا ہے اور اس کی وحیانی ہونے پر زور دیا ہے: [75]«لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَ أَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیزَانَ... ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلَی آثَارِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَآتَیْنَاهُ الْإِنجِیلَ...» [76] نیز [77] آیت 30 مریم میں لفظ «کتاب» بھی «انجیل» کی طرف اشارہ ہے。[78]
دوسری جانب اور انجیلوں کی کثرت، بشمول نزول کے زمانے اور اس سے قبل رسمی چار انجیلوں کے باوجود، قرآن اس سے متعلق تمام آیات میں مفرد صیغہ کے استعمال سے، حضرت مسیح علیہ السلام پر نازل ہونے والی انجیل کے ایک ہونے پر اصرار کرتا ہے۔ لہذا کہا جا سکتا ہے: قرآن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی انجیل کے وحیانی ماخذ اور ایک ہونے کی تصریح کے ساتھ، اس کی بشری ہونے[79] اور اس کی تعدد[80] کو رد کرتا ہے۔ نتیجتاً، موجودہ انجیلیں اور عہد نامہ جدید کے دیگر حصے، جو انسانی افراد کی تحریر کردہ ہیں، عیناً مسیح علیہ السلام پر نازل ہونے والی وہی انجیل نہیں ہو سکتیں،[81] بلکہ اس کی مختلف روایتوں کو شامل ہیں اور زیادہ تر امکان ہے کہ مذکورہ انجیل کا ممکنہ نسخہ کسی وجہ سے معدوم ہو گیا ہے。[82]
نومسیحی مسیحی معاشرے پر حاکم انتہائی دشوار حالات اور یہود اور رومیوں کی جانب سے ان کے ساتھ سخت اور سرکوبانہ سلوک، ان وجوہات میں سے ہو سکتا ہے。[83] نیز تورات اور قرآن کے ساتھ اور «کتاب» کے طور پر انجیل کا ذکر، آسمانی تعلیمات کے مجموعے کے طور پر اس کی خارجی موجودیت اور حقیقت کو ثابت کرتا ہے۔ وضاحت یہ کہ 8 بار تورات کے جوڑے کے طور پر [84] اور دو بار تورات اور قرآن کے ساتھ اس کا ذکر ہوا ہے: «نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ... وَ أَنزَلَ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ مِن قَبْلُ هُدی لِلنَّاسِ وَ أَنزَلَ الْفُرْقَانَ...» [85]
البته اہم اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ قرآن صرف «انجیل» کے نام سے وحیانی آیات کے مجموعے کے نزول کی تصدیق کرتا ہے، نہ کہ اس کے معروف معنوں میں کتاب ہونے کی، اور حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات میں ان کے ہاتھ سے یا ان کے املا سے اس کی تحریر ہونے کے بارے میں نفیاً یا اثباتاً کوئی رپورٹ نہیں ہے۔ لہذا اور مسیحی اور اسلامی انجیل کے دو تصورات کا مشترک دائرہ فراہم کرنے کے لیے، قرآن میں مذکورہ انجیل کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی آیات کی طرف اشارہ کہا جا سکتا ہے جسے اناجیل اربعہ نے بھی، روایت کی صحت و سقم سے قطع نظر، اس کے کچھ حصوں کی گزارش کی ہے ـ البتہ اس وضاحت کے ساتھ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مسیحیت کے مختلف نقطہ نظر کی بنیاد پر، اس حضرت کی تمام باتیں، اعمال اور زندگی کے واقعات بھی مسیحی انجیل کے مفہوم کے دائرے میں آ جاتے ہیں۔
شیعہ مفسرین کی ایک تعداد[86] اور سنی،[87] تورات اور انجیل کے بارے میں «تنزیل» کی جگہ «انزال» لفظ کے استعمال کو ان دونوں کے دفعی نزول کی دلیل مانتے ہیں؛ البتہ بعض معاصر صاحبانِ رائے اس نقطہ نظر کو نہیں مانتے。[88] بعض دیگر آیات 45 اور 48 آل عمران کی استناد پر اس یقین رکھتے ہیں کہ «انجیل» کا نام، حضرت مسیح علیہ السلام کی بعثت کی وعدہ کی طرح انبیاء اور پیشتر کی آسمانی کتابیں میں آیا تھا: «إِذْ قَالَتِ الْمَلآئِکَةُ یَا مَرْیَمُ إِنَّ اللّهَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَةٍ مِنْهُ اسْمُهُ الْمَسِیحُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ... وَ یُعَلِّمُهُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ。」 یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام «انجیل» کے نام سے واقف تھیں۔ ورنہ ان کی پیدائش اور انجیل کے نزول سے قبل اس کی الہی تعلیم کی خبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دینا معقول نہ تھا。[89]
2. تورات کی حقانیت پر انجیل کی گواہی قرآن کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور انجیل کو تورات کی تصدیق کرنے والا قرار دیتا ہے: «وَ قَفَّیْنَا عَلَی آثَارِهِم بِعَیسَیبْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَآتَیْنَاهُ الإِنجِیلَ فِیهِ هُدی وَ نُورٌ وَ مُصَدِّقا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ....» [90] «تصدیق» کی تکرار اور اس کا الگ الگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور انجیل کی طرف نسبت کرنا، ظاہر کرتا ہے کہ تورات کی حقانیت اور اس کے الہی نزول کی گواہی، حضرت مسیح علیہ السلام کے کلام کے علاوہ، انجیل کی آیات میں بھی آئی ہے۔ البتہ واضح ہے کہ مراد، موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی اصلی تورات ہے جسے خداوند نے پیدا شدہ تحریفات سے پاک، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سکھایا۔ [91] لہذا، مذکورہ تصدیق ہرگز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور کی موجودہ تورات کی مکمل تائید اور اس کے تحریف سے پاک ہونے کے معنی میں نہیں ہے。[92]
مفسرین کی ایک تعداد[93] مذکورہ آیت اور اس جیسی دیگر آیات کی استناد پر اس یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام پر نازل ہونے والی انجیل نے تورات کے احکام کی توثیق اور تکمیل کی اور عیسیٰ علیہ السلام کا دین، کچھ احکام کے سوا، موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کا ناسخ نہیں تھا۔ انجیل متیٰ میں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے بھی اس بات کی تصریح ہوئی ہے。[94] خدا کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تورات کی تعلیم پر قرآن کی تصریح اور اس پر ان کے لیے نعمت کے طور پر زور[95] [96] اس نقطہ نظر کی تائید کر سکتا ہے۔
مزید وضاحت یہ کہ بعض آیات ظاہر کرتی ہیں کہ گوشت اور حیوانات کے کچھ دیگر اجزاء کا حکم، جو تورات کی بنیاد پر یہودی قوم پر حرام کیا گیا تھا،[97] انجیل کے ذریعے منسوخ ہو گیا ہے: «وَ مُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلِأُحِلَّ لَکُم بَعْضَالَّذِیحُرِّمَعَلَیْکُمْ。」 [98] قرآن حلال ہونے کے باوجود مذکورہ تحریمات کی وجہ یہودی قوم کی ستمگری، حق ستیزی اور سرکشی اور ان کی سزا کے طور پر بیان کرتا ہے۔ [99]
3. قرآن کی جانب سے انجیل کی تصدیق خداوند نے قرآن کریم کی متعدد آیات میں، اسے انجیل سمیت پیشتر کی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا قرار دیا ہے: «وَ أَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْکِتَابِ وَ مُهَیْمِنا عَلَیْهِ...» [100] لیکن مذکورہ تصدیق اور تائید کا کیا مطلب ہے، اس بارے میں مفسرین اختلاف رکھتے ہیں؛[101] پہلا نقطہ نظر، اسے خداوند کی جانب سے ان کے نزول پر قرآن کی گواہی کے معنی میں مانتا ہے؛ اس وضاحت کے ساتھ کہ اس کا لازمی نتیجہ ان کتابوں کے تمام مندرجات کی تصدیق نہیں ہے جو آج تورات اور انجیل کے نام سے پکاری جاتی ہیں۔ دوسرا نقطہ نظر مذکورہ تصدیق کو گذشتہ آسمانی کتابوں کے تمام یا کچھ مندرجات کی تائید کے معنی میں مانتا ہے؛ اور تیسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ پیشتر کی آسمانی کتابیں خداوند کی جانب سے قرآن کے نزول کی خبر دیتی ہیں اور قرآن کا نزول ـ نہ کہ اس کی زبانی گواہی ـ اس غیبی خبر کی درستی اور گذشتہ آسمانی کتابوں کا خدا کی جانب سے ہونا ثابت کرتا ہے。[102]
متعلقہ آیات میں دقت اور عبارات کے فرق پر غور، مذکورہ چیلنج کو ختم کر سکتا ہے اور اتفاق رائے کی زمینہ فراہم کر سکتا ہے؛ اس وضاحت کے ساتھ کہ تصدیق کرنے والی آیات کو ایک نظر سے دو قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: پہلی قسم وہ آیات ہیں جن میں «الَّذی بَینَ یَدَیه» اور «ما بَینَ یَدَیه» جیسی عبارات آئی ہیں، یہ صراحت کے ساتھ قرآن سے پیشتر کی کتابوں کی تصدیق کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور تورات اور نازل ہونے والی انجیل جیسی کتابوں کی تائید کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتیں: «وَ مَا کَانَ هَـذَا الْقُرْآنُ أَن یُفْتَرَی مِن دُونِ اللّهِ وَلَکِن تَصْدِیقَ الَّذِی بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیلَ الْکِتَابِ...» [103] ان آیات میں «تصدیق»، یقیناً حقیقی تورات اور انجیل کے الہی نزول پر قرآن کی گواہی اور ان دونوں کی تمام تعلیمات کی تائید کے معنی میں ہو سکتی ہے。[104] واضح ہے کہ اس معنی میں «تصدیق»، تورات اور انجیل کی بعثت محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء) صلی اللہ علیہ و آلہ اور قرآن کے نزول کی بشارتوں کو بھی شامل ہے۔
قابل توجہ نکتہ یہ کہ قرآن گذشتہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کے بارے میں ایک تکمیلی وضاحت کے طور پر، ان کے مقابلے میں اپنی «مہیمن» ہونے پر تصریح کرتا ہے تاکہ بغیر کسی دخل و تصرف کے تصدیق کے وہم کے پیدا ہونے سے بچا جا سکے۔ قرآن کی «مہیمن» ہونے کو اگرچہ مختلف، لیکن قریب معانی میں بیان کیا گیا ہے。[105] ان معانی کا حاصل یہ ہے کہ قرآن گذشتہ کتابوں کے مقابلے میں مسلط، فرادست اور فراگیر ہے اور اس کی بنیاد پر، اس میں مختلف قسم کے دخل و تصرف کر سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر، ان کی اصلی تعلیمات کو محفوظ اور توثیق، حذف اور تحریف شدہ موارد کی یاد دہانی اور اصلاح، اور خاص زمانے، مکان اور مخاطبین کی شرائط کے تابع تعلیمات کو منسوخ کیا ہے。[106]
دوسری قسم کی آیات میں، «لِما مَعَکُم» اور «لِما مَعَهُم» جیسی عبارات استعمال ہوئی ہیں اور اہل کتاب (یہود اور نصارٰی) کی طرف اشارہ ہے: «یَا أَیُّهَا الَّذِینَ أُوتُواْ الْکِتَابَ آمِنُواْ بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقا لِمَا مَعَکُم مِّن قَبْلِ أَن نَّطْمِسَ وُجُوها...» [107] اگرچہ ان عبارات کے ظاہر کو نزول کے دور کی موجودہ تورات اور انجیلوں کی طرف اشارہ کہا جا سکتا ہے جو اہل کتاب کے پاس تھیں؛ لیکن یقیناً تمام مندرجات کی تصدیق کے معنی میں نہیں، بلکہ ـ جیسا کہ بعض آیات بھی اشارہ کرتی ہیں ـ[108] ان کی تحریف نہ شدہ تعلیمات کے کچھ حصوں کی تائید ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ انجیلیں متضاد اور شرک آمیز تعلیمات رکھتی ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ایسی باتیں، اعمال اور واقعات منسوب کرتی ہیں جو عقل اور توحیدی تعلیمات کے مطابق نہیں ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام کا مصلوب اور قتل ہونا، اس حضرت کی خداوندی اور خدا کا بیٹا ہونے کا اعتقاد اور «تثلیث» کا عقیدہ ان میں سے ہے۔ [109]
نزول کے دور کی انجیلوں کی ضمنی اور اجمالی تائید بعض دیگر آیات سے بھی نکلتی ہے۔ آیت 66 مائدہ اس قبیل سے ہے جو اہل کتاب کو تورات اور انجیل کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ترغیب میں، آسمان اور زمین کی برکتوں سے بہرہ ور ہونا اس کا نتیجہ قرار دیتی ہے: «وَ لَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَیهِم مِن رَّبِّهِمْ لأکَلُواْ مِن فَوْقِهِمْ وَ مِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم....» مفسرین نے تورات اور انجیل کے قیام سے مراد مبدأ، معاد،[110] احکام اور الہی حدود[111] اور نیز محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء) صلی اللہ علیہ و آلہ سے متعلق بشارت کے وجود کا اعتراف،[112] بغیر کسی تحریف اور کتمان کے[113] اعتقاد اور عمل کو قرار دیا ہے۔ لہذا، کم از کم نزول کے دور کی موجودہ انجیلیں، نازل ہونے والی انجیل کی کچھ تعلیمات کو شامل تھیں۔ ورنہ اور حقیقی انجیل کے فقدان کو دیکھتے ہوئے، اس کے قیام کی دعوت، کوئی عقلی جواز نہیں رکھے گی۔ مذکورہ ضمنی اور اجمالی تائید کو آیت 68 مائدہ سے بھی اخذ کیا جا سکتا ہے: «قُلْ یَا أَهْلَ الْکِتَابِ لَسْتُمْ عَلَی شَیْءٍ حَتَّی تُقِیمُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ وَ مَا أُنزِلَ إِلَیْکُم مِن رَّبِکُمْ....»
اس آیت کی شان نزول میں کہا گیا ہے: یہودیوں کے ایک گروہ نے، تورات کی ان کی جانب سے تصدیق کے بارے میں محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء) صلی اللہ علیہ و آلہ کے جواب کے بعد، کہا: ہم بھی تورات کو قبول کرتے ہیں؛ لیکن اس کے سوا کسی چیز پر ایمان نہیں لاتے اور خداوند نے اس آیت کی بنیاد پر، تورات اور انجیل پر اعتقاد اور عمل کے بغیر ان کے دین اور آیین کو بے قدر اور بے بنیاد قرار دیا۔ اس پر اعتقاد اور عمل بھی محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء) صلی اللہ علیہ و آلہ اور قرآن پر ایمان کا تقاضا کرتا ہے۔ قرآن کریم نے کسی اور جگہ، انجیل کے پیروکاروں کو اس میں «ما اَنزَلَ اللّه» کی بنیاد پر داوری اور حکم کرنے کی دعوت دی ہے: «وَلْیَحْکُمْ أَهْلُ الإِنجِیلِ بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فِیهِ....» [114] یہ آیت بھی نزول کے دور کی انجیلوں کی ضمنی اور اجمالی تائید کو پہنچاتی ہے۔
4. انجیل کی تعلیمات قرآن کریم کبھی کچھ کلی اوصاف کے ساتھ اور کبھی کچھ خاص احکام اور تعلیمات کے ذکر کے ساتھ، انجیل کے مندرجات کی نسبتاً مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ مذکورہ موارد اس قبیل سے ہیں:
1. ہدایت، نور اور موعظہ: «... وَ آتَیْنَاهُ الإِنجِیلَ فِیهِ هُدی وَ نُورٌ وَمُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدی وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِینَ。」 [115] مفسرین نے «ہدایت» کے معنی میں، خداوند کی توحید اور اس کو بیوی، بیٹا، شریک اور ہمسر رکھنے سے تنزیہ سے متعلق تعلیمات کے وجود،[116] معاد سے متعلق معارف،[117] انبیاء کی تصدیق اور تنزیہ، بعثت محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء) صلی اللہ علیہ و آلہ کی بشارت،[118] الہی احکام اور اس کی دلیلیں[119] تفسیر کی ہیں۔ «ہدایت ہونے» کی صفت سے قرآن اور محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء) صلی اللہ علیہ و آلہ کی توصیف پر توجہ،[120] اس سلسلے میں بہت کارگر ہو سکتی ہے؛ جیسا کہ انجیل کے نور پر مشتمل ہونے کی تفسیر میں، اسے شرعی احکام کی بیان،[121] دلیلیں، مثالیں، فضائل اور حق کی طرف رہنمائی کرنے والی اقدار[122] اور جہل اور نادانی کی تاریکیوں کو روشن کرنے[123] کی طرف انجیل کی طرف سے اشارہ قرار دیا ہے اور اس میں «موعظہ» کے وجود سے مراد، گناہ سے بچنے اور عبادات کرنے کے الہی احکام اور شیوا اور رسا نصیحتیں بتائی ہیں。[124]
2. پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی بعثت کی بشارت: بعض قرآن آیات کے صریح نص اور نیز بعض دیگر کے ظاہر کے مطابق، محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء) صلی اللہ علیہ و آلہ کی بعثت کی خبر اور ان کا نام اور خصوصیات خدا کی جانب سے نازل ہونے والی تورات اور انجیل میں آئی ہیں۔ یہ موضوع قرآن میں مذکورہ تورات اور انجیل کی تعلیمات میں ـ خاص اہمیت رکھتا ہے: «الَّذِینَ یَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِیَّ الأُمِّیَّ الَّذِی یَجِدُونَهُ مَکْتُوبا عِندَهُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِیلِ....» [125] آیت کے ظاہر سے نکلتا ہے کہ تینہ اوصاف «رسول»، «نبی» اور «اُمّی» (ان پڑھ اور لکھا نہ ہونا) سب تورات اور انجیل میں محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء) صلی اللہ علیہ و آلہ کے لیے ذکر ہوئے ہیں[126] اور اگر آیت اس بیان کی خواہاں نہ ہوتی، تینوں اوصاف کا ایک ساتھ ذکر، جو صرف اسی آیت میں ہے، خاص طور پر تیسری خصوصیت کا لانا، کوئی نمایاں نکتہ نہ تھا。[127] کسی اور آیت میں اور حضرت مسیح علیہ السلام کی زبان سے، محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء) صلی اللہ علیہ و آلہ کے نام کی، جو ان کے بعد آئیں گے، تصریح ہوئی ہے: «وَ إِذْ قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ... وَ مُبَشِّرا بِرَسُولٍ یَأْتِی مِن بَعْدِی اسْمُهُ أَحْمَد....»(صف: 6) اگرچہ یہ آیت حضرت مسیح علیہ السلام کی زبان سے محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء) صلی اللہ علیہ و آلہ کی بعثت کی بشارت اور ان کے نام پر دلالت کرتی ہے، نہ کہ انجیل میں اس کے آنے پر،[128] لیکن چونکہ اس حضرت نے اس سلسلے میں آیات انجیل اور الہی وحی کے سوا کچھ زبان پر نہیں لایا، یہ انجیل سے ماخوذ ہو سکتا ہے۔ یہ آیت مفسرین[129] اور 107 مسلمان محققین کی توجہ، جو موجودہ انجیلوں میں «احمد» کے نام کی تلاش میں نکلے، کو لفظ «فارقلیط» (Paraclete) یا «بارکلیت» کی طرف مبذول کراتی ہے۔ مذکورہ لفظ یونانی ہے اور «تسلی» اور «آرامش دہندہ» کے معنی میں ہے اور مسیحی اس کی مصداق «روح القدس» کہتے ہیں۔
لیکن مذکورہ مفسرین اور محققین اس یقین رکھتے ہیں کہ یہ لفظ اصل میں، خاص نام تھا اور «پریکلیتوس» کی صورت میں اور «احمد» اور «ستودہ» کے معنی میں تھا جو بعد میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں، بعض مسیحیت کے محققین انجیل میں نام «احمد» کے ذکر پر آیت کی دلالت کو رد کرتے ہوئے، اس کی «فارقلیط» پر تطبیق کی کوششوں کو ناکام اور غیر ضروری شمار کرتے ہیں۔ وہ بعض قابل دفاع دلیلوں کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ مذکورہ لفظ اسلام سے صدیوں پہلے بھی اسی صورت اور «تسلی دہندہ» کے معنی میں استعمال ہوتا تھا اور اس کی مصداق «روح القدس» جانی جاتی تھی۔ وہ عہد نامہ جدید کے دیگر حصوں کو کلی اوصاف کی صورت میں ـ اور نہ کہ نام سے ـ محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء) صلی اللہ علیہ و آلہ کے آنے کی انجیل کی بشارت کی مصداق مانتے ہیں。[130]
تورات اور انجیل کی بعثت، نام اور محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء) صلی اللہ علیہ و آلہ کی خصوصیات کے بارے میں رپورٹیں اتنی دقیق اور واضح تھیں کہ یہود و نصاریٰ یا کم از کم ان کے علماء کے لیے اس حضرت کی شناخت اور ان کی دعوت اور رسالت کی حقانیت میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا تھا؛[131] لیکن ان میں سے ایک گروہ نے مختلف انگیزوں کی بنا پر اسے چھپایا: «الَّذِینَ آتَیْنَاهُمُ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَهُ کَمَا یَعْرِفُونَ أَبْنَاءهُمْ وَإِنَّ فَرِیقا مِنْهُمْ لَیَکْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ یَعْلَمُونَ。」 [132] اس آیت اور اس جیسی دیگر سے نکلتا ہے کہ مذکورہ رپورٹیں نزول کے دور کی موجودہ تورات اور انجیل میں بھی تھیں۔ ورنہ، یہود و نصاریٰ اسے بہترین دلیل کے طور پر پیش کرتے ہوئے، قرآن، محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء) صلی اللہ علیہ و آلہ اور ان کی دعوت کی شدید تکذیب کرتے،[133] جبکہ ان میں سے کچھ، خاص طور پر یہود و نصاریٰ کے بعض علماء، مذکورہ بشارتوں اور محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء) صلی اللہ علیہ و آلہ کی پیشتر شناخت کی بنیاد پر ان پر ایمان لائے:111«الَّذِینَ آتَیْنَاهُمُ الْکِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ یُؤْمِنُونَ وَ إِذَا یُتْلَی عَلَیْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا کُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِینَ。」 [134] حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد «فارقلیط» کے آنے کی بشارت، جو انجیل یوحنا میں ان کی زبان سے نقل ہوئی ہے[135] ان میں سے ہے جو شیعہ مفسرین کی ایک تعداد [136]اور سنی [137]کی توجہ اور استناد کا مرکز بنا ہے۔ البتہ عہد نامہ جدید کی بہت سی رپورٹوں کے غیر حقیقی ہونے کو دیکھتے ہوئے، جو کچھ قرآن نے اس بارے میں لایا ہے، وہ مکمل طور پر اس میں موجود نہیں ہے اور جو کچھ ملتا ہے وہ محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء) صلی اللہ علیہ و آلہ پر منطبق ہونے والی کچھ کلی عبارات ہیں، جبکہ قرآن کے بیانات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ تورات اور انجیل میں واضح اور صراحت کے ساتھ، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کے آنے کی خبر دی گئی ہے。[138]
آیت 29 سورت فتح میں بھی محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء) صلی اللہ علیہ و آلہ اور ان کے سچے پیروکاروں کے کچھ اوصاف کے تورات اور انجیل میں ذکر کی بات کی گئی ہے۔ اس آیت کی بنیاد پر، مذکورہ کتابوں میں آیا ہے کہ محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء) صلی اللہ علیہ و آلہ اور ان کے پیروکار دشمنوں کے مقابلے میں سخت اور آپس میں بہت مہربان ہیں۔ نیز وہ ایسی کھیتی کی مانند ہیں جو دن بہ دن رشد، نشوونما اور استحکام پاتی ہے، کسانوں کو حیران کرتی ہے؛ اس معنی میں کہ مسلمان بھی ابتدا میں کم ہیں؛ لیکن ایام گزرنے کے ساتھ، ان کی تعداد اور طاقت میں ایسا اضافہ ہوتا ہے کہ کافران کو غصہ دلاتا اور خوفزدہ کرتا ہے:[139]«مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِینَ مَعَهُ أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاء بَیْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُکَّعا سُجَّدا یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانا سِیمَاهُمْ فِی وُجُوهِهِم مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِکَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْإِنجِیلِ کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَی عَلَی سُوقِهِ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیظَ بِهِمُ الْکُفَّارَ....» [140] یہ کہ تمام مذکورہ اوصاف دونوں کتابوں تورات اور انجیل میں آئے ہیں یا کچھ تورات میں اور کچھ دیگر انجیل میں، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔
مفسرین شیعہ کی ایک تعداد[141] اور سنی [142] نے پہلے مفسرین جیسے قتادہ، ضحاک اور ابن جبیر کی پیروی کرتے ہوئے،[143] لفظ «ذلِکَ» سے پہلے آئے اوصاف کو تورات میں ذکر شدہ، اور کھیتی اور کاشت سے تشبیہ کو انجیل میں آیا ہوا مانتے ہیں۔ طبری اس نقطہ نظر کے اثبات میں کہتے ہیں: اگر «کَزَرع» پچھلے اوصاف کا عطف ہوتا اور تورات سے بھی متعلق ہوتا، تو اسے «واوِ» عطف کے ساتھ آنا چاہیے تھا。[144] اس کے مقابلے میں، شوکانی نے جملہ «کَزَرع» کو مستقل مانا اور مجاہد کی پیروی کرتے ہوئے، معتقد ہیں: تمام مذکورہ خصوصیات آیت کے آغاز سے انجام تک، هم تورات میں اور هم انجیل میں آئی ہیں。[145] ابوسلیمان دمشقی بھی اس یقین رکھتے ہیں کہ کھیتی اور کاشت سے تشبیہ تورات اور انجیل میں ذکر ہوئی ہے。[146]
3. جہاد: دیگر تعلیمات میں سے ایک جو قرآن اس کے تورات اور انجیل میں ذکر ہونے کی بات کرتا ہے، خدا کی راہ میں جنگ اور جہاد اور اس کی جانب سے ان مومنوں کو جو اس راستے میں خدا کے دشمنوں کو قتل کرتے ہیں یا خود قتل ہوتے ہیں، جنت کا حتمی وعدہ ہے: «إِنَّ اللّهَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنفُسَهُمْ وَ أَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللّهِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ وَعْدا عَلَیْهِ حَقّا فِی التَّوْرَاةِ وَالإِنجِیلِ وَالْقُرْآنِ....» [147] اس آیت کے نزول کو «بیعت عقبہ» والوں کی شان میں قرار دیا گیا ہے[148] اور مفسرین کا یقین ہے کہ یہ تمام آسمانی ادیان میں جہاد کے حکم کے وجود کو ظاہر کرتا ہے。[149] مذکورہ تعلیمات کے علاوہ، جن کا قرآن صراحت کے ساتھ انجیل میں ذکر ہونے کی بات کرتا ہے، قرآن میں حضرت مسیح علیہ السلام کی اپنے پیروکاروں کو دی گئی مذکورہ تعلیمات بھی ان پر نازل ہونے والی انجیل کی تعلیمات میں سے ہو سکتی ہیں۔ تقویٰ، یکتا پرستی، ان کی پیروی اور نیز تورات کی تصدیق اور شرک کی نفی ان میں سے ہے۔ [150]
حوالہ جات
- ↑ منیر بعلبکی، المورد قاموس انکلیزی ـ عربی، بیروت، دارالعلم للملایین، 1995، ص 395۔
- ↑ Encyclopedia Of Religion and Ethics, James Hastings (ed), New York, charles Scribners sons, 13 Volumes. V.6, P. 333.
- ↑ Ibid, V. 6, P. 333۔
- ↑ محمّدرضا زیبایینژاد، مسیحیتشناسی مقایسهای، تہران، سروش، 1382، ص 139۔
- ↑ The Catholic Encyclopedia, charles G. Herrermann (ed), New York, The Encyclopedia press, Inc, 1913, 16 Volumes. V. 6, P. 656۔
- ↑ Ibid; Britanica, 2002, Deluxe Edition CD-Rom. V. 5, P. 379۔
- ↑ Encyclopedia Of Islam, prepared by a Number of Leading orientalists, Leiden, 1986, 10 Volumes. V. 3, P. 1205۔
- ↑ آرتور جعفری، واژههای دخیل در قرآن، ترجمہ فریدون بدرہای، توس، 1372، ص 131 ـ 132۔
- ↑ محمّدبن حسن طوسی، التبیان، بہ کوشش احمد حبیب عاملی، بیروت، داراحیاء التراث العربی، ج 3، ص 542 / فضلبن حسن طبرسی، مجمعالبیان، بیروت، دارالمعرفه، آفسٹ؛ تہران، ناصر خسرو، 1406، ج 2، ص 6 / محمّدبن احمد قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، چ پنجم، بیروت، دارالکتبالعلمیه،1417، ج 4، ص 6۔
- ↑ سید محمّدمرتضی حسینی زبیدی حنفی، تاج العروس، بہ کوشش علی شیری، بیروت، دارالفکر، 1414، ج 8، ص 128 / ابن منظور، لسانالعرب، بہ کوشش علی شیری، بیروت، داراحیاء التراث العربی، 1408، ج 14، ص 58 / حسن مصطفوی، التحقیق فی کلماتالقرآن الکریم، تہران، وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامی، 1374، ج 12، ص 39، «نجل»۔
- ↑ ابن اثیر، النهایه فی غریب الحدیث والاثر، بہ کوشش محمود محمّد طناحی و طاهر احمد زاوی، قم، اسماعیلیان، 1367، ج 5، ص 23 / فخرالدین طریحی، مجمعالبحرین، بہ کوشش محمود عادل و احمد حسینی، چ دوم، تہران، نشر فرهنگ اسلامی، 1408، ج 4، ص 274 / ابن منظور، پیشین، ج 4، ص 58۔
- ↑ محمّدبن عمر فخر رازی، التفسیر الکبیر، چ چہارم، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، 1413، ج 7، ص 171 / محمّد رشیدرضا، تفسیر المنار، چ چہارم، قاہرہ، دارالمنار، 1373، ج 3، ص 158 / سید محمود آلوسی، روحالمعانی فی تفسیر القرآنالعظیم، بہ کوشش محمّدحسین عرب، بیروت، دارالفکر، 1417، ج 3، ص 124۔
- ↑ محمودبن عمر زمخشری، الکشّاف، چ دوم، قم، بلاغت، 1415، ج 1، ص 335 / ناصرالدین عبداللّهبن عمر بیضاوی، تفسیر بیضاوی، بیروت، مؤسسة¶الاعلمی للمطبوعات، 1410، ج 1، ص 237 / محمّدبن محمّدرضا قمی مشهدی، کنزالدقائق و بحرالغرائب، بہ کوشش حسین درگاهی، تہران، وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامی، 1411، ص 237۔
- ↑ توماس میشل، کلام مسیحی، ترجمہ حسین توفیقی، قم، مرکز مطالعات و تحقیقات ادیان، 1381، ص 49 ـ 50 / و۔ م۔ میلر، تاریخ کلیسای قدیم در امپراطوری روم و ایران، ترجمہ علی نخستینی، 1931، ص 66۔
- ↑ New Catholic Encyclopedia, Second ed, Thomas Gale, second Edition, 2003, 14 Volume. V. 6, P. 366۔
- ↑ رومیان، 1:1، 9، 16۔
- ↑ Encyclopedia Of Fundamentalism, Brenda E. Brasher (ed), New York, Routledge, 2002, P. 193۔
- ↑ New Catholic Encylopedia, V. 6, P. 367۔
- ↑ مستر ہاکس، قاموس کتاب مقدّس، تہران، اساطیر، 1377، ص 111۔
- ↑ ر۔ ک۔ انجیل عیسی مسیح ترجمہ تفسیری [[عہد نامہ جدید شمارہ ردیف در کتابخانہ مرکز فرهنگ و معارف قرآن Bs 315، 25 ف؛ انجیل شریف یا عہد نامہ جدید، چ سوم، تہران، انجمن کتاب مقدّس، 1981۔ 247. Encyclopedia of Islam, V. 4, p. 1205۔
- ↑ و۔ م۔ میلر، پیشین، ص 66؛
- ↑ و۔ م۔ میلر، پیشین، ص 66؛ The New Catholic Encyclopedia, V. 6, P. 367۔
- ↑ توماس میشل، پیشین، ص 50 ـ 51۔
- ↑ ہمان، ص 43 و 50 / و۔ م۔ میلر، پیشین، ص 70۔
- ↑ ویلیام گلبن و ہنری مرتن، کتاب مقدّس، ترجمہ فاضل خانہمدانی، تہران، اساطیر، 1380 / دوم تیموتائوس، 3:16۔
- ↑ «فناداها من تحتها الاّ تحزنی قد جعل ربّک تحتک سریّا و هزّی الیک بجذع النخلة تساقط علیک رطبا جنیا فکلی و اشربی و قرّی عیناً فاما ترینّ من البشر احدا فقولی انّی نذرت للرحمن صوما فلن اکلم الیوم اِنسیا.» مریم: 24 ـ 26
- ↑ «فاشارت الیه قالوا کیف نکلّم من کان فی المهد صبیا قال انّی عبداللّه آتانی الکتاب و جعلنی نبیّا...» مریم: 29 ـ 33
- ↑ «انّی اخلق لکم من الطین کهیئة الطیر فانفخ فیه فیکون طیرا باذن اللّه...» آلعمران: 49؛ مائده: 110۔
- ↑ Encyclopedia of Islam, Vol. 3, P. 1205-1206۔
- ↑ ول ڈورنٹ، تاریخ تمدّن، ترجمہ احمد آرام، ع. پاشائی اور امیرحسین آریان پور، چھٹی اشاعت، تہران، علمی و فرهنگی، 1378، ج 3، ص 651 / سید جلال الدین آشتیانی، تحقیقی در دین مسیح، تہران، نگارش، 1368، ص 170 ـ 174؛ Carl Lofmark, What is the Bible, 1990, P. 66.
- ↑ فاضل خان ہمدانی، پیشینہ / انجیل متی، 26:13 / انجیل مرقس، 14:9 ـ 10.
- ↑ و۔ ایم۔ میلر، پیشینہ، ص 66 ـ 69.
- ↑ عبدالرحیم سلیمانی اردستانی، مسیحیت، قم، زلال کوثر، 1381، ص 67 / موریس بوکائے، القرآن و التوراة والانجیل و العلم، ترجمہ قسم الترجمہ بالدار، القاہرہ، مکتبہ مدبولی، 1996، ص 107.
- ↑ جون، او۔ گریدی، مسیحیت و بدعتها، ترجمہ عبدالرحیم سلیمانی اردستانی، قم، طہ، 1377، ص 46 ـ 47 / تھامس مشیل، پیشینہ، ص 54.
- ↑ سید جلال الدین آشتیانی، پیشینہ، ص 41 ـ 42 / قس۔ موریس بوکائے، پیشینہ، ص 77.
- ↑ The International Standard Bible Encyclopedia, Geoffrey W. Bromiley, (ed), WM. B. Eerdmans publishing company, U.S.A. , 1988, 4 Volumes, Vol. 2, P. ¶529; Encylopedia Of Fundamentalism, P. 193; New Catholic Encylopedia, Vol, 6, P. 367.
- ↑ International Standard Bible Encyclopedia, V, I, P. 183.
- ↑ Canon.
- ↑ تھامس مشیل، پیشینہ، ص 42.
- ↑ Carl Lofmark, op.cit, P. 27; The International Standard Bible Encyclopedia, V. 1, P. 601-606.
- ↑ The Catholic Encyclopedia. V. 6. P. 656. The New International Dictionary of Bible. P. 105.
- ↑ عبدالرحیم سلیمانی، «عہد نامہ جدید» تاریخ نگارش و نویسندگان، فصلنامہ ہفت آسمان، قم، مرکز مطالعات و تحقیقات ادیان و مذاہب، ش 3 ـ 4، (1378)، ¶ص 73،74، 79 و 81.
- ↑ موریس بوکائے، پیشینہ، ص 103 ـ 105 / محمدجواد شکور، خلاصه ادیان، دوسری اشاعت، تہران، شرق، 1362، ص 168.
- ↑ و۔ ایم۔ میلر، پیشینہ، ص 67 / تھامس مشیل، پیشینہ، ص 28 / محمدعلی برو العاملی، الکتاب المقدّس فی المیزان، بیروت، الدارالاسلامیة، 1413، ص 238.
- ↑ ول ڈورنٹ، پیشینہ، ج 3، ص 655 / سید جلال الدین آشتیانی، پیشینہ، ص 57 ـ 70 / موریس بوکائے، پیشینہ، ص 99 ـ 101.
- ↑ مریل سی بن، معرفی عهد جدید، ترجمہ طاطوس میکائیلیان، تہران، حیات ابدی، 1362، ص 171 ـ 173؛ The Encyclopedia of Religion, V, P. 208.
- ↑ موریس بوکائے، پیشینہ، ص 86 ـ 90.
- ↑ جماعة من اللاهوتیین، تفسیر الکتاب المقدّس، بیروت، منشورات النفیر، 1988 م، ج 5، ص 90 ـ 91 / القس فہیم عزیز، المدخل الی العهدالجدید، قاہرہ، ¶دارالثقافہ المسیحیہ، 1980 م، ص 21 / موریس بوکائے، پیشینہ، ص 88.
- ↑ القس فہیم عزیز، پیشینہ، ص 247؛ Cross, F.L. , The Oxford Dictionary of the Christian Church, London, Oxford University Press, 1957, P. 859.
- ↑ القس فہیم عزیز، پیشینہ، ص 221 / جماعہ من اللاهوتیین، پیشینہ، ج 5، ص 91.
- ↑ مسٹر ہاکس، پیشینہ، ص 782 / محمدعلی برو العاملی، پیشینہ، ص 244 ـ 245. The Oxford Dictionary of The Christian Church, p.359.
- ↑ القس فہیم عزیز، پیشینہ، ص 242 ـ 247؛ The Encyclopedia of Religion, V. 9. P. 285.
- ↑ القس فہیم عزیز، پیشینہ، ص 245؛ Achtemeier, Paul J. , Harper,s Bible Dictionary, Harper San Francisco, 1985, P. 613.
- ↑ مریل سی بن، پیشینہ، ص 159.
- ↑ ول ڈورنٹ، پیشینہ، ج 3، ص 655 / موریس بوکائے، پیشینہ، ص 90 ـ 92.
- ↑ ول ڈورنٹ، پیشینہ، ج 3، ص 655 / مسٹر ہاکس، پیشینہ، ص 112 / عبدالرحیم سلیمانی اردستانی، پیشینہ، ص 67.
- ↑ The Encyclopedia of Religion, V. 9. P. 51; Harper,s Bible Dictionary. p. 583.
- ↑ موریس بوکائے، پیشینہ، ص 92.
- ↑ Harper,s Bible Dictionary, P. 583.
- ↑ القس فہیم عزیز، پیشینہ، ص 560 ـ 561 / مریل سی بن، پیشینہ، ص 209؛ The new International Dictionary of the Bible, P. 499, 534.
- ↑ ول ڈورنٹ، پیشینہ، ج 3، ص 696 / موریس بوکائے، پیشینہ، ص 93 ـ 97.
- ↑ Britannica, V. 7, P. 69.
- ↑ Neal Robinson, Jesus in the Quran, The Historical Jesus, P. 8.
- ↑ New Catholic Encyclopedia, V. 4, P. 731.
- ↑ آل عمران: 3، 48، 65؛ مائدہ: 46،47، 66، 68، 110؛ اعراف: 157؛ توبہ: 111؛ فتح: 29؛ حدید: 27
- ↑ آلعمران: 3؛ فاطر: 31؛ احقاف: 30
- ↑ انعام: 92؛ یونس: 37؛ یوسف: 111؛ سبأ: 31
- ↑ آل عمران: 64 ـ 65؛ نساء: 171
- ↑ بقرہ: 146؛ نساء: 47، 13؛ مائدہ: 5
- ↑ آل عمران: 3؛ مائدہ: 46، 110؛ حدید: 27
- ↑ مائدہ: 46
- ↑ مائدہ: 48؛ یونس: 37
- ↑ اعراف: 157؛ فتح: 29
- ↑ مائدہ: 14 ـ 15
- ↑ محمد بن جریر طبری، جامع البیان، بہ کوشش صدقی جمیل العطار، بیروت، دارالفکر، 1415، ج 6، ص 358 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 3، ص 313 / سید محمد حسین طباطبائی، المیزان، چ سوم، بیروت، اعلمی، افست، قم، اسلامی، 1393 ق، ج 3، ص 198.
- ↑ حدید: 25 و 27
- ↑ مائدہ: 46، 110
- ↑ «قالانی عبداللّه آتانی الکتاب و جعلنی نبیا。」 مریم: 30
- ↑ محمد رشید رضا، ایضاً، ج 3، ص 159 / حسن مصطفوی، ایضاً، ج 12، ص 40 / محمد صادقی، الفرقان، چ دوم، تہران، فرهنگ اسلامی، 1365، ج 3، ص 12.
- ↑ محمد رشید رضا، ایضاً، ج 3، ص 159 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 3، ص 308 ـ 309 / محمد صادقی، ایضاً، ج 3، ص 12.
- ↑ سید محمود آلوسی، ایضاً، ج 15، ج 28، ص 28 / محمد رشید رضا، ایضاً، ج 3، ص 159 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 3، ص 189.
- ↑ حسن مصطفوی، ایضاً، ج 12، ص 40 ـ 41.
- ↑ محمد رشید رضا، ایضاً، ج 3، ص 159.
- ↑ آل عمران: 49؛ مائدہ: 66،68 و 110؛ توبہ: 111
- ↑ آل عمران: 3 ـ 4 نیز مائدہ: 46 ـ 48
- ↑ محمد بن حسن طوسی، جوامع الجامع، بیروت، دارالاضواء، 1405، ج 1، ص 263 / مولی محسن فیض کاشانی، تفسیر الصافی، بہ کوشش حسین اعلمی، چ دوم، بیروت، موسسہ اعلمی، 1402، ج 1، ص 315 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 3، ص 7.
- ↑ محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 7، ص 169 / محمد بن احمد قرطبی، ایضاً، ج 4، ص 5 / محمد رشید رضا، ایضاً، ج 3، ص 159.
- ↑ محمود رامیار، تاریخ قرآن، چ دوم، تہران، امیرکبیر، 1362، ص 190 / محمد علی مہدوی راد، آفاق تفسیر، تہران، ہستی نما، 1383، ص 334 ـ 340.
- ↑ محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 3، ج 3، ص 373.
- ↑ مائدہ: 46
- ↑ آلعمران: 48؛ مائدہ: 110
- ↑ سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 3، ص 201.
- ↑ سید محمود آلوسی، ایضاً، ج 3، ج 3، ص 273 / محمد رشید رضا، ایضاً، ج 3، ص 312 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 3، ص 201.
- ↑ فاضل خان ہمدانی، ایضاً، متی 5: 17 ـ 18.
- ↑ «اذ قال اللّه یا عیسیبن مریم اذکر نعمتی علیک... و اذ علّمتک الکتاب و الحکمة و التوراة والانجیل...」 مائدہ: 110؛ آلعمران: 48.
- ↑ آلعمران: 48؛ مائدہ: 110
- ↑ «و علی الذین هادوا حرّمنا کلّ ذی ذفر ومن البقر و الغنم حرّمنا علیهم شحومهما الاّ ما حملت ظهورهما او الحوایا او ما اختلط بعظم ذالک جزیناهم ببغیهم و انّا لصادقون。」 انعام: 146
- ↑ آلعمران: 50
- ↑ نساء: 160؛ انعام: 146
- ↑ مائدہ: 48
- ↑ محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 1، ج 1، ص 615؛ ج 3، ج 3، ص 226؛ ج 4، ج 6، ص 361 / محمد بن حسن طوسی، ایضاً، ج 8، ص 429 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 2، ص 696 ـ 697؛ ج 3، ص 313؛ ج 8، ص 637.
- ↑ محمد تقی مصباح، قرآن شناسی، بہ کوشش محمود رجبی، قم، انتشارات اسلامی، 1376، ج 1، ص 182 ـ 183.
- ↑ یونس: 37 نیز یوسف: 111؛ بقرہ: 97؛ آلعمران: 3؛ مائدہ: 48؛ فاطر: 31؛ احقاف: 30
- ↑ محمد بن حسن طوسی، ایضاً، ج 3، ص 542 / فضلبن حسن طبرسی، ایضاً، ج 3، ص 313 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 5، ص 349.
- ↑ محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 4، ج 6، ص 360 ـ 363 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 3، ص 313 / اسماعیلبن کثیر دمشقی، تفسیرالقرآن العظیم، بہ کوشش یوسف مرعشی، چ سوم، بیروت، دارالمعرفہ، 1409، ج 2، ص 68.
- ↑ محمد رشید رضا، ایضاً، ج 6، ص 410 ـ 411 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 5، ص 349.
- ↑ نساء: 47 نیز بقرہ: 41،91
- ↑ «و من الذین قالوا انّا نصاری اخذنا میثاقهم فنسوا حظّا ممّا ذکروا فاغرینا بینهم العداوة والبغضاء الی یوم القیامة。」 مائدہ: 14
- ↑ نساء: 157، 171؛ مائدہ: 17، 72 ـ 73، 116 ـ 117؛ توبہ: 30
- ↑ سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 6، ص 37 ـ 38.
- ↑ محمد بن عمر فخررازی، ایضاً، ج 12، ص 46 / تفسیر بیضاوی، ج 1، ص 444 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 6، ص 37 ـ 38.
- ↑ ابوجعفر نحّاس، معانی القرآن، بہ کوشش الصابونی، عربستان، جامعة امّالقری، 1409، ج 2، ص 337 / محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 12، ص 46/ اسماعیلبنکثیردمشقی، ایضاً، ج 1، ص 169.
- ↑ محمد بن حسن طوسی، ایضاً، ج 3، ص 585 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 3، ص 341 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 6، ص 37 ـ 38.
- ↑ مائدہ: 47
- ↑ مائدہ: 46؛ آلعمران: 3 ـ 4
- ↑ محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 3، ج 3، ص 226 / محمد عمر فخررازی، ایضاً، ج 12، ص 9 / محمد رشید رضا، ایضاً، ج 6، ص 401.
- ↑ محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 12، ص 9.
- ↑ محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 3، ج 3، ص 226 / محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 12، ص 9.
- ↑ محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 4، ج 6، ص 358 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 3، ص 314.
- ↑ «ذلک الکتاب لا ریب فیه هدی للمتقین。」 بقرہ: 2
- ↑ محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 12، ص 9.
- ↑ محمد رشید رضا، ایضاً، ج 6، ص 401.
- ↑ محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 4، ج 6، ص 358.
- ↑ فضلبن حسن طبرسی، ایضاً، ج 3، ص 311 / محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 12، ص 9.
- ↑ اعراف: 157
- ↑ محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 6، ج 9، ص 112 ـ 113 / اسماعیلبن کثیر دمشقی، ایضاً، ج 2، ص 262؛ ج 3، ص 427 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 8، ص 280.
- ↑ سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 8، ص 280.
- ↑ ایضاً، ج 19، ص 253.
- ↑ محمد بن حسن طوسی، ایضاً، ج 4، ص 559 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 4، ص 749 / محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 29، ص 313 ـ 314.
- ↑ عبدالرحیم سلیمانی، «قرآن کریم و بشارتهای پیامبران»، فصلنامہ ہفت آسمان، ش 16 زمستان 1381، ص 51 ـ 61.
- ↑ سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 7، ص 41.
- ↑ بقرہ: 146
- ↑ محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 17، ص 94 / سید ابوالقاسم خوئی، البیان، چ ہشتم، انوارالہدی، 1401، ص 122 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 19، ص 253.
- ↑ قصص: 52 ـ 53
- ↑ یوحنا، 14:15 ـ 17 و 25 ـ 26؛ 15:26 ـ 27؛ 16: 5 ـ 15.
- ↑ فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 4، ص 749 / محمد تقی مصباح، ایضاً، ج 1، ص 188ـ189 / محمد صادقی، ایضاً، ج 26ـ27، ص 306.
- ↑ محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 29، ص 313 / محمد رشید رضا، ایضاً، ج 9، ص 291 / سید محمود آلوسی، ایضاً، ج 15، ج 28، ص 128.
- ↑ محمد تقی مصباح، ایضاً، ص 188.
- ↑ محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 13، ج 25، ص 145 / محمد بن احمد قرطبی، ایضاً، ج 16، ص 292.
- ↑ فتح: 29
- ↑ محمد بن حسن طوسی، ایضاً، ج 9، ص 337 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 9، ص 192.
- ↑ محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 13، ج 25، ص 145 ـ 146/ اسماعیلبن کثیر دمشقی، ایضاً، ج 4، ص 219 / ابوجعفر نحاس، ایضاً، ج 6، ص 515.
- ↑ محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 13، ج 25، ص 145 / عبدالرزاق صنعانی، تفسیر صنعانی، بہ کوشش محمود محمد عبدہ، بیروت، دارالکتب العلمیہ، 1419، ج 3، ص 228 / جمالالدین جوزی، زاد المسیر فی علم التفسیر، چ چہارم، بیروت، المکتب الاسلامی، 1407، ج 7، ص 449.
- ↑ محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 13، ج 25، ص 146.
- ↑ محمد بن علی شوکانی، فتح القدیر، بیروت، دارالمعرفہ، ج 5، ص 56.
- ↑ جمالالدین جوزی، ایضاً، ج 7، ص 448/ ج 3، ص 503.
- ↑ توبہ: 111
- ↑ جمالالدین جوزی، ایضاً، ج 7، ص 448/ ج 3، ص 503.
- ↑ محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 16، ص 201 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 5، ص 113 ـ 114 / سعیدبن ہبہ اللہ راوندی، فقه القرآن، بہ کوشش سیداحمد حسینی، چ دوم، قم، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، 1405، ج 1، ص 349.
- ↑ آل عمران: 50 ـ 51؛ مائدہ: 72؛ توبہ: 31