مندرجات کا رخ کریں

"نوری المالکی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 19: سطر 19:
}}
}}


'''نوری  المالکی،''' ایک عرب شیعہ سیاستدان اور عراق کے سابق وزیرِاعظم ہیں، جو اس وقت ملک عراق میں حزبِ دعوتِ اسلامی کے رہنما ہیں۔ وہ عراق کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور ماضی میں ملک کے وزیرِاعظم کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ وزارتِ عظمیٰ کے دوران انہوں نے ملکی سیاست، سلامتی اور حکومتی امور میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس وقت وہ عراق میں حزبِ دعوتِ اسلامی کے رہنما کی حیثیت سے سرگرم ہیں اور ملکی سیاسی معاملات میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
'''نوری  المالکی،''' ایک عرب [[شیعہ]] سیاستدان اور [[عراق]] کے سابق وزیرِاعظم ہیں، جو اس وقت ملک عراق میں حزبِ دعوتِ اسلامی کے رہنما ہیں۔ وہ عراق کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور ماضی میں ملک کے وزیرِاعظم کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ وزارتِ عظمیٰ کے دوران انہوں نے ملکی سیاست، سلامتی اور حکومتی امور میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس وقت وہ عراق میں حزبِ دعوتِ اسلامی کے رہنما کی حیثیت سے سرگرم ہیں اور ملکی سیاسی معاملات میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔


== سوانح حیات ==
== سوانح حیات ==
وہ سن 1950ء میں عراق کے صوبہ کربلا کے شہر طویریج میں پیدا ہوئے۔
وہ سن 1950ء میں [[عراق]] کے صوبہ [[کربلا]] کے شہر طویریج میں پیدا ہوئے۔


== تعلیم ==
== تعلیم ==


انہوں نے اپنی گریجویشن (لائسنس) بغداد یونیورسٹی کے اصول الدین سے حاصل کی، اور بعد ازاں عربی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔ نوری المالکی نے صدام حسین کے دور حکومت میں عراق کے کردستان علاقے میں پناہ لی، جو اس وقت وہ علاقے تھے جہاں بعث پارٹی کی فوج بعض حصوں سے پیچھے ہٹ چکی تھی۔ انہوں نے لمبا عرصہ وہاں گزارا، خاص طور پر اربیل شہر میں قیام کیا۔ اسی دوران انہوں نے شمالی عراق میں واقع اربیل کے صلاح الدین یونیورسٹی سے عربی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی سیاسی زندگی اور سرگرمیوں پر مشتمل کتاب "تجربہ و سیاست" بھی تصنیف کی گئی ہے، جو حزبِ دعوتِ عراق کے سیکریٹری جنرل اور عراق کے سابق وزیرِاعظم کی حیثیت سے ان کے کردار اور کاموں پر روشنی ڈالتی ہے۔
انہوں نے اپنی گریجویشن (لائسنس) بغداد یونیورسٹی کے اصول الدین سے حاصل کی، اور بعد ازاں عربی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔ نوری المالکی نے صدام حسین کے دور حکومت میں [[عراق]] کے کردستان علاقے میں پناہ لی، جو اس وقت وہ علاقے تھے جہاں بعث پارٹی کی فوج بعض حصوں سے پیچھے ہٹ چکی تھی۔ انہوں نے لمبا عرصہ وہاں گزارا، خاص طور پر اربیل شہر میں قیام کیا۔ اسی دوران انہوں نے شمالی [[عراق]] میں واقع اربیل کے صلاح الدین یونیورسٹی سے عربی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔<ref>[http://rudaw.net/english/interview/19072014 مالکی به دنبال تایید اعراب]</ref> ان کی سیاسی زندگی اور سرگرمیوں پر مشتمل کتاب "تجربہ و سیاست" بھی تصنیف کی گئی ہے، جو حزبِ دعوتِ عراق کے سیکریٹری جنرل اور [[عراق]] کے سابق وزیرِاعظم کی حیثیت سے ان کے کردار اور کاموں پر روشنی ڈالتی ہے۔<ref>[http://qodsna.com/fa/322130/%D8%AA%D8%AC%D8%B1%D8%A8%D9%87-%D9%88-%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA-%D8%9B-%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8%DB%8C-%D8%A8%D8%A7-%D9%85%D9%88%D8%B6%D9%88%D8%B9-%D9%86%D9%88%D8%B1%DB%8C-%D9%85%D8%A7%D9%84%DA%A9%DB%8C خبرگزاری بین‌المللی قدس]</ref>




== سیاسی سرگرمیاں ==
== سیاسی سرگرمیاں ==
وہ سن 1970‏ء میں حزبِ دعوت میں شامل ہوئے۔ 1979ء میں عراقی حکومت نے حزبِ دعوتِ اسلامی کے تمام اراکین کو سزائے موت دینے کا حکم جاری کیا، جس کے بعد نوری المالکی بھی پارٹی کے بہت سے دیگر افراد کے ساتھ عراق سے فرار ہو گئے۔ انہوں نے اس کے بعد تقریباً سولہ سال تک شام میں زندگی گزاری۔
وہ سن 1970‏ء میں حزبِ دعوت میں شامل ہوئے۔ 1979ء میں عراقی حکومت نے حزبِ دعوتِ اسلامی کے تمام اراکین کو سزائے موت دینے کا حکم جاری کیا، جس کے بعد نوری المالکی بھی پارٹی کے بہت سے دیگر افراد کے ساتھ عراق سے فرار ہو گئے۔ انہوں نے اس کے بعد تقریباً سولہ سال تک شام میں زندگی گزاری۔<ref>[http://www.bbc.co.uk/persian/world/2013/02/130209_u14_maliki_asad.shtml سایت بی بی سی فارسی]</ref>


== وزارت عظمی ==
== وزارت عظمی ==
نوری المالکی ۲۰۰۶ء میں عراق کے وزیرِاعظم کے منصب پر فائز ہوئے، اس وقت ملک سخت فرقہ وارانہ کشیدگی، امریکی فوجی مداخلت اور داخلی بدامنی کا شکار تھا۔ ان کے دورِ حکومت میں سیکیورٹی صورتِ حال کو بہتر بنانے، القاعدہ اور دیگر مسلح گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجی اور سیاسی اقدامات کیے گئے۔   
نوری المالکی ۲۰۰۶ء میں [[عراق]] کے وزیرِاعظم کے منصب پر فائز ہوئے، اس وقت ملک سخت فرقہ وارانہ کشیدگی، [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکی]] فوجی مداخلت اور داخلی بدامنی کا شکار تھا۔ ان کے دورِ حکومت میں سیکیورٹی صورتِ حال کو بہتر بنانے، القاعدہ اور دیگر مسلح گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجی اور سیاسی اقدامات کیے گئے۔   


مالکی نے شیعہ اکثریتی حکومت کو مستحکم کیا، مگر ان پر یہ تنقید بھی کی گئی کہ انہوں نے مخالف سیاسی جماعات، خاص طور پر سنی رہنماؤں اور جماعتوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا، جس سے فرقہ وارانہ تقسیم میں اضافہ ہوا۔ ۲۰۱۴ء میں داعش کے عروج اور کئی اہم شہروں کے سقوط کے بعد ان پر دباؤ بڑھا اور بالآخر انہیں وزارتِ عظمیٰ چھوڑنی پڑی۔   
مالکی نے [[شیعہ]] اکثریتی حکومت کو مستحکم کیا، مگر ان پر یہ تنقید بھی کی گئی کہ انہوں نے مخالف سیاسی جماعات، خاص طور پر سنی رہنماؤں اور جماعتوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا، جس سے فرقہ وارانہ تقسیم میں اضافہ ہوا۔ ۲۰۱۴ء میں داعش کے عروج اور کئی اہم شہروں کے سقوط کے بعد ان پر دباؤ بڑھا اور بالآخر انہیں وزارتِ عظمیٰ چھوڑنی پڑی۔   




== نظریات ==
== نظریات ==
=== تقریب اور وحدت اسلامی ===
=== تقریب اور [[وحدت اسلامی]] ===
عراق کے سابق وزیرِاعظم نے ایک ویڈیو پیغام میں ایک  کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تاکید کی: میں اسلامی جمہوریہ ایران کا نہایت احترام کے ساتھ شکریہ اور قدردانی کرتا ہوں، کیونکہ یہ ملک ہر سال حضرت محمد مصطفیٰ کی ولادت کی سالگرہ کے موقع پر ہمیں یکجا ہونے، امتِ اسلام کے مسائل پر بحث و غور کرنے اور مذاہبِ اسلامی کے درمیان تقریب و قربت کے اسباب و وسائل کی تلاش میں سنجیدگی سے کوشش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، تاکہ یہ امت اپنے سامنے موجود چیلنجوں کے مقابلے میں متحد ہو سکے۔
[[عراق]] کے سابق وزیرِاعظم نے ایک ویڈیو پیغام میں ایک  کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تاکید کی: میں [[ایران|اسلامی جمہوریہ ایران]] کا نہایت احترام کے ساتھ شکریہ اور قدردانی کرتا ہوں، کیونکہ یہ ملک ہر سال [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|حضرت محمد مصطفیٰ]] (ص) کی ولادت کی سالگرہ کے موقع پر ہمیں یکجا ہونے، امتِ [[اسلام]] کے مسائل پر بحث و غور کرنے اور مذاہبِ اسلامی کے درمیان [[تقریب]] و قربت کے اسباب و وسائل کی تلاش میں سنجیدگی سے کوشش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، تاکہ یہ امت اپنے سامنے موجود چیلنجوں کے مقابلے میں متحد ہو سکے۔


انہوں نے مزید کہا: قرآنِ کریم کی آیتِ مبارکہ «اشِدّاءُ عَلَی الکُفّارِ رُحَماءُ بَینَهُم» [الفتح: 29] میں مومنین کے بارے میں صفتِ «اشداء» کو «رحماء» پر مقدم رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ بالکل واضح ہے؛ کیونکہ کافروں کی ساری کوشش کل سے آج تک یہی رہی ہے کہ امتِ اسلامی کے منصوبوں کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کریں، تاکہ ان کی وحدت کو تفرقے سے بدل دیں اور ان کی قوت کو کمزوری میں تبدیل کر دیں۔
انہوں نے مزید کہا: [[قرآن|قرآنِ کریم]] کی آیتِ مبارکہ «اشِدّاءُ عَلَی الکُفّارِ رُحَماءُ بَینَهُم» [الفتح: 29] میں مومنین کے بارے میں صفتِ «اشداء» کو «رحماء» پر مقدم رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ بالکل واضح ہے؛ کیونکہ کافروں کی ساری کوشش کل سے آج تک یہی رہی ہے کہ امتِ اسلامی کے منصوبوں کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کریں، تاکہ ان کی وحدت کو تفرقے سے بدل دیں اور ان کی قوت کو کمزوری میں تبدیل کر دیں۔


=== فرانس کے صدر کی رسول اکرم(ص) کی شان میں گستاخی ===
=== فرانس کے صدر کی رسول اکرم(ص) کی شان میں گستاخی ===


نوری المالکی نے تاکید کرتے ہوئے کہا: اس سال یہ اجلاس ایسے حالات میں منعقد ہو رہا ہے کہ ہمارے سامنے موجود چیلنجز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ فرانس کے صدر ان دنوں رسولِ اکرم اسلام کی توہین کے ذریعے اپنے لیے سیاسی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ آزادیٔ اظہار، جمہوریت اور اس نام نہاد مہذب فرانسیسی انقلاب کے جھوٹے دعووں کو بار بار دہراتے ہیں، جو درحقیقت داعش اور انتہاپسندوں کے اخلاق اور طرزِ عمل پر طنز کے مترادف ہے۔
نوری المالکی نے تاکید کرتے ہوئے کہا: اس سال یہ اجلاس ایسے حالات میں منعقد ہو رہا ہے کہ ہمارے سامنے موجود چیلنجز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ فرانس کے صدر ان دنوں [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسولِ اکرم اسلام]] (ص) کی توہین کے ذریعے اپنے لیے سیاسی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ آزادیٔ اظہار، جمہوریت اور اس نام نہاد مہذب فرانسیسی انقلاب کے جھوٹے دعووں کو بار بار دہراتے ہیں، جو درحقیقت داعش اور انتہاپسندوں کے اخلاق اور طرزِ عمل پر طنز کے مترادف ہے۔


انہوں نے مزید کہا: ہم فرانس کے صدر کے ان بیانات کی سخت مذمت کرتے ہیں اور ان تمام اقوام اور حکومتوں سے، جن کے دلوں میں اسلام کی کچھ رمق باقی ہے، اپیل کرتے ہیں کہ وہ امتِ اسلام کے جذبات کی اس تضحیک اور توہین کے جواب میں واضح سیاسی، ابلاغی اور عملی مؤقف اختیار کریں۔
انہوں نے مزید کہا: ہم فرانس کے صدر کے ان بیانات کی سخت مذمت کرتے ہیں اور ان تمام اقوام اور حکومتوں سے، جن کے دلوں میں [[اسلام]] کی کچھ رمق باقی ہے، اپیل کرتے ہیں کہ وہ امتِ اسلام کے جذبات کی اس تضحیک اور توہین کے جواب میں واضح سیاسی، ابلاغی اور عملی مؤقف اختیار کریں۔


=== خطرناک اور ذلت آمیز سازش ===
=== خطرناک اور ذلت آمیز سازش ===


عراق کے سابق وزیرِاعظم نے اعتراف کرتے ہوئے کہا: ایک اور نہایت خطرناک واقعہ، جو ایک ذلت آمیز عمل شمار ہوتا ہے، صہیونی حکومت کے ساتھ سازش اور تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔ اگرچہ ان ممالک اور صہیونی حکومت کے درمیان پہلے ہی خفیہ یا بالواسطہ روابط موجود تھے، لیکن امتِ اسلام کے درمیان کمزور یکجہتی نے انہیں اس بات کی جرات دی کہ وہ اس سازش اور تعلقات کی بحالی کو علانیہ کریں، تاکہ اس کے بعد سرکاری دوروں اور ملاقاتوں کا آغاز ہو اور اقتصادی و سکیورٹی معاہدوں پر دستخط کیے جائیں۔
[[عراق]] کے سابق وزیرِاعظم نے اعتراف کرتے ہوئے کہا: ایک اور نہایت خطرناک واقعہ، جو ایک ذلت آمیز عمل شمار ہوتا ہے، صہیونی حکومت کے ساتھ سازش اور تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔ اگرچہ ان ممالک اور صہیونی حکومت کے درمیان پہلے ہی خفیہ یا بالواسطہ روابط موجود تھے، لیکن امتِ اسلام کے درمیان کمزور یکجہتی نے انہیں اس بات کی جرات دی کہ وہ اس سازش اور تعلقات کی بحالی کو علانیہ کریں، تاکہ اس کے بعد سرکاری دوروں اور ملاقاتوں کا آغاز ہو اور اقتصادی و سکیورٹی معاہدوں پر دستخط کیے جائیں۔


انہوں نے مزید کہا: یہ ممالک صہیونی حکومت کے لیے راستہ ہموار کریں گے تاکہ وہ امتِ اسلام کے باہم جڑے ہوئے ڈھانچے میں، اقتصادی، سیاسی، سماجی اور سکیورٹی میدانوں میں پہلے سے زیادہ نفوذ اور اثر و رسوخ حاصل کر سکے۔ اس ذلت آمیز پالیسی اور نفوذ کے اس عمل میں صہیونی حکومت کے ساتھ ساتھ بعض بڑی طاقتیں بھی شامل ہیں، جن کا سب سے بڑا خوف امتِ اسلام کا اتحاد، محورِ مقاومت میں جہادی رجحانات کا ابھرنا اور ان کے منصوبوں کے سامنے رکاوٹ بننا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: یہ ممالک صہیونی حکومت کے لیے راستہ ہموار کریں گے تاکہ وہ امتِ اسلام کے باہم جڑے ہوئے ڈھانچے میں، اقتصادی، سیاسی، سماجی اور سکیورٹی میدانوں میں پہلے سے زیادہ نفوذ اور اثر و رسوخ حاصل کر سکے۔ اس ذلت آمیز پالیسی اور نفوذ کے اس عمل میں صہیونی حکومت کے ساتھ ساتھ بعض بڑی طاقتیں بھی شامل ہیں، جن کا سب سے بڑا خوف امتِ اسلام کا اتحاد، محورِ مقاومت میں جہادی رجحانات کا ابھرنا اور ان کے منصوبوں کے سامنے رکاوٹ بننا ہے۔
سطر 58: سطر 58:
=== مسلمانوں کے لیے انتباہ ===
=== مسلمانوں کے لیے انتباہ ===


نوری المالکی نے مسلمانوں، علم و فکر کی شخصیات، اور رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے یاد دلایا: دشمن آپ کا انتظار نہیں کریں گے کہ آپ اپنے بحرانوں کو حل کریں؛ بلکہ وہ ان بحرانوں میں اضافہ کریں گے۔ امتِ اسلام کی عزت و وقار اور رسولِ اکرم کی شان کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے، لہٰذا امت کی طاقت اور اتحاد کو دوبارہ زندہ کرنے کی طرف گامزن ہوں، اور ان فرقہ پرست عناصر کی مخالفت کریں جنہیں شرپسند ہاتھوں کی رہنمائی حاصل ہے۔
نوری المالکی نے [[مسلمان|مسلمانوں]]، علم و فکر کی شخصیات، اور رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے یاد دلایا: دشمن آپ کا انتظار نہیں کریں گے کہ آپ اپنے بحرانوں کو حل کریں؛ بلکہ وہ ان بحرانوں میں اضافہ کریں گے۔ امتِ اسلام کی عزت و وقار اور [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسولِ اکرم]] (ص) کی شان کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے، لہٰذا امت کی طاقت اور اتحاد کو دوبارہ زندہ کرنے کی طرف گامزن ہوں، اور ان فرقہ پرست عناصر کی مخالفت کریں جنہیں شرپسند ہاتھوں کی رہنمائی حاصل ہے۔


انہوں نے مزید کہا: محورِ مقاومت کے مردوں، قوموں، اور اس کے ممالک کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے عزم کریں، جن میں اسلامی جمہوریہ ایران صفِ اول میں ہے، اور امتِ اسلام کی موجودگی کے دائرے میں تمام مزاحمتی تحریکوں اور جماعتوں کے ساتھ تعاون کریں، بغیر اس کے کہ مذاہب یا اہلِ تسنن و شیعیان کے درمیان کوئی فرق رکھا جائے۔ ہم سب ایک مشترکہ ذمہ داری کے حامل ہیں۔ اگر ہم نے امت اور رسولِ مکرم کے بارے میں اپنے فرض میں کوتاہی کی، تو اللہ ہمیں معاف نہیں کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا: محورِ مقاومت کے مردوں، قوموں، اور اس کے ممالک کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے عزم کریں، جن میں اسلامی جمہوریہ ایران صفِ اول میں ہے، اور امتِ اسلام کی موجودگی کے دائرے میں تمام مزاحمتی تحریکوں اور جماعتوں کے ساتھ تعاون کریں، بغیر اس کے کہ مذاہب یا اہلِ تسنن و شیعیان کے درمیان کوئی فرق رکھا جائے۔ ہم سب ایک مشترکہ ذمہ داری کے حامل ہیں۔ اگر ہم نے امت اور رسولِ مکرم (ص) کے بارے میں اپنے فرض میں کوتاہی کی، تو اللہ ہمیں معاف نہیں کرے گا۔




== متعلقہ تلاشیں ==
== متعلقہ تلاشیں ==
 
* [[عراق]]
* [[شیعہ]]
* [[مقاومتی بلاک]]





نسخہ بمطابق 13:54، 26 جنوری 2026ء

نوری المالکی
پورا نامنوری المالکی
دوسرے نامنوری کامل محمد حسن المالکی
ذاتی معلومات
پیدائش1328 ش، 1950 ء، 1368 ق
پیدائش کی جگہکربلا، عراق
مذہباسلام، شیعہ
اثرات
  • تجربه اور سیاست
مناصب
  • سیاست دان، وزیر اعظم

نوری المالکی، ایک عرب شیعہ سیاستدان اور عراق کے سابق وزیرِاعظم ہیں، جو اس وقت ملک عراق میں حزبِ دعوتِ اسلامی کے رہنما ہیں۔ وہ عراق کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور ماضی میں ملک کے وزیرِاعظم کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ وزارتِ عظمیٰ کے دوران انہوں نے ملکی سیاست، سلامتی اور حکومتی امور میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس وقت وہ عراق میں حزبِ دعوتِ اسلامی کے رہنما کی حیثیت سے سرگرم ہیں اور ملکی سیاسی معاملات میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

سوانح حیات

وہ سن 1950ء میں عراق کے صوبہ کربلا کے شہر طویریج میں پیدا ہوئے۔

تعلیم

انہوں نے اپنی گریجویشن (لائسنس) بغداد یونیورسٹی کے اصول الدین سے حاصل کی، اور بعد ازاں عربی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔ نوری المالکی نے صدام حسین کے دور حکومت میں عراق کے کردستان علاقے میں پناہ لی، جو اس وقت وہ علاقے تھے جہاں بعث پارٹی کی فوج بعض حصوں سے پیچھے ہٹ چکی تھی۔ انہوں نے لمبا عرصہ وہاں گزارا، خاص طور پر اربیل شہر میں قیام کیا۔ اسی دوران انہوں نے شمالی عراق میں واقع اربیل کے صلاح الدین یونیورسٹی سے عربی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔[1] ان کی سیاسی زندگی اور سرگرمیوں پر مشتمل کتاب "تجربہ و سیاست" بھی تصنیف کی گئی ہے، جو حزبِ دعوتِ عراق کے سیکریٹری جنرل اور عراق کے سابق وزیرِاعظم کی حیثیت سے ان کے کردار اور کاموں پر روشنی ڈالتی ہے۔[2]


سیاسی سرگرمیاں

وہ سن 1970‏ء میں حزبِ دعوت میں شامل ہوئے۔ 1979ء میں عراقی حکومت نے حزبِ دعوتِ اسلامی کے تمام اراکین کو سزائے موت دینے کا حکم جاری کیا، جس کے بعد نوری المالکی بھی پارٹی کے بہت سے دیگر افراد کے ساتھ عراق سے فرار ہو گئے۔ انہوں نے اس کے بعد تقریباً سولہ سال تک شام میں زندگی گزاری۔[3]

وزارت عظمی

نوری المالکی ۲۰۰۶ء میں عراق کے وزیرِاعظم کے منصب پر فائز ہوئے، اس وقت ملک سخت فرقہ وارانہ کشیدگی، امریکی فوجی مداخلت اور داخلی بدامنی کا شکار تھا۔ ان کے دورِ حکومت میں سیکیورٹی صورتِ حال کو بہتر بنانے، القاعدہ اور دیگر مسلح گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجی اور سیاسی اقدامات کیے گئے۔

مالکی نے شیعہ اکثریتی حکومت کو مستحکم کیا، مگر ان پر یہ تنقید بھی کی گئی کہ انہوں نے مخالف سیاسی جماعات، خاص طور پر سنی رہنماؤں اور جماعتوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا، جس سے فرقہ وارانہ تقسیم میں اضافہ ہوا۔ ۲۰۱۴ء میں داعش کے عروج اور کئی اہم شہروں کے سقوط کے بعد ان پر دباؤ بڑھا اور بالآخر انہیں وزارتِ عظمیٰ چھوڑنی پڑی۔


نظریات

تقریب اور وحدت اسلامی

عراق کے سابق وزیرِاعظم نے ایک ویڈیو پیغام میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تاکید کی: میں اسلامی جمہوریہ ایران کا نہایت احترام کے ساتھ شکریہ اور قدردانی کرتا ہوں، کیونکہ یہ ملک ہر سال حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کی ولادت کی سالگرہ کے موقع پر ہمیں یکجا ہونے، امتِ اسلام کے مسائل پر بحث و غور کرنے اور مذاہبِ اسلامی کے درمیان تقریب و قربت کے اسباب و وسائل کی تلاش میں سنجیدگی سے کوشش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، تاکہ یہ امت اپنے سامنے موجود چیلنجوں کے مقابلے میں متحد ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا: قرآنِ کریم کی آیتِ مبارکہ «اشِدّاءُ عَلَی الکُفّارِ رُحَماءُ بَینَهُم» [الفتح: 29] میں مومنین کے بارے میں صفتِ «اشداء» کو «رحماء» پر مقدم رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ بالکل واضح ہے؛ کیونکہ کافروں کی ساری کوشش کل سے آج تک یہی رہی ہے کہ امتِ اسلامی کے منصوبوں کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کریں، تاکہ ان کی وحدت کو تفرقے سے بدل دیں اور ان کی قوت کو کمزوری میں تبدیل کر دیں۔

فرانس کے صدر کی رسول اکرم(ص) کی شان میں گستاخی

نوری المالکی نے تاکید کرتے ہوئے کہا: اس سال یہ اجلاس ایسے حالات میں منعقد ہو رہا ہے کہ ہمارے سامنے موجود چیلنجز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ فرانس کے صدر ان دنوں رسولِ اکرم اسلام (ص) کی توہین کے ذریعے اپنے لیے سیاسی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ آزادیٔ اظہار، جمہوریت اور اس نام نہاد مہذب فرانسیسی انقلاب کے جھوٹے دعووں کو بار بار دہراتے ہیں، جو درحقیقت داعش اور انتہاپسندوں کے اخلاق اور طرزِ عمل پر طنز کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ہم فرانس کے صدر کے ان بیانات کی سخت مذمت کرتے ہیں اور ان تمام اقوام اور حکومتوں سے، جن کے دلوں میں اسلام کی کچھ رمق باقی ہے، اپیل کرتے ہیں کہ وہ امتِ اسلام کے جذبات کی اس تضحیک اور توہین کے جواب میں واضح سیاسی، ابلاغی اور عملی مؤقف اختیار کریں۔

خطرناک اور ذلت آمیز سازش

عراق کے سابق وزیرِاعظم نے اعتراف کرتے ہوئے کہا: ایک اور نہایت خطرناک واقعہ، جو ایک ذلت آمیز عمل شمار ہوتا ہے، صہیونی حکومت کے ساتھ سازش اور تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔ اگرچہ ان ممالک اور صہیونی حکومت کے درمیان پہلے ہی خفیہ یا بالواسطہ روابط موجود تھے، لیکن امتِ اسلام کے درمیان کمزور یکجہتی نے انہیں اس بات کی جرات دی کہ وہ اس سازش اور تعلقات کی بحالی کو علانیہ کریں، تاکہ اس کے بعد سرکاری دوروں اور ملاقاتوں کا آغاز ہو اور اقتصادی و سکیورٹی معاہدوں پر دستخط کیے جائیں۔

انہوں نے مزید کہا: یہ ممالک صہیونی حکومت کے لیے راستہ ہموار کریں گے تاکہ وہ امتِ اسلام کے باہم جڑے ہوئے ڈھانچے میں، اقتصادی، سیاسی، سماجی اور سکیورٹی میدانوں میں پہلے سے زیادہ نفوذ اور اثر و رسوخ حاصل کر سکے۔ اس ذلت آمیز پالیسی اور نفوذ کے اس عمل میں صہیونی حکومت کے ساتھ ساتھ بعض بڑی طاقتیں بھی شامل ہیں، جن کا سب سے بڑا خوف امتِ اسلام کا اتحاد، محورِ مقاومت میں جہادی رجحانات کا ابھرنا اور ان کے منصوبوں کے سامنے رکاوٹ بننا ہے۔

مسلمانوں کے لیے انتباہ

نوری المالکی نے مسلمانوں، علم و فکر کی شخصیات، اور رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے یاد دلایا: دشمن آپ کا انتظار نہیں کریں گے کہ آپ اپنے بحرانوں کو حل کریں؛ بلکہ وہ ان بحرانوں میں اضافہ کریں گے۔ امتِ اسلام کی عزت و وقار اور رسولِ اکرم (ص) کی شان کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے، لہٰذا امت کی طاقت اور اتحاد کو دوبارہ زندہ کرنے کی طرف گامزن ہوں، اور ان فرقہ پرست عناصر کی مخالفت کریں جنہیں شرپسند ہاتھوں کی رہنمائی حاصل ہے۔

انہوں نے مزید کہا: محورِ مقاومت کے مردوں، قوموں، اور اس کے ممالک کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے عزم کریں، جن میں اسلامی جمہوریہ ایران صفِ اول میں ہے، اور امتِ اسلام کی موجودگی کے دائرے میں تمام مزاحمتی تحریکوں اور جماعتوں کے ساتھ تعاون کریں، بغیر اس کے کہ مذاہب یا اہلِ تسنن و شیعیان کے درمیان کوئی فرق رکھا جائے۔ ہم سب ایک مشترکہ ذمہ داری کے حامل ہیں۔ اگر ہم نے امت اور رسولِ مکرم (ص) کے بارے میں اپنے فرض میں کوتاہی کی، تو اللہ ہمیں معاف نہیں کرے گا۔


متعلقہ تلاشیں


حوالہ جات