مندرجات کا رخ کریں

"سانچہ:صفحۂ اول/تیسرے نوٹس اور تجزیے" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 1: سطر 1:
[[فائل:سبزقبا.jpg|بدون_چوکھٹا|بائیں]]
[[فائل:مدیریت امام جامعه در فتنۀ دی‌ماه (یادداشت) 5 (2).jpg|بائیں]]
'''[[12 روزہ جنگ کا تسلسل اور ایک اور فتح (نوٹس)|“12 روزہ جنگ کا تسلسل اور ایک اور فتح”]]''' ایک مقالے کا عنوان ہے جو [[ایران]] میں حالیہ فسادات اور ان تخریب کاریوں، آتش زنیوں اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے مقاصد سے متعلق ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کے کچھ معاشی فیصلوں، اس شعبے میں کچھ غیر فیصلوں، اور حالیہ مہینوں میں اس میں تاخیر اور عجلت نے عوام کے ایک وسیع حلقے میں عدم اطمینان پیدا کیا ہے۔
'''[[دی ماہ کے فتنہ میں امامِ معاشرہ کی قیادت و مدیریت(نوٹس اور تجزیے)|دی ماہ کے فتنہ میں امامِ معاشرہ کی قیادت و مدیریت]]''' «دی ماہ کے فتنہ میں امامِ معاشرہ کی قیادت و مدیریت» اس یادداشت کا عنوان ہے جس میں دی ماہ 1404 ہجری شمسی کے دہشت گردانہ فسادات کے دوران [[سید علی خامنہ ای|حضرت امام خامنہ‌ایؒ]] کی جرات مندانہ اور حکیمانہ قیادت کا جائزہ لیا گیا ہے <ref>تحریر:سعدالله زارعی</ref>۔
دینی بنیادوں پر قائم نظاموں میں دینی و سیاسی قیادت کا کردار نہایت بنیادی اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ جو لوگ اس حقیقت سے قریبی تعلق نہیں رکھتے، وہ اسے سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں اور اسی وجہ سے دینی نظام رکھنے والے معاشروں کے واقعات کے تجزیے میں غلطی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
دینی و سیاسی قیادت بیک وقت «ہمہ جہتی رہنمائی»، «عوامی بسیج»، «اعتماد سازی»، «صلاحیتوں کا درست انتظام»، «حل کی رفتار میں اضافہ»، «اخراجات میں کمی»، «ترجیحات کے مطابق حرکت» اور «اہم خطرات کو دفع کرنے» کے ساتھ ساتھ «معاشرتی انسجام» کی طاقت رکھتی ہے۔

نسخہ بمطابق 14:53، 24 جنوری 2026ء

دی ماہ کے فتنہ میں امامِ معاشرہ کی قیادت و مدیریت «دی ماہ کے فتنہ میں امامِ معاشرہ کی قیادت و مدیریت» اس یادداشت کا عنوان ہے جس میں دی ماہ 1404 ہجری شمسی کے دہشت گردانہ فسادات کے دوران حضرت امام خامنہ‌ایؒ کی جرات مندانہ اور حکیمانہ قیادت کا جائزہ لیا گیا ہے [1]۔ دینی بنیادوں پر قائم نظاموں میں دینی و سیاسی قیادت کا کردار نہایت بنیادی اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ جو لوگ اس حقیقت سے قریبی تعلق نہیں رکھتے، وہ اسے سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں اور اسی وجہ سے دینی نظام رکھنے والے معاشروں کے واقعات کے تجزیے میں غلطی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دینی و سیاسی قیادت بیک وقت «ہمہ جہتی رہنمائی»، «عوامی بسیج»، «اعتماد سازی»، «صلاحیتوں کا درست انتظام»، «حل کی رفتار میں اضافہ»، «اخراجات میں کمی»، «ترجیحات کے مطابق حرکت» اور «اہم خطرات کو دفع کرنے» کے ساتھ ساتھ «معاشرتی انسجام» کی طاقت رکھتی ہے۔

  1. تحریر:سعدالله زارعی