دی ماہ کے فتنہ میں امامِ معاشرہ کی قیادت و مدیریت(نوٹس اور تجزیے)


دی ماہ کے فتنہ میں امامِ معاشرہ کی قیادت و مدیریت «دی ماہ کے فتنہ میں امامِ معاشرہ کی قیادت و مدیریت» اس یادداشت کا عنوان ہے جس میں دی ماہ 1404 ہجری شمسی کے دہشت گردانہ فسادات کے دوران حضرت امام خامنہای کی جرات مندانہ اور حکیمانہ قیادت کا جائزہ لیا گیا ہے [1]۔ دینی بنیادوں پر قائم نظاموں میں دینی و سیاسی قیادت کا کردار نہایت بنیادی اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ جو لوگ اس حقیقت سے قریبی تعلق نہیں رکھتے، وہ اسے سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں اور اسی وجہ سے دینی نظام رکھنے والے معاشروں کے واقعات کے تجزیے میں غلطی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دینی و سیاسی قیادت بیک وقت «ہمہ جہتی رہنمائی»، «عوامی بسیج»، «اعتماد سازی»، «صلاحیتوں کا درست انتظام»، «حل کی رفتار میں اضافہ»، «اخراجات میں کمی»، «ترجیحات کے مطابق حرکت» اور «اہم خطرات کو دفع کرنے» کے ساتھ ساتھ «معاشرتی انسجام» کی طاقت رکھتی ہے۔ معاشروں میں رہنماؤں کی طاقت اس وقت پرکھی جاتی ہے جب وہ عظیم تبدیلیوں اور بڑے خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔ جو رہنما نازک مواقع پر خاموش رہتے ہیں، غیر واضح مؤقف اختیار کرتے ہیں یا تاخیر سے ردعمل دیتے ہیں، وہ درحقیقت اپنی انتظامی نااہلی پر مہرِ تصدیق ثبت کر دیتے ہیں۔ حالیہ عظیم فتنہ—جو دشمنوں کی وسیع تیاری کے ساتھ شروع ہوا اور جس کا بنیادی ہدف ایران کو نیست و نابود کرنا اور جمہوری اسلامی کے انہدام کا اعلان تھا—ایسا ہی ایک فیصلہ کن منظر تھا جس میں رہبرِ معظمِ انقلاب اسلامی کی صلاحیت اور اہلیت کو جانچا جا سکتا ہے۔
رہبروں کا کردار
دنیا کے بہت سے ممالک کے رہنما اس طرح کے حالات سے دوچار ہوئے ہیں اور ان کا انجام ہمارے سامنے ہے۔ ہر اس موقع پر جب کوئی ملک سیاسی، سیکورٹی یا معاشی طوفان میں محفوظ رہا یا تباہی کا شکار ہوا، سب سے پہلے رہنماؤں کے کردار کو دیکھنا چاہیے۔
یقیناً عوام، حکومتی ڈھانچوں، فوجی و انتظامی اداروں اور مواصلاتی نظاموں کا کردار اپنی جگہ اہم ہے، لیکن ان میں سے کوئی بھی «قیادت» کے کردار کا ہم پلہ نہیں۔ بلکہ ان تمام اداروں کی درست کارکردگی بھی براہِ راست قیادت کی درست رہنمائی سے جڑی ہوتی ہے۔ البتہ یہ بھی ضروری ہے کہ قیادت کو بروقت اور مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے طاقتور حکومتی بازو درکار ہوتے ہیں۔
فتنہ کی پیچیدگی

حالیہ چند روزہ فتنہ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی پیچیدگی تھی، اسی بنا پر امام خامنہایؒ نے ان واقعات کو «فتنہ» قرار دیا۔ اس پیچیدگی کے کم از کم آٹھ اسباب بیان کیے جا سکتے ہیں:
معاشی حالات اور سماجی احتجاجی عوامل، فسادات کے محرکین اور عملی عناصر کی غیر معمولی شدت، بارہ روزہ جنگ کے نفسیاتی اثرات، حکومتی کارکردگی سے متعلق عوامی ذہنیت اور سابق انتخابات میں کم شرکت، قیمتوں کے شدید دباؤ میں گھری حکومت، دشمنوں کا مالی و کرنسی نظام میں مداخلت، حکومتی اداروں اور سیاسی دھڑوں کے درمیان اختلافات، فسادات کے پھیلنے اور بیرونی اتحاد سازی کے امکانات۔
ان حالات میں دشمن کو تین چیزوں کی اشد ضرورت تھی: اول، داخلی اختلافات میں اضافہ؛ دوم، قیادت کے انتظامی و سیکورٹی بازوؤں کو مفلوج کرنا؛
سوم، عوام کو مایوس کر کے ان کے فیصلہ کن کردار کو کمزور کرنا۔ ایسے ماحول میں اعلیٰ قیادت پر ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے، کیونکہ اسے بیک وقت ادارہ جاتی کمزوریوں کو دور کرنا اور دشمن کے ہاتھ سے کھیل چھیننا ہوتا ہے۔
معاشرتی وحدت
ان حالات میں امام خامنہایؒ کا کردار غیر معمولی تھا۔ بعض اداروں میں ابتدائی غافلگیریوں کے باوجود رہبرِ انقلاب مکمل ہوشیاری میں رہے۔ انہوں نے مہینوں پہلے ہی «وحدتِ معاشرہ» پر مسلسل زور دیا اور بعض ایسے عناصر کو، جو انقلابی ہونے کے دعوے کے باوجود تفرقہ انگیزی کا باعث بن رہے تھے، کھلے اور نجی انداز میں متنبہ کیا۔ اسی وحدت کے ثمرات ہم نے دی ماہ کے امریکی فتنہ کی ناکامی میں دیکھے۔
حکومت کی حمایت
رہبرِ معظم کا حکومت کی حمایت پر بار بار زور دینا فتنہ شکن ثابت ہوا۔ بعض افراد انقلابی نعروں کے نام پر حکومت کو کمزور کر رہے تھے، لیکن قیادت کی واضح حمایت نے ایک طرف عوامی دباؤ کو کم کیا اور دوسری طرف حکومت کو نیا حوصلہ بخشا۔ یہی وجہ تھی کہ فتنہ کے دوران حکومت فعال رہی اور دشمن کا ایک اہم منصوبہ—حکومت کو مفلوج کرنا—ناکام ہو گیا۔
19 دی کی تقریر


19 دی کو ہونے والی تقریر امام خامنہایؒ کی ذہنی و نفسیاتی قیادت کی ایک نمایاں مثال تھی۔ شدید آتش زنی اور قتل و غارت سے فکرمند عوام اور میدان میں موجود فورسز کے لیے یہ تقریر انتہائی تسکین بخش ثابت ہوئی۔
تقریباً بارہ گھنٹے بعد، مکمل اطمینان کے ساتھ علما اور عوامِ قم سے خطاب کرتے ہوئے رہبرِ انقلاب نے فرمایا: «جمهوری اسلامی بحمدالله آج سر بلند، مضبوط، طاقتور اور باوقار ہے»۔
اس ایک جملے نے دشمن کے پروپیگنڈے کو راکھ کر دیا۔ انہوں نے فسادات کو محض «تخریب کاری» قرار دے کر دشمن کی اصل طاقت کو بے نقاب کیا اور واضح اعلان کیا کہ غیر ملکی آلہ کار قوم اور نظام دونوں کے نزدیک مردود ہیں۔ یہ تقریر عملی طور پر سینکڑوں لشکروں کی تعیناتی کے برابر مؤثر ثابت ہوئی۔ اس سے اندرونِ ملک اطمینان پیدا ہوا، بیرونِ ملک دوست مطمئن ہوئے اور دشمن کے حوصلے پست ہو گئے۔
شہری مسلح جنگ اور فتنہ کی شکست

دشمن کی منصوبہ بندی ایک طویل شہری جنگ، بیرونی فوجی مداخلت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس اور بالآخر جمہوری اسلامی کے خاتمے پر مبنی تھی۔ لیکن امام خامنہایؒ کی غیر معمولی بصیرت کے باعث یہ منصوبہ محض آٹھ گھنٹوں میں ناکام ہو گیا۔ جمعرات کی رات شروع ہونے والا فتنہ جمعہ کی صبح مکمل طور پر قابو میں آ چکا تھا، اور اگلے دو دنوں میں دشمن کی سرگرمیاں چند فیصد تک محدود ہو گئیں۔
اگر یہ جنگ چند ہفتے بھی جاری رہتی تو ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا اور ایران کی عالمی حیثیت شدید متاثر ہوتی۔ فتنہ کا فوری کنٹرول اور سیکورٹی و حکومتی اداروں کا مؤثر عمل دراصل انقلاب کی تاریخ کے سب سے بڑے فتنہ کی کمر توڑنے کے مترادف تھا۔
آخر میں بلا کم و کاست اعتراف کرنا ہوگا کہ ایک یا چند مضامین میں رہبرِ معظمِ انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہایؒ کے اس عظیم کردار کا احاطہ ممکن نہیں۔ یہ تحریر صرف اس بحرِ عمیق سے ایک قطرہ ہے [2]۔
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ تحریر:سعدالله زارعی
- ↑ نمی از دریای مدیریت حکیمانه رهبر در فتنه عظیم دیماه(یادداشت روز(روزنامہ کیہان کی ویب سائٹ پر)- شائع شدہ از: 23 جنوری 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 24 جنوری 2026ء