"سانچہ:صفحۂ اول/پہلا منتخب مضمون" کے نسخوں کے درمیان فرق
Appearance
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
[[فائل: سید علی شفیعی.jpg|تصغیر|بدون_چوکھٹا|]] | [[فائل: سید علی شفیعی.jpg|تصغیر|بدون_چوکھٹا|]] | ||
'''[[سید علی شفیعی]]''' ایک فقیہ، مجتہد، [[انقلاب اسلامی ایران|اسلامی انقلاب]] کے دور کے مجاہد اور مجلسِ خبرگانِ رہبری میں صوبۂ خوزستان کے عوام کے نمائندے تھے۔ اخلاقی طرزِ عمل اور خوزستان میں مقامی و مذہبی اختلافات کے حل میں کلیدی کردار کی بنا پر وہ جنوبی [[ایران]] میں مختلف اقوام (عرب اور بختیاری) اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان ایک باوقار اور قابلِ احترام شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ وہ ہر قسم کی تکفیری اور انتہا پسندانہ تحریکوں (چاہے [[شیعہ]] میں ہوں یا [[اہل السنۃ والجماعت|اہلِ سنت]] میں) کے کھلے عام مخالف تھے اور انہیں امتِ اسلامی کے جسم پر چلنے والی تلوار قرار دیتے | '''[[سید علی شفیعی]]''' ایک فقیہ، مجتہد، [[انقلاب اسلامی ایران|اسلامی انقلاب]] کے دور کے مجاہد اور مجلسِ خبرگانِ رہبری میں صوبۂ خوزستان کے عوام کے نمائندے تھے۔ اخلاقی طرزِ عمل اور خوزستان میں مقامی و مذہبی اختلافات کے حل میں کلیدی کردار کی بنا پر وہ جنوبی [[ایران]] میں مختلف اقوام (عرب اور بختیاری) اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان ایک باوقار اور قابلِ احترام شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ وہ ہر قسم کی تکفیری اور انتہا پسندانہ تحریکوں (چاہے [[شیعہ]] میں ہوں یا [[اہل السنۃ والجماعت|اہلِ سنت]] میں) کے کھلے عام مخالف تھے اور انہیں امتِ اسلامی کے جسم پر چلنے والی تلوار قرار دیتے تھے۔ [[سید علی شفیعی |جاری ہے]] | ||
نسخہ بمطابق 11:54، 29 دسمبر 2025ء

سید علی شفیعی ایک فقیہ، مجتہد، اسلامی انقلاب کے دور کے مجاہد اور مجلسِ خبرگانِ رہبری میں صوبۂ خوزستان کے عوام کے نمائندے تھے۔ اخلاقی طرزِ عمل اور خوزستان میں مقامی و مذہبی اختلافات کے حل میں کلیدی کردار کی بنا پر وہ جنوبی ایران میں مختلف اقوام (عرب اور بختیاری) اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان ایک باوقار اور قابلِ احترام شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ وہ ہر قسم کی تکفیری اور انتہا پسندانہ تحریکوں (چاہے شیعہ میں ہوں یا اہلِ سنت میں) کے کھلے عام مخالف تھے اور انہیں امتِ اسلامی کے جسم پر چلنے والی تلوار قرار دیتے تھے۔ جاری ہے