مندرجات کا رخ کریں

"سانچہ:صفحۂ اول/پہلا منتخب مضمون" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 1: سطر 1:
[[فائل: همایش جایگاه‌شناسی تقریب مذاهب در شرایط کنونی.jpg|تصغیر|بدون_چوکھٹا|]]
[[فائل: سید علی شفیعی.jpg|تصغیر|بدون_چوکھٹا|]]
'''[[موجودہ حالات میں تقریبِ مذاہب کی اہمیت شناسی کانفرنس|موجودہ حالات میں تقریبِ مذاہب کی اهمیت شناسی کانفرنس]]'''” کے عنوان سے ایک تقریب ، ہفتۂ تحقیق کے موقع پر تقریبی  مطالعات تحقیقاتی مرکز کی کاوشوں سے منعقد ہوا۔ اس  کانفرنس میں حجۃ الاسلام والمسلمین [[حمید شہریاری|ڈاکٹر حمید شہریاری]] (سیکریٹری جنرل، [[عالمی کونسل برائے تقریب مذاہب اسلامی|عالمی مجمعِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی]])، آیت اللہ محسن اراکی (رکن، مجمعِ تشخیصِ مصلحتِ نظام)، آیت اللہ سعید واعظی (رکن، جامعۂ مدرسینِ حوزۂ علمیہ قم)، حجۃ الاسلام والمسلمین احمد مبلغی (رکن، مجلسِ خبرگانِ رہبری) اور نیز حجۃ الاسلام والمسلمین اکبر راشدی‌نیا (تقریبی مطالعات تحقیقاتی مرکز کے سربراه) نے خطابات کیے۔ [[موجودہ حالات میں تقریبِ مذاہب کی اہمیت شناسی کانفرنس|جاری ہے]].
'''[[سید علی شفیعی]]''' ایک فقیہ، مجتہد، [[انقلاب اسلامی ایران|اسلامی انقلاب]] کے دور کے مجاہد اور مجلسِ خبرگانِ رہبری میں صوبۂ خوزستان کے عوام کے نمائندے تھے۔ اخلاقی طرزِ عمل اور خوزستان میں مقامی و مذہبی اختلافات کے حل میں کلیدی کردار کی بنا پر وہ جنوبی [[ایران]] میں مختلف اقوام (عرب اور بختیاری) اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان ایک باوقار اور قابلِ احترام شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ وہ ہر قسم کی تکفیری اور انتہا پسندانہ تحریکوں (چاہے [[شیعہ]] میں ہوں یا [[اہل السنۃ والجماعت|اہلِ سنت]] میں) کے کھلے عام مخالف تھے اور انہیں امتِ اسلامی کے جسم پر چلنے والی تلوار قرار دیتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ [[قرآن|قرآنِ کریم]] مذاہبِ اسلامی کو جوڑنے کے لیے سب سے مضبوط حبلُ المتین ہے، اور وہ ایسی تفسیروں کو جو تفرقے کی بو دیں، روحِ وحی کے منافی سمجھتے تھے۔ [[سید علی شفیعی |جاری ہے]]

نسخہ بمطابق 11:49، 29 دسمبر 2025ء

سید علی شفیعی ایک فقیہ، مجتہد، اسلامی انقلاب کے دور کے مجاہد اور مجلسِ خبرگانِ رہبری میں صوبۂ خوزستان کے عوام کے نمائندے تھے۔ اخلاقی طرزِ عمل اور خوزستان میں مقامی و مذہبی اختلافات کے حل میں کلیدی کردار کی بنا پر وہ جنوبی ایران میں مختلف اقوام (عرب اور بختیاری) اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان ایک باوقار اور قابلِ احترام شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ وہ ہر قسم کی تکفیری اور انتہا پسندانہ تحریکوں (چاہے شیعہ میں ہوں یا اہلِ سنت میں) کے کھلے عام مخالف تھے اور انہیں امتِ اسلامی کے جسم پر چلنے والی تلوار قرار دیتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ قرآنِ کریم مذاہبِ اسلامی کو جوڑنے کے لیے سب سے مضبوط حبلُ المتین ہے، اور وہ ایسی تفسیروں کو جو تفرقے کی بو دیں، روحِ وحی کے منافی سمجھتے تھے۔ جاری ہے