مندرجات کا رخ کریں

"شریعت" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:شریعت کو شریعت کی جانب منتقل کیا
 
(کوئی فرق نہیں)

حالیہ نسخہ بمطابق 15:04، 30 اگست 2026ء

شریعت ایک ثابت الہی نظام ہے جسے خداوند متعال]] نے انبیاء اور رسولوں پر وحی کیا ہے، اور یہ ایک ایسا الہی راستہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دین کی حیثیت سے مقرر فرمایا ہے اور مکلفین کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے اس کی پیروی کریں، تاکہ اس کے سائے میں ان کی دنیا اور آخرت سنور سکے۔

مفہوم شناسی

شریعت کے لغوی معنی واضح اور روشن راستے کے ہیں۔ اس ہموار جگہ کو بھی "شریعہ" کہا جاتا ہے جہاں سے نہر کے پانی تک رسائی ممکن ہو اور بغیر برتن کے پانی پیا جا سکے۔ اسی معنی کو دین اور آئینِ الہی کے لیے بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے اور الہی عقائد و احکام کو "شریعت" کا نام دیا گیا ہے۔ [1]

شریعت کے دو معانی ہیں: عام اور خاص۔ معنائے عام میں یہ لفظ دین کا مترادف ہے اور کبھی اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے؛ مثلاً کہا جاتا ہے "شریعتِ اسلام" جس سے مراد دینِ اسلام ہے۔

معنائے عام میں شریعت سے مراد خلوصِ قلب اور نیت کی پاکیزگی کے ساتھ غیبی اصولوں پر ایمان لانا ہے، اور تمام انبیاء لوگوں کو اسی کی دعوت دیتے رہے ہیں اور اس بنیادی اصول میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، لہٰذا اس معنی میں یہ مفہومِ دین کے ساتھ عین ایک ہے۔

اس بنیاد پر وہ تمام افراد جنہوں نے نئی شریعت کے آنے سے پہلے یا اس کے آنے کے بعد اس سے آگاہ ہونے سے قبل، سابقہ الہی شریعت پر عمل کیا، وہ حق کے صراطِ مستقیم پر گامزن رہے اور اہل سعادت و نجات ہیں۔ تاہم، نئی شریعت کے آنے کے بعد چونکہ سابقہ شریعت منسوخ ہو چکی ہے، اس لیے راہِ نجات نئی شریعت کی پیروی میں منحصر ہے اور نئی شریعت سے آگاہی کے باوجود سابقہ شریعت پر عمل کرنا قابل قبول نہیں ہوگا۔

معنائے خاص میں شریعت سے مراد وہ احکام، اوامر و نواہی، عبادات اور اخلاقیات ہیں جو ہر پیغمبر لے کر آتا ہے۔ معنائے خاص میں شریعت کا مفہوم دین سے مختلف ہے۔

انبیاء کی شریعت

ہر پیغمبر کی شریعت زمان و مکان کے تقاضوں اور اس کی امت و قوم کے اعتبار سے دوسری شریعت سے مختلف ہوتی ہے۔ تاریخِ دین میں خداوند متعال کی جانب سے مختلف شریعتیں نازل ہوئیں۔ جیسا کہ قرآن کریم اور اسلامی احادیث سے معلوم ہوتا ہے، پانچ اولو العزم انبیاء کی شریعتیں تھیں: حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ) علیہم السلام۔[2]

الہی شریعت وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے انبیاء میں سے کسی نبی یا انسانی امتوں میں سے کسی امت کے لیے تیار اور معین فرمایا ہے، جیسے حضرت نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور حضرت محمد (علیہم السلام) کی شریعت۔ قرآنی آیت: «شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ» [3] بھی اس نکتے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ شرائعِ الہیہ کی حقیقت اور اصل ایک ہی ہے، اگرچہ امتوں کے حالات اور استعداد کے فرق کی وجہ سے ان کے احکام اور دستورات مختلف رہے ہیں۔ [4] دوسرے لفظوں میں، تمام الہی شریعتوں کے بنیادی اصول مشترک تھے جن میں نسخ کی گنجائش نہیں تھی، اگرچہ ان کے فروعی احکام مختلف تھے جو نسخ پذیر تھے۔ [5]

مشرکین کی شریعت

قرآن کریم اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ شریعتِ حقہ صرف خداوند متعال کی جانب سے ہی نازل ہوتی ہے اور مشرکین کی شریعت وہ ہے جس کی الہی اذن اور مرضی شاملِ حال نہیں ہے، فرماتا ہے:

«أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ» [6]

چونکہ تمام الہی شرائع توحید کے صراطِ مستقیم پر استوار ہیں، اس لیے حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی نبوت پر ایمان لانے کی شرائط میں سے ایک شرط سابقہ انبیاء کی نبوتوں پر ایمان لانا بھی ہے [7] اور قرآن اس بات کی بھی یاد دہانی کرواتا ہے کہ اگر مشرکین اور اہل کتاب بھی تمام انبیاء کی نبوت پر ایمان لے آئیں تو وہ ہدایت پا جائیں گے۔[8]

حوالہ جات

  1. ابن فارس، ۱۴۱۸ھ، ص۵۵۵؛ جوہری، ۱۴۳۲ھ، ج۲، ص۹۵۷؛ فیومی، بی تا، ج۱، ص۳۷۴؛ ابراہیم مصطفی، بی تا، ج۱، ص۴۷۹؛ راغب اصفہانی، بی تا، ص۲۵۸۔
  2. سورہ شوریٰ، آیت ۱۳؛ سورہ بقرہ، آیت ۲۱۳۔
  3. سورہ شوریٰ، آیت ۱۳۔
  4. طباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن، ۱۳۹۳ھ، ج۵، ص۳۵۱۔
  5. راغب اصفہانی، مفردات الفاظ القرآن، ص۲۵۸۔
  6. سورہ شوریٰ، آیت ۲۱۔
  7. سورہ بقرہ، آیت ۱۳۶۔
  8. طباطبائی، تفسیر المیزان، ذیل آیہ ۲۱۳ بقرہ؛ سورہ بقرہ، آیت ۱۳۷۔

مآخذ

  • ابن فارس، احمد بن فارس، معجم مقاییس اللغة، قم، مکتب الاعلام الاسلامی، ۱۴۱۸ھ۔
  • جوہری، اسماعیل بن حماد، الصحاح تاج اللغة و صحاح العربیة، بیروت، دار العلم للملایین، ۱۴۳۲ھ۔
  • راغب اصفہانی، حسین بن محمد، مفردات الفاظ القرآن، بیروت، دار القلم، بی تا۔
  • طباطبائی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، اسماعیلیان، ۱۳۹۳ھ۔
  • فیومی، احمد بن محمد، المصباح المنیر، قم، دار الہجرۃ، بی تا۔
  • مصطفی، ابراہیم و دیگران، المعجم الوسیط، تہران، اسلامی، بی تا۔