"قادریه" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) «{{خانہ معلومات مذاہب اور فرقے | عنوان = قادریه | تصویر = | نام = قادریه | عام نام = | تشکیل کا سال = | بانی = عبدالقادر گیلانی | نظریہ = ذکر اور فکر }} '''فرقہ قادریہ'''، شیخ عبدالقادر گیلانی کے پیروکار ہیں جو اہل سنت و جماعت کے مشہور...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| (2 صارفین 7 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 9: | سطر 9: | ||
}} | }} | ||
'''فرقہ قادریہ'''، [[ | '''فرقہ قادریہ'''، [[عبد القادر جیلانی|شیخ عبدالقادر گیلانی]] کے پیروکار ہیں جو[[اہل السنۃ والجماعت|اہل سنت و جماعت]] کے مشہور صوفی تھے۔ اس سلسلے سے متعدد شاخیں وجود میں آئی ہیں۔ | ||
==زندگی نامہ رئیسِ فرقہ== | ==زندگی نامہ رئیسِ فرقہ== | ||
شیخ محی الدین ابو محمد عبدالقادر بن ابی صالح ایک روایت کے مطابق یکم رمضان ۴۷۱ ہجری قمری کی شب گاؤں بَشتیر میں پیدا ہوئے۔ وہ مسلکاً سنی تھے اور ابتدائی تعلیم ابو زکریا تبریزی کے پاس حاصل کی جہاں انہوں نے ادبی علوم سیکھے۔ اٹھارہ سال کی عمر میں وہ | شیخ محی الدین ابو محمد عبدالقادر بن ابی صالح ایک روایت کے مطابق یکم [[رمضان]] ۴۷۱ ہجری قمری کی شب گاؤں بَشتیر میں پیدا ہوئے۔ وہ مسلکاً [[اہل السنۃ والجماعت|سنی]] تھے اور ابتدائی تعلیم ابو زکریا تبریزی کے پاس حاصل کی جہاں انہوں نے ادبی علوم سیکھے۔ اٹھارہ سال کی عمر میں وہ بغداد گئے اور وہاں کے علما سے [[حدیث]] اور [[فقہ]] کی تعلیم حاصل کی۔ | ||
فقہ [[حنبلی]] میں ان کے استاد ابو الوفاء بن عقیل تھے جبکہ تصوف کے اصول انہوں نے ابو الخیر حماد الدباس سے سیکھے۔ | |||
==خصوصیات== | اس عرصے میں انہوں نے ریاضت اور خلوت نشینی اختیار کی۔ بعد ازاں علی بن ابی سعد مخرمی نے انہیں اپنے مدرسہ میں تدریس کی ذمہ داری سونپی جس کے نتیجے میں ان کی شہرت پھیل گئی۔ سلسلہ قادریہ کے مؤسس نے مشائخ کی خرقہ ابو سعید مخرمی سے حاصل کی۔ | ||
ان کے القاب میں شیخُ الکل، شیخ المشرق اور محی الدین شامل ہیں۔ آج کل قادری درویش زیادہ تر کردستان کے علاقے میں پائے جاتے ہیں، اگرچہ اس سلسلے کے پیروکار سندھ، بلوچستان اور ملکِ مغرب میں بھی موجود ہیں۔ <ref>منابع فرق و تصوف</ref> | |||
== خصوصیات == | |||
قادری درویش عموماً لمبے بال اور لمبی مونچھیں رکھتے ہیں۔ ذکر کے وقت وہ اپنے بال کھول کر منتشر کر لیتے ہیں۔ اس طریقت کے پیروکاروں کے نزدیک حقیقت کا ادراک، حق تک رسائی اور روح کی روشنی قیل و قال اور سماع کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، اور وہ یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ جسمانی لذت روح کی خوشی کا سبب بنتی ہے۔ <ref>مطالعات تصوف</ref> | قادری درویش عموماً لمبے بال اور لمبی مونچھیں رکھتے ہیں۔ ذکر کے وقت وہ اپنے بال کھول کر منتشر کر لیتے ہیں۔ اس طریقت کے پیروکاروں کے نزدیک حقیقت کا ادراک، حق تک رسائی اور روح کی روشنی قیل و قال اور سماع کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، اور وہ یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ جسمانی لذت روح کی خوشی کا سبب بنتی ہے۔ <ref>مطالعات تصوف</ref> | ||
| سطر 27: | سطر 32: | ||
==روایات و اقوال== | ==روایات و اقوال== | ||
عبدالوهاب بن احمد شعرانی نے اپنی کتاب «طبقات الکبری» میں لکھا ہے کہ شیخ عبدالقادر گیلانی فرماتے تھے: میں پچیس سال تک عراق کے بیابانوں میں تنہا، بے یار و مددگار اور آوارہ گردی کی حالت میں رہا، نہ میں کسی کو جانتا تھا اور نہ کوئی مجھے جانتا تھا۔ رجال الغیب اور جنات کی جماعتیں میرے پاس آتی تھیں اور میں انہیں خدا شناسی کی راہ سکھاتا تھا؛ اور عراق میں میرے داخلے کے آغاز میں خضر (علیہ السلام) نے میری رفاقت اختیار کی، جبکہ میں انہیں پہچانتا نہ تھا، اور انہوں نے شرط رکھی کہ میں ان کی مخالفت نہیں کروں گا۔ انہوں نے مجھ سے کہا: "یہاں بیٹھ جاؤ!" اور میں تین سال تک اسی جگہ بیٹھا رہا جہاں انہوں نے کہا تھا۔ وہ ہر سال آتے اور کہتے: "اسی جگہ رہنا یہاں تک کہ میں تمہارے پاس واپس آؤں۔" وہ مزید فرماتے ہیں: میں ایک سال تک مدائن کے کھنڈرات میں رہا اور اس دوران نفس کے ساتھ طرح طرح کے مجاہدات میں مصروف رہا؛ پانی پیتا تھا اور پھینکی ہوئی چیزیں کھا لیتا تھا، اور ایک سال تو ایسا گزرا جس میں نہ کچھ کھایا، نہ پیا اور نہ ہی سویا۔ ایک رات جب سردی بہت شدید تھی، میں نے ایوانِ کسریٰ (طاقِ کسریٰ) میں آرام کیا تو مجھ پر غسل واجب ہو گیا۔ میں اٹھا اور دریا (دجلہ) میں جا کر غسل کیا، پھر سو گیا تو دوبارہ غسل واجب ہو گیا اور میں نے جا کر غسل کیا۔ اس رات یہ عمل چالیس مرتبہ دہرایا گیا کہ میں غسل کرتا رہا۔ پھر میں ایوان کے اوپر چڑھ گیا تاکہ مجھے نیند نہ آ جائے۔<ref>عبدالوهاب بن احمد شعرانی، ''طبقات الکبری،'' | عبدالوهاب بن احمد شعرانی نے اپنی کتاب «طبقات الکبری» میں لکھا ہے کہ شیخ عبدالقادر گیلانی فرماتے تھے: میں پچیس سال تک [[عراق]] کے بیابانوں میں تنہا، بے یار و مددگار اور آوارہ گردی کی حالت میں رہا، نہ میں کسی کو جانتا تھا اور نہ کوئی مجھے جانتا تھا۔ | ||
رجال الغیب اور جنات کی جماعتیں میرے پاس آتی تھیں اور میں انہیں خدا شناسی کی راہ سکھاتا تھا؛ اور عراق میں میرے داخلے کے آغاز میں خضر (علیہ السلام) نے میری رفاقت اختیار کی، جبکہ میں انہیں پہچانتا نہ تھا، اور انہوں نے شرط رکھی کہ میں ان کی مخالفت نہیں کروں گا۔ انہوں نے مجھ سے کہا: "یہاں بیٹھ جاؤ!" اور میں تین سال تک اسی جگہ بیٹھا رہا جہاں انہوں نے کہا تھا۔ وہ ہر سال آتے اور کہتے: "اسی جگہ رہنا یہاں تک کہ میں تمہارے پاس واپس آؤں۔" وہ مزید فرماتے ہیں: میں ایک سال تک مدائن کے کھنڈرات میں رہا اور اس دوران نفس کے ساتھ طرح طرح کے مجاہدات میں مصروف رہا؛ پانی پیتا تھا اور پھینکی ہوئی چیزیں کھا لیتا تھا، اور ایک سال تو ایسا گزرا جس میں نہ کچھ کھایا، نہ پیا اور نہ ہی سویا۔ | |||
ایک رات جب سردی بہت شدید تھی، میں نے ایوانِ کسریٰ (طاقِ کسریٰ) میں آرام کیا تو مجھ پر غسل واجب ہو گیا۔ میں اٹھا اور دریا (دجلہ) میں جا کر غسل کیا، پھر سو گیا تو دوبارہ غسل واجب ہو گیا اور میں نے جا کر غسل کیا۔ اس رات یہ عمل چالیس مرتبہ دہرایا گیا کہ میں غسل کرتا رہا۔ پھر میں ایوان کے اوپر چڑھ گیا تاکہ مجھے نیند نہ آ جائے۔<ref>عبدالوهاب بن احمد شعرانی، ''طبقات الکبری،'' </ref> | |||
ایک اور مقام پر عبدالقادر گیلانی کہتے ہیں: | ایک اور مقام پر عبدالقادر گیلانی کہتے ہیں: | ||
جب میرے نانا نے شبِ | جب میرے نانا نے شبِ معراج، معراج کی اور سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے، تو جبرئیلِ امین پیچھے رہ گئے اور کہنے لگے: اے [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد]]! اگر میں انگلی کے پورے کے برابر بھی آگے بڑھا تو جل جاؤں گا۔ تب حق تعالیٰ نے اس مقام پر میری روح کو ان کے پاس بھیجا تاکہ میں سیدِ امام (علیہ وعلى آلہ السلام) سے فیض حاصل کروں۔ | ||
میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور خلافت و وراثت کی عظیم نعمت کا حق ادا کیا۔ جب میں وہاں حاضر ہوا تو میں نے براق کی منزل دیکھی، یہاں تک کہ میرے نانا [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسول اللہ]] (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ پر سوار ہوئے اور ان کی باگ میرے ہاتھ میں تھی، یہاں تک کہ وہ مقامِ قاب قوسین یا اس سے بھی نزدیک تر پہنچ گئے۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا: "اے میرے بیٹے اور اے میری آنکھوں کے نور! یہ میرا قدم تمہاری گردن پر ہے اور تمہارے قدم تمام اولیائے الٰہی کی گردنوں پر ہوں گے۔" | |||
پھر وہ کہتے ہیں: مجھے خدا کے عرشِ بریں تک رسائی حاصل ہوئی اور اس کے انوار مجھ پر ظاہر ہوئے اور خدا نے مجھے یہ مقام عطا فرمایا۔ اخلاقِ الٰہی سے متصف ہونے سے پہلے میں نے عرشِ الٰہی کی طرف دیکھا اور اس کی ملکوت مجھ پر آشکار ہو گئی، اور خدا نے مجھے رفعت بخشی اور میرے احوال پر نظر کر کے مجھے تاجِ وصال سے نوازا، اور وہی ہے جو عزت دیتا ہے اور مجھے تقرب کا لباس پہناتا ہے۔ | پھر وہ کہتے ہیں: مجھے خدا کے عرشِ بریں تک رسائی حاصل ہوئی اور اس کے انوار مجھ پر ظاہر ہوئے اور خدا نے مجھے یہ مقام عطا فرمایا۔ اخلاقِ الٰہی سے متصف ہونے سے پہلے میں نے عرشِ الٰہی کی طرف دیکھا اور اس کی ملکوت مجھ پر آشکار ہو گئی، اور خدا نے مجھے رفعت بخشی اور میرے احوال پر نظر کر کے مجھے تاجِ وصال سے نوازا، اور وہی ہے جو عزت دیتا ہے اور مجھے تقرب کا لباس پہناتا ہے۔ | ||
== متعلقہ موضوعات == | == متعلقہ موضوعات == | ||
* [[ | * [[اہل السنۃ والجماعت|اہل سنت و جماعت]] | ||
* [[ | * [[حنفی]] | ||
* [[عراق]] | |||
== حوالہ جات == | == حوالہ جات == | ||
| سطر 41: | سطر 54: | ||
== مآخذ == | == مآخذ == | ||
* عبدالوهاب بن احمد شعرانی، ''طبقات | * عبدالوهاب بن احمد شعرانی، ''طبقات الکبری۔ج ۱، ص ۱۱۰ | ||
[[زمرہ:فرق و مذاہب]] | [[زمرہ:فرق و مذاہب]] | ||
[[زمرہ:تصوف]] | [[زمرہ:تصوف]] | ||
[[fa: قادریه]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 14:31، 20 جون 2026ء
| قادریه | |
|---|---|
| نام | قادریه |
| بانی | عبدالقادر گیلانی |
| نظریہ | ذکر اور فکر |
فرقہ قادریہ، شیخ عبدالقادر گیلانی کے پیروکار ہیں جواہل سنت و جماعت کے مشہور صوفی تھے۔ اس سلسلے سے متعدد شاخیں وجود میں آئی ہیں۔
زندگی نامہ رئیسِ فرقہ
شیخ محی الدین ابو محمد عبدالقادر بن ابی صالح ایک روایت کے مطابق یکم رمضان ۴۷۱ ہجری قمری کی شب گاؤں بَشتیر میں پیدا ہوئے۔ وہ مسلکاً سنی تھے اور ابتدائی تعلیم ابو زکریا تبریزی کے پاس حاصل کی جہاں انہوں نے ادبی علوم سیکھے۔ اٹھارہ سال کی عمر میں وہ بغداد گئے اور وہاں کے علما سے حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کی۔
فقہ حنبلی میں ان کے استاد ابو الوفاء بن عقیل تھے جبکہ تصوف کے اصول انہوں نے ابو الخیر حماد الدباس سے سیکھے۔
اس عرصے میں انہوں نے ریاضت اور خلوت نشینی اختیار کی۔ بعد ازاں علی بن ابی سعد مخرمی نے انہیں اپنے مدرسہ میں تدریس کی ذمہ داری سونپی جس کے نتیجے میں ان کی شہرت پھیل گئی۔ سلسلہ قادریہ کے مؤسس نے مشائخ کی خرقہ ابو سعید مخرمی سے حاصل کی۔
ان کے القاب میں شیخُ الکل، شیخ المشرق اور محی الدین شامل ہیں۔ آج کل قادری درویش زیادہ تر کردستان کے علاقے میں پائے جاتے ہیں، اگرچہ اس سلسلے کے پیروکار سندھ، بلوچستان اور ملکِ مغرب میں بھی موجود ہیں۔ [1]
خصوصیات
قادری درویش عموماً لمبے بال اور لمبی مونچھیں رکھتے ہیں۔ ذکر کے وقت وہ اپنے بال کھول کر منتشر کر لیتے ہیں۔ اس طریقت کے پیروکاروں کے نزدیک حقیقت کا ادراک، حق تک رسائی اور روح کی روشنی قیل و قال اور سماع کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، اور وہ یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ جسمانی لذت روح کی خوشی کا سبب بنتی ہے۔ [2]
اذکار
قادری درویشوں کے اذکار دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک کو «تہلیل» کہا جاتا ہے اور دوسرا کھڑے ہو کر کیا جانے والا ذکر ہے جسے «ہرہ» کہا جاتا ہے۔
پہلی قسم کے ذکر میں وہ حلقہ بنا کر بیٹھتے ہیں اور شیخ یا خلیفہ ذکر کی قیادت کرتا ہے۔ وہ مریدوں کے حلقے میں بیٹھ کر ہاتھ میں تسبیح لے کر درویشوں کے ذکر کی رہنمائی کرتا ہے۔
جبکہ کھڑے ہو کر ہونے والے ذکر «ہرہ» میں درویش کھڑے ہو کر حلقہ بناتے ہیں اور خلیفہ درمیان میں کھڑا ہو کر ذکر کی قیادت کرتا ہے۔ [3]
روایات و اقوال
عبدالوهاب بن احمد شعرانی نے اپنی کتاب «طبقات الکبری» میں لکھا ہے کہ شیخ عبدالقادر گیلانی فرماتے تھے: میں پچیس سال تک عراق کے بیابانوں میں تنہا، بے یار و مددگار اور آوارہ گردی کی حالت میں رہا، نہ میں کسی کو جانتا تھا اور نہ کوئی مجھے جانتا تھا۔
رجال الغیب اور جنات کی جماعتیں میرے پاس آتی تھیں اور میں انہیں خدا شناسی کی راہ سکھاتا تھا؛ اور عراق میں میرے داخلے کے آغاز میں خضر (علیہ السلام) نے میری رفاقت اختیار کی، جبکہ میں انہیں پہچانتا نہ تھا، اور انہوں نے شرط رکھی کہ میں ان کی مخالفت نہیں کروں گا۔ انہوں نے مجھ سے کہا: "یہاں بیٹھ جاؤ!" اور میں تین سال تک اسی جگہ بیٹھا رہا جہاں انہوں نے کہا تھا۔ وہ ہر سال آتے اور کہتے: "اسی جگہ رہنا یہاں تک کہ میں تمہارے پاس واپس آؤں۔" وہ مزید فرماتے ہیں: میں ایک سال تک مدائن کے کھنڈرات میں رہا اور اس دوران نفس کے ساتھ طرح طرح کے مجاہدات میں مصروف رہا؛ پانی پیتا تھا اور پھینکی ہوئی چیزیں کھا لیتا تھا، اور ایک سال تو ایسا گزرا جس میں نہ کچھ کھایا، نہ پیا اور نہ ہی سویا۔
ایک رات جب سردی بہت شدید تھی، میں نے ایوانِ کسریٰ (طاقِ کسریٰ) میں آرام کیا تو مجھ پر غسل واجب ہو گیا۔ میں اٹھا اور دریا (دجلہ) میں جا کر غسل کیا، پھر سو گیا تو دوبارہ غسل واجب ہو گیا اور میں نے جا کر غسل کیا۔ اس رات یہ عمل چالیس مرتبہ دہرایا گیا کہ میں غسل کرتا رہا۔ پھر میں ایوان کے اوپر چڑھ گیا تاکہ مجھے نیند نہ آ جائے۔[4]
ایک اور مقام پر عبدالقادر گیلانی کہتے ہیں: جب میرے نانا نے شبِ معراج، معراج کی اور سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے، تو جبرئیلِ امین پیچھے رہ گئے اور کہنے لگے: اے محمد! اگر میں انگلی کے پورے کے برابر بھی آگے بڑھا تو جل جاؤں گا۔ تب حق تعالیٰ نے اس مقام پر میری روح کو ان کے پاس بھیجا تاکہ میں سیدِ امام (علیہ وعلى آلہ السلام) سے فیض حاصل کروں۔
میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور خلافت و وراثت کی عظیم نعمت کا حق ادا کیا۔ جب میں وہاں حاضر ہوا تو میں نے براق کی منزل دیکھی، یہاں تک کہ میرے نانا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ پر سوار ہوئے اور ان کی باگ میرے ہاتھ میں تھی، یہاں تک کہ وہ مقامِ قاب قوسین یا اس سے بھی نزدیک تر پہنچ گئے۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا: "اے میرے بیٹے اور اے میری آنکھوں کے نور! یہ میرا قدم تمہاری گردن پر ہے اور تمہارے قدم تمام اولیائے الٰہی کی گردنوں پر ہوں گے۔"
پھر وہ کہتے ہیں: مجھے خدا کے عرشِ بریں تک رسائی حاصل ہوئی اور اس کے انوار مجھ پر ظاہر ہوئے اور خدا نے مجھے یہ مقام عطا فرمایا۔ اخلاقِ الٰہی سے متصف ہونے سے پہلے میں نے عرشِ الٰہی کی طرف دیکھا اور اس کی ملکوت مجھ پر آشکار ہو گئی، اور خدا نے مجھے رفعت بخشی اور میرے احوال پر نظر کر کے مجھے تاجِ وصال سے نوازا، اور وہی ہے جو عزت دیتا ہے اور مجھے تقرب کا لباس پہناتا ہے۔
متعلقہ موضوعات
حوالہ جات
مآخذ
- عبدالوهاب بن احمد شعرانی، طبقات الکبری۔ج ۱، ص ۱۱۰