مندرجات کا رخ کریں

"ایاد جمال الدین" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
ترجمه خودکار از ویکی فارسی
 
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:ایاد جمال الدین کو ایاد جمال الدین کی جانب منتقل کیا
 
(ایک دوسرے صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا)
سطر 1: سطر 1:
{{جعبہ معلومات شخصیت
 
| عنوان = ایاد جمال الدین
{{Infobox person
| تصویر = ایاد جمال الدین.jpg
| title = ایاد جمال الدین
| نام = ایاد جمال الدین
| image = ایاد جمال الدین.jpg
| نام‌های دیگر = ایاد رئوف محمد جمال الدین
| name =   ایاد جمال الدین
| سال تولد = ۱۹۶۱ ع
| other names = ایاد رئوف محمد جمال الدین
| تاریخ تولد =
| brith year =1961 ء
| محل تولد = نجف، عراق
| brith date =  
| سال درگذشت =
| birth place = نجف، عراق
| تاریخ درگذشت =  
| death year = 2026 ء
| محل درگذشت =  
| death date =27 مئی
| استادان =  
| death place = [[غزہ]]
| شاگردان =  
| teachers =  
| دین = اسلام
| religion = [[اسلام]]
| مذهب = شیعہ
| faith = شیعہ
| آثار =  
| works =  
| فعالیت‌ها = رکن اور نائب صدر عراقی پارلیمان از سال ۲۰۰۵ تا ۲۰۱۰
| known for = رکن اور نائب صدر عراقی پارلیمان از سال ۲۰۰۵ تا ۲۰۱۰
| وبگاه =
}}
}}
'''ایاد جمال الدین''' (پیدائش ۱۹۶۱) ایک عراقی سیاست دان، مذہبی رہنما اور مفکر ہیں۔ وہ حزب الاحرار سے تعلق رکھتے ہیں جو اتحاد العراقیہ کی فہرست کا بھی حصہ ہے۔ وہ ۲۰۰۵ سے ۲۰۱۰ تک صوبہ ذی قار سے [[عراق]] کی پارلیمان کے رکن کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔
'''ایاد جمال الدین''' (پیدائش ۱۹۶۱) ایک [[عراق|عراقی]] سیاست دان، مذہبی رہنما اور مفکر ہیں۔ وہ حزب الاحرار سے تعلق رکھتے ہیں جو اتحاد العراقیہ کی فہرست کا بھی حصہ ہے۔ وہ ۲۰۰۵ سے ۲۰۱۰ تک صوبہ ذی قار سے [[عراق]] کی پارلیمان کے رکن کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔
 
 


==پیدائش==
==پیدائش==
ایاد رئوف محمد جمال الدین ۱۹۶۱ میں [[نجف]] میں جنوبی عراق کے شہر ناصریہ سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان میں پیدا ہوئے۔
ایاد رئوف محمد جمال الدین ۱۹۶۱ میں [[نجف]] میں جنوبی عراق کے شہر ناصریہ سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان میں پیدا ہوئے۔


==تعلیم==
==تعلیم==
وہ ۱۸ سال کی عمر تک عراق میں رہے اور اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم عراق میں ہی حاصل کی۔ ۱۹۷۹ میں [[شیعوں]] پر صدام کے دباؤ کی وجہ سے وہ عراق چھوڑ کر [[سوریہ]] اور پھر [[ایران]] چلے گئے، جہاں انہوں نے آٹھ سال تک [[حوزہ علمیہ قم]] میں درس خارج میں شرکت کرتے ہوئے دینی علوم کے ساتھ ساتھ [[فلسفہ]] اور [[تصوف]] کی تعلیم حاصل کی۔
وہ ۱۸ سال کی عمر تک عراق میں رہے اور اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم عراق میں ہی حاصل کی۔ ۱۹۷۹ میں شیعوں پر صدام کے دباؤ کی وجہ سے وہ عراق چھوڑ کر [[سوریہ]] اور پھر [[ایران]] چلے گئے، جہاں انہوں نے آٹھ سال تک حوزہ علمیہ قم میں درس خارج میں شرکت کرتے ہوئے دینی علوم کے ساتھ ساتھ فلسفہ اور عرفان کی تعلیم حاصل کی۔
 
 


==امارات کی طرف ہجرت==
==امارات کی طرف ہجرت==
۱۹۹۵ میں دبئی کے شیعوں کی دعوت پر وہ [[متحدہ عرب امارات]] چلے گئے اور ۲۰۰۳ تک وہیں رہے، اور [[صدام حسین]] کی حکومت کے زوال کے ساتھ ہی عراق واپس لوٹ آئے<ref>حوار مع المفكرالسياسي الإسلامي الشيعي اياد جمال الدين (1 من3) من موقع إيلاف نسخة محفوظة 25 مارس 2010 علی موقع واي باك مشين</ref>۔
۱۹۹۵ میں دبئی کے شیعوں کی دعوت پر وہ [[متحدہ عرب امارات]] چلے گئے اور ۲۰۰۳ تک وہیں رہے، اور [[صدام حسین]] کی حکومت کے زوال کے ساتھ ہی عراق واپس لوٹ آئے<ref>حوار مع المفكرالسياسي الإسلامي الشيعي اياد جمال الدين (1 من3) من موقع إيلاف نسخة محفوظة 25 مارس 2010 علی موقع واي باك مشين</ref>۔


==سیاسی نظریات==
==سیاسی نظریات==
ان کا ماننا ہے کہ [[جمہوریت]] کو زبردستی نافذ کیا جانا چاہیے۔ وہ مذہبی نظام یا اصطلاحاً [[ولایت فقیہ]] پر مبنی [[شیعہ]] ریاست کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں اور ایک ایسی سیکولر ریاست کے قیام کے خواہاں ہیں جو مذہبی مراجع کی مداخلت سے پاک ہو اور اقلیتوں کی [[آزادی]] کو یقینی بنائے۔ وہ عرب حکومتوں اور عوام پر بھی تنقید کرتے ہیں، جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ ایک مسخ شدہ [[اسلام]] کو اپناتے ہیں جو دہشت گردی کو ابھارتا اور اس کی حمایت کرتا ہے<ref> المفكر الشيعي إياد جمال الدين:العراق مهيأ لولاية الفقيه والميلشيات تحكمه من موقع العربية نسخة محفوظة 04 يناير 2017 علی موقع واي باك مشين</ref>۔
ان کا ماننا ہے کہ جمہوریت کو زبردستی نافذ کیا جانا چاہیے۔ وہ مذہبی نظام یا اصطلاحاً ولایت فقیہ پر مبنی [[شیعہ]] ریاست کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں اور ایک ایسی سیکولر ریاست کے قیام کے خواہاں ہیں جو مذہبی مراجع کی مداخلت سے پاک ہو اور اقلیتوں کی آزادی کو یقینی بنائے۔ وہ عرب حکومتوں اور عوام پر بھی تنقید کرتے ہیں، جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ ایک مسخ شدہ [[اسلام]] کو اپناتے ہیں جو دہشت گردی کو ابھارتا اور اس کی حمایت کرتا ہے<ref> المفكر الشيعي إياد جمال الدين:العراق مهيأ لولاية الفقيه والميلشيات تحكمه من موقع العربية نسخة محفوظة 04 يناير 2017 علی موقع واي باك مشين</ref>۔
 
وہ چار ناکام قاتلانہ حملوں سے بال بال بچے ہیں۔
وہ چار ناکام قاتلانہ حملوں سے بال بال بچے ہیں۔


==دیگر ویب سائٹس پر دیکھیں==
==دیگر ویب سائٹس پر دیکھیں==
* [https://www.youtube.com/watch?v=phTAaSs-Ryk إياد جمال الدين علی يوتوب]
* [https://www.youtube.com/watch?v=phTAaSs-Ryk إياد جمال الدين علی يوتوب]
* [http://www.memri.org/bin/french/articles.cgi?Page=archives&Area=sd&ID=SP142207 http://www.memri.org/]
* [http://www.memri.org/bin/french/articles.cgi?Page=archives&Area=sd&ID=SP142207 http://www.memri.org/]


==حوالہ جات==
==حوالہ جات==

حالیہ نسخہ بمطابق 13:36، 3 جون 2026ء

ایاد جمال الدین
پورا نامایاد جمال الدین
دوسرے نامایاد رئوف محمد جمال الدین
ذاتی معلومات
پیدائش1961 ء
پیدائش کی جگہنجف، عراق
وفات2026 ء
یوم وفات27 مئی
وفات کی جگہغزہ
مذہباسلام، شیعہ
مناصبرکن اور نائب صدر عراقی پارلیمان از سال ۲۰۰۵ تا ۲۰۱۰

ایاد جمال الدین (پیدائش ۱۹۶۱) ایک عراقی سیاست دان، مذہبی رہنما اور مفکر ہیں۔ وہ حزب الاحرار سے تعلق رکھتے ہیں جو اتحاد العراقیہ کی فہرست کا بھی حصہ ہے۔ وہ ۲۰۰۵ سے ۲۰۱۰ تک صوبہ ذی قار سے عراق کی پارلیمان کے رکن کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

پیدائش

ایاد رئوف محمد جمال الدین ۱۹۶۱ میں نجف میں جنوبی عراق کے شہر ناصریہ سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان میں پیدا ہوئے۔

تعلیم

وہ ۱۸ سال کی عمر تک عراق میں رہے اور اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم عراق میں ہی حاصل کی۔ ۱۹۷۹ میں شیعوں پر صدام کے دباؤ کی وجہ سے وہ عراق چھوڑ کر سوریہ اور پھر ایران چلے گئے، جہاں انہوں نے آٹھ سال تک حوزہ علمیہ قم میں درس خارج میں شرکت کرتے ہوئے دینی علوم کے ساتھ ساتھ فلسفہ اور عرفان کی تعلیم حاصل کی۔

امارات کی طرف ہجرت

۱۹۹۵ میں دبئی کے شیعوں کی دعوت پر وہ متحدہ عرب امارات چلے گئے اور ۲۰۰۳ تک وہیں رہے، اور صدام حسین کی حکومت کے زوال کے ساتھ ہی عراق واپس لوٹ آئے[1]۔

سیاسی نظریات

ان کا ماننا ہے کہ جمہوریت کو زبردستی نافذ کیا جانا چاہیے۔ وہ مذہبی نظام یا اصطلاحاً ولایت فقیہ پر مبنی شیعہ ریاست کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں اور ایک ایسی سیکولر ریاست کے قیام کے خواہاں ہیں جو مذہبی مراجع کی مداخلت سے پاک ہو اور اقلیتوں کی آزادی کو یقینی بنائے۔ وہ عرب حکومتوں اور عوام پر بھی تنقید کرتے ہیں، جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ ایک مسخ شدہ اسلام کو اپناتے ہیں جو دہشت گردی کو ابھارتا اور اس کی حمایت کرتا ہے[2]۔ وہ چار ناکام قاتلانہ حملوں سے بال بال بچے ہیں۔

دیگر ویب سائٹس پر دیکھیں

حوالہ جات

  1. حوار مع المفكرالسياسي الإسلامي الشيعي اياد جمال الدين (1 من3) من موقع إيلاف نسخة محفوظة 25 مارس 2010 علی موقع واي باك مشين
  2. المفكر الشيعي إياد جمال الدين:العراق مهيأ لولاية الفقيه والميلشيات تحكمه من موقع العربية نسخة محفوظة 04 يناير 2017 علی موقع واي باك مشين