مندرجات کا رخ کریں

"عمان" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(ایک ہی صارف کا 3 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
{{خانہ معلومات ملکی
| عنوان = 
| تصویر =  Oman.jpg
| نقشہ کی تصویر = 
| سرکاری نام =  سلطنت عمان (عربی: سلْطنةُ عُمان)
| پورا نام = 
| طرز حکمرانی = آئینی بادشاہت   
| دارالحکومت =  مسقط
| آبادی  =  5.600.000 نفر
| مذہب = اسلام
| سرکاری زبان = عربی
| کرنسی = عمانی ریال
}}
'''عمان''' ، [[خلیج فارس]] کے کنارے واقع ممالک میں سے ایک ہے اور اسے سلطنتِ عمان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک بادشاہی ملک ہے اور اس کا دارالحکومت مسقط ہے۔ عمان کی سرحدیں شمال مغرب میں [[متحدہ عرب امارات]]، مغرب میں [[سعودی عرب]]، جنوب مغرب میں [[یمن]] سے ملتی ہیں جبکہ اس کی [[ایران]] کے ساتھ بحیرۂ عمان کے ذریعے سمندری سرحد موجود ہے۔ عمان کے زیادہ تر علاقے کو حجر کے بڑے اور دشوار گزار پہاڑی سلسلے نے گھیر رکھا ہے۔ اس ملک میں زرخیز زمینیں اور نیم استوائی علاقے بھی پائے جاتے ہیں، جیسے صحرائے ربع الخالی۔
'''عمان''' ، [[خلیج فارس]] کے کنارے واقع ممالک میں سے ایک ہے اور اسے سلطنتِ عمان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک بادشاہی ملک ہے اور اس کا دارالحکومت مسقط ہے۔ عمان کی سرحدیں شمال مغرب میں [[متحدہ عرب امارات]]، مغرب میں [[سعودی عرب]]، جنوب مغرب میں [[یمن]] سے ملتی ہیں جبکہ اس کی [[ایران]] کے ساتھ بحیرۂ عمان کے ذریعے سمندری سرحد موجود ہے۔ عمان کے زیادہ تر علاقے کو حجر کے بڑے اور دشوار گزار پہاڑی سلسلے نے گھیر رکھا ہے۔ اس ملک میں زرخیز زمینیں اور نیم استوائی علاقے بھی پائے جاتے ہیں، جیسے صحرائے ربع الخالی۔


سطر 541: سطر 554:
عمان میں دو اہم سرکاری تعطیلات ہوتی ہیں: 18 نومبر اور 19 نومبر۔
عمان میں دو اہم سرکاری تعطیلات ہوتی ہیں: 18 نومبر اور 19 نومبر۔
18 نومبر قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، جبکہ 19 نومبر سلطان قابوس کے یوم پیدائش کے طور پر منایا جاتا تھا اور یہ بھی سرکاری تعطیل ہوا کرتی تھی۔
18 نومبر قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، جبکہ 19 نومبر سلطان قابوس کے یوم پیدائش کے طور پر منایا جاتا تھا اور یہ بھی سرکاری تعطیل ہوا کرتی تھی۔
== متعلقہ متعلقہ ==
== متعلقہ تلاشیں ==
 
* [[اباضیہ]]
* [[خلیج فارس]]


* اباضیہ
* خلیج فارس
== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
{{حوالہ جات}}
سطر 550: سطر 564:
[[زمرہ: متحدہ عرب امارات ]]
[[زمرہ: متحدہ عرب امارات ]]
[[زمرہ:ممالک]]
[[زمرہ:ممالک]]
[[fa:امارات متحده عربی]]
[[fa:عمان]]
[[fa:بحرین]]

حالیہ نسخہ بمطابق 20:54، 29 مئی 2026ء

عمان
سرکاری نامسلطنت عمان (عربی: سلْطنةُ عُمان)
طرز حکمرانیآئینی بادشاہت
دارالحکومتمسقط
آبادی5.600.000 نفر
مذہباسلام
سرکاری زبانعربی
کرنسیعمانی ریال

عمان ، خلیج فارس کے کنارے واقع ممالک میں سے ایک ہے اور اسے سلطنتِ عمان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک بادشاہی ملک ہے اور اس کا دارالحکومت مسقط ہے۔ عمان کی سرحدیں شمال مغرب میں متحدہ عرب امارات، مغرب میں سعودی عرب، جنوب مغرب میں یمن سے ملتی ہیں جبکہ اس کی ایران کے ساتھ بحیرۂ عمان کے ذریعے سمندری سرحد موجود ہے۔ عمان کے زیادہ تر علاقے کو حجر کے بڑے اور دشوار گزار پہاڑی سلسلے نے گھیر رکھا ہے۔ اس ملک میں زرخیز زمینیں اور نیم استوائی علاقے بھی پائے جاتے ہیں، جیسے صحرائے ربع الخالی۔

سن 1507ء میں پرتگال نے عمان پر قبضہ کر لیا تھا، اور یہ قبضہ 1651ء تک جاری رہا۔ بعد ازاں عمان کے قبائل متحد ہوئے اور پرتگالیوں کے خلاف جنگ کر کے اپنی آزادی حاصل کر لی۔

تاریخ

عمان کی تاریخ بہت قدیم زمانوں تک جاتی ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق عمان کی تاریخ بارہویں ہزار قبل مسیح تک پہنچتی ہے۔ اس زمانے میں عمان ابھی برفانی دور سے باہر نکلا تھا اور ایک سرسبز، زرخیز اور خوشحال سرزمین تھی۔

مختلف تاریخی مقامات اور قبرستانوں میں کھدائی کے نتیجے میں، خصوصاً ولایت بریمی (منطقہ الظاہرہ)، ولایت ابراء (منطقہ الشرقیہ)، محوت (منطقہ الوسطیٰ)، نزوی (منطقہ الداخلیہ) اور دیگر ساحلی علاقوں میں، ایسے شواہد ملے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں عمان کے فارس، ہندوستان اور بلادِ ما بین النہرین کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات تھے۔

نام گذاری

عمان کو تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے پکارا جاتا رہا ہے۔ ان میں سب سے اہم نام “مگان” یا “مجان” تھا۔ “مگان” دراصل جنوبی ایران کے ایک علاقے “مکران” سے منسوب تھا، اور اسی نام کو موجودہ عمان کے علاقے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

یہ نام کشتی سازی اور تانبے کی کانوں سے متعلق سومیری زبان کے الفاظ سے جڑا ہوا تھا۔ چونکہ عمان میں میٹھے پانی کے چشمے بکثرت تھے، اس لیے ایک زمانے میں اسے “مزون” بھی کہا جاتا تھا۔

اسی طرح “عمان” یمن کے ایک قدیم مقام کا نام بھی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سدِّ مأرب کے ٹوٹنے کے بعد عرب قبائل وہاں سے ہجرت کر کے عمان آئے۔ بعض مؤرخین کے مطابق عمان کا نام “عمان بن سبأ بن یغثان بن ابراہیم” کے نام پر رکھا گیا۔

تاریخی ادوار

تیسری ہزار قبل مسیح میں عمان

تیسری ہزار قبل مسیح میں عمان “مجان” کے نام سے مشہور تھا۔ سومیری زبان میں یہ نام کشتی سازی اور تانبے کی کانوں سے وابستہ تھا۔ عمان میں ایک خاص قسم کی کشتی بھی “مجان” کہلاتی تھی۔

تانبہ عمان کی اہم تجارتی اشیاء میں شامل تھا اور اسے “مجان” نامی کشتیوں کے ذریعے منتقل کیا جاتا تھا۔ ملک بھر میں کھدائیوں کے دوران تانبے کی کانوں کے آثار ملے ہیں۔ آج بھی تانبہ عمان کی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے، اور صحار کی کان اس ملک کی بڑی کانوں میں شمار ہوتی ہے۔

عمان کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب قدیم زمانوں سے عمان میں آباد تھے۔ قومِ عاد اور اس کے قبیلے عمان اور حضرموت کے درمیان واقع ریتلے ٹیلوں اور صحرا میں رہتے تھے۔

عمان فارس کے دور میں

چھٹی صدی قبل مسیح میں فارس کی افواج (550 تا 530 قبل مسیح) نے عمان کو فتح کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی دور میں قناتوں کا نظام متعارف کروایا گیا، جسے عربی میں “الأفلاج” کہا جاتا ہے۔

یہ آبپاشی کا نظام عمان میں بہت مشہور ہے اور آج بھی ملک میں سیکڑوں قناتیں موجود ہیں، جنہیں “الفلج” اور جمع میں “الأفلاج” کہا جاتا ہے۔

عمان میں قنات کی ایک اور قسم بھی پائی جاتی ہے جسے “داوودی” کہا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ “قناتِ داوودی” حضرت داؤد علیہ السلام کی ایجاد تھی۔

عمان ساسانی دور میں

عمان کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ساسانی دور حکومت (226ء تا 610ء) میں عمان اور یمن، ساسانی سلطنت کے زیرِ اقتدار تھے۔

عمان اور بنی ازد

تیسری صدی قبل مسیح کے آخری حصے اور دوسری صدی قبل مسیح کے آغاز میں مملکتِ سبا میں سدِّ مأرب تباہ ہو گیا۔ اس بند کے ٹوٹنے کے نتیجے میں شدید سماجی اور معاشی بحران پیدا ہوا اور سبا کے لوگ مختلف علاقوں میں منتشر ہو گئے۔ سدِّ مأرب کی تباہی کے بعد بڑا عرب قبیلہ بنی ازد عمان کی طرف ہجرت کر گیا۔

اس عظیم ہجرت میں بنی ازد اپنے سردار مالک بن فہم الازدی کی قیادت میں عمان پہنچے۔ کچھ عرصے بعد عمان میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے بعد بنی ازد نے وہاں موجود دیگر غیر ملکی اقوام کے خلاف مسلح جنگ شروع کی۔

مختصر مدت میں بنی ازد تمام بیگانہ قوتوں کو عمان سے نکالنے میں کامیاب ہو گئے، ملک میں امن و استحکام قائم کیا اور عمان میں پہلی عرب حکومت کی بنیاد رکھی۔

بنی ازد کی سب سے مشہور جنگ عمان میں مقیم ایرانیوں کے خلاف تھی، جسے “جنگِ سلوت” کہا جاتا ہے۔ سلوت ایک صحرا کا نام ہے جہاں مالک بن فہم کی قیادت میں ازد کے لشکر نے ایرانی فوج سے جنگ کی، جو اس وقت دارا بن داراب (داریوش سوم) کی سلطنت کے ماتحت تھی۔ کئی جنگوں کے بعد ایرانیوں کو عمان چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔

عرب مؤرخین لکھتے ہیں کہ بنی ازد پہاڑوں اور صحراؤں کے بادشاہ تھے۔ ان حکمرانوں کا خاندان “آل جلندی” کے نام سے معروف تھا، اور یہ سلسلہ عمان کی تاریخ میں نہایت مشہور رہا۔

عمان اسلام کے دور میں

آل جلندی کے دورِ حکومت میں اسلام عمان پہنچا۔ اس زمانے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرو بن العاص اور ابو زید الانصاری کو عمان کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے بھیجا۔ اس وقت عمان کے حکمران جیفر الجلندی اور ان کے بھائی عبدالجلندی تھے۔

عمان کے حکمرانوں نے اسلام قبول کر لیا اور عمان کے لوگ یکجا ہو کر مسلمان ہو گئے۔ اس کے بعد عمان اسلام کے اہم مراکز میں شمار ہونے لگا اور جنگِ ردہ میں اسلام کے مضبوط محافظوں میں شامل رہا۔

عمانی شخصیات نے اسلامی فتوحات میں عراق، ایران، ہندوستان، سندھ، شام، مصر، شمالی افریقہ اور اندلس تک حصہ لیا۔ عمانی اپنی تجارت کے لیے مشہور تھے اور ان کے پاس بڑے تجارتی بحری جہاز تھے جو چین اور مشرقی افریقہ تک سفر کرتے تھے۔

اس دور میں صحار عمان کی اہم تجارتی بندرگاہوں میں سے ایک تھا، جہاں سے تجارتی جہاز افریقہ، مڈغاسکر اور مشرقِ بعید تک جاتے تھے۔ لیکن چھٹی صدی ہجری کے وسط میں بنی نبهان نے اندرونی علاقوں کو اپنا مرکزِ حکومت بنایا اور ساحلی علاقوں کو چھوڑ دیا، جس کے نتیجے میں پرتگالیوں نے ان ساحلی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ بنی نبهان کی حکومت نویں صدی ہجری میں ختم ہوئی۔

پرتگالی عمان میں

سولہویں صدی عیسوی میں پرتگالی رأس الرجاء الصالح سے گزر کر مشرقی افریقہ کے ساحلی شہروں پر قابض ہو گئے، پھر وہ ہندوستان کے ساحل اور بحرِ ہند تک پہنچ گئے۔

سن 1507ء میں پرتگالیوں نے عمان پر حملہ کیا۔ عمانیوں کی سخت مزاحمت کے باوجود پرتگالی بالآخر عمان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے اور تقریباً ڈیڑھ صدی تک عمان میں رہے۔

دولتِ یعاربہ

سن 1624ء میں امام ناصر بن مرشد الیعربی کی قیادت میں “دولتِ یعاربہ” قائم ہوئی۔ امام ناصر الیعربی نے اقتدار سنبھالتے ہی پرتگالیوں کو عمان سے نکالنے کا ارادہ کیا، لیکن وہ جانتے تھے کہ یہ کام عمان کے تمام قبائل اور عوام کے اتحاد کے بغیر ممکن نہیں۔

چنانچہ انہوں نے پہلے تمام عمانیوں کو متحد کیا اور پھر پرتگالیوں کے خلاف جنگ شروع کی۔ امام ناصر بن مرشد اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ پرتگالیوں کی اصل طاقت ان کا بحری بیڑہ ہے، اس لیے انہوں نے ایک مضبوط بحریہ قائم کی، جنگی سازوسامان جمع کیا اور مکمل تیاری کے ساتھ جنگ میں اترے۔

مختصر وقت میں کئی ساحلی شہر پرتگالیوں سے آزاد کرا لیے گئے، مگر امام ناصر کی وفات ہو گئی۔ ان کے بعد امام سیف بن سلطان الیعربی نے ان کی جدوجہد جاری رکھی اور 1649ء میں مسقط کو پرتگالیوں سے آزاد کرا لیا۔

مسقط کی آزادی کے بعد پرتگالی قلعے ایک ایک کر کے سقوط پذیر ہو گئے اور بالآخر پورا عمان آزاد ہو گیا۔ عمانیوں نے صرف اپنے ملک کی آزادی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ پرتگالی طاقت کا ہندوستان، مشرقی افریقہ اور بحرِ ہند میں بھی تعاقب کیا۔

مسلسل حملوں کے بعد پرتگالیوں کو ان علاقوں سے نکال دیا گیا اور 1698ء میں وہ ہمیشہ کے لیے خطے سے بے دخل ہو گئے۔

اس عظیم کامیابی کے بعد عمان ایک طاقتور ریاست بن کر ابھرا۔ اس کے پاس بحرِ ہند کا سب سے بڑا بحری اور تجارتی بیڑہ تھا۔ عمان کی سلطنت مشرقی افریقہ کے ساحل تک پھیل گئی اور عمانی حکومت بیسویں صدی کی ساٹھ کی دہائی تک ان علاقوں اور جزیروں پر حکمران رہی۔

اس دور میں عمان خطے کے امیر ترین ممالک میں شمار ہوتا تھا۔ عمانیوں نے ملک کی ترقی پر توجہ دی، زراعت کو فروغ دیا، متعدد قناتیں تعمیر کیں، باغات لگائے اور ملک کے دفاع کے لیے اہم قلعے تعمیر کیے، جن میں قلعہ نزوی، حصن الحزم، حصن جبرین، نیز مشہور قلعہ میرانی اور قلعہ جلالی شامل ہیں جو مسقط شہر کی نگرانی کرتے تھے۔

بلوچ عمان میں

بلوچ عمان کی بڑی مقامی اقلیتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ پرتگالیوں کے خلاف جنگ میں عمانی فوج کا بڑا حصہ بلوچوں پر مشتمل تھا۔ ممباسا کی فتح بھی سلطانِ عمان کی اس فوج کے ذریعے ہوئی جس میں اکثریت بلوچ سپاہیوں کی تھی۔

دولتِ آل بوسعید

یعاربہ کی پرتگالیوں کے خلاف عظیم فتح کے بعد کچھ عرصے تک عمان میں امن، استحکام اور خوشحالی رہی، لیکن اس خاندان کے آخری دورِ حکومت میں اختلافات پیدا ہو گئے۔ اندرونی علاقوں میں بدامنی شروع ہوئی اور آہستہ آہستہ ملک شورش، انتشار اور خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔

اسی دوران صحار کے گورنر احمد بن سعید البوسعیدی نے دولتِ یعاربہ کے خلاف بغاوت کی۔ احمد بن سعید نے صحار اور رستاق کے لوگوں کو اپنے گرد جمع کیا اور ان کی مدد سے اپنے مخالفین کو شکست دی۔

سن 1744ء میں رستاق میں عوام اور اہلِ حل و عقد جمع ہوئے اور احمد بن سعید کو باضابطہ طور پر اپنا رہنما منتخب کیا اور انہیں “الامام احمد بن سعید” کا لقب دیا۔ یہی امامت اور قیادت سلطنتِ آل بوسعید کا آغاز تھی، جو آج تک عمان پر حکمران ہے۔

امام احمد بن سعید البوسعیدی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد رستاق کو اپنا دارالحکومت بنایا اور ایک مضبوط بحری فوج قائم کی تاکہ ملک کا دفاع کیا جا سکے۔ انہوں نے مسقط کو ایک اہم تجارتی مرکز میں تبدیل کیا اور ہندوستان و افریقہ کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کیے۔ ان کا بحری بیڑہ سمندری علاقوں میں وسیع اثر و رسوخ رکھتا تھا۔

اس دور میں مالابار کے بحری قزاق تجارتی جہازوں پر حملے کر کے سامان لوٹ لیا کرتے تھے۔ امام احمد بن سعید نے اپنے جنگی بحری بیڑے کے مرکزی جہاز “الرحمان” کو ان کے تعاقب میں بھیجا اور قزاقوں کے سردار کو گرفتار کر لیا۔

سن 1755ء میں جب بغداد پر حملہ آوروں اور باغیوں نے یلغار کی تو انہوں نے بغداد کے والی کی مدد کی اور بصرہ کو باغیوں سے آزاد کروایا۔

عمان اور سمندری علاقوں میں امن قائم ہونے کے بعد امام احمد بن سعید 1199 ہجری میں وفات پا گئے۔ ان کے بعد ان کے بیٹے سعید بن احمد بن سعید (1783ء تا 1784ء) عمان کے حکمران بنے۔ ان کے بعد حمد بن سعید (1784ء تا 1792ء) برسر اقتدار آئے۔ حمد بن سعید نے دارالحکومت رستاق سے مسقط منتقل کیا اور اپنا اثر مشرقی افریقہ کے ساحل تک پھیلا دیا۔

ان کے بعد سلطان بن احمد بن سعید (1792ء تا 1804ء) حکمران بنے۔ ان کے دور میں عمانی بحری بیڑے اور جہازوں کی تعداد دوگنی ہو گئی۔

بعد ازاں السلطان سعید بن سلطان (1804ء تا 1856ء) اقتدار پر فائز ہوئے۔ ان کے دور میں عمان کی بحری طاقت اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ السلطان سعید بن سلطان عمان کی تاریخ کی ایک عظیم شخصیت تھے۔ وہ نہایت ذہین، مدبر، سیاست دان، بہادر جنگجو، کامیاب تاجر اور مضبوط ارادوں کے مالک تھے۔ ان کا مشہور قول تھا:

“جو چیز تم جنگ سے حاصل نہیں کر سکتے، شاید تدبیر اور حکمت سے حاصل کر لو۔”

السید سعید بن سلطان نے اپنی 52 سالہ طویل حکمرانی میں ایک وسیع سلطنت قائم کی، جس کی حدود مشرقی افریقہ سے لے کر ایران کے ساحل تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اس زمانے میں پورا خطہ جنگ و جدال کا شکار تھا، لیکن انہوں نے ایک ماہر ملاح کی طرح عمان کی کشتی کو سلامتی کے ساحل تک پہنچایا۔

ان کی حکومت کے آغاز میں ان کے زیرِ اثر صرف عمان کے چند علاقے تھے جہاں قافلے مشکل اور غیر محفوظ راستوں سے گزرتے تھے، مگر وفات کے وقت وہ ایک وسیع و عریض سلطنت چھوڑ کر گئے جو ہزاروں کلومیٹر تک پھیلی ہوئی تھی۔

ان کی سلطنت میں عمان کے ساحل، گوادر بندرگاہ، مکران، زنگبار، پیمبا اور مشرقی افریقہ کے ساحلی علاقے شامل تھے۔ انہوں نے بندر عباس، جزیرہ قشم اور جزیرہ ہرمز کو بھی کرائے پر لیا تھا اور برطانیہ، فرانس، ہالینڈ، پرتگال اور امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے قائم کیے تھے۔

سن 1840ء میں سعید بن سلطان نے اپنے نمائندے احمد بن نعمان الکعبی کو ذاتی جہاز “سلطانہ” کے ذریعے نیویارک بھیجا، جو امریکہ جانے والا پہلا عرب سفارتی جہاز تھا۔

السید سعید بن سلطان کو سمندر سے خاص محبت تھی، اسی لیے انہیں “السید البحار” یعنی “سمندر کا سردار” کہا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بحری سفر میں گزارا۔ حتیٰ کہ ان کی وفات بھی سمندر میں ہوئی۔ سن 1856ء میں وہ اپنے ذاتی جہاز “فکتوریا” پر بحیرہ سیشیل میں وفات پا گئے، جب وہ مسقط سے زنگبار جا رہے تھے۔

السید سعید بن سلطان کی وفات کے بعد عمان نے مختلف نشیب و فراز دیکھے۔ کبھی روشن اور خوشحال دور آیا اور کبھی تاریکی اور بدامنی کا زمانہ رہا، یہاں تک کہ 23 جولائی 1970ء کو سلطان قابوس بن سعید آل بوسعید تخت نشین ہوئے۔

محمد رضا شاہ پہلوی کے دور میں جب عمان اور ظفار میں بائیں بازو کے مسلح گروہوں نے تحریک شروع کی تو ایران نے عمانی حکومت کی مدد کے لیے اپنی فوج بھیجی۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عمان کی آبادی کا تقریباً ایک تہائی حصہ بلوچ قومیت پر مشتمل ہے، جو انتظامی اور فوجی شعبوں میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔

اہم شہر

شہرِ مسقط

مسقط عمان کا دارالحکومت اور سیاسی و اقتصادی اعتبار سے سب سے اہم شہر ہے۔ یہ سلطان قابوس بن سعید کی سلطنت کے تحت ایک آئینی حکومت رکھتا ہے۔ مسقط عمان کا سب سے بڑا شہر اور صوبہ مسقط کا مرکز ہے، جہاں تقریباً آٹھ لاکھ افراد آباد ہیں۔

عربی زبان میں “مسقط” کے معنی “گرنے کی جگہ” یا “لنگر انداز ہونے کی جگہ” کے ہیں۔ انیسویں صدی میں یونانی مصنفین اور دیگر سیاحوں نے اس نام کو بحری جہازوں کے لنگر انداز ہونے سے منسوب کیا۔ بعض ماہرینِ لسانیات کے مطابق “مسقط” فارسی کے قدیم لفظ “مشکت” سے نکلا ہے، جس کا مطلب “تیز خوشبو” ہے۔

مسقط کی تاریخ 900 سال سے زیادہ پرانی ہے اور یہ بارہویں صدی عیسوی میں آباد ہوا۔ اس شہر کی معیشت تجارت، مختلف صنعتوں، لکڑی کے کام اور ماہی گیری پر قائم ہے۔ یہاں کے لوگ سونے چاندی کے زیورات، دستکاری اور دیگر روایتی صنعتوں سے روزگار حاصل کرتے ہیں۔

مسقط کی مشہور سوغاتوں میں عمانی حلوہ یا مسقطی حلوہ خاص اہمیت رکھتا ہے، جو نہایت لذیذ اور مشہور ہے۔

مسقط ایک ساحلی شہر ہے، جہاں ساحلوں پر مچھلیوں کا شکار عام منظر ہے۔ ساحلی آبادی کی اکثریت ماہی گیر ہے، اور ان کے لیے “سداب” نامی ایک جدید بستی تعمیر کی گئی ہے جہاں حکومت نے ماہی گیروں کو مفت مکانات فراہم کیے ہیں۔

مسقط میں بے شمار تاریخی اور سیاحتی مقامات موجود ہیں، جن میں قلعہ جلالی، قلعہ میرانی، بلدۃ السیفہ، دیوارِ مسقط، تاریخی مکانات، الخیران، بندر روضہ میری ٹائم کلب، عمان ڈائیونگ کلب، ساحل البستان، ساحل قنتب، ساحل الجصہ، عمان میوزیم، عمان و فرانس میوزیم، بیت الزبیر میوزیم، عمانی سکوں اور کرنسی کا میوزیم شامل ہیں۔

اسی طرح بیت جریزه، بیت فرنسا، بیت مغب، بیت السید نادر اور بیت الخارجیہ بھی مسقط کے مشہور سیاحتی مقامات میں شمار ہوتے ہیں۔

شہر صلالہ

عمان کے اہم شہروں میں سے ایک صلالہ ہے، جسے مقامی لوگ “ولایت صلالہ” بھی کہتے ہیں۔ یہ عمان کے صوبہ ظفار کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت ہے۔ صلالہ عمان کی اہم بندرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس شہر کے شمال میں خشک پہاڑی علاقے جبکہ جنوب میں سرسبز جنگلات اور ساحلی پٹی موجود ہے۔

حال ہی میں امریکہ نے عمان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت وہ دقم اور صلالہ کی بندرگاہوں کو استعمال کر سکے گا۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ تقریباً بیس سال قبل ایرانی کمپنی “مپنا” نے اس شہر میں ری سوت پاور پلانٹ تعمیر کیا تھا۔

مسقط کے بعد صلالہ عمان کا دوسرا بڑا شہر ہے، اور اس کی آبادی نواحی علاقوں سمیت تقریباً تین لاکھ پچاس ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ صلالہ عمانیوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ سلطان قابوس بن سعید کی جائے پیدائش ہے، اور وہ زیادہ تر اسی شہر میں قیام کرتے تھے۔

اگر آپ عمان اور خصوصاً صلالہ کی سیر کا ارادہ رکھتے ہیں تو خزاں کے موسم میں جانا بہتر ہے تاکہ آپ صلالہ کے مشہور خزاں فیسٹیول میں شرکت کر سکیں۔ یہ میلہ ہر سال خزاں میں منعقد ہوتا ہے اور عمان و خلیجی ممالک سے بڑی تعداد میں سیاح یہاں آتے ہیں۔

اس موسم میں صلالہ کا موسم نہایت خوشگوار ہو جاتا ہے، مون سون کی بارشیں ہوتی ہیں اور پورا شہر سرسبز ہو جاتا ہے۔ ساحلی علاقوں میں ناریل اور کیلے کے درخت بکثرت پائے جاتے ہیں، جو شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔

مذہبی اعتبار سے بھی صلالہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہاں حضرت عمران علیہ السلام (جنہیں حضرت مریمؑ کے والد کہا جاتا ہے) کا مزار موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی قبر دنیا کی سب سے لمبی قبر ہے، جس کی لمبائی تقریباً 30 میٹر ہے۔

شہر بوشر

بوشر عمان کے خوبصورت شہروں میں سے ایک ہے، جو صوبہ مسقط میں واقع ہے۔ اگر آپ مسقط جائیں تو آسانی سے بوشر کی سیر بھی کر سکتے ہیں۔ یہ شہر جنوب مغرب میں پہاڑ اور سمندر کے درمیان واقع ہے اور کئی چھوٹے شہروں اور دیہات پر مشتمل ہے۔

بوشر عمان کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے اور اس کی تاریخ دوسری ہزار قبل مسیح تک پہنچتی ہے۔ یہاں کئی تاریخی قلعے موجود ہیں جو اس علاقے کی قدامت کے گواہ ہیں۔

سن 2010ء تک بوشر کی آبادی تقریباً دو لاکھ تھی۔ یہاں کے لوگ عرب، اہلِ سنت اور فقہِ مالکی سے تعلق رکھتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ زراعت سے وابستہ ہیں اور “الافلاج” نامی قناتی نظام کے ذریعے اپنی زمینوں کو سیراب کرتے ہیں۔

شہر بہلا

بہلا عمان کے خوبصورت ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے اور صوبہ الداخلیہ میں واقع ہے۔ یہ شہر بھی بوشر کی طرح بہت قدیم ہے اور اسلام کے ظہور سے پہلے آباد تھا۔

بہلا میں بے شمار تاریخی عمارتیں اور آثار موجود ہیں جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ عمان کے مشہور سیاحتی شہروں میں شامل ہے اور یہاں کی آبادی تقریباً باون ہزار سے کم ہے۔

شہر خصب

خصب عمان کی سلطنت کے صوبہ مسندم میں واقع ہے۔ یہ عمان کے ان شہروں میں شامل ہے جو ایران کے سب سے قریب ہیں۔ یہ شہر آبنائے ہرمز کے کنارے واقع ہے اور رأس الخیمہ سے تقریباً سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

خصب کی آبادی تقریباً سترہ ہزار ہے۔ یہاں کے زیادہ تر لوگ اہلِ سنت اور فقہِ مالکی سے تعلق رکھتے ہیں اور ماہی گیری کرتے ہیں۔ شہر کی معیشت ماہی گیری اور کشتی سازی پر قائم ہے۔

ایران اور خصب کے درمیان سامان کی اسمگلنگ بھی عام رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں اس شہر میں سیاحت نے کافی ترقی کی ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مسندم اور خصب تک زمینی راستہ متحدہ عرب امارات کے شہر رأس الخیمہ سے گزرتا ہے۔ یہ ساحلی سڑک بخا سے ہوتی ہوئی خصب اور مسندم تک پہنچتی ہے۔

خصب میں کئی تاریخی آثار موجود ہیں، جن میں سب سے مشہور قلعہ خصب ہے، جو آل بوسعید کے دور میں تعمیر ہوا اور 1990ء میں اس کی مرمت کی گئی۔ اس کے علاوہ قلعہ الکمازرہ، برج السیبه، برج کبس القصر اور قدیم مساجد بھی اہم تاریخی مقامات میں شامل ہیں۔

خصب کے دیہاتوں کی مساجد روایتی طرزِ تعمیر پر بنی ہوئی ہیں۔ مسجد جامع السیبه اس علاقے کی قدیم ترین مسجد سمجھی جاتی ہے۔ اگر آپ عمان جائیں تو خصب کی سیر ضرور کریں۔

شہر مرباط

مرباط عمان اور صوبہ ظفار کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ صلالہ کے مشرق میں تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اگر آپ صلالہ جائیں تو مرباط کی تاریخی سیر بھی ضرور کریں۔

یہ شہر چوتھی صدی ہجری سے آباد ہے، اسی لیے مختلف حکومتوں اور سلطنتوں نے یہاں حکمرانی کی۔ اس کی آبادی تقریباً بارہ ہزار افراد پر مشتمل ہے۔

مرباط کے تاریخی مقامات میں سابق حکمرانوں کے مزارات شامل ہیں، جیسے زہیر کا مزار جو سمندر کے کنارے جنوبِ مرباط میں واقع ہے، نیز السید محمد بن علی بن علوی اور الشیخ محمد بن علی القلعی کے مزارات بھی اہم ہیں۔ الشیخ محمد بن علی القلعی کا انتقال 577 ہجری میں ہوا تھا۔

عمان کے شہروں کی سیر کے لیے سردیوں کے اختتام اور خزاں کے آغاز کا موسم بہترین سمجھا جاتا ہے تاکہ صحرا کی شدید گرمی سے بچا جا سکے۔

شہر صلالہ

عمان کے اہم شہروں میں سے ایک صلالہ ہے، جسے مقامی لوگ “ولایت صلالہ” بھی کہتے ہیں۔ یہ عمان کے صوبہ ظفار کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت ہے۔ صلالہ عمان کی اہم بندرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس شہر کے شمال میں خشک پہاڑی علاقے جبکہ جنوب میں سرسبز جنگلات اور ساحلی پٹی موجود ہے۔

حال ہی میں امریکہ نے عمان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت وہ دقم اور صلالہ کی بندرگاہوں کو استعمال کر سکے گا۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ تقریباً بیس سال قبل ایرانی کمپنی “مپنا” نے اس شہر میں ری سوت پاور پلانٹ تعمیر کیا تھا۔

مسقط کے بعد صلالہ عمان کا دوسرا بڑا شہر ہے، اور اس کی آبادی نواحی علاقوں سمیت تقریباً تین لاکھ پچاس ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ صلالہ عمانیوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ سلطان قابوس بن سعید کی جائے پیدائش ہے، اور وہ زیادہ تر اسی شہر میں قیام کرتے تھے۔

اگر آپ عمان اور خصوصاً صلالہ کی سیر کا ارادہ رکھتے ہیں تو خزاں کے موسم میں جانا بہتر ہے تاکہ آپ صلالہ کے مشہور خزاں فیسٹیول میں شرکت کر سکیں۔ یہ میلہ ہر سال خزاں میں منعقد ہوتا ہے اور عمان و خلیجی ممالک سے بڑی تعداد میں سیاح یہاں آتے ہیں۔

اس موسم میں صلالہ کا موسم نہایت خوشگوار ہو جاتا ہے، مون سون کی بارشیں ہوتی ہیں اور پورا شہر سرسبز ہو جاتا ہے۔ ساحلی علاقوں میں ناریل اور کیلے کے درخت بکثرت پائے جاتے ہیں، جو شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔

مذہبی اعتبار سے بھی صلالہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہاں حضرت عمران علیہ السلام (جنہیں حضرت مریمؑ کے والد کہا جاتا ہے) کا مزار موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی قبر دنیا کی سب سے لمبی قبر ہے، جس کی لمبائی تقریباً 30 میٹر ہے۔

شہر مرباط

مرباط عمان اور صوبہ ظفار کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ صلالہ کے مشرق میں تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اگر آپ صلالہ جائیں تو مرباط کی تاریخی سیر بھی ضرور کریں۔

یہ شہر چوتھی صدی ہجری سے آباد ہے، اسی لیے مختلف حکومتوں اور سلطنتوں نے یہاں حکمرانی کی۔ اس کی آبادی تقریباً بارہ ہزار افراد پر مشتمل ہے۔

مرباط کے تاریخی مقامات میں سابق حکمرانوں کے مزارات شامل ہیں، جیسے زہیر کا مزار جو سمندر کے کنارے جنوبِ مرباط میں واقع ہے، نیز السید محمد بن علی بن علوی اور الشیخ محمد بن علی القلعی کے مزارات بھی اہم ہیں۔ الشیخ محمد بن علی القلعی کا انتقال 577 ہجری میں ہوا تھا۔

عمان کے شہروں کی سیر کے لیے سردیوں کے اختتام اور خزاں کے آغاز کا موسم بہترین سمجھا جاتا ہے تاکہ صحرا کی شدید گرمی سے بچا جا سکے۔

عمان اور مسلمانوں کے قدیم ترین فرقوں میں سے ایک

عمان کے سرکاری مذہب “اباضیہ” کے بارے میں:

اباضیہ یا اِباضیّہ ایک اسلامی فرقہ ہے جو عبداللہ بن اباض تمیمی سے منسوب ہے اور مسلمانوں کے درمیان قائم ہونے والے قدیم ترین فرقوں میں شمار ہوتا ہے۔

اگرچہ یہ فرقہ مسلمانوں کی اکثریت یعنی اہلِ سنت اور شیعہ کے مقابلے میں ایک چھوٹا گروہ سمجھا جاتا ہے، لیکن تاریخی اعتبار سے اور اسلامی فرقوں و مذاہب کے مطالعے میں اس کی بہت اہمیت ہے۔ اس فرقے کے ماننے والے عمان، زنگبار اور شمالی افریقہ میں آباد ہیں۔

اگرچہ اباضیوں کو خوارج میں شمار کیا گیا ہے اور بعض عقائد میں وہ خوارج سے مشابہت رکھتے ہیں، لیکن بعد کے اباضی علماء خود کو خوارج کہلانے سے انکار کرتے ہیں۔ انہوں نے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ معاملات میں خوارج کے مقابلے میں نسبتاً معتدل راستہ اختیار کیا۔

اباضی معاشرے طویل عرصے تک نسبتاً الگ تھلگ رہے، اسی لیے ان کے بارے میں زیادہ معلومات عام نہیں ہو سکیں۔ بظاہر اباضیہ خوارج کا واحد باقی رہ جانے والا گروہ ہے، اگرچہ تاریخی ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ صفریہ (خوارج کا ایک اور گروہ) بھی پانچویں صدی ہجری / گیارہویں صدی عیسوی تک اسلامی سرزمینوں میں موجود تھا، لیکن بعد میں وہ اباضیوں میں ضم ہو گیا۔

ماضی میں اباضی وسیع علاقوں، حتیٰ کہ اندلس تک پھیلے ہوئے تھے۔ آج بھی ان کے گروہ عمان، زنگبار اور شمالی افریقہ میں آباد ہیں۔

عمان

آج عمان کے بیشتر قبائل اور عوام کا مذہب اباضیہ ہے، اور اس ملک کے سلطان قابوس بھی اسی مذہب سے تعلق رکھتے تھے، اگرچہ وہ قوم کے مذہبی پیشوا نہیں سمجھے جاتے تھے۔

زنگبار

زنگبار میں ایک زمانے میں بڑی تعداد میں اباضی موجود تھے، لیکن آج غالباً وہاں کے لوگ شافعی مذہب رکھتے ہیں اور صرف حکمران خاندان اور ان کے قریبی افراد اباضی ہیں۔ تنزانیہ میں بھی کبھی اباضی آباد تھے اور ممکن ہے آج بھی کچھ موجود ہوں۔

شمالی افریقہ

شمالی افریقہ کے بربر قبائل میں بھی اباضیہ کا خاص اثر رہا ہے۔ آج بھی جبل نفوسہ اور زوارہ (طرابلس)، جزیرہ جربہ (تونس) اور وادی میزاب (الجزائر) میں اباضی آباد ہیں۔

مومباسا

ممکن ہے کہ کینیا کے شہر مومباسا اور بعض دور افتادہ علاقوں میں بھی اباضیوں کے چند چھوٹے گروہ موجود ہوں۔

اباضیوں کے نام

اباضی اپنے آپ کو “اہل الحق”، “اہل الدعوۃ”، “اصحاب الدعوۃ” اور “اہل الوفاق” کہتے ہیں، جبکہ اپنے مذہب کو “الدعوۃ”، “مذہب الحق”، “فرقہ المحقہ” اور “فرقہ ناجیہ” کے نام دیتے ہیں۔

وہ اپنے مذہب کو سب سے قدیم اسلامی مذہب، دورِ نبوت کے قریب ترین اور اسلام کی روح سے سب سے زیادہ ہم آہنگ سمجھتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ چونکہ وہ اہلِ حق ہیں، اس لیے آخرکار ان کا مذہب غالب آئے گا۔

ایسے دعوے صرف اباضیوں تک محدود نہیں، لیکن خوارج میں اس قسم کے عقائد عام تھے۔ وہ اپنی حقانیت پر اس قدر زور دیتے تھے کہ اپنے علاوہ دوسروں کو کافر سمجھتے تھے، اگرچہ ان کے نزدیک کفر کے مفہوم میں فرق پایا جاتا تھا۔

اہلِ سنت سے قربت

اباضیوں میں نسبتاً اعتدال اور شدت پسندی سے دوری نے انہیں خوارج کے دیگر فرقوں کے مقابلے میں اہلِ سنت کے زیادہ قریب کر دیا ہے۔

وقت کے ساتھ بعض اباضی گروہ اہلِ سنت کے مزید قریب ہو گئے، یہاں تک کہ آج لیبیا اور تیونس کے اباضیوں میں اہلِ سنت سے بہت کم فرق باقی رہ گیا ہے، جبکہ الجزائر اور عمان کے اباضی اب بھی بڑی حد تک قدیم اباضی روایات پر قائم ہیں۔

خوارج سے نسبت کا انکار

اباضی چونکہ ابتدا ہی سے خوارج کی بعض شدت پسندانہ روشوں سے متفق نہیں تھے، اس لیے انہوں نے اپنے آپ کو خوارج سے منسوب کرنے سے انکار کیا۔

مشہور اباضی مورخین جیسے برّادی اپنی کتاب “جواہر المنتقات” اور شماخی اپنی کتاب “السیر” میں اباضی فرقے کی ابتدا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت سے بیان کرتے ہیں، اور اسے حضرت علی علیہ السلام کے لشکر میں خوارج کے خروج سے بھی قدیم قرار دیتے ہیں۔

ان کے مطابق حضرت عثمان کے بعض اقدامات، جو ان کے قتل کا سبب بنے، اباضی مخالفت کی بنیاد تھے۔

بہرحال موجودہ اباضی اس بات کو اپنے لیے ظلم سمجھتے ہیں کہ انہیں خوارج میں شمار کیا جائے، اور وہ خود کو خوارج سے سب سے زیادہ الگ اور مختلف گروہ قرار دیتے ہیں۔

ابتدائی اباضی اس معاملے میں اتنے حساس نہیں تھے، بلکہ بعض اوقات وہ خود کو “محکّمۂ اولیٰ” کے دوست کہتے تھے۔

درجینی نے اباضی مشائخ کی پہلی جماعت کا ذکر کرتے ہوئے صحابۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے پہلے عبداللہ بن وہب الراسبی کا نام لیا ہے، اور ان کے بعد حرقوص بن زہیر کا ذکر کیا ہے۔ یہ دونوں خوارج کے ابتدائی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے، جنہوں نے تحکیم کے مسئلے پر حضرت علی علیہ السلام کے خلاف خروج کیا تھا۔

اباضیہ کے نزدیک خوارج کی تعریف

اباضیہ “خوارج” کا لفظ ان لوگوں کے لیے استعمال نہیں کرتے جنہوں نے حضرت علی علیہ السلام کے خلاف بغاوت کی یا ان سے علیحدگی اختیار کی، بلکہ ان کے نزدیک خوارج وہ لوگ ہیں جو اسلام سے خارج ہو جائیں۔

ان کے عقیدے کے مطابق اسلام سے خروج یا تو دین کے کسی قطعی اور ثابت حکم کے انکار سے ہوتا ہے، یا ایسے عمل سے جو واضح طور پر دینی نصوص کے خلاف ہو، کیونکہ ایسا عمل بھی درحقیقت انکار کے مترادف ہے۔

اباضیوں کے نزدیک اس تعریف کے سب سے قریب ازارقہ ہیں، کیونکہ وہ مسلمانوں کے خون، مال اور عورتوں و بچوں کو حلال سمجھتے تھے۔ اسی لیے عبداللہ بن اباض نے عبدالملک بن مروان کو اپنے ایک خط میں واضح طور پر ابنِ ازرق اور اس کے پیروکاروں سے براءت ظاہر کی اور انہیں کافر قرار دیا۔

اباضیہ دیگر خوارج کی طرح یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ امامت ایک شرعی حق ہے اور اس میں شک جائز نہیں۔ ان کے مطابق حضرت علی علیہ السلام نے حکمیت قبول کر کے اس حق میں تردد ظاہر کیا، لہٰذا لوگوں کی گردن سے ان کی بیعت ساقط ہو گئی اور انہیں یہ حق حاصل ہو گیا کہ وہ کسی دوسرے خلیفہ کا انتخاب کریں۔

آج کے اباضی اہلِ نہروان کی تعریف کرتے ہیں اور مسلمانوں کی اکثریت کے برخلاف حضرت علی علیہ السلام کو ان کے خلاف جنگ میں برحق نہیں سمجھتے۔

دیگر خلفائے راشدین کے بارے میں بھی اباضیہ کے نظریات دیگر خوارج سے مشابہ ہیں۔ عبداللہ بن اباض نے عبدالملک بن مروان کو لکھے گئے خط میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر یہ اعتراض کیا کہ انہوں نے دین میں بدعات پیدا کیں اور اپنے اسلاف کے طریقے سے انحراف کیا، اور ان کا طریقہ سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف تھا۔

اباضیہ تیرہ گروہوں پر مشتمل ہیں، جن میں سب سے بڑا اور اہم گروہ “وہبیہ” یا “وهابیہ” ہے، جو عبدالوهاب کی امامت پر ایمان رکھتا ہے۔

اباضیہ حکومت کی بنیاد مذہب پر رکھتے ہیں اور حکم کو صرف اللہ تعالیٰ کا حق سمجھتے ہیں، کیونکہ اباضی مذہب بھی دیگر خوارج کے مذاہب کی طرح “لا حکم الا للہ” کے اصول پر قائم ہے۔

ان کے نزدیک امامت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خلافت ہے، جس کا مقصد دین کا قیام اور اسلام کا تحفظ ہے۔ اسی لیے وہ عادل امام کے تقرر کو واجب سمجھتے ہیں، کیونکہ امر بالمعروف، نہی عن المنکر، حدود کا قیام، عدل و انصاف اور ظلم کے خاتمے کو ضروری قرار دیتے ہیں۔

اباضی امامت کے ادوار

1۔ عمان میں اباضی فکر اور حکومت کو رواج دینے کے لیے جابر بن زید، ابو عبیدہ مسلم بن ابی کریمہ اور ربیع بن حبیب فراہیدی جیسے علماء نے بہت کوششیں کیں، یہاں تک کہ جلندی بن مسعود نے ان کی محنت کو کامیابی تک پہنچایا اور عمان میں اباضی حکومت قائم کی۔

2۔ اباضی امامت کا پہلا دور 132 ہجری میں جلندی بن مسعود کے اقتدار سے شروع ہوا۔ وہ حق پسند اور عادل شخصیت تھے جنہوں نے عمان کو ظالم حکمرانوں سے آزاد کرایا۔ ان کے دور میں پہلی مرتبہ منظم انتظامی اصلاحات ہوئیں۔ تاہم عباسی لشکر کے حملے اور ان کی شہادت کے بعد یہ دور ختم ہو گیا اور عمان دوبارہ کمزور حکمرانوں کے قبضے میں چلا گیا۔

3۔ اباضی امامت کا دوسرا دور 177 ہجری میں شبیب بن عطیہ کی قیادت میں شروع ہوا اور 280 ہجری تک جاری رہا۔ یہ دور اباضیہ عمان کی سیاسی، عسکری اور دینی طاقت کے عروج کا زمانہ سمجھا جاتا ہے۔ قبائلی جنگیں اور اباضی فقہاء کی فعال سیاسی شرکت اس دور کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ 280 ہجری میں عباسی فوج کے حملے اور اباضی امام کی شہادت کے ساتھ یہ دور ختم ہو گیا۔

4۔ سن 280 ہجری کے بعد تقریباً چالیس سال تک عباسیوں کا عمان پر تسلط رہا اور اباضیہ سیاسی و ثقافتی اعتبار سے کمزور ہو گئے۔

5۔ اباضی امامت کا تیسرا دور 320 ہجری میں سعید بن عبداللہ کے اقتدار سے شروع ہوا۔ اس زمانے میں نیم خودمختار حکومتوں کا قیام، اباضیوں کے اندر اختلافات، قضا کے منصب کی بلند حیثیت، اور دیگر حکومتوں کے ساتھ تعلقات اس دور کی نمایاں خصوصیات تھیں۔

6۔ نویں اور دسویں صدی ہجری میں استعماری طاقتوں کی آمد اور دینی و سیاسی نظامِ امامت کی کمزوری نے مغربی طاقتوں کو عمان میں قدم جمانے کا موقع دیا۔

7۔ آج اباضیوں کی سب سے بڑی آبادی عمان میں ہے، لیکن الجزائر، لیبیا، تنزانیہ، زنگبار، روانڈا اور برونڈی میں بھی ان کے پیروکار موجود ہیں۔

8۔ موجودہ دور میں اباضیہ سیاسی اور سماجی لحاظ سے فعال ہیں اور عمان و خلیج فارس کی معاصر سیاست پر اثر رکھتے ہیں۔ شیخ احمد بن حمد الخلیلی، شیخ ابو الیقظان اور ابراہیم بیوض اس مذہب کے معروف علماء میں شمار ہوتے ہیں۔

اباضیہ اور دیگر اسلامی مذاہب

اباضی اپنے مذہب کے فروغ اور بقا کے لیے مبلغین سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس فرقے کے پیروکاروں کے دیگر اسلامی فرقوں، خصوصاً شیعہ اور اہلِ بیت کے ماننے والوں کے ساتھ تعلقات عموماً اچھے اور دوستانہ ہیں۔

اس وقت عمان کے مفتی شیخ احمد بن حمد الخلیلی ہیں، جو ایک معتدل شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور شیعوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔ وہ 1942ء میں زنگبار میں پیدا ہوئے۔ ان کے آباء و اجداد اپنے زمانے کے قاضی القضات تھے اور ان کا خاندان عمان کے صوبہ الداخلیہ کی ولایت بہلا کے علمی و معزز خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔

انہوں نے اباضی فقہ اور دینی علوم کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور متعدد کتابیں تصنیف کیں، جن میں “جواہر التفسیر” خاص شہرت رکھتی ہے۔

مصنف کے مطابق ان سے پہلی ملاقات 1376 شمسی میں مکہ مکرمہ میں ہوئی، جہاں دو راتیں ان کے ساتھ نشست رہی۔ انہوں نے اپنی تفسیر “جواہر” کے مکمل نسخے، نیز “الاجتهاد” اور “الفتاویٰ” جیسی کتابیں تحفے میں بھیجیں۔

سلطان قابوس ان کا خاص احترام کرتے تھے۔ عمان میں مختلف مذاہب کو عزت دی جاتی ہے، اور شیعہ اگرچہ اقلیت میں ہیں، مگر انہیں اپنے مذہبی شعائر کی مکمل آزادی حاصل ہے۔

شیعہ عمان کے مختلف شہروں اور بیس سے زیادہ دیہاتوں میں آباد ہیں۔ عمان مذہبی آزادی کو تسلیم کرتا ہے، اسی لیے شیعہ اپنی دینی تقریبات اور مذہبی تعلیمات آزادانہ طور پر انجام دیتے ہیں۔ ان کے اپنے علماء بھی موجود ہیں، جبکہ دیگر ممالک سے بھی علماء مذہبی تعلیم اور مجالسِ حسینی کے انعقاد کے لیے عمان آتے ہیں۔

عمان کی آبادی تقریباً 56 لاکھ ہے، جن میں موجودہ معلومات کے مطابق تقریباً ایک لاکھ شیعہ ہیں۔ ان کے پاس تقریباً 50 مساجد اور 70 حسینیے ہیں، اور کم تعداد کے باوجود سیاسی اور بالخصوص معاشی میدان میں ان کا اثر و رسوخ نمایاں ہے۔

عمان میں شیعہ

عمان میں شیعہ آبادی کو تین بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:

پہلا گروہ “اللواتیہ” کہلاتا ہے۔ یہ عمان کے معاشرے کا ایک خوشحال طبقہ سمجھا جاتا ہے اور ملک کے کئی اہم سرکاری عہدوں پر فائز ہیں۔ بعض لوگوں کے مطابق یہ لوگ تقریباً 50 سال قبل تجارت کی غرض سے برصغیر ہند سے عمان آئے تھے اور بعد میں یہیں مستقل طور پر آباد ہو گئے۔

اس گروہ نے ایک الگ سماجی شناخت قائم کر رکھی ہے اور عمان کی تجارتی منڈیوں میں ان کا خاصا اثر و رسوخ ہے۔ ان میں سے کئی افراد سرکاری ملازمتوں اور انتظامی امور سے بھی وابستہ ہیں۔

اپنی مضبوط معاشی حیثیت اور مسلسل بھارت کے سفر، قم کے دینی مراکز کے دوروں اور عراق کے مقدس مقامات کی زیارت کی وجہ سے یہ گروہ علاقائی و عالمی حالات سے بھی خاصی آگاہی رکھتا ہے۔

دوسرا گروہ “بحارِ نہ” کے نام سے معروف ہے۔ تاریخی طور پر خلیج فارس کے مختلف علاقوں میں شیعہ برادری کو مشکلات کا سامنا رہا، جس کے نتیجے میں ان میں سے کئی افراد شمالی علاقوں سے ہجرت کر کے جنوبی خلیجی علاقوں میں آ بسے۔

ان میں سے بڑی تعداد بحرین، الاحساء، قطیف، بصرہ اور بعض افراد خوزستان منتقل ہوئے اور وہاں تجارت اور روزگار سے وابستہ ہو گئے۔

اگرچہ یہ گروہ پہلے گروہ کے مقابلے میں تعداد میں کم ہے، لیکن بعض ذرائع کے مطابق ان کا سیاسی اثر و رسوخ نمایاں ہے اور بعض افراد سلطنتی اداروں میں بھی کام کرتے رہے ہیں۔

مثال کے طور پر 1970ء میں ایک شیعہ شخصیت وزیر صحت رہی ہے، اور عمان کے پہلے امریکی سفیر کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ شیعہ تھے۔ اسی طرح “لجینہ بنت محسن حیدر درویش” ایک شیعہ خاتون ہیں جو عمانی پارلیمنٹ کی رکن رہی ہیں اور 2006ء میں فوربز میگزین نے انہیں دنیا کی 100 بااثر شخصیات میں شامل کیا تھا۔

تیسرا گروہ فارسی النسل شیعہ ہیں جو ایران سے عمان ہجرت کر کے آئے تھے۔ یہ گروہ آج بھی اپنی مخصوص مساجد، حسینیوں اور فلاحی اداروں جیسے قرضِ حسنہ فنڈز، یتیموں کی مدد کرنے والے ادارے اور اوقافِ جعفریہ کو منظم طریقے سے چلاتا ہے۔

یہ عمان میں شیعہ برادری کے اہم قبائل میں شمار ہوتے ہیں اور ان میں سے کئی افراد حکومتی اداروں میں بھی خدمات انجام دیتے ہیں۔

اگرچہ شیعہ عمان میں ایک اقلیت ہیں، لیکن وہ معاشی طور پر کافی مضبوط سمجھے جاتے ہیں۔ بہت سے شیعہ بڑے صنعتی اور تجارتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ملک کی قومی ترقیاتی اسکیموں میں حصہ لیتے ہیں۔ بعض وزارتی عہدوں پر بھی شیعہ افراد کی موجودگی ان کے معاشی و صنعتی اثر و رسوخ کی نشاندہی کرتی ہے۔

شیعہ عمانی معاشرے کا ایک تعلیم یافتہ اور فعال طبقہ ہیں۔ وہ ثقافتی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے ہیں اور بہت سے افراد اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے دیگر ممالک کا سفر کرتے ہیں۔ وہ دیگر مذہبی گروہوں کے ساتھ بھائی چارے اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔

عمان میں اہلِ سنت اور شیعہ پرامن طریقے سے رہتے ہیں۔ دونوں کے عبادت خانے ایک ہی علاقوں میں موجود ہیں اور ہر گروہ اپنے طریقے سے اذان اور عبادات انجام دیتا ہے۔ بعض اوقات دونوں گروہوں کے درمیان شادی بیاہ کے تعلقات بھی پائے جاتے ہیں، جسے سماجی ہم آہنگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

چونکہ عمان کے آئین میں مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، اس لیے شیعہ ہر سال امام حسین علیہ السلام اور ان کے اہلِ بیت کی شہادت کی یاد میں مجالس اور عزاداری کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس دوران دیگر مذاہب کے لوگ بھی ان کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔

اس وقت شیعہ عمان کے مختلف شہروں جیسے مسقط، باطنہ، مطرح، سویق، خابورہ، مسندم اور صور میں آباد ہیں، تاہم ان کی بڑی تعداد مسقط اور ساحلی صوبہ باطنہ میں رہتی ہے۔ ملک میں تین وزراء اور مسقط کا ایک میئر بھی شیعہ ہیں۔ مسقط میں واقع “مسجد الرسول الاعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم” شیعہ برادری کی اہم مسجد ہے جو بحرِ ہند کے ساحل کے قریب واقع ہے[1]۔

عمان کی ممتاز شخصیات

شیخ الفقیہ احمد بن خلف بن عباد، گیارہویں صدی ہجری کے فقہاء میں سے ایک ہیں۔ ان کی کتاب “التبیہ” کی ایک نقل 1078 ہجری میں تیار کی گئی تھی۔

شیخ الثقی احمد بن خلف بن محمد الادمی، گیارہویں صدی کے علماء میں سے ایک تھے۔ فقہ میں ان کے متعدد فتاویٰ موجود ہیں۔ وہ 17 ذی الحجہ 1096 ہجری میں وفات پا گئے۔

شیخ احمد بن راشد بن سلیمان البریدی النازوی، گیارہویں صدی کے اوائل کے فقیہ اور عالم تھے۔ شیخ عبداللہ بن مبارک الرباخی البہلاوی نے ان کی تعریف میں اشعار کہے اور انہیں علم، زہد، سخاوت اور بزرگی کی صفات سے یاد کیا۔

شیخ احمد بن سالم بن احمد بن عبدالسلام النخلی، گیارہویں صدی کے نصف اول کے علماء میں سے تھے۔

شیخ احمد بن سالم بن احمد الاتمانی، گیارہویں اور بارہویں صدی کے اوائل کے علماء میں شمار ہوتے ہیں۔

شیخ احمد بن سالم بن راشد النزاوی، گیارہویں اور بارہویں صدی کے اوائل کے عالم تھے۔

شیخ احمد بن سالم بن عبداللہ بن راشد النازوی، ایک فقیہ اور شاعر تھے۔ انہوں نے “رویکرد صالحین فی بیع الخيارات” کے نام سے ایک کتاب لکھی۔

شیخ احمد بن سالم آل مزروعی السامایلی، بارہویں صدی کے فقیہ تھے۔ وہ 1177 ہجری تک زندہ رہے اور “جوابات بن عبیدان” کے دوسرے حصے کی نقل ان سے منسوب ہے۔

شیخ احمد بن سرحان بن مسعود بن احمد البحری الصلیفی، گیارہویں صدی کے فقیہ تھے اور 1045 ہجری تک حیات تھے۔

شیخ احمد بن سعید بن عامر العوفی العقری النیزاوی، اپنے زمانے کے مشہور علماء عبداللہ بن محمد المددی اور محمد بن علی بن عباد النزاوی کے ہم عصر تھے اور فقہی مباحث میں فعال رہے۔

شیخ فقیہ متقی احمد بن سلیمان بن احمد العتی المنحی، بارہویں صدی کے عالم تھے اور امام سیف بن سلطان اول کے دور میں زندہ تھے۔

شیخ احمد بن سلیمان بن عبداللہ بن علی التایوانی النازوی العقری، گیارہویں صدی کے فقیہ تھے اور 1083 ہجری میں وفات پا گئے۔ وہ فقہی کتب کے مصنف تھے۔

شیخ احمد بن عبداللہ بن احمد بن الحسن بن احمد الرقیشی الازکاوی، گیارہویں صدی کے اوائل کے عالم تھے۔ انہوں نے لامیہ کے اشعار کی شرح لکھی۔

شیخ خلف بن حمصیدی البحلاوی، ایک عالم، فقیہ اور شاعر تھے۔

شیخ خلف بن سنان بن عثیم الغفری، عالم، فقیہ اور خطیب تھے۔ وہ امام سلطان بن سیف اول کے قاضی اور حاکم بھی رہے۔ وہ معروف علماء زاملی اور ابن عبیدان کے ہم عصر تھے اور امام سلطان بن سیف دوم کے دور تک زندہ رہے۔

شیخ الفقیہ خلف بن طالب بن علی بن مسعود العبری، امام سلطان بن سیف بن مالک کے دور میں سمایل کے والی تھے۔ وہ 1064 ہجری تک زندہ رہے اور کتاب “بیان الشرائع” کا حصہ مرتب کیا۔

شیخ خلف بن عبداللہ بن عبادی الراستقی، فقیہ اور شاعر تھے۔ شیخ خلف بن مبارک بن ناصر الراستقی، بارہویں صدی کے عالم تھے۔ شیخ الفقیہ خلف بن محمد المکندی النخلی، گیارہویں صدی کے فقیہ تھے اور 1094 ہجری تک زندہ رہے۔

شیخ خلف بن محمد بن خنجر الغفیلی، بارہویں صدی کے فقیہ تھے۔ شیخ خلف بن محمد بن عامر بن محمد بن خانباش، نزوی کے فقیہ تھے اور ان کے بھائی شیخ عبداللہ بن محمد بھی معروف عالم تھے۔

شیخ خلفان بن جمعہ بن محمد البلاراب السلیمانی النیزاوی، بارہویں صدی کے فقیہ تھے۔ شیخ خلفان بن عبداللہ بن خلفان الصحاری، گیارہویں صدی کے فقیہ اور شاعر تھے اور 1075 ہجری تک زندہ رہے۔

شیخ خمیس بن بشیر البروانی الحارثی، گیارہویں صدی کے فقیہ تھے۔ انہوں نے متعدد فقہی کتب اور “منهاج العدل” اور “رویکرد الطالبین” کے مختلف حصے مرتب کیے، جن میں سے ایک حصہ 1098 ہجری میں لکھا گیا۔

شیخ خمیس بن جمعہ بن عمر المحروقی، گیارہویں صدی کے فقیہ تھے اور درویش بن جمعہ المحروقی کے بھائی تھے۔

شیخ خمیس بن رویشید المجریفی الذنکی، گیارہویں صدی کے معروف علماء میں سے تھے۔ وہ ظفار کے علاقے میں پیدا ہوئے اور قبیلہ فیالین سے تعلق رکھتے تھے۔

شیخ خمیس بن سعید الشاکسی الراستقی، گیارہویں صدی کے مشہور عالم، فقیہ اور فتاویٰ نویس تھے۔ انہوں نے “منهاج العدل” اور “منهاج المریدین” جیسی کتب لکھیں اور امام ناصر بن مرشد کی بیعت کے لیے دیگر علماء کو جمع کیا۔ ان کے متعدد فرزند تھے، جن میں سعید، محمد، رشید، علی، ناصر، جاروف اور سلیم شامل ہیں۔ وہ 1070 ہجری تک زندہ رہے۔

شیخ خمیس بن سلیمان بن سعید، بارہویں صدی کے عالم تھے اور انہوں نے امام احمد بن سعید کے دور میں “منهاج العدل” کا چوتھا حصہ 1194ء میں تحریر کیا۔

شیخ خامس بن علی آل مزروعی، بارہویں صدی کے فقہاء میں سے ہیں۔ وہ قوم سامیل سے تعلق رکھتے تھے اور شیخ فقیہ سعید بن سالم بن سعید بن خلفان الفارسی السوروری کے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔

شیخ الفقیہ خامس بن غسان بن محمد الغسان، بارہویں صدی کے علماء میں سے تھے۔ شیخ خنجر بن راشد بن قاسم آل ساعلی، گیارہویں صدی کے فقیہ اور شاعر تھے۔

شیخ الفقیہ خنجر بن رمضان بن سعید النبهانی النازوی، گیارہویں صدی کے فقیہ تھے۔ وہ شیخ مسعود بن رمضان النهانی کے بھائی تھے، جو امام ناصر بن مرشد یعربی کے قاضی تھے۔

درویش بن جمعہ بن عمر المحروقی، سنہ 1020 ہجری میں عمان کے علاقے آدم میں پیدا ہوئے۔ وہ گیارہویں صدی کے معروف عالم اور امام سلطان بن سیف بن مالک کے قاضی تھے۔ ان کی کتب میں “جامع التبیان”، “شواہد فی الوسائل”، “تنبیہ الکسلان” اور “مروارید مجلل در علوم آخرت” شامل ہیں۔ ان کی وفات 16 ذی الحجہ 1086 ہجری کو شہر آدم میں ہوئی۔

شیخ رشید بن احمد بن مسعود بن سالم بن راشد، بارہویں صدی کے عمانی علماء میں سے تھے۔ وہ 1160 ہجری میں پیدا ہوئے اور انہوں نے کتاب “رویکرد الطالبین” کا پہلا حصہ لکھا۔

شیخ رشید بن خصیب الریامی، اپنے دور کے جید فقیہ اور عالم تھے۔ شیخ رشید بن خلف بن راشد العقید المنحی، بارہویں صدی کے متقی، زاہد اور دیندار علماء میں سے تھے۔ ان کے فقہی فتاویٰ مشہور ہیں۔ وہ 1071 ہجری میں امام سلطان بن سیف بن مالک کے دور میں وفات پا گئے۔

شیخ رشید بن سعید بن راشد الجهامی، بارہویں صدی کے فقیہ، متقی اور زاہد عالم تھے۔ وہ فتویٰ دینے والے ممتاز علما میں شامل تھے۔ انہوں نے 1161 ہجری میں امام بلعرب بن حمیر یعربی کے خلاف تحریک میں حصہ لیا اور 1171 ہجری میں وفات پائی۔

شیخ رشید بن سعید بن رجب الحارثی العبرووی، امام سلطان بن سیف بن مالک کے قاضی تھے۔ وہ گیارہویں صدی کے فقیہ تھے اور 1090 ہجری تک حیات تھے۔ ان کے فرزند عیسیٰ اور پوتا عامر بن عیسیٰ بھی اپنے دور کے علماء میں شمار ہوتے ہیں۔

شیخ رشید بن عبداللہ بن مبارک الکندی، گیارہویں صدی کے فقیہ تھے اور 1079 ہجری میں موجود تھے۔

شیخ رشید بن مسعود بن سعید الصلیفی، بارہویں صدی کے فقیہ تھے اور 1124 ہجری تک زندہ رہے۔

شیخ ربیعہ بن راشد الشهیدی، بارہویں صدی کے فقیہ اور امام سلطان بن سیف کے حاکم تھے۔ وہ بحرین کے گورنر بھی رہے۔

شیخ زکریا بن عبداللہ، گیارہویں صدی کے فقیہ اور شاعر تھے۔ والی شیخ سالم بن حمد بن سعید آل بوسعیدی، امام احمد بن سعید کے دور کے حکام میں سے تھے۔

شیخ سالم بن خلف الریامی المقضاحی، بارہویں صدی کے فقیہ تھے اور 1029 ہجری تک زندہ رہے۔

سالم بن خمیس المحلیوی، عالم، فقیہ اور مصنف تھے۔ وہ یعربی دور میں پیدا ہوئے اور امام سیف بن سلطان کے زمانے تک زندہ رہے۔ ان کی کتب میں “میوہ‌های بیشه” اور “اختصار و خلاصہ” شامل ہیں۔

شیخ سلیم بن خمیس العبری، بارہویں صدی کے فقیہ تھے اور فقہی مسائل پر کئی رسائل کے مصنف تھے۔

شیخ سلیم بن راشد القصابی، بارہویں صدی کے عالم تھے اور کتاب “ادبیات جامع الخیرات” کے مصنف تھے۔ انہوں نے امام احمد بن سعید کے دور میں وفات پائی۔

شیخ سلیم بن راشد الفارسی، علمی و فقہی خدمات انجام دینے والے علماء میں سے تھے۔ شیخ سالم بن راشد الفنقاوی، بارہویں صدی کے علماء میں سے تھے۔ شیخ سلیم بن سعید السیقی، بارہویں صدی کے فقیہ تھے۔

شیخ سالم بن سعید القلحی، گیارہویں صدی کے قاضی اور فقیہ تھے۔ شیخ سالم بن صالح النادبی، بارہویں صدی کے اوائل کے عالم تھے۔ ان کی کتب میں “مختار المختصر” اور وراثت سے متعلق ایک مختصر رسالہ شامل ہے۔

شیخ سالم بن عبداللہ آل بوسعیدی، گیارہویں صدی کے نصف دوم کے عالم تھے اور شہر آدم میں پیدا ہوئے۔

شیخ سلیم بن عبداللہ النازوی، بارہویں صدی کے فقیہ اور زاہد تھے۔ انہوں نے کتاب “خلاصۃ الآثار” تصنیف کی۔

شیخ سالم بن علی الحسینی، بارہویں صدی کے فقیہ اور قاضی تھے۔ شیخ سالم بن عمر الرحبی، بارہویں صدی کے معتبر فقیہ تھے اور 1142 ہجری تک زندہ رہے۔

شیخ سالم بن محمد الدارمکی الازکاوی، فقیہ اور شاعر تھے۔ وہ بارہویں سے تیرہویں صدی کے اوائل تک زندہ رہے اور 1224 ہجری میں وفات پائی۔

عمان کے مفتی اعظم کی قمری تاریخ پر تاکید

شیخ احمد بن حمد الخلیلی، عمان کے مفتی اعظم نے مسلمانوں کے لیے ہجری قمری تاریخ کے استعمال کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسے “قرآنی فکری ستون اور اسلامی طرزِ فکر” قرار دیا۔

عمانی قرآنی انجمن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، جو سوشل میڈیا پر نشر ہوا، انہوں نے ہجری قمری تاریخ کے مختلف پہلوؤں کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام مسلمانوں کی زندگی کے اہم عبادات جیسے حج، روزہ، زکات وغیرہ سے براہِ راست وابستہ ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ایک عظیم اور باوقار اسلامی تقویم کو نظر انداز کر رہے ہیں اور اس کی جگہ میلادی (گریگورین) تقویم پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک بڑا نقصان ثابت ہو سکتا ہے۔

شیخ احمد الخلیلی نے امت مسلمہ کے اتحاد کے موضوع پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امت کا اتحاد ایک نہایت اہم مسئلہ ہے جو سیاسی اور سماجی دونوں پہلوؤں پر مشتمل ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عقیدے کا رشتہ ایک الٰہی رشتہ ہے جو انسانوں کو آپس میں جوڑتا ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو رنگ، نسل اور قومیت سے بالاتر ہو کر مخاطب کرتا ہے اور برتری کا معیار “تقویٰ” قرار دیتا ہے۔

انہوں نے مسلمانوں کو اتحاد پر غور و فکر اور اس کو مضبوط بنانے کی دعوت دی اور مسلم معاشروں میں خونریزی اور اختلافات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو باہمی تعاون اور مثبت سوچ کو فروغ دینا چاہیے۔

فرانسیسی صدر کے اسلام مخالف بیانات پر مفتی عمان کا ردعمل

شیخ احمد الخلیلی نے فرانس کے صدر امانوئل ماکرون کے اسلام مخالف بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات ایک انتہاپسند اقلیت کی حمایت حاصل کرنے کے لیے دیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کے مخالفین ہمیشہ اس دین کے خلاف سازشیں کرتے رہے ہیں اور اس کے خلاف زبان و قلم استعمال کرتے ہیں۔

ان کے مطابق اسلام ایک نجات دینے والی کشتی ہے جو دنیا کو تباہی سے بچا سکتی ہے، اور مختلف مفکرین اختلافات کے باوجود اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا کے مسائل کا حل اسلام میں موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام پر بے بنیاد الزامات لگانے کی کوششیں بالآخر ناکام ہوں گی۔

شیخ احمد الخلیلی کا آیت اللہ سبحانی کے نام خط پر جواب (اسرائیل سے تعلقات کے بارے میں)

شیخ احمد بن حمد الخلیلی نے آیت اللہ جعفر سبحانی کے خط کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ عمان اور اسرائیل کے درمیان وفود کے تبادلے کا مقصد فلسطینی عوام پر دباؤ کم کرنا نہیں ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا موقف ہمیشہ سے فلسطین کے مسئلے کے حوالے سے واضح رہا ہے: فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت اور ان کے چھینے گئے حقوق کی مکمل واپسی کا مطالبہ۔

انہوں نے خط ملنے پر خوشی کا اظہار کیا اور امت مسلمہ کے اتحاد اور فتنوں کے خاتمے کے لیے آیت اللہ سبحانی کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امت مسلمہ کی موجودہ صورتحال افسوسناک ہے اور امید ظاہر کی کہ ایک دن مسلمان ایک متحد امت بن جائیں گے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے مخالف ہیں اور فلسطین کے حق میں اپنے مؤقف کو برقرار رکھتے ہیں۔

عمان کے عوام

عمان کے لوگ نرم مزاج اور مہمان نواز سمجھے جاتے ہیں۔ وہ اکثر مسکراتے رہتے ہیں اور اپنی زندگی کو منظم انداز میں گزارتے ہیں۔ یہاں کے لوگ تعلیم، زبان سیکھنے اور کھیلوں میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔

عمان میں خواتین کو معاشرے میں فعال کردار حاصل ہے اور وہ سرکاری و نجی اداروں میں مردوں کے برابر کام کرتی ہیں اور گاڑی چلانے کی بھی اجازت رکھتی ہیں۔

گھروں میں داخل ہوتے وقت جوتے اتارنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ لوگوں یا ان کی ملکیت کی تصاویر لینے سے پہلے اجازت لینا ادب کا حصہ ہے۔

عمان کی سرکاری زبان عربی ہے، جبکہ انگریزی اور فارسی بھی عام طور پر استعمال ہوتی ہیں۔

تقریباً 99 فیصد آبادی مسلمان ہے، جبکہ دیگر میں ہندو اقلیت بھی شامل ہے۔ اسلام یہاں سرکاری مذہب ہے۔

شیعہ مسلمانوں کو ملک کی تیسری بڑی مذہبی جماعت سمجھا جاتا ہے، جو معاشی اور سیاسی طور پر بھی مؤثر کردار رکھتے ہیں۔ آئینی طور پر مذہبی آزادی موجود ہے، اس لیے شیعہ برادری ہر سال امام حسینؑ کی مجالس اور عزاداری کا اہتمام کرتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ سلطان قابوس کے دور میں شیعہ مجالس کے لیے شاہی اصطبل سے گھوڑے بھی فراہم کیے جاتے تھے[2]۔

زبان

عمان کی سرکاری اور بنیادی زبان عربی ہے، تاہم اس ملک میں عربی کے ساتھ ساتھ فارسی زبان کے اثرات اور استعمال بھی دیکھے جاتے ہیں۔

جغرافیہ

قدیم زمانے میں جزیرہ نما عرب کے مشرقی تمام علاقوں کو “عمان” کہا جاتا تھا، جو بعد میں دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ ایک حصہ “عمان متصالح” کہلاتا ہے جس میں اماراتِ متصالحہ (موجودہ متحدہ عرب امارات کی سات ریاستیں) شامل تھیں، جبکہ دوسرا حصہ “عمان اصلی” کہلاتا ہے جو موجودہ عمان اور مسقط پر مشتمل ہے۔

عمان کا زیادہ تر حصہ جزیرہ نما عرب کے شمال مشرق اور مشرق میں واقع ہے، جبکہ اس کا ایک چھوٹا سا حصہ مسندم کے علاقے میں بھی پایا جاتا ہے۔ یہ ملک دو بڑے حصوں شمالی اور جنوبی میں تقسیم ہے۔

جنوبی حصہ شمال میں فجیرا، شارجہ اور رأس الخیمہ (متحدہ عرب امارات) سے ملتا ہے، جبکہ مغرب میں ربع الخالی کے صحرائی علاقوں، وادی الحقف، جبل عسقان اور سعودی عرب کے بعض علاقوں سے جڑا ہوا ہے۔ جنوب مغرب میں یہ یمن سے بھی متصل ہے۔ عمان کا جنوبی حصہ خلیج عمان اور بحیرہ عرب کے پانیوں سے گھرا ہوا ہے۔

مشرقی ساحلی علاقوں میں سمندری خطوں میں بہت سی خلیجیں اور چٹانیں پائی جاتی ہیں جن میں رأس الحد، رأس حکمان، رأس مدرکہ اور رأس صقارہ شامل ہیں، جبکہ خلیج مصیرہ، صقارہ، خوریان اور موریان بھی اس خطے کی اہم خصوصیات ہیں۔

شمالی حصہ تقریباً دو ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے اور مسندم کے شمالی ترین علاقے میں واقع ہے۔ مجموعی طور پر عمان کا رقبہ جزائر مصیرہ، خوریان اور موریان سمیت تقریباً 212,400 مربع کلومیٹر ہے۔

ایک اور اندازے کے مطابق عمان کا رقبہ 457,212 مربع کلومیٹر بتایا جاتا ہے اور یہ دنیا کا تقریباً 80 واں بڑا ملک ہے۔ یہ ملک جنوب مغربی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور جزیرہ نما عرب کے مشرق میں واقع ہے۔

عمان ایک نیم پہاڑی اور صحرائی ملک ہے۔ یہاں اہم پہاڑی سلسلے جیسے جبل الاخضر شمالی حصے میں موجود ہیں۔ ملک کا زیادہ حصہ صحرا پر مشتمل ہے اور دریا زیادہ تر موسمی اور وقتی ہوتے ہیں۔

آب و ہوا شمالی اور جنوبی علاقوں میں گرم و مرطوب جبکہ دیگر علاقوں میں گرم و خشک ہے، اور مجموعی طور پر بارش کم ہوتی ہے۔ بلند ترین مقام جبل شمس ہے جس کی بلندی تقریباً 3350 میٹر ہے۔

عمان کا ایک چھوٹا سا حصہ آبنائے ہرمز کے جنوبی علاقے میں بھی واقع ہے، جو مرکزی علاقے سے الگ ہے[3]۔ اس کے علاوہ عمان کا ایک علاقہ “مدحاء” کہلاتا ہے جو متحدہ عرب امارات کے اندر واقع ایک انکلیو ہے۔

فن و ہنر

عمان کے لوگ خطاطی سے خاص شغف رکھتے ہیں اور عمدہ لکھائی کو اہمیت دیتے ہیں۔ قرآن کی آیات کو مختلف انداز میں لکھنا ان کے ثقافتی و فنی اظہار کا حصہ ہے۔

خواتین عموماً سیاہ رنگ کے ذریعے مصوری اور ڈیزائننگ میں دلچسپی رکھتی ہیں، جبکہ مرد موسیقی اور روایتی سازوں کو پسند کرتے ہیں۔ عمانی روایتی موسیقی دنیا بھر میں معروف ہے۔

یہاں کے اہم دستکاری فنون میں سونے اور چاندی کے زیورات، مشہور عمانی خنجر، ہاتھ سے بنی ہوئی کپڑے، قالین اور ٹوکریاں شامل ہیں۔

طرزِ زندگی

عمان کے مرد عام طور پر “دشداشہ” پہنتے ہیں جو لمبا، سادہ اور ڈھیلا لباس ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ وہ عمامہ یا ٹوپی بھی پہنتے ہیں۔ رسمی مواقع پر وہ اپنی کمر میں روایتی عمانی خنجر (خنجرِ عمانی) بھی رکھتے ہیں جو وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

عمان کی خواتین اسلامی حجاب کی پابند ہوتی ہیں اور لمبے اور ڈھکے ہوئے لباس پہنتی ہیں۔ کچھ خواتین نقاب بھی استعمال کرتی ہیں، تاہم یہ دوسرے عرب ممالک کے مقابلے میں کم عام ہے[4]۔

سرکاری تعطیلات اور عیدیں

عمان میں دو اہم سرکاری تعطیلات ہوتی ہیں: 18 نومبر اور 19 نومبر۔ 18 نومبر قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، جبکہ 19 نومبر سلطان قابوس کے یوم پیدائش کے طور پر منایا جاتا تھا اور یہ بھی سرکاری تعطیل ہوا کرتی تھی۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. عمان و کهن‌ترین فرقه دربین مسلمانان-شائع شدہ از: 3 اردیبہشت 1396ش-اخذ شدہ بہ تاریخ:30 مئی 2026ء
  2. زندگی در عمان-شائع شدہ از: 15 آذر 1404ش- اخذ شدہ بہ تاریخ:29 مئی 2026ء
  3. نظام آموزشي كشورهاي جهان-اخذ شدہ بہ تاریخ: 29 مئی 2026ء
  4. زندگی در عمان-اخذ شدہ بہ تاریخ: 29 مئی 2026ء