مندرجات کا رخ کریں

"ام سلمہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:ام سلمہ کو ام سلمہ کی جانب منتقل کیا
 
(کوئی فرق نہیں)

حالیہ نسخہ بمطابق 11:48، 28 مئی 2026ء

ام سلمہ
پورا نامہند بنت ابی امیہ بن مغیرہ مشہور بہ اُمّ سَلَمہ
دوسرے نامام المومنین
ذاتی معلومات
پیدائش۵۹۶ ق
وفات۶۲ ق
مذہباسلام
اثراتصدرِ جمہوریہ آذربائیجان برائے سال 2003 تا حال

ام‌سلمہ رسول خدا (صلّی‌اللہ علیہ وآلہ) کی ازواج میں سے ایک ہیں، جو اپنے پہلے شوہر کی شہادت کے بعد پچیس سال کی عمر میں آپ (ص) کے نکاح میں آئیں۔ مرہ بن کعب آپ (ص) اور ام سلمہ کے مشترک جد ہیں۔

آپ (رض) نے اپنے دورِ حیات میں ہمیشہ آنحضرت (ص) کا ساتھ دیا اور مختلف مواقع و واقعات میں آپ (ص) کے ہمراہ رہیں۔ ام سلمہ کا گھر ان کی پختگی، تیز فہمی اور دور اندیشی کی وجہ سے بعض اہم امور کے فیصلوں کا مرکز بنا رہتا تھا، اسی وجہ سے بعض ازواجِ رسول (ص) ان سے حسد کرتی تھیں۔

آپ (رض) کا تعلق بعض آیات کے شانِ نزول سے ہے اور آپ تاریخی واقعات اور اہل بیت (علیہم السلام) کی فضیلت کے حوالے سے کثیر تعداد میں احادیث کی راویہ ہیں۔ آپ ان خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے فاطمہ بنت محمد کی تشیع جنازہ میں شرکت کی۔

ام سلمہ کا نام اور نسب

ام سلمہ ازواجِ مطہرات میں سے ایک ام المومنین کی کنیت ہے، جن کا اسلام سے قبل کا نام ہند یا رملہ تھا[1]۔ ان کے والد کا نام سہیل[2] یا حذیفہ تھا، جن کی کنیت ابومغیرہ اور لقب 'زاد الرکب' تھا[3]۔ وہ قبیلہ قریش کی شاخ بنی‌مخزوم سے تھے اور ان کی والدہ کا نام عاتکہ تھا[4]۔

ام سلمہ کی پہلی شادی

ام سلمہ کے پہلے شوہر ابوسلمہ بن عبدالاسد تھے، جو رسول اللہ (ص) کے رضاعی بھائی تھے[5]۔ وہ جنگ احد میں زخمی ہوئے اور کچھ عرصے بعد اسی زخم کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید پائے[6]۔

ام سلمہ صدر اسلام کی عظیم خواتین میں شمار ہوتی ہیں، جو اپنے شوہر کے ساتھ حبشہ کی طرف مہاجرین میں شامل ہوئیں[7]۔ جب یہ خبر پھیلی کہ مشرکین نے مسلمانوں کو ایذا دینا چھوڑ دیا ہے، تو وہ مکہ واپس آگئیں؛ لیکن جب معلوم ہوا کہ یہ خبر جھوٹی ہے، تو وہ دوبارہ حبشہ ہجرت کر گئیں۔

آخرکار وہ مکہ لوٹ آئیں اور کچھ عرصے بعد مدینہ کی طرف ہجرت کر گئیں[8]۔ بعض روایات کے مطابق ام سلمہ پہلی خاتون تھیں جو مدینہ ہجرت کر کے آئیں[9]۔

ام سلمہ کو اپنے پہلے شوہر سے چار اولاد ہوئیں، جن کے نام عمر، سلمہ، زینب اور درہ تھے[10]۔

ام سلمہ کی شادی رسول اللہ (ص) سے

ام سلمہ کا ارادہ تھا کہ ابوسلمہ کے بعد وہ کسی سے شادی نہیں کریں گی؛ لیکن ابوسلمہ نے خود انہیں اس کام سے روکا اور وصیت کی کہ وہ ان کے بعد کسی اور سے نکاح کر لیں[11]۔

ام سلمہ نے ابوبکر اور عمر جیسے رشتہ داروں کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ جب رسول اللہ (ص) نے رشتہ بھیجا تو انہوں نے عرض کیا: "میں غیرت والی عورت ہوں (میں اپنے شوہر کی دیگر بیویوں کو برداشت نہیں کر سکتی، میں اپنے پہلے شوہر کے سوا کسی کو شوہر نہیں بنا سکتی وغیرہ) اور میرے پاس چھوٹے بچے بھی ہیں، نیز میرا کوئی ولی یہاں موجود نہیں!"

رسول اللہ (ص) نے ان کے جواب میں پیغام بھیجا کہ خداوند تمہارے بچوں کی کفایت فرمائے گا اور میں اپنے رب سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہاری غیرت کو دور کر دے، اور تمہارے رشتہ دار بھی اس کام پر راضی ہو جائیں گے[12]۔

بالآخر ام سلمہ نے اپنے شوہر کی شہادت کے بعد شوال سن چہارم ہجری میں رسول اللہ (ص) سے نکاح کیا[13]۔

البتہ بعض روایات میں اس شادی کا سال دوم ہجرت اور جنگ بدر سے قبل[14] یا اس کے بعد کا بتایا گیا ہے[15]۔

یہ ذکر ضروری ہے کہ مذکورہ آخری روایات ابوسلمہ کی جنگ احد میں شہادت کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں۔

ام سلمہ نے کم از کم سات سال تک رسول اللہ (ص) کے ساتھ زندگی گزاری[16]؛ لیکن ان سے کوئی اولاد نہیں ہوئی[17]۔

رسول اللہ (ص) کے نزدیک ام سلمہ کا مقام

رسول اللہ (ص) کو اس خاتون سے خاص محبت تھی۔ یہ زوجہِ رسول نہ صرف ایک خوبصورت خاتون تھیں جن کی وجہ سے عائشہ کو حسد ہوتا تھا،

بلکہ ایک عاقلہ اور تیز نظر خاتون بھی تھیں، یہاں تک کہ کبھی کبھی رسول اللہ (ص) ان سے مشورہ بھی لیا کرتے تھے[18]۔

امام صادق (علیہ السلام) نے ان کی شخصیت کے بارے میں فرمایا: ام سلمہ خدیجہ کے بعد رسول اللہ (ص) کی بہترین بیوی تھیں[19]۔ حدیثِ کساء کے واقعے میں آیتِ تطہیر ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوئی اور وہیں انہوں نے رسول اللہ (ص) سے پوچھا: "کیا میں اہل بیت میں شامل نہیں ہوں؟" رسول اللہ (ص) نے فرمایا: "تم خیر و بھلائی پر ہو (لیکن اہل بیت میں سے نہیں ہو)[20]۔"

ام سلمہ نے غزوات مثلاً "مریسیع"، "خیبر"، "حدیبیہ"، "خندق"، "فتح مکہ" اور "حنین" میں رسول اللہ (ص) کا ساتھ دیا[21]۔

یہ بھی گزارش کیا گیا ہے کہ رسول اللہ (ص) نے مسلمانوں کے درمیان عقد اخوت کے موقع پر ام سلمہ اور صفیہ کے درمیان بھی عقد اخوت قائم فرمایا[22]۔

امّ سلمہ کا قرآن میں ذکر

قرآن میں بہت سے افراد کے نام اور یادگاروں کا ذکر آیا ہے، جن میں سے بعض نے اپنے لیے ہمیشہ کی عزت حاصل کی اور بعض کے نام بدکاروں اور ظالموں کی فہرست میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گئے۔ ان ہی میں امّ سلمہ وہ خاتون ہیں جن کے بارے میں کئی آیات نازل ہوئیں اور مفسرین نے بعض آیات کے شانِ نزول میں ان کی طرف اشارہ کیا ہے:

  1. بعض مفسرینِ قرآن کا خیال ہے کہ آیتِ شریفہ:" هَلْ جَزاءُ الْاِحْسانِ اِلاَّ الْاِحْسان"۔ [23]۔ «کیا نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ اور ہے؟» امّ سلمہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
  2. ایک دن امّ سلمہ نے پیغمبرِ گرامی اسلام (صلّی‌اللہ علیہ وآلہ) سے پوچھا: اے پیامبر خدا! ہجرت کے واقعے میں مردوں کے نام تو ذکر کیے گئے ہیں لیکن عورتوں کی طرف کوئی اشارہ کیوں نہیں کیا گیا؟ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یہ آیت اپنے پیغمبر پر نازل فرمائی: "فَاسْتَجابَ لَهُمْ رَبُّهُم اِنّی لا اُضیعُ عَمَل عامِلٍ مِنْکُمْ مِنْ ذَکَرٍ اَوْ انثی"۔ [24] ۔ «پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، ضائع نہیں کروں گا۔»
  3. امّ سلمہ زیادہ تر سفید لباس پہنتی تھیں جس کے پیچھے دو بند لگے ہوتے تھے جو لٹکتے رہتے تھے۔ عائشہ نے تمسخر کے انداز میں پیغمبر (صلّی‌اللہ علیہ وآلہ) کی دوسری زوجہ حفصہ سے کہا: دیکھو، امّ سلمہ کے پیچھے جو چیز لٹک رہی ہے وہ کتے کی زبان جیسی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان دونوں نے امّ سلمہ کا ان کے قدِ کاٹھ کی وجہ سے مذاق اڑایا تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: "یا اَیُّهَا الَّذینَ آمَنوُا لا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسی اَنْ یَکوُنوُا خَیْرا مِنْهُم، وَ لا نِساء مِنْ نِساءٍ عَسی أَنْ یَکُنَّ خَیْرا مِنْهُنَّ "[25]۔ «اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم میں سے کوئی گروہ کسی دوسرے گروہ کا مذاق نہ اڑائے، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ کوئی عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ (مذاق اڑانے والی) عورتوں سے بہتر ہوں۔»

اہلِ بیت کے ساتھ امّ سلمہ کی وفاداری

وہ پیغمبر کی ازواج میں سے وہ خاتون تھیں جنہیں حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) اور ان کی اولاد سے خاص محبت تھی، یہاں تک کہ وہ حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کی ولادت کے وقت موجود تھیں اور پیغمبر (صلّی‌اللہ علیہ وآلہ) کے حکم سے ان کے فرزند امام حسن (علیہ‌السلام) کے کان میں اذان اور اقامہ کہا[26]۔

یہ محترم خاتون رسولِ خدا (صلّی‌اللہ علیہ وآلہ) کی رحلت کے بعد ہمیشہ اہلِ بیت (علیہم‌السلام) کے ساتھ رہیں اور ان کی حمایت میں کوشاں رہیں، یہاں تک کہ فدک کی مصادری کے واقعے میں انہوں نے حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) کا دفاع کیا اور اسی سال وہ عطا سے محروم رہ گئیں[27]۔

انہوں نے رسولِ خدا (صلّی‌اللہ علیہ وآلہ) کے اقوال نقل کرکے مسلمانوں کو ولایت امام علی (علیہ‌السلام) اور پیغمبر کے نزدک ان کی منزلت کی یاد دہانی کرائی[28]۔

جب امام علی (علیہ‌السلام) سے زبردستی بیعت لی جا رہی تھی، تو انہوں نے امّ ایمن نبیہ (پیغمبر کی دوسری زوجہ) کے ساتھ مل کر زبردستی کرنے والوں پر حسد کا الزام لگایا[29]۔

اس سلسلے میں کئی اور رپورٹس بھی موجود ہیں جن کا دیگر واقعات سے مطابقت دینا مشکل ہے۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل گزارشات ہیں:

  1. پیغمبرِ اسلام (صلّی‌اللہ علیہ وآلہ) نے امّ سلمہ سے شادی کے بعد حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) کی نگہداشت کی ذمہ داری ان کے سپرد کی[30]۔
  2. حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) کی شادی کے موقع پر پیغمبر (صلّی‌اللہ علیہ وآلہ) کی ازواج کے درمیان یہ بحث ہوئی کہ تقریب کس کے گھر میں ہو، آخرکار امّ سلمہ کا گھر منتخب ہوا[31]۔

اہلِ بیت کا امین اور قابلِ اعتماد شخص

اہلِ بیت (علیہم‌السلام) کا اس خاتون پر اتنا اعتماد تھا کہ حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) نے وصیت کی تھی کہ امّ سلمہ ان کی تدفین کی تقریب میں موجود رہیں؛ لہٰذا وہ اس مقام سے واقف تھیں جہاں انہیں دفن کیا گیا[32]۔ دسیوں سال بعد امام حسین (علیہ‌السلام) نے مدینہ سے نکلتے وقت وصیت نامہ اور دیگر امانتیں ان کے سپرد کیں اور ان سے کہا کہ جب ان کا فرزند ان کے پاس آئے تو یہ چیزیں ان کے حوالے کر دیں۔ امام حسین (علیہ‌السلام) کی شہادت کے بعد جب امام سجاد امّ سلمہ سے ملنے آئے، تو انہوں نے وہ امانتیں ان کے حوالے کر دیں[33]۔

امّ سلمہ بطورِ محدثہ اور راویِ احادیث

امّ سلمہ سے شیعہ اور اہلِ سنت دونوں نے تاریخی، اخلاقی، اہلِ بیت (علیہم‌السلام) کی فضیلت وغیرہ کے مختلف موضوعات پر بہت سی احادیث اور روایات نقل کی ہیں[34]۔

انہوں نے کئی اہم احادیث جیسے حدیثِ کساء[35]، حدیثِ «عَلِی‏ مَعَ‏ الْقُرْآنِ‏ وَ الْقُرْآنُ مَعَه[36]»، حدیثِ «مَنْ‏ کنْتُ‏ مَوْلَاهُ‏ فَعَلِی مَوْلَاهُ[37]»، اور کربلا میں امام حسین (علیہ‌السلام) کی شہادت کی خبر[38] وغیرہ روایت کی ہیں۔

امّ سلمہ کی وفات

امّ سلمہ کی تاریخِ پیدائش معلوم نہیں ہے، لیکن بعض کتب میں ان کی وفات رمضان یا شوال سن 59[39]، سن 60 یا خلافت یزید کے ابتدائی دور میں بتائی گئی ہے[40]۔

لیکن زیادہ درست گزارش یہ ہے کہ وہ سن 61 ہجری میں اور امام حسین (علیہ‌السلام) کی شہادت کے کچھ عرصے بعد انتقال کر گئیں۔ یہ آخری گزارش اہلِ سنت کی ایک مستند کتاب میں نقل ہوئی ہے جو صحابه کی زندگیوں پر مبنی ہے، جس میں ان کی عمرِ وفات 84 سال بتائی گئی ہے[41]۔ وہ پیغمبر (صلّی‌اللہ علیہ وآلہ) کی آخری زوجہ تھیں جو دنیا سے گئیں[42]۔

ابوہریرہ[43]، یا ان کے بھتیجے عبداللہ بن عبداللہ بن ابی امیہ[44]، یا سعید بن زید نے ان پر نمازِ جنازہ پڑھائی اور انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا[45]۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

رده:شخصیت‌ها رده:صحابه

  1. ابن عبدالبر، یوسف بن عبدالله، الاستیعاب فی معرفة الأصحاب، تحقیق، البجاوی، علی محمد، ج 4، ص 1920، بیروت، دار الجیل، چاپ اول، 1412ق
  2. ابن سعد کاتب واقدی، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق، عطا، محمد عبدالقادر، ج 8، ص 69، بیروت، دار الکتب العلمیة، چاپ اول، 1410ق
  3. الاستیعاب، ج 4، ص 1920؛ یہ لقب ان کی سخاوت اور کرم کی وجہ سے دیا گیا تھا
  4. ابن اثیر جزری، علی بن محمد، اسدالغابة فی معرفة الصحابة، ج 6، ص 340، بیروت، دار الفکر، 1409ق
  5. الطبقات الکبری، ج 1، ص 87
  6. الاستیعاب، ج 4، ص 1682
  7. الاستیعاب، ج 4، ص 1920
  8. ابن حجر عسقلانی، الإصابة فی تمییز الصحابة، تحقیق، عادل احمد، عبدالموجود، علی محمد، معوض، ج 8، ص 404، بیروت، دارالکتب العلمیة، چاپ اول، 1415ق، 1995م
  9. الاستیعاب، ج 4، ص 1939
  10. بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق، زکار، سہیل، زرکلی، ج 1، 430، ریاض، بیروت، دار الفکر، چاپ اول، 1417ق
  11. الإصابة، ج 8، ص 343
  12. الطبقات الکبری، ج 8، ص 71
  13. الاستیعاب، ج 1، ص 45
  14. طبری، أبوجعفر محمد بن جریر، تاریخ الطبری(تاریخ الأمم و الملوک)، تحقیق، ابراہیم، محمد أبوالفضل، ج 11، ص 604، بیروت، دار التراث، چاپ دوم، 1387ق، 1967م
  15. الاستیعاب، ج 4، ص 1921
  16. مستوفی قزوینی، حمد اللہ بن ابی بکر بن احمد، تاریخ گزیدہ، تحقیق، نوایی، عبدالحسین، ص 160، تہران، امیر کبیر، چاپ سوم، 1364ش
  17. محمد بن اسحاق بن یسار، سیرة ابن اسحاق(کتاب السیر و المغازی)، ص 260، قم، دفتر مطالعات تاریخ و معارف اسلامی، چاپ اول، 1410ق
  18. صالحی دمشقی، محمد بن یوسف، سبل الهدی و الرشاد فی سیرة خیر العباد، ج 5، ص 79، بیروت، دار الکتب العلمیة، بیروت، چاپ اول، 1414ق
  19. شیخ صدوق، خصال، محقق، مصحح، غفاری، علی اکبر، ج 2، ص 419، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ اول، 1362ش
  20. عسکری، امام ابومحمد حسن بن علی، التفسیر المنسوب الی الامام العسکری ع، ص 376، قم، مدرسہ امام مہدی، چاپ اول، 1409ق
  21. واقدی، محمد بن عمر، المغازی، تحقیق، مارسدن جونس، ج 2، ص 467، بیروت، مؤسسة الأعلمی، چاپ سوم، 1409ق
  22. ابن شہر آشوب مازندرانی، مناقب آل أبی‌طالب ع، ج 2، ص 185، قم، علامہ، چاپ اول، 1379ق
  23. سوره ، الرحمن ،آیه = 60
  24. سوره آل عمران ، آیه 195
  25. سوره حجرات ، آیه 11
  26. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج ‏43، ص 255، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ دوم، 1403ق
  27. طبری آملی، محمد بن جریر، دلائل الامامة، ص 124، قم، بعثت، چاپ اول، 1413ق
  28. بحار الأنوار، ج ‏22، ص 222
  29. هلالی، سلیم بن قیس، کتاب سلیم بن قیس الهلالی، محقق، مصحح، انصاری زنجانی خوئینی، محمد، ج 2، ص 867، قم، نشر الهادی، چاپ اول، 1405ق
  30. دلائل الامامة، ص 82
  31. بحار الانوار، ج ‏43، ص 95
  32. دلائل الإمامة، ص 133
  33. کلینی، محمد بن یعقوب، کافی، محقق، مصحح، غفاری، علی اکبر، آخوندی، محمد، ج ‏1، ص 304، تهران، دار الکتب الإسلامیة، چاپ چهارم، 1407ق
  34. الإصابة فی تمییز الصحابة، ج ‏8، ص 344
  35. کافی، ج ‏1، ص 287
  36. ابن بابویه الرازی، منتجب الدین علی بن عبیدالله، الأربعون حدیثا عن أربعین شیخا من أربعین صحابیا فی فضائل الإمام أمیر المؤمنین ع، ص 73، قم، مدرسة الإمام المهدی(عج)، چاپ اول، 1408ق
  37. شیخ مفید، الاختصاص، محقق، مصحح، غفاری، علی اکبر، محرمی زرندی، محمود، ص 79، قم، المؤتمر العالمی لالفیة الشیخ المفید، چاپ اول، 1413ق
  38. شیخ مفید، الارشاد فی معرفة حجج الله علی العباد، ج 2، ص 130، قم، کنگره شیخ مفید، چاپ اول، 1413ق
  39. الاستیعاب، ج ‏4، ص 1921
  40. الاستیعاب، ج ‏4، ص 1921
  41. الإصابة، ج 8، ص 344
  42. تاریخ‏ الطبری، ج ‏11، ص 604
  43. الإصابة، ج 8، ص 344
  44. تاریخ‏ الطبری، ج ‏11، ص 604
  45. الاستیعاب، ج ‏4، ص 1921